534.2K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehli Nazar (Episode - 5)

Pehli Nazar By Isra Rao

“موم گھر کب تک چلیں گے؟” احمر پاس بیٹھی نگہت کو دیکھتے ہوئی کہا

“پہلے ٹھیک تو ہوجاؤ ” نگہت پیار سے دیکھا

” موم مجھے گھر جانا ہے” احمر نے ناگواری سے کہا

” اچھا چلو ٹھیک ہے میں کرتی ہوں ڈاکٹر سے بات” نگہت نےاس کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

اور وہ بدلے میں مسکرا دیا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

فاطمہ اور ندا بس روئے جارہی تھی وہ گھر عورتوں سے بھرا تھا تدفین کے بعد آہستہ آہستہ گھر پھر سے خالی ہو رہا تھا

ان کے علاوہ ثریا بیگم(حافظ صاحب کی بہن ) بس وہ تھی گھر میں

” فاطمہ، ندا بیٹا تھوڑا سا کھانا کھا لو” ثریا نے کھانا سامنے رکھتے ہوئے کہا

” پھپو شہروز بھائی بہت خوش تھے ان کی تو منگنی تھی آج” فاطمہ نے روتے ہوئے کہا

“بس بیٹا صبر کرو اور دعا کرو ” ثریا نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

” ہسپتال میں بھی زیادہ بات نہیں کی اس نے یا یہ کہو کہ اسے مہلت نہیں ملی” ثریا کی آنکھوں میں نمی تھی

” کیا ہوا تھا پھپو؟” ندا نے پوچھا

“بیٹا شہروز کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا اسے ہسپتال لے کر بھاگے مگر اس کی زندگی بس اتنی ہی تھی بیٹا” ثریا نے ندا کے سر پرہاتھ رکھتے ہوئے کہا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

مہروز بخت ڈرائیو کر رہے تھے کہ سیل فون بجنے لگا

“ہیلو ہاں بولو کچھ معلوم ہوا؟”

” جی سر وہ ایک مولوی کا بیٹا تھا کوئی ایسا خاص بیک گراؤنڈ نہیں ان کا جہاں تک مجھے اندازہ ہے وہ لوگ کیس نہیں کریں گے اور اگر کر بھی دیا آپ کے پاس دولت ہے پاور ہے ان کے جیتنے کا سوال ہی نہیں بنتا”

“ہاں صحیح کہا” مہروز نے بند کردیا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

شہروز کو گئے ہفتے سے زیادہ ہوگیا تھا مگر ان کا گھر آج بھی خاموش تھا حافظ صاحب جیسے مسکرانا ہی بھول گئے تھے

ان کا اکلوتا بیٹا ان کے بڑھاپے کا سہارا تھا شہروز

” ابا” فاطمہ نے حافظ صاحب کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا

“کچھ پتا چلا ابا بھائی کے ایکسیڈنٹ کا زمہ دار کون تھا؟” فاطمہ نے پوچھا

” پتا کر کے یا اسے سزا دے کر کیا ہوگا بیٹا شہروز تو واپس نہیں آئے گا” حافظ صاحب نے افسردہ ہوکر کہا

” مگر ابا…” فاطمہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر حافظ نے بات کاٹ دی

“صبر کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے اوربیٹے کی موت پر ہی میں نے صبر کرلیا تو کیوں کوٹ کچہری کے چکر لگاؤں میں سب اللہ پر چھوڑ دیا بیٹا ” اتنا کہ کر حافظ صاحب کھڑے ہوگئے

” نماز کا ٹائم ہوگیا ہے میں نماز پڑھ کر آتا ہوں تب تک فاتحہ کا سامان تیار کر لینا” کہ کر حافظ صاحب باہر نکل گئے

اور وہیں بیٹھی رہی کہ کیا میرے بھائی کا قاتل آزاد گھومتا رہے گا ہماری خوشیاں چھین کر وہ سکون سے رہے گا

آنسوں اس کی آنکھ سے گرنے لگے

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

” کھانے میں کیا بنواؤں اپنے بیٹے کے لیے ؟” نگہت نے احمر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو گہری سوچ میں تھا

“احمر” جواب نا ملنے پر اس نے پھر سے پکارہ

” جی موم” احمر نے چونک کر کہا

” کیا سوچ رہے ہو؟” نگہت نے سوال کیا

” کچھ نہیں موم” احمر نے مسکراتے ہوئے کہا

“اچھا چلو تم آرام کرو” کہ کر نگہت بیگم روم سے نکل گئی

اور وہ پھر سے سوچوں کے سمندر میں ڈوبنے لگا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ اب اجتماع کے لیے نکلتی تو اسے احمر نظر نہیں آتا نہ گھر کے باہر نا راستے میں کہیں

“کیا میں نے کسی کی دل آزاری کردی” خیال اسکے دماغ میں آتا

” چلو اچھا ہے اب میرا پیچھا تو نہیں کرے گا” اس نے خیالات کو جھٹکتے ہوئے کہا

اس دن کے بعد سے احمر واقعہ اس کا پیچھا نہیں کیا

شاید وہ س کی باتوں سے ہرٹ ہوا تھا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

اس واقعہ کو آج ایک مہینے سے زیادہ ہوگیا تھا مگر احمر کے دماغ سے فاطمہ کی باتیں نہیں نکل رہی تھی

اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اب اس کاپیچھا نہیں کرے گا نہ اسے تنگ کرے گا مگر اسے بھلا نہیں سکتا تھا

وہ اب ٹھیک ہوگیا تھا سارے زخم بھر گئے تھے لیکن جو زخم محبت کے نام کا اسے لگا وہ آج بھی تازہ تھا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

ہر رات کی طرح آج بھی وہ ساری رات ہی جاگتا رہا کتنی ہی دیر کوشش کرتا رہا سونے کی مگر اسے نیند نہیں آئی

اس نے سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا ایک سگریٹ نکالی

سگریٹ ہاتھ میں لیے وہ سگریٹ کو دیکھ رہا تھا کہ کسی کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی

(تم جیسے لوفر اور آوارہ لڑکے بلکل پسند نہیں مجھے)

(ارے پہلے اپنے رب کو راضی کرو)

اس نے سگریٹ کو ہاتھوں سے توڑا اور دور پھینک دیا

اس کی آنکھوں میں سرخی تیر آئی تھی

تبھی دور سے اسے آذان کی آواز آتی سنائی دی

اس نےسامنے دیوار پر لگی وال کلاک کو دیکھا جو صبح کے پانچ بجا رہی تھی

شاید فجر ہوگئی تھی اور وہ اب تک جاگ رہا تھا

وہ اٹھااور واش روم گیا وضو کیا

باہر آیا تو جائے نماز ڈھونڈنے لگا مگر اس کے کمرے جائےنماز

نہیں تھی ہوتی بھی کیسے اس نے کبھی رکھنا ضروری نہیں سمجھا

کبھی استعمال ہی نہیں کی تھی

کچھ سوچ کر وہ روم سے باہر نکل گیا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

فجر کا وقت تھا ہلکی ہلکی روشنی تھی وہ بستر سے اٹھی تو سامنے کھڑکی پر نظر پڑی

وہ اٹھی اور کھڑکی کی طرف گئی اس نے جیسے ہی پردہ ہٹایا سامنے احمر کا چہرہ نظر آیا

تبھی ندا نے آواز دی

“فاطمہ وہاں کیا کر رہی ہے” وہ چونکی اور پلٹ کر ندا کو دیکھا

” اس ٹائم یپاں کیوں کھڑی ہے؟” ندا نے دوبارہ پوچھا

“وہ….وہ لڑکا….” اس دوبارہ کھڑکی سے نیچھے دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا

ندا قریب آئی کھڑکی سے دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا

“فاطمہ وہاں کوئی نہیں ہے” ندا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

“کیا یہ میراوہم تھا مگر اس کے بارے میں کیوں سوچ رہی ہوں؟” فاطمہ نے سوچا

” نماز کا ٹائم ہوگیا چل” ندا نے کہا اور روم سے نکل گئی

وہ بھی اس کے پیچھے چل دی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ جب مسجد پہنچا تو جماعت بس کھڑی ہونے والی تھی

اس نے بھی سر پر ٹوپی پہنی اور صف میں کھڑا ہوگیا

اس نے نیت باندھی مگر اس کے دماغ سے خیالات نہیں گئے

(اسلام ہے تمہارے پاس)

وہ رکوع میں تھا

(پہلے اپنے رب کو راضی کرو)

وہ سجدے میں گر گیا آنسوں اس کی آنکھوں سے مسلسل گر رہے تھے

شاید ندامت کے آنسوں تھے

اس نے سلام پھیرا

برابر میں ہر شخص پر نظر ڈالی

کیا میں ان نیک بندوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لائق تھا میں تو اتنا گنہگار ہوں

مگر میرے رب نے مجھے سب کے برابر لا کھڑا کیا

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

دعا کے لیے جب اس نے ہاتھ اٹھائے تو آنسوں کی قطار بندھ گئی شرمندگی اور ملال سے اس کا سر جھک گیا

” یا پروردگار آج مجھ جیسا گنہگار تیرے سامنے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہے میں تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں مجھے بخش دے پروردگار مجھے بخش دے

مجھے اس راستے پر لے چل جہاں سے تو راضی ہوجائے

اور وہ لڑکی…وہ لڑکی میرے بہت نیک ہے شاید میں اس کے لائق نہیں تھا مگر یا اللہ میں اسے بھول نہیں سکتا

اس لڑکی کو میرے زہن سے نکال دے اور مجھے صبر عطا کر

مجھے ہر برائی سے بچا لے مالک میں مجبور ہوں یارب مجھے راستہ دکھا….”

آنسوں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے

کتنی ہی دیر وہ روتا رہا دعا مانگتا رہا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“کہاں گئے تھے اتنی صبح صبح احمر؟” نگہت نے باہر سے آتے احمر کو دیکھتے ہوئے پوچھا

“نماز پڑھنے گیا تھا موم” اس نے سادہ سے لہجے میں جواب دیا

” کیا؟ یہ نماز کب سے شروع کی تم نے؟” نگہت حیران ہوئی

“آج سے” احمر نے جواب دیا اور سیڑھیاں چڑھنے لگا

اور نگہت اسے جاتے دیکھتی رہی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

گھڑی میں سات بج رہے تھے فاطمہ اٹھی اور کچن میں گئی ناشتہ بنایا تبھی ندا اس کے پاس آکر کھڑی ہوگئی

” کیا ہوا ہے تجھے؟” ندا نے اسے سوچ میں گم دیکھ کر پوچھا

” کیا مطلب؟ کچھ نہیں ہوا” فاطمہ چونکی

” میں ٹس کر رہی ہوں تو کچھ ڈسٹرب لگ رہی ہے آج صبح بھی تو عجیب باتیں کر رہی تھی” ندا نے الجھتے ہوئے کہا

” نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں” فاطمہ کپ میں چائے ڈالتی ہوئی کہنے لگی

“تو اس لڑکے کے بارے میں سوچ رہی ہے نا؟” ندا نے ایک دم سے کہا

اس کا چائے ڈالتا ہوا ہاتھ جھٹکے سے رک گیا اور چائے چھلک کر اس کے ہاتھ پر گر گئی

“آہ…” وہ چلائی اور ہاتھ ہٹایا

“کیا ہوا مجھے دکھا ” ندا نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا

فاطمہ کی آنکھوں سے آنسوں گر رہے تھے

“رک میں میں ٹیوب لے کر آتی ہوں” ندا کہ کر کچن سے باہر نکل گئی

فاطمہ کا دل کر رہا تھا وہ زور زور سے روئے مگر کیوں صرف ہاتھ جلنے پر یا کوئی اور وجہ جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پارہی تھی

(تم جیسے آوارہ اور لوفر لڑکے مجھے بلکل پسند نہیں)

آنسوں کا ایک ایک قطرہ پچھتاوے کی صورت میں گر رہا تھا

“کیوں میں اس آوارہ بے ہودہ لڑکے کے بارے میں سوچ رہی ہوں” اس نے خود کلامی کی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ فریش ہو کر نیچے آیا

وہ بلیک تھری پیس ہاتھ میں گھڑی آفس شوز پہنے بہت ڈیسینٹ لگ رہا تھا وہ اپنے ہی انداز میں سیڑھیاں اتر رہا تھا کہ سامنے کھڑی نگہت اور مہروز بخت کی نظر اس پر ٹک گئی

وہ نیچے آیا اورانہیں دیکھتے ی مسکرا دیا

” گڈ مارننگ” اس نے قریب آکر کہا

” کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہی؟” نگہت نے حیرانی سے کہا

” اوہ موم آپ کا بیٹا سدھر گیا ہے اب” احمر نے نگہت کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

وہ نگہت کے پاس بیٹھا تھا کہ آذان کی آوازسنائی دی

“موم میں نماز پڑھ کر آتا ہوں” احمر اٹھ کھڑا ہوا

“ہمم ٹھیک ہے” نگہت نے کہا

اور وہ باہر کی طرف چل دیا تبھی سامنے سے آتی فاریہ پر نظر پڑی جو ہات میں کچھ پکڑے ہوئے تھی

” یہ کیا ہے؟” احمر نے پوچھا

“یہ بریانی ہے میں نے بنائی ہے” فاریہ نے فخر سے کہا

” اوہ پھر تو بڑی مزے کی ہوگی” احمر نے ہنسی دباتے ہوئے کہا

“ہاں تو کھا کر تعریف کرو” فاریہ نے منہ بنا کر کہا

“ابھی تو نماز پر جا رہا ہوں” احمر نے کہا اور باہر نکل گیا

اوروہ حیران کھڑی رہی

“آنٹی” نگہت کو دیکھتے ہوئے پاس گئی

“نماز پر؟ یہ کب سے نیک بنا” فاریہ نے ہنستے ہوئے کہا

بدلے میں نگہت بھی ہنس دی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو وہاں ایک بزرگ بیٹھا تسبیح ہاتھ میں تھی سفید ڈاڑھی چہرے پر نور لیے وہ سفید لباس میں تھا

احمر اس کے پاس گیا وہ اکیلہ بیٹھا تھا

احمر بھی اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا سلام کیا جس کا اس نے دلکش مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا

“بابا آپ؟ روز آتے ہیں یہاں؟” احمر نے بس جودل کیا پوچھ لیا

“میں روز یہاں ہوتا ہوں بس تم نے کبھی توجہ نہیں دی…” بابا نے احمر کی طرف دیکھے بنا ہی کہا

احمر الجھا

“الجھے ہوئے ہو سکون کی تلاش میں ہو؟” بابا کی نظر ابھی بھی احمر پر نہیں تھی

“بابا میں بہت گنہگار ہوں سکون کیسے ملے گا؟ میں اس رب سے رو رو کر معافی مانگتا ہوں…” احمر نے سر جھکائے کہا

“توبہ تب نہیں ہوتی جب ہم روتے ہیں توبہ تو تب ہوتی ہے جب ہم خود کو بدل لیتے ہیں” بابا نے احمر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

احمر اٹھ کھڑا ہوا اور کچھ کہے بنا ہی وہاں سے چل دیا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ گاڑی چلا رہا تھا مگر بابا کی بات اس کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی

(توبہ تب نہیں ہوتی جب ہم روتے ہیں توبہ تو تب ہوتی ہے جب ہم خود کو بدل لیتے ہیں)

تبھی اس کی نظر سامنے سڑک کے کنارے دو چھوٹے بچوں پر پڑی جو سڑک پار کرنا چاہتے تھے مگر گاڑیوں کے شور سے اور تیزی سے گزرنے پر وہ ڈر رہے تھے

احمر نے گاڑی کو سائیڈ پر لگایا اور گاڑی سے اترا

وہ ان بچوں کے قریب آیا

“میں کرواؤں سڑک پار ؟” اس نے بچوں کی طرف دیکھ کر کہا

بچے احمر کی طرف دیکھنے لگے

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو میرا ہاتھ پکڑو” احمر نے بچوں دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا

دونوں بچوں نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ تھام لیے

اور وہ چل دیا

دور کھڑی فاطمہ اور ندا یہ منظر دیکھ رہی تھی

فاطمہ کے پاؤں وہیں جم گئے تھے

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات گہری تھی اور وہ اب تک جاگ رہی تھی

“کیا میں نے واقعی اسے غلط سمجھ لیا تھا” فاطمہ کو خیال آیا

(میں آپ سے محبت کرتا ہوں)

بار بار یہ جملہ اسے یاد آرہا تھا

(ارے پہلے جا کر اپنے رب کو راضی کرو پھر میرے پاس آنا)

دو آنسوں اس کے آنکھ سے گرے اور اس نے آنکھیں بند کرلی

احمر کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا

اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی

اس نے اپنے چہرے کو چھوا جو آنسوں سے گیلا تھا

” میں کیوں رو رہی ہوں؟ نہیں میں نہیں رو رہی” اس نے خود کلامی کی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ آج آفس سے آیا تو بہت تھک گیا تھا اس نے سیدھی کمرے کی راہ لی اور بستر پر لیٹتے ہی سو گیا

اس کی جب آنکھ کھلی تو رات کے9 بج رہے تھے

وہ اٹھا فریش ہوا اورنیچے گیا تو نگہت کھڑی تھی

“آؤ کھانا کھا لو ” نگہت نے اسے دیکھ کر کہا

“نماز پڑھ کر آتا ہوں پھر کھاؤں گا موم” وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ کپڑے تہ کر الماری میں لگا رہی تھی

“میں نے کہا تھا نا کسی کو گنہگار نہیں سمجھنا چاہیے” ندا نے کہا

” کس کی بات کر رہی ہے؟” فاطمہ نے پوچھا

“تو خوب جانتی ہے میں کس کے بارے میں بات کر رہی ہوں” ندا نے فاطمہ کی طرف دیکھ کر کہا

“مجھے فرق نہیں پڑتا” فاطمہ نے کہا

“اچھا تو کیوں تو رات دیرتک جاگ کر اس کے بارے میں سوچ رہی تھی؟ کیوں تو منتظر ہے اس لڑکے کی؟” ندا نے سوال کیے

” نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو غلط سمجھ رہی ہے” فاطمہ نے کہا

“اچھا ہو سکتا ہے” ندا نے مسکرا کر کہا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ جب مسد پہنچا تو جماعت ہو چکی تھی اس نے اکییلے ہی نماز پڑھی

ہر روز کی طرح وہ بزرگ آج بھی بیٹھا تھا تسبیح ہاتھ میں لیے

احمر اس کے پاس گیا سلام کر کے پاس بیٹھ گیا

“کیسے ہیں آپ؟”احمر نے کہا

بابا نے اثبات میں سر ہلایا

” بابا محبت ہمیں اتنا کمزور کیوں بنا دیتی ہے؟” احمر نے آنکھوں میں نمی لیے پوچھا

” اللہ سے محبت میں اور انسان سے محبت میں یہی تو فرق ہے” باکی نظر تسبیح پر تھی

” میں سمجھا نہیں” احمر الجھتے ہوئے کہا

“انسان سے محبت ہمیں کمزور بنا دیتی ہے وہ ہماری سب سے کمروزی بن جاتی ہے مگر اللہ سے محبت ہمیں ہمیشہ مظبوط بنا دیتی ہے وہ محبت ہمارے لیے سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے”

بابا نے کہا

“مگر بابا انسان کی محبت بھلانا چاہتا ہوں میں سکون چاہتا ہوں بس میری دعا قبول ہوجائے میں اللہ سے گفتگو کرنا چاہتا اللہ کی محبت کو بس دل میں رکھنا چاہتا ہو” احمر بولتا جا رہا تھا اسے نہیں پتا کہ وہ کیا بول رہا ہے

“تہجد…تہجد پڑھا کرو” بابا اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

تحجد؟” اس نے دوہرایا

“تحجد کی نماز…رات کے اس پہر انسان کے آنسوں کسی ضدی بچے کی طرح اپنے رب کی بارگاہ میں اپنی بات منوالیتے ہیں اور رب…رب اس لاڈلے کی بات کو رد نہیں کرتا” بابا نے کہا

احمر پورے راستے بابا کی باتیں سوچتا ہوا آیا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

” ابا آپ کا کیا فیصلہ ہے پھر” فاطمہ نے کہا

“مینے ہاں نہیں کی کہ ابھی ندا کی شادی نہیں کرسکتا فاطمہ بڑی ہے” حافظ صاحب نے کہا

” نہیں ابا مجھے اپ کے پاس رہنا ہے آپ پھوپو کو ڈیٹ دے دیں ندا ان کی بچپن کی مانگ ہے” فاطمہ نے کہا

“مگر بیٹا..” حافظ صافظ کچھ کہنے ہی لگے تھے کہ فاطمہ نے کہا

” میرا جب نصیب ہوگا تو ہوجائے گا ابھی تو مجھے اپنے ابا کے پاس رہنا ہے” فاطمہ نے مسکرا کر حافظ صاحب کے گلے لگ کر کہا

اور حافظ صاحب مسکرا دیے