534.2K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehli Nazar (Episode - 1)

Pehli Nazar By Isra Rao

وہ گہری نیند سورہا تھا کہ الارم تیز تیز بجنے لگا الارم کی آواز اسے زہر لگ رہی تھی اس نے ہاتھ بڑھا کر الارم بند کیا اور دوبارہ کمبل ٹھیک سے لے کر سونے لگا کہ جھماکے سے اٹھ بیٹھا

” Oh God”

بالوں میں ہاتھ رکھ کر بڑبڑانے لگا اور فٹ سے اٹھ کر الماری سے کپڑے نکالے اور واش روم گیا….

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

سید مہروز بخت لاؤنج سے اٹھ کر باہر کی طرف جارہے تھے اور نگہت بیگم کچن سے آرہی تبھی ان کی نظراحمر پر پڑی جو سیڑھی اترتے ہوئے آرہا تھا وہ سیڑھی کے پاس رک گئی

“اتنی دیر؟” نگہت نے گھورا

“سوری موم وہ….” وہ پیار سے کہنے لگا

” تمہارے ڈیڈ نے کہا بھی تھا کہ آج جلدی اٹھنا مگر تمہیں تو” نگہت نے خفگی سے کہا

” مگر وہ مجھے کیوں لے کر جا رہے ہیں؟ مجھے نہیں ان کے ساتھ جانا پسند آفس ” اس نے اکتاہٹ سے کہا

” احمر جلدی جاؤ ” نگہت نے گھورا اور وہ آگے بڑھ گی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ بلو جینس پر وائیٹ شرٹ اور لیدھر کی جیکٹ جوگرز کے ساتھ پہنے کھڑا تھا بالوں میں جیل لگائے ہاتھ میں گھڑی پہنے ہلکی سی Beard وہ اپنا ہر انداز جھلکا رہا تھا

” جی ڈیڈ ایم ریڈی” وہ بھاگتا ہوا باہر گاڑی کے پاس آیا

” وقت تمہارا انتظار نہیں کرے گا ٹائم دیکھا ہے تم نے؟” مہروز بخت نے غصے سے کہا

“وہ تھوڑی دیر ہوگئی ڈیڈ سوری” اس نے جھجھکتے ہوئے کہا

“آئندہ ایسا نہ ہو” ایک نظر مہروز نے اس کے ہلیے پر ڈالی

” ایسے جاؤ گے آفس؟ برخوردار آفس جانا ہے یونیورسٹی نہیں” اتنا کہ کر وہ گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے اور وہ سکون کا سانس لینے لگا کہ کم سے کم آج تو جان چھوٹی…..

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ اندر آیا تو نگہت نے پوچھا

“کیا ہوا آفس کیوں نہیں گئے؟”

” چھوڑ کر چلے گئے وہ کہنے لگے گیٹ اپ درست کرو بتائیں اب میرے کپڑوں سے بھی مسلہ ہے انہیں” وہ کرسی کھینچ کر بیٹھا

” تم خود کو بدل کیوں نہیں لیتے اب تمہیں بزنس میں آنا چاہیے بیٹا ذمہ داری کو سمجھو” نگہت نے سمجھایا

” ناشتہ لادیں پلیز موم” اس نے نظر انداز کرتے ہوئے کہا

” اچھا لاتی ہوں” نگہت مسکرا کر چلی گئی وہ جانتی تھی احمر کا چینج ہونا مشکل ہے…..

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ چابی انگلی سے ہوا میں ہلاتے سیٹی بجاتے ہوئے اپنی دھن میں باہر نکل رہا تھا کہ سامنے سے بھاگنے کے انداز میں آتی فاریہ سے ٹکرایا اور اس کی چابی نیچے جا گری

وہ جینس پر پنک شرٹ پہنے کھلے سٹیپ کٹنگ سلکی بال وہ بہت دلفریب لگ رہی تھی

” کیا بد تمیزی ہے یار تم ہر وقت ہوامیں سوار کیوں رہتی ہو؟” اس نے جھنجھلا کر کہا

” کیوں کہ میں تمہارے بارے میں جو سوچتی رہتی ہوں” فاریہ نے یک دم کہا

” کیا” وہ چونکا

” میرا مطلب ہے کہ تمہیں کیسے سدھارا جائے” اس نے بات پلٹی

“پہلے خود کو تو سدھار لو گرتی پڑتی رہتی ہو” احمر نے اس کے بال کھینچتے ہوئے کہا اور باہر بھاگا

” احمر” وہ غصہ سے چلائی اور پیر پٹختی اندر چلی گئی….

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا کہ اس کا فون بجنے لگا عادل کا نمبر تھا اس نے کان سے لگایا

“ہاں بول”

“شام کو میں نے پارٹی رکھی ہے نشہ کی برتھ ڈے پکے لیے تو پہنچ جانا لازمی”

” ہاں پتا ہے بتایا تھا تو نے”

“اس لیے یاد کروا رہا ہوں ٹائم سے پہنچ جانا”

” ہاں ٹھیک ہے بس زیادہ…..” اس نے کہا پر اس سے پہلے ہی اس کی گاڑی کے سامنے دو لڑکیا آگئی اس نے بریک لگانے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے ہی وہ لڑکی نیچے گری

” اوہ شٹ” اس نے گاڑی روکتے ہی کہا اور تیزی سے باہر نکلا

” آپ کو دکھتا نہیں ہے کیا؟” اس نے قریب آتے ہی کہا

” یہ کیا بدتمیزی ہے غلطی بھی آپ کی اور چلا بھی ہم پر رہے ہو” ایک لڑکی نے کہا جبکہ دوسری نیچے بیٹھی تھی شاید اس کے پاؤں میں چوٹ لگی تھی

وہ دونوں برقعہ پہنے ہوئے تھی

“تم ٹھیک ہو فاطمہ؟” اس لڑکی نے نیچے بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر کہا

وہ لڑکی اثبات میں سر ہلاتی بمشکل کھڑی ہوئی….

اس نے کھڑے ہوتے ہی احمر طرف دیکھا احمر بھی اس کی طرف دیکھ رہا تھا اس کی بڑی بڑی بھوری آنکھیں گھنی ہنوز پلکیں ہلکا سا کاجل لگائے اس کی آنکھیں احمر پر ہی ٹکی تھی

احمر یک ٹک اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اس کی آنکھوں میں عجیب سی کشش تھی احمر نظر نہیں ہٹا پارہا تھا

ان کی نظر ایک پل کے لیے ملی پھر یک دم اس لڑکی نے نظریں جھکائی اور آگے بڑھ گئی

وہ وہیں کھڑا اسے دور جاتا دیکھ رہا تھا…..

رات گہری تھی پر اس کی آنکھیں نیند سے کوسو دور تھی وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا اس نے آنکھیں بند کی تو وہی آنکھیں اس کے سامنے آگئی وہی بھوری بڑی بڑی آنکھیں سیاہ گھنی پلکیں جھپکتی

اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی

“یار یہ کیا ہو رہا ہے ؟” وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور بڑبڑایا

اٹھ کر دراز سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور پینے لگا لیکن ایک پل کے لیے بھی وہ آنکھیں اس کے خیالات سے دور نہیں گئی…..

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“وہ آج پھر سے نہیں اٹھا؟” مہروز بخت نے نگہت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

” چھوڑیں نا آپ آہستہ آہستہ ذمہ دار ہوجائے ابھی عمر ہی کیا ہے اس کی” نگہت نے جوس گلاس میں ڈالتے ہوئے کہا

” ہاں لیکن میرے بعد اس نے ہی سمبھالنا ہے سب ابھی سے دلچسپی لے گا تو آگے مسلہ نہیں ہوگا اسے اب وہ بچہ تو نہیں رہا” مہروز بخت نے کہا

” آپ بھی کیسی باتیں کر رہے ہیں وہ بچہ ہی ہے ابھی سیکھ جائے گا سب ٹائم تو دیں اسے آپ” نگہت نے کہا

” ہمم چلو میں چلتا ہوں میٹنگ ہے آج” وہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا…..

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“اور پھر میں نے تو مما سے کہ دیا کہ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی” فاریہ کہتی چلی جارہی تھی

وہ نیچے آیا تو فاریہ صوفے پر بیٹھی نگہت سے مخاطب تھی اسے دیکھ کر مسکرائی

” لو بھئی آنٹی آگئے آپ کے لاڈلے سو کر” فاریہ نے یک دم کہا

” یار تمہیں کوئی کام نہیں صبح صبح دماغ کھانے آجاتی ہو” اس نے صوفے پر گرنے کے انداز میں کہا

” صبح؟ ہاہا مسٹر 12 بج رہے ہیں دوپیہر تک سوتے رہتے ہو بس” اس نے منہ چڑا کر کہا

“میں جس ٹائم اٹھتا ہوں اسی وقت صبح ہوتی ہے میری” اس نے کہا

” موم ناشتہ” اس نے کو کہا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

سید مہروز بخت ایک کامیاب بزنس مین تھے احمر ان کی اکلوتی اولاد تھا اس لیے کبھی اس نے اور نگہت نے احمر کی کوئی فرمائش رد نہیں کی تھی احمر شروع سے لاڈ پیار کی وجہ سے تھوڑا ضدی تھا اور زمہ داری تو کبھی اس پر پڑی ہی نہیں وہ بس یونیورسٹی سے دوستوں میں اور پھر کلب وغیرہ گھر آتا تو بھی آرام ہی کے لیے کوئی کام زمہ داری اٹھانے کا کوئی شوک نہیں تھا اسے…. اور نماز قرآن اس نے نہ کبھی گھر کسی کو پڑھتے دیکھا نہ خود پڑھتا بس بچپن میں پڑھا اور چھوڑ دیا وہ اسلام سے خاصہ دور تھا

نگہت پورا دن گھر میں بور ہوتی یا تو پارٹیز میں چلی جاتی یا فاریہ آجاتی ان کے پاس….

فاریہ ان کے پڑوس میں رہتی تھی اس کا باپ ایک ڈاکٹر تھا اور مہروز بخت کا پرانہ دوست تھا

فاریہ احمر کی دوست تھی مگر ساتھ ہی وہ اسے پسند کرتی تھی لیکن اس نے کبھی کہا نہیں اس کا سوچنا تھا کہ پہلے احمر اسے پروپوز کرے مگر احمر کے دل میں ایسی کوئی بات نہیں تھی وہ بس اسے اچھی دوست ہی مانتا تھا…..

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

فاطمہ اور ندا دونوں بہنیں تھیں وہ ایک مفتی اور جانے مانے مولوی حافظ رضاق الدین کی بیٹی تھی جن کا گھر صرف اسلام تک محدود تھا ایک بھائی تھا جو اکثر شہر سے باہر رہتا اس کا کہنا تھا کہ وہ خوب پیسہ کمانا چاہتا ہے..….

مالی حیثیت میں بھی وہ لوگ کچھ کم نہیں تھے ان کی ماں کافی سال پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھی

حافظ صاحب ںھی اکثر گھر سے باہر ہوتے مگر ان کی غیر موجودگی میں بھی فاطمہ اور ندا نے کبھی گھر سے باہر بنا اجازت قدم نہیں رکھا…….