Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sheh Rug Episode 10

Sheh Rug by Aneeta

مروہ کی طبیعت پہلے سے کچھ بہتر تھی۔شاور لینے کے بعد اب وہ گارڈن میں بیٹھی تھی۔وائٹ کلر کا ٹاپ پہنا ہوا تھا۔بال ہمیشہ کی طرح کھلے تھے۔وہ جھولے پہ بیٹھی پاؤں کے ساتھ اسے جول رہی تھی۔۔۔۔۔۔

کے تھوڑی ہی دیر میں سائم کی گاڑی کی اواز ائی تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سائم گاڑی گیراج میں کھڑا کر چکا تھا اور اب اس کی طرف ا رہا تھا اس نے چابی سے گاڑی کو لاک کیا۔۔۔۔۔

مروہ بھی کھڑی ہو چکی تھی۔اور چہرے پہ سمائل سجائے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

سائم کو بہت غصہ تھا کیونکہ جویریہ کافی ہارٹ ہوئی تھی۔۔۔۔

اس نے دونوں ہاتھوں کو وی سٹائل پہ کمر پہ رکھا ہوا تھا کوٹ کو پیچھے اٹھا کر۔اس نے مروہ کو سر سے لے کر پاؤں تک دیکھا۔۔۔۔۔

چہرے سے غصہ نما تھا۔۔

۔

کیسی طبیعت ہے اب۔۔۔۔

۔مرو تھوڑی حیران تھی کیونکہ اس نے ایکسپیکٹ کیا تھا کہ اتے ہی اس کی طبیعت کا پوچھے گا۔لیکن اس کے چہرے پہ غصہ دیکھ کر وہ تھوڑا اپسیٹ ہوئی تھی۔۔۔

میں ٹھیک ہوں تمہیں کیا ہوا۔۔۔۔

اچھا یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ مجھے کیا ہوا ہے تمہارے ہوتے ہوئے مجھے اور کوئی کچھ کر کیسے سکتا ہے اس کا رویہ تھوڑا سخت ہوا تھا۔۔۔۔

یہ بچوں والی حرکتیں کب چھوڑو گی مروہ ۔۔۔۔۔

تو اس جویریہ نے تمہیں ساری کہانی سنا دی۔۔۔

مروہ میرے اور اس میں ایسا کوئی کنکشن نہیں ہے تمہاری وجہ سے کتنا ہرٹ ہوئی ہے وہ۔سائم نے اسے زیادہ بولنے کا موقع نہیں دیا تھا۔۔

شام کو میں نے اسے انوائٹ کیا ہے تم اسے سوری کہو گی۔۔۔

میں کسی کو سوری نہیں کہنے والی سائم۔۔اس نے اپنا فیصلہ سنا کر جانا چاہا لیکن سائم نے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا۔۔۔۔

میں تمہیں بتا رہا ہوں میں تم سے پوچھ نہیں رہا۔۔۔۔

اور کہاں ٹھیک ہو ابھی بھی ویسے ہی گرم ہو۔اس نے ہاتھ اس کے ماتھے پہ رکھا۔۔۔

تمہیں کیا پرواہ میری۔اس نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔

تمہیں اس جویریہ کی ٹینشن ہے۔۔

دیکھو مجھے بار بار ایکسپلین کرنا نہیں اتا میں کل تمہیں اچھے سے ایکسپلین کر چکا ہوں اپنے اور اس کے کنکشن کے بارے میں۔۔۔

شام کو اسے سوری کہو گی اور یہ بات یہیں ختم ہوگی۔۔۔

مروا نے ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکھا میں نہیں کہوں گی نہیں کہوں گی نہیں کہوں گی۔۔۔۔

اور اسے زور سے پیچھے کیا اور اندر کی طرف اگئی۔۔۔۔

یہ لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے سر کو دائیں بائیں گھمایا۔۔۔۔

سائم تھوڑی دیر تو وہیں کھڑا رہا پھر اس کے پیچھے ہی اندر ایا۔۔۔۔

مروہ منہ بسرے ایک طرف بیٹھی تھی کمرے میں۔سائم نے دروازہ بند کیا اور ڈریسنگ ٹیبل پہ اپنی واچ اتار کر رکھی۔۔۔۔وہ بھی اسے زیادہ چھیڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔

اس نے اپنا کوٹ اتار کر سائیڈ پہ رکھا۔۔۔۔

استین کے بٹن کھول کر اسے اوپر تک فولڈ کیا۔۔۔

مروہ اس پے نظر جمائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔

کیا ہے۔۔۔ سائم نے بازو فولڈ کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا۔۔۔۔

اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور اپنا رخ موڑ لیا۔۔۔

سائم ہلکا سا مسکرایا ۔ایک نظر شیشے میں خود کو دیکھا۔

اور قدم اس کی کی طرف بڑھائے۔۔۔

اسے اپنی طرف اتے دیکھ کر مروہ صوفے سے اٹھ کر بیڈ پے کے بیٹھ گئی۔۔۔۔

سائم نے روح بدل کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔

کتنی مشکل ہو یار تم۔۔۔۔۔

سائم بیڈ کی طرف ایا اور جگہ بنا کر اس کے سامنے بیٹھا۔۔

کچھ پوچھا ہے کیا ہے۔۔۔

کچھ نہیں اس نے منہ کے زاویہ بناتے ہوئے جواب دیا۔۔

وہ دونوں ہاتھ باندھے ہوئے بیڈ کرون کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

ساری رات تم نے بہت تنگ کیا مجھے۔۔

اس نے ایک ہاتھ سے اس کے بالوں کو پیچھے ہٹایا۔۔۔۔

تم اتنی خوبصورت کیوں ہو مروہ۔۔۔۔۔

وہ اس کے قریب ہونے ہی والا تھا کہ مروانے اسے پیچھے کیا۔۔

جویریہ نہیں ائے گی شام کو۔۔۔

شرط رکھ رہی ہو ۔اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔چہرے پہ ہلکی سی مسکان تھی۔۔۔

جو بھی سمجھو۔۔۔۔۔

اوکے۔۔۔۔

وہ اس ٹائم اس کے لمس میں کھویا ہوا تھا شاید اسے پتہ بھی نہیں تھا اس نے کتنی بڑی ڈیل قبول کر لی ہے۔۔

مروا نے پیچھے ہونے کی پوری کوشش کی تھی لیکن سائم اسے اپنی باہوں قید کر چکا تھا۔۔۔۔

مروا نے اسے اجازت تو دے دی تھی لیکن اب وہ بری طرح سے کانپ رہی تھی۔اس کی قربت کے خوف سے۔۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔۔

اج کوئی رعایت نہیں ملنے والی میری جان بس بہت ہو گیا۔۔

۔اس نے شدت سے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیا۔۔۔

وہ اسے بیڈ پر لٹا کر اس کے اوپر سایہ بنا چکا تھا۔۔۔

وہ اس کے لمس میں کھو چکا تھا۔۔اس کی سانسوں کو قید کرتے ہوئے۔وہ اس کی گردن پہ جھکا تھا۔۔۔

اس کی مذمت کرتے ہاتھ اس کے سینے پہ گردش کر رہے تھے۔

لیکن اج اس کی ایک بھی نہیں تھی چلنے والی اسے اندازہ تو ہو چکا تھا۔۔۔

اسے کاندھے سے شرٹ سے سرکاتی محسوس ہوئی تو اس نے سائم کی شرٹ کو مضبوطی سے دونوں ہاتھوں میں دبوچا۔۔۔۔

وہ اپنا اپ کے حوالے کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔

سائم۔۔۔۔

ہمممممممممم۔۔۔

میری طبیعت نہیں ٹھیک پلیز۔۔۔۔

لیکن وہ اس کے سننے کی موڈ میں نہیں تھا۔۔۔۔۔۔

میں ٹھیک کر دوں گا۔۔۔

______________

ریحان اپ کو میری بات سمجھ ارہی ہے یا نہیں۔۔۔

اپ مروہ کو سوری بولیں گے وہ تبھی مجھ سے بات کرے گی میں اسے بہت مس کر رہی ہوں۔۔۔۔۔

ہم دونوں کے سوا ہم دونوں کا اس دنیا میں رہا کون ہے وہ میری ایک ہی بہن ہے پتہ نہیں وہ کیسی ہے سائم کے ساتھ کیسے رہ ر ہی کیا کچھ ہے۔۔۔۔

مجھے اس کی سچ میں بہت فکر ہو رہی ہے۔۔۔۔

وہ صبح سے اسی ضد پر قائم تھی اور اب شام ہو گئی تھی۔۔۔

ٹھیک ہے صبح کرتا ہوں فون ریحان نے اس کو ٹالتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

سچی میں اپ کریں گے نا۔

وہ دونوں ٹی وی لانچ میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے اور فاطمہ سو چکی تھی۔۔۔۔

ہاں بابا کروں گا میری بھی وہ چھوٹی بہنوں کی طرح ہے۔

میں اس سے ناراض نہیں ہوں بس میں یہی چاہتا تھا کہ وہ خود سے کوئی سٹیپ لے اپنی لائف سٹارٹ کرے۔اس نے ریموٹ کے بٹن کو دبایا اور چینل چینج کیا۔۔۔۔

اب کیا ایک اچھی سے چائے مل سکتی ہے۔۔

کیوں نہیں ابھی بنا کر لاتی ہوں علیزے کا چہرہ خوشی سے کھل کھلا اٹھا تھا۔۔۔

وہ فورا سے اٹھی اور ریحان کے لیے چائے بنانے چلی گئی۔۔۔

____________

میم سر نیچے بلا رہے ہے۔۔۔۔۔

گیسٹ ائے ہیں۔۔۔۔۔

مروہ جو ابھی فریش ہو کر ائی تھی شیشے کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی ہیلپر کی اواز سے چونکی اور پیچھے دیکھنے لگی۔۔۔۔

کون ایا ہے اس نے برش کو وہیں رکھا اور سوال کیا۔۔۔

جویریہ میم ائی ہیں۔۔

مروہ نے غصے سے ایک نظر شیشے کو دیکھا اور پھر وہیں بیٹھ گئی۔۔۔

مروہ نے پہلے کچھ سوچا اور پھر جا کر اپنا دروازہ لاک کر لیا۔۔۔۔۔

تم ایک نمبر کے جھوٹے ہو۔۔۔

سائم نے کافی دیر اس کا انتظار کیا تھا اور اس کے نہ انے پہ وہ خود ایا۔

مروہ۔۔۔۔

باہر اؤ جویریہ ویٹ کر رہی ہے۔

وہ جو بیڈ پر بیٹھی تھی اس کی اواز سنتے ہی فورا دروازے کے پاس ائی۔۔۔۔۔

تم کتنے جھوٹے ہو۔۔۔

تم نے مجھ سے پرومس کیا تھا۔۔

مروہ جلدی سے باہر اؤ میں کچھ بھی نہیں سننے والا۔۔

سائم جانتا تھا کہ اس نے پرومس کیا ہے لیکن اب جویریہ ا چکی تھی۔

اور وہ اس سے پہلے ہی انوائٹ کر چکا تھا۔۔۔۔

اگر اب مروہ نہیں اتی تو یقینا اسے برا لگتا۔۔۔

کیا تم نے نہیں کہا تھا بتاؤ مجھے۔۔۔

ائندہ تمہاری کسی بات کو نہیں ماننے والی میں تمہاری کسی باتوں میں نہیں اؤں گی۔۔۔

میرے قریب انے کی ہمت مت کرنا۔۔

وہ پھر جاکر بید پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔

یہ لڑکی مروہ دروازہ کھولو وہ باہر بیٹھی ویٹ کر رہی ہے تمہارا۔ہم اس بات پہ بعد میں بحث کریں گے۔۔

مجھے تم سے کوئی بحث نہیں کرنی وہ پھر سے دروازے کے پاس ائی تھی۔۔

تم نے جھوٹا وعدہ کر کے مجھے یوز کیا۔۔

یا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔

سائم نے ایک ہاتھ دروازے پہ رکھا اور ایک ہاتھ اپنے ماتھے پہ۔۔۔۔۔

مروہ وائف ہو تم میری۔۔۔۔۔

اب کچھ بھی نہیں سنوں گا دو منٹ تک باہر نہیں ائی تو دروازہ توڑنے والا ہوں میں۔۔۔

توڑ دو وہ دروازے کے پاس ہی کھڑی تھی۔۔۔

اوکے ایز یو وش۔۔۔۔

صائم نے اگلے ہی لمحے دروازے کو زور سے ہٹ کیا تو مروہ سہم کے دیوار کے ساتھ ہو گئی۔۔

سائم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور باہر لے کے ایا۔۔

تم ایک نمبر کے جھوٹے ہو سائم۔۔۔۔

مجھے ڈیورس چاہیے تم سے۔۔۔۔

سائم نےہنستے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔

یہ اب تو پاسیبل نہیں ہے وہ سرگوشی میں بولا تھا۔۔۔

وہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑوانے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔

سوری جویریا تمہیں ویٹ کرنا پڑا۔سائم نے گیسٹ روم میں اتے ہی مروہ کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔وہ شاید جویریہ کو شو نہیں کروانا چاہتا تھا کہ وہ اسے زبردستی لے کے ایا ہے۔۔۔

نہیں کوئی بات نہیں مروہ کیسی ہو تم جویریہ نے اپنا ہاتھ مروہ کی طرف بڑھایا۔۔۔

سائم نےہاتھ ملانے کا اشارہ کیا۔۔۔

تو وہ منہ بناتے ہوئے۔دو قدم کا فاصلہ طے کر کے اس کے مقابل ائی اور ہاتھ اگے بڑھایا۔۔۔۔

میں ٹھیک ہوں اتنا سا کہہ کے اس نے اپنا ہاتھ واپس کھینچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ت۔۔۔۔۔۔

مروہ کچھ بولنے والی تھی کہ سامنے اس کا ہاتھ پکڑا کھانا لگ گیا ہے جویریا کھانا کھاتے ہیں پھر وہیں پہ بات کرتے ہیں۔

کیونکہ وہ اس کے چہرے کی ایکسپریشنز سے سمجھ چکا تھا کہ وہ کوئی اچھی بات نہیں کرنے والی۔۔۔۔۔

وہ تینوں ہی اب کھانے کے ٹیبل پر موجود تھے۔۔

مروہ تم جیسا سوچ رہی ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

میں اور سائم جسٹ بزنس پارٹنرز ہیں۔

اس نے کھانا کھانے سے پہلے ہی بات شروع کی۔

لیکن مروا نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔۔

جویریہ اج کی طرف سے تو میں سوری کہتا ہوں۔۔

یہ بھی اپنے کیے پہ بہت شرمندہ ہے۔سائم نے اس کے پاؤں پہ پاؤں مارا۔لیکن مروا نے کوئی ہلچل نہیں کی۔اور کھانا پلیٹ میں ڈال کر کھانا شروع کیا۔۔۔۔

جویریہ نے ایک نظر مروہ کو اور پھر سائم کو دیکھا۔کیونکہ وہ سائم کا جھوٹ پکڑ چکی تھی کہ مروہ بھی شرمندہ ہے۔۔۔۔

اور اب سائم کو مروہ پر غصہ ا رہا تھا۔۔۔

تم کھانا شروع کرو پلیز۔۔۔۔۔

سائم نے ایک نظر مروہ کو دیکھا اور پھر جویریہ کو کھانا کھانے کا اشارہ کیا۔۔۔۔

اب مروہ کا غصہ اور رونما ہو چکا تھا۔کھانے کی سپیڈ بھی اس نے بڑھا دی تھی۔سوری کہتی ہے میری جوتی وہ من ہی من میں بڑبڑا رہی تھی۔۔۔