37.8K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Last Episode

ارتضی کمرے میں آیا تو کمرے کا حال دیکھ کر بے ساختہ مسکرایا اسے یہی امید تھی ۔
جبکہ شانی اپنے کام میں مصروف ہر ایک پھول کو نوچ نوچ کر زمین پر پھینک رہی تھی ۔
سارے پھولوں اتار کر پھینک دیے بس ڈریسنگ ٹیبل پر ایک اکلوتا پھول رکھا تھا وہ تیزی سے اس کی طرف بھری ۔
جب ارتضی نے پیچھے سے آکر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا
یہ ایک پھول تو رہنے دو یار ۔وہ جیسے منت کر رہا تھا ۔
چھوڑیں مجھے ۔ وہ غصے سے بولی ۔
چھوڑنے کے لیے تھوڑی اتنے پاپڑ بیلے ہیں ۔ سوچا تھا اتنے سارے پھول تمہارے طبیعت پر خوشگوار
اثر ڈالیں گی لیکن تم تو صدا کی انرومینٹک ہو ۔ مجال ہے جو ان پھولوں کو دیکھ کر ہی اپنے اندر
رومینس کے جراثیم جگا لو ۔
وہ اس کے گالوں پر اپنے لب رکھتے ہوئے بولا ۔
دور ہٹائیں مجھ سے ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اسے دھمکی دینے کی ناکام سی کوشش کرنے لگی
ورنہ تم میرے قریب آجاؤ گی یہی نا ۔ وہ اسے مزید خود کے قریب کر تے ہوئے بولا ۔
ارتضی پلیز اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش میں ناکام ہو کر وہ اسے التجا بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی
چھوڑ دیا یار ایسے مت دیکھا کرو ۔ قسم سے بہت پیار آتا ہے ۔ وہ اس کا گال کھینچتے ہوئے اس سے دورہوا ۔
جلدی سے باہر آجاؤ شاپنگ پر چلتے ہیں
مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا اسنے پلٹ کردیکھااور وہ غصے سے بولی ۔
جان میں وہی ارتضی حیدر ہوں جو تمہیں اٹھا کر بھی اپنے ساتھ لے کے جا سکتا ہے بھول گئی کیا
مجھے وہ اسے شرارتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا ۔
شانی غصے سے پیرپٹکتی اس کے پیچھے آگئی ۔
اگر آپ کو لگتا ہے اس طرح زبردستی مجھے اپنے ساتھ گھسیٹ کر منائیں گے تو یہ آپ کی خوش فہمی ہے اور کچھ نہیں وہ گاڑی کا دروازہ کھولے ہوئے غصے سے بولی ۔
اور اسی خوش فہمی کے تحت میں تمہیں منا بھی لوں گا اور اپنی نئی زندگی کی شروعات بھی کرونگا وہ اس کا ہاتھ چوم کر بولا ۔
°°°°°°°
وہ جانے کیا کیا خرید رہا تھا جبکہ جس کے لیے یہ سب کچھ خریدا جا رہا تھا اس کی پسند کی تو کوئی اہمیت ہی نہ تھی ۔
وہ بس اس کے پیچھے چلتی جا رہی تھی ارتضی نے ایک بار بھی مڑ کر نہ پوچھا شانی یہ لے لوں تمہارے لیے وہ تو جو چیز پسند کرتا اٹھا رہا تھا ۔
مسٹر ارتضی حیدر یہ میں نے پہنا ہے آپ نے نہیں ایک بار ہی میری مرضی جان لیں ۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بولی ۔
میری جان گھر جاکر پسند کر لینا جو پسند ہے ٹھیک جو نہیں پسند پھینک دینا ۔ ویسے بھی میری پسند تمہاری پسند سب کچھ ہی پسند آئے گا ۔ وہ سامنے چیزیں دیکھتے ہوئے بولا ۔
تم یہاں میرے پیچھے کھڑی ہو کر کیا کر رہی ہو جاو میرے لئے شاپنگ کرو ۔ وہ اسے آرڈر دینا آگے بڑھاجبکہ شانی بھی وہاں سے پیر پٹکتی دوسری طرف آگئی
°°°°°°°
شانی بیٹا میری بات سنو ۔ اپنے پیچھے سے آواز سن کر شانی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اسے یقین نہ آرہا تھا یہ وہی مامی تھی جو اپنے آپ کو ایک چلتا پھرتا برینڈ بنا کر رکھتی تھیں
مامی یہ سب کچھ کیا ہے ۔۔۔؟
ان کو اس حالت میں دیکھ کر شانی اس کے قریب آئی جوکہ پھٹا ہوا دوپٹہ بڑی مشکل سے اپنے سر پہ رکھے اپنے پھٹے ہوئے بازو کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔
جبکہ کپڑے صاف ستھرے تھے ۔ لیکن بار بار دھلنے کی وجہ سے ان کا کلر ۔ ۔ بہت خراب ہوچکا تھا ۔
وہ تو اپنے نوکرانیوں کو بھی ایسے کپڑے نہیں دیتی تھی اور آج اس حالت میں دیکھ کر شانی کو بہت برا لگا ۔
شانی تمہارے ماموں مجھے طلاق دینا چاہتے ہیں میں پچھلے چار سال سے دن رات ان سے معافی مانگ رہی ہوں لیکن وہ میری شکل نہیں دیکھنا چاہتے ہیں
خدا کے لیے میری مدد کرو اپنے ماموں کو روکو وہ چاہے ساری زندگی مجھے منہ نہ لگائیں کبھی اس محل میں نہ رکھیں مجھے ایسے ہی رہنے دیں لیکن مجھ سے میرا سہارا نہ چھینے مجھ سے اپنا نام الگ نہ کریں ۔
مامی روتے ہوئے اس کے پکر پکڑنے لگیں ۔
مامی آپ کیا کر رہی ہیں آپ چلے میرے ساتھ گھر واپس میں ماموں سے بات کرتی ہوں ۔ وہ تو مامی
کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھی جب پیچھے سے اچانک کسی نے اس کا ہاتھ تھاما ۔
آپ کو شرم نہیں آتی یہاں تک آ پہنچی ہیں آپ ۔ اتنا کچھ کر کے سکون نہیں ملا آپ کو ۔
چلو شانی یہاں سے وہ اس کا ہاتھ تھام کر زبردستی اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا ۔
ارتضی مامی ہمارے ساتھ ہمارے گھر جائیں گی ۔ اور مجھے کوئی نہیں روکے گا اس نے ارتضی کی
طرف انگلی اٹھا کر کہا ۔
اگر یہ پہلے کا وقت ہوتا تو ارتضی نہ جانے اس کے ساتھ کیا کرتا لیکن اس وقت نہیں اس وقت وہ
اپنے آپ کو اس کا گناہ گار سمجھتا تھا ۔
°°°°°°°
شانی نے اس کی ایک بات نہ مانی اور زبردستی رخسانہ کو اپنے ساتھ لے آئی
رخسانہ کو گھرمیں دیکھ کر ماموں غصے سے اس کے قریب آئے
بے شرم عورت تمہاری ہمت کیسے ہوئی
میرے گھر میں قدم رکھنے کی ۔ ماموں دہارتے ہوئے بولے
انہیں میں لی کر آئی ہوں ماموں ۔ اور اب سے یہ یہی پے رہیں گی اگر آپ لوگوں نے میری بات نہیں
مانی تو میں یہ گھر چھوڑ کر چلی جاؤں گی شانی سے جب کچھ نہ بن پڑا تو وہ انہیں دھمکیاں دینے لگی
ماموں کا غصہ بتا رہا تھا کہ انہیں رخسانہ پر بہت غصہ ہے
آپ لوگ چاہتے ہیں نہ میں گھر میں رہوں ۔ تو رخسانہ مامی کو وہی حیثیت واپس ملے گی جو میرے یہاں سے جانے سے پہلے تھی ۔
یہ سب سے زیادہ میری گناہگار تھی ماموں پلیز میں نے معاف کر دیا ہے ۔
نانو نے فون پر اس کے بابا کو سب کچھ بتایا تھا کہ کس طرح سے رخسانہ اور کنزہ نے یہ ساری
پلاننگ کر کے ارتضی اور شانی کو الگ کیا تھا ۔
ٹھیک ہے شانی اگر تم اسے معاف کر رہی ہو تو میں بھی کوئی نہیں ہوتا اسے سزا دنے والا ۔ لیکن
میری ایک شرط ہے ۔ ۔ ۔ اگر تم چاہتی ہو رخسانہ اس گھر میں رہے تو تمہیں بھی ارتضی کے کمرے میں رہنا ہوگا ۔
اپنی ناراضگی ختم کرو اور پہلے جیسے ہو جاؤ بیٹا میں تم لوگوں کو اس طرح سے بکھر تے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔ میں اتنے سالوں سے تم دونوں کو خوش باش دیکھتا آیا ہوں اور پھر یہ فاصلہ ۔
میں چاہتا ہوں تم دونوں میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے ۔ اگر تم لوگوں کو میرا فیصلہ منظور ہے تو ہی رخسانہ کو پہلے جیسی حیثیت یہاں رہے گی ۔
ماموں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
تو وہ نظر جھکا کے گردن ہاں میں ہلا گئی ۔
جبکہ اس کی اس حرکت پر ارتضی ایک بار پھر سے جی اٹھا تھا
°°°°°°°
وہ اس کے کمرے میں آ گئی لیکن ابھی تک اس سے بات نہیں کر رہی تھی اس نے ماموں کی شرط
مان لی تھی لیکن شاید دل سے نہیں
ارتضی اس کا کھنچا کھنچ انداز نوٹ تو کر رہا تھا لیکن پھر بھی وہ شرارتی انداز میں اسے منانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے تھا ۔
تمہیں پتا ہے خاندان میں شادی ہے ہم نے جانا ہے وہاں ارتضی کافی دیر سے بات کرنے کی
کوشش کر رہا تھا لیکن اس کے کسی سوال کا جواب نہیں دے رہی تھی اسی لیے اب کام کی بات
پے آگیا
میں آپ کے ساتھ کسی شادی پر جانے میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں وہ غصے سے کہتی رخ پھیر گئی
اور تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں اپنے ساتھ کہیں بھی لے جانے کے لیے تمہاری اجازت کا طلب گار
ہوں ۔ وہ اس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے گویا ہوا ۔
نہیں آپ کسی بھی چیز کے لئے میری اجازت کے طلبگار نہیں ہیں ۔
آپ جو چاہے کر سکتے ہیں جب چاہیں مجھے اپنی زندگی میں شامل کر سکتے ہیں جب چاہیں مجھے بازو سے پکڑ کر گھر سے باہر نکال سکتے ہیں جب چاہیں آپ مجھے ذلیل کر سکتے ہیں جب چاہیں میرا حق کسی اور کو دے سکتے ہیں ۔
آخر آپ ارتضی حیدر ہیں
میری مرضی میری خوشی میری خواہش سے آپ کو کل بھی کب مطلب تھا جو آج ہوگا ۔
آپ کو صرف حق جتانا آتا ہے حق دینا تو آپ نے سیکھا ہی نہیں ۔ ارتضی کے کہنے کی دیر تھی کہ شانی پھٹ پڑی۔
شانی میں تم سے پہلے بھی معافی مانگ چکا ہوں میں ایسا کیا کروں کہ تمہیں مجھ پر یقین آجائے کیوں میری محبت سے اس حد تک بدگمان ہوگئی ہو تم کے مجھے ایک موقع تک نہیں دینا چاہتی ۔
وہ ہارے ہوئے لہجے میں بولا ۔
کاش آپ میرا حق کسی کو خیرات میں نہ دینے ارتضٰی تو شاید میں اب تک آپ کو معاف کر چکی ہوتی ۔
شانی اپنی بات مکمل کرکے کمرے سے باہر نکل گئی ۔ اور آج ایک بار پھر سے ارتضی شانی کو اس بات کا یقین دلانے میں ناکامیاب رہا کہ اس کا حق اس نے کسی کو نہیں دیا
°°°°°°
بابا آپ کو کیا ہو گیا ہے آپ جانتے ہیں کہ میں یہاں نہیں رہنا چاہتی میں اس شخص کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی آپ بھی اس کا ساتھ دیئے گئے ہیں شانی نے روتے ہوئے کہا ۔
دیکھو بیٹا وہ تمہارا شوہر ہے تم سے اپنے کیے کی معافی مانگ رہا ہے اس کی محبت تم سے چھپی ہوئی
نہیں ہے وہ جتنا پیار تم سے کرتا ہے اتنا اپنے باپ سے بھی نہیں کرتا
احسن نے مجھے بتایا ہے کہ اس نے یہ چار سال کس اذیت میں گزارے ہیں
وہ دن رات تم سے معافی مانگنے کے لیے تمہارا انتظار کرتا رہا اگر وہ چاہتا تو یہاں بھی آسکتا تھا اور تم اس کی بیوی تھی وہ چاہتا تو تمہیں زبردستی اپنے ساتھ لے جا سکتا تھا لیکن اس نے تمہیں وقت دیا
تمہیں سمجھنے کا سنبھلنے کا موقع دیا اب تمہیں اسے سمجھنا چاہیے تمہیں اسے ایک موقع دینا چاہیے بابا نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
مطلب میں یہ سمجھ لوں بابا کے اس فیصلے میں آپ بھی میرے ساتھ نہیں ہیں
تو کیا میں یہ سمجھ لوں کہ میرا ہی باپ میرے ساتھ ہوئی نا انصافی میں میرا ساتھ نہیں دے گا
آپ دونوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا بابا تنزیل نے بھی یہی کہا کہ مجھے یہاں رہ کر ارتضی کو سمجھنا چاہیے
وہ جو کل مجھ سے محبت کے دعوے کرتا تھا مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا ۔ آج وہ مجھ سے یہ کہتا ہے کہ اپنے گھر بساؤ ۔
اسے تنزیل پر افسوس ہو رہا تھا
ہاں کیوں کہ وہ سمجھدار ہے وہ سمجھ سکتا ہے وہ تمہاری آنکھوں میں ارتضی کے لیے محبت دیکھ سکتا ہے تم چاہے اسے کتنی بھی سزا دے دو لیکن تمہاری محبت اس کے لیے کبھی کم نہیں ہوگی شانی ۔
تم اس سے محبت کرتی ہو تم خود بھی اس کے بغیر خوش نہیں رہ سکتی اس بات کو سمجھو ۔
اگر ارتضی نے چار سال اذیت میں گزارے ہیں تو تم نے کونسا خوش رہ کر گزار لئے ۔
اپنے آپ کو اور اس کو سزا دینے سے بہتر ہے کہ ایک خوشحال زندگی کی شروعات کرو ۔ کیا تم اس کی ایک غلطی کو معاف کر کے اپنی زندگی آسان نہیں کر سکتی شانی یہ صرف تمہاری زندگی نہیں ہے
تمہارے ساتھ اور نہ جانے کتنی زندگیاں جڑی ہیں
تم نے کبھی اپنی نانو کو دیکھا ہے وہ تم دونوں کو دیکھ کر جیتی ہیں ۔
احسن کا کون ہے تم دونوں کے علاوہ ۔ پلیز میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو شانی ارتضی کو
معاف کردو وہ تم سے بے انتہا محبت کرتا ہے
بابا نے اسے سمجھایا شانی آگے سے کچھ نہیں بولی بابا کو لگا شاید ہو ان کی بات سمجھ جائے
°°°°°°
شانی بیٹا ارتضی نے تمہیں شادی کے بارے میں بتایا احسن کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو تمہیں اور
ارتضی کو ہی یہ شادی اٹینڈ کر نے جانا ہوگا نانو نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا
جی نانو انہوں نے مجھے بتایا تھا
ٹھیک ہے پھر تم تیاری کر لینا شام کو ارتضی کے ساتھ چلی جانا ۔
وہ ارتضی کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی لیکن وہ نانو اور بابا کے سامنے انکار بھی نہیں کر سکتی تھی
رخسانہ بیگم کو اس گھر میں صرف اس لئے رکھا گیا تھا کیونکہ انہیں لگ رہا تھا کہ ایسا کرنے سے
ارتضی اور شانی میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔
بابا نے صرف اس کے کہنے پر رخسانہ کو دوبارہ اس گھر میں جگہ دی تھی ورنہ وہ اسے طلاق دینے کا کے ارادہ کر چکے تھے
اس کا گھر بسے یا نہ بسے لیکن اس کی وجہ سے کسی کا گھرتو برباد ہونے سے بچ رہا تھا ۔
°°°°°
کیا ہوا شانی تم یہاں کیوں بیٹھی ہو رخسانہ بیگم اس کے قریب آکر پوچھنے لگیں
.
ان کی حالت کل سے بہتر تھی آج ان کے بدن پر نیا لباس تھا بہت زیادہ نہ سہی لیکن آج وہ کافی
خوبصورت لگ رہی تھیں
میں کنزہ کے بارے میں سوچ رہی ہوں مامی وہ کہاں ہے شانی خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ یہ
سوال کیوں پوچھ رہی ہے وہ اس غدار دوست کو کبھی زندگی میں دوبارہ دیکھنا تک نہیں چاہتی تھی ۔
اس نے نہ صرف اس کا گھر برباد کیا بلکہ اس کی جگہ پر بھی قبضہ کرلیا ۔
کنزہ کی شادی ہو چکی ہے ماشاء اللہ سے وہ دو بچوں کی ماں ہے ۔ رخسانہ نے مسکراتے ہوئے بنایا لیکن پھر ان کے چہرے پر اداسی چھا گئی
ضروری نہیں جیسا ہم سوچیں انسان کی زندگی ویسی ہی ہو وہ دنیا کے سامنے ایک خوبصورت اور پرسکون زندگی گزار رہی ہے
لیکن اس غریبی کے ماحول میں ایک آسان زندگی گزارنا اس کے لیے بہت مشکل ہے ۔
وہاب بہت اچھا انسان ہے لیکن اس کی ماں اور بہنیں دن رات کنزہ کو طعنے دیتی ہیں
کہ کس طرح سے اس نے ایک شادی شدہ آدمی کو پھنسا کر اس سے شادی کرلی اور پھر شادی کے
دوسرے دن ہی ان کی طلاق ہوگئی
رخسانہ بیگم نے اداسی سے بتایا
وہ تم سے ملنا چاہتی ہے تم سے مل کر ایک بار معافی مانگنا چاہتی ہے
آج تم شادی پہ جارہی ہو شاید وہی تمہاری ملاقات اس سے ہو جائے رخسانہ بیگم نے اس کے قریب
سے اٹھتے ہوئے کہا
°°°°°°
وہ شام کو گھر واپس آیا تو شانی شادی پر جانے کے لیے بالکل تیار کھڑی تھی اسے دیکھ کر ارتضی نے اپنا ارادہ بدلنا چاہا
یا تو وہ بہت دل سے تیار ہوئی تھی یا اسے اپنے آپ کو سجانا آگیا تھا
وہ آہستہ آہستہ چلتا اس کے قریب آیا وہ آئینے میں اپنی تیاری کو آخری ٹچ دے رہی تھی ۔ اسے اپنے پیچھے کھڑے دیکھ کر پلٹی ۔
بہت پیاری لگ رہی ہو ۔ ارتضی نے اس کے چہرے کو چھونا چاہا جب شانی نے اپنا چہرہ پیچھے ہٹایا ۔
اور اسے اگنور کرتی باہر جانے لگی ارتضی نے اچانک اس کا ہاتھ تھام لیا
میں جانتا ہوں شانی میری غلطی بہت بڑی ہے تم اتنی آسانی سے معاف نہیں کر سکتی میں تم سے
معافی نہیں موقع مانگتا ہوں
مجھے بس ایک موقع تو دو مجھے بس ایک بار یقین دلا دو کہ تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ گی۔ میں جانتا ہوں میں نے بہت بڑی غلطی کی ہے
اور اس غلطی کی سزا تم نے چار سال مجھے خود سے دور رکھ کر دی ہے ۔
میں بس تم سے ایک موقع مانگتا ہوں مجھے ایک موقع دو میں سب کچھ ٹھیک کردوں گا بالکل پہلے جیسا وہ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے بولا
نہیں ہوسکتا سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہنا چاہتی میں آپ کے ساتھ یہ میری مجبوری ہے کہ میں آپ کے کمرے میں آئی ہوں ۔
آپ مجھے جتنا بے بس کر سکتے تھے کر چکے ہیں ۔مجھے لگا تھا آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں لیکن محبت میں یقین ہوتا ہے جو شخص اپنی محبت پر یقین نہ کرسکے اسے محبت کا دعوی کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ۔
شانی نے اپنا ہاتھ چھڑوایا
میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں شانی ۔ وہ بے بسی سے بولا
آپ مجھے خوش دیکھنا چاہتے ہیں تو مجھے طلاق دے دیں میں آپ کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ سکتی
میں ایک ایسے شخص کے ساتھ زندگی نہیں کاٹ سکتی ۔ جو میرا حق کسی اور کو دے چکا ہے ۔ شانی کہہ کر باہر نکل گئی ۔
°°°°°°
گاڑی میں بالکل خاموشی تھی وہ دونوں ایک دوسرے سے بات نہیں کر رہے تھے ۔
شانی ہر روز ہی ارتضی کو اپنی باتوں سے ہرٹ کر نے لگی تھی
ارتضی اس سے اس لیے بات نہیں کر رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا وہ مزید اس کا دل دکھائے گی ۔
اس کی معافیاں بھی شانی کے دل پر کوئی اثر نہ کر رہی تھی ۔
وہ اس سے نرمی سختی ہر طریقے سے سمجھا چکا تھا مگر شاید وہ اس کی ضد کے سامنے ہارنے لگا تھا ۔
شادی میں آنے کے بعد وہ نہ جانے کہاں چلا گیا جبکہ شانی اب خاندان کی کچھ لڑکیوں سے مل رہی تھی ۔
جب ایک چھوٹا سا بچہ اس کے قریب گر نے ہی والا تھا کہ شانی نے اسے تھام لیا ۔
اس پیارے سے بچے نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا شانی بے ساختہ مسکرائی تھی جب ایک لڑکی اس کے قریب آکر کھڑی ہوئی ۔
جسے دیکھ کر شانی کی ساری مسکراہٹ غائب ہوگئی ۔وہی تو تھی جس نے دوستی کی آر میں اس کا گھر برباد کردیا اس کی واحد اور اکلوتی غدار دوست جو دشمن کے عہدے پر فائز ہونے کے بھی لائق نہ تھی دشمنی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں
لیکن جو کنزہ نے اس کے ساتھ کیا وہ دشمنی سے بھی ہٹ کے تھا ۔
اسے دیکھتے ہی وہ منہ پھیر کر جانے لگی
مجھے معافی مانگنے کا موقع نہیں دو گی شانی میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا تب بھی تو میرے ساتھ اس طرح سے ہوا ہے ۔
مجھے پتہ ہے میں کیسی زندگی گزار رہی ہوں میں ناشکری نہیں کر سکتی لیکن پھر بھی ارتضی کی ذات کا طعنہ میری زندگی برباد کرنے لگا ہے ۔
تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتی کہ میرے ساتھ کیا کیا ہو رہا ہے ۔ میری ساس اور میرے نندیں مجھے دن رات تمہارے ۔۔ہاں صرف تمہارے ارتضی کے طعنے دیتی ہیں
وہ شخص کبھی بھی میرا ہو ہی نہیں سکا ۔ جس کے لیے میں نے اتنا کچھ کیا جس کے لیے میں نے
تمہیں برباد کر دیا اس شخص نے ایک ہی پل میں مجھ سے اپنا نام چھین لیا ۔
اس نے کبھی نظر اٹھا کر بھی میری طرف نہیں دیکھا میں اسے تم سے چھین کر بھی حاصل نہیں کر اس شخص نے ایک ہی پل میں مجھے در بدر کر دیا ۔
ارے اس نے تو مجھے پہلی رات ہی بتا دیا تھا کہ میں تمہاری جگہ نہیں لے سکتی وہ میرے ساتھ زندگی کی شروعات ہی نہیں کر سکا ۔
محض تمہیں اذیت دینے کے لیے سب کے سامنے تو یہ کہنے لگا کہ میں اس کی بیوی ہوں ۔ لیکن اس
نے کبھی مجھے دل سے قبول نہیں کیا ۔
کل مجھے پھو پھو نے بتایا کہ تمہارے اور اس کے رشتے میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ میں شاید آج
یہاں نہیں آتی ۔ اور اگر یہاں نہیں آتی تو ساری زندگی پچھتاتی کیونکہ میں تو اپنی زندگی جی رہی ہوں ۔ اور ایسی ہی جیتی رہوں گی ۔
لیکن تمہیں ساری حقیقت ضرور بتاؤں گی ۔ شاید ایسا کرنے سے ہی میرا گناہ تھوڑا کم ہو جائے
وہ کبھی مجھ سے شادی کر نے پر راضی نہیں ہوتا شانی میں نے اسے شادی پر مجبور کر دیا اس پر جھوٹا الزام لگایا کہ اس نے میرے ساتھ نشے کی حالت میں زبردستی کی ہے ۔ شانی جواب وہاں سے جانے والی تھی بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی ۔
شانی وہ شخص کبھی مجھ سے شادی نہیں کرتا ہاں میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا کہ اس نے
میرے ساتھ زبردستی کی ہے جس کے بعد وہ مجھ سے نکاح کر نے پر مجبور ہوگیا ۔
لیکن اس نے کبھی مجھے بیوی ہونے کا حق نہیں دیا ۔
اور پھر ایک دن مجھے اپنی زندگی سے باہر نکال پھینکا بے شک میں وہاب کی ساتھ اچھی زندگی گزار رہی ہوں وہ بہت اچھا انسان ہے لیکن وہ اپنی بہنوں اور اپنی ماں کا مقابلہ نہیں کرسکتا میرے لیے ۔وہ مسلسل روتے ہوئے اس سے معافی مانگ رہی تھی
مجھے معاف کر دو شافی شاید تمہاری معافی سے
میری زندگی آسان ہو جائے ۔
کنزه ۔۔۔۔شانی نے اس کے جوڑے ہوئے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھا ۔
کنزہ نے مسکرا کر اسے دیکھااور اس کے گلے سے لگ گئی
°′°°°°°
کنزہ نجانے کب وہاں سے جا چکی تھی جبکہ شانی کے ذہن میں ایک ہی بات چل رہی تھی ۔
کہ اس شخص نے شانی کا حق کسی کو نہیں دیا شادی کی وجہ ایک جھوٹا الزام تھا وہ کل بھی شانی کا تھا اور آج بھی شانی کا ہے
گاڑی میں بالکل خاموشی تھی وہ واپس گھر جا رہے تھے
جب ارتضی نے کچھ نکال کر اس کی طرف بڑھایا
شانی نے بے یقینی سے دیکھا کیونکہ اس کے ہاتھ میں ترکی کا ٹکٹ تھا جو کہ آج ہی رات کا تھا
یہ کیا ہے شانی بے یقینی سے اس کی طرف دیکھ کر پوچھنے لگی
میں مزید یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکتا شانی مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ میں تمہاری نفرت برداشت کروں
میں تمہارے سامنے جتنا جھک سکتا تھا جھک چکا ہوں اگر اب مزید جھکا تو میری محبت کی توہین ہوگی
جانتا ہوں میں نے بہت بڑی غلطی کی ہے اور میرے نصیب میں معافی نہیں ہے اگر میرے نصیب
میں تمہاری معافی نہیں لکھی تو ٹھیک ہے
میں تمہیں اس رشتے سے آزاد کر دوں گا
اس کے بعد تم جس کے ساتھ شادی کرنا چاہو کر سکتی ہو اب میں مزید تمہارے را ستے میں نہیں آؤں
شانی بے یقینی سے اسے سن رہی تھی ۔
شانی میں اپنی محبت کے سامنے ہار چکا ہوں ۔
میں تمہیں آخری موقع دے رہا ہوں آزادی کا میں ابھی تمہیں ایئر پورٹ چھوڑنے جا رہا ہوں
تمہارا سامان میں ڈرائیور کے ہاتھوں منگوا چکا ہوں ۔
تمہیں پتا ہے تمہارے یہاں آنے کے بعد ایک دن تمہارے دوست تنزیل نے مجھے فون کیا ۔
میں نے اس سے معافی مانگی ۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں تمہارے ساتھ اس کا بھی گناہگار ہوں
لیکن تم جانتی ہو اس نے کیا کہا اس نے کہا کہ تم مجھ سے بہت پیار کرتی ہو
اور ان چار سالوں میں میرے بغیر تم نے اذیت بھری زندگی گزاری ہے ۔
جانتی ہو تمہارے دوست نے میری منتیں کیں کہ میں تمہیں یہاں روک لوں تمہیں منا لوں تمہیں
خوشیاں دوں سب کچھ ٹھیک کر دوں لیکن شانی میں تمہارے دوست سے کیا ہوا وعدہ نہیں نبھا سکا ۔
ارے میں تم سے معافی مانگنے میں بھی کامیاب نہ ہوسکا تم سے محبت کیا مانگوں گا ارتضی نے اپنی آنکھوں سے نمی چھپائی ۔
اور گاڑی ایئرپورٹ کے راستے پر ڈال دی ۔
شانی بے یقینی سے ان سڑکوں کو دیکھ رہی تھی ۔
تو کیا یہ شخص اتنی آسانی سے اسے چھوڑنے والا تھا اس کے بچپن کی محبت اس کی ضد اس کی انا کہاں گئی تھی کیا شانی کی نفرت کے سامنے وہ اپنی محبت ہار گیا ۔
کیا وہ اس کے سامنے ہار چکا تھا
گاڑی کب ایئرپورٹ کے باہر آ کے کی شانی کو پتہ بھی نہ چلا جب ارتضی نے اسکی طرف کا دروازہ
کھولا
جاؤ شانی میں تمہیں اپنی محبت سے آزاد کر دوں گا تمہارے ترکی پہنچنے سے پہلے ہی میں تمہارا آزاد نامہ وہاں تک پہنچا دوں گا ۔
بس آج کی رات مجھے میری محبت کا سوگ منانے دینا ۔
وہ ڈرائیور کے ہاتھوں سامان لے کر اس کے ہاتھ میں تھامتا واپس گاڑی میں بیٹھا اور زن سے گاڑی
اسٹارٹ کر کے آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔
شانی نہ جانے کتنی ہی دیر اس سڑک کو دیکھتی رہی جہاں سے ابھی ارتضی کی گاڑی گئی تھی ۔
تو اس شخص نے ایک بار پھر سے اسے چھوڑ دیا ۔
میم چلیں فلائٹ کا ٹائم ہو رہا ہے پاس کھڑے ملازم نے کہا
°°°°°°
” اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو سمبھالوں کیسے”
“تجھ کو دنیا کی نگاہوں سے میں چھپالوں کیسے”
“اپنے ہاتھوں سے دیا دل کا بجھالوں کیسے”
“اپنے ہاتھوں سے دیا دل کا بجھالوں کیسے”
“میری تنہائی میری جاں پہ بنی ہے سائیاں”
آج پھر وہی تنہائی بند اندھیرے کمرے میں اسے ڈس رہی تھی آج پھر اسے اندھیرے سے وحشت
نہیں ہورہی تھی ۔
بے یقینی وہ اس ردو دیوار کو دیکھ رہا تھا ۔
ابھی کچھ دیر پہلے اس ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے اس کی شانی تیار ہو رہی تھی ۔
وہ جو کہتا تھا کہ ایک باروہ آ جائے تو وہ اسے واپس نہیں جانے دے گا وہ خود اسے ایئرپورٹ چھوڑ کے آیا تھا کیونکہ وہ اسے مزید اذیت نہیں دے سکتا تھا
وہ اس سے محبت کرتا تھا اسے زبردستی اپنے پاس نہیں رکھ سکتا تھا وہ اسے خوش دیکھنا چاہتا تھا اور شانی نے اپنی خوشی کی قیمت اس سے جدائی بتائی تھی ۔
وہ کب تک اسے زبردستی اپنے ساتھ رکھتا کب تک یہ رشتہ نبھانے پر مجبور کرتا ۔
شاید اس کی غلطی قابل معافی نہیں تھی ۔
وہ نجانے کتنے ہی سگریٹ پھونک چکا تھا ۔ جب اچانک کمرے میں آکر کسی نے لائٹ آن کر دی
تمہاری ہمت کیسے ہوئی وہ غصے سے مڑا لیکن سامنے کوئی ملازم نہیں کھڑا تھا سامنے اس کی دشمن جان اس کی شانی اپنی آنکھوں میں غصہ لیے اسکی طرف بڑھ رہی تھی ۔
میری ہمت کیسے ہوئی آپ کی ہمت کیسے ہوئی ارتضی ۔ کیا میں کوئی کتپتلی ہوں جس سے آپ چاہے اپنا لیں گے اور جب چاہے چھوڑ دیں گے ۔
آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے وہاں ایئر پورٹ پر اکیلا چھوڑ کے آنے کی
میں نے آپ کو کہہ دیا کہ مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا تو اس طرح سے چھوڑ دیں گے مجھے
کیا لگا آپ کو مجھے اس طرح سے اپنی زندگی سے نکال دیں گے تو میں چلی جاؤں گی
سوچیے گا مت کہیں نہیں جاؤں گی میں سنا آپ نے کہیں نہیں جاؤں گی یہیں رہوں گی یہ میرا کمرہ ہے اس پر میرا حق ہے یہ میرا گھر ہے مجھے کوئی یہاں سے نہیں نکال سکتا
اور آپ ہاں آپ مسٹر ارتضی حیدر آپ بھی میرے ہیں آپ نے سوچا کہ اسے میں آپ کو اتنی آسانی
سے چھوڑ دوں گی اتنی جلدی ہمت ہار گئے یہ تھی آپ کی محبت ۔
ابھی تو میں نے ٹھیک سے تڑپایا تک نہیں تھا کہ آپ مجھے وہاں چھوڑ کے آ گئے اتنے تنگ آگئے ہیں
مجھ سے اتنی آسانی سے تو میں آپ کو چھوڑ کے جاؤں گی نہیں ۔
ساری زندگی معافی مانگیں گے آپ مجھ سے جب میرا دل چاہے گا تب غصہ کروں گی آپ کو تنگ
کروں گی آپ پہ اپنا حق جتاوں گی ۔
اور معاف بھی نہیں کروں گی ۔
آپ ہوتے کون سے مجھے اپنی زندگی سے نکالےے والے ۔ کیوں چھوڑ کے آئے مجھے اینٹرپورٹ پر وہ مسلسلاس کے سینے پر مکے مارتے بول رہی تھی ۔
جبکہ ارتضی کو ایک منٹ ہی لگا اس بات کا یقین کرنے میں کے اس کی شانی اس کے پاس لوٹ آئی ہے ۔
اور اگلے ہی لمحے وہ اسے بازو سے کھینچ کر اپنے سینے میں بھیج چکاتھا۔
آئی لو یو شانی آئی لو یو سوچ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا تمہیں پتہ ہے اگر آج تم نہیں آتی تو میں مر جاتا ۔
شانی نے تڑپ کر اس کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھا ۔
آپ ایسی باتیں کرتے ہیں اسی لئے تو مجھے اچھے نہیں لگتے ۔ اب اگر آپ نے دوبارہ ایسی بات کی تو میں واپس چلی جاؤنگی شانی نے دو قدم کا فاصلہ بنا کر کہا
جب ارتضی نے فاصلہ ختم کر ایک بار پھر سے اپنے سینے سے لگا لیا
نہیں کہیں نہیں جانے دوں گامیں اب کبھی نہیں ہمیشہ میرے ساتھ رہو گی
اب ہم کبھی الگ نہیں ہوں گے شانی تم نے مجھے معاف کر دیا میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا
میں نے آپ کو معاف نہیں کیا ارتضی آپ نے مجھے معاف کرنے پر مجبور کر دیا میں آپ کی محبت
کے سامنے ہار گئی میری نفرت آپ کی محبت کے سامنے کچھ بھی نہیں ۔
مجھے معاف کردیں میں نے نہ جانے آپ کا دل کتنی بار دکھایا ۔
آپ کی معافی کو قبول نہیں کیا ۔
وہ روتے روتے ایک بار پھر سے اس کے سینے سے آلگی ۔
ارتضیٰ نے اپنی متاع جان کو اپنے باہوں میں بھر لیا
اور آج شانی نے اپنے ارتضی کو تنہائیوں کے ان اندھیروں سے بچالیا ۔
اور اب ایک خوشحال زندگی ان کی منتظرتھی ۔
°°°°°°
ختم🐥