37.8K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Epi 6

ماضی
دادو ہم کہاں جا رہے ہیں دس سالہ ارتضی نے اپنی دادو سے پوچھا جو کب سے آنسو بہارہی تھیں
جبکہ احسن گاڑی چلانے میں مصروف تھے
بیٹا آپ کی پھو پو کا انتقال ہوگیا ہے
ہم آخری بار ان کا دیدار کرنے جارہے تھے ۔
تو کیا وہ کبھی واپس نہیں آئیں گی میری ماما کی طرح ارتضی نے اداسی سے کہا
ہاں بیٹا تمہاری پھوچو تمہاری ماما کے پاس چلی گئی ہیں اب وہ کبھی واپس نہیں آئیں گی
اماں کیا ہوگیا ہے آپ کو ارتضی کے ذہن میں یہ سب کچھ کیوں ڈال رہی ہیں جب کہ آپ جانتی ہیں
کہ رخسانہ سے شادی میں نے اسی کے لئے کی ہے
اماں کی بات احسن کو اچھی نہیں لگی
جس نے شادی جس بھی ریژن کے لیے کی ہو لیکن بہانہ ان کے پاس ارتضی کا تھا ۔ کہ اسے ایک
ماں کی ضرورت ہے
ہاں ہاں بیٹا پتا ہے کہ تم نے اس لڑکی سے شادی میرے پوتے کے لیے کی ہے لیکن یہ بات الگ
ہے کہ میرا پوتا اس لڑکی کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔
اس لیے بہتر ہوگا کہ یہ ڈرامے تم میرے سامنے چھوڑ ہی دو ۔
میں اپنے معصوم پوتے کو سوتیلے پن کی نظر نہیں کرنے دوں گی ۔
اور اس وقت میں اس لڑکی کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی جسے اپنی نند کی موت سے زیادہ اپنے دور کے کزن کی شادی پیاری ہے
اماں نے ہی چند ہی لفظوں میں انہیں ان کی بیوی کی اہمیت سمجھائی جبکہ احسن نے اماں سے اس
وقت بحث کرنا بیکار سمجھاکیونکہ وہ بہت رو رہیں تھیں
°°°°°°
وہ چھوٹی سی گڑیا محض ڈیڑھ سال کی تھی جب اس کی ماں اسے چھوڑ کر چلی گئیں
جب کہ اس کا باپ اپنی بیوی کے چالیسویں کے بعد ہی اپنا ملک چھوڑ کر ترکی جا رہا تھا
اماں جی میں اپنی بیوی کا علاج نہیں کروا پایا کیونکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے میں نے اپنی شریک حیات کو صرف اس وجہ سے کھول دیا
اور اب اس وجہ سے میں اپنی زندگی کو مزید مشکلات کی نظر نہیں کرسکتا اس لئے میں نے ترکی جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
لیکن شانی کو میں اپنے بھائیوں کے حوالے نہیں کر سکتا
اس لیے آپ کے پاس چھوڑ کے جا رہا ہوں
اس نے اپنی ننھی سی معصوم بچی کو دیکھا جو کب سے ارتضی کی گود میں کھلکھلا رہی تھی
ارتضی جو کسی سے سیدھے منہ بات تک نہیں کرتا تھا اسے اپنے گود میں اٹھائے پورے گھر میں
گھوم رہا تھا
مجھے یقین ہے کہ آپ لوگ میری بیٹی کی پرورش بہت اچھے طریقے سے کریں گے
میں آپ کے علاوہ اور کسی پر یقین نہیں کر سکتا ۔
اور اس طرح سے شانی کا باپ شانی کو اپنی نانو کے گھر چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے ترکی چلا گیا جسے بہت سارا پیسہ کمانا تھا
جس کی وجہ سے اس نے اپنی جان عزیز بیوی کو کھو دیا
وہ ہر مہینے شانی کو بہت ساری رقم بھجواتا لیکن اس کا سارا خرچہ پھر بھی اس کے ماموں اٹھاتے تھے
ماموں اور نانو کی تو وہ جان تھی ان کی آنکھوں کا تارا کچھ دیر بھی اگر وہ ماموں کو نظر نہ آتی
تو اسے پورے گھر میں ڈھونڈنا شروع کر دیتے۔
جبکہ رخسانہ کو نہ تو شانی پسند تھی اور نہ ہی ارتضی
بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اسے بچے ہی پسند نہیں تھے
ایک دن اس نے اپنا سوتیلا پن دکھاتے ہوئے ارتضی کو ڈانٹنے کی کوشش کی ۔
جس پر احسن صاحب سے اس کی اتنی لڑائی ہوئی کہ احسن صاحب نے اسے کہا کہ وہ گھر چھوڑ کر جا سکتی ہے ۔ انہیں اپنے بیٹے سے عزیز اپنی دوسری بیوی نہیں اور اس بات کا اندازہ رخسانہ کو جلد ہی ہو چکا تھا
بہت جلد ہی اس نے ارتضی سے ہر قسم کا تعلق ختم کر دیا وہ تو اسے مخاطب کرنا بھی پسند
نہ کرتی اور ارتضی کا بھی موڈ کچھ ایسا ہی تھا ۔
اسے جو لوگ پسند نہ ہوتے وہ ان سے مخاطب نہ ہوتا اس کی زندگی صرف تین لوگوں کے آگے پیچھے گھومتی تھی ایک دادو دوسرے اس کے بابا اور تیسری اس کی ڈول شانی
احسن صاحب کو بھی پتہ چل چکا تھا کہ ارتضی رخسانہ کو زیادہ پسند نہیں کرتا اور اماں کا بھی یہی کہنا تھا کہ اسے زبردستی رخسانہ کے ساتھ نہ باندھا جائے جس کے بعد احسن صاحب نے اسے دوبارہ نہ رخسانہ کو ماں کہنے کے لئےنہ کہا ۔
اور نہ ہی رخسانہ کو اس کی ماں بنانے کی کوشش کی
ارتضی نے بچپن سے ہی شانی کو میری شانی کہنا شروع کردیا گھر میں کسی میں اتنی ہمت نہ تھی جو شانی کو کچھ کہہ پاتا
وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا جبکہ ملازمہ جب اسے دودھ پلاتی تواس کے سر پر سوار رہتا ۔
کوئی اس سے اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتا تھا
شانی بھی ہر وقت اس کی چھوٹی انگلی تھامے اس کے پیچھے پیچھے بھاگتی رہتی
سکول جاتا تو ضد کرتا کہ وہ اس کے ساتھ جائے گی ۔
جس کی وجہ سے اس کو محض ڈھائی سال کی عمر میں ہی سکول میں داخل کروا دیا
اس کی دیوانگی تب بھری جب چھوٹی کلاس کے ایک لڑکے نے اسے دھکا مارا اور بدلے میں ارتضی
نے اس کے سر پر اپنا بیٹ مار دیا
پرنسپل نے کہا کہ سکول سے نکال دیا جائے جس کے بعد بابا نے اسے دوسرے سکول میں داخل
کروایا لیکن وہاں پر بھی اس نے یہی کہا کہ اسے شانی کے بغیر دوسرے سکول نہیں جانا
بابا نے جب شانی کے لیے اس کا پاگل پن دیکھا تو اسے شانی سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا
لیکن ایسا کرنا بھی اتنا آسان نہ تھا بابا نے ارتضی کو زبردستی ہوسٹل بھیج دیا لیکن اس کے ایک ہفتےبعد ہی وہ اتنا بیمار ہوگیا اسے واپس لانا پڑ گیا
وقت گزرتا چلا گیا اور شانی ارتضی کے لیے اس کی زندگی بنتی چلی گئی
ارتضی اپنے کسی کام کو ملازم کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا تھا
صاف لفظوں میں کہتا کہ یہ سارے کام شانی کے ہیں اور وہی کرے گی شانی یا ارتضی نے ۔
صاف لفظوں میں اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا لیکن سب ہی جانتے تھے کہ وہ ایک دوسرے کو
چاہتے ہیں
با با ارتضی کو بزنس سیڈیز کے سلسلے میں لندن بھیجنا چاہتے تھے لیکن اس سے پہلے ارتضی نے یہ شرط رکھ دی کہ اس کے لیے پہلے شانی کو اس کے نام کرنا ہوگا
دو سال پہلے اسی کی ضد کی وجہ سے انہوں نے ان دونوں کی منگنی کر دی لیکن اس بار وہ نکاح چاہتا تھا
شانی محض سولہ سال کی تھی اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس وقت اس کے ذہن میں کسی بھی قسم کا بوجھ ہو
لیکن ہمیشہ کی طرح ارتضی کی ضد کے سامنے کسی کی نہ چلی
اور شانی کا نکاح ارتضی کے ساتھ ہوگیا
.°°°°°°°°
وہ کچھ دنوں میں لندن جا رہا تھا اور اس کے حکم کے مطابق بیچاری شانی اس کا سامان پیک کر رہی
شانی نے تقریبا سب ہی چیزیں اپنی پسند کی رکھیں کیوں کہ ارتضی ہر چیز اس کے پسند کی پہنتا تھا
اسی اصول کے مطابق جو ارتضی نے ہی بنایا تھا شانی ساری چیزیں ارتضی کی پسند کی پہنتی تھی
ارتضی بیڈ پے لیٹا تھا جبکہ شانی اس کا بیگ پیک کر چکی تھی پھر اچانک اسے یاد آیا کہ دو شرٹیں ابھی بھی باہر ہیں
وہ دوڑ کے وہ لینے چلی گئی اور واپس آ کہ انہیں پریس کرنے لگی
بہت محنت کے بعد اس نے وہ دو شرٹز پریس کی
میں آپ سے شادی نہیں کروں گی
وہ جو فون پر مصروف تھا اس کے بات پر اس کی طرف دیکھنے لگا
کیوں بھئی اب کیا خطا ہو گئی مجھ سے وہ اکثر اسے اسی طرح سے کہتی تھی جب بھی وہ اس کے کسی کام سے تنگ آتی تو اس کا فیصلہ یہی ہوتا کہ وہ اس سے شادی نہیں کرے گی لیکن افسوس اب نکاح ہوچکا تھا
جبکہ اس کے دوسرے یا تیسرے دن یہ والا جملہ سن کر ارتضی کے لبوں پر ایک جاندار مسکراہٹ
کھل اٹھتی
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس طرح کے الفاظ وہ کیوں دہراتی ہے ضرور اس کا لڑنے کا موڈ تھا
پچھلے کچھ دن سے ان دونوں کے بیچ میں کوئی لڑائی نہیں ہوئی تھی ۔ کیوں کہ ارتضی جانے والا تھا اور شانی اس کو بہت اچھی یادوں کے ساتھ بھیجنا چاہتی تھی جبکہ ارتضی اسے تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا تھا لیکن ہر بار ناکامی ہی ہوتی کیونکہ وہ اس کی کسی بات پر بھی اس سے لڑائی نہیں کر رہی تھی
ہاں میڈم کیوں شادی نہیں کرنی مجھ سے وہ اپنا موبائل رکھ کر اس کے پاس آ کر دونوں ہاتھ کمر پر
رکھے لڑا کا عورتوں کی طرح پوچھنے لگا
کیونکہ مجھ سے آپ کے کپڑے استری نہیں ہوتے ایک تو جماجما کران کو استری کرو پھر ایک شکن
بھی موجود نہ ہو ۔ جبکہ یہ بات آپ بھی جانتے ہیں کہ کپڑوں کو فولڈ کرنے سے ان کے اندر شکن
آجاتی ہے
۔
اور آپ دوبارہ مجھ سے استری کرواتے ہیں ۔ میں تنگ آ گئی ہوں یہ روز روز ایک ہی کپڑے کو استری کر کے ۔
یا تو آپ مجھ سے وعدہ کریں گے شادی کے بعد آپ مجھ سے کپڑے استری نہیں کروائیں گے یا پھر یہ شادی نہیں ہو گی شانی نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا
واٹ تم صرف کپڑے استری کرنے کی وجہ سے مجھ سے شادی کینسل کر رہی ہو ارتضی کو جیسے
صدمہ ہوا
ہاں کر رہی ہوں انکار میں آپ کے سارے کام اپنے ہاتھ سے کرنے کے لیے تیار ہوں آپ کا کھانا
آپ کے کپڑے دھونا بوٹ پالش کرنا سب کچھ کر سکتی ہوں لیکن یہ کپڑے استری مجھ سے نہیں
ہوتے ۔ شانی نے ایک ایک کام بتاتے ہوئے کہا
جبکہ صرف کپڑے استری نہ کرنے پڑے اس کے لیے اس کی شادی خطرے میں آچکی تھی یہ سوچ
کے ارتضی کامنہ اچھا خاصہ کھل گیا
کیا تمہیں صرف میرے کپڑے استری کرنے پڑھ رہے اس لیے تم مجھ سے شادی سے انکار کر رہی ہو
۔ وہ مکمل لڑائی کے موڈ میں بولا
ہاں کر رہی ہوں انکار آپ لندن سے اپنے لئے کوئی گوری میم لے آنا جو آپ کے سارے کپڑےاستری کردے شانی بولتے ہوئے رکی
لندن کی گوریاں کہاں کپڑے استری کرتی ہیں بلکہ وہ تو کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتی سارے کام
ملازموں سے کرواتی ہیں پر خیر آپ کی مرضی آپ کو مجھ جیسی اچھی بیوی تو کہیں نہیں لے گی
لیکن پھر بھی اگر آپ وہاں کسی گوری میم کو پٹانا چاہیے تو بے شک پٹا سکتے ہیں شانی نے اپنی طرف سے مکمل اجازت دیتے ہوئے کہا جبکہ اس کا موڈ یہ جاننے کا تھا کہ ارتضی وہاں کی لڑکیوں کے
بارے میں کیا سوچتا ہے
تو کیا خیال ہے آپ کا گوری میم کے بارے میں اس نے جانچی نظروں سے اس کے چہرے کا طواف کیا
جبکہ ارتضی کو یہ جان کر بہت مزہ آرہا تھا کہ اسے خود سے دور وہ ایک آزاد ملک میں بیچ رہی ہے جہاں لڑکیاں آزاد ماحول میں رہنے کے ساتھ ساتھ آزاد خیال بھی ہیں ۔
کل رات بھی وہ نیٹ سے لندن کے بارے میں ریسرچ کر رہی تھی جہاں وہ لندن کے ماحول کے
بارے میں بتا رہا تھا وہیں پر وہ لیپ ٹاہ سےطکچھ تصویریں بھی دیکھ رہے تھے
بہت ساری تصویروں کے بعد ایک اور تصویر آئی جسے دیکھ کر شانی پانی پانی ہو گئی ساحل سمندر پر لڑکیوں کو واہیات لباس میں دیکھتے ہی شانی کا سر چکرا گیا
جبکہ وہ تصویر ارتضی نے بنا کچھ کہےآگے کر دی تھی اور اس کا یہی اندازہ تھا کہ اس نے اتنی
تیزی سے وہ تصویر آگے کی ہے کہ شانی شاید ہیاسے دیکھ پائی ہو لیکن اس کا اندازہ غلط تھا
کیونکہ اس نے شانی کے چہرے کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے کی سرخی نے اسے بہت کچھ بتا دیا
شانی بہت وقت ہوگیا ہے اب تم جاؤ سو جاؤ شانی کی حالت دیکھ کر اس نے حکم جاری کیا تو شانی فوراً ہی اس کے کمرے سے بھاگ گئی
اور اس کے بعد سے لے کر اب تک شانی کبھی نہ کبھی اس آزاد ماحول کے بارے میں بات ضرور کر
رہی تھی جس کے بارے میں سن کر ارتضی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی
اس کی بیوی ان بے لباس عورتوں سے جیلس ہو رہی تھی جن کی طرف دیکھنا بھی ارتضی حیدر گوارا نہیں کرتا
اور اس کی جیلسی دیکھ کر ہی ارتضی نے اب فیصلہ کیا تھا کہ وہ اسے اس کی اہمیت کا احساس ضروردلائے گا
ارتضیٰ نے اس کا تیز تیز استری پر چلتا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا اور دوسرے ہاتھ سے استری کو سیدھا کر کےرکھ دیا
تم میری بیوی ہو شانی ۔ اس دنیا میں کوئی بھی دوسری عورت تمھاری جگہ نہیں لے سکتی ۔ میں تم
سے محبت کرتا ہوں تم میرے لیے میری دوست میری بچپن کی ساتھی میری منگیتر میری منکوحہ اور مستقبل میں میری بیوی ہوگی ۔
تمہیں اس دنیا میں کسی بھی دوسری عورت سے جلنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تمہاری ذات مجھ سے جڑی ہے اس دنیا میں کوئی بھی عورت تمہاری جگہ نہیں لے سکتی ۔
تم میری ذات کا حصہ ہو ۔ میرے نکاح میں باندھی میرا لباس ہو ۔ اور ارتضی حیدر
صرف اور صرف تمہارا ہے اور یہ حق تم سے کبھی بھی کوئی بھی چھین نہیں سکتا
اس کے چہرے کواپنے ہاتھوں میں لئے وہ محبت سے اسے اپنے اور اس کے رشتے کا احساس دلا رہا تھا ۔
جبکہ اس کی باتوں سے سرخ ہوتی شانی بنا کچھ سوچے سمجھے اس کے سینے سے جالگی اور آنکھوں سےموٹے موٹے آنسو بہنے گے
ایم سوری ارتضی میں آپ پر شک نہیں کر رہی تھی ۔ وہ تو بس اس ماحول کے بارے میں سوچ کر
شانی کہتے کہتے رک گئی ۔
تمہیں کچھ بھی سوچنے کی ضرورت نہیں ہے شانی تمہارا ارتضی جیسے جائے گا ویسے ہی واپس آئے گا
۔ کیونکہ ارتضی کی زندگی میں شانی کے علاوہ اور کوئی نہیں آسکتا ۔
اسے اپنے سینے سے لگائے وہ دھیرے دھیرے اس کے بال سہلا رہا تھا لیکن جلد ہی شانی کو اپنی
پوزیشن کا احساس ہوا تو اس سے الگ ہونے کی کوشش کی لیکن ارتضی نے اس کی اس کوشش کو
ناکام بناتے ہوئے اسے مزید اپنی باہوں میں بھیج لیا ۔
ارتضی چھوڑیں نانو آجائیں گی ۔ وہ دھیرے سے منمنائی
ابھی تو چھوڑ رہا ہوں لیکن واپس آنے پر نہیں چھوڑوں گا پہلے بتا رہا ہوں ۔
میں آتے ہی شادی کی بات کروں گا تم بھی تیار رہنا جب بابا تم سے پوچھے تو جھٹ سے ہاں کر دینا ۔
اس نے ایک اور حکم جاری کیا
جبکہ شانی کا ارادہ ابھی پڑھنے کا تھا ۔ وہ اپنی پڑھائی ختم کر کے شادی کرنا چاہتی تھی ۔
جس کا اظہار وہ ارتضی کے سامنے نہ جانے کتنی بار کر چکی تھی لیکن ارتضی نے ہمیشہ کی طرح اس کی بات کو اگنور کر دیا ۔
شادی تو ویسے بھی کرنی ہی ہے نا کیا فرق پڑتا ہے دو سال بعد کریں یا چار سال بعد کم از کم میں اپنی پڑھائی تو مکمل کر لوں گی اس نے ایک اور ناکام کوشش کی ۔
کیا کرو گی اتنا پڑھ کے اور ویسے بھی تم اپنا بالکل خیال نہیں رکھتی ہو چھوڑو یہ پڑھائی اور اپنے آپ پردھیان دو میں چاہتا ہوں جب میں واپس آؤں تو میری خوبصورت سی بیوی میرا انتظار کر رہی ہو ۔
نہ کہ چشمہ لگائی ہوئی ہو اس نے اس کی چھوٹی سی ناک کو کھینچتے ہوئے پیار سے کہا ۔
فی الحال تووہ اس سے بہت پیار سے بات کر رہا تھا جب کہ وہ جانتی تھی کہ اگر ایک بار پھر سے اس نے ارتضی کے سامنے پڑھائی کا نام لیا تو وہ اس پر غصہ کرنے گئے گا ۔
اور پھر ہمیشہ کی طرح چلی تو اسی کی تھی تو پھر ضد کرنے کا کیا فائدہ ۔ وہ جو دو سال اسے مزید پڑھنے کے دے رہا تھا شاید وہ بھی چھین لے ۔
°°°°°°
لندن آنے کے بعد تو جیسے اسے کسی چیز کا ہوش بھی نہ رہا اس کی بزنس کورس اتناٹف تھا ۔۔۔ کہ
اس سے انجوائنٹ کرنے کا بالکل ٹائم نہیں ملتا ۔
نا تو اس کا اپنے دوستوں سے رابطہ تھا ۔ اور نہ ہی بابا سے جبکہ دادو کا حکم تھا کہ وہ شام کو دادو کو فون ضرور کرتا تھا ۔
لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اس نے کبھی بھی فون پرشانی کے بارے میں نہیں پوچھا تھا ۔
دادو یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھیں کہ وہ تقریبا روز ہی فون کرتا ہے اسے گئے ہوئے تقریبا دو ماہ ہو چکے تھے لیکن ایک بار بھی اس نے شانی کا ذکر نہیں کیا ۔
ایک بار تو انہوں نے شانی کو جا لیا کہ وہ تمہارے بارے میں پوچھتا کیوں نہیں ہے ۔۔۔۔ ؟ کہیں تم
نے اسے ناراض کر کے تو نہیں بھیجا جس پر شانی نے کہا سب کچھ بالکل ٹھیک ہے ۔ آپ پریشان
مت ہوں ۔
اور پھر نانو کی یہ پریشانی تقریبا ایک ماہ بعد دور ہوئی ۔
جب رات ایک بجے کے قریب ان کے کمرے میں پانی نہ ہونے کے باعث وہ اٹھ کر پانی پینے کیچن
میں آئی ۔
جب انہوں نے شانی کے کمرے سے سرگوشی نما آوازیں سنیں ۔
انہوں نے قریب آکر دیکھا تو ہمیشہ کی طرح شانی کا کمرہ لاک نہیں تھا ۔
انہوں نے ذرا سا کمرے کا دروازہ کھولا تو دیکھا کہ لیپ ٹاپ پر وہ دونوں ویڈیو کال میں مصروف تھے
شانی کان سے ہیڈ فون لگائے سرگوشی میں اس سے باتیں کر رہی تھی ۔
وہ جو شام کو فون کرتا اور تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد کہتا دادو مجھے کام ہے میں پھر فون کروں گا
اور یہ کہہ کر فون بند کر دینا اور یہاں رات کے ایک دو بجے تک وہ شانی سے باتیں کرتا رہتا تھا ۔
دادو بے اختیار مسکرائیں انہیں اب سمجھ میں آیا تھا کہ ان کا اکلوتا لاڈلا پوتا ان کی اکلوتی لاڈلی نواسی کے بغیر وہاں کیسے رہتا ہے ۔
°°°°°
وہ ہر روز رات دیر تک ایک دوسرے سے بات کرتے جس کی وجہ سے اکثر شانی کی نیند پوری نہ ہوتی
پھر نانو اسے خوب ڈانٹتیں ۔ لیکن کون سا اس کی یہاں پر چلنی تھی یہاں پر تو صرف ارتضی کی چلتی تھی وہ اپنی منوانا جانتا تھا
جان بوجھ کر تو نہیں لیکن ایک بار غلطی سے شانی رات کو جلدی سو گئی جس کی وجہ سے ارتضی سے بات نہ کر پائی
اس کے بعد پانچ دن ارتضی نے اس سے بات نہ کی نہ اسے فون کیا اور نہ ہی وہ آن لائن آیا پانچ دن
دادو سے بھی کوئی بات نہ ہوئی ۔
وہ تو کٹ کر رہ گیا تھا ان سب سے وہ تو صاف لفظوں میں کہتا تھا کہ جتنی محبت وہ شانی سے کرتا ہے اتنی کسی سے نہیں کرتا شانی کی لاپروائی نے اس کا دل دکھایا تھا جس کی سزا تو شانی کو ملنی ہی تھی
لیکن یہ سزاشانی کے ساتھ ساتھ دادو کو بھی ملی تھی ان کا پوتا پانچ دن ان سے لاتعلق رہا
پھر پانچ دن بعد جب خود ہی صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو رات کے تین سے فون کیا شانی پچھلے پانچ دن سے اس کے آن لائن آنے کا انتظار کر رہی تھی
اور جب اس سے بات کی تو اس طرح سے کی جیسے اس کی ذات پر کوئی بہت بڑا احسان کر رہا ہوں
احسان سے کم بھی نہ تھا شانی اس کی محبت میں مکمل طور پر ڈوب چکی تھی یہ بات ارتضی سے بھی چھپی ہوئی تو نہ تھی
ارتضی کا اگنور کرنا شانی کو بہت ہرٹ کر رہا تھا اس کا ارادہ اسے اس بات کا احساس دلانے کاتھا
لیکن جب ارتضی نے اپنے پر بیتی پانچ دنوں کی کہانی بتائی تو وہ جیسے خاموش ہوگئی
اس کی محبت کے سامنے شاید شانی کی محبت کچھ بھی نہ تھی ۔
شانی اس کی محبت نہیں بلکہ دیوانگی تھی ۔
جس کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار تھا
آج اس کی واپسی کی خبر ملی تو جیسے حویلی میں بہاریں واپس آنے کی خبر مل گئی ۔
ہر کوئی بے انتہا خوش تھا ۔سب سے زیادہ شانی جو نہ جانے کب سے اس کا انتظار کر رہی تھی ۔
کل رات اپنے واپس آنے کی خبر بھی سب سے پہلے اس نے اسی کو دی تھی
جس پرشانی نے التجا کی کہ وہ سب کے سامنے اس سے نہ ملے ۔
وہ بعد میں تنہائی میں ملیں گے کیونکہ ارتضی کا کوئی بھروسا نہیں وہ گھر والوں کے سامنے اسے اپنےسینے سے لگاتا تھا بنا کسی کا لحاظ کیے اس کی بے باکی شانی کے لیے ناقابل برداشت تھی
اس کی اس حرکت کی وجہ سے وہ شرم سے کٹ کر رہ جاتی لیکن وہ تو حق سے کہتا تم میری بیوی ہو
اور اس کے واپس آنے کی خبر سن کر اس کا سارا خاندان جما ہوا تھا اور سب کے بیچ میں وہ آکر شانی سے ملے یہ بات شانی کو گوارا نہ تھی
ویسے بھی رخسانہ کہا کرتی تھیں کہ تم نے تو ارتضی کو اپنے دوپٹے سے باندھ کے رکھا ہے ابھی سے ہی جوڑو کا غلام ہے وہ تو
یہ ساری باتیں اس سے بہت بری لگتی تھی ۔
اور یہی وجہ تھی کہ اس نے ارتضی کو خود سے ملنے سے منع کردیا لیکن ارتضی کو یہ بات بہت بری لگی
آخر وہ دو سال بعد واپس آرہا تھا اور یہاں شانی اس سے کہہ رہی تھی کہ وہ اس سے ملے گی ہی نہیں
جبکہ دو سال سے اپنی بے چینیوں اور بے تابیوں کی داستانیں وہ اپنے منہ سے سنا رہا تھا اسے ۔
لیکن شانی کو تو اس کی پرواہ ہی نہ تھی اس نے یہی نتیجہ نکالا برحال اس نے وعدہ کرلیا کہ وہ سب کے سامنے کوئی بے باکی نہیں دکھائے گا
اور اکیلے میں اسے نہیں بخشنے والا
پھر ایسا ہی ہوا اپنے کہے عین مطابق وہ دوسرے دن حویلی میں تھا سب کے بیچ ۔
دادو تو اسے اپنی آنکھوں کا تارا بنا کر اسے نظر کے سامنے سے ہٹنے تک نہ دے رہی تھیں ۔
وہ باری باری سب سے ملا شانی جو سب کے بیچ میں کھڑی تھی اسے اگنور کر کے آگے بڑھ گیا حال
بھی نہ پوچھا
اور پھر یہ اگنورٹس سارا دن چلتی رہی
کنزہ جو کہ رخسانہ کی بھتیجی تھی نہ جانے کتنی بار اس کے کان میں آکر کہہ گئی آخر وہاں اسے ہوا کیا
یہ توتمہارا عاشق نہیں رہا
وہ تو خود پریشان ہو کے رہ گئی اس نے بے باکی دکھانے سے منع کیا تھا اور یہاں یہ تو اس سے بات ہی نہیں کر رہا تھا ۔
یہ بات اس کے ساتھ ساتھ پورے خاندان نے نوٹ کر لی تھی کچھ تو گڑ بڑ ہے
نانو نے بھی اسے ایک دو بار اپنے پاس بلا کر پوچھا آخر ارتضی کو ہوا کیا ہے تجھ سے ناراض تو نہیں ۔
جس پر اس نے لاعلمی کا مظاہرہ کر دیا اب نہ جانے اسے کیا ہوگیا تھا
میں پوچھ لوں گی نانو کل تک تو سب کچھ ٹھیک تھا ۔
°°°°°°
شام ہوئی پھر رات ہوئی ارتضی نے اس سےکوئی بات نہ کی بلکہ اسے جہاں بھی دیکھتا وہاں سے کہیں اور نکل جاتا ۔
پورے خاندان والوں نے باتیں بنائی ہر کسی کا یہ کہنا تھا کہ جس ملک میں یہ رہ کر آیا ہے وہاں سے
آنے کے بعد مرد سیدھی سادی عورتوں کو نہیں پوچھتے ۔
ہر کوئی بات بات پر اسے طعنہ سنا تا ۔
وہ کہاں عادی تھی ان سب باتوں کی وہ تو سارے خاندان میں مشہور تھی
کہ اس کا شوہر اس سے سچی محبت کرتا ہے لیکن اب تو پورے خاندان کے سامنے تھا کہ وہ اسے
کس طرح سے اگنور کر رہا تھا
اب اس نے بھی غصے میں فیصلہ کرلیا کہ چاہے جو بھی ہو جائے وہ ارتضی سے کبھی بات نہیں
کرے گی ۔
°°°°°°
رات کو تقریبا ڈھائی بجے کا وقت تھا جب اس کا دروازہ زور سے بجا وہ زیادہ تر اپنا دروازہ لاک نہیں کرتی تھی لیکن آج گھر میں کافی مہمان تھے ۔
اور کافی سارے باہر کے لوگ بھی تھے اسے تو ویسے بھی اجازت نہ تھی کسی کے سامنے آنے کی
ارتضی کی سختی کی وجہ سے وہ اختیاط بھی کرتی تھی
کون ہے اس نے نیند سے بوجھل آواز سے پوچھا ۔
باہر سے کوئی آواز نہ آئی تو مجبوراً اٹھ کر دروازے کے پاس آئی۔
آرام سے دروازہ کھولا تو وہ جان دشمن وائٹ ٹروزر پے ہاف سلوز شرٹ پہنے اس کے سامنے کھڑا تھا ۔
دروزا کھلتے ہی تیزی سے اندر آیا اور اندر سے دروازہ لاک کر دیا سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا کہ شانی کوکچھ سمجھ ہی نہیں آیا ۔
°°°°°°
اگر کچھ سمجھ میں آیا تو وہ یہ کہ اگلے ہی لمحےوہ ارتضی کی باہوں میں تھی
اسے سختی سے اپنے سینے میں بھیجے اپنی بے تابیاں مٹا رہا تھا ۔
آئی مس یو سو مچ وہ اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھتا کہنے لگا جب شانی کو سمجھ میں آیا تو اس نے زور سے اسے دھکا مار کے خود سے پیچھے کیا ۔
اب آئی میری یاد ۔ سب کے سامنے میری بے عزتی کروا کے شانی نے روٹھے پن سے کہا
لیکن اس وقت وہ شانی کے نخرے اٹھانے کے موڈ میں نہیں بلکہ اپنے نخرے اٹھوانے کے موڈ میں
تھا اسی لئے جب شانی نے اسے خود سے دور کیا کہ اسے بہت غصہ آنے لگا وہ تو اسی کے بات مان
رہا تھا اسی کے کہے پر چل رہا تھا
اور شانی سے نخرے دکھا رہی تھی
دیکھو شانی جو تم نے کہا میں نے وہی کیا ہے
اس نے انگلی اٹھا کر اسے اس کی بات یاد دلوا نہ چاہی
کیا میں نے کہا تھا سب کے سامنے مجھے اگنور کرنے کے لئے اس کے اس طرح سے کہنے پرشانی کو
بھی غصہ آگیا
نہیں تم نے یہ کہا تھا کہ سب کے سامنے کسی بھی قسم کی بے باکی نہ دکھائیں
۔ اور میں نے تمہاری بات مانتے ہوئے کسی کے سامنے بھی اپنی بے باکی نہیں دکھائی اور اب تم مجھے نخرے دکھا رہی ہو
مجھے آپ سے بالکل بھی کوئی بات نہیں کرنی چلے جائیں میرے کمرے سے باہر شانی نے اسے باہر
کا راستہ دکھایا ۔
لیکن اس کی بات پر اسے مزید غصہ آگیا
تم ہوتی ہو مجھ سے بات نہ کرنے والی اور مجھے کمرے سے باہر نکالنے والی میں اگر چاہو نا ابھی کے
ابھی اٹھا کر اپنے کمرے میں لے جا سکتا ہوں حق رکھتا ہوں میں ۔
اسی لئے اپنے یہ نخرے کم کرو اور ایک حد میں رہو ۔ اسے کھینچ کر اپنے قریب تر کرتا ہوا وہ کہنے لگا
کبھی کبھی وہ اس سے اس لہجے میں بات کرتا تھا کہ شانی کو اپنا آپ بالکل بے مول لگتا
وہ سمجھ نہیں پاتی تھی کہ وہ اس کا شوہر ہے یا مالک ۔
وہ اس کی بیوی ہے یا کنیز جو اس کی ہر بات پر اس کی جی حضوری کرے گی ۔
اس سوچوں میں چھوڑے وہ اسے اپنے قریب تر کرنا اپنے سینے سے لگا چکا تھا ۔
کتنی ہی دیر اسےباہوں میں لیےکھڑا رہا پھر بنا کچھ بولے اس کے ماتھے پر لب رکھ کر باہر نکل گیا ۔
کبھی کبھی اس کا رویہ شانی کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر جاتا
صبح سب کچھ روٹین کے مطابق تھا جیسے پہلے ہوتا تھا ویسے ہی ہو رہا تھا ۔
وہ ہر بات پرشانی کو آوازیں لگاتا جس پر گھرمیں موجود مہمان دبی دبی ہنسی ہنستے اسے یہاں سے وہاں جاتے دیکھتے ۔
کل رات کی وجہ سے وہ اس سے ناراض تھی لیکن وہ اسے منانے نہیں آیا کیونکہ اس کے مطابق زیادہ
غلطی شانی کی تھی تو اسے معافی مانگنے آنا چاہیے تھا ۔
لیکن وہ جانتا تھا کہ اس وقت شانی اس سے ناراض ہے وہ اس کی ناراضگی افورڈ نہیں کر سکتا تھا ۔
اس لئے بار بار اسے آوازیں دیتا کبھی ایک کام بتاتا کبھی دوسرا کام بناتا سب مہمانوں کے سامنے
اپنی تمام تر بے باکیاں بھی دکھا رہا تھا
شانی تو اس سے کہہ کر پچھتائی یہ تو تہہ ہو گیا تھا کہ آج کے بعد شانی اسے کبھی کسی کام کے لئے
منع نہیں کرے گی
پھر مہمان آہستہ آہستہ رخصت ہونے گئے اور جانے سے پہلے سب نے ایک ہی بات کہی اب رخصتی
کر ہی دو ۔
جس پر ان سب کی بات پر حامی بھرتے ہوئے ارتضی نے کہا کہ بہت جلد آپ کو انوسٹیشن مل
جائے گا ۔
سب چلے گئے لیکن کنزہ نہیں گئی اور کنزہ کی جابجا نظر ارتضی پر جانے لگی جسے ارتضی نے جلدی ہی نوٹ کرلیا ۔
جبکہ دوسری طرف کا کنزہ شانی کو اپنا بیسٹ فرینڈ بنائے گھوم رہی تھی اور وہ بے وقوف لڑکی سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی ۔
کہ اس کی دوستی کو سیڑھیاں بنا کر وہ کونسی منزل حاصل کرنا چاہ رہی تھی
آجکل ارتضی اور نانو کچھ زیادہ ہی ساتھ ساتھ بیٹھنے گئے تھے ویسے تو ارتضی کم ہی گھر رہتا تھا لیکن آج کل وہ کبھی ماموں کے کمرے میں اور کبھی نانو کے کمرے میں پایا جاتا ۔
جبکہ وہ آجکل کنزہ کے ساتھ تھی وہ اور کنزہ ساتھ ساتھ رہنے لگی دونوں ساتھ کالج جاتی تھی اور تو اورکنزہ نے اسے پرفارمنس کرنے کے لئے بھی فورس کیا وہ اچھی ایکٹنگ کر لیتی تھی ۔ اور کنزہ کہتی تھی
کہ وہ بہت ٹیلنٹڈ ہے اور اسے اپنا یہ ٹیلنٹ اس طرح سے ضائع نہیں کرنا چاہئے کنزہ نے سے کہا کہ
وہ جانتی ہے کہ ارتضی کبھی بھی اسے اس فیلڈ میں آنے کی اجازت نہیں دے گا
لیکن وہ اپناشوق پورا کر سکتی ہے کالج لائف میں ۔
اسے بھی کنزہ کا آئیڈیا بہت اچھا لگا تھا ۔
اسی لیے اس نے پرفارمنس کے لیے آڈیشن دے دیا ۔
جہاں نہ صرف اس کے ایکٹنگ کو پسند کیا گیا
بلکہ اسے لیلٰی کا کردار دیا گیا ۔
اسے شروع سے ہی لیلٰی مجنوں کی کہانی بہت زیادہ پسند تھی۔ اسے کبھی کبھی لیلیٰ مجنوں کی کہانی بالکل اپنی کہانی جیسی لگتی تھی ۔
کہتے ہیں لیلیٰ بہت خوبصورت نہیں تھی لیکن مجنوں پھر بھی اس سے محبت کی انتہا تک چاہتا تھا ۔
بالکل اس کی کہانی کی طرح روشانے بھی زیادہ خوبصورت نہ تھی لیکن ارتضی کی محبت نے اسے کیا سے کیا بنا ڈالا تھا ۔
ارتضی کی باتوں سے کبھی کبھی ایسا لگتا کہ وہ دنیا کی سب سے حسین ترین لڑکی ہے جس پر ارتضی مرمٹا ہے ۔
اس نے ابھی تک گھر میں کسی کو نہیں بنایا تھا کہ وہ پرفارم کرنے والی ہے ۔ اور اسے یہ بھی پتا نہ
تھا کیا اس کے ساتھ ایکٹر کون ہوگا ۔ ۔
بس اسے کچھ پتہ تھا تو یہ کہ جس نے اس شو کو اوگنائز کیا ہے وہ ترکی سے آیا ہے ۔
اس کے بابا کے ملک سے آج گھر آنے کے بعد اس نے بابا کو فون کر کے بتایا ۔ لیکن بابا اس کی بات
کہاں دھیان سے سنتے تھے وہ تو بس ایک ہی بات کہتے بیٹا تم میرے پاس آجاؤ اور وہ یہی کہتی
کہ وہ نانو اور ماموں کو چھوڑ کر نہیں آ سکتی لیکن سچ تو یہ تھا کہ وہ ارتضی کو دیکھے بنا بھی نہیں رہ سکتی تھی ۔