Pehli Nazar By Isra Rao NovelR50468 Pehli Nazar (Episode - 11)
No Download Link
Rate this Novel
Pehli Nazar (Episode - 11)
Pehli Nazar By Isra Rao
رات گہری تھی مگر وہ دونوں ہی جاگ رہے تھے کمرے میں مکمل خاموشی تھی
وہ صوفے پر لیٹا تھا مگر نظر بیڈ پر بیٹھی فاطمہ پر تھی جس نے اس سے دوبارہ بات نہیں کی تھی بس روئے جا رہی تھی
” کیا یہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی؟”
احمر نے دل میں کہا
پوری رات گزر گئی تھی مگر وہ سو نہیں سکے
فجر کی آذان کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی
احمر جھٹکے سے اٹھا اور بیڈ پر بیٹھی فاطمہ کے پاس گیا
” کیا مسئلہ ہے یار پوری رات ہوگئی تمہیں روتے ہوئے
میں مانتا ہوں میری غلطی ہے مگر….” احمر بات مکمل نہیں کر پایا
” مگر کیا ماننے سے میرا بھائی واپس آجائے گا؟” فاطمہ نے جھٹ سے کھڑے ہوکر کہا
” فاطمہ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا کچھ وہ ایک حادثہ تھا” احمر نے اسے بازوں سے پکڑتے ہوئے کہا
” حادثہ تھا تو چھپایا کیوں؟” فاطمہ چیخی
احمر خاموش ہو گیا تھا
شاید اس کے پاس جواب نہیں تھا
” میں نے کتنا بھروسہ کیا آپ پر احمر میں تو آپ سے محبت بھی کرنے لگی تھی اور آپ نے….” فاطمہ نے آنسوں بہاتے ہوئے کہا
” کیوں احمر…. کاش کہ مجھے یہ سچائی پتا چلتی ہی نا کبھی۔۔۔ اب میں کیا کروں ” فالمہ کی آواز میں لاچارگی تھی
” میں نے آپ کو سب کچھ مان لیا تھا پھر کیوں کیا….” وہ احمر کا گریبان پکڑتے ہوئے چیخی
“تمہیں مجھ پر بھروسہ ہی نہیں فاطمہ ارے میں کسی کو کیا ماروں گا جو دو سال سے تمہارے عشق میں مر رہا تھا”
احمر نے کہا
“اس دن جب تم نے مجھے بہت سی باتیں سنائی تھی شاپ کے باہر تو میں پاگل ہوگیا تھا میں اپنے حواس میں نہیں تھا میں گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا پھر میرے سامنے ایک گاڑی آئی اور….
فاطمہ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا کچھ بھی”
احمر کی آنکھوں میں آنسوں تھے
تبھی فاطمہ کے ہاتھوں کی گرفت کمزور پڑ گئی احمر کے گریبان پر
فاطمہ کی آنکھیں بند ہونے کو تھی
وہ چکرا کر گرتی اس سے پہلے ہی احمر نے اسے تھام لیا
” فاطمہ کیا ہوا” فاطمہ…فاطمہ” احمر زور زور سے اس کا گال تھپتھپا رہا تھا مگر وہ بے حوش ہوچکی تھی
جب اسے ہوش آیا تو وہ کمرے میں اکیلی تھی
وہاں کوئی نہیں تھا
اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر اس کے جسم میں اتنی ساکت باقی نہیں تھی
جسم بخار سے تپ رہا تھا
ہونٹوں پر خشکی آگئی تھی
اس نے زبردستی اٹھنے کی ہمت کی اور کھڑی ہوی
آہستہ آہستہ چلتی دروازے تک آئی اسے نیچے سے کچھ آوازیں آتی سنائی دی
وہ دروازہ کھولے نیچے کا منظر دیکھنے کی کوشش کرنے لگی
“اس دن جو ایکسیڈنٹ ہوا تھا وہ صرف ایک حادثہ تھا فرقان” فیروز نے غصہ سے کہا
” ہاں پوچھو اپنی بیٹی سے اس نے ہمارے گھر میں آگ کیوں لگائی ہے” نگہت چیخی
” میری بیٹی نے ایسا کچھ نہیں کیا” فرقان صاحب بھی دھاڑے
” اچھا اگر ہم جھوٹ بول رہے ہیں تو پوچھو اپنی بیٹی سے اس نے ایسا کیوں کیا؟” نگہت نے کہا
” فاریہ جواب دو کہو کہ تم نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا” فرقان صاحب فاریہ سے مخاطب تھے
” یہ کیا بولے گی میں بتا رہا ہوں اگر میری بیوی کو کچھ بھی ہوا نا تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا” احمر چیخا
” بیوی بیوی ارے بھاڑ میں جائے تمہاری بیوی وہ مر جائے تو میری بھی جان چھوٹے اور….” فاریہ کچھ اور کہتی اس سے پہلے ہی اس کے گال پر زور دار تھپڑ لگا
“تم نے میری بیٹی پر ہاتھ کیسے اٹھایا؟” فرقان صاحب احمر کی طرف بڑھے
” تم نے اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیے مجھ پر ہاتھ اٹھایا؟
اسی لیے…. اسی لیے میں نے اسے بھڑکایا تاکہ وہ تمہیں چھوڑ کر چلی جائے مگر ایسے تمہاری جان نہیں چھوڑے گی
وہ۔۔۔۔ میں تم سے اتنی محبت کرتی ہوں اور تم نے مجھ پر ہی…….” فاریہ چلائی
” اسے جانا ہوگا تمہاری لائف زندہ یا…..”
احمر نے بات کاٹی
” بس اب ایک لفظ نہیں اس کے خلاف تم کیا محبت کروگی کسی سے تم صرف خود سے محبت کرتی ہو” احمر نے غصہ سے کہا
” فاریہ چلو یہاں سے” فرقان صاحب نے کہا
” یہ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتا میں اس لڑکی کو جان سے مار دوں گی” وہ بے قابو تھی
” کیوں مارو گی تم اسے….. اس کا شوہر ابھی زندہ ہے مارنا ہے تو خود کو مار لو” احمر اپنے حواس کھو چکا تھا
“چلو یہاں سے” فرقان اسے کھینچتا ہوا باہر لے گیا
مگر احمر کا آخری جملہ گھونجتا رہا اس کی سماعت سے
” احمر” فاطمہ نے آواز دی
سب نے سیڑھی کی طرف دیکھا
جہاں فاطمہ کھڑی تھی
“فاطمہ” وہ بھاگتا ہوا اس کے پاس گیا
” نیچے کیوں آئی تم “
اس نے فاطمہ کو تھامتے ہوئے کہا
” پانی” وہ بس اتنا کہ پائی
” رفعت بی پانی لائیں” احمر نے پکارہ
اور اسے تھامتا اوپر جانے لگا
” اس لڑکی کی وجہ سے میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہا” فرقان نے پاس کھڑی فاریہ کو دیکھتے ہوئے بیوی کو کہا
” میرے لاڈ پیار نے اس کو بگاڑا ہے جو یہ آج کسی کا گھر خراب کر رہی ہے صرف اپنے مفاد کے لیے”
” میرا غرور تھا اس میں اس نے سب توڑ دیا” فرقان چیخا
فاریہ خاموش تھی بس آنسوں بہ رہے تھے
(مارنا ہے تو خود کو مار لو)
احمر کی آواز گونج رہی تھی
وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی کمرے میں گئی اور دروازہ لوک کرلیا
فاریہ فاریہ دروازہ کھولو اس کی ماں چیخ رہی تھی
![]()
![]()
![]()
![]()
جب اس کی آنکھ کھلی تو رات کے 4 بج رہے تھے اس نے کمرے میں۔نظر دوڑائی احمر اس کے بلکل برابر بیڈ پر بیٹھا تھا ٹیک لگائے آنکھیں بند تھی شاید سو رہا تھا یا شاید آنکھ لگ گئی تھی
فاطمہ بہتر فیل کر رہی تھی وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور احمر کو دیکھنے لگی
دو آنسوں اس کی آنکھ سے گرے
(اسلام ہے تمہارے پاس؟ ارے پہلے جا کر اپنے رب کو راضی کرو)
اسے اپنا جملہ یاد آیا
(اگر میری بیوی کو کچھ بھی ہوا نا میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا)
(میں نے ہمیشہ فاطمہ سے محبت کی ہے)
” ابا آپ کا فیصلہ غلط تھا….” اس کے دل سے آواز آئی
” یہ اچھائیوں سے گوندھا شخص واقع ہی ہیرا ہے
میں اس کے لائق نہیں ابا ” آنسوں صاف کرتے ہوئے اس نے دل میں سوچا
” میں اب اسے اور تکلیف نہیں دونگی” وہ سوچنے لگی
وہ مسجد گیا اور فجر کی نماز ادا کی
” میں اسے پھر سے کھونا نہیں چاہتا
یا اللہ ہماری پریشانیاں دور کردے بس وہ مجھے معاف کردے
میں…. میں بابا کو کیا کہوں گا کہ میں اسے خوش نہیں رکھ پایا؟
اللہ مجھ پر رحم فرما دے میں اس کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا…
اس کو کوئی تکلیف نہ ہو کبھی…کبھی بھی نہیں .”
اور کتنی ہی دیر وہ رو رو کر دعا مانگتا رہا
آج اسے بابا بہت یاد آیا تھا
جس کے پاس اس کی ہر پروبلم کا حل ہوتا تھا
“ارے تم نیچے کیوں آئی ہو میں تمہارا ناشتہ اوپر ہی بھجوا دیتی” نگہت نے اسے سیڑھی اترتے دیکھا
” میں ٹھیک ہوں آنٹی احمر نہیں آئے ابھی تک ” فاطمہ نے کہا
” ہاں ابھی تک تو نہیں آیا آج پتا نہیں کہاں رہ گیا؟” نگہت نے کہا
” اچھا آجائے گا تم یہاں آؤ بیٹھو” نگہت نے اسے بٹھاتے ہوئے کہا
” فاطمہ ایک بات کہوں” نگہت نے پاس بیٹھ کر کہا
” جی آنٹی” فاطمہ نے نگہت کی طرف دیکھا
” تم احمر کو معاف کردو اس کی کوئی غلطی نہیں تھی وہ اس حادثہ کے بارے میں جانتا ہی نہیں تھا اس کو یہ بات تو معلوم تک نہیں تھی کہ اس کی گاڑی سے تمہارا بھائی…..
دیکھو بیٹا وہ ایک حادثہ تھا اس نے جان بوجھ کر کچھ نہیں….
تم خود سوچو تمہیں لگتا ہے احمر جان بوجھ کر ایسا کر سکتا ہے؟ پھر بھی تمہیں سزا دینی ہے تو تم مجھے دے دو
میرے احمر کو….”
نگہت نے التجا کی مگر فاطمہ اس کی بات کاٹی
“آنٹی مجھے اور گنہگار مت کریں معافی مانگ کر میں پہلے ہی احمر کو تکلیف دے کر گناہوں میں دھنس چکی ہوں
میں اب آپ لوگوں کو اور تکلیف نہیں دوں گی
میں…. میں یہاں سے چلی جاؤں گی
میں نے اسے صرف دکھ کے سوا کچھ بھی نہیں دیا…..” فاطمہ نے آنسوؤں کے ساتھ کہا
نگہت کی نظر پیچھے کھڑے احمر پر گئی جو فاطمہ کی بات سن چکا تھا
سرخ آنکھوں کے ساتھ تیزی سے فاطمہ کے پاس آیا
” جانا چاہتی ہو نا تم یہاں سے اٹھو ” احمر نے اسے بازو سے پکڑتے ہوئے کہا
” احمر یہ کیا کر رہے ہو تم چھوڑو اسے” نگہت نے تیز آواز میں کہا
مگر وہ تیزی سے اس کا بازوں پکڑے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا
فاطمہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی جو اسے بازو سے پکڑے کھینچتا ہوا لے جا رہا تھا
کمرے لا کر اس نے جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا
اور تیزی سے الماری کی طرف گیا
بیگ اٹھا کر بیڈ پر رکھا
اور اس میں تیزی سے فاطمہ کے کپڑے ڈال رہا
نکال نکال کر
فاطمہ چپ چاپ اسے دیکھ رہی تھی
” جانا چاہتی ہو نا مجھے چھوڑ کر اٹھاؤ اپنا بیگ اور جاؤ یہاں سے” احمر نے بیگ بند کرتے ہوئے کہا
مگر زپ اٹک گئی تھی کپڑوں کی ترتیب نا ہونے کی وجہ سے اور بند نہیں ہو رہی تھی
اس کا بڑھ رہا تھا
فاطمہ اس کو گھور رہی تھی
بھیگی آنکھوں سے
” جاؤ” احمر چلایا
اور بیگ دکھیل کر نیچے پوری طاقت سے پھینکا
بیگ ایک سائیڈ پر جا گرا تھا کچھ کپڑے نکل کر یہاں وہاں پڑے تھے
مگر اس بار فاطمہ نا ڈری نا سہمی
وہ احمر کے غصہ کی وجہ جانتی تھی
وہ تیزی سے احمر کی طرف آئی اور اس سے لپٹ گئی
وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی
احمر خاموش رہا لمحہ بھر
پھر اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کی
مگر اس نے گرفت اور مضبوط کرلی
احمر کے آنسوں برس رہے تھے جیسے
جب وہ اسے خود سے دور نہیں کر پایا تو
خود بھی لپٹ گیا اور آنسوؤں کو بہنے دیا
آج ان دونوں کی محبت شدت اختیار کر چکی تھی
