534.2K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehli Nazar (Episode - 3)

Pehli Nazar By Isra Rao

اس واقعہ کو دو مہینے ہو گئے تھے اس دن کے بعد احمر اور فاطمہ کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی مگر احمر اس دن چہرہ دیکھنے کے بعد اور بھی کھچتا جا رہا اس کے دماغ سے خیال نہیں جا رہا تھا…..

“یار وہ لڑکی ایسی تھی کہ میری نظر نہیں ہٹ رہی تھی پتا نہیں اس میں ایسا کیا تھا ” احمر نے کہا

” وہ کون تھی؟” کہاں رہتی ہے؟ کیا کرتی ہے؟” عادل نے پوچھا

” مجھے خود نہیں پتا؟” احمر نے افسردگی سے کہا

“چل میں معلوم کرواتا ہوں” عادل تسلی دی اور وہ مسکرا دیا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“بھائی کا فون آیا تھا” ندا نے بتایا

” کیا کہ رہے تھے؟” فاطمہ نے پوچھا

” کچھ نہیں پرسوں آرہے ہیں ابا سے کچھ بات کرنی ہے پوچھ رہے تھے ابا کا”

“ہاں مگر ابا تو شام میں آئیں گے میلاد سے”

” ہاں بتا دوں گی خود ہی بات کرلیں گے” ندا نے کہا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ جب نیچے آیا تو مہروز بخت بیٹھے انتظار کر رہے تھے اس کا

“جی ڈیڈ آپ نے بلایا؟” احمر نے آتے ہی کہا

” ہاں بیٹھو” مہروز نے اشارہ کرتے ہوئے کہا

“رفیق صاحب کے گھر سے رشتہ آیا ہے تمہارے لیے میڈیکل کر رہی ہے ان کی بیٹی اچھے لوگ ہیں ہمارے سٹیٹس کے مطابق ہیں تم لڑکی دیکھ آنا پسند آئے گی تو آگے بات بڑھائیں گے” مہروز صاحب نے بات مکمل کی

” مگر ڈیڈ ابھی سے شادی؟” احمر نے جھجھکتے ہوئے کہا

” شادی نہیں کر رہے ابھی بس منگنی کر رہے ہیں تم دیکھ آنا لڑکی” مہروز بخت نے سنجیدگی سے کہا

“جی ڈیڈ” اس نے سر جھکائے کہا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“میں نے سب پتا کروا لیا ہے اس لڑکی کا کوئی خاص بیک گرائونڈ نہیں ہے اس لڑکی کا باپ مولوی اور بھائی شہر سے باہر رہتا کسی کمپنی میں جوب ہے شایدایک چھوٹی بہن ہے بس گھر میں اسلامک گھرانا ہے یار تیرے ٹائپ کا نہیں” عادل نے سوچتے ہوئے کہا

” ہمم ٹھیک کہ رہا ہے تو ” احمر نےچائے پیتے ہوئے کہا

” شادی نہیں کرنی مجھے یار” احمر نے ناگواری سے کہا

“وہ ویسی لڑکی نہیں ہے یار جیسا تو سمجھ رہا ہے نا ویسا نہیں ہو سکتا ابھی تو بتایا تجھے اسلامک ٹائپ لڑکی ہے” عادل نے سمجھایا

” ہمم رہتی کہاں ہے ایڈریس دے” احمر نے کچھ سوچ کر کہا

“مگر یار….” عادل نے کچھ کہنا چاہا مگر اس نے باٹ کاٹی

” میں کچھ نہیں کر رہا یار دے تو سہی” احمر نےدوبارہ کہا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ کب سے بیل بجا رہا تھا مگر کوئی دروازہ نہیں کھول رہا تھا وہ پلٹا ہی تھا کہ کسی کی آواز آئی وہ آواز جو وہ پہلے بھی ایک بار سن چکا تھا

“کون؟” اندر سے آواز آئی

مگر وہ بس خاموش کھڑا تھا

جب کچھ دیر تک جواب نہیں آیا تو فاطمہ نے دروازہ کھولا

حسب معمول آج بھی اس کا چہرا نقاب میں تھا

“جی؟ “وہ احمر کو پہچان گئی تھی

“وہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے کیا ہم کہیں باہر مل سکتے ہیں” احمر نے کہا

” کیا؟” فاطمہ بس اتنا کہ سکی کچھ سوچ کر اس نے دروازہ کھٹ سے بند کردیا

فاطمہ کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا وہ دروازہ بند کرتے ہی اندر بھاگی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ جنس پر بلیک شرٹ اور کوٹ جوگرز کے ساتھ پہنے ہوئے تھا ہاتھ میں گھڑی آنکھوں پر سن گلاسز لگائے وہ واقعہ بہت اچھا لگ رہا تھا

وہ کب سے بیٹھا انتظار کر رہا تھا تبھی اسے قدموں کی چاپ سنائی دی اس نے پلٹ کر دیکھا

سفید رنگت جنس پر وائیٹ ٹی شرٹ سلیو لیس جہاں سے اس کی دو دھیاں بازوں صاف جھلک رہی تھی ڈائی کیے ہوئے سلکی بال شولڈر کٹنگ وہ لڑکی اسی کی طرف دیکھ رہی تھی

وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا

“اوہ سوری ایم لیٹ” اس نے قریب آکر کہا

“مائے نیم از رائینا” وہ بیٹھتے ہوئے کہنے لگی

“اینڈ یو؟ احمر رائٹ؟” وہ زہن پر زور ڈالتے ہوئے کہنے لگی

احمر نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا⁦

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“بیٹا کچھ اچھے سے کھانے بنا لینا” حافظ صاحب نے کہا

“جی ابا بھائی جو آرہا ہے میرا” فاطمہ نے مسکراتے ہوئےکہا

“ابا ویسے بھائی کو کیا بات کرنی تھی آپ سے؟” ندا نے پوچھا

“وہی شادی کی اور کیا بات کر سکتا ہے وہ؟” حافظ صاحب نے کہا

“تو ابا کر دیجیے نا ان کی شادی” فاطمہ نے مسکراتے ہوئے کہا

” ہاں بیٹا بس اب تو کرنی ہی ہے ضدی جو ہے وہ” حافظ صاحب نے اکتا کر کہا

“ایک ہی تو بھائی ہے ابا ہمارا اس کی خوشی میں ہم بھی خوش ہیں” فاطمہ نے کہا

حافظ صاحب اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتے تھے ان کا ایک ہی بیٹا ان کے بڑھاپے کا سہارا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ چپ چاپ کھانا کھا رہا تھا

“لڑکی کیسی لگی؟” نگہت نے پوچھا

” اچھی تھی” اس نے بس اتنا کہا

“تو بات آگے بڑھائیں” نگہت نے کہا

” اتنی جلدی کیا ہے موم” احمر نے اکتا کر کہا

“بیٹا مجھے تمہارے ڈیڈ کو جواب دینا ہے” نگہت نے سمجھاتے ہوئے کہا

“ابھی مجھے کچھ ٹائم چاہیے موم” احمر نگہت کی طرف التجائی نظروں سے دیکھا

” ٹھیک سوچ کر جواب دے دینا مگر جلدی” نہگت مسکراتے ہوئے کہا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ بیڈ پر بیٹھا تھا ہاتھ اس کا لیمپ کے بٹن پر تھا جسے وہ کبھی جلا رہا تھا کبھی بجھا رہا تھا وہ گہری سوچ میں تھا

اس کے خیال کا مہور بس فاطمہ کے ارد گرد تھا اس کا چہرہ اس کی خوبصورت آنکھیں گویا ہر چیز احمر کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی

“میں کیوں اس معمولی سی لڑکی کو سوچ رہا ہوں کیوں میں اس کے گھر گیا تھا؟” سوال اس کے زہن میں بار بار آرہے تھے

“کیا مجھے اس سے محبت ہوگئی کیا؟ نہیں نہیں احمر فیروز بخت کو محبت نہیں ہو سکتی” وہ خود کلامی میں مصروف تھا اور رات گہری ہوتی چلی جا رہی تھی

❤❤❤❤

“یار میں پاگل ہوجاؤں گا” احمر نے اکتا کر کہا

“لیکن یار…” عادل نے کہا

“مجھے وہ ہر جگہ دکھائی دیتی ہے مجھے نہ نیند آتی ہے نہ سکون” وہ مجبور تھا

“تو تو ایک کام کر شادی کرلے وہ لڑکی تیرے دماغ سے نکل جائے گی تو اپنی نئی لائف میں مصروف ہوجائے گا” عادل نے سمجھایا

“ہاں شاید تو ٹھیک کہ رہا ہے” احمر نے کہا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ فاریہ وہاں آئی

” آج کل تو لڑکیاں دیکھی جارہی ہیں اور ہمیں کچھ بتایا بھی نہیں” فاریہ نے کہا

“ارے یار ڈیڈ نے کہا تو میں دیکھ آیا” احمر نے اکتا کر کہا

“پھر کیسی لگی تمہیں؟” فاریہ نے تشویش سے کہا

“اچھی تھی” احمر نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا

“مطلب تمہیں پسند ہے لڑکی؟” فاریہ نے پوچھا

“پتا نہیں” احمر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

“پتا نہیں مطلب پسند ہوگی تو آگے چل کر محبت ہوگی شادی ہوگی” فاریہ نے کہا

” محبت؟” اس نے فاریہ کو دیکھا

” ہاں جہاں محبت نہیں ہوگی وہ رشتہ کتنا دور تک چلے گا آخر ہمیں شادی اسی سے کرنی چاہیے جس سے محبت ہو” فاریہ نے رائے دی

” چلو میں چلتی ہوں مجھے پارلر جانا ہے” وہ کہتی کھڑی ہوگئی

اس کے جانے کے بعد بھی احمر کے دماغ میں وہی باتیں چل رہی تھی

“ہمیں شادی اسی سے کرنی چاہیے جس سے محبت ہو”

یہی ایک جملہ بار بار اس کی سماعت سے ٹکرا رہا تھا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“بھائی نے ناشتہ کرلیا” فاطمہ نے ندا سے پوچھا

“نہیں سو رہے ہیں تھک گئے تھے کل ” ندا نے کہا اٹھ کر کچن کی طرف جانے لگی

اور وہ اوپر سیڑھیا چڑھنے لگی

اوپر کمرے میں آئی تو سامان بکھرا ہوا تھا

“یہ ندا کبھی نہیں سدھرے گی” بڑبڑاتے ہوئے وہ سامان اٹھانے لگی

سب سامان اپنی جگہ پر رکھ کر کھڑکی کی طرف آئی وہ پردا صحیح کرنے ہی والی تھی اس کی نظر نیچے کھڑے شخص پر پڑی….

اس نے جھٹ سے پردا گرا دیا اس کے پسینے چھوٹنے لگے

” آخر یہ لڑکا چاہتا کیا ہے؟” اس نے خود کلامی کی

” یا اللہ کسی نے دیکھ لیا تو” وہ پریشان ہوی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

” موم آپ انہیں انکار کردیں ” احمر نگہت کو دیکھ کر کہا

“کیا؟ کیوں؟” نگہت نے حیرانی سے پوچھا

” بس مجھے نہیں اس لڑکی سے منگنی یا شادی” احمر نے صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا

“مگر وجہ بھی ہوگی انکار کی” نگہت نے کہا

“موم شادی ہمیں اس سے کرنی چاہیے جو پسند ہو ہمیں پلیز موم ” کہ کر اس نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر کی طرف نکل گیا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

بھائی گھر پر تھا اس لیے اور ندا کے سر میں بھی درد تھا تو اس نے اجتماع میں جانے سے منع کردیاتھا

“ندا دروازہ بند کرلے میں اجتماع میں جا رہی ہوں” فاطمہ نے کہا اور باہر نکلی

مگر اس کی نظر سامنے گاڑی پر پڑی جس میں احمر بیٹھا تھا وہ شادی فون پر مصروف اس نے باہر آتی فاطمہ کو نہیں دیکھا

فاطمہ نے حقارت بھری نظر سے اسے دیکھا اور گاڑی میں بیٹھ گئی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“تو ایسا کر اسے بتا دے اپنی محبت کے بارے میں جب تو پہلہ قدم اٹھائے گا تو اگے بھی سب ٹھیک ہوگا ٹینشن نہیں لے” عادل نے کہا

“مگر یار اگر اس نے منع کردیا تو؟” احمر پریشان ہوا

“ہمم کر بھی سکتی ہے لیکن تو بات تو کر کے دیکھ” عادل نے سمجھایا

“یار 2 دن سے انتظار کر رہا ہوں وہ گھر سے ہی نہیں نکلی،

لوفر لڑکوں کی طرح گھر کے باہر کھڑا انتظار کر رہا ہوں اس کا” احمر نے اکتا کر کہا

” کیا؟ ہاہا ابے وہاں کیوں کھڑا ہے تو اس لڑکی نے تجھے دیکھا تو لوفر ہی سمجھے تجھے وہ” عادل نے ہنستے ہوئے کہا

“تو کیا کروں وہ پردے والی ہی اتنی ہے کہیں نکلتی نہیں” احمر نے کہا

” ہاں لیکن ابھی تو واپس آ وہاں مت کھڑا ہو اپنی نہیں تو اس کی عزت کا ہی خیال کرلے” عادل نے دوبارہ سمجھایا

“اچھا چل آرہا ہوں” کہ کر اس نے کال کاٹ دی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

شام ہوگئی تھی وہ جب اجتماع سے واپسی آرہی تھی تو باہر اس کی گاڑی نہیں تھی یا شاید اب تک آئی نہیں تھی

” اب تک گاڑی نہیں آئی” وہ پریشان ہوئی

“تھوڑا انتظار کرتی ہوں آجائے گی” اس نے خود کلامی کی

مغرب کی آذان ہونے والی تھی مگر گاڑی نہیں آئی تھی کچھ سوچ کر وہ پیدل ہی نکلی تھوڑا آگے نکلی تو احمر گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا

احمر نےاسے آتے دیکھا تو اس کی طرف بڑھا وہ تیز تیز قدم بڑھا رہی تھی کہ احمر اس کے راستے میں آگیا وہ آج بھی نقاب میں تھی اس کی آنکھوں میں وہی خوبصورتی تھی

” پلیز میری ایک بار بات سن لیں” احمر نے کہا

“دیکھیں میں کسی انجان شخص یا نا محرم سے بات نہیں کرتی پلیز میرا پیچھا مت کیا کریں” فاطمہ نے کہا اور آگے بڑھ گئی

“مجھے آپ اچھی لگتی ہو میں آپ سے محبت کرتا ہوں” احمر نے کہا

” آپ کیوں مجھے تنگ کر رہے ہیں کسی لڑکی کا پیچھا کرنا اس کے گھر کے باہر کھڑے رہنا یہ سہی نہیں ہے پلیز میرا پیچھا کرنا بند کردیں” اس نے زور سے کہا اور آگے بڑھ گئی

“میں ایسا نہیں ہوں آپ غلط سمجھ رہی ہو” احمر نے کہا اس سے پہلے ہی وہ وہاں سے جا چکی تھی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“یار اس نے تو مجھ سے بات ہی نہیں کی” وہ افسردہ بیٹھا تھا

” تو تجھے کس نے کہا تھا اس کے گھر کے باہر کھڑا ہوجا؟” عادل نے اکتا کر کہا

“تو نے” احمر نے اسے گھورا

“ابے میں نے کب کہا؟” وہ ہڑبڑایا

“تونے کہا تھا اسے اپنی محبت کے بارے میں بتا دے” احمر نے جھٹ سے کہا

” تو میں نے یہ کب کہا تو اس کے گھر کے باہر کھڑا ہوجا” عدل نے کہا

“اب کیا کروں میں وہ تو مجھے لوفر سمجھ رہی ہے” احمر نے اداسی سے کہا

” ہاہا کچھ کرتے ہیں رو مت” عادل نے ہنستے ہوئے کہا بدلے میں احمر نے سسے گھوری سے نوازا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ اپنے کمرے میں بیٹھی کب سے گہری سوچ میں تھی

اسے بار بار احمر کی سوچ آرہی تھی

” مجھے آپ اچھی لگتی ہو میں محبت کرتا ہوں آپ سے” اس کے جملے مزید خوف پیدا کر رہے تھے اس کے دل میں

اس کے دل میں بہت بری تصویر بنی تھی احمر کی وہ اسے نہایت ہی گھٹیا انسان سمجھ رہی تھی

اس کی نظر میں احمر ایک آوارہ اور بدمعاش تھا