Pehli Nazar By Isra Rao NovelR50468 Pehli Nazar (Episode - 10)
No Download Link
Rate this Novel
Pehli Nazar (Episode - 10)
Pehli Nazar By Isra Rao
“ارے موم ڈیڈ آپ لوگ۔۔۔۔ کیسے ہیں” وہ اٹھ کر ان کی طرف بڑھا
” بلکل ٹھیک تم لوگ بتاؤ” نگہت نے پاس آتے ہوئے کہا
” چائے منگواتی ہوں میں آپ لوگوں کے لیے” فاطمہ نے کہا
” نہیں بیٹا بہت تھک گئے ہیں آرام کریں گے بس اب” نگہت نے کہا اور اندر کی طرف بڑھ گئی
وہ رات کے کھانے کے بعد کمرے میں آکر لیٹ گیا
وہ جب کمرے میں آئی تو وہ بیڈ پر کمبل لیے آرام سے سو رہا تھا
وہ اسے دیکھ کر مسکرائی پھر جا کر اس کے برابر بیڈ پر آ بیٹھی
” احمر ہاں مجھے تم سے محبت ہوگئی ” فاطمہ نے کہا
” کیا؟” احمر نے جھٹ سے آنکھیں کھولی
“تم…آپ سوئے نہیں” فاطمہ بوکھلائی
” نہیں سوجاتا تو تمہارا اظہارِ محبت کیسے سنتا؟” احمر نے اسے خود سے قریب کرتے ہوئے کہا
” لیکن میں نے تو کچھ کہا ہی نہیں” فاطمہ نے شرارت سے کہا
” تو اب کہ دو” احمر کی آنکھوں میں چمک تھی
فاطمہ مسکراتے ہوئے نظریں جھکا گئی
وہی گہری گھنی ہنوز پلکیں
” تم نے اتنا تنگ کیا تھا مجھے تھوڑی تو سزا بنتی ہے” احمر نے دل میں سوچا
اور جھٹ سے اٹھ گیا
” کہاں جا رہے ہیں؟” فاطمہ نے حیرانی سے پوچھا
” اپنی جگہ پر سونے” احمر نے صوفے پر تکیہ رکھتے ہوئے کہا
” مگر….” فاطمہ کچھ کہتے کہتے رک گئی
اور وہ صوفے پر آنکھیں موندے لیٹ گیا
اور فاطمہ اسے دیکھتی رہ گئی
اس کی جب آنکھ کھلی تو احمر سو رہا تھا وہ ہر روز اس سے پہلے اٹھ کر مسجد پہنچ جاتا تھا اور آج وہ سکون کی نیند سو رہا تھا
اس نے احمر کواٹھایا
” نماز کا ٹائم ہوگیا اٹھ جائیں” فاطمہ نے کہا
اور وہ آنکھیں مسلتا اٹھا اور بنا کچھ کہے واش روم چلا گیا
اور فاطمہ کو بلا وجہ ہی اس پر ہنسی آگئی
ناشتے کے بعد فیروز اور احمر آفس چلے گئے تھے
اور نگہت اور فاطمہ لاؤنج میں بیٹھ گئی
” اکیلی بور تو نہیں ہوئی تھی تم ؟” نگہت نے پوچھا
” نہیں ندا آگئی تھی کل” فاطمہ نے بتایا
” اچھا سہی….” نگہت نے کہا
تبھی سامنے سے فاریہ آتی دکھائی دی
” ہیلو فاطمہ کیسی ہو؟” اس نے آتے ہی فاطمہ سے پوچھا
” ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں؟” فاطمہ نے کہا
” میں تو بلکل ٹھیک ہوں مزے میں” فاریہ نے صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا
“آج کل تو آتی نہیں تم فاریہ؟” نگہت نے سوال کیا
” بس آنٹی یونیورسٹی سے آتی ہوں تھک جاتی ہوں کہیں جانے کا دل ہی نہیں کرتا” فاریہ نے کہا
” مگر کل تو چھٹی تھی میں آ بھی رہی تھی پھر میں نہیں آئی
کچھ گیسٹ آئے تھے آپ کے گھر آئی تھنک” فاریہ نے الجھتے ہوئے کہا
” ہاں فاطمہ کی بہن تھی وہ” نگہت نے کہا
” اچھا کتنے بہن بھائی ہیں آپ لوگ ؟” وہ فاطمہ سے مخاطب تھی
” ہم دو بہنیں ہیں بس ایک بھائی بھی تھا ان کی ڈیتھ ہوگئی تھی تقریباً دو سال پہلے” فاطمہ نے بتایا
” اچھا شادی شدہ تھا بھائی آپ کا” فاریہ نے دوبارہ پوچھا
” نہیں منگنی ہوئی تھی بس مگر ایک کار ایکسیڈنٹ میں…. شاید قسمت میں یہی لکھا تھا” فاطمہ کی آنکھوں میں نمی تیر آئی تھی
” سوری فاطمہ میں آپ کو ہرٹ کیا” فاریہ نے شرمندگی سے کہا
” ارے کوئی بات نہیں” فاطمہ نے کہا
اور وہ دونوں یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگیں
مگر نگہت کا دماغ فاطمہ کی باتوں کے ارد گرد گھومتا رہا
“فیروز اس نے خود بتائی ہے یہ بات ” نگہت نے کہا
“مگر یہ بھی تو ہوسکتا ہے جو تم سوچ رہی ہو وہ غلط ہو” فیروز نے کہا
” ہر چیز میں Coincidence نہیں ہوتا فیروز” نگہت جھنجھلائی
” تو تم کیا کہنا چاہتی ہو کہ احمر کی گاڑی سے شخص اس دن مرا تھا وہ فاطمہ کا بھائی تھا؟” فیروز نے صاف پوچھا
” ہاں آپ نے کہا وہ ایک مولوی کا گھرانا تھا اور وہ اکلوتا بیٹا تھا اور دوسری بات کہ فاطمہ دو سال پہلے کا بتا رہی ہے جبکہ احمر کا ایکسیڈنٹ بھی دو سال پہلے ہی ہوا تھا” نگہت پریشان ہوئی
” اب اس بات کو یہی ختم کرو یہ بات… ” وہ کہتے کہتے رکا
دروازے پر احمر کھڑا تھا جو ان کی ساری بات سن چکا تھا
اس کے ہاتھ میں فائل تھی شاید وہ فیروز سے کچھ سائن وغیرہ کروانے آیا تھا
نگہت اور فیروز کے حواس اڑ گئے تھے
وہ جب کمرے میں آئی تو وہ احمر آنکھیں موندے راکنگ چیئر پر جھول رہا تھا
وہ چلتی ہوئی اس کے قریب آئی
” کیا سوچ رہے ہیں ؟” فاطمہ نے قریب آکر پوچھا
احمر نے یک دم آنکھیں کھولی
سامنے وہی چہرہ مسکرا رہا تھا
وہی آنکھیں چمک رہی تھی جس سے وہ بے حد محبت کرتا تھا
وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا
” احمر کیا دیکھ رہے ہیں ؟” اس نے مسکرا کر پوچھا
احمر خاموش رہا بس دو آنسوں اس کی آنکھ سے گرے
” احمر کیا ہوا آپ رو رہے ہیں؟” وہ پریشان ہوئی اور وہیں اس کے پاس زمیں پر بیٹھ گئی
” نہیں کچھ نہیں ” احمر نے گال صاف کرتے ہوئے کہا
اور پھر سے سنجیدہ ہوگیا
” مجھے نہیں بتائیں گے” فاطمہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
اور اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے گرفت مضبوط کی
” کہا نا کچھ نہیں ہوا جاؤ جا کر سوجاؤ” اس نے غصہ سے کہا
اور جھٹکے اپنا ہاتھ چھڑوایا
” اگر آپ میری وجہ سے تکلیف میں ہیں میں کان پکڑ کر سوری کر رہی وہ میری بھول تھی میں آپ کو نہیں سمجھ سکی آپ کی محبت کو نہیں سمجھ سکی پلیز مجھے معاف کردو ” فاطمہ نے نم آنکھوں کے ساتھ کہا
وہ خاموش تھا
” میں آپ سے بہت محبت…”
وہ بات مکمل کرتی اس سے پہلے ہی احمر چیخا
” جاؤ یہاں سے مجھے اکیلہ چھوڑ دو”
احمر کے چیخنے پر وہ سہم گئی تھی
آنسوں آنکھوں سے رواں تھے
وہ یک دم اٹھی اور بھاگتی ہوئی بیڈ تک گئی
” یہ میں کیا کر ہوں؟
یہ قسمت نے میرے ساتھ کیسا کھیل کھیلا ہے
فاطمہ کو سچائی کا پتا چلا تو مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی تو؟”
وہ یونہی آنکھیں موندے سوچتا رہا
رات گہری ہوگئی تھی مگر نیند اس سے جیسے ناراض تھی
“دو سال پہلے احمر کا ایکسیڈینٹ ہوا اور دو سال پہلے ہی فاطمہ کے بھائی کا بھی ایکسیڈنٹ ہوا…..
فاطمہ ایک اسلامی گھرانے سے belong کرتی ہے
جبکہ جو شخص احمر کی وجہ خالق حقیقی سے ملا تھا
وہ بھی اسلامی گھرانے سے ہی تھا
ایکسیڈنٹ میں فاطمہ کے اکلوتے بھائی کی ڈیتھ ہو گئی
وہ بھی اس کے اپنے شوہر کے ہاتھوں….Interesting”
خوشی کی ایک لہر اس کے ہونٹوں کو چھو گئی
” اور فاطمہ اس بات سے بے خبر WaoO اب آئے گا مزہ “
وہ بڑبڑائی
“پہلے احمر کے خیلاف ثبوت تو اکھٹا کرلوں مسٹر احمر شہروز بخت فاریہ کو ٹھکرانے کی سزا تو بھگتنی ہی پڑے گی “
فاریہ کا ایک زور دار قہقہ کے کمرے میں گونجا
“یار میں کیا کروں؟” احمر نے کہا
” تجھے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں جس طرح آج تک یہ چھپی ہوئی تھی آگے بھی چھپی رہے گی” عادل نے کہا
“اس پتا لگ گئی کبھی تو وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی میں اسے کھونا نہیں چاہتا” احمر نے لاچاری سے کہا
” مگر اسے بتائے گا کون؟ یہ بات صرف انکل آنٹی اور تو جانتا ہے بس” عادل نے سمجھایا
” ہاں مگر میں اسے سب خود بتا دوں گا ” احمر نے فیصلہ سنایا
” یار کیوں اپنا گھر خراب کر رہا ہے؟ ” عادل مے پھر کہا
” میں اسے بتا دوں گا باقی اللہ بہتر کرے گا” احمر نے کہا
اور سوچ میں پڑ گیا کہ وہ کیسے بتائے گا
” ہائے آنٹی کیسی ہیں آپ؟” فاریہ نے آتے کہا
” میں ٹھیک ہوں آؤ بیٹھو” نگہت نے کہا
“فاطمہ نظر نہیں آرہی؟” فاریہ نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے کہا
” وہ اپنے روم میں ہے سر میں تھا اس کے تو آج روم میں ہی ہے” نگہت نے ٹی وی چلاتے ہوئے کہا
” اچھا میں طبیعت پوچھ کر آتی ہوں” کہتے ہوئے فاریہ سیڑھیاں چڑھنے لگی
اس نے نوک کیا اور دروازہ کھولا تو فاطمہ صوفے پر لیٹی تھی اسے دیکھتے ہی اٹھ بیٹھی
“ارے فاریہ تم آؤ” فاطمہ مے مسکرا کر کہا
آنٹی نے بتایا کہ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو میں نے سوچا طبیعت پوچھ لوں” فاریہ نے پاس آتے ہوئے کہا
” ہاں بس تھوڑا سا سر میں درد تھا میڈیسن لی ہے میں نے” فاطمہ نے کہا
” اچھا ” فاریہ نے مختصر کہا
“اور تم سناؤ کیا چل رہا ہے آج کل” فاطمہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا
” بس یونیورسٹی …. ایک ہفتے پہلے تو میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا پاپا اتنا غصہ ہوئے” فاریہ نے کہا
” کیا؟ چوٹ وغیرہ تو نہیں لگی زیادہ؟” فاطمہ نے تشویش سے پوچھا
” ارے نہیں میں تو ٹھیک ہوں بس بچانے والا تو خدا ہے جیسے دو سال پہلے احمر کا بہت بڑا ایکسیڈنٹ ہوا تھا مگر تھینک گاڈ کہ اسے زیادہ چوٹ نہیں آئی تھی” فاریہ نے کہا
” احمر کا ایکسیڈنٹ؟” فاطمہ حیران ہوئی
“ہاں دو سال پہلے ہوا تھا بہت بڑا ایکسیڈنٹ ہوا تھا سامنے گاڑی والے کی تو بیچار کی ڈیتھ ہی ہوگئی تھی
بچارہ سوسائٹی کے علاقے میں رہتا تھا میرا پاپا کے ہوسپیٹل میں تو وہ آیا تھا میرا پاپا کا ہوسپیٹل ہے وہاں” فاریہ نے بم پھوڑا
فاطمہ خاموش تھی
” کوئی شہروز نامی بندہ تھا مولوی گھرانے سے تھا بیچارہ
ایک ہی بیٹا تھا ان کا میرے پاپا کو تو بہت غصہ آیا تھا پولیس کو انفورم کرنے والے تھے مگر فیروز انکل اور احمر نے بات کو وہیں دبا دیا….
پھر ان کے گھر والوں نے بھی احمر کے خیلاف کوئی ایکشن نہیں لیا” فاریہ نے بتایا
” تمہیں یہ سب کیسے پتا؟” فاطمہ چانچتی نظروں سے اسے دیکھا
” میرے پاپا نے مجھے بتایا ہے ان کے ہوسپیٹل میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنا تھا اس لڑکے کا” فاریہ نے یک دم کہا
فاطمہ خاموش تھی الجھی ہوئی تھی
” اچھا فاطمہ میں چلتی ہوں اسائنمنٹ بنانی تھی مجھے” کہتی ہوئی فاریہ کھڑی ہوگئی
اورکمرے سے نکل گئی مگر فاطمہ وہیں بیٹھی رہی
اس کے دماغ میں ہزاروں سوال تھے جن کا جواب اس کے پاس نہیں تھا
“موم فاطمہ کہاں ہے” اس نے آتے ہی پوچھا
“اپنے روم میں ہوگی بیٹا کیوں خیریت؟” نگہت نے کہا
اتنا سنتے ہی وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر گیا
اس نے کمرے کا دروازہ کھولا تو فاطمہ صوفے پر گھٹنوں پر سر جھکائے بیٹھی تھی
وہ چلتا ہوا اس کے پاس گیا
“فاطمہ” احمر نے پکارا
مگر وہ اسی طرح بیٹھی رہی
“فاطمہ” احمر اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا
وہ جھٹکے سے کھڑی ہوئی
اور احمر کے گلے لگ گئی
سسکیوں کے ساتھ وہ رو رہی تھی
“فاطمہ کیا ہوا؟” وہ پرہشان ہوا
” وہ کہ رہی تھی کہ آپ نے ایسا کیا ہے ……
مم..میرے بھ..بھائی کو آپ نے… آپ نے مارا ہے….
وہ…وہ جھوٹ کہ رہی ہے نا احمر…؟”
وہ ہچکیوں کے ساتھ بول رہی تھی
“کس نے کہا ہے تمہیں یہ؟” احمر نے پوچھا
“فاریہ…” فاطمہ نے روتے ہوئے کہا
احمر کی آنکھوں میں خون اتر آیا
“احمر وہ جھوٹ کہ رہی ہے نا” فاطمہ نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا
” فاطمہ میں تمہیں بتانا ہی چاہتا تھا کہ….” احمر کی بات سن کر فاطمہ یک دم پیچھے ہٹی
احمر اسے ہی دیکھ رہا تھا
“یہ سچ ہے ؟” فاطمہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
” ہاں مگر…”
“بس” اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا
“فاطمہ میری بات سنو ایک بار….” احمر نے کہا
“جاؤ یہاں سے….” فاطمہ نے کہا
“مگر میری بات….”
“اگر آپ نہیں گئے تو میں چلی جاؤں گی”
فاطمہ نے غصہ سے کہا
اور احمر چپ چاپ کمرے سے چلا گیا
وہ آئنہ کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی کہ احمر دھڑاک سے اس کمرے میں آیا
“کیوں کیا تم نے ایسا؟” احمر نے اسے بازو سے پکڑا
“کیا؟” فاریہ نے پوچھا
” کیا کہا ہے تم نے فاطمہ کو؟” احمر نے غصہ سے کہا
” وہی جو سچ ہے” اس نے ڈھٹائی سے کہا
” کیوں کیا تم نے ایسا فاریہ میں تمہیں اپنی دوست مانتا تھا” احمر نے چیخ کر کہا
” کیونکہ میں تم سے محبت کرتی ہوں وہ میرے اور تمہارے بیچ آگئی” فاریہ بھی چیخی
“میں نے تم سے کبھی محبت نہیں کی میں ہمیشہ سے فاطمہ سے محبت کی ہے ” احمر نے سنجیدگی سے کہا
“لیکن کیوں ایسا کیا ہے اس میں جو مجھ میں نہیں” فاریہ نے کہا
” جو اس میں ہے نا وہ تم میں نہیں وہ اپنی خوشی کے لیے کسی کو دکھ نہیں دیتی جیسے تم نے مجھے دیا ہے
اور اب تم سے نفرت کرتا ہوں سنا تم نے نبرت کرتا ہوں” احمر نے چبا کر کہا
اور وہاں سے نکل گیا
مگر فاریہ کی سماعت سے جملہ ٹکراتا رہا
” میں تم سے نفرت کرتا ہوں۔۔۔۔۔”
