Sheh Rug (Season 2) by Aneeta NovelR50475 Sheh Rug Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Sheh Rug Episode 5
Sheh Rug by Aneeta
سائم دروازہ لاک کر چکا تھا۔اب مروہ کے پاس کوئی اپشن نہیں تھا تو وہ بھی ہار مانتی بیڈ پر جا کر لیٹ چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں سائم بھی روم میں ا چکا تھا۔۔
اس کے روم میں اتے ہی مروہ نے انکھیں بند کر لی تھی کہ اسے لگے کہ وہ سو چکی ہے۔۔
سائم نے ہنستے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔وہ پہلے واش روم گیا چینج کر کے پھر روم میں ایا۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں تم جاگ رہی ہو ڈرامے مت کرو۔۔
سائم نے اپنے شوز اتار کر سائیڈ پر رکھے۔واچ اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی۔۔مروہ نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا تھا۔۔۔۔۔۔
اج باہر کیوں گئی تھی اور وہ لڑکا۔۔۔۔
مروہ نے اپنا روخ اس کی طرف کیا وہ بیڈ پر لیٹ چکا تھا۔سائم نے اپنا ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھایا اور اس کی گال کو کھینچا۔۔۔۔۔۔۔
کیا میں ایک بات پوچھوں۔اس کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے مروہ نے کہا۔وہ تھوڑی سنجیدہ ہوئی۔۔۔۔
ہاں لیکن ایک شرط ہے۔۔۔۔۔
شرط
کیسی؟؟
یہاں سونا پڑے گا۔۔
سائم نے اپنا بازو اس طرف کرتے ہوئے اشارا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
مروا نے اگلے ہی لمحے اپنا رخ دوسری طرف کیا۔مجھے کچھ نہیں پوچھنا سو جاؤ۔۔۔۔۔
سائم نے اس کی کمر میں بازو ڈال کر اسے اپنی طرف کھینچا۔مجھے نیند نہیں ائی ۔۔۔۔۔
تو کیسے سو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔
میں نے کہا نا مجھے اپنی سائیڈ پہ سونا ہے۔۔۔۔
کیا پوچھنا ہے تمہیں وہ پوچھو سائم نے اس کا ہاتھ کو اپنے سینے پر رکھا۔۔
تو مروا نے بھی ایک گہری سانس لی۔اس کے ذہن میں بہت سے سوال تھے جو وہ سائم سے پوچھنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
کیا ہارون انکل نے ارم انٹی کو ڈیورس دے۔۔ دی تھی۔۔
ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔اس کی بات ابھی ادھوری تھی۔۔۔۔
لیکن سائم کچھ نہیں بولا۔۔۔۔۔۔
تم نے کہا تھا بتاؤ گے۔مروہ نے سر اب اس کے بازو سے اٹھانا چاہا تھا ۔۔۔۔
لیکن سائم نے پھر سے اسے اپنی طرف مدو کیا۔۔۔۔۔
ضروری ہے اس ٹاپک پہ بات کرنا۔سائم تھوڑا اب سیٹ ہو چکا تھا۔۔۔۔
بات سے منکر رہے ہو۔۔۔مروا نے اس کے بازو سے اٹھنا چاہا لیکن سائم نے پھر سے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔
ڈیورس دے دی تھی پھر اس کے بعد وہ کافی بکھر چکے تھے۔اور پھر۔۔۔۔۔
وہ چپ ہو گیا تھا شاید وہ بتا بھی نہیں سکتا تھا ہارون کے جانے کے بعد وہ کافی بکھر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اور اس کے فورا ہی بات طیب میاں بھی چلے گئے۔۔۔۔
سائم نے خود کو بڑی مشکل سے سنبھالا تھا۔وہ اندر سے بالکل ٹوٹ گیا تھا لیکن مروہ کے سامنے وہ ایک مضبوط مرد بننے کی ناکام کوشش کرتا تھا۔۔۔۔
مروہ نے بھی پھر اس کے بعد کوئی سوال نہیں کیا لیکن اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ سائم کافی تکلیف میں ہے۔۔۔۔
وہ رات بھر سو نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔
رات کے کسی پہر بڑی مشکل سے اس کی انکھ لگی۔۔۔۔۔
صبح جب مروہ کی انکھ کھلی تو سائم سو رہا تھا۔مروا نے ارام سے اس کا ہاتھ اپنی کمر سے اٹھایا۔۔۔اور دھیرے دھیرے قدموں سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں سائم کی بھی انکھ کھل چکی تھی۔۔۔
۔کیونکہ وہ پوری طرح سے اسے اپنی باہوں میں لیے سویا ہوا تھا۔۔۔۔
مروہ ۔۔۔۔۔۔
اس نے بند انکھوں سے بیڈ پہ ہاتھ مارا تو حالی تھا پھر اس نے انکھیں کھول کر باتھ روم کی طرف دیکھا تو اس کا دروازہ بھی کھلا تھا ۔ ۔۔۔
اس کے ذہن میں عجیب وسوسے ا رہے تھے وہ جلدی سے اٹھا سلیپر پہنے اور باہر کی طرف ایا۔۔۔۔
وہ مروہ کو پکارتے ہوئے۔ا رہا تھا۔اس نے سب کمروں کو چیک کر لیا تھا۔۔۔
صبح کے سات بجے تھے۔کہ اچانک اسے کچن میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔تو اس نے اپنا رخ اس طرف کیا وہ بہت ہی پریشان ہو چکا تھا۔۔۔
مروہ۔۔۔۔۔۔
اس نے کچن میں داخل ہوتے ہی اسے سامنے پایا تو یکدم بولا۔مروہ جو ناشتہ بنانے میں مصروف تھی اس نے ایک نظر پیچھے دیکھا۔۔۔
تم نے مجھے ڈرا دیا تھا۔سائم جلدی سے اس کے پاس ایا اور اسے باہوں میں لیا۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔اور یہ سب۔۔
اس نے ایک نظر کچن کو پھر مروہ کو دیکھا۔۔
تمہارے لیے ناشتہ بنا رہی ہوں ۔ان الفاظ نے تو جیسے سائم کی دنیا ہی تبدیل کر دی ہو۔۔
میرے لیے ۔۔۔۔ اس نے پھر سے ایک نظر کچن کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
ہاں ۔۔مروہ نے بھی حیا کی سرخی سے اپنی نظروں کو نیچے کیا۔۔۔۔
وہ جان چکی تھی کہ سائم نے بھی بہت کچھ برداشت کیا۔اب وہ اسے کچھ سکون دینا چاہتی تھی۔
تھینک یو۔سائم نے اپنے لب اس کے گالوں پر رکھے۔۔۔۔
سائم۔۔۔بے ساختہ مروہ کے منہ سے نکلا اس نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ اسے پیچھے کرنا چاہا۔۔۔۔۔۔
کیا سائم سائم۔۔۔۔۔۔
بیوی ہو میری۔سائم نے اس کے مذمت کرتے ہاتھوں کو پیچھے کیا۔اور پھر سے لمس اس کے چہرے پہ چھوڑیں۔۔۔۔۔
اب تم فریش ہو جاؤ میں ناشتہ بنا رہی ہوں۔مروا نےاپنا روح دوسری طرف کیا۔۔۔
اوکے میری جان ۔۔۔۔۔۔
یہ کہتے ہی وہ اگے بڑھا کہ مروا نے اسے ہاتھ میں پکڑے بیلن سے دور رہنے کا اشارہ کیا۔۔
سائم نے بھی اپنے دونوں ہاتھ کھڑے کیے۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں جا رہا ہوں۔وہ اسے اور تنگ نہیں کرنا چاہتا تھااور فریش ہونے کے لیے چلا گیا۔۔۔۔
مروہ جو ابھی تک اس کی قربت کے خوف میں مبتلا تھی۔جب اسے اس بات کا احساس ہو گیا کہ وہ جا چکا ہے اس نے پھر سے ناشتہ بنانا شروع کیا۔وہ اج بھی سائم کے لیے پراٹھے بنا رہی ۔۔۔۔
کیونکہ فینسی ناشتہ تو وہ ہر روز کرتا تھا۔۔۔۔
سائم فریش ہو کر روم میں ایا ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔
کہ مروا کا موبائل بچنے لگا اس نے اٹھا کے دیکھا تو وہ علیزے کی کال تھی۔۔۔۔۔۔
مروہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسی بھی کیا غلطی ہو گئی مجھ سے کہ تم فون اٹھانا بھی گوارا نہیں کرتی۔سائم نے فون کان کے ساتھ لگایا تھا کہ علیزے نے بڑبڑانا شروع کر دیا۔۔۔
علیزے میں سائم ہوں۔۔۔
سائم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔۔
سائم۔۔۔۔۔
کیسی ہے مروا اور اس نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ہم سب کتنے پریشان ہیں اور فاطمہ تو حالہ کو بہت یاد کر رہی ہے۔۔۔۔
علیزے نے اپنا سارا دکھ اسے سنا دیا۔۔۔
مروہ بالکل ٹھیک ہے۔میں تھوڑی دیر میں بات کروا دو گا۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ روم میں نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا اس کا بہت بہت خیال رکھنا ۔۔
تم جانتے ہو پہلی بھی اس نے بہت کچھ برداشت کیا ہے۔وہ دادا جان کے سب سے زیادہ کلوز تھی اور تمہاری موم کی وجہ سے۔وہ بولتے بولتے چپ ہو گئی۔۔۔
میں جانتا ہوں علیزے میں سب جانتا ہوں۔تم فکر مت کرو۔میں اس کا خیال اپنی جان سے بھی زیادہ حیال رکھوں گا۔۔۔
۔یہ مجھے پتہ ہے کہ وہ مجھے کیسے ملی ہے۔وہ بات کرتے تھوڑا سنجیدہ ہو گیا تھا۔لیکن اج اسے اپنی قسمت پہ رشک تھا۔اج مروا نے اس کی صبح بہت حسین بنا دی تھی۔اس نے اقرار نہیں کیا تھا لیکن اس نے سگنل دیا تھا۔اور سائم کے لیے یہی سب کچھ تھا۔۔۔۔
سائم نے موبائل بیڈ پر رکھا اور ایک گہری سانس لی۔۔۔۔۔۔
تو میری جان نے بنا لیا ناشتہ۔وہ اس شاستگی سے کچن میں ایا تھا کہ مروہ کو احساس نہ ہوا۔وہ اسے بری طرح سے اپنی باہوں میں جکڑ چکا تھا۔۔۔۔
سائم۔۔۔۔۔۔مروہ کے بال بکھرے ہوئے تھے۔اور کچن تو پوری طرح سے اس نے خراب کر رکھا تھا۔۔۔۔۔
اس کی اچانک امد پر وہ بری طرح سے سہمی اس نے اسے پیچھے کرنا چاہا۔سائم نے دونوں ہاتھوں سے اس کی کمر کو پکڑا ہوا تھا۔مروہ کا رخ اگے کی طرف تھا۔۔۔۔
سائم اب میں روم میں چلی جاؤں گی بنا ناشتہ کیے ۔اس نے دوبارہ سے اسے پیچھے کیا۔۔۔۔اور اپنے بالوں کو سیٹ کیا۔۔۔۔۔
اوکے چلو۔اؤ ناشتہ کرتے ہے سائم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور چیئر کو پیچھے کی۔۔۔۔
میری ننھی سے جان نے اج بہت محنت کی ہے۔۔۔۔
مروا نے اسے سگنل تو دے دیے تھے لیکن اب وہ اس کی قربتوں سے کیسے بچے اس کی سمجھ سے باہر تھا۔اب وہ بس اس کے افس جانے کی دعائیں مانگ رہی تھی دل ہی دل میں۔۔۔۔۔۔
تم افس نہیں جا رہے مروا نے اس کی ڈریسنگ دیکھی۔تو اس نے ہلکی سی شرٹ پہنی تھی اور نیچے وائٹ پنٹ افس سوٹ نہیں پہنا تھا۔۔۔۔
کوئی بے وقوف ہی ہو گا جو اج کے دن بھی افس جائے گا۔۔
اتنی خوبصورت بیوی کو چھوڑ کر۔۔۔۔۔۔
مروہ نے ایک دم سے پلیٹ کو وہیں رکھا جو وہ سائم کے اگے رکھنے والی تھی۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔
تم افس جاؤ گے۔۔۔۔۔
مروہ کو اب اس کی قربتوں سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
میں نہیں جا رہا۔اتنے اچھے بریک فاسٹ پہ انعام تو بنتا ہے۔۔۔
اج میں اپنے بیوٹی فل وائف کو شاپنگ پہ لے کے جاؤں گا۔۔۔
سائم نے خود ہی پلیٹ کو اپنے اگے رکھا اور اس میں ایک پراٹھا رکھا ہے۔۔۔۔
نہیں مجھے نہیں جانا۔مروہ نے چائے ڈالتے ہوئے جواب دیا۔
مجھے تم سے کچھ بھی لینا اچھا نہیں لگتا۔۔۔
میرا سب کچھ تمہارا ہے مروہ۔۔۔۔۔
تمہارا حق ہے میری ہر چیز پر۔۔۔۔۔
اور میری ہر چیز تمہاری ہے اس نے مروہ کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔۔۔
اور یہ خوبصورت ہاتھ کام کرنے کے لیے نہیں بنے۔۔۔۔
ائندہ اتنی زحمت مت کرنا میرے لئے۔۔۔۔۔۔۔
تم ملکہ ہو اس گھر کی۔اور میرےدل کی۔۔۔۔۔
تم بہت اگے جا رہے ہو۔۔۔۔مروا نے ہاتھ پیچھے کھینچا۔۔۔
تمہارے دل میں تو کوئی فیلنگز نہیں بھیچی تھی۔۔۔
زیرو فلنگز مروا نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔
تو سائم بھی اپنی ہنسی کو کنٹرول نہیں کر سکا۔۔۔
