Pehli Nazar By Isra Rao NovelR50468 Pehli Nazar (Episode - 6)
No Download Link
Rate this Novel
Pehli Nazar (Episode - 6)
Pehli Nazar By Isra Rao
رات گہری تھی پر ہر رات کی طرح آج بھی نیند جیسے اس سے ناراض تھی
وہ اٹھا اور وضو کیا جائے نماز بچھایا اور تہجد کی نماز ادا کی دعا کے لیےہاتھ اٹھائے تو فاطمہ کاچہرہ سامنے آگیا
“اے میرے رب تو سب جانتا ہے میں تواتناگنہگار ہوں کوئی نیک عمل میرے پاس نہیں مگر میں میں تجھ سے گناہوں کی معافی مانگتاہوں مجھے سکون دے دے یارب
رات کے اس پہرمیں تجھ سےدعا مانگ رہاہوں یارب میں اس کو بھول نہیں پا رہا اسے میرامقدر بنا دے پروردگار اسے میرا مقدربنا دے” آنسوں گرتے چلے جارہے تھے
نگہت کی جب آنکھ کھلی تو اس نے گھڑی کو دیکھا رات کے 3 بجارہی تھی اس نے سائیڈ ٹیبل سے گلاس اٹھایا تواس میں پانی نہیں تھاپاس رکھا جگ بھی خالی تھا وہ اٹھی اور روم سے باہر آئی
تب اس کی نظر اوپر کمرےپر پڑی جس لی کھڑکی سے روشنی چمک رہی تھی
“یہ احمر کے روم کی لائٹ کیوں آن ہے وہ اب تک جاگ رہا ہے؟” وہ پریشان ہوئی
سیڑھی چڑھتے ہوئے اوپر کمرے کی طرف گئی
کمرےکا دروازہ کھولا توسامنے احمر جائے نماز پر بیٹھا ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے رو رہا تھا ہچکیوں سے کمرے کی خاموشی ٹوٹ رہی تھی
“احمر؟” نگہت نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
احمر چونکا پھر ہاتھ سے آنسوں صاف کیے اور نگہت کی طرف دیکھاجواسے سوالیانظروں سے دیکھ رہی تھی
“جی موم” احمر نے جواب دیا
“کیا بات ہے احمر کیوں رو رہے ہو؟”
“کچھ نہیں موم” اس کی نیچھے تھی
“مجھے نہیں بتاؤ گے ایسی کونسی بات ہے جس نے میرے بیٹے کو رولادیا؟” نگہت نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے پوچھا
اس کی آنکھوں میں نمی تھی
وہ جھٹ سے نگہت کے گلے لگ گیا
” موم میں اس کو بھول نہیں پارہا” احمر کی آواز بھر آئی
نگہت خاموش تھی
” وہ نہیں ملی تو میں جب تک زندہ ہوں یونہی روتا رہوں گا” احمر کی آنکھوں سے آنسوں گر رہے تھے
اگلے مہینے کی تاریخ رکھی گئی تھی ندا کے نکاح کی مگر حافظ صاحب فاطمہ کے لیے پریشان تھے کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو فاطمہ اکیلی ہوجائے گی
“ابا کو کیا ضرورت تھی تاریخ دینے کی” ندا نے سنجیدگی سے کہا
” کیوں تجھے شادی نہیں کرنی؟” فاطمہ نے مسکرا کر کہا
” تو اکیلی ہوجائے گی اور ویسے بھی بڑی تو ہے پہلے تیری شادی ہونی چاہیے” ندا نے خفگی سے کہا
” ابا کا خیال کون رکھے گا اگر میری شادی بھی ہوگئی تو؟” فاطمہ نے سوال کیا
” مگر میں بھی رک سکتی تھی نا ابا کے پاس” ندا نے کہا
” تو شادی کے بعد بھی ہمارے قریب ہی رہے گی ندا” فاطمہ نے سمجھایا
مگر وہ گھور کر پیر پٹختی روم سے باہر نکل گئی
آج وہ جب مسجد آیا تو بابا معمول کے مطابق وہیں بیٹھا تھااحمر ہر روز مسجد میں بابا سے ضرور ملتا
اسے بابا کی عادت سی ہوگئی تھی
وہ بابا سے اپنے دل کی ہر بات شئیر کرتا اور بابا کا جواب ہر بار کی طرح اس کے مسئلہ کا حل ہوتا
وہ پانچ وقت نماز قرآن یہاں تک کہ تہجد کی نماز بھی پڑھتا گویا ہر وہ کام کرتا جسکی ہدایت اسے بابا نے کی
” بابا آپ کی طبعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی میں آپ کو گھر چھوڑ آؤں؟” احمر نے بابا کی طرف دیکھ کر کہا
” ایک بات کہوں احمر بیٹا مانو گے میری بات؟” بابا نے احمر کو دیکھتے ہوئے کہا
” جی بابا حکم کریں ” احمر نے یک دم کہا
” میری بیٹی سے شادی کرلو” احمر کو جیسے جھٹکا لگا
” مگر بابا آپ میرے بارے میں سب جانتے ہیں تو….” وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر رک گیا
” مجھے پتا ہے وہ تمہارا ماضی تھا اور ابھی جو میرے سامنے وہ ایک نیک لڑکا ہے…. میری بیٹی خوش قسمت ہوگی اگر اس کا نکاح تم سے ہوگا تو..” بابا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
احمر کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کہے وہ بس خاموش تھا
” تم سوچ لو بیٹا کوئی جلدی نہیں ہے” یہ کہ کر بابا اٹھا اور مسجد سے باہر چل دیا
احمر وہیں بیٹھا سوچتا رہا فاطمہ کا چہرا اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگا
نہیں تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم اب اس کے راستے میں نہیں آؤگے اسے تنگ نہیں کرو گے ویسے بھی اتنا ٹائم ہوگیا ہوسکتا ہے اس کی شادی ہوگئی ہو…..
وہ سوچوں کے سمندر میں ڈوبتا رہا
حافظ صاحب سو رہے تھے کمرے میں کہ فاطمہ کمرے میں چائے لے کر آئی
“ابا” فاطمہ نے پکارا
جواب نہ پا کر اس نے پھر سے پکارا حافظ صاحب نے آنکھیں کھول
فاطمہ نے ماتھے پر ہاتھ لگایا
” ابا….ابا آپ کو تو بخار ہو رہا ہے” فاطمہ پریشان ہوئی
” ندا …ندا” فاطمہ نے آواز دی
“کیا ہوا” ندا نے آتے ہی کہا
” ابا کو بخار ہے بہت تیز چلو ڈاکٹر کے پاس لے کر جائیں گے برقعہ لے کر آؤ میرا بھی” فاطمہ کی آنکھوں میں نمی تھی
“ابا اب آپ نے مکمل آرام کرنا ہے بخار ابھی اترا ہے آپ کا” فاطمہ نے کہا
“نہیں بیٹا مجھے مسجد جانا ہے” حافظ نے بستر سے اٹھتے ہوئے کہا
” آپ یہیں نماز پڑھ لیں ابا میں جائے نماز لا دیتی ہوں” فاطمہ بضد کہا
” نہیں وہاں کوئی میرا انتظار کر رہا ہوگا” حافظ صاحب نے کھڑے ہونے کی کوشش کی
” بس میں نے کہ دیا ابا آپ یہیں نماز پڑھ لیں آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے میں جائے نماز لاتی ہوں” فاطمہ کہتی ہوئی باہر نکل گئی
احمر مسجد آیا مگر وہاں آج بھی بابا نہیں تھا وہ پریشان ہوا دو دن سے بابا مسجد نہیں آئے تھے
” ایسا تو نہیں ہوتا کہ بابا مسجد نا آئے ” احمر نے سوچا
” ہوسکتا ہے ان کی طبیعت خراب ہو؟ ہو سکتا ہے وہ کہیں گئے ہوئے ہوں” وہ وہیں کھڑا سوچ رہا تھا
” اسلام علیکم”وہ پاس کھڑے ایک آدمی کے پاس گیا
“کیا آپ جانتے ہیں بابا جن کی سفید ڈاڑھی ہے یہ یہاں بیٹھے ہوتے ہیں اکثر ان کا گھر کہاں ہے؟” احمر نے اشارہ کرتے ہوئے کہا
” حافظ صاحب کی بات کر رہے ہیں؟” اس آدمی نے پوچھا
احمر نے اثبات میں سر ہلایا
نگہت لاؤنج میں بیٹھی گہری سوچ میں تھی کہ فاریہ کی آواز پر پلٹی
” کیسی ہیں آنٹی؟” فاریہ نے پیچھے سے پکارا
“ٹھیک ہوں آؤ بیٹھو” نگہت نے مسکرا کر کہا
” کچھ پریشان لگ رہی ہیں آنٹی؟” فاریہ نے کہا
” ایک بات پوچھوں بیٹا؟” نگہت نے فاریہ کو دیکھا
” جی جی آنٹی پوچھیں نا” فاریہ نے مسکرا کر کہا
“تمہیں احمر کیسا لگتا ہے؟” نگہت نے پوچھا
” کیا مطلب آنٹی؟” وہ چونکی
” کیا تم میرے بیٹے سے کروگی؟” نگہت نے صاف گوئی کی
وہ حیرانی سے نگہت کا چہرہ تک رہی تھی
وہ اس علاقے میں آیا تو اسے فاطمہ کا خیال پورے راستے رہا یہ وہی علاقہ تھا جہاں وہ صرف ایک لڑکی کے دیدار صرف ایک جھلک دیکھنے کے لیے گھنٹوں کھڑا رہتا
کافی دیر سوچتا رہا پھر پاس سے گزرتے ایک آدمی سے پوچھا
” یہ حافظ صاحب کا گھر کون سا ہے؟” احمر نے پوچھا
“یہ سامنے دوسرے نمبر کا گیٹ” اس آدمی نے اشارا کرتے ہوئے کہا
جب اس کی نظر پڑی گیٹ پر تو اس کے پاؤں وہیں جم گئے
وہی علاقہ وہی گھر جسے وہ کب کا بھولانا چاہ رہا تھا
وہ الٹے پاؤں وہاں سے چلا آیا
“فاطمہ” وہ چائے کا خالی کپ اٹھا رہی تھی کہ حافظ صاحب نے پکارا
” جی ابا کچھ چاہیے آپ کو؟” فاطمہ نے کہا
” مجھے کچھ بات کرنی ہے بیٹا” حافظ صاحب نے بیٹھتے ہوئے کہا
“جی ابا” فاطمہ نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
” بیٹا میں نے ایک لڑکا دیکھا ہے تمہارے لیے بہت ہی نیک لڑکا ہے بیٹا” حافظ صاحب نے فاطمہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
” مگر ابا میں کیسے شادی کر سکتی ہوں آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی ندا کی بھی شادی ہوجائے گی کچھ دنوں میں آپ کا خیال کون رکھے گا؟” فاطمہ نے حافظ صاحب کو دیکھتے ہوئےکہا
” صرف اپنے لیے میں تہیں بٹھا کر تو نہیں رکھ سکتا نا بیٹا یہ فرض ہے مجھ پر بیٹا” حافظ صاحب نے سمجھایا
“مگر ابا…” وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر حافظ صاحب نے بات کاٹ دی
“میں اپنے فرض پورے کرنا چاہتا ہوں میرے بعد تمہارا ہے ہی کون” حافظ صاحب نے کہا
” ابا اللہ نا کرے آپ کو کچھ ہو کیسی باتیں کر رہے ہیں” فاطمہ نے خفگی سے کہا
اور حافظ صاحب مسکرا دیے
“آنٹی کیا آپ نے احمر سے بات کی؟” فاریہ نے کہا
” نہیں مگر میں کرلوں گی”
” تو آپ پہلے احمر سےبات کرلیں اگر وہ تیار ہے تو مجھے اعتراض نہیں” فاریہ نے کہا
تبھی سامنے سامنے سے احمر آتا دکھائی دیا
“میں چلتی ہوں آنٹی” کہ کر فاریہ اٹھ گئی
“احمر ” نگہت نے پکارا
“جی موم” احمر نے کہا
“ضروری بات کرنی تھی مجھے تم سے تم فریش ہوجاؤ آرام سے کریں گے بات” نگہت نے مسکرا کر کہا
” ٹھیک ہے موم” وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر چلا گیا
وہ گہری سوچ میں تھی کہ ندا کی آواز نے خاموشی کو توڑا
“تو پھر تیرا کیا فیصلہ ہے؟” ندا نے پوچھا
” وہی جو ابا کا ہے” فاطمہ نے کہا
“تو خوش ہے؟” ندا نے سوال کیا
“ابا خوش ہیں تو میں بھی خوش ہوں” فاطمہ نے جواب دیا
اور ندا کے چہرے پر خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی
آخر کو فاطمہ شادی کے لیے مان ہی گئی تھی
اس نے تہجد پڑھی دعا کی مگر کتنی ہی دیراسے نیند نہیں آئی
” ایک بار پھر وقت مجھے وہیں لے آیا میں نے سوچ لیا تھا کہ میں اس کے راستے میں کبھی نہیں آؤں گا پھر میری قسمت میں کیا لکھا ہے” اس نے خود کلامی کی
ہزاروں سوال تھے اس کے دل میں….
فجر کی اذان کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی
وہ اٹھا اور مسجد کی راہ لی
فجر کی نماز پڑھ کر وہ معمول کے مطابق بابا کے پاس جا کر بیٹھ گیا
” آپ دو دن سے مسجد نہیں آئے بابا خیریت ؟” احمر نے پوچھا
” طبیعت خراب تھی بیٹا”
“ابھی کیسی ہے طبیعت؟” احمر نے پھر پوچھا
” ٹھیک ہوں تم سے ایک جواب مانگا تھا ؟” بابا نے احمر کو دیکھا
احمر خاموش رہا
“میری بیٹی بہت نیک ہے بیٹا میرے بعد وہ اکیلی ہوجائے گی اس لیے چاہتا ہوں اپنے فرض سے آزاد ہوجاؤں” بابا نے کہا
” کتنی بیٹیاں ہیں آپ کی؟” احمر کی آنکھوں میں سوال تھا
” دو ہیں چھوٹی کی ابھی دو دن بعد شادی ہے اگر تم ہاں کرو تو….”
” میں تیار ہوں بابا” احمر نے بات کاٹی
“احمر”نگہت نے پکارا
” جی موم” اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا
“میں چاہتی ہوں تم فاریہ سے شادی کرلو وہ بہت اچھی لڑکی ہے تمہیں سمجھتی ہے ہرلحاظسے پرفیکٹ ہے” نگہت بولتی چلی جا رہی تھی
“آپ ٹھیک کہ رہی ہیں وہ بہت اچھی ہے پرفیکٹ ہے پر میں اس سے شادی نہیں کر سکتا موم” احمر نےکہا
” مگر کیو؟ اگر تم اس لڑکی کی وجہ سے منا کر رہے ہو جو تمہاری لائف میں آئی ہی نہیں تو یہ ٹھیک نہیں ہے بیٹا میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتی ہوں” نگہت نے سمجھانے کی کوشش کی
” موم میں کسی کو زبان دے چکا ہوں” احمر نے صاف گوئی کی
” زبان؟ کیسی زبان؟ کیا مطلب ہے تمہارا؟” نگہت چونکی
” ایک بابا ہیں ان کی بیٹی سے شادی کر رہا ہوں میں” احمر نے بتایا
” احمر تم ایسے کیسے کسی کو بھی زبان دے سکتے ہو منا کرو اسے اور فاریہ سے شادی کرلو ” نگہت نے پھر کہا
” آپ کیوں فاریہ کو مجھ پر مسلط کرنا چاہتی ہیں میں اس سے محبت نہیں کرتا موم ” یہ کہ کر وہ کھڑا ہوگیا
” تمہارے ڈیڈ کبھی نہیں مانیں گے اس رشتے پر احمر تم غلط کر رہے ہو” نگہت نے غصہ سے کہا
” زندگی میں نے گزارنی ہے موم اور میری خوشی فاریہ کے ساتھ نہیں فاطمہ کے ساتھ ہے”
احمر کہ کر تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا اور نگہت وہیں کھڑی اسے جاتے دیکھتی رہی…
دروازے کے قریب کھڑی فاریہ ساری باتیں سن چکی تھی
دو آنسوں اس کی آنکھ سے گرے تھے
