Pehli Nazar By Isra Rao NovelR50468 Pehli Nazar (Episode - 9)
No Download Link
Rate this Novel
Pehli Nazar (Episode - 9)
Pehli Nazar By Isra Rao
اس کی جب آنکھ کھلی تو کمرے میں احمر نہیں تھا
وہ اٹھی اور واش روم کے دروازے پر نوک کیا جواب نا آنے پر کھولا وہاں کوئی نہیں تھا
اس نے وضو کیا اور فجر کی نماز پڑھی
وہ نیچے گئی تو سب سو رہے تھے وہ واپس کمرے میں آگئی
وہ جب کمرے میں آیا تو وہ بیٹھی تھی
” کہاں گئے تھے آپ؟” فاطمہ نے پوچھا
” نماز پڑھنے….” احمر نے کہا اور الماری سے کپڑے نکالنے لگا
“کہاں جا رہے ہیں آپ؟” فاطمہ نے کپڑوں کو دیکھتے ہوئے کہا
” آفس” احمر نے مختصر جواب دیا
اور واش روم چلا گیا
وہ دونوں کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے تھے
احمر اور فاطمہ نیچے نہیں آئے تھے ابھی تک
” ان کا کھانا روم میں ہی پہنچا دو ” نگہت نے ملازمہ سے کہا
” لیکن چھوٹے صاحب تو آگئے” ملازمہ نے سیڑھیوں پر احمر کو دیکھتے ہوئے کہا
” اسلام علیکم” قریب آکر دونوں نے سلام کیا
“ارے تم تیار کیوں ہوگئے افس کے لیے آج اوف کرلیتے” نگہت نے کہا
” نہیں موم گھر میں رک کر کیا کروں گا ” احمر نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا
“بیٹھو بیٹا ” نگہت نے فاطمہ کو کہا چپ چاپ کھڑی تھی
ان کے کہتے ہی بیٹھ گئی
” اور بیٹا دل لگ رہا ہے تمہارا؟” نگہت نے کپ میں چائے ڈالتے ہوئے کہا
” جی” فاطمہ بس اتنا کہ پائی
” نہیں بھی لگا تو آہستہ آہستہ لگ جائے گا” فیروز بخت مسکرا کر کہا
وہ اور نگہت لاؤنج میں بیٹھی تھی
کافی دیر سے یہاں وہاں کی باتیں کر رہیں تھیں
” میرا بیٹا تھوڑا ضدی ہے فاطمہ اسے کسی بھی چیز سے کبھی منا نہیں کرنا ایک بار پہلے تم نے اسے بہت تکلیف دی تھی پر وہ ماضی تھا مگر اس سب کے بعد میرا بیٹا بدل گیا
نماز قرآن پاک وہ وہ احمر نہیں رہا وہ بہت نیک بن گیا ہے ” نگہت نے سمجھایا
” بیٹا وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے تمہارے کہنے پر اس نے خود کو بدل لیا وہ تمہارے لیے بہت رویا ہے اب اس کی خوشیوں کے دن آئے ہیں اسے ہمیشہ خوش رکھنا” نگہت نے سنجیدگی سے کہا
اور وہ خاموشی سے ساری بات سنتی رہی
“دو دن بعد میں نے ولیمہ کی تقریب رکھی ہے شادی بھی سادگی سے ہوئی پھر رخصتی بھی جلدی میں تو چھوٹی سی تقریب رکھی ہے…..” نگہت نے اسے بتایا
” میں احمر کو فون کر کے کہ دونگی شاپنگ کروادے گا تمہیں” نگہت نے کہا
” جی” فاطمہ نے مسکرا کر کہا
وہ نہا کر نکلی تھی دوپٹا بیڈ پر رکھا تھا
اور وہ گیلے بالوں کو ٹاول سے خشک کرنے میں مگن تھی
جب احمر اندر آیا
اس نے جیسے ہی احمر کو دیکھا جھٹ سے دوپٹہ اٹھایا
” تم تیار نہیں ہوئی ابھی تک” احمر نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا
“نہیں میں ابھی نہا کر… میں ابھی ہوجاتی ہوں تیار” فاطمہ نے کہا
” تم اتنی دیر کیوں لگاتی ہو تیار ہونے میں تم لیڈیز کبھی نہیں سدھر سکتی” احمر نے بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹتے ہوئے کہا
“اچھا” فاطمہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی
احمر نے اسے بہت اپنی پسند کے کپڑے اور جیولری وغیرہ دلوائی
ولیمہ کے لیے Gray کلر کی کام دار میکسی تھی جو احمر نے پسند کی تھی اس کے لیے
اس کی مچنگ کی جیولری سینڈل وغیرہ لیتے انہیں شام ہونے کو آئی تھی
تو وہ ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے چلے گئے
اسے احمر کا ساتھ اچھا لگ رہا تھا
وہ اسے سمجھنا چاہتی تھی
وہ گرے کلر کی میکسی میں میچنگ کی جیولری لائٹ سا میک اپ وہ کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی
احمر بھی بلیک سوٹ میں اس کے عقب میں بیٹھا مسکرا رہا تھا
لیڈیز اور جینٹس کے پورشن الگ تھے
ندا بھی فاطمہ کے برابر میں بیٹھی تھی وہ فاطمہ کو دیکھ کر بہت خوش تھی
مہمانوں میں بھی فاطمہ کی خوبصورتی کے چرچے ہوئے
اس کے کمرے کو بھی سجا دیا گیا تھا
کینڈلز کی روشنی میں پھولوں سے سجا وہ کمرہ بے حد خوبصورت لگ رہا تھا
وہ بیڈ پر بیٹھی تھی تبھی احمر بھی روم میں آگیا تھا
وہ آکر اس کے برابر بیٹھ گیا تھا
اس نے دراز سے نکالی گئی ڈبی کو کھولا جس میں خوبصورت سا ڈائمنڈ کا پینڈنٹ تھا
“یہ میں تمہیں اس دن ہی دے رہا تھا مگر تم نے لیا ہی نہیں” احمر نے ڈبی سے نکالتے ہوئے کہا
” بہت خوبصورت لگ رہی ہو لیکن یہ پینڈنٹ پہنو گی نا اور بھی خوبصورت لگو گی” احمر نے مسکراتے ہوئے کہا
وہ جیسے ہی پہنانے کے لیے قریب ہوا
وہ یک دم پیچھے ہٹی
احمر حیرت سے اسے دیکھنے لگا
“می….میں خود پہن لونگی” فاطمہ نے کہا
احمر کا سارا موڈ یک دم سے ہوا ہوگیا تھا
اس نے غصہ سے آنکھیں بند کی
” مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ؟ ” احمر نے اسے بازو سے پکڑتے ہوئے کہا
“کیوں تمہیں میری محبت نظر نہیں آتی؟” احمر کی آنکھوں میں غصہ اس نے پہلی بار دیکھا تھا
وہ سہم گئی تھی اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے
احمر نے فوراً اس کے بازو سے ہاتھ ہٹایا اور کھڑا ہوگیا
اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا وہ ضدی شروع سے تھا
فاطمہ کے بار بار انکار سے اسے غصہ آرہا تھا
اس نے پاس رکھا گلدستہ اٹھایا اور پوری طاقت سے زمین پر پھینکا
فاطمہ اس سب سے بہت ڈر گئی تھی
اب وہ خود کو کوس رہی تھی کہ اس نے اسے غصہ دلایا ہی کیوں
” آ…احمر….” وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی وہ دروازہ کھول کر کمرے سے باہر جا چکا تھا
جب اس کی آنکھ کھلی تو فجر کی آذان ہو رہی تھی۔۔
اس نے پورے کمرے میں نظر دوڑائی مگر احمر نہیں
“کیا وہ پوری رات کمرے میں نہیں آیا؟” اس نے خود کلامی کی
پھر اٹھی اور واش روم چلی گئی۔۔
اس نے نماز پڑھی، قرآن پاک پڑھا
مگر کتنی ہی دیر احمر کمرے میں نہیں آیا۔۔
وہ کمرے سے باہر گئی مگر وہاں بھی وہ نہیں تھا۔۔۔
وہ واپس جانے کے لیے مڑی۔۔
تبھی احمر سامنے سے آتا دکھائی دیا۔۔۔
وہشاید نماز پڑھ کر آرہا تھا۔۔
وہ اسے مکمل طور پر اگنور کرتا سیڑھیاں چڑھتے اوپر کمرے میں چلا گیاسیڑھ۔۔
وہ بھی اس کے پیچھے ہی کمرے میں گئی۔۔
وہ وارڈ روب سے کپڑے نکال رہا تھا۔۔
پھر واشروم چلا گیا۔۔
فاطمہ چپ چاپ کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
وہ تھوڑی دیر میں باہر نکلا۔۔
تیار ہوا۔۔۔اور باہر نکل گیا
فاطمہ نے اس سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی وہ جانتی تھی وہ ناراض ہے۔۔۔
نگہت اور فیروز بخت کو کہیں شہر سے باہر جانا تھا۔۔
کسی رشتے دار کے گھر۔۔۔
وہ فاطمہ کو بتا کر چلے گئے تھے۔۔۔
وہ پورا دن گھر میں بور ہوتی رہی۔۔۔
پھر اس نے فون کر کے ندا کو گھر بلایا۔۔۔
وہ تھوڑی ہی دیر میں اپنے شوہر کے ساتھ اس کے گھر آگئی تھی۔۔
احمر جب آیا تو وہ باتیں کرنے میں مصروف تھے۔۔
احمر نے آتے ہی دعا سلام کی اور وہیں ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔۔
فاطمہ اٹھ کر چائے بنانے کچن میں چلی گئی۔۔
“اوربھائی آپ تو اتنے مصروف ہیں کر بھی نہیں لگاتے” ندا نے خفگی سے کہا
“نہیں۔۔۔وہ کچھ کام کا برڈن تھا آئیں گے ضرور اب” احمر نے ہنس کر کہا
تبھی کچن سے فاطمہ کے چیخنے کی آواز آئی۔۔
احمر تیزی سے کچن کی طرف بھاگا۔۔۔
وہاں کا منظر دیکھ وہ خوف زدہ ہوا اور تیزی سے فاطمہ کے پاس گیا
ندا اور اس کا ہسبنڈ بھی کچن میں آگئے تھے
فاطمہ کی شال میں آگ لگی ہوئی تھی اور وہ گھبرا تھی
احمر اس کی طرف بڑھا
“فاطمہ یہ چادر پھینک دو اتار کر ورنہ آگ بڑھ جائے گی” احمر نے آگے آتے ہی کہا اور اس کی چادر پکڑی
فاطمہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔۔
احمر اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔
احمر ہاتھوں سے آگ بجھانے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔۔
تبھی ندا آگے بڑھی اور پانی کا جگ آگ پر اونڈیل دیا۔۔
اور آگ بجھ گئی۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔
وہ بستر پر آنکھیں موندے لیٹی تھی کہ دھڑاک سے کھلا اور وہ غصہ سے اندر آیا
” کیا بد تمیزی تھی یہ؟ تمہیں کچن میں جانے کی ضرورت کیا تھی؟ رفعت بی ہیں گھر میں اور بہت سے ملازم ہیں
پھر کیوں تم خود گئی اور جب میں بول رہا تھا کہ دوپٹہ کو پھینک دو تو تم نے وہاں بھی اپنی چلائی…..
میں تمہیں دوسرا دوپٹہ لا کر دے دیتا” اس نے ڈانٹتے ہوئے کہا
“رفعت بی سٹور روم کی صفائی کر رہی تھی
اور…. اور وہاں فیصل بھائی بھی تھے( ندا کے ہسبنڈ)
تو…تو مجھے دوپٹہ اتارنا ٹھیک نہیں لگا” اس نے گھبراتے ہوئے کہا
احمر بات کا احساس ہوا وہ فیصل کی وہاں موجودگی بھول گیا تھا
“ٹھیک ہے لیکن دوبارہ ایسی حرکت مت کرنا جو کام ہو ملازمہ ہیں گھر میں ” احمر نے کہا اور ہاتھ میں لی ہوئی ٹیوب اس کے سامنے کی
“اگر ہاتھ وغیرہ جلا ہے تو لگا لو” احمر نے کہا
” نن…نہیں مم….میں…” وہ کھچ کہ رہی تھی کہ اس کی نظر احمر کے ہاتھ پر جو جلا ہوا تھا
” احمر یہ…یہ آپ کا ہاتھ جل گیا ہے” اس نے احمر کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
جسے احمر نے جھٹکے سے چھڑوایا
” نہیں زیادہ نہیں ہے” احمر نے بے دھیانی سے کہا
” زیادہ ہے لائیں میں ٹیوب لگا دوں ” اس نے ہاتھ دوبارہ پکڑنا چاہا مگر احمر نے مزید پیچھے کرلیا
” میں لگا لوں گا” احمر نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے ٹیوب لگانی شروع کردی
“مجھے دیں” اس نے احمر کے ہاتھ سے ٹیوب چھینی
اور وہیں زمین پر بیٹھ کر اس کے ہاتھ پر لگانے لگی
اور احمر کو اس کا یوں حق جتانا اچھا لگا تھا
وہ ٹکٹکی باندھے گھور رہا تھا
آج آفس کی چھٹی تھی تو وہ نماز پڑھ کر دیر تک سوتا رہا
وہ جب نہا کر نکلی تو صوفے پر احمر گہری نیند سو رہا تھا
وہ چلتی ہوئی اس کے پاس گئی اور وہیں زمین پر بیٹھ گئی
اسے ناجانے کیوں احمر پر پیار آنے لگا
اس کے چہرے کی معصومیت
اسے اپنی طرف مائل کر رہی تھی
“اچھائیاں سے گوندھا یہ شخص جو میرا مزاجی خدا ہے
میرا محرم میں نے اسے کتنی تکلیف دی اس کا دل دکھایا اور اس نے مجھ سے کبھی کچھ نہیں کہا”
اس نے دل میں سوچا
اس نے ایک نظر احمر کے چہرے کو دیکھا
پھر مسکرا دی اور کھڑی ہوگئی
مگر چونکہ وہ نہا کر نکلی تھی اس کے بالوں سے پھسلتے کچھ قطرے احمر کے چہرے پر جا گرے
احمر نے آنکھیں جھٹ سے کھولی
سامنے فاطمہ کھڑی تھی
اسے جاگتا دیکھ جھٹ سے پلٹی
وہ جب نیچے آیا تو ناشتہ لگ چکا تھا
فاطمہ اسے سیڑھی اترتے دیکھ مسکرا دی
وہ چلتا ہوا ٹیبل تک آیا
کرسی کھینچ کر بیٹھا
تو فاطمہ اس کے کپ میں چائے ڈالی
جو عموماً نگہت ہی کرتی تھی
وہ کھانے لگا تو ہاتھ نظر آئے جو جل گئے تھے
فاطمہ نے اسے دیکھا پھر پراٹھے کا ٹکڑا توڑا اور اس کے منہ تک لائی
احمر نے نوالے کو دیکھا پھر اس کے چہرے جس پر مسکراہٹ تھی
“کھا لیں نا” فاطمہ نے مسکراتے ہوئے کہا
احمر نے فاطمہ کا یہ روپ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا
وہ حیران تھا
اس نے نوالا منہ میں لے لیا پر نظر فاطمہ پر ہی تھی
” یہ اس کو اچانک کیا ہوا ہے؟” احمر نے دل میں سوچا
” پاپا سوری وہ جو گاڑی آپ نے دی تھی نا وہ چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا تو وہ” اس نے شرمندگی سے کہا
” کیا؟ کہیں چوٹ تو نہیں لگی؟ ” وہ پریشان ہوئے
” نہیں پاپا” فاریہ نے کہا
” گاڑی دیکھ کر چلانی چاہیے غلطی تو انسان ہوجاتی مگر کبھی کبھی مہنگی بھی پڑ جاتی ہے غلطی” انھوں نے سمجھا تے ہوئے کہا
“یاد نہیں ایک احمر کا بھی ایکسیڈنٹ ہوا تھا
کتنی چوٹ آئی تھی اسے اور وہ سامنے گاڑی میں تو جو لڑکا تھا اس کی تو ڈیتھ ہی ہوگئی تھی “
فاریہ خاموشی سے سن رہی تھی
” کیا؟ مگر مجھے تو پتا نہیں چلا اس بات کا یہ تو میں نے آپ کے منہ سے سنا ہے آج” فاریہ کو جھٹکا لگا
“فیروز نے رفا دفا کروادیا کروا دیا تھا کیس خیر اس پارٹی نے بھی کو پروبلم کیریئیٹ نہیں کی تھی کسی مولوی کا گھرانا تھا ایک ہی بیٹا تھا لیکن ایک طرح سے عافیت ہی جانو ورنہ کیس سٹرونگ تھا کافی احمر کو جیل ہو سکتی تھی…. “
فاریہ ان کی بات سنتی ہکی بکی رہ گئی تھی
کہ ان لوگوں نے کتنی آسانی سے بات چھپا لی تھی
شام کا وقت ہوچلا تھا وہ لان میں بیٹھا تھا
فاطمہ چائے کی ٹرے ہاتھ میں لیے چلتی ہوئی آئی
“چائے” اس نے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
” ایک بات بتاؤ؟” احمر نے سوال کیا
” یہ تم اچھی بیوی کے فرائض کیوں انجام دے رہی ہو جب کہ تمہیں مجھ سے محبت تک نہیں” احمر نے دو ٹوک کہا
” اگر میں کہوں کہ مجھے آپ کی محبت کا احساس ہوگیا تو؟” اس نے کپ اٹھاتے ہوئے کہا
” مجھے احسان نہیں چاہیے مت کرو کچھ بھی ترس کھا کر” احمر نے ناگواری سے کہا
وہ لمحہ بھر خاموش رہی
” اگر میں کہوں کہ مجھے آپ سے آپ کی محبت سے آپ کی اچھائیوں سے محبت ہوگئی تو؟” فاطمہ کی آنکھوں میں چمک تھی
احمر اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
وہی بھوری بڑی بڑی آنکھیں
جن میں اس نے ہمیشہ اپنے لیے بیزاری دیکھی تھی
آج کچھ اور ہی دکھا رہی تھی
تبھی گیٹ سے اندر آتی گاڑی دکھائی دی
