Pehli Nazar By Isra Rao NovelR50468 Pehli Nazar (Episode - 2)
No Download Link
Rate this Novel
Pehli Nazar (Episode - 2)
Pehli Nazar By Isra Rao
“چوٹ کیسی ہے اب پاؤں کی” ندا نے پوچھا
” ٹھیک ہے” اس نے جواب دیا
“اس لڑکے کی ڈھٹائی دیکھی تھی غلطی بھی خود کی اور بحث بھی ہم سے دل تو کر رہا تھا دو تھپڑ لگاؤں گال پر “ندا نے غصہ سے کہا
” تجھے بحث نہیں کرنی چاہیے تھی ندا” اس نے سمجھاتے ہوئے کہا
“بابا کو چاہیے ایک گاڑی ہمیں بھی دیں آنے جانے کے لیے ہر جگہ پیدل ہی جانا پڑتا ہے گاڑی ہوتے ہوئے بھی” ندا نے بے رخی سے کہا
” اچھا چلائے گا کون”
“ڈرائیور” ندا نے کہا
“وہ تو نا محرم ہوگا اور ابا کبھی اجازت نہیں دیں گے” فاطمہ نے کہا
“ہمم چلو نماز کا ٹائم ہوگیا” ندا نے کہا اور باہر نکل گئی
![]()
وہ ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھا کہ فاریہ اندر آئی
“کیا دیکھ رہے ہو؟ مجھے تم سے ایک کام ہے” فاریہ نے بیٹھتے ہوئے کہا
” کچھ خاص نہیں تم بولو”اس نے ٹی وی بند کرتے ہوئے کہا
“پاپا کے ہوسپیٹل لے چلو گے مجھے؟” فاریہ نے کہا
“کیوں جانا ہے؟” اس نے پوچھا
“کچھ پیپرز دیے تھے سائن کے لیے انہیں وہ چاہیے تم لے کر تو چلو” فاریہ کھڑی ہوئی
“اچھا چلو” احمر نے چابی اٹھائی اور کھڑا ہوا
“تمہیں ڈوکٹر کے پاس جانا چاہیے چوٹ ٹھیل نہیں ہوئی تمہاری” ندا نے کہا
“نہیں ٹھیک ہو جائے گی خود ہی” اس نے پاؤں کو دیکھتے ہوئے کہا
” اٹھو چلو میں دانیال بھائی کو کال کرتی ہوں وہ ٹیکسی لے آئے گا” ندا نے کہا
” نہیں بابا غصہ ہوجائیں گے ” فاطمہ کے ندا کو دیکھ کر کہا
“کیوں ہونگے اب ڈوکٹر کے پاس بھی نہ جائیں اٹھو تم” ندا نے کہتے ہوئے اسے ہاتھ پکڑ کر اٹھایا
” پاپا” اس نے دروازے سے جھانکتے ہوئے کہا
“ارے تم یہاں؟کیسے ہو احمر”
“ایم فائن سر ” احمر نے کہا تبھی اس کا فون بجنے لگا
“Excuse me”
وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا
” ہاں بول”
“کلب میں جانے کا پروگرام ہے ” عادل نے کہا
“ہاں میں آجاؤں گا” اس نے کہ کر فون بند کیا اور پلٹنے والا ہی تھا کہ اس کی نظر سامنے والے روم کی کھڑکی پر پڑی
وہ چلتا ہوا قریب آیا کھڑکی کے اندر وہی دو لڑکیاں بیٹھی تھی ایک نے بیڈ پر پاؤں رکھا ہوا تھا اور نرس اس کے پاؤں پر پٹی کر رہی تھی وہ لڑکی وہی بھوری بڑی بڑی آنکھوں والی تھی اس دن کی طرح آج بھی اس نے نقاب کیا ہوا تھا بس آنکھیں نظر آرہی تھی
وہ ان آنکھوں کو کبھی نہیں بھول سکتا تھا
وہ دوبارہ اپنے قدموں کے ساتھ وہیں کھڑکی کے پاس جم گیا تھا
وہ دونوں جیسے ہی روم سے باہر نکلی احمر تیزی سے ان کے سامنے آگیا
” یہ کیا بدتمیزی ہے؟” ندا نے کہا
“میں وہ اس دن کے لیے سوری بولنے آیا ہوں میری وجہ سے آپ کے پاؤں….” وہ فاطمہ کی آنکھوں دیکھتے ہوئے کہ رہا تھا
” Its okay”
فاطمہ کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی اس کی نظر ابھی بھی آنکھوں پر تھی ناجانے کیا تھا اس کی آنکھوں میں کہ وہ کھچا چلا جا رہا تھا
اتنا کہ کر فاطمہ اور ندا برابر سے گزر گئی
مگر وہ وہیں کھڑا انہیں پھر سے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا
فاریہ کے چٹکی بجانے پر اس نے پلکیں جھپکائی اور فاریہ کی طرف دیکھا جو اس کے برابر میں کھڑی تھی
“کیا ہوا؟ کہاں گم ہو؟” فاریہ نے کہا
“نہیں کچھ نہیں چلیں” احمر نے کہا
“ہاں چلو” فاریہ نے کہا
وہ کلب آگیا تھا کتنی ہی دیر وہ وہیں بیٹھا رہا اس کے خیال اس لڑکی کے ارد گرد گھوم رہے تھے
“ڈرنک” عادل نے اس کی طرف گلاس بڑھاتے ہوئے کہا جسے وہ جوش میں ایک ہی سانس میں پی گیا
” اور ڈال” اس نے عادل کی طرف بنا دیکھے کہا
عادل نے گلاس میں اور شراب ڈال دی
وہ گلاس کو ہاتھ میں اٹھا کر دیکھنے لگا
اس کے خیال سے وہ آنکھیں دور ہو ہی نہیں رہی تھی وہ تعش میں آگیا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اس کی آنکھیں سرخ ہوگئی تھی
اسے اس گلاس میں بھی آنکھیں دکھائی دینے لگی
اسنے گلاس کو اٹھایا اور پوری طاقت سے سامنے دیوار پر پھینکا…..
وہ رات سے گھر آیا تھا تو اس کی نیند بھی پوری نہیں ہوئی تھی صبح دیر تک سوتا رہا….
جب وہ نیچے آیا تو کچھ مہمان بیٹھے تھے
بلیک جینس پر ریڈ ٹی شرٹ اور لیدھر کی جیکٹ پہنے وجیہہ لگ رہا تھا وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا آیا
سلام دعا کے بعد وہ باہر چلا گیا پھر شام میں ہی واپس آیا
“مما کون تھے وہ لوگ ؟”
اس نے نگہت سے پوچھا
“تمہارے ڈیڈ کے دوست تھے رشتے کے لیے آئے تھے” نگہت نے کہا
“اب ڈیڈ اس عمر میں دوسری شادی کریں گے؟” اس نے شرارت سے کہا
” احمر ” نگہت نے گھورا
“وہ تمہارے رشتے کے لیے آئے تھے اور تم غائب کہاں ہوگئے تھے؟” نگہت نے پوچھا
” مام مجھے ابھی شادی نہیں کرنی پلیز” وہ اکتایا
” تمہیں کوئی پسند ہے تو بتا دو”
“نہیں مجھے کوئی پسند نہیں بس ابھی نہیں کرنا چاہتا” اس نے کہا اور بیٹھ گیا
” کھانا کھایا تم نے؟” نگہت نے کہا
“نہیں” اس نے ٹی وی آن کرتے ہوئے جواب دیا
” میں لگواتی ہوں کھانا” نگہت نے مسکراتے ہوئے کہا اور چلی گئی
“بابا میں کھانا لگا دوں” ندا نے کہا
“ہاں بیٹا لگا دو آج فاطمہ نظر نہیں آرہی؟” حافظ صاحب نے کہا
“وہ بابا اس کے پاؤں میں چوٹ لگی ہے سو رہی ہے وہ” ندا نے بتایا
” مگر کیسے لگ گئی چوٹ؟” حافظ پریشان ہوئے
“وہ بابا ہم اجتماع سے آرہے تھے تو ایک گاڑی سے ٹکر لگ گئی” ندا سر جھکائے بتا رہی تھی
“”ایسے کیسے ٹکر لگ گئی زیادہ چوٹ لگی ہے؟” وہ گھبرائے
” نہیں بابا زیادہ نہیں لگی ” ندا کے کہنے پر انہیں تسلی ہوئی
” کل سے میں ایک گاڑی لگوادوںگا اس میں جانا” حافظ بیٹھتے ہوئے کہنے لگے
” جی میں کھانا لاتی ہوں” ندا کہتے ہوئے کچن میں چلی گئی
“یہ فاریہ نہیں آئی ابھی تک اس کو جانا ہی نہیں ہے” احمر غصہ میں کہنے لگا
“آتی ہوگی بیٹا، لو وہ آگئی” نگہت نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا
جہان سے وہ جنس پر بلیک ٹی شرٹ پہنے پرس ہاتھ میں لہراتی ہوئی آرہی تھی
” نہایت ہی کوئی فضول لڑکی ہو تم یار ٹائم دیکھو کب سے ویٹ کر رہا ہوں ” احمر غصہ سے دھاڑا
” تو کیا ہوگیا تھوڑا ویٹ کرلیا تو؟” فاریہ نے اسی کی ٹون میں کہا
” اب اکیلی جاؤ میں نہیں لے کر جا رہا” احمر صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہنے لگا
” ہا…. آنٹی دیکھیں اسے” وہ جھنجھلائی
“اٹھو جلدی ” اس نے دوبارہ کہا
” میں نہیں جا رہا” احمر نے ناگواری سے کہا
” مجھے شادی پر جانا ہے پھر” فاریہ نے بتایا
” تو؟” احمر نے روکھا سا جواب دیا
” پلیز اچھا سوری اب تو اٹھ جاؤ” فاریہ نے منت کی وہ مسکرا دیا
” چلو” احمر اٹھ کر کہنے لگا
” ہائے کنتے اچھے ہو تم” فاریہ چلتے چلتے کہا
” پتا ہے” وہ جتانے لگا
” ویسے احمر مجھے کوئی لڑکا نہیں ملا نا میں تم سے ہی شادی کرلوں گی” اس نے شرارت سے کہا
” میں تو کبھی نا کروں تم سے مجھے پاگل نہیں ہونا” احمر نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا
” تمہارا مطلب میں پاگل ہوں؟” فاریہ نے غصہ سے پوچھا
“کوئی شک؟” احمر نے ڈرائیو کرتے ہوئے کہا
” احمر میں تمہارا سر پھوڑ دوں گی” اس نے چڑتے ہوئے کہا اور وہ قہقہانہ انداز میں ہنسنے لگا
فاطمہ اور ندا گاڑی میں ہی آیا جایا کرتی فاطمہ کا پاؤں بھی اب ٹھیک ہوگیا تھا
وہ اجتماع سے آتے ہوئے ڈرائیور کو بول کر مول کی آگئی
“”بابا کے لیے بھی کپڑے لیے لیں گے” وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے جا رہی تھی تھوڑی شاپنگ کرنے کے بعد وہ حجاب کی شاپ کی طرف گئے
“آؤ حجاب دیکھتے ہیں ” ندا نے کہا اور شاپ کے اندر لے گئی اسے
” یہ ٹھیک ہے نا؟” ندا نے پسند کیا
“ہاں ٹھیک ہے یہ دو پیک کروا لے” فاطمہ نے کہا
اسے اپنے اوپر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی اس نے پلٹ کر دیکھا وہاں ایک لڑکا کھڑا وحشیانہ طریقہ سے مسکرا رہا تھا
” ندا چل یہاں سے ” فاطمہ نے گھبراتے ہوئے کہا
” کیا ہوا؟” ندا نے پوچھنا چاہا مگر وہ اسے بازو سے پکڑے باہر لے آئی اور تیز تیز قدم بڑھانے لگی
وہ تیزی سے آرہی تھی بار با خوف سے پیچھے دیکھ رہی تھی کہ کسی سے زور سے ٹکرائی اس کا سارا سامان نیچے گر گیا
وہ نیچے بیٹھ کر سامان اٹھانے لگی
ٹکرانے کی وجہ سے جھٹکے سے اس کا نقاب اتر گیا اور چہرا نظر آنے لگا
“احمر کی نظر اس کے چہرے پر ٹک گئ
بڑی بڑی بھوری آنکھیں گلابی ہونٹ صاف رنگت گویا اس کا انداز تعریف کے لائق تھا
احمر اس کے بلکل سامنے زمین پر بیٹھا تھا اور وہ سامان شاپر میں ڈال رہی تھی اس نے ایک نظر احمر پر ڈالی اور فٹ سے نقاب ہاتھ سے پکڑ کر چہرے پر لگایا اور کھڑی ہوگئی
اور وہاں سےتیزی سے بھاگی اس نے پلٹ کر دیکھا احمر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا……
