Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan By Areej shah Readelle50295

Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan By Areej shah Readelle50295 Last updated: 7 October 2025

62.1K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan

By Areej shah

تنزیل تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہاں کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے یہاں سب کچھ ٹھیک ہے میں جس مقصد کے لیے یہاں آئی ہوں پورا کر کے ہی واپس آؤں گی دیکھو میں بس اتنا کہ رہا ہوں کہ تم اس ارتضی سے دور رہنا ۔ پہلے جو بھی تھا مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا لیکن اب تم میری منگیتر ہو یہ بات یاد رکھنا وہ تنزیل سے بات کر رہی تھی جب کہ اس کی نظر شیشے کے اس پار کھڑے ارتضی پر تھی جو اسے دیکھتا یہاں سے وہاں چکر کاٹ کر اس کی کال ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا ۔ لیکن اس کی کال ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی بابا یہ کس سے باتیں کر رہی ہے اتنی دیر سے ۔ اور آپ لوگ مجھے جانے کیوں نہیں دے رہے ابھی اس کی کال بند کرواتا ہوں ۔ بابا اور دادو اسے باہر نہیں جانے دے رہے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ وہ کسی سے بھی بات کر رہی ہے اس کی کال ختم ہونے کا انتظار کرو ۔ ہوسکتا ہے وہ اپنی کسی سہیلی یا باپ سے بات کر رہی ہو۔ اگر تم اس طرح سے کرو گے تو یہ نہ ہو کہ وہ ناراض ہو کر واپس چلی جائے ۔ اور میٹنگ پر نہیں جا رہے تم ۔ میں نے تمہیں بتایا ہے ارتضی یہ میٹنگ ہمارے لیے بہت ضروری ہے ۔ لیکن اگر تم نہیں جا سکتے تو میں چلا جاتا ہوں بابا نے اسے آفردی ارے نہیں نہیں بابا میں تو اس کی کال ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا اچھا ٹھیک ہے میں جاتا ہوں جلدی آجاؤں گا ۔ پھر اپنی شانی سے بہت ساری باتیں کروں گا اور ایک ہفتے تک آفس کا منہ تک نہیں دیکھوں گا ۔ اس نے بات کرتے کرتے اینڈ پر اپنے ارادہ بتایا جس پر بابا مسکرادیۓ ہاں بیٹا اب ہم بھی انتظار نہیں کریں گے بس اب تو شانی کو رخصت کر کے ہمیشہ کے لیے تمہارے پاس لے آئیں گے اب اپنے بچے کو میں مزید اداس نہیں دیکھ سکتی دادو نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو چھپایا وہ نہ چاہتے ہوئے بھی میٹنگ کے لیے چلا گیا °°°°° جیسے ہی شانی کو لگا کے ارتضی جاچکا ہے اس نے جلدی سے کال ختم کی اور نانو اور ماموں کے پاس آ گئی کیونکہ طلاق کی بات ارتضی سے کرنا اس کے بس میں نہیں تھا اس کی باہوں کی گرفت وہ اب تک اپنے شانوں پر محسوس کر رہی تھی کتنی شدت سے اس نے اسے خود میں بھیجا تھا فون بند کرنے کے بعد وہ نانو کے پاس آکر بیٹھی نانو کبھی نواسی کومحبت سے دیکھتیں تو کبھی اس کا چہرہ چومتیں ۔ اور پھر کوئی پرانی بات چھیڑ دیتی ہے تقریبا دو گھنٹے تک ان کے پاس بیٹھی رہی اس نے بچپن سے ہر دن اپنی نانو کے ساتھ گزارا تھا لیکن اب وقت ایسا گیا تھا کہ وہ چار سال سے اپنی نانو اور ماموں سے دور تھی نانو مامی کہاں ہیں۔؟ بہت دیر نظر دوڑانے کے بعد بھی اسے کہیں رخسانہ بیگم نظر نہ آئیں تو پوچھنے لگی تیرے جانے کے کچھ دن بعد ہی اسے اور اس کی بھتیجی کو تیرے ماموں نے گھر سے نکال دیا ۔ خیر تو چھوڑ ان سب باتوں کو تھوڑی دیر آرام کر لے پھر ارتضی آجائے گا تو تجھے آرام کرنے کا بھی موقع نہیں لے گا نانو نے مسکراتے ہوئے ارتضی کی بیتابیاں بتائیں تو روشنی چاہ کر بھی یہاں آنے کی اپنی حقیقت نہ بنا پائی لیکن اسے کچھ بھی چھپانا نہیں تھا اسے یہ بات بتائی تھی کہ وہ یہاں کس مقصد کے لیے آئی ہے جی نانو میں تھوڑی دیر آرام کر لیتی ہوں پھر مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے ہاں کیوں نہیں میری جان مگر یہ تو بتا کے رات کو کیا کھائے گی تُو میں اپنی لاڈلی کے لیے اپنے ہاتھ سے بناؤں گی اس کی پسند کی چیز اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا آپ کے ہاتھ میں جادو ہے نانو آپ جو بھی بنائیں گی آپ کی شانی کھالے گی ۔ ان کا گال چوم کر وہ اپنے کمرے میں آگئی یہ کمرہ جس میں اس کی کہیں سالوں کی یادیں جڑی تھی جہاں وہ بچپن سے رہ رہی تھی