Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan By Areej shah Readelle50295 (Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Epi 3
No Download Link
Rate this Novel
(Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Epi 3
ارتضی جتنا جلدی ہو سکے آفس سے واپس آیا اس کا مقصد شانی کے ساتھ وقت گزارنا تھا وہ چاہتا تھاکہ وہ سارا وقت اپنی شانی کے ساتھ گزارے
لیکن وہ گھر واپس آیا تو شانی کہیں نہ تھی ایک بار پھر ارتضی پریشان ہوگیا کہیں شانی اسے چھوڑ کر واپستو نہیں چلی گئی
بہت ساری سوچوں کے ساتھ وہ کچن میں آیا
دادو شانی کہاں ہے ؟میں ہر جگہ ڈھونڈ چکا ہوں کہاں گئی ہے وہ واپس تو نہیں چلی گئی اس کے لہجے میں پریشانی دادو صاف محسوس کر رہی تھیں
وہ اپنے کمرے میں ہے ارتضی پریشان کیوں ہو رہے ہو؟
میں نے اسے آرام کرنے کو بھیجا تھا یہیں ہے وہ کہیں نہیں گئی دادو نے اس کی پریشانی دیکھ کر
جلدی سے بتایا
اچھا اپنے کمرے میں ہے ۔ ۔ ۔ ارتضی پرسکون ہوا
اچھا میں اس کے پاس جا رہا ہوں ۔ ارتضی پرسکون سا مسکرا کر اس کے کمرے میں جانے لگا
ارے بیٹا رک جاؤ وہ آرام کر رہی ہے بیچاری سفر سے آئی ہے تھکی ہوئی ہے۔دادی نے سمجھاتے ہوئے کہا
اچھا دادو میں اسے بالکل تنگ نہیں کروں گا اگر وہ سورہی ہوئی تو صرف پاس بیٹھ کے دیکھوں گا
آپ فکر نہ کریں میں اسے بالکل تنگ نہیں کروں گا
ارتضی کو سمجھانا بہت مشکل کام تھا اس لئے دادو بھی چپ ہو کر کھانا بنانے لگیں
جبکہ وہ سیدھا شانی کے کمرے میں چلایا
°°°°°°°
وہ ہمیشہ سے ہی اس کے کمرے میں آتا جاتا تھا اس کے کمرے میں آنے کے لئے اسے کسی کی
اجازت کی ضرورت نہ تھی لیکن اگر کوئی شانی سے ملنا چاہے تو اس کے لیے پہلے ارتضی کی اجازت لینا بہت ضروری تھا
ارتضی اس کے کمرے میں آیا تو وہ وہاں نہیں تھی واش روم میں پانی کے گرنے کی آواز سن کر وہ
پرسکون سا ہو کر اس کے بیڈ پر لیٹ گیا اور اس کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگا
تھوڑی دیر بعد وہ بالوں میں ٹاول لپیٹے بے دھیانی میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوگئی اس نے
یہ دیکھنے کی زحمت بھی نا کی کہ اس کے کمرے میں کوئی موجود ہے ۔
وہ کافی دیر اسے اسی طرح بال سکھاتے دیکھتا رہا ۔
پھر آہستہ سے اٹھ کر اس کے قریب آکر کھڑا ہو گیا اچانک اپنے پیچھے کسی کو دیکھ کر شانی چونکی تھی
ریلکس شانی یہ میں ہوں اتنا گھبرا کیوں رہی ہو ؟تمہیں پتا ہے نہ تمہارے کمرے میں میرے علاوہ کوئی نہیں آسکتا چہرے پر مغرور مسکراہٹ لیے وہ اس کے سامنے کھڑا تھا ۔
وہ آج بھی ویسا ہی تھا اس کی ذات کا غرور ۔ اس کی شخصیت آج بھی ویسی ہی تھی ۔
بدل تو وہ گئی تھی رسوا تو وہ ہوئی تھی اپنا گھر چھوڑ کر جانا اسے پڑا تھا وہ شخص تو آج بھی ویسا ہی تھا ۔
اس کی شخصیت میں ذرا برابر تبدیلی نہ آئی تھی ۔
اس کی مسکراہٹ دیکھ کر شانی کو غصہ آنے لگا اور زیادہ غصہ اسے اس کی صبح والی حرکت پر آیا تھا ۔
ارتضی میرا راستہ چھوڑیں مجھے جانا ہے یہاں سے ۔ شانی نےاسے نظر انداز کرنے کی ایک ناکام سی کوشش کی
نہیں چھوڑوں گا چار سال بعد دیکھ رہا ہوں تمہیں جی بھر کر دیکھنے تو دو۔ لفظ التجائی تھےلیکن لہجہ حق جتا رہا تھا ۔
میں نے کہا میرا راستہ چھوڑیں نانو باہر انتظار کر رہی ہیں ۔
اور میں جو چار سال سے انتظار کر رہا ہوں اس کا کیا ۔۔۔۔ ؟ ارتضیٰ نے کہتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا
ارتضی پلیز میرا ہاتھ چھوڑیں اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوایا ۔
اور بنا اس کی طرف دیکھے کمرے سے باہر نکل گئی ۔
ارتضی بے یقینی سے اسےجاتا دیکھتا رہا ۔ آج تک ایسا نہیں ہوا تھا کہ اس کی شانی اس کا ہاتھ جھٹک دے
لیکن وہ جانتا تھا کہ وہ ناراض ہے اس نے کوئی چھوٹی سی غلطی تو نہ کی تھی اس نے اپنی شانی کی جگہ کسی اور کو دی تھی ۔
اس نے اپنی محبت کی توہین کی تھی ۔ سزا کا حقدار تو تھا وہ ۔ تو پھر اس سے اچھے کی امید کیوں لگائےہوئے تھا ۔
وہ حق پر تھی ناراض ہونا اس کا حق تھا ۔
اور اسے منانا اس کا فرض ۔ اور ارتضی کو اب اپنا فرض نبھانا تھا
کھانے کی ٹیبل پر بھی ارتضی اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا رہا جب کہ وہ نانو اور ماموں کے ہر سوال کا جواب دیتی لیکن اس سے کوئی بات نہیں کررہی تھی
اپنے آپ کو اس طرح سے اگنور کیے جانے پر ارتضی کو بہت غصہ آیا لیکن وہ اسے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا
کیونکہ آج وہ اسے اگنور کر رہی تھی تو اس کی وجہ بھی تو وہ خود ہی تھا
کھانا کھاتے ہوئے ارتضی کا دھیان اس کے ہاتھ پہ گیا جہاں اس نے کبھی اسے بریسلیٹ پہنایا تھا
لیکن آج وہ وہاں نہیں تھا
ارتضیٰ نے جب سے اسے وہ والا بریسلیٹ پہنایا تھا اس نے اتارنے کی غلطی نہ کی کیوں کہ ایک بارہاتھ دھونے کے بعد اسے واشروم میں چھوڑ دیا تھا
جس کے بعد ارتضی نے اسے اتنا ڈائنا کہ پھر اس کی ہمت ہی نہ ہوئی وہ اسے اپنے آپ سے الگ کرنے کی ۔
لیکن شاید اب اسے نہ ارتضی کا ڈر تھا اور نہ ہی اس محبت کی نشانی کی ضرورت ،کھانا کھانے کے بعد وہ ایک بار پھر سے اپنے کمرے میں چلی گئی ۔
°°°°°°°
ارتضی اس کے کمرے میں آیا تو فون پر مصروف تھی ۔
کیا تم یہ فون پر بعد میں بات نہیں کر سکتی مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے
سوری میں ضروری بات کر رہی ہوں آپ بعد میں آجائیے گاشانی نے جواب دیا اور ایک بار پھر سے فون پر مصروف ہو گئی
میں انتظار کر لیتا ہوں وہ کہہ کراس کے بیڈ پر بیٹھ گیا
جبکہ شانی ا ٹھ کر بالکنی میں آئی اور پھر بالکنی کا شیشے کا دروازہ بند کردیا
اب وہ اسے دیکھ تو سکتا تھا لیکن سن نہیں پا رہا تھا
وہ کافی دیر اس کا انتظار کرتا رہا لیکن اس کی کال تھی جو ختم ہونے میں نہیں آرہی تھی یا اسے یہاں دیکھ کر اس نے وہ کال لمبی کرلی
اس کا دل چاہا کہ ایک ہی بار میں اس کا دماغ ٹکانے لگا دے ۔ لیکن یہ وقت ٹھیک نہیں تھا صبح
اسے بہت ضروری میٹنگ پہ جانا تھا اس لیے وہ شانی سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن اس کی شانی اسے منہ نہیں لگا رہی تھی
تو وہ مجبور ہوکر اٹھ کر چلا گیا۔
اور اس کے جاتے ہی شانی جو کب سے فون کان سے لگائے ادھر سے ادھر گھوم رہی تھی فون بند کر کے اپنے کمرے میں واپس آ گئی وہ جانتی تھی وہ اسے آسانی سے بھیج نہیں سکے گی
°°°°°°
اپنے کمرے میں جانے کی بجائے وہ دادو کے کمرے میں آیا
ارے میرا بچہ ابھی تک جاگ رہا ہے اس وقت تک تو وہ اپنی آدھی نیند پوری کر چکا ہوتا ہے دادو نے اسےاپنے پاس بلایا
ارتضی ان کے پاس ان کی گود میں آکر لیٹ گیا
دا دو وہ مجھ سے بات نہیں کرتی میں اس کے کمرے میں گیا تھا اس سے بات کر نے تو وہ نجانے
کس پر فون پر لمبی لمبی باتیں کر رہی تھی اور مجھے دیکھنا تک گوارا نہیں کیا ارتضی نے بچوں کی طرح منہ بناتے ہوئے کہا
ناراض ہے نا تجھ سے اس لیے ایسا کر رہی ہے
تو منائے گا اسے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گی دادو نے سمجھاتے ہوئے کہا
دادو میں کل اس کا فون ہی توڑ دوں گا ارتضی نے مسئلہ کا حل نکالا جس پر دادو مسکرا دیں
فکر مت کر کل میں پوچھوں گی کہ کس سے باتیں کرتی رہتی ہے ایسے ہی میرے بیٹے کا دل جلاتی ہے
دادو نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
°°°°°°°°
صبح ہوتے ہی دادو اس کے کمرے میں آئیں ۔
ارے بیٹا تم تو جاگ رہی ہو مجھے لگا ابھی سو رہی ہو گی
نانو میں وہاں جاکر آپ کی تربیب نہیں بھولی اب بھی صبح سویرے اٹھتی ہوں ۔ تاکہ سارے
فرشتوں کو گڈ مارننگ کہہ سکوں ۔
اس نے مسکراتے ہوئے نانو کا گال چوما ۔
بچپن میں جب دادو اسے نماز کی عادت لگا رہی تھیں تو وہ کہتی تھی کہ صبح صبح جاگو تاکہ فرشتوں کو گڈ مارننگ کہہ سکو ۔
وہ فرشتے سارا دن تمہارے ساتھ رہ کر تمہاری حفاظت کریں گے ۔
اچھا بتاؤ نا شتے میں کیا کھاؤ گی نانو نے پیار سے پوچھا
میری پیاری نانو کے ہاتھ کے آلو کے پراٹھے اور کیا شانی نے چٹخارے لیئے ہوئے کیا ۔
ارے واہ کیا یاد دلادیا ابھی بناتی ہوں ارتضی کو بھی بہت پسند ہیں تمہارے جانے کے بعد تو اس نے
کوئی بھی فرمائش کرنا ہی چھوڑ دیا ۔ چلو آج تمہارے بہانے وہ بھی کھا لے گا ۔
مجھے تم سے ذرا سی بات کرنی تھی برا مت منانا یہ تم جس سے فون پر باتیں کرتی ہو وہ کون ہے
۔۔۔۔ ؟ وہ کبھی بھی کسی کی پرائیویسی میں انٹرفیر نہیں کرتی تھیں لیکن رات کو ارتضی کی بے چینی دیکھ کر وہ پوچھے بنا نہ رہ سکیں ۔
ارتضی اسے کبھی بھی کسی سے اتنا زیادہ فرینک نہیں ہونے دیتا تھا وہ اسے دوست بنانے پر بھی منع کر چکا تھا کہ وہ اس کا وقت کسی اور کو نہ دے سکے اور اب وہ ارتضی کے سامنے کسی سے اتنی لمبی گفتگو کرتی تھی تو اس کو بہت برا لگتا تھا
میرا منگیتر ہے نانو چھپانے کا کوئی فائدہ نہ تھا اس لیے اس نے نانو کو حقیقت بتائیں ۔
نانو میں یہاں آپ کے پوتے سے طلاق لینے آئی ہوں تاکہ میں اپنی زندگی میں آگے بھر سکوں ۔
جس طرح سے وہ بھر گیا تھا چار سال پہلے ۔شانی نے انہیں جھکا دیا تھا
نہیں شانی بیٹا وہ نہیں آگے بھرا وہیں کھڑا ہے جہاں تم اسے چھوڑ کر گئی تھی ۔
اور کوئی ضرورت نہیں ہے طلاق لینے کی بہت ہی ناپاک لفظ ہے یہ خبردار جو آئندہ نام لیا
۔ اور ارتضی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے کوئی تمہارا منگیتر تھا میں تمہارے باپ سے رخصتی کی
بات کرتی ہوں
دادو فیصلہ سنا کر باہر جانے لگیں ان کے چہرے پر گھبراہٹ واضح تھی ۔ وہ اپنے پوتے کو ایک بار
پھر سے اندھیرے کی نظر نہیں کر سکتی تھیں ابھی کل ہی تو اس نے جینا شروع کیا تھا ۔
اس نے دادو کو نہیں روکا روکنے کا کوئی فائدہ ہی نہ تھا اور نہ ہی کمرے سے نکلی
پھر تقریبا دن کے وقت اس نے ایک فیصلہ کیا اسے یقین تھا ارتضی اب تک جا چکا ہوگا ۔
اس نے اپنے بیگ سے طلاق کے کاغذات نکالے اور ماموں کے کمرے میں چلی آئی
°°°°°°°
ماموں مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے شانی نے ان کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا کر کہا
بیٹا آؤ نہ کیا بات کرنی ہے انہوں نے اسے اپنے پاس بٹھایا احسن صاحب کو کبھی بھی بیٹی کی کمی
محسوس نہ ہوئی کیونکہ اپنی بہن کے انتقال کے بعد ان کی آخری نشانی شانی ہمیشہ کے لئے ان کے
پاس آگئی
شانی کی پرورش انہوں نے خود کی تھی ۔ ارتضی اس سے عمر میں 10 سال بڑا تھا ۔
وہ صرف چار سال کی تھی جب اس کے باپ سے اسے اپنے بیٹے کے لئے ہمیشہ کے لئے مانگا تھا ۔
اس وقت اس رشتے پر کسی نے اعتراض نہ کیا ۔
ارتضی کو لندن ہائی اسٹڈی کے لیے بھیجا جا رہا تھا ۔ جب اس نے یہ شرط رکھ دی کہ جب تک اس کا نکاح شانی سے نہیں پڑھایا جا تا تب تک وہ لندن نہیں جائے گا ۔
اور اس طرح سے شانی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ارتضی کے نام لکھ دی گئی ۔
شانی نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے پیپر اپنے ماموں کے سامنے رکھے
طلاق کے کاغذات دیکھ کر احسن صاحب پریشان ہو گئے
ماموں میں اپنی زندگی کھل کر جینا چاہتی ہوں میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی ہوں مجھے یقین ہے
آپ اس فیصلے میں اپنی بیٹی کا ساتھ ضرور دیں گے ۔
بس اتنا کہہ کر پیپر ان کے سامنے رکھ کر وہ باہر چلی گئی۔اب آگے کا فیصلہ انہوں نے کرنا تھا
°°°°°°°
آج بھی ارتضی جلدی گھر واپس آیا تھا
گھر آکر دیکھا دادو شانی کو کوئی بات سمجھا رہی تھیں دادو کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اسے کچھ عجیب لگا
جبکہ بابا خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھے تھےاس نے ان لوگوں کو ڈسٹرب نہیں کیا
اس کا ارادہ پہلے فریش ہونے کا تھا۔
اس لئے وہ پہلے اپنے کمرے کی طرف جانے لگا وہ چاہتا تھا کہ شانی اور دادو جو بھی بات کر رہی ہیں وہ سکون سے کر لیں ۔
ارتضی بیٹا یہاں آو کے ان پیپر سائن کرو ۔ بابا کی آواز پر وہ پلٹا
جی بابا کہیں کہاں سائن کرنا ہے اس نے اپنی جیب سے پینسل نکالے ہوئے کہا ۔ اسے لگ رہا
تھا کہ کوئی آفس کی فائل ہے جن پر سائن کرنا ہے ۔
یہاں ان کاغذات پر بابا نے کاغذ اس کے سامنے رکھے ۔وہ ان پیپرزکو دیکھنےلگا
اپنے سامنے طلاق کے کاغذات دیکھ کر اسے اس طرح سے لگ رہا تھا جیسے اسے کوئی اندھیرے میں دھکیل رہا ہے اس نے بے یقینی سے شانی کی طرف دیکھا لیکن وہ اس کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی
غصے سےاس کی ماتھے کی رگیں باہر آگئی ۔
ابھی کل ہی تو اس کی خوشیاں اس کی زندگی میں واپس آئی تھی اور یہ بے رحم لڑکی اس سے اس کی خوشیاں چھین رہی تھی
وہ بے یقین سا اسے دیکھتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا
اس نے باری باری سامنے بیٹھے تینوں نقوش کو دیکھا
اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کے جان سے پیارے بابا اس کے سامنے بیٹھ کر اسکی جان نکال
رہے تھے ۔
کیا وہ اس کے چار سال کے حالات سے بے خبر تھے نہیں ایسا تو نہیں تھا وہ تو سب کو جانتے تھے
وہ جانتے تھے کہ اس نے شانی کا کتنا انتظار کیا ہے کتنا تڑپا ہے اس کے لیے
لیکن اس کے باوجود بھی وہ اس کےبجائے شانی کا ساتھ دے رہے تھے کیوں ۔۔۔۔۔؟
بابا نے اس کے سرخ چہرے سے اس کے غصے کا اندازہ لگا لیا تھا لیکن پھر بھی وہ شانی کا ساتھ
دے رہے تھے ۔
بیٹا جلدی سے سائن کروان کاغذات پر بابا نے پھر سے کہا ۔
اس نے غصیلی نگاہوں سے اپنے باپ کو دیکھا جو اس اپنے ہاتھ سے اپنے بیٹے کی جان لے رہے تھے
ضدی – بدتمیز – اکڑمزاج۔ تو وہ بچپن سے تھا وہ بابا کی بات صرف تب ماننا تھا جب اسے اپنا کوئی مطلب ہوتا ۔
بابا کی دوسری شادی کرتے ہی وہ ان سے دور ہو گیا تھا
لیکن شانی کے جانے کے بعد وہ ایک بار پھر اپنے بابا کے بہت کلوز ہو گیا ۔
اس نے سب کی طرف دیکھا پھر پرسکون ساہوکر صوفہ کے ساتھ ٹیک لگا کر ٹیبل پر ٹانگیں رکھ کر بیٹھ گیا ۔ یہ اس کا پرانا انداز تھا جو شانی کے جانے کے بعد اس نے اپنایا نہیں تھا
بابا نے حیرانگی سے اس کی چار سال پہلے والا انداز دیکھا ۔ایک لمحے کےلیے انہیں اس سے خوف محسوس ہوا
پھر اس نے بابا اور دادو کو اگنور کر کے سیدھا شانی کی طرف دیکھا ۔ ۔ اور گہرا سانس خراج کیا
تو تم یہاں مجھ سے طلاق لینےآئی ہو۔۔۔؟
اس کے اس طرح سے دیکھنے پر ایک بار تو روشانے کا دل زور سے دھڑ کا لیکن یہ وقت ڈرنے کا نہیں تھا بلکہ مقابلہ کرنے کا تھا
اسے اپنی خوشیوں کے لیے خود ہی آگے بھرکر اس انسان کا مقابلہ کرنا تھا
۔ تو پھر وہ چپ کیوں رہتی ۔۔۔
جی ہاں ۔۔ مختصر سا جواب آیا
غصہ ضبط کر نے کی وجہ سے اس کا چہرہ مزید سرخ ہو رہا تھا ۔
کیوں ۔ ۔ ۔ ؟ پھر سوال پوچھا
دیکھو ارتضی میری بات سنو بابا نے کچھ کہنا چاہا
دیکھیں بابا آپ سے بات نہیں کر رہا ہوں میں اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں پلیز یہ ہم دونوں کا
پرسنل میٹر ہے آپ بیچ میں مت بولیں اس کے لہجے میں بدتمیزی صاف واضح تھی
ان چار سالوں میں بابا کو کہاں اس کے اس لہجے کی عادت رہی تھی ۔ اسے اس طرح سے بدتمیزی
کرتے دیکھ کر بابا خاموش ہو گئے ۔
ہاں تم سے پوچھ رہا ہوں میں کیوں چاہتی ہو مجھ سے طلاق ۔۔۔۔ ؟ غصے سے پوچھا
کیونکہ میں اس رشتے کو نہیں نبھانا چاہتی میں اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزارنا چاہتی ہوں ۔
میں شادی کرنا چاہتی ہوں ۔ ۔ ۔ اس بار شانی نے نظریں چرا کر کہا کیوں کہ سے لگ رہا تھا کہ یہ بات ارتضی کے سامنے کرنا آسان ہے لیکن ایسا نہیں تھا
کون ہے وہ جس سے تم شادی کرنا چاہتی ہو لہجے میں اتنی نفرت تھی کہ کوئی غیر بھی نوٹ کر لیتا
اس سے آپ کو کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے ۔ آپ بس مجھے اس نامی گرامی رشتے سے آزاد کریں تاکہ میں اپنی زندگی سکون سے گزار پاؤں ۔ شانی نے در بدر جواب دیا
مجھے مطلب ہے ۔ ارتضی دھاڑتے ہوئے صوفے سے اٹھا اور پوری شدت سے ہاتھ میں پکڑا اپنا موبائل زمین پرپٹخا
مجھے مطلب ہے مسز ارتضی حیدر مجھے اس کا قتل کرنا ہے ۔ میں جان سے مار ڈالوں گا اس انسان کو جو میرے علاوہ تمہیں چاہے گا
آنکھیں نوچ لوں گا اس کی جو تمہیں دیکھے گا ۔
بناؤ مجھے کون ہے وہ میں بھی تو دیکھوں کون ہے جو ارتضی حیدر کی چیز پر اپنی نظر رکھ رہا ہے ۔ارتضی غصے سے دھارتے ہوئے بولا ۔
مسٹر ارتضی حیدر میں کوئی چیز نہیں ہوں انسان ہوں اور مجھے میری مرضی کی زندگی گزارنے کا پورا حق ہے ۔ وہ اسی کے انداز میں چلاتے ہوئے بولی
اس کی بات سن کر وہ ذرا سا مسکرایا
ہاں انسان ہو لیکن ہو تو میری ۔ ہاں تمہیں تمہاری زندگی گزارنے کا حق ہے لیکن وہ حق اگر میں تمہیں دوں تو ۔
اور اب سے تمہیں تمہارے سب حقوق ملیں گے
با با رخصتی کی تیاری کیجئے ۔
میں اب رخصتی چاہتا ہوں ویسے بھی بہت وقت گزر چکا ہے ۔ ۔ ۔ میں نے اسے ضرورت سے زیادہ ڈیل
دے دی
اب سے یہ اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی ۔ ارتضی کہتے ہوئے باہر جانے لگا
میں کسی قیمت پر ان سے شادی نہیں کروں گی ۔ ماموں آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے میں صرف
ایک ہفتے کے لیے آئی ہوں میں چلی جاؤں گی یہاں سے واپس ان سے کہیں میری زندگی آزاد کردے میں مزید مشکلات کا سامنا نہیں کر سکتی ۔
ماموں آپ چپ کیوں کھڑے ہیں نانو آپ تو کچھ بولیں یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ روشانے نے
دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
شانی بیٹا تم اس کی ضد جانتی ہو نانو نے اسے سمجھانا چاہا ۔
کیا مطلب ہے نانو ان کی ضد کیا میری کوئی زندگی نہیں ہے کیا میرے کوئی خواب نہیں ہیں یا مجھے جینے کا حق نہیں ہے ۔ مجھے کسی قیمت پر ان سے شادی نہیں کرنی بنا دیجیے گا انہیں ۔ طلاق تو میں ہر قیمت پر لے کر رہوں گی ۔ اور اب میرے ساتھ کوئی زبردستی نہیں چلے گی بس وہ غصے سے کہتی اپنے کمرے میں بند ہو گئی
°°°°°°°
کمرے میں آکر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ بلک بلک کر رونے لگی اس نے کتنی آسانی سے سوچ لیا تھا
کہ وہ ارتضی سے طلاق مانگے گی تو وہ اسے چھوڑ دے گا کیا اتنا ہی آسان تھا یہ سب کچھ کرنا
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر طلاق مانگنے آئی تھی ۔ ۔
وہ جو بچپن سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے ڈرتی تھی ۔ محبت نام سے بھی نہ واقف تھی وہ جب اس شخص نے اس سے کہا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے
اس پر صرف اس کا حق ہے
کتنی آسانی سے وہ اس کے دل اور دماغ پر چھا گیا تھا وہ اپنے علاوہ کبھی کسی کو اتنا حق ہی نہ دیا کہ اس کے حواسوں پر چھا سکے
وہ تو دادو کو بھی اس سے پیار کرنے سے منع کرتا تھا
وہ کہا کرتا تھا دادواس سے پیار نہ کرے یہ نہ ہو کے یہ آپ کو مجھ سے زیادہ چاہنے لگے میں چاہتا
ہوں کہ وہ صرف مجھ سے محبت کرے
کتنا مطلبی تھا یہ شخص اتنا خود غرض کے اسے صرف اپنی ذات تک محدود رکھنا چاہتا تھا ۔
وہ اسے کالج میں سہیلیاں تک نہیں بنانے دیتا تھا اس کا کہنا تھا کہ وہی اس کا دوست ہے وہی
اس کا ساتھی ہے وہی اس کا ہمسفر ہے اسے اپنی ہر پرابلم اس سے شیئر کرنی چاہیے
وہ اس کے ذہن پر اس حد تک سوار تھا کہ روشانے کی ہر سوچ اس سے شروع ہوکر اس پر ختم ہوتی
°°°°°°°°
میں نے تمہیں کہا تھا وہاں پر مت جاؤ لیکن تم نے میری بات نہیں مانی خیر جو بھی ہے میں سب کچھ ہینڈل کرلوں گا تم بس واپس آجاؤ
خود ٹینشن لے لے کر اور روروکر اب اس نے تنزیل کو بتانےکا فیصلہ کیا تھا ۔
نہیں تنزیل میں ایسے واپس نہیں آسکتی اسے مجھے طلاق دینی ہوگی اگر ایسے نہیں تو کورٹ کے تھرو
شانی تمہیں لگتا ہے کہ وہ تمہیں طلاق دے گا وہ بھی اس حالات میں جب تم سے طلاق مانگ رہی
ہواور وہ رخصتی کی بات کر رہا ہے ۔
تم پریشان مت ہو میں پاکستان آنے کی کوشش کرتا تنزیل نے مسئلہ کا حل نکالنا چاہا
نہیں تنزیل تمہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے میں سب کچھ ہینڈل لونگی تنزیل کی بات سنتے ہی اسے ارتضی کی بات یاد آ گئی کہ وہ اسے جان سے مار دے گا اور وہ ایسا کر سکتا تھا
کوئی اسے ایک نظر دیکھ کیا لیتا ارتضی اس کی جان خطرے میں ڈال دیتا اورونشانے تنزیل کی زندگی پررسک نہیں لے سکتی تھی
ارتضی ضد میں آکر کیا کرتا ہے یہ اسے خود بھی پتہ نہ چلتا تھا
ابھی وہ تنزیل سے بات کر رہی تھی کہ دروازہ زور سے کھلا
ارتضی تیزی سے چلتے ہوئے اس کے قریب آیا اور اس کے کان سے فون اتار کر زمین پر اتنی زور سے
مارا کہ اس کے کہیں ٹکڑے ہو گئے
یہ تمہاری آخری غلطی ہے میں مسز ارتضی حیدر ۔ بہتر ہوگا کہ تم چار سال پہلے والی ہوئی روشانے بن جاؤ ورنہ مجھے بگڑے ہوئے بچوں کو کی عقل ٹھکانے لگانے آتی ہے
خبردار جو تم نے اس آدمی سے بات کی
اس سے تو کیا جب تک تمہاری رخصتی میرے کمرے میں نہیں ہو جاتی تب تک تم اپنے باپ سے بھی بات نہیں کر سکتی اور خبردار جو گھر سے باہر قدم نکالا
طلاق چاہے اسے مجھ سے وہ عجیب جنونی انداز میں بالوں میں ہاتھ پھیرتا بڑابڑیا اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔
روشانے جو اپنے آپ کو اس کے سامنے بہادر ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی اس کی باتوں سے
سہم کر رہ گئی
°°°°°°°
کچھ دیر پہلے وہ غصے سے چرا بھرا کمرے سے نکلا اور سیدھا دادی کی طرف آیا جو اپنے کمرے میں ابھی کچھ دیر پہلے ہی نماز ادا کر کے بیٹھی تھیں
دادو آپ اتنے آرام سے بیٹھی ہیں ۔
رخصتی کی تیاریاں کریں ۔
وہ ان کے پاس آکر بیٹھا اور کہنے لگا
ارتضی بیٹا یہ تم کیا کر رہے ہو تم جانتے ہو وہ نہیں مانے گی وہ پہلے ہی تم سے غصہ ہے ناراض ہے
اور ایسے میں تم اس کی مرضی کے خلاف رخصتی مانگ رہے ہو
اور رخصتی میں اس کا باپ تو ہونا چاہئے یہاں پر کوئی نہیں ہے دادی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
دادی نکاح میں اس کا باپ شامل تھا نہیں نہ تو پھر رخصتی میں بھی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے
اور جہاں تک بات اس کی ناراضگی کی ہے دادو تو آپ جانتی ہیں میں اسے منا لوں گا
ایک غلطی میں نے کی اس کی جگہ کسی اور کو دے کے دوسری غلطی اسے کرنے دوں تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہو جائے نہیں دادو میں اس کی ناراضگی برداشت کر سکتا ہوں مگر دوری نہیں
اب اٹھیں اور رخصتی کی تیاریاں کریں دادو سے بات کرکےوہ کمرے سے باہر نکل گیا
جبکہ دادو کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کریں ایک طرف ان کا پوتا تھا تو دوسری طرف ان کی اکلوتی نواسی وہ جانتی تھیں کہ ارتضی اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹے گا اس نے رخصتی کا کہہ دیا ہے تو اب کروا کر ہی دم لے گا
یہی سب سوچتے ہوئے دادو شای کے کمرے میں آئیں
دادو کو اپنے کمرے میں آکر آتا دیکھ کر بھی دوڑ کر ان سے لپٹ کے رونے لگی
نانو وہ کہتے ہیں کہ وہ مجھے نہیں جانے دیں گےانہوں نے میرا فون توڑ دیا وہ کہتے ہیں وہ مجھے کسی سے بات نہیں کرنے دیں گے مجھے یہاں سے باہر نہیں جانے دیں گےوہ مجھے اپنا قیدی بنا کے رکھنا چاہتے ہیں
میں اسی لیے یہاں واپس نہیں آنا چاہتی تھی مجھے واپس جانا ہے نہیں چاہیے مجھے اس سے کچھ بھی ان سے کہیں کہ مجھے واپس جانا ہے نہیں رہنا مجھے ان کے ساتھ نہیں کرنی مجھے رخصتی
