Pehli Nazar By Isra Rao NovelR50468 Pehli Nazar (Episode - 12) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Pehli Nazar (Episode - 12) Last Episode
Pehli Nazar By Isra Rao
” مجھے معاف کردو احمر” فاطمہ نے روتے ہوئے کہا
” نہیں میری غلطی تھی نا میں تم سے معافی مانگتا ہوں مجھے چھوڑ کر کبھی مت جانا فاطمہ” احمر نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا
” میں کہاں جاؤں گی آپ کو چھوڑ کر احمر….
پتا میرے ابا نے مجھ سے کہا تھا ایک دن تم سمجھ جاؤ گی میں نے احمر کا انتخاب کیوں کیا…
آج مجھے پتا چل رہا کہ میں کتنی غلط تھی میرے ابا نے تمہارا انتخاب کیوں کیا تھا میں آج سمجھ گئی ….” فاطمہ نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا
اور احمر بھیگی آنکھوں سے بھی مسکرا دیا
“فرقان کا فون آیا تھا معافی مانگ رہے تھے فاریہ کی غلطی کی” مہروز نے بتایا
” اس کی غلطی اس لائق نہیں تھی جو اسے معاف کیا جائے” نگہت نے ناگواری سے کہا
“بتا رہے تھے فاریہ ہوسپیٹل میں ہے اس نے خود کشی کی کوشش کی تھی” فیروز نے نگہت کو دیکھتے ہوئے بتایا
” کیا؟ یہ لڑکی سچ میں پاگل ہے ” نگہت نے حیرت سے کہا
تبھی فاطمہ اور احمر بھی وہاں آکر بیٹھ گئے
” ہوگئی ناراضگی ختم تم دونوں کی؟” نگہت نے انہیں خوش دیکھ کر کہا
” ہاں/نہیں” دونوں یک دم مختلف جواب دیے
نگہت اور فیروز نے حیرت سے انہیں دیکھا
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر کھل کھلا کر ہنس دیے
وہ بیڈ پر بیٹھا تھا کوئی کتاب پڑھ رہا تھا جب فاطمہ کمرے میں آئی
وہ آکر اس کے برابر بیٹھ گئی
” آنٹی بتا رہی تھی فاریہ ہوسپیٹل میں ہے اس نے نیند کو کافی گولیاں کھا لی تھی” فاطمہ نے بتایا
“کیا؟” احمر کو حیرت ہوئی
“ہاں اس کے فادر کی کال آئی تھی معافی مانگ رہے تھے” فاطمہ نے بتایا
” ہمارا اب ان سے کوئی تعلق نہیں” احمر نے سنجیدگی سے کہا
فاطمہ خاموش رہی
پھر یک دم احمر کے ہاتھ سے کتاب چھینی
” اس کو تو بند کریں آپ” فاطمہ نے جھنجھلا کر کہا
احمر نے اسے غصہ سے گھورا
وہ سمجھ نہیں سکی
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی کتاب چھیننے کی؟ یہ مت سمجھنا کہ میں دوسرے شوہروں کی طرح بیوی کے نخرے اٹھاؤں گا….
میرے سامنے دوبارہ نظریں جھکا کر بات کرنا آئی سمجھ؟” احمر غصہ سے کہا
وہ یک ٹک اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی
” سنا نہیں تم نے نظریں جھکا کر کہا ہے نا” احمر دھاڑا
اس نے فوراً نظریں جھکائی آنسوں میں نمی تیر آئی تھی
“بہت من مانیا کرلی تم نے دوبارہ تم نے ایسی ویسی کوئی بھی حرکت کی تو وہ حشر کرونگا تمہارا تم ہمیشہ یاد رکھو گی ” احمر نے انگلی اٹھا کر اسے دھمکایا
اور وہ سہم کر پیچھے ہوئی
وہ احمر کے غصہ کی وجہ سمجھ نہیں سکی
اس کی آنکھوں سے آنسوں گرتے چلے گئے
” ہمیں جانا چاہیے ہسپتال فاریہ کو دیکھنے آخر کو ہمارے گھر میں پلی بڑھی ہے” فیروز نے کہا
” نہیں کوئی ضرورت نہیں فیروز ہم نے کتنا پیار دیا اسے اور اس نے…..
بس اب ہمارا کوئی بھی تعلق نہیں ان سے”
نگہت نے ناگواری سے کہا
“مگر فرقان کی تو کوئی غلطی نہیں تھی اس میں”
فیروز نے سمجھانا چاہا
“ان ہی کی غلطی ہے ساری ان کے لاڈ پیار نے اسے بگاڑ کر رکھ دیا”
“ہاں یہ تو ہے”
فیروز بھی متفق ہوئے
“فاریہ “
اسے حوش میں آتا دیکھ فرقان اس کی طرف بڑھے
” می…میں… Am sorry پاپا”
فاریہ نے کہا
” معافی نہیں ملے گی تمہیں……
تم نے ایک بار بھی ہمارے بارے میں نہیں سوچا؟”
فرقان کی آنکھوں میں آنسوں تھے
” پاپا میں آپ کو کبھی بھی تنگ نہیں کروںگی Am sorry”
اس کی آنکھوں میں آنسوں تھے
وہ شرمندہ تھی اپنے کیے پر
وہ نظریں جھکائے آنسوں بہا رہی تھی اب اس کے آنسوں شدت اختیار کر چکے تھے
وہ کب سے اپنی ہنسی دبا رہا تھا
اس کی نظر جیسے ہی فاطمہ پر پڑی جو رو رہی تھی
اسے فوراً غلطی کا احساس ہوا
“فاطمہ…..مں تو….میں تو مزاق کر رہا تھا یار سچ میں میں مزاق کر رہا تھا” احمر نے اسے چپ کروانے کے لیے ہاتھ بڑھائے کہ وہ یک دم اس پر برس پڑی
دونوں ہاتھوں سے اسے مارنا شروع کردیا
” ارے..کیا کر رہی ہو…. مار کیوں رہی ہو مجھے میں نے تو مزاق کیا تھا”
وہ خود کے بچاؤ کے لیے تکیہ اٹھا چکا تھا
وہ بس اب احمر سے منہ موڑے بیٹھی روتی جا رہی تھی
احمر اپنی ہنسی کو مزید کنٹرول نہیں کرپایا
اور ہنستا چلا جا رہا تھا
جس سے وہ فاطمہ کو اور تپا رہاتھا
وہ پھر سے اسے مارنے لگی مگر اس بار احمر نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اسے خود سے قریب کیا
” چھوڑو مجھے” اس نے ناراضگی سے کہا
” اچھا رونا تو بند کرو یار مزاق کر رہا تھا” احمر نے پیار سے کہا
وہ تھوڑی چپ ہوئی تو احمر نے اسے اپنے حصار میں لے لیا
” تم مجھ سے ڈرتی ہو؟” احمر نے پوچھا
” نہیں…” اس نے نفی میں سر ہلایا
” پھر رو کیوں رہی تھی؟” احمر نےسوال کیا
” پتا نہیں” فاطمہ نے جواب دیا
” میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں میں تمہیں ڈانٹ سکتا ہوں….. “
احمر نے کہا
” میں بھی” فاطمہ نےہلکے سے مسکرا کر کہا
“ہاں مگر زیادہ خوش فہم مت ہونا
میرا کوئی بھروسہ نہیں”
احمر نے شرارت سے کہا
” کیا کہا؟” فاطمہ نے کہا
” نہیں کچھ نہیں…. میں تو یہ پوچھ رہا تھا کہ مجھے
اب صوفے پر جانے کی تو ضرورت نہیں “
احمر نے ہنسی کنٹرول کی
فاطمہ نے اسے گھورا
اور اس کا قہقہہ کمرے میں گونجا
” پاپا میں آگے کی سٹڈیز انگلینڈ میں کرنا چاہتی ہوں ماموں کے پاس” فاریہ نے کہا
” کیا؟ کیوں یہاں کیا ہے” فرقان نے کہا
“بس پاپا میں یہاں نہیں رہنا چاہتی پلیز پاپا میں احمر کو بھولنا چاہتی ہوں” فاریہ نے منت کی
“ٹھیک ہے مگر ابھی تم آرام کرو ” وہ کہ کر کمرے سے باہر نکل گئے
اور اس کی آنکھ سے آنسوں چھلک گیا
وہ جب نماز پڑھ کر آیا تو وہ آئینے کے سامنے کھڑی لپسٹک لگا رہی تھی
سفید رنگ کی فراک جس پر ہلکا سا کام تھا
دوپٹے کا حجاب بنائے
سفید رنگ میں اس کی رنگت اور بھی کھل رہی تھی
وہ دروازے پر کھڑا اسے گھور رہا تھا
” تیار ہو” احمر نے پوچھا
” ہاں”
اس نے احمر کو مسکرا کر دیکھا
” کیسے لگ رہی ہوں”
اس نے احمر گھورتے دیکھا تو پوچھا
“بہت پیاری” احمر نے قریب آکر کہا
اور وہ مسکرا دی
” تم مسکراتی ہوئی بہت خوبصورت لگتی ہو جیسے کھلتا گلاب” احمر نے مسکرا کر کہا
” زیادہ رومینٹک ہونے کی ضرورت نہیں ہے ہم لیٹ ہو رہے ہیں چلو” اس نے ہنستے ہوئے احمر کا بازو پکڑے کمرے سے باہر نکل گئی
وہ جب نیچے آئے تو سامنے نگہت کھڑی تھی
” ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو” نگہت نے کہا
اور فاطمہ مسکرا دی
” کہیں جا رہے ہو دونوں؟” نگہت نے پھر سے سوال کیا
” جی آنٹی ندا کے گھر” فاطمہ نے کہا
” اچھا اچھا ” نگہت نے کہا
تبھی سامنے سے فاریہ آتی دکھائی دی
سب حیرانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے
” آپ سب حیران ہو کہ اب یہاں کیوں آئی ہوں؟……میں….
میں صرف معافی مانگنے آئی ہوں یہاں…..
میں نے آپ سب کو بہت تکلیف پہنچائی ہے میں معافی چاہتی ہوں پلیز مجھے معاف کردینا” اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا
” میں دو دن بعد انگلینڈجا رہی ہوں کوشش کروں گی دوبارہ یہاں کبھی نا آؤں…..
میں نے خود غرضی میں کیا اس کے لیے مجھے معاف کردینا آپ سب مگر پلیز مجھ سے نفرت مت کرنا”
اس نے احمر کو دیکھتے ہوئے کہا
” ہم تم سے ناراض نہیں ہیں ہم نے تمہیں کب کامعاف کردیا” فاطمہ نے اس کے قریب آکر کہا
” تھینک یو فاطمہ تم سچ میں بہت اچھی ہو میں نے تمہارا گھر خراب کیا اور تم نے مجھے پل میں معاف کردیا”
فاریہ نے شرمندگی سے کہا
” بھول جاؤ سب باتیں اور ہمیشہ خوش رہنا” فاطمہ نے مسکرا کر کہا
اس کی آنکھ سے آنسوں گرے
اور وہ واپسی کے لیے پلٹ گئی
” احمر مجھ سے کبھی نفرت مت کرنا” اس نے کہا اور لمبے لمبے قدم اٹھاتے باہر نکل گئی
“آپ نے فاریہ کو معاف کردیا” فاطمہ نے ڈرائیو کرتے احمر سے پوچھا
” ہاں شاید” احمر نے مختصر کہا
” اس کا کوئی قصور نہیں تھا ہماری غلطی تھی جو ….”وہ کچھ اس سے پہلے ہی احمر بول اٹھا
” I love you”
احمر نے اسے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا
کچھ لمحے وہ خاموش رہی کہ شاید
یہ بات بولنے کا ٹائم تو نہیں تھا
اور وہ بنا جواب دیے قہقہانہ انداز میں ہنس دی
احمر بھی اپنی حرکت کو سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ ہنسنے لگا….
اور وہ اس کے کاندھے پر سر رکھے
اپنی قسمت پر رشک کرنے لگی
کہ اسے احمر ملا
احمر کو بھی یک دم ہی اس کی اور فاطمہ کی پہلی ملاقات یاد آئی جب وہ اس کی گاڑی سے ٹکرائی تھی
اور اس کی پہلی نظر نے اس کو دیوانا کردیا تھا….
ختم شد
