37.8K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan ) Epi 7

میری تنہائی میری جان پے بنی ہے سائیاں
قسط نمبر 7
اریج شاہ
°°°°°
کنزہ کا ارتضی کو اپنی طرف دیکھتے رہنا ارتضی سے چھپا ہوا نہ تھا وہ کوئی چھوٹا بچہ نہ تھا
جو ایک لڑکی کی نظر نہ پہچان سکتا کنزہ کے ہر روپ ہر انداز سے وہ اس کے اندر کا حال کا اندازہ لگا رہا تھا
لیکن اس کے جذبات کو وہ ہوا نہیں دے سکتا کیونکہ اس کے دل اور دماغ میں صرف ایک لڑکی کا حق ہے
اور وہ تھی اس کی شانی
کنزہ کا چھپ چھپا کر اس کو دیکھنا ۔ اسے دیکھ کر مسکرانا باقی سب کے سامنے تو شاید تھوڑا لحاظ کرجاتی تھی
لیکن اگر اتفاق سے وہ اکیلے میں اس کے قریب بیٹھا ہو تو سب شرم و لحاظ بھول کرا سے
گھورنے لگتی تھی
اس لیے ارتضی نے اب صاف لفظوں میں اس سے بات کرنے کے بارے میں سوچا تھا
وہ شانی سے تو یہ بات شیئر نہیں کرسکتا تھا وہ دونوں بیسٹ فرینڈ تھی
اب وہ اس طرح سے اس کی فرینڈ کو اس کی نظروں سے گرانا نہیں چاہتا تھا اسے لگتا تھا کہ شاید جو کچھ وہ سوچ رہا ہے وہ صرف ایک غلط فہمی ہے لیکن بہت جلدی اس کی یہ غلط فہمی دور ہو گئی ۔
کیونکہ اس نے نوٹ کیا کہ وہ ارتضی کوشانی کے پاس نہیں بیٹھنے دیتی تھی شانی کو کسی نہ کسی کام میں الجھائے رکھتی ہے
۔ اور اگر وہ اسے اپنے ساتھ چلنے کو کہتا تھا نہ جانے کیوں شانی اسے بھی اپنے ساتھ گھسیٹنے لگتی
اسے شانی پر بھی بہت غصہ آرہا تھا
یو۔کےمیں بہت ساری لڑکیاں تھیں جو اس کےپیچھے پڑی تھی اس لیے ان سب سےاسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا
اس طرح کی نظروں کا وہ عادی تھا
لیکن اب وہ اس کے اور شانی کے بیچ میں آرہی تھی اور یہ چیز ارتضی برداشت نہیں کر سکتا تھا
رات کا پونہ ایک بج رہا تھا وہ اپنا کچھ ضروری کام کر کے فارغ ہوا تھا اور اب سونے کی تیاری کر رہا تھا
پاکستان آنے کے بعد سے لے کر اب تک وہ بابا اور دادو کو شادی کے لئے کہہ رہا تھا اب وہ رخصتی
چاہتا تھا وہ شانی سے دور نہیں رہ سکتا تھا
لیکن بابا نے یہ شرط رکھ دی کہ وہ بزنس سنبھالے وہ بھی ارتضی کے بابا تھے اگر وہ اپنی بات منوا سکتا تھا تو وہ کیوں نہیں ۔
سوارتضی نے ان کی شرط مان لی اور اب وہ بزنس سمجھنے کی بھر پور کوشش کر رہا تھا ۔
ایک خوبصورت اور اچھی زندگی جینے کے لیے محنت تو کرنی پڑتی ہے
لیکن یہ خوبصورت اور اچھی زندگی کےحوالے سے جس کےلیے وہ خواب سجا رہا تھا جس کے لیے وہ اتنی محنت کر رہا تھا وہ محترمہ تو گھوڑے بیچیں سورہی تھی ۔
ابھی کچھ دیر پہلے وہ اسے چائے کا بولنے گیا مگر اس کو سوتا دیکھ کر واپس لوٹ آیا ۔
کب آؤ گی میری زندگی میں شانی تم میرے لیے کیا ہو تم جان ہو میری اپنی سوچوں میں مصروف وہ یہ بھی نہ دیکھ پائے کب اس کے کمرے میں کنزہ داخل ہوئی اور دروازہ بند کر دیا ۔
°°°°°
کنزہ تم یہاں کیا کر رہی ہو وہ رشتے میں اس کے کزن تھی لیکن ارتضی نے ہیلو ہائے کے علاوہ
اس سے کوئی بات نہ کی تھی اور نہ ہی کر نے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
ارتضی مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے ایم سوری مجھے اس وقت نہیں آنا چاہیے تھا لیکن پھربھی مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی تھی اس لیے میں آئی وہ کافی گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی ۔
ہم صبح بات کریں گے تم جاؤ اس وقت یہاں سے وہ برہم ہوا ۔
نہیں مجھے ابھی اور اسی وقت آپ سے بات کرنی ہے پلیز ایک بار میری بات سن لیں وہ منتیں کر نے
لگی
دیکھو میں تمہیں کہہ رہا ہوں چلی جاؤ یہاں سے ہم نے جو بھی بات کرنی ہے صبح کریں گے ۔
میں آپ سے محبت کرتی ہوں ارتضی میں آپ کو بہت چاہتی ہوں پلیز مجھے اپنی زندگی میں شامل کر لے
میں آپ کے بغیر مر جاؤں گی ۔ وہ اس کے قریب آکر بولی
اور پھر اس کے چہرے کے تاثرات جانے لگی لیکن کنزہ کو جلدی ہی احساس ہوگیا کہ سامنے کھڑے
وجود کو اس اظہار کا کوئی فرق نہیں پڑا
وہ شخص پہلے ہی اس کی آنکھیں پڑھ چکا تھا ۔
ارتضی سچ میں ۔ میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں اس نے یقین دلانا چاہا
تو ۔ ۔ ؟ اس کا لہجہ سفاک تھا
کیا آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا کنزہ رندھی ہوئی آواز میں کہا ۔
مجھے کیوں کوئی فرق پڑنے لگا بلا میں نے تو نہیں کہا تھا کہ مجھ سے پیار کرو تم نے اپنی مرضی سے یہ راہ چنی ہے
ہر انسان کے اندر اپنے جذبات کو قابو کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اگر تم چاہتی تو اپنے جذبات کو قابو کر سکتی تھی تم نے اپنے دل کو اتنا باغی کیوں ہونے دیا جو شادی شدہ مرد سے محبت کر بیٹھے ۔
یہ مت کہنا کہ تم میرے نکاح کے بارے میں نہیں جانتی
تم مجھے بہت پہلے سے چاہتی ہو کیونکہ اگر تمہیں یاد ہو ۔ تو ہم پہلے بار تب ملے تھے جب
میں یہاں سے انگلینڈ گیا تھا ۔اور اس دن تمہاری پھوپو نے میرے سامنے تمہیں میرے اور شانی کےنکاح کا بتایا تھا
اس سے پہلے تو تمہارے بابا کا مسز احسن سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا ۔ کنزا احسن کی دوسری بیوی رخسانہ کے کزن کی بیٹی تھی جن کا رابطہ کافی عرصے بعد ہوا تھا ۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ میرا نکاح ہو چکا ہے اور میں اس لڑکی کو چاہتا ہوں اس سے محبت کرتا ہوں تو تم نے اپنے دل میں میرے لئے ایسے جذبات پیدا ہونے کیوں دیے ۔
غلطی تمہاری ہے تم سدھارو ۔
تمہیں یہاں میرے پاس آنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا میری زندگی میں تمہاری کوئی جگہ نہیں ہے میں صرف اور صرف شانی سے پیار کرتا ہوں ۔
ارتضی کا ارادہ اس لڑکی کا دل دکھانا نہیں تھا وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے اس لڑکی کو ذرا سی بھی شہ دی تو وہ کبھی اپنی زندگی میں آگے نہیں بھر پائی گی
اگر وہ اس کی محبت کو اہمیت دیتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ اپنی زندگی میں آگے بھر جاؤ تو وہ کبھی نہیں آگے نہیں بھرسکتی تھی ۔
اس لیے اس نے اس سے اس طرح سے بات کی کیونکہ وہ جانتا تھا جہاں ناقدری کی جائے وہ اٹھ کر چلنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے ۔
۔ لڑکی جب ایک بار اپنے دل میں کسی کو بسا لے تو مرتے دم تک اس سے محبت کرتی ہے ۔
وہ کسی لڑکی کو یوں بیچ چھڑائے نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔
اس نے کئی بار دیکھا تھا اپنے آفس کے ورکرز کی انسلٹ کی پھروہی ورکر اس کے لیے بہترین کام کر
کے لایا تھا ۔
وہ جانتا تھا اگر وہ اس وقت وہ اس طرح سے انسٹ نہیں کرے گا تو وہ کبھی اپنے ذہن سے ارتضی کو نہیں نکالے گی ۔
اپنی محبت کی ناقدری پر وہ آگے بڑھنے کی کوشش ضرور کرے گی ۔ اور ایسا ہی ہوا وہ روتے ہوتے ہوئے اس کے کمرے سے باہر بھاگ گئی
ایم سوری کنزہ میں تمہارا دل نہیں دکھانا چاہتا تھا لیکن جو راہ تم نے پکڑی ہے وہ غلط ہے میری زندگی میں شانی کے علاوہ کسی کی کوئی جگہ نہیں ۔
میں شانی کی محبت کو اپنے دل میں اس حد تک بسا چکا ہوں کہ میرے دل میں میرے لئے بھی
محبت نہیں بچی ۔
°°°°°
شانی ابھی فریش ہو کے باہر سب کے پاس آکر بیٹھی تھی ۔
سب لوگ اپنی اپنی باتوں میں مصروف تھے جبکہ وہ کنزہ سے اپنی کلاس کے بارے میں باتیں کر رہی
تھی ۔
نانو میں نے نا پرفارمنس کرنی ہے اس سال ۔
ہمارے کالج میں نہ ایکٹنگ شو ہو رہا ہے ۔
جس میں بہت سارے اسٹوڈنٹس نے حصہ لیا ہے کنزہ نے مجھے کہا تھا میں نے اپنا نام بھی لکھوا دیا
میں نے آیڈیشن دیا تو مجھے پتا ہے کون ساکردار ملا وہ فل ایکسائٹمنٹ بناتے ہوئے بتا رہی تھی
جب ارتضی بھی ان کے پاس آکر بیٹھا ۔
کنزہ نے بے اختیار پہلو بدلا جبکہ اس کا سارا دھیان شانی کی طرف تھا
اور اس کی بات ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا ۔
ارے پوچھیں نہ سب کون سا ۔۔
اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ کوئی بھی اس کی بات میں کوئی خاص انٹرسٹ نہیں دکھا رہا
ہاں بھائی بتاؤ کون سا ماموں نے پوچھا
لیلی کا ڈرامے کی ہیروئن کا اس نے اتراتے ہوئے ارتضی کو دیکھا جواب میں وہ مسکرایا
ہہہم پھر تو انہیں مجنوں کی بھی ضرورت ہوگی کہو تو میں آجاؤں وہ اسی کے اسٹائل میں پوچھ رہا تھا
جی نہیں آپ کی اوور ایکٹنگ کی وہاں کوئی ضرورت نہیں ہے اور ویسے بھی مجنوں کوئی پاکستان کا نہیں ہے ترکی کا ہے ترکی کا ۔
ترکی کا مجنوں۔ ارتضی قہقہ لگا کے ہنسنا تھا
اور اس کی اس طرح سے ہنسنے پر وہ ہمیشہ کی طرح منہ بنا کر بیٹھ گئی
یہ کونسا کلر پہنا ہے تم نے جاؤ چینج کر کے آؤ اس نے اس کی ناراضگی کو کوئی اہمیت نہ دیے
ہوئے کہا
کیا مطلب کونسا رنگ پہننا ہے اتنا پیارا سوٹ تو ہے
بلکل بھی پیارا نہیں ہے جاو چیلنج کرو اور آئندہ یہ کلر مت پہنا اس نے حکمرمانہ انداز میں کہا
میں نہیں جا رہی چینج کر نے اتنا اچھا سوٹ ہے میں نے اسی ہفتے لیا ہے اور یہ بہت اچھا ہے ۔ وہ
اسے اپنی ناراضگی دکھاتے ہوئے بولی
تمہیں سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں جاؤ فورا جا کے چینج کروا سے اس بار آواز خاصی اونچی تھی
ارتضی تم ماموں نے کچھ بولنے کی کوشش کی
شانی تم جا رہی ہو کہ نہیں اس نے احسن کو اگنور کرتے ہوئے کہا
جہاں باپ کی نہیں چلتی تھی وہ اس کی کیا چلتی وہ مجبوراً اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی
اور پھر 10 منٹ کے بعد ریڈ کلرکا سادہ سالون کا سوٹ پہن کر بیٹھ گئی ۔
ایسے کلرز سوٹ کرتے ہیں تم پر وہ مسکرایا ۔ جبکہ اس کی مسکراہٹ نے کنزہ کو اندر تک آگ لگا دی
اچھا چلو کہیں باہر چلتے ہیں ۔
مجھے کہیں نہیں جانا آپ کے ساتھ وہ غصے سے منہ پھیر گئی
ارے میرا پالا شا بے بی روٹھ گیا ۔ اور مسکراتے ہوئے اس کے پاس آبیٹھا تھا ارادہ اب منانے کا تھا
میں نے کہانا مجھے کوئی بات نہیں کرنی انہیں اس طرح سے روٹھتے مناتے دیکھ کر نانو اور ماموں اٹھ کر باہرچلے گئے
کیونکہ یہ تو سچ تھا ارتضی کو شرم آنی نہیں تھی ۔
اچھا بابا اب شولی چلو نا شاپنگ کرواؤں گا اور پھر تم آئس کریم کھلانے لے کے جا لونگا پھر ڈنر کر کے گھر آئیں گے ۔
اس نے اس کا موڈ ٹھیک کرتے ہوئے کیا ۔
چلو کنزہ تم بھی ہمارے ساتھ چلو ۔ اس نے کنزہ سے کہا جو باظاہر کچھ فاصلے پر اپنا کالج کا کام کر رہی تھی لیکن اس کا سارا دھیان ان دونوں کی طرف ہی تھا ۔
وہ کیا کرے گی ہمارے ساتھ آکر اس نے فورا بولا تھا ۔
کیا مطلب کیا کرے گی انجوائے کرے گی شانی نے کہا
اور سارا دن گھر پے رہ کر بھی اس نے کیا کرنا ہے بہتر ہے نہ ہمارے ساتھ چلے ۔
شانی ہم ڈیٹ پر جا رہے ہیں اس نے شانی کے کان میں کہا
وہ میری دوست ہے میں سارا دن اسے بور ہونے کے لیے تو نہیں چھوڑ سکتی نا ۔
جاؤ کنزہ فٹافٹ چینج کر کے آؤ ۔ شانی نے کہا
اسے لگا تھا کہ کنزہ خود ہی منا کر دے گی لیکن ایسا نہ ہوا شانی کے بس ایک بار کہنے کی دیر تھی کنزہ فوراً سے اٹھی اور اپنے کمرے میں جاکر تیار ہونے لگی
°°°°°
شوپنگ ڈنر ایک منٹ کے لئے وہ شانی سے الگ نہ ہوئی اب تو ارتضی کو ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ جان
بوجھ کر اسے شانی سے دور کر رہی ہے ۔
اسے کنزہ پر غصہ آنے لگا تھا ۔ لیکن شانی کے سامنے نکال نہیں سکتا تھا
چلو شانی گھر چلتے ہیں اب ۔ اس نے اکتا کر کہا
ارے ابھی تو آئسکریم کھائی ہی نہیں ۔ شانی نے کہا
آئسکریم پھر کبھی چلو ابھی گھر چلتے ہیں بہت دیر ہوگئی ہے ۔ ۔
دیر کہاں ہوئی ہے ابھی تو صرف سات بجے ہیں اور آپ لوگ تو گیارہ بجے واپس آتے تھے ۔ کنزہ بولی ۔
ہاں لیکن تب ہم دونوں اکیلے ہوتے ہیں ۔ میرا مطلب ہے شانی میری ذمہ داری ہے اسے میں
سنبھال سکتا ہوں تم ہمارے گھر مہمان ہو ۔ میں نہیں چاہتا کی مسز احسن پریشان ہوں ۔ اس نے
ٹھہر ٹھہر کر کہا ۔
ارے میں ان کو بتا کے آئی ہوں کہ کنزہ میرے ساتھ جا رہی ہے ۔ وہ بالکل پریشان نہیں ہوں گی
چلے نہ آئس کریم کھانے چلتے ہیں ۔ اس نے ارتضی کی باہوں میں اپنا ہاتھ ڈال کر کہا ۔
اچھا بابا چلو ۔ اس نے مسکراتے ہوئے شانی کے گرد گھیرا بنایا اور اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا ۔
جبکہ انہیں اتنا قریب دیکھ کر کنزہ اندر تک جل اٹھی تھی ۔
°°°°°
نہیں برداشت کر سکتی میں پھو پھو پلیز کچھ کریں ۔ آپ کو کچھ کرنا ہی پڑے گا آپ نے کہا تھا نہ وہ میرا ہوگا ۔
پلیز پلیز کچھ کریں ۔
صبر کرو کنزہ ۔ تمہیں کس بے وقوف نے کہا تھا جاکر اسے بتا دو کہ تم اس سے پیار کرتی ہو ۔ سب سےبڑی بیوقوفی تم نے خود کی ہے میں نے کہا تھا نہ میں اسے شانی سے الگ کر لوں گی
لیکن تم نے سب کچھ گڑبڑ کردی ۔ اب یہ رونا دھونا بند کرو ۔
ہوسکتا ہے تمہاری بدنامی ہو جائے لیکن ارتضی کو پانے کے لئے تم اتنی بدنامی تو برداشت کرلوگی
بدنامی پھپھو آپ کیا کرنے والی ہیں کہ کنزہ نے گھبرا کر کہا ۔
وہی جو تمہارے حق میں بہتر ہو ۔ رخسانہ مسکراتے ہوئے باہر نکل گئی ۔
یا اللہ یہ کیا کرنے والی ہیں ۔ جو بھی کریں بس ارتضی میرا ہو جائے ۔ مجھے بس ارتضی چاہیے
کنزہ کو اندازہ نہ تھا کہ پھوپھو اس کے ساتھ کیا کرنے والی ہیں اسے بس یہ پتا تھا کہ اسے ارتضی
چاہیے ارتضی کے لئے اس کے دل میں محبت جگانے والی اس کی اپنی پھوپھو ہی تھی ۔
اور اب ان کا یہ کہنا تھا کہ ارتضی کو حاصل کرنے کے لئے بھی اس کی پوری پوری مدد کرے گی ۔
جو بھی تھا جیسے بھی تھا اب ارتضی کے لیے وہ تھوڑی سی تکلیف تو سہ سکتی تھی ۔ اسے پہلے شانی بری نہ لگتی تھی شانی اس کی بیسٹ فرینڈ تھی
لیکن اب وہ اس کے لئے اس کی سوتن تھی ۔
پہلے وہ اسے کو بہت چاہتی تھی لیکن اب اسے شانی بالکل اچھی نہیں لگتی تھی ۔
اس کا ہر وقت ارتضی کے ساتھ چپکے رہنا ارتضی کا اسے اہمیت دینا ۔
یہاں تک کے اس کی مرضی کے کپڑے پہننا یہ سب کچھ کنزہ کو جلن میں مبتلا کر رہا تھا ۔
پھوپھو نے اس کے سامنے ارتضی کی تعریفیں کرکر کے اس کے دل کی دنیا ہلا کر رکھ دی ۔
وہ خوبصورت تھا بے شک وہ خوبصورت ترین مردوں میں شامل ہوتا تھا لیکن وہ اس کے بیسٹ فرینڈ کا شوہر تھا ۔
اس رات ارتضی نے بالکل ٹھیک کہا اگر وہ چاہتی تو اپنے بے لگام ہوتے جذبات کو لگام ڈال سکتی
تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا کیونکہ پھو پھو اس کو سپورٹ کر رہی تھی ۔
ان کا کہنا تھا کہ میں ارتضی کی شادی تم سے کروا دوں گی لیکن کیسے ۔ اسے اس بات کا اندازہ ہو چکا تھا کہ پھوپھو کو صرف اور صرف ارتضی کی دولت سے مطلب ہے
اور اس سے نفرت کی وجہ سوتیلی اولاد ۔
اور سوتیلی اولاد سے تو کوئی بھی محبت نہیں کرتا ۔
°°°°°°
وہ اس وقت ریسل روم میں تھی سب لوگ اپنے اپنے ڈائیلاگز یاد کر رہے تھے ۔
وہ بھی ان کے ساتھ اپنی پریکٹس کر رہی تھی کہ سر تنزیل یہاں آئیں ۔
ہیلو اسٹوڈنٹس کہاں تک پہنچی تم لوگوں کی تیاری ۔ انہوں نے دوستانہ انداز میں کہا ۔
سب لوگ ایکسائیڈ ہوکر اپنی اپنی تیاری کے بارے میں بتانے لگے پھر انہوں نے مجنوں کا پوچھا ۔
توشانی اور اس کے ساتھ دوسرے اسٹوڈنٹ کو سامنے بلایا جو ترکی سے آیا تھا ۔
وہ اپنے سامنے ان کو پریکٹس کروانے گے ۔
پریکٹس کے دوران شانی نے تو نہیں لیکن کنزہ نے ایک بات بہت زیادہ نوٹ کی ۔
سر تنزیل بار بار شانی کو دیکھ رہے ہیں انکی نظروں میں کچھ ایسا تھا جو کنزہ کو بہت عجیب لگا ۔
جب وہ دونوں کلاس سے نکلی تو پیچھے سے سر تنزیل نے شانی کو پکارا
مس روشا نے مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ۔
جی سر کہیں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں وہ پوچھنے لگی