Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan By Areej shah Readelle50295 (Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Epi 5
No Download Link
Rate this Novel
(Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Epi 5
اسے تیار کرنے کے لئے بیوٹیشن آچکی تھی
جو چار بار اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا چکی تھی لیکن اس نے دروازہ نہ کھولنے کا فیصلہ کر لیا تھا
دو دفعہ نانو بھی اس کے کمرے تک آئیں اور تو اور ماموں بھی اس کے کمرے تک آئے
لیکن اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ وہ اس تماشے کا حصہ نہیں بن سکتی
وہ ایسا ہرگز نہیں ہونے دے گی جیسا ارتضی چاہتا ہے
اسی دوران ایک بار پھر سے دروازہ بجا
لیکن اس بار دروازہ کھٹکٹانے والی نا تو بیوٹیشن تھی نہ ہی نانو اور نا ہی ماموں
شانی دروازہ کھولو نہیں تو میں دروازہ توڑ دوں گا اور تم جانتی ہو کہ میں ایسا کر گزروں گا ارتضی نے غصے سے دروازہ پیٹتے ہوئے کہا
ارتضی پلیز چلے جائیں یہاں سے میں آپ کو پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ جیسا آپ چاہتے ہیں ویسا میں نہیں ہونے دوں گی
شانی تقریبا چلاتے ہوئے بولی لیکن اسی وقت اسے اپنے کمرے میں کلک کی آواز آئی
اسے نے دروازے کی طرف دیکھا دروازہ کھلا ہوا تھا جس کی چابیاں ارتضی کے ہاتھ میں تھی
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اس کی طرف آیا
میں نے تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے شانی ضدمت کرو ضد کے معاملے میں تم سے کسی قدم آگے ہوں
فی الحال میں تم سے نرمی سے بات کر رہا ہوں کیوں کہ اس سب میں غلطی صرف میری ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھاؤ
میں اپنی غلطی کے لئے شرمندہ ہوں اور تم سے کہیں بار معافی مانگ چکا ہوں
تم میری بیوی ہو میں جب چاہوں تو تمہیں اپنے ساتھ رکھ سکتا تھا اگر میں چاہتا تو میں
تمہیں وہاں پر بھی لینے آسکتا تھا لیکن پھر بھی نے تمہیں وقت دیا مجھے یقین تھا تم خود میرےپاس واپس آؤ گی اور اب تم آچکی ہو
اس لیے مزید نخرے کرنے کی ضرورت نہیں ہے جلدی سے یہ ڈریس پہنو اور وہ لڑکی تمہیں تیار کرےگی
تم چاہو یا نہ چاہو لیکن آج سے تم میرے کمرے میں ہی رہوگی میری بیوی بن کر
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ارتضی نے اسے بہت کچھ باور کروایا
اور ڈریس اس کے قریب کر کے باہر جانے لگا
میں بتا چکی ہوں کہ میں اس تماشے کا حصہ نہیں بننا چاہتی بند کریں اپنے ڈرامے اور نہیں کرنی مجھےآپ کے ساتھ شادی میں یہاں طلاق لینے آئی تھی نہ کہ آپ کے ساتھ زندگی گزار نے شانی کی آوازاتنی اونچی تھی کہ باہر کھڑی لڑکی آرام سے سن سکتی تھی
لیکن تب ہی ارتضی کا مضبوط ہاتھ اس کا منہ بند کر گیا
تھپڑ اتنا زوردار تھا کہ شانی بیڈ پر جاگری
بہت سمجھا لیا تمہیں پیار سے سچ ہے تم پیار کے قابل ہی نہیں ہو ۔
اگر تم ایسا چاہتی ہو تو ایسا ہی ٹھیک ہے
اس کا بازو پکڑے وہ اسے کھڑا کرتے ہوئے اس کا ڈریسں اٹھاکر اسے گھسیٹتے ہوئے واشروم کی طرف لے جانے لگا
تم چاہتی ہو میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے تیار کروں او کے جان ۔
یہ میرے لئے ایک خوبصورت ترین تجربہ ہوگا ۔ اس کا دوپٹہ کھینچتے ہوئے کہا
جسے شانی نے مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں تھام لیا ۔
اس سے پہلے شانی نے کبھی ارتضی کا یہ روپ نہیں دیکھا تھا
ارتضی پلیز ایسا مت کریں شانی کا سارا غصہ خوف میں تبدیل ہو چکا تھا
کم آن جان شرمانے کی ضرورت نہیں ہے میں تمہارا شوہر ہوں حق رکھتا ہوں تم پر ۔ ارتضی اس کےقریب آیا
میں خود پہن لوں گی ۔ شانی جلدی سے بولی
گڈ گرل زیادہ وقت نہیں ہے جلدی سے تیار ہو جاؤ ۔
اس کے گال پر جہاں ابھی تھوڑی دیر پہلے اس نے تھپڑمارا تھا محبت سے ہاتھ پھیرتا اس کے درد پراپنے ہونٹ رکھ کر مرہم لگایا ۔
سوری اس کے لئے ۔ بس اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گیا جبکہ اس کی حرکت کو دیکھتے ہوئے شانی
بری طرح گھبرا گئی
°°°°°°°
بیوٹیشن نے اسے سچ مچ سر سے پیر تک چینج کر دیا تھا
اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ دلہن بن کر اتنی خوبصورت لگے گی
سرخ رنگ کے انتہائی خوبصورت لہنگے میں وہ کسی پری سے کم نہ لگ رہی تھی ۔
شام 6 بجے کا وقت تھا ۔
جب ارتضی اس کے کمرے میں آیا اور اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔
شانی کی خوبصورتی کا دیوانہ تو وہ نہ جانے کتنے سالوں سے تھا ۔
لیکن آج شانی سچ پچ میں اس کے ہوش اڑا رہی تھی ۔ وہ ہمیشہ سے کہتا تھا کہ اس کی دلہن دنیا کی سب سے خوبصورت دلہن ہوگی
اور آج شانی اس کے لیے واقعی دنیا کی سب سے خوبصورت دلہن تھی
اس نے کمرے میں آتے ہی بیوٹیشن کو جانے کا اشارہ کردیا ۔
اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا
کیا یہ سب کچھ میرے لئے ہے ارتضی نے اس کے سجا سنورا روپ دیکھتے ہوئے کہا ۔
جبکہ شانی سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آخر وہ اس سے شرما کیوں رہی ہے اسے تو اس پر غصہ ہونا چاہیے
آخر وہ اس کے ساتھ زبردستی رشتہ جوڑ نے جا رہا تھا
لیکن پھر دل کے کسی کونے سے آواز آئی یہ شخص آج بھی اس کے دل کی دنیا کا شہنشاہ ہے
چھوٹی سی عمر میں ہی اس نے دل کی ساری سلطنت جس کے نام کر دی ۔
اس لمحے کا انتظار تو ان دونوں نے کیا تھا ۔
لیکن کاش حالات آج ایسے نہ ہوتے ۔
کاش وہ اس پر یقین کرتا کاش وہ اس کے دل کی دنیا کو اس طرح سے برباد نہ ہونے دیتا ۔
لیکن اب ان سب باتوں کا کوئی فائدہ نہ تھا ۔
ارتضی کتنی دیراسے دیکھتا جواب کا انتظار کرتا رہا ۔
کوئی جواب نہ پا کر آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما اور باہر لے جانے لگا ۔
جبکہ روشانے کتنی دیر سے باہر جانے کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ اس کا ارادہ سب مہمانوں کےسامنے شور مچا کر اس رخصتی کو روکنا تھا
اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے وہ باہر کی طرف آئی جہاں پر رخصتی کا انتظام کیا گیا تھا
خیر انتظام تو کیا ہی تھا بس اسے تھوڑی دیر اس کے پہلو میں بٹھا کر اس کے روم میں پہنچانا تھا
لیکن روشا نے فیصلہ کر چکی تھی کہ وہ اتنی آسانی سے ارتضی کو خود سے نہیں جیتنے دے گی وہ یہاں طلاق لینے کے لیے آئی ہے اور تنزیل سے شادی کا وعدہ کر چکی ہے وہ انسان جو چار سال سے اس کامنتظر تھا
چار سال تک وہ اسے شادی کیلئے پرپوز کرتا رہا لیکن ارتضی کی محبت کہیں نہ کہیں اڑے آرہی تھی
لیکن اب روشانے نے فیصلہ کرلیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ تنزیل سے شادی ضرور کرے گی
تنزیل ہی اس کی محبت کا اصل حقدار تھا
جس نے اسے اس وقت سمبھالا جب اس کا پیار ارتضی اسے چھوڑ چکا تھا
°°°°°°°°°
روشانے جو کمرے سے باہر آتے ہوئے نجانے کتنی پلانگ کر چکی تھی کہ وہ کس طرح سے ارتضیٰ کو سب کے سامنے رسوا کر کے واپس ترکی چلی جائے گی ایسا کچھ بھی نہ ہوا اس کے قدموں وہی رک گئے
باہر کوئی مہمان موجود نہ تھا بس وہ چند نوکر ماموں اور نانو ۔
اب تم سوچ رہی ہوگی کہ یہاں مہمان کیوں نہیں ہیں
دراصل مہمانوں کو میں نے کل ولیے پر انوائٹ کرلیا ہے اور جہاں تک رخصتی کی بات ہے میں نہیں چاہتا کہ تمہیں اس حسین روپ میں میرے علاوہ کوئی اور دیکھے
اور ولیمے پر میرا ارادہ تمہیں گھونگھٹ میں رکھنے کا ہے
وہ ساکت کھڑی ارتضی کی بے تکی باتوں کو سن رہی تھی
لیکن پھر بھی رخصتی تو ایک رسم ہے جو ہونا ضروری تھا اس لئے میں نے یہ سارا انتظام کیا ۔
کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تمہاری کوئی بھی خواہش ہی ادھوری رہ جائے مجھے پتا ہے تمہیں مہندی کچھ خاص پسند نہیں ورنہ وہ بھی رسم اسپیشلی رکھواتا۔
ویسے بھی مہندی تو ہماری ہو ہی چکی ہے اگر تمہیں یاد ہو تو ۔ خیر چھوڑووہ ایسی کوئی خوبصورت یاد نہیں جسے یاد رکھا جاسکے ارتضی نے چار سال پہلے کے بارے میں سوچتے ہوئے کہا
۔ لیکن اب ہم نئی یادیں بنائیں گے جس میں سب کچھ پرفیکٹ ہوگا
ارتضی نے باتوں ہی باتوں میں اس کے ہوش ٹھکانے لگا دیے
وہ جو نہ جانے کیا کیا سوچ کر کمرے سے باہر آئی تھی اس کے ساری سوچیں صرف خواب ہی رہ گئی
سچ تھا ارتضی سے جیتنا اتنا بھی آسان نہ تھا ۔
وہ دونوںسٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے فوٹو سیکشن ہورہا تھا۔
ویسے کتنی عجیب شادی ہے ایک دم خالی خولی ۔ نہ کوئی مہمان ۔ نہ کوئی خاص انتظام
خیر چھوڑو ہم بھی کیا بیکار کی باتیں کرنے گے ۔
ویدے رسمی طور پر تمہیں مجھ سے شرمانا چاہیے اس کا ہاتھ تھامے وہ آہستہ آہستہ بول رہا تھا
آپ کو کیا لگتا ہے ارتضی کہ میرے ساتھ زبردستی کر کے آپ جیت جائیں گے ۔
نہیں ارتضی حیدر آپ بار چکے ہیں ۔ آپ ایک ہارے ہوئے انسان ہیں
اور یہ جو آپ کے ڈرامے میں نہ کہ مجھے آپ کے بغیر کوئی بھی نہ دیکھے انہیں اب ختم کردیں کیونکہ میں جانتی ہوں کہ آپ نے یہاں پر مہمانوں کو اس لئے نہیں بلایا کہیں آپ کا بھانڈا نہ چھوٹ جائے
کہ سب کو پتہ نہ چل جائے کہ آپ زبردستی یہ سب کچھ کر رہے ہیں ۔ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے وہ کافی اونچی آواز میں بولی
شانی بیٹا اب بس کرو بہت ہو چکا ہے وہ تم سے محبت کرتا ہے وہ شوہر ہے تمہارا ۔ تم اس کے نکاح میں ہو پچھلے چھ سال سے ۔ وہ جب چاہے تمہیں یہاں لے کر آ سکتا تھا لیکن اس نے تمہارا انتظارکرنا بہتر سمجھا
لیکن اب تم ضرورت سے زیادہ بول رہی ہو نانو سے مزید برداشت نہ ہوا ۔
ارتضی کی حمایت نانو کے منہ سے سن کر وہ تلخ سی مسکرائی ۔
میں پتا نہیں آپ کو اپنا سب سے بڑا ہمدرد کیسے سمجھتی رہی نانو سچ تو یہ ہے کہ آپ نے مجھے کبھی پیارکیا ہی نہیں ۔
آپ نے ہمیشہ یہی کہا کہ ارتضی کو سمجھو اس کے معیار پر اترنے کی کوشش کرو اس کی پسند نہ پسندکا خیال رکھو ۔
آپ نے کبھی ان سے کہا ۔ کہ یہ میری پسند نہ پسند کا خیال رکھیں میرے معیار پر اترنے کی کوشش ۔ کریں یہ مجھے سمجھنے کی کوشش کریں کیا کبھی کہا ۔۔۔۔۔ ؟ نہیں نہ
کیوں کہتیں ۔۔۔۔؟
آپ کے پوتے تو یہ ہیں ۔ جن سے آپ سچی محبت کرتی ہیں آپ کے نزدیک میں کبھی کچھ تھی ہی نہیں جو آپ کبھی میرے بارے میں سوچتیں آخر اتنا بڑا احسان کیا تھا آپ نے مجھ پر ۔ ایک بن ماں کی بیٹی کو پالا جس کا باپ اسے چھوڑ کر ترکی چلا گیا تھا ۔
اتنا تو حق بنتا ہے آپ کا ۔کہ مجھے اپنے پوتے کے استمعال کا کھلونا بنا دیں شانی کی آنکھوں میں آہستہ آہستہ نمی اور لہجے میں بدتمیزی شامل ہوگئی ۔
جب حال میں زوردار تھپڑ کی آواز گونجی شانی لڑکھڑا کر زمین پر گری
آج کے بعد دادو سے بات کرنے سے پہلے اس تھپڑ کو یاد رکھنا ۔
تم سے محبت اپنی جگہ لیکن اپنے گھر کے بزرگوں کی عزت عزیز ہے مجھے
ارتضی کیا کر رہے ہو تم سب شرم و لحاظ بھول گئے ہو گیا ۔۔۔ ؟ دادو تیزی سے آگے بڑھیں اور شانی کے قریب اور نہ چاہا
بس کر دیں نہیں ہے ضرورت مجھے آپ کی ہمدردیوں کی ۔شانی کے ہونٹوں سے خون بہنے لگا۔
بس بہت ہو گیا تماشا تم ایسے باز نہیں آؤ گی ۔ ارتضی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے گھسیٹتے ہوئےاپنے کمرے میں لے گیا ۔
چھوڑیں مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ ۔ میں مر جاؤں گی لیکن آپ کے ساتھ اس رشتے کو آگے نہیں بڑھاؤں گی
°°°°°°°
ارتضیٰ نے اسے لا کر بیڈ پر پٹکا ۔
شانی تمہارے پاس دو گھنٹے کا وقت ہے جتنا جلدی ہوسکے اپنا مائنڈ سیٹ کر لو
میں جب دو گھنٹے کے بعد اس کمرے میں آؤں تو مجھے یہ روتی شکل نہ ملے وہ سائیڈ دراز سے فرسٹ ایٹ بکس نکالے ہوئے کہا
ایک بات کان کھول کر سن لو شانی تمہارا ہر راستہ مجھ تک آئے گا میں غلطی پر تھا اور اس کی معافی میں تم سے مانگ چکا ہوں ۔
اگر چاہو گی تو ساری زندگی معافی مانگوں گا ۔ لیکن تمہیں رہنا میرے پاس ہی ہوگا
روشانے ارتضی حیدر صرف اور صرف ارتضی حیدر کی ہے
کوئی دو کوڑی کا ترکش تنزیل صابر اسے اپنے ساتھ لے کر نہیں جا سکتا
اس کے ہونٹ سے خون صاف کرتے ہوئے وہ بولا۔ جب کہ شانی ایک لفظ بھی نہ بولی بس اسے شکوہ کرتی نظروں سے دیکھتی رہی
مجھے ایک موقع دو شانی میں سب کچھ ٹھیک کردوں گا
اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامے وہ جاں لٹاتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا
تم ارتضی حیدر کی زندگی کا مقصد ہو اس سے اس کا مقصد مت چھینو تمہیں خدا کا واسطہ ہےتمہیں۔ اس کا لہجہ کبھی نرم تھا تو کبھی سخت شاید ان چار سالوں میں وہ بہت کچھ سیکھ چکا تھا
بس اتنا کہہ کر وہ دروازے کی طرف جانے لگا ۔
لیکن پھر مڑا ۔ ۔ دو گھنٹے ہیں تمہارے پاس ۔ اپنے آپ کو تیار کرلو ۔ پچھلے چھ سال میں ایک بھی ایسی رات نہیں جب میں نے اس رات کا انتظار نہ کیا ہو ۔
اور تمہاری بے فضول ضد کی وجہ سے میں اسے برباد نہیں ہونے دوں گا۔
°°°°°°°°
ارتضی جا چکا تھا ۔
جبکہ روشانے نے کمرے کی ہر طرف نظر گھمائیں کہ اسے کسی طریقے سے آج رات ارتضی سے بچنے کاکوئی طریقہ مل جائے
وہ اپنے وعدے کے عین مطابق پورے دو گھنٹے کے بعد کمرے میں واپس آیا تو دیکھا وہ سونے کی بھرپور ایکٹنگ کر رہی تھی
وہ جانتا تھا کہ بے سکونی میں شانی کو کبھی نیند نہیں آتی
اس کی حرکت پر وہ مسکراتے ہوئے آگے بھرا ۔
جہاں وہ بیڈ پر اپنا تمام ترہارو سنگھار اتار کے مزے کی نیند لینے کی کوشش کر رہی تھی
ارتضیٰ نے بنا اس کی اوور ایکٹنگ کی پرواہ کیے جھک کر اس کے ماتھے پر پیار کیا
آئی مس یو جان پچھلے چار سال سے تم نے مجھے بہت ستایا ہے ۔
مانتا ہوں ہر بات میں غلطی میری ہے اور میں تم سے ساری زندگی معافی مانگنے کو بھی تیار ہوں لیکن میں تمہیں اپنی اس خوبصورت رات کو برباد کرنے کی اجازت کبھی نہیں دوں گا
بہت سالوں سے انتظار کیا ہے میں نے اس رات کا اس لیے بہتر ہوگا کہ اپنی یہ اوور ایکٹنگ بند کرو
اور اٹھ جاؤ ارتضی کے کہنے کا بھی اس پر کوئی اثر نہ ہوا
وہ بھر پور اپنی ایکٹنگ کو کامیاب کرنے کی کوشش کر رہی تھی آخر تنزیل سے چار سال سے یہی توسیکھ رہی تھی لیکن سامنے کھڑا اس کا شوہر بھی ارتضی حیدر تھا جو بچپن سے اس کی رگ رگ سےواقف تھا
ارتضی نے اسے ہلتے نہ دیکھ کر اسے اس کے بازو سے پکڑا اور ایک ہی جھٹکے میں سیدھا کھڑا کر دیا ۔
تمہیں میری باتیں سمجھ میں کیوں نہیں آتی نہیں ۔ اب یہ مت کہنا کہ اپنے حق کے لئے میں تمہاری بیٹھ کر منتیں کروں اسے کمر سے پکڑ کے اپنے بے حد قریب کر تے ہوئے کہا
چھوڑیں ارتضی مجھے۔۔ وہ بن پانی کے مچھلی کی تڑپی
تم چھوڑو شانی ۔ ۔ ۔ تم چھوڑو یہ بے جا ضد ۔ میں جانتا ہوں تم آج بھی مجھ سے محبت کرتی ہو تمہاری آنکھیں صاف بتاتی ہیں کہ تم آج بھی مجھے چاہتی ہو ارتضیٰ نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتےہوئے کہا
غلط فہمی ہے آپ کی نہیں کرتی میں آپ سے پیار۔۔۔؟ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ آپ سے پیار کروں گی بھول گئے آپ نے چار سال پہلے کیا کیا تھا
میرے ساتھ ۔
میری محبت ۔ میری چاہت میرا حق ۔
کسی اور کی جھولی میں ڈال دیا ایک بار بھی آپ نے میری طرف دیکھنے کی غلطی کی ۔ آپ نے میری آنکھوں کے سامنے میری دنیا تباہ کر دی
ایک بار بھی آپ نے مڑ کر دیکھا کس حال ہوں میں ۔ شانی تڑپتے ہوئے بولی
شانی میں سمجھ سکتا ہوں ارتضی نے کچھ کہنے کی کوشش کی
میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی ارتضی صاحب آپ نہیں سمجھ سکتے شانی نے چلاتے ہوئے اس کی بات کاٹی
ایک بار بھی آپ نے میرے بارے میں سوچا کہ میں کیسے جیوں گی آپ کے بغیر ۔
ایک بار بھی آپ نے مجھ پر یقین کیا نہیں کیا آپ نے مجھ پر یقین نہیں کیا ارتضی آپ کہتے تھے نہ محبت یقین ہے تو میں کیسے مان لوں آپ کی اس محبت کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس میں یقین ہی نہیں ہے
نہیں ہے مجھے آپ جیسے کھوکھلے انسان سے محبت صرف غلطی تھی وہ جو میں نے کی تھی اور اب اپنی
اس غلطی کو سدھار کے جاؤں گی وہ بے تحاشا روتے ہوئے بولی
شانی مجھ سے غلطی ہوئی ہے میں مانتا ہوں بہت برا کیا ہے میں نے اس وقت میں بہت برا انسان ہوں
لیکن میں بھی تمہارے بغیر کوئی خوش نہیں رہا یہاں ۔ ہاں دے دیا تمہارا حق کسی اور کو ہوگی غلطی تمہاری ہرچیز میں نے بانٹ دی ہاں میں نے سب کچھ عورت کو دے دیا تھا
لیکن ارتضی حیدر صرف تمہارا ہے اس نے آج تک اپنی محبت میں غداری نہیں کی ۔
۔
وہ کل بھی تمہارا تھا اور آج بھی تمہارا ہے شانی ۔
تم نہیں جانتی یہ چار سال میں نے تمہارے بغیر کس طرح سے گزارے ہیں ہر رات تڑپا ہوں ہر رات رویا ہوں میں شانی
اب میں تمہیں کبھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا بات کرتے کرتے ارتضی کی اس کی آنکھوں سےآنسو گرنے لگے وہ تڑپ رہا تھا شانی کو ایسا لگا جیسے اس کے آنسو اس کے دل پر گررہے ہوں
تم جانتی ہو شانی میں تمہیں کبھی دادو سے نہیں بانٹ پایا تو خود سے کیسے دور جانے دوں مجھے صرف ایک موقعہ دو میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا
تم صرف میری ہو ۔ وہ آہستہ آہستہ اس کے کان میں سرگوشی کرتے بنا اسے مزاحمت کا موقع دیۓاس کے بالوں میں منہ چھپا گیا ۔
چھ سال پہلے کتنے خوش تھے وہ ایک دوسرے کے ساتھ ان دونوں میں کسی تیسرے کی جگہ نہ تھی
اپنے ان دنوں کو یاد کرتے جانے کب وہ بالکل اس کی باہوں میں قید ہو کر رہ گئی لیکن جب اسےہوش آیا تب بہت دیر ہو چکی تھی
ارتضی مکمل طور پر اسے اپنا بنا چکا تھا اب وہ ہر لحاظ سے مسز ارتضی حیدر بن چکی تھی ۔ اور ہر بار کی طرح اس بار بھی ارتضی اس سے جیت گیا اور شانی ہار گئی ۔
جیت کے نشے میں چور ارتضی حیدر نے شانی کو پا لیا
°°°°°°
صبح ارتضی کی آنکھ کھلی تو ایک خوبصورت سی مسکان اس کے چہرے پر تھی ۔
جو اس کے چہرے کے نقوش کو مزید خوبصورتی بخش رہی تھی ۔
آج اس کی زندگی کی سب سے خوبصورت صبح تھی اور اس خوبصورت صبح کو خوبصورت بنانے والی اس کی جان نجانے کہاں تھی ۔
کمرے میں ہر چیز کی طرف نظر گھمائیں لیکن جس کی تلاش میں اس کی نظر منتظر تھی وہ کہیں نہیں مل رہی تھی
نہ جانے کہاں چلی گئی تھی صبح ہی صبح یہ لڑکی ارتضی کو اس وقت اسے دیکھنے کی بے تابی تھی
جو کل تک اس سے بے تحاشا نفرت کا اظہار کر رہی تھی
آج یقینا اس سے شرمائی شرمائی گھوم رہی ہوگی
رات کو بنا مزاحمت کس طرح سے اس نے ارتضی کو اپنا آپ سونپا تھا ۔ اسے سوچتے ہوئے ارتضی کے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ آگئی ۔
وہ جتنا اسے سوچ رہا تھا اتنا ہی اس کی بیتابیاں بھر رہی تھی
ارتضی جلدی سے بیڈ سے اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا
فریش ہو کر واپس آیا تو کمرے سے باہر جانے لگا اسے شانی کو دیکھنے کی جتنی جلدی تھی اتنا ہی اس پر غصہ آرہا تھا شادی کی پہلی صبح وہ بنا اسے جگائے اٹھ کر باہر چلی گئی
دادو کے مطابق یہ ان کے رولز کے خلاف تھا
ان کا کہنا تھا کہ دلہا اور دلہن شادی کی پہلی صبح ایک ساتھ باہر آتے ہیں ۔
تاکہ آگے بھی زندگی کے ہر قدم پر وہ دونوں ساتھ چلے
جبکہ یہاں شانی میڈم خود ہی اسے اکیلا چھوڑ کر باہر چلی گئی تھی ۔
ارتضی اسے ڈھونڈتے ہوئے باہر نکل آیا ۔
اس کے خوش باش چہرے کو دیکھتے ہوئے دادو نے اس کی نظر اتاری ۔
جو نہ جانے کتنے سالوں سے اس کی خوشی دیکھنے کو ترس چکی تھیں
میری بیوی کہاں ہے ۔ الگ ہی انداز میں پوچھا اس کے لہجے سے چھلکتا غرور اور حق دادو کو مسکرانے پرمجبور کر گیا ۔
اب کہاں جانا ہے اس نے وہاں باہر بیٹھی ہے ہم سے ناراض ہے بات بھی نہیں کر رہی ۔
دادو نے اداس لہجے میں بتایا ۔
اب تک ناراض ہے آپ سے ۔۔۔ ؟ ارتضی نے حیران ہو کر پوچھا ۔
ہاں کیا تم سے ناراض نہیں ہے وہ دادو نے پوچھا ۔
نہیں میں نے تو رات کو ہی منا لیا تھا اس نے شرارت سے کہا ۔
ماشاء اللہ یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔
جاؤ تم نے منا لیا ہے تو اسے اندر لے کرآو ناشتہ ہی کر لے میں نے دو بار کہا ہے لیکن میری کسی بات کا جواب نہیں دیا اس نے ۔ حتی کہ میری طرف دیکھا بھی نہیں دادو نے اداسی سے بتایا
اچھا آپ فکر نہ کریں میں اسے لے کے آتا ہوں آپ ناشتہ لگوائیں ۔
انہیں ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے وہ باہر لان کی طرف نکل آیا جہاں اس کی جان اکیلی بیٹھی موسم انجوائے کر رہی تھی
°°°°°°°°
وہ بنا آواز پیدا کیے اس کے قریب آیا اور پیچھے سے جھک کر اس کے گال کا بوسہ لے لیا ۔
اس کی اچانک اس حرکت پر شانی کرنٹ کھا کر کھڑی ہوئی
جبکہ اس کے اس طرح سے گھبرانے پر ارتضی کا قہقہ بے ساختہ تھا
کیا ہوگیا ہے جان اس طرح سے کیوں گھبرا رہی ہو میرے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا جو اس طرح کی گستاخی کرےارتضی مسکراتے ہوئے آگے بڑھا ۔
جبکہ شانی نے اسے اپنے پاس آتے دیکھ کر اپنی راہ بدلی اور اندر کی جانب جانے لگی
جب ارتضی نے اسے جاتے دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے قریب تر کر لیا ۔
اب اس فرار کا کیا مطلب نکالوں میں ۔۔؟
اس کے بالوں سے کیچر نکالے ہوئےپوچھا
جبکہ اس کی اس حرکت پر شانی کے سارے بال اس کی کمر پر بکھر گئے ۔
کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ ۔۔۔ شانی نے غصہ دکھانے کی ناکام سی کوشش کی ۔ جب کہ ارتضی اس کے چہرے پر شرم و حیاکے رنگ مخفوظ ہو کے دیکھ رہا تھا ۔
اب تو مت پوچھو یہ سب کچھ اب تو سب کچھ ٹھیک ہے ۔
تو پھر کیوں اس طرح سے غصہ دکھا رہی ہو ارتضی نے سے مزید اپنے قریب کرنا چاہا ۔
ارتضی چھوڑیں مجھے ۔ شانی نے اس سے اپنا آپ چھڑاتے ہوئے کہا ۔
کیوں چھوڑوں بھئی ۔ اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور کل رات کے بعد تو ہرگز نہیں ۔
مجھے تو سمجھ نہیں آرہا کہ تم ایسے نخرے کیوں دکھا رہی ہو اب ۔ ارتضی نے اسے مزاحمت کرتےہوئے دیکھ کر کہا
اگر یہ سارے نخرے تم کل رات کو کرتی تو میں کچھ سوچ بھی سکتا تھا ۔ جبکہ کل رات تم ارتضیٰ کچھ کہتے کہتے شرارت سے مسکرایا
ہاں چپ کیوں ہو گئے کہ بولیں نہ کل رات کس طرح سے آپ نے مجھے باتوں میں بہلا پھسلا کر اپنامطلب نکالا کس طرح سے میری محبت کو استعمال کیا ۔شانی پھٹ پڑی ۔
بکواس بند کرو شانی کل رات تم اپنی مرضی سے میرے ساتھ تھی ۔ اور خبردار جو تم نے میری محبت کومطلب کا نام دیا ۔
سچ تو یہ ہے کہ کل رات تم خود کو روک نہیں پائی میرے پاس آنے سے تم خود بے بس ہو میری محبت کے سامنے اور اب یہ بے فضول کا رونا دھونا بند کرو ۔
آج شام کو ہمارا ولیمہ ہے
ناشتہ کرو اور تھوڑی دیر میں بیوٹیشن آکر تمہیں تیار کرے گی اور اپنا جو شوق تم کل پورا کرنا چاہتی تھی
سب کے سامنے مجھے بدنام کرنے کا بے شک آج کرلو ۔
ویسے تم مجھے اتنی بیوقوف لگتی تو نہیں ہو جو ہمارے بیڈروم کی باتیں باہر لے کے آؤگی مگر تمہاری مرضی جو چاہے کرو لیکن رات کو میری مرضی چلے گی
ارتضی نرمی سے اس کا گال چوم کر وہاں سے چلا گیا
جبکہ شانی اپنی بے بسی پر آنسو بہاتے رہ گئی
°°°°°°°
شانی بناناشتہ گئے کمرے میں جانے لگی
وہ اپنے کمرے کی طرف جارہی تھی جب پیچھے سے ارتضی کی آواز آئی
کیا تمہیں بار بار بنانا پڑے گا کہ تمہارے رخصتی ہو چکی ہے اور اب سے تمہارا کمرہ وہ ہے ارتضیٰ نےاپنے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
جبکہ شانی کا فی الحال اس کے منہ لگنے کا کوئی ارادہ نہ تھا اس لیے بنا کچھ بولے دوسرے کمرے میں چلی آئی
اسے اپنے کمرے میں جاتے دیکھ کر ارتضی کے لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ کھلی
سیدھا تو میں تمہیں کردوں گا جان لیکن تھوڑا وقت لگے گا وہ بڑابڑ تے ہوئے ناشتے کی ٹیبل پر آگیا
وہ ناشتہ کیوں نہیں کر رہی تم تو اسے بلانے گئے تھے نا اور اتنی سختی سے بات کیوں کر رہے تھے تم اس کے ساتھ دادو نے اسے ناشتہ سرو کیا
دادو آپ کی نواسی بالکل پاگل ہے
میں تو اس خوش فہمی میں تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے لیکن میڈم نے اپنے ہی وہم پال رکھے ہیں
ارتضی نے ناشتے سے انصاف کرتے ہوئے کہا
مطلب تم دونوں میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے دادو نے پریشانی سے پوچھا
ارے نہیں دادو سب کچھ ٹھیک ہے بس میری بیگم کا دماغ خراب ہے
لیکن آپ فکر نہ کریں اسے بھی میں ٹھیک کردوں گا اب اتنا تو آپ اپنے پوتے کی قابلیت سے واقف ہی ہیں ارتضی نے شرارت سے کہا تو دادو مسکرا دیں
خبردار جو تم نے اسے تنگ کیا تم جو چاہتے تھے تمہیں مل چکا ہے اب اسے وقت دو اس رشتے کو سمجھنےکے لئے دادو نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
دادو وہ کوئی چھوٹی بچی نہیں ہے جسے میں وقت دوں گا
وہ اپنے اور میرے رشتے کو بہت پہلے سے سمجھتی ہے
اور میں اب اس کو مزید بیوقوفیاں کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا ارتضی نے ختمی لہجےمیں کہا
اسے ناشتے کے لیے تو بلاؤ کل رات بھی اس نے کچھ نہیں کھایا تھا دادو نے پریشانی سے کہا
دادو اب اگر میں اس کے پیچھے کمرے میں گیا تو آپ کی نواسی مجھے کھا جائے گی اور ویسے بھی وہ بھوک کی بہت کچی ہے جب تیز ہوگی میڈم اپنی ساری انا کو اپنے قدموں میں روندتی ہوئی آئے گی
آپ اس کے کھانے کی بالکل ٹینشن نہ لیں
آپ ولیمے کی تیاری کرے تب تک میں بھی آفس کا ایک چکر لگا کے آتا ہوں ۔
ارتضی کہتے ہوئے اٹھا اور کمرے کی جانب چل دیا
°°°°°°
ارتضی کمرے میں آیا تو اسے روتا دیکھ کر پریشان ہو گیا
کیا بات ہے جان تم اس طرح سے کیوں رو رہی ہو وہ فورا اس کے قریب آیا اور پوچھنے لگا
ہاتھ مت لگائیں مجھے بہت احسان ہوگا آپ کا اس کا ہاتھ خود سے جھٹکتے ہوئے اس نے غصے سے کہا
یہ کیا بے فضول کا ڈرامہ ہے شانی کیوں بے وقوفوں کی طرح رو رہی ہو تم ارتضی نے غصے سے کہاتھا
کیونکہ میں بیوقوف ہوں بے وقوف ہوں میں جو آپ کی باتوں میں آ گئی ۔
بے وقوف ہوں جو اپنی محبت کے قاتل کے آگے اپنا سب کچھ برباد کر چکی ہوں ۔
اس سے پہلے کہ شانی کچھ اور کہتی ارتضی بول اٹھا
بس بہت ہو گیا بہت بکواس کر لی تم نے
مجھے لگ رہا تھا تم نادان ہولیکن نہیں شانی تم نادان نہیں ہو بلکہ احمق ہو
کیا برباد کیا ہے تم نے ہاں جسے تم بربادی کہتی ہو وہی ایک شادی شدہ لڑکی کی پہچان ہے
میں تمہاری محبت کا قاتل نہیں ہوں میں تمہاری محبت ہوں تم مانو یا نہ مانو
کس بات کا سوگ منا رہی ہو بیٹھ کر ۔ کل رات کا نہ تو شانی وہ میرا حق تھا اگر تم سیدھے طریقے سے نہیں دیتی تو میں زبردستی لیتا ۔
اسی لئے بند کرو یہ ڈرامے اور جتنا جلدی ہو سکے اس رشتے کو قبول کرو اور اگر نہیں کر سکتی تو مجھے اور بھی بہت سارے طریقے آتے ہیں
آفس جا رہا ہوں جب تک واپس آؤ اس حالت میں نہ ملو بیوٹیشن آئے گی تو اس کے سامنے بھی نخرےکرنے کی ضرورت نہیں ہے
آج ولیمہ ہوجائے کل سے تم اپنے بابا سے بات کر سکتی ہو ویسے بھی میں نے انہیں تمہاری رخصتی کے بارے میں بتا دیا تھا ۔
وہ جو کب سے چپ چاپ بیٹھی آنسو بہاتی اس کی باتیں سن رہی تھی یہ بات سن کر پریشانی سے اسے دیکھنے لگی
کیا بابا سب کچھ جانتے ہیں شانی نے پریشان ہو کر پوچھا
ہاں میری جان وہ سب کچھ جانتے ہیں اب اتنی بڑی بات تو میں ان سے چھپانے سے رہا
وہ اس کا گال پیار سے سہلاتے ہوئے بوا ۔
شانی آئندہ ایسی کوئی بے وقوفی والی بات مت کرنا جس سے مجھےتم پر سختی کرنی پڑے یہ کرنا بالکل پسند نہیں
بس اتنا کہہ کر وہ چلا گیا
جبکہ شانی یہ سوچ رہی تھی کہ اس کے باپ کو اس کی رخصتی سے پہلے ہی پتہ چل گیا تھا لیکن پھربھی اس نے اس کی کوئی مدد نہ کی
