534.2K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehli Nazar (Episode - 7)

Pehli Nazar By Isra Rao

ندا کی رخصتی ہو چکی تھی فاطمہ کو آج وہ گھر بلکل خالی لگ رہا تھا

اگر میں بھی چلی گئی تو اس گھر میں کون ہوگا ابا کے پاس میرے ابا کیسے رہیں گے اکیلے” اس نے خود کلامی کی

ایک ہفتہ صرف ایک ہفتہ باقی ہے پھر مجھے بھی یہاں سے جانا ہوگا…نہیں میں نہیں جاسکتی” وہ سوچتی رہی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی سوچ میں گم تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی

” کم ان” فاریہ نے کہا

” ہیلومس کیسی ہیں آپ؟” سامنے احمر تھا

” تم یہاں کیسے آگئے آج؟” وہ حیران تھی

” دو دن سے تم آئی ہی نہیں تو میں نے سوچا میں ہی آجاتا ہو” احمر نے مسکراتے ہوئے کہا

” اچھا بیٹھو” فاریہ نے کہا

” تم ناراض ہو مجھ سے؟” احمر نے سوال کیا

” نہیں میں کہوں ناراض ہونے لگی؟” فاریہ نے بنا دیکھے کہا

“تمہیں پتا ہے فاریہ دو سال میں کتنا تڑپا ہوں اس لڑکی کے لیے میں نے خود کو بدل لیا ہر عیب سے منہ موڑ لیا میں نے اسے دعاؤں میں مانگا ہے میں اسے نہیں چھوڑ سکتا فاریہ…..

تم بہت اچھی لڑکی تمہیں تو کوئی بھی مل جائے گا تم پرفیکٹ ہو” احمر نے فاریہ کو سمجھایا

فاریہ کو ایسا لگا جیسے اس سے زندگی چھن گئی

احمر کے الفاظ اس کے دل پر چوٹ کر رہے تھے مگر ضبط کرے بیٹھی رہی….

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

” ابا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے” فاطمہ نے حافظ صاحب کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا

” بولو بیٹا” حافظ صاحب نے اس کے سر پر شفکت کا ہاتھ پھیرا

” ابا میں ابھی رخصتی نہیں کرنا چاہتی ” فاطمہ نے کہا

” تم میری وجہ سے کہ رہی ہو”

“ابا پلیز کچھ ٹائم بس پھر جیسا آپ کہیں گے پر ابھی نہیں” فاطمہ نے التجا کی

” مگربیٹا یہ تو احمر سے پوچھنا پڑے گا میں اس سے بات کر کے دیکھتا ہوں” حافظ صاحب نے کہا

اور فاطمہ نے اثبات میں سر ہلایا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

” موم آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں میرا نکاح ہے اگر آپ لوگ ہی شریک نہیں ہوں گے تو…” احمر نے کہا

” اگر تمہیں اتنی ہی ہماری پرواہ ہے تو توڑ دو یہ رشتہ اور فاریہ سے شادی کرلو” نگہت نے غصہ سے کہا

” میں نے فاریہ کو انکار کردیا ہے اور رہی بات اس رشتے کی تو میں نہیں توڑ سکتا موم یہ وہی لڑکی ہے جسے میں نے ہر دعا میں مانگا اور جب وہ مجھے مل گئی تو آپ روضی نہیں ہو رہی” احمر نے کہا

“یہ وہی لڑکی ہے؟” نگہت نے پوچھا

” ہاں موم میں نے دو سال رو رو کر مانگا ہے اسے موم میں اب اسےنہیں کھوناچاہتا میں آپ کو اور ڈیڈ کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتا” احمر نے نگہت کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

” میری خوشی اس کے ساتھ ہے موم پلیز مان جائیں” احمر نے التجا کی

اور نگہت سوچ میں ڈوب گئی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ نماز پڑھ کر بابا کے پاس بیٹھ گیا

” احمر بیٹا میری بیٹی فاطمہ چاہتی ہے کہ رخصتی ابھی نا ہو صرف نکاح ہو” بابا نے کہا

” کیوں؟” احمر حیران ہوا

” میری طبیعت ان دنو کچھ خروب ہے تو وہ پریشان ہوتی ہے میرے لیے لیکن تم جیسا کہو گے ویساہی ہوگا وہ ضد کر رہی ہے اس لیے…” بابا نے کہا

” ٹھیک ہے بابا جیسی آپ کی مرضی مجھے کوئی اعتراض نہیں ” احمر نے مسکراتے ہوئے کہا

” خوش رہو بیٹا میری بیٹی بہت خوش قسمت ہے جو اسے تمہارے جیسا انسان شوہر کے روپ میں مل رہا ہے” بابا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا

” نہیں بابا مجھے ایسا آپ نے بنایا ورنہ میں ایسا نہیں تھا میں بہت گنہگار…..” وہ کہتا اس سے پہلے بابا نے اس کی بات کاٹ دی

” گناہوں کا اظہار کرنا بھی گناہ ہے بیٹا بھول جاؤ سب جو آج ہے وہ بہتر ہے” بابا نے کہا اور احمر مسکرا دیا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“فیروز ہمارے بیٹے کی خوشی میں ہی ہماری خوشی ہے” نگہت نے کہا

” ہاں مگر وہ لڑکی کیسی ہے کون ہے ہم نہیں جانتے تو کیسے احمر کی شادی اس سے کردیں؟” فیروز نے کہا

” میں نکاح سے پہلے اس سے مل آتی ہوں” نگہت نے کہا

“ہاں ٹھیک ہے” فیروز نے کہا

“ایک ہی تو بیٹا ہے ہمارا اس کی خوشی سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہمارے لیے” نگہت نے کہا

اورفیروز بخت نے اثبات میں سر ہلایا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ باہر جا رہا تھا کہ نگہت کی آواز پر چونکا

” میں فاطمہ سے ملنا چاہتی ہوں” نگہت نے کہا

” کیا؟ Really Mom”

احمر حیران ہوا

” ہاں ملواؤ گے نا؟” نگہت نے مسکرا کر کہا

“Ohh Mom, You’re the best mom in the world” کہتے ہوئے نگہت سے لپٹ گیا

اس کی خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا

وہ آج بہت خوش تھا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

دروازے پر دستک ہوئی فاطمہ نے چہرے پر ہلکا سا نقاب کیا

اور دروازہ کھول دیا

سامنے ایک عورت تھی جسے وہ نہیں پہچانتی تھی

” اسلام علیکم” فاطمہ نے سلام کیا

” وعلیکم السلام میں احمر کی Mother ہوں”

” اندر آئیں نا ” فاطمہ نے کہا

اور وہ نگہت نے اندر قدم رکھا

فاطمہ نے چہرے سے نقاب ہٹایا

نگہت کی نظر اس کے چہرے پر پڑی

سفید رنگت بڑی بڑی بھوری آنکھیں

وہ پیلے رنگ کے سادہ سے سوٹ میں تھی مگر وہ رنگ اس پر بہت کھل رہا تھا

گویا وہ کسی بھی چیزمیں میں کم نہیں تھی

اس کی خوبصورتی سے ہر کوئی متاثر ہوتا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“کیسی لگی؟” احمر نے ڈرائیو کرتے ہوئے کہا

“کیا؟” نگہت نے شرارت سے کہا

” اوہ پلیز موم فاطمہ کا پوچھ رہا ہوں؟” احمر نے بے صبری سے کہا

“تم اندر کیوں نہیں گئے تھے؟”

“فاطمہ نامحرم سے پردہ کرتی ہے نا اس لیے” اس نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا

“تو تم نے کبھی نہیں دیکھا اسے؟” نگہت حیران ہوئی

“دیکھا ہے” احمر نے کہا

“تو دیکھاکیسے؟” نگہت نے پوچھا

” آپ پہلے یہ بتائیں آپ کو کیسی لگی آپ کے بیٹے کی پسند؟” احمر نے مسکرا کر پوچھا

” مجھے پسند نہیں آئی بلکل بھی تمہاری شادی نہیں ہوگی اس سے” نگہت نے کہا اور احمر کو جھٹکا لگا

“موم مگر کیوں؟” وہ پریشان ہوا

” مزاق کر رہی ہوں فاطمہ بہت خوبصورت ہے تمہاری پسند بہت زیادہ اچھی ہے ” نگہت نے مسکراتے ہوئے کہا

” اوہ موم آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا” احمر نے کہا

” اچھا تم رتے بھی ہو؟”

” ہاں آپ سے تو بہت” احمر نے ہنسی دباتے ہوئے کہا

” بس بس رہنے دو” نگہت نے ہنستے ہوئے کہا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

اسے کل کا بے صبری سے انتظار تھا آخر کو وہ آہی گیا تھا جب فاطمہ ہمیشہ کے لیے اس کی ہوجائے گی

وہ بہت خوش تھا ساری رات اسے نیند نہیں آئی

اس نے تہجد ادا کی اور اللہ کا شکر ادا کیا اسے وہ سب مل گیا تھا جو وہ چاہتا تھا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“قبول ہے” اس نے ہلکے سے جواب دیا

مزید دو بار اور کہنے کے بعد اس نے نکاح نامے پر دستخط کیے

سب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے

” یا اللہ تونے میری ہر خواہش کو پورا کردیا تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے یارب بس فاطمہ کے دل میں بھی میرے لیے محبت ڈال دے ہمارے اس رشتے کوکامیاب کردینا پروردگا ہم دونوں کے دلوں میں بے شمار محبت پیدا کردینا یا اللہ..” احمر نے چہرے پر ہاتھ پھیرا

اور مبارک باد وصول کی….

آخر آج اس کی محبت کو نام مل گیا تھا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ رات کے اس پہر بیٹھی اپنی انگلی میں پہنی گئی اس انگوٹھی کو دیکھ رہی تھی

جو احمر کی ماں نے اسے نکاح کے وقت پہنائی تھی

دو آنسوں اس کی آنکھ سے گرے

اور اس نے آنکھیں بند کرلیں

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ فجر کی نماز پڑھ کر بابا کے پاس گیا وہ وہیں بیٹھے تھے

مگر ان کا چہرہ اترا ہوا تھا

” بابا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے چلیں میں آپ کو گھر چھوڑ دیتا ہوں” احمر نے کہا

” میری بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھنا احمر بیٹا ” بابا نے احمر کو دیکھتے ہوئے کہا

احمر نے اثبات میں سر ہلایا

” آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اٹھیں میں آپ کو گھر چھوڑ دیتا ہوں” اس نے بابا کو سہارا دے کر کھڑا کیا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ کچن میں جا ہی رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی

“کون”اس نے پوچھا

“کھولو بیٹا” حافظ کی آواز آئی

اوراس نے بنا نقاب کیے دروازہ کھول دیا

سامنے حافظ صاحب تھے اور ان کے برابر میں کھڑا وہ شخص جسے وہ جھٹکے سے پہچان گئی تھی

سفید شلوار قمیض ہلکی سی Beard سر پر ٹوپی اس کا انداز بہت مختلف تھا پر پھر بھی وہ پہچان گئی تھی

احمر نے کتنے عرسے بعد وہ چہرہ دیکھا تھا

اس کی آنکھوں کی تپش فاطمہ خود پر محسوس کر سکتی تھی

اس نے فوراً سے نقاب کیا

” میں چلتا ہوں ” احمر نے کہا

” اندر آؤ ناشتہ کر کے جانا احمر بیٹا” حافظ صاحب نے کہا

“نہیں بابا پھر کبھی” احمر نے کہا اور وہاں سے چلا گیا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

فاطمہ کچن میں کھڑی سوچ میں ڈوبی تھی

” یہ تو وہی لڑکا ہے یہ احمر ہے؟ ابا نے اس کو چنا ہے میرے لیے؟ اب تو نکاح بھی ہوگیا….

ابا یہ کیا کیا آپ نے؟ یہ لڑکا…نہیں” اس نے خود کلامی کی

تبھی چائے میں ابال آیا اور اس کی سوچ ٹوٹی

اس نے چولہا بند کیا اور چائے کپ میں ڈالی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ چائے لے کر کمرے میں آئی

“ابا آپ کی چائے” فاطمہ نے کہا

چائے حافظ صاحب کو دے کر وہ پاس بیٹھ گئی

” ابا ایک بات پوچھوں؟” فاطمہ نے کہا

” ہاں بیٹا پوچھو” حافظ صاحب نے کہا

” آپ نے احمر میں ایسا کیا دیکھا ؟” فاطمہ کی آنکھوں میں شکایت تھی

” میں اس میں وہ دیکھا ہے بیٹا جو زندگی میں وقت آنے پر تم بھی دیکھ لو گی وہ کوئی معمولی لڑکا نہیں ہے وہ بہت نیک اور سلجھا ہوا لڑکا ہے وہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے گا

وہ میری پسند ہے بیٹا” حافظ حاحب نے صفائی دی

تبھی حافظ صاحب کے ہاتھ سے کپ گر گیا

وہ کچھ بول نہیں پا رہے تھے ان کے پسینے چھوٹ رہے تھے

” ابا ابا کیا ہوا؟” فاطمہ پریشان ہوئی

اس نے فون اٹھایا اور ندا کا نمبر ڈائل کیا جو بند جا رہا تھا

اس نے ثریا پھوپھو کا نمبر ملایا مگر وہ بھی بند تھا

آنسوں قطرہ بہ قطرہ اس کی آنکھوں سے گر رہے تھے

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا مگر باربار فاطمہ کا چہرا سامنے آرہا تھا

وہی چہرہ جسے دیکھنے کے لیے وہ برسوں تڑپا ہے

وہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس کا فون بجنے لگا سکرین پر حافظ صاحب کا نمبر تھا

” ہیلو اسلام علیکم” احمر نے کہا

” میں….میں فاطمہ بول رہی ہوں میرے ابا کی طبیعت ٹھیک نہیں پتا نہیں کیا ہوگیا آپ پلیز ابا کو ہسپتال..لے جائیں” اس کی آواز میں ہچکیاں تھی

احمر نے گاڑی کو واپس گھر کی طرف موڑا اور اسپیڈ سے گاڑی دوڑاتا حافظ صاحب کے گھر پہنچا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ ہوسپیٹل لے کر پہنچے

ڈاکٹر نے چیک اپ کیا پھر احمر کے کاندھے پر ہاتھ رکھا

” Am sorry”

ڈاکٹر کے الفاظ اس کے کانوں کو چیرتے ہوئے گئے

پاس کھڑی فاطمہ بھی سن چکی تھی

” ابا” وہ سنتے ہی چیخی

“فاطمہ” احمر اس کی طرف لپکا

“میرا ابا” وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئی تھی

آنسوں گرتے چلے جا رہے تھے

احمر کے آنسوں بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ……