534.2K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehli Nazar (Episode - 4)

Pehli Nazar By Isra Rao

ہر رات کی طرح آج بھی وہ خیالوں میں ہی گم تھا اسے بس یہی بات کھائے جا رہی تھی کہ فاطمہ اسے آوارہ بدمعاش سمجھ رہی ہے

” شاید وہ ٹھیک سمجھ رہی ہے ایسا کون سا عیب ہے جو مجھ میں نہیں میں اس کے لائق نہیں شاید” اس نے خود کلامی کی

نا جانے کتنی سگریٹ وہ پی چکا تھا رات بھی کافی ہوگئی تھی پرکتنی ہی دیر اسے نیند نہیں آئی

صبح بھی وہ جلدی اٹھ کر نیچے آگیا تھا

“یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں میرا بیٹا آج اتنی جلدی اٹھ گیا” نگہت نے اسے دیکھ کر کہا

” بس موم آنکھ کھل گئی تھی تو پھر میں نیچے آگیا” احمر نے کہا

“آجاؤ ناشتہ کرو” نگہت نے مسکراتے ہوئے کہا

” جی موم” اس نے کہا اور کھانے کی ٹیبل پر بیٹھ گیا

تبھی مہروز بخت بھی آگئے احمر کو دیکھ کر حیران ہوئے

“آج اتنی جلدی کیسے اٹھ گیا یہ” مہروز بخت نے مسکراتے ہوئے کہا

“میرا بیٹا اب آہستہ آہستہ سمجھ دار ہورہا ہے” نگہت نے چائے کپ میں ڈالتے ہوئے کہا

” ہمم اچھی بات ہے” مہروز بخت نے کہا

“وہ لڑکی دیکھ کر آئے تھے کیا جواب ہے پھر تمہارا؟” مہروز بخت نے پوچھا

” وہ ڈیڈ مجھے نہیں کرنی شادی اس لڑکی سے” احمر جواب دیا

” کیوں کیا پروبلم ہے اس میں؟” مہروز بخت نے احمر کی طرف دیکھ کر کہا

“ڈیڈ ضروری تو نہیں کسی میں پروبلم ہو تب ہی انکار ہو” احمر نے سمجھانے کی کوشش کی

” میرے خیال میں تو ایسا ہی ہوتا ” مہروز بخت نے تلخی سے کہا احمر خاموش رہا

“کوئی پسند ہے تمہیں؟” مہروز نے دوبارا پوچھا

“نہیں” احمر نے انہیں بنا دیکھے ہی جواب دیا

“تو پھر اس لڑکی کو ڈن کرو اور کل سے آفس جوئن کرو ” مہروز بخت نے کہا اور کھڑا ہوگیا

” میری گاڑی کی چابی کہاں ہے؟” وہ نگہت سے مخاطب تھے

نگہت نے گاڑی کی چابی انہیں دی اور وہ باہر نکل گئے

نگہت نے ایک نظر احمر پر ڈالی جو ناشتہ نہیں کر رہا تھا اس کی آنکھوں میں غصہ صاف جھلک رہا تھا

” احمر” نگہت نے کہا مگر وہ بنا جواب دیے اٹھا اور باہر نکل گیا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“بھائی مجھے بھی شاپنگ کرنی ہے آخر میرے اکلوتے بھائی کی منگنی ہے” فاطمہ نے بھائی سے لپٹتے ہوئےکہا

” مجھے بھی کرنی ہے ہم آج ہی شاپنگ کریں گے ابا کل بہت کام ہونگے ” ندا نے کہا

“ہاں ہاں شہروز بیٹا اس کو پیسے دے دو دونوں بہنیں تیاری کر لیں گی” حافظ صاحب بیٹے سے مخاطب تھے

” جی ابا” شہروز نے جیب سے پیسے نکالے اور ندا کو دے دیے

” یہ ہوئی نا بات” ندا خوش ہوئی

وہ سب ہی آج بہت خوش تھے شہروز کی کل منگنی تھی جو حافظ صاحب کا اکلوتا بیٹا تھا اور فاطمہ اور ندا کا اکلوتا بھائی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦

وہ ریسٹورنٹ سے نکل رہا تھا جب اس کی نظر سامنے کپڑوں کی شاپ پر کھڑی دو لڑکیوں پر پڑی

وہ بھاگتا ہوا آیا ان کے قریب وہ شاپ سے نکل رہی تھی کہ فاطمہ کی نظر اس پر پڑی

“ندا ایک منٹ” وہ کہ کر اس کی طرف آئی غصہ اتنا تھا مانو آج وہ احمر کو سبق سکھادے گی کہ کسی لڑکی کا دوبارہ پیچھا نہیں کرے گا

“شکر آپ خود ہی آگئی مجھے آپ سے بات کرنی تھی” اس نے ہانپتے ہوئے کہا

“آپ سے میں محبت کرتا ہوں میں آپ کے گھر اپنی موم کو بھیج سکتا ہوں رشتے کے لیے ” احمر نے کہا

” آپ جیسے انسان سے شادی کیا ہے آپ کے پاس ایسا” فاطمہ نے غصہ سے کہا

” میرے پاس سب کچھ ہے گاڑی…” وہ کہ رہا تھا کہ اس نے بات کاٹ دی

” اسلام ہے آپ کے پاس؟ ارے پہلے اپنے رب کو راضی کریں پھر میرے پاس آئیے گا اور رہی بات میری مجھے آپ جیسے لوفر اور آوارہ لڑکے بلکل نہیں پسند آئندہ میرا پیچھا مت کیجیے گا پلیز” فاطمہ نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا اور وہاں سے نکل گئی

وہ اپنے حواس کھوتے ہوئے وہی کھڑا رہا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

گاڑی کو تیز اسپیڈ میں بھگا رہا تھا باتیں بار بار اس کے زہن سے ٹکرا رہی تھی

(اس لڑکی کو ڈن کرو)

(کیوں مجھے بار بار تنگ کر رہے ہیں پلیز میرا پیچھا کرنا بند کردیں آپ)

(اس کے گھر کے باہر کھڑا رہے گا تو وہ تجھے لوفر ہی سمجھے گی نا)

(میں انجان شخص اور نا محرم سے بات نہیں کرتی)

(اسلام ہے آپ کے پاس؟)

(مجھے آپ جیسے آوارہ اور لوفر لڑکے بلکل پسند نہیں)

( ارے پہلے اپنے رب کو راضی کریں)

سب کی باتیں اس کے دماغ سے ٹکرا رہی تھی

“مجھ میں ہر عیب ہے میں اس کے لائق نہیں” وہ سوچ رہا تھا

وہی بھوری خوبصورت آنکھیں

سفید رنگت کھلتا چہرا

بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا

” میں پاگل ہوجاؤں گا” اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو پکڑا اس کا سر پھٹنے کو تھا

اس نے سے آتی گاڑی کو نہیں دیکھا اور جب دیکھا تو وہ بہت قریب آچکی تھی اس نے کوشش کی پر حالات ہو گاڑی کو سمبھال نا سکا…

فاطمہ کچن میں برتن دھو رہی تھی اور سوچ دور کہیں گم تھی

” کون تھا وہ لڑکا؟” ندا کی آواز پر وہ چونکی

” پتا نہیں” فاطمہ نے نل بند کرتے ہوئے کہا

” جب نہیں پتا تھا تو اتنی باتیں کیوں سنائی اسے ” ندا سینے پر ہاتھ باندھے اس کے سامنے کھڑی تھی

“ندا وہ لڑکا پتا نہیں کتنے ہی دن سے میرا پیچھا کر رہا تھا” فاطمہ نے قریب آکر کہا

“تو نے مجھے بھی نہیں بتایا” ندا نے کہا

” نہیں کیوں کہ مجھے لگا وہ سدھر گیا دوبارہ میرا پیچھا نہیں کرے گا لیکن آج پھر…؟ فاطمہ جھنجھلائی

“جو بھی تھا فاطمہ تجھے حق نہیں کسی انسلٹ کرنے کا” ندا نے فاطمہ کو کہا

“اس نے تجھے پرپوزل دیا تو نے انکار کر دینا تھا بس تو نے جو یہ بات کہی کہ پہلے اپنے رب کو راضی کرے بہت غلط تھی….. کیا تو جانتی ہے کہ رب اس سے راضی ہے یا نہیں؟ یا یہ جانتی ہے کہ رب تجھ سے راضی ہے یا نہیں؟” ندا کہتی چلی جا رہی تھی

“اور رہی بات اس لڑکے کی کہ وہ لوفر ہے تو یہ بھی رب ہی جانتا ہے کون کتنا گنہگار ہے یہ بھی رب ہی جانتا ہے فاطمہ” ندا نے بات پوری کی اور وہاں سے چلی گئی اور وہ وہیں کھڑی سوچتی رہی کہ شاید اس نے کچھ غلط کہ دیا تھا شاید اس نے غرور کرلیا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ ہوسپیٹل کے ایک کمرے میں تھا اس کے ارد گرد سب موجود تھے

” احمر” نگہت نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہا

” موم میں یہاں؟” اس نے ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے کہا

” احمر تمہارا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا پر Thank God کے تمہیں زیادہ چوٹ نہیں آئی خدا نے رحم کردیا کہ اتنے بڑے ایکسیڈنٹ کے بعد بھی تم صحیح سلامت میرے سامنے ہو” نگہت نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

اس کے دماغ نے بجلی کی رفتار سے کام کیا اور اسے سب یاد آگیا کہ فاطمہ اور اس کے درمیان کیا بات ہوئی تھی

اور تیز اسپیڈ میں گاڑی چلا رہا تھا تبھی اس کی گاڑی کے سامنے کوئی گاڑی آگئی تھی اور…….

اس نے اپنی آنکھیں بند کرلی اور آنسوں کا قطرہ اس کی آنکھ سے گرا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

قرآن پاک پڑھ کر آئی تو تو ندا کپڑے استری کر تھی تبھی دروازے پر دستک ہوئی

فاطمہ اٹھی اور دروازے کی طرف گئی

دروازہ مسلسل بج رہا تھا اس نے جلدی سے دوپٹے کا ہاتھ سے نقاب کیے دروازہ بنا پوچھے ہی کھول دیا

“ابا” فاطمہ نے سامنے حافظ صاحب کا چہرہ اترا ہوا دیکھا

حافظ صاحب کے پیچھے کچھ آدمی بھی کھڑے تھے

حافظ صاحب کی آنکھوں سے آنسوں گر رہے تھے فاطمہ کا دل پھٹنے کو تھا

ان آدمیوں کو دیکھ فاطمہ نے بنا کوئی سوال کیے اندر جانا مناسب سمجھا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“ارے مسٹر یہاں آرام کر رہے ہو اور وہاں میں بور ہو رہی تھی تمہارے بنا” فاریہ نے احمر کو دیکھتے ہوئے کہا

اس کی بات پر احمر ہلکا سا مسکرایا

“یہ ہوئی نا بات اب لگ رہے ہو میرے پیارے دوست ” فاریہ نے خوش ہو کر کہا

” تمہیں تو خوش ہونا چاہیے تمہیں میں تنگ جو نہیں کر رہا” احمر نے موڈ ٹھیک کرتے ہوئے کہا

” میں تو چاہتی ہوں تم ہمیشہ مجھے ایسے ہی تنگ کرتے رہو تمہیں اس حال میں دیکھ کر جو تکلیف مجھے ہورہی ہے تمہیں اندازہ نہیں احمر” فاریہ کی آنکھوں میں نمی تیر آئی

احمر یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا اس کی آنکھوں میں نمی صاف نظر آرہی تھی

” میرا مطلب ہے تم میرے سب سے اچھے دوست ہو تمہیں تکلیف ہوگی تو مجھے بھی ہوگی نا” فاریہ نے احمر کی نظروں کو محسوس کرتے ہوئے کہا اور احمر مسکرا دیا

” تم بھی میری سب سے اچھی دوست ہو لیکن ایک بات کہ تم روتی ہوئی اور بھی بری لگتی ہو” احمر نے شرارت سے کہا اور فارہی ہنس دی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ آدمی ڈیڈ باڈی رکھ کر جا چکے تھے فاطمہ اور ندا بھاگتی ہوئی آئی

” ابا” آنکھو میں آنسوں لیے فاطمہ سوالیہ نظروں سے حافظ صاحب کو دیکھ رہی تھی

“ندا نے کانپتے ہاتھوں سے چادر ہٹائی تو سامنے خون سے بھرا شہروز کا چہرہ تھا ان کا اکلوتا بھائی

” بھائی” ندا چلائی

حافظ صاحب کی آنکھوں سے مسلسل آنسوں بہ رہے تھے

” ابا کیا ہوا ہے میرے بھائی کو ابھی تو… آج میرے بھائی کی منگنی تھی ابا شہروز بھائی ایسے نہیں جا سکتے” فاطمہ کے حواس قابو میں نہیں تھے

” بھائی ایک بار اٹھ جائیں”

” ابا بھائی کو بولیں نا اٹھنے کو”

“آج تو منگنی ہے نا آپ کی بھائی دیکھیں نا ہم نے تیاری بھی کرلی”

فاطمہ اور ندا مسلسل رو رہی تھی آہستہ آہستہ عورتیں آنا شروع ہوگئی تھی

خوشی کا گھر سوگ میں تبدیل ہو گیا تھا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“اور کیسی طبیعت ہے” عادل نے پوچھا

“ٹھیک ہوں اور تجھے اتنی دیر بعد ٹائم ملا میرے پاس آنے کا؟” احمر نے خفگی سے کہا

“آنٹی سنا آپ نے آپ کے صاحب زادے کیا کہ رہے ہیں؟ مجھے کہ رہا ہے میں اسے دیکھنے نہیں آیا واہ بھئی” عادل نے چڑ کر کہا

” احمر یہ کافی دیر سے یہیں تھا پھر اس کی گھر سے کال آگئی تھی تو میں نے کہ دیا تھا گھر چلا جائے” نگہت مے کہا

تبھی نگہت کا فون بجنے لگا

” Excuse me”

کہ کر نگہت روم سے باہر چلی گئی اور عادل منہ پھلائے کھڑا تھا

” اچھا نا سوری مجھے پتا نہیں تھا” احمر مسکرا کر عادل کو دیکھا وہ بھی مسکرا دیا

” ویسے کن سوچوں میں گم تھا جو ہاتھ پاؤں تڑوائے تو نے” عادل نے کلاس لی

” کچھ نہیں یار بس تھوڑا مینٹلی ڈسٹرب تھا” احمر سر جھکائے کہا

“اور وہ ڈسٹربنس اس لڑکی کی وجہ سے ہوگی؟ رائٹ” عادل نے پوچھا

احمر نے اثبات میں سر ہلایا

“بات ہوئی تھی اس سے” عادل نے دوبارہ پوچھا

“ہاں” احمر بس اتنا کہ سکا

“کیا کہا اس نے” عادل کے پوچھنے پر احمر نے اسے سب بتا دیا

“اسے تیرے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا وہ کون ہوتی ہے تجھے اسلام سکھانے والی؟” عادل نے غصہ سے کہا

“اب میں اسے تنگ نہیں کروں گا یار ہم بہت الگ ہیں ایک دوسرے سے ” احمر نے کہا اور خود سوچ میں تھا کہ کیا میں اسے بھول پاؤں گا؟

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“پتا کرو کون ہیں وہ لوگ” مہروز بخت کوریڈور میں کھڑے فون پر بات کر رہے تھے

” اور پتا کرتے ہی مجھےاپڈیٹ کرو میں کوئی بھی رسک نہیں لونگا ” وہ تعش میں تھے

“ہاں ٹھیک ہے” کہ کر اس نے فون بند کردیا

اس نے مڑ کر دیکھا تو پیچھے نگہت کھڑی تھی

“کیا ہوامہروز خیریت؟” نگہت نے پوچھا

” احمر کی گاڑی سے جو ایکسیڈنٹ ہوا اس میں ایک لڑکے کی ڈیتھ ہوگئی” مہروز نے افسوسگی سے بتایا

“What?”

نگہت پریشان ہوئی

“پتا کرواتا ہوں کون ہیں وہ لوگ کہیں کیس نہ کردیں” مہروز نے کہا

“اب کیا ہوگا مہروز میرا بیٹا….نہیں….. مہروز کچھ کرو” نگہت نے کہا

” کچھ نہیں ہوگا فکر نہیں کرو اگر کیس کر بھی دیا میں اچھے سے اچھا وکیل ہائر کروں جتنے پیسے لگیں گے لگا دوںگا مگر احمر کو کچھ نہیں ہونے دونگا”مہروز نے تسلی دی

“اور ہاں احمر کو خبر نہیں ہونی چاہیے وہ پریشان نہ ہوجائے” مہروز نے اور نگہت نے اثبات میں سر ہلایا