Pehli Nazar By Isra Rao NovelR50468 Pehli Nazar (Episode - 8)
No Download Link
Rate this Novel
Pehli Nazar (Episode - 8)
Pehli Nazar By Isra Rao
حافظ صاحب کی تدفین تک احمر وہیں تھا
رات کافی ہوگئی تھی اسے نیند نہیں آرہی تھی فاطمہ کی چیخیں اس کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی
حافظ صاحب کا چہرہ بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا
وہ شخص جس کی ہدایت کے مطابق وہ زندگی گزارتا تھا
وہ اب ہدایت کرنے کے لیے نہیں ہوگا
وہ پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رونے لگا
فاطمہ کی آنکھیں سوج گئی تھی مگر اس کے آنسوں ختم نہیں ہوئے
” فاطمہ ” ندا نے اسے چپ کروایا جب کہ اس کی خود کی آنکھیں سرخ تھی
“ندا ابا چلے گئے مجھے اکیلا چھوڑ کر ” کہ کر وہ ندا کے گلے لگ کر زور زور سے رونے لگی
دونوں بہنوں کی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھی
آخر ان کا تھا ہی کون حافظ صاحب کے علاوہ
وہ مسجد گیا نماز ادا کی اور معمول کے مطابق اسی جگہ گیا جہاں بابا بیٹھے ہوتے تھے
مگر آج وہ جگہ خالی تھی وہاں بابا نہیں تھا
وہ وہیں بیٹھ گیا بابا کی باتیں ان کی مسکراہٹ
اسے سب یاد آرہا تھا آنسوں مسلسل بہ رہے تھے
“وہ ایک فرشتے کی طرح میری لائف میں آئے
اندھیروں سے روشنی میں لائے
فاطمہ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھما کر ہمیشہ کے لیے چلے گئے”
وہ کتنی ہی دیر سوچتا رہا روتا رہا….
“فاطمہ آج ابو کو ایک ہفتہ ہوگیا ہے تم یہاں اکیلی کیسے رہو گی کچھ دنوں بعد میں بھی چلی جاؤں گی” ندا نے کہا
فاطمہ خاموش تھی
” فاطمہ میں احمر بھائی…” وہ کچھ بول رہیتھی کہدروازے پر دستک ہوئی
“میں دیکھ کر آتی ہوں” یہ کر وہ چلی گئی
دروازہ کھولا تو سامنے احمر تھا
“اسلام علیکم بھائی اندر آئیں”
“نہیں میں یہ فروٹ اور کچھ سامان ہے اس میں بس دینے آیا تھا” احمر نے کہا
“اندر آئیں کچھ بات کرنی ہے آپ سے” ندا نے کہا
احمر نے اثبات میں سر ہلایا اور اندر قدم رکھا
” بیٹھیں بھائی” ندا نے اشارا کیا
” کیابات کرنی تھی؟” احمر نے بیٹھتے ہوئے کہا
“آپ کوابا نے میری بہن کے لیے چنا تھا مگر در حقیقت آپ کو قدرت نے چنا ہے فاطمہ کے لیے میں نےآپ کو دیکھتے ہی پہچان لیا تھا اگر آپ سچ میں میری بہن سے محبت کرتے ہیں تو….
خیر میری بہن کو دکھ مت دیجیے گا کبھی
میرے ابا کے بعد وہ اکیلی ہوگئی ہے میں کب تک رکوں گی میرے سسرال والے مجھے لے جائیں گے “
ندا کہتی چلی جا رہی تھی احمر خاموش تھا
“آپ سمجھ رہے ہیں نا میری بات؟” ندا نے پوچھا
“آپ بتا دیجیے گا فاطمہ سے پوچھ کر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں گا”
احمر نے کہا اور کھڑا ہوگیا
“موم میں فاطمہ کو گھر لانا چاہتا ہوں بابا کے انتقال کے بعد وہ اکیلی ہے وہاں” احمر نے کہا
” ہاں سہی کہ رہے ہو تم مگر بیٹا رخصتی تو ہمیں پروپر طریقے سے کرنی تھی ہمارے بھی کچھ ارمان ہیں بیٹا تم ہماری اکلوتی اولاد ہو
تھوڑا تو….” وہ کہتے کہتے رکی
“وہ بھی ہوجائے گا موم مگر اب اسے وہاں اکیلی چھوڑنا تو ٹھیک نہیں فلحالتو لے آتا ہوں پھر کچھ دنو بعد جیسے دل کرے آپ کا ویسے کرلینا ” احمر نے کہا
“ابھی کیوں نہیں؟” نگہت نے پوچھا
“ابھی دن ہی کتنے ہوئے بابا کو گئے موم کچھ دنوں کے بعد آپ جیسا کہیں” احمر نے التجا کی
“ٹھیک ہے” نگہت نے مسکرا کر کہا
وہ قرآن پاک پڑھ کر آئیتو ندا نیچے ہی کھڑی تھی
“میں نے احمر بھائی سے بات کرلی ہے وہ کچھ دنوں میں تمہیں یہاں سے لے جائیں گے” ندا نے کہا
” مجھے ابھی کہیں نہیں جانا”اس نے ناگواری سے کہا
“وہ تیرا شوہر ہے آج نہیں تو کل وہ تجھے پھر سے لینے آئے کب تک یہاں اکیلی رہےگی؟” ندا نے غصہ سے کہا
“یہ میرے ابا کا گھر ہے میرے ابا کی یادیں جڑی ہیں اس گھر سے ندا میں یہ گھر کیسے چھوڑ دوں ” فاطمہ نے کہا
“چھوڑ نہیں رہے ہیں ہم فاطمہ لیکن بھول مت تیرا نکاح ہوچکا ہے احمر بھائی کے ساتھ اور وہ ابا کی پسند ہے” ندا نے یاد دلوایا
” سب یاد ہے مجھے ” فاطمہ نے کہا
بابا کے جانے کے بعد احمر تقریباً روز گھر جاتا تھا اور سامان دے دروازے سے ہی واپس آجاتا
آج وہ دروازے پر آیا تو ندا نے اسے بتایا کہ وہ آج شام اپنے سسرال چلی جائے گی
“ٹھیک ہے فاطمہ کو کہیں کہ وہ تیار رہے میں شام کو لے جاؤں گا اسے ” احمر نے کہا
” آپ کل آجائیے گا….. تب تک وہ اپنی پیکنگ کے گی” ندا نے کہا
“مگر رات اکیلی گھر میں میرا مطلب آپ تو چلی جائیں گی شام میں تو….” احمر نے پوچھا
“ہاں مگر وہ چاہتی ہے اکل جائے یہ اسی کا فیصلہ ہے” ندا نے کہا
“ٹھیک ہے میں کل لے جاؤں گا” احمر نے کہا اور وہاں سے چلا گیا
” میں جا رہی ہوں فاطمہ کل احمر بھائی تجھے لینے آئے گا
تیار رہنا” ندا نے کہا
فاطمہ کی آنکھوں میں آنسوں تھے
ندا اس کے گلے لگ گئی
وہ اس گھر سے اور فاطمہ سے دور نہیں جانا چاہتی تھی
آخر کو وہ ان کا گھر تھا جہاں ان کے ابا کی یادیں تھی
![]()
رات گہری تھی مگر وہ گھر کے ہر حصہ میں گئی
وہ ابا کے کمرے میں گھنٹوں بیٹھی روتی رہی
اس نے الماری کھولی جہاں حافظ صاحب کی تسبیح ٹوپی
اور بہت سا سامان رکھا تھا
اس نے انہیں اٹھایا اور ہونٹوں سے لگایا
اس کے رخسار سے پھسلتے آنسوں تسبیح پر گرے
” ابا آپ کیوں چلے گئے مجھے تو آپ کے ساتھ رہنا تھا
آپ کی فاطمہ اکیلی ہے ابا …..
میں بہت اکیلی ہوں ابا مجھے تنہائی سے خوف آتا ہے
آپ واپس آجائیں پلیز آجائیں ” وہ روتی چلی گئی ناجانے کتنے گھنٹے…..
فجر کی آذان کی آواز آئی تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی
وضو کیا اور نماز پڑھی
جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو آنسوں بہنے لگے
“یا اللہ میرے ابا کو جنت میں جگہ عطا فرمانا
یا اللہ مجھے صبر دے دے میرے لیے آسانیاں پیدا کردے
یا اللہ قرآن پاک میں لکھا ہے اچھے لوگوں کے لیے اچھے اور برے لوگوں کے لیے برے…
یا اللہ مجھ سے ایسا کون سا گناہ ہوا جو مجھے احمر جیسا لڑکا ملا….
کیا میرا کوئی گناہ اتنا بڑا تھا جو احمر جیسا آوارہ لڑکا شوہر کے روپ میں ملا مجھے
اللہ میرے لیے آسانیاں پیدا کر دے پروردگار مجھے راستہ دکھا…”
وہ روتی چلی گئی
وہ نہا کر نکلی تو دروازے پر دستک ہوئی
اس نے دوپٹا اٹھایا
اور دروازے کی طرف گئی
” کون” فاطمہ نے پوچھا
” احمر” اس کی آواز آئی
فاطمہ نے دروازہ کھول دیا
آج اس نے نقاب نہیں کیا تھا……
اس نے نیلے رنگ کا سادہ سا جوڑا پہنا ہوا تھا جس پر ہلکا سا کام تھا
گیلے بالوں کے ساتھ سر پر دوپٹا رکھے
سفید رنگت گھنی ہنوز پلکیں جھکائے وہ اپنا ہر حسنِ انداز جھلکا رہی تھی
احمر کی نظریں اس کے چہرے سے ہٹ نہیں رہی تھی
احمر نے بڑی مشکل سے خود پر قابو پاکر نظریں جھکا لی
اور قدم بڑھاتا ہوا اندر چلا گیا
وہ وہیں کھڑی کچھ سوچنے لگی کہ احمر کی آواز کانوں سے ٹکرائی
“تیار ہو؟” احمر نے سوال کیا
اس نے نفی میں سر ہلایا
“تو ہوجاؤ تیار…. سامان کہاں ہے تمہارا بیگ وغیرہ؟”
احمر نے اسے بنا دیکھے ہی کہا
“وہ اوپر کمرے میں ہے میں لاتی ہوں” وہ کہتی اوپر چڑھنے لگی
کمرے میں جاکر اس نے سکون کا سانس لیا
اس نے بیگ اٹھایا جس میں اس کی ضرورت کا سامان اور کپڑے وغیرہ تھے
تھوڑا وزنی تھا وہ سوچ ہی رہی تھی کہ یہ نیچے کیسے لے کر جائے گی
تبھی پیچھے سے آواز آئی
” چھوڑ دو میں اٹھا لوں گا” احمر کمرے کے دروازے پر کھڑا تھا
” تم تیار ہوجاؤ میں یہ سامان میں رکھ کر آتا ہوں” وہ بیگ اٹھاتے ہوئے کہنے لگا
وہ بس خاموش کھڑی تھی
احمر بیگ اٹھاتے ہی کمرے سے نکل گیا
“اس شخص کے ساتھ میں کیسے رہوں گی؟” اس نے خود کلامی کی
آج فاطمہ پہلی بار گھر آرہی تھی نگہت نے بہت سے کھانے بنوائے
احمر کے کمرے کی صفائی کروائی
بہت سے اہتمام کیے
آخر اس کی بہو پہلی بار گھر آرہی تھی جس کا استقبال وہ بہت اچھے سے کرنا چاہتی تھی
فیروز بخت بھی آفس سے جلدی آنے کا کہ کر گیا تھا
“ہوگئی صفائی ساری کمرے کی؟” نگہت ملازمہ سے مخاطب تھی
” جی ہوگئی اور بیڈ شیٹ بھی بچھا دی دوسری جو آپ نے دی تھی” ملازمہ نے کہا
“چلو ٹھیک ہے تم لاؤنج کو دیکھو….” وہ کچھ کہ رہی تھی کہ فاریہ کی آواز آئی
“تیاریاں ہورہی ہیں آنٹی” فاریہ نے مسکرا کر کہا
“ہاں بس ہو ہی گئی تم کیسی ہو؟” نگہت نے پوچھا
“میں ٹھیک ” فاریہ نے کہا
“آنٹی میں آپ کے ساتھ مدد کرواؤں کچھ؟” فاریہ نے کہا
” ارے نہیں بیٹا میں کرلوں گی سب ” نگہت نے مسکرا کر کہا
اور فاریہ خاموش سے مسکرا دی
وہ جب واپس آیا وہ تیار تھی
سارے کمروں کو بند کر کے تالا لگا چکی تھی
برقعہ پہنے چہرے پر نقاب کیے وہ تیار تھی
جس سے وہی آنکھیں اسے دکھائی دے رہی تھی
جس نے پہلی نظر سے ہی دیوانہ بنا دیا تھا اسے
” چلو” احمر نے کہا اور آگے بڑھ گیا
دروازہ بند کرنے سے پہلے ایک نظر پھر سے اس نے خالی گھر کو دیکھا جہاں سے جانا اسے عذاب لگ رہا تھا
آنسوں اس کی آنکھوں سے بہنے لگے
احمر آگے بڑھا اور دروازہ بند کر کے تالا لگانے لگا
وہ شاید اس کے دکھ کو سمجھ گیا تھا
گاڑی کے پاس پہنچ کر اس نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا
وہ بنا کچھ کہے بیٹھ گئی
وہ پورے راستے خاموش رہے
نگہت اور فاریہ باتیں کر رہی تھیں کہ احمر سانے سے آتا دکھائی دیا
فاطمہ اس کے پیچھے تھی
فاریہ نے ایک نظر احمر کو دیکھا
پھر پیچھے کھڑی اس لڑکی پر اس کی آنکھیں ٹھہر گئی
جو کسی لحاظ سے اسے احمر کے لائق نہیں لگی
اس نے ناگواری سے اسے دیکھا پھر احمر سے مخاطب ہوئی
” Congrats” فاریہ نے کہا
“Thank you”
احمر نے مسکرا کر کہا
“ارے فاطمہ بیٹا ایسے کیوں کھڑی ہو آؤ بیٹھو یہاں” نگہت نے کہا
وہ صوفے پر بیٹھ گئی
” اب چہرہ بھی دکھا دو اپنی بیوی کا” فاریہ نے طنز کیا
احمر بدلے میں مسکرا دیا
فاطمہ نے اس کی بات سنتے ہی نقاب ہٹا دیا
فاریہ کی جیسے ہی نظر اس کے چہرے پر پڑی اسے اپنا آپ کم تر لگنے لگا
وہ کسی بھی چیز میں کم نہیں تھی
وہ جنتی پردے میں رہتی تھی اتنی ہی خوبصورت تھی
فاریہ کچھ کہ نہیں سکی بس کھڑی ہوگئی
” اچھا آنٹی میں چلتی ہوں” فاریہ نے کہا
“ارے کھانا تو کھا کر جاتی” نگہت نے کہا
” نہیں آنٹی مما انتظار کر رہی ہوں گی” فاریہ نے کہا اور وہاں سے نکل گئی
” تم دونوں فریش ہوجاؤ میں کھانا لگواتی ہوں” نگہت نے کہا
احمر کھانا کھا کر باہر چلا گیا تھا
پورا دن وہ نگہت اور فیروز بخت کے ساتھ بیٹھی رہی
وہ فیروز بخت سے پردہ نہیں کرتی تھی نگہت نے اسے منا کر دیا تھا
رات کا کھانا بھی احمر نے باہر ہی کھایا
وہ جب گھر آیا تو 10 بج رہے تھے
” کھانا لگاؤں؟” نگہت نے کہا
“نہیں موم میں نے عادل کے ساتھ کھا لیا تھا” احمر نے کہا
” اچھا جاؤ آرام کو” نگہت نے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
وہ سیڑھیاں چڑھتے اوپر گیا دروازہ جیسے ہی کھولا
تو سامنے بیڈ پر کمبل لیےوہ آرام سے لیٹی تھی
اسے دیکھتے ہی جھٹکے سے اٹھ بیٹھی
دوپٹہ سر پر رکھ کر اس نے احمر کی طرف نظر اٹھائی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
اس نے نظریں جھکا لی
“اسلام علیکم” احمر نے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی کہا
” وعلیکم السلام” فاطمہ نے دھیرے سے کہا
احمر الماری کی طرف گیا
کپڑے نکالے اور واش روم چلا گیا
” یا اللہ یہ کیسی آزمائش ہے ” وہ سوچنے لگی
تھوڑی دیر میں احمر واش روم سے نکلا گیلے بالوں کو ٹاول سے صاف کرتے
اس نے عادت کے مطابق گیلا ٹاول بیڈ پر رکھا اور شیشے میں کھڑا بال بنانے لگا
فاطمہ کی نظر گیلے ٹاول پر تھی جو بیڈ پر رکھا تھا
وہ اٹھی اور گیلا ٹاول اٹھا لیا
احمر شیشے سے اسے دیکھ رہا تھا ایک دم پلٹا
“کیا کر رہی ہو؟” احمر ٹاول اس کے ہاتھ میں دیکھتے ہوئے کہا
” وہ ٹاول گیلا ہے تو بیڈ شیٹ گیلی ہوجاتی اس لیے میں…” وہ گھبراتے ہوئے کہنے لگی
” سوری میرے دھیان میں نہیں رہا لاؤ مجھے دے دو” احمر کو پہلی بار یہ غلطی محسوس ہوئی
“بیٹھو تم سے کچھ بات کرنی ہے” احمر نے کہا
فاطمہ بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی احمر نیچھے ہی زمین پر بیٹھ گیا
فاطمہ نے ایک نظر اسے دیکھا پھر نظر جھکا لی
“تم مجھے پہچانتی ہو؟” احمر نے سوال کیا
فاطمہ خاموش تھی
” تمہیں پتا ہے دو سال کا یہ عرصہ کتنا لمبا تھا میرے لیے؟
دو سال پہلے پہلی نظر میں ہی میں.. میں نہیں رہا تھا….
تم…تم مجھے آوارہ بدمعاش یا جو بھی سمجھتی ہو میں نہیں جانتا…
میں صرف اتنا جانتا ہوں میں ویسا نہیں رہا جیسا پہلے تھا”
احمر بولتا چلا جا رہا تھا اور وہ نظریں جھکائے خاموش بیٹھی تھی
” مجھے دیکھو میں ویسا ہوں جیسا تم نے پہلی نظر میں مجھے دیکھا تھا؟ ” احمر نے سوال کیا
اس نے دھیرے سے پلکیں اٹھائی اور احمر کی آنکھوں میں دیکھا جہاں صرف اس کے لیے محبت تھی
احمر نے اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے
“کیا تم چاہتی ہو میں تمہیں اپنی محبت کی دلیل دوں؟” احمر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
وہ نظریں جھکا گئی
احمر نے جھک کر دراز سے ڈبی نکالی
وہ اسے کھول ہی رہا تھا فاطمہ کی مدھم سی آواز آئی
کیا… آپ مجھے کچھ وقت دے سکتے ہیں؟” فاطمہ نے بمشکل کہا
احمر کو جھٹکا لگا وہ اس کی بات کا مطلب سمجھ چکا تھا
