Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan By Areej shah Readelle50295 (Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Epi 9
No Download Link
Rate this Novel
(Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Epi 9
وہ آہستہ سے دروازہ کھولتی کمرے میں داخل ہوئی اسے پتہ تھا کہ وہ اس سے بہت ناراض ہے ۔
کمرے میں گھپ اندھیرا تھا اور سگریٹ کا دھواں پورے کمرے میں پھیلا ہوا تھا وہ اکثر جب پریشان
ہوتا تب سیگریٹ بھی تھا ۔
اور یہ بات گھر میں سوائے شانی کے اور کوئی نہیں جانتا تھا ۔ لیکن بابا کو اندازہ تھا ۔
یہ آپ کیا کر رہے ہیں مجھ سے ناراض ہیں نا تو مجھ پر غصہ نکالیں اپنی صحت کیوں خراب کر رہےہیں اس نے ارتضی کے لبوں سے سگریٹ نکالے ہوئے زمین پر پھینک کر کہا ۔
یہ صرف تمہاری ہمت ہے میں صرف تمہیں ہی ایسا کرنے دیتا ہوں ۔ تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو اس وقت تک میرے ہاتھ کا تھپڑ کھا چکا ہوتا ۔ وہ بے انتہا غصے سے کہتا ہوا اس سے منہ پھیر گیا
تو مجھے بھی مارلیں تھپڑ ۔ ۔ لیکن کم از کم اپنی صحت تو نہ خراب کریں ۔
اگر تمہیں اتنی پرواہ ہوتی تو وہ سب کچھ نہیں کہتی وہ اس کی بات اڑے ہوئے بولا ۔
ارتضی وہ صرف ایک مذاق تھا اور کچھ بھی نہیں شانی نے اس کے سامنے آکر بیٹھتے ہوئے کہا ۔
ہاں مذاق اور وہ تمہارا مذاق اگر میری جان نکال دیتا تو ۔ وہ اس کے بازو دونوں ہاتھوں میں تھامنے
ہوئے بولا ۔
ارتضی کیا ہوتا جارہا ہے آپ کو ۔ وہ صرف ایک مذاق تھا صرف مذاق آپ ایک مذاق کو اتنا سیریس کیسےلے سکتے ہیں
وہ بے بسی سے پوچھنے لگی
جبکہ اپنا آپ چھڑوانے کی وہ ناکام کوشش کر رہی تھی
تمہارے معاملے میں اتنا ہی سیریس ہوں شانی یہ بات تم ہمیشہ سے جانتی ہو ۔
شانی کو اپنے بازو میں اس کی انگیاں دستی ہوئی محسوس ہوئی ۔
اچھا ایم سوری غلطی ہوگئی مجھ سے میری غلطی ہے معاف کردیں ۔ وہ ہمیشہ کی طرح اس کے سامنےہار گئی ۔
کردوں گا میرے ساتھ شاپنگ پے چلو ۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا ۔
ٹھیک ہے چلیں ۔ وہ جانتی تھی اگر اس نے اس وقت ارتضی کے سامنے انکار کیا تو وہ اس سے دو
ہفتے تک بات نہیں کرے گا ۔
اور یہ بات بھی اس سے چھپی ہوئی نہ تھی کہ اس گھر میں ارتضی کے علاوہ کسی کی نہیں چلتی تھی
۔ اور اس نے اسے شادی کے بعد اپنی پڑھائی کے لیے بھی منانا تھا کیونکہ نانو نے کہا تھا ۔
جتنا پڑھ لیا اتنا بہت ہے ہم نے کونسا تم سے کوئی نوکری کروانی ہے ۔ جبکہ شانی اپنی پڑھائی کے
شوق کو بیچ میں نہیں چھوڑ سکتی تھی ۔
اور اتفاق سے جس دن اس کا شو تھا اسی دن اس کی مہندی کی رسم ادا ہونی تھی ۔
گڈ گرل ایسے ہی ساری زندگی میری ہر بات مانتی رہنا وہ پیار سے اس کا گال تھپتھپا کر فریش ہونے چلاگیا
°°°°°°°°
اب یہ کیا بات ہوئی تمہاری مہندی ہے شانی اور تم اس دن کالج جاوگی میں نہیں جانے دوں گا ۔
اور نہ ہی دادو سے اس بارے میں بات کروں گا
تمہیں پتا ہے یہ سب باتیں مجھے بالکل پسند نہیں ہیں ۔
میں اپنی شادی ہر لحاظ سے پرفیکٹ کرنا چاہتا ہوں ۔ اور تم شادی والے دن اپنے کالج میں اس شو
کے لیے جاؤ گی ۔
نو نیور ۔
کیا ہوگیا ہے آپ کو ارتضی ایک ہی تو خواہش ہے میری اسے پورا کرنے دیں نانو نے تو شادی کے بعد
پڑھنے پر بھی منع کردیا ہے میں کالج بھی کبھی نہیں جا پاؤں گی ۔
شانی اداسی سے بولی ۔
بلکل ٹھیک کیا ہے دادو نے تمہیں کالج جانے سے منع کر کے کوئی نہیں پڑھنے والی تم شادی کے
بعد میں نہیں چاہتا کہ شادی کے بعد بھی تم اپنا سارا وقت اس پڑھائی پر ضائع کرو بس جتنا پڑھنا تھاپڑھ لیا ۔
اب تم اپنا سارا دھیان مجھ پر دو گی اس پڑھائی پر نہیں ۔
اس نے فیصلہ سنانے والے انداز میں کہا ۔
اس سے اچھا تھا کہ میں بابا کے پاس ترکی میں ہی ہوتی کم از کم اپنی مرضی سے اپنی پڑھائی تو مکمل کر سکتی تھی ۔
یہاں پر تو میری کسی بات کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے ۔
میری شادی ہو رہی ہے ۔ جس کے لیے مجھ سے ایک بار بھی پوچھا تک نہیں گیا ۔
شادی کے بعد میں پڑھائی بھی نہیں کر سکتی ۔
ایک دفعہ اسٹیج پر سب کے سامنے پرفارمنس کرنا چاہتی ہوں لیکن اس کے بیچ میں بھی یہ شادی آگئی
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے میری کوئی زندگی ہے ہی نہیں ۔
میں ایک کٹھ پتلی ہوں ۔ ایک بے جان گڑیا ۔ جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی دوسروں کے کہےپرچلتی ہے میں بھی ایسی ہی ہوں ۔
اچھا بابا کر لینا تم اپنی پرفارمنس ۔ وہ آہستہ آہستہ بڑابڑتی اس کے ساتھ چل رہی تھی جب ارتضی نےکہا ۔
ارتضی آپ سچی کہہ رہے ہیں نہ بعد میں بدل تو نہیں جائیں گے وہ چہکتے ہوئے بولی ۔
اس کا خوشی سے دمکتا چہرہ دیکھ کر ارتضی بھی مسکرایا ۔
ہاں سچ کہہ رہا ہوں لیکن میرے سامنے اس طرح کی بائیں مت کیا کرو ۔
پتا نہیں کون کون سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے ہیں میں نے تم پر یہ شادی صرف میری نہیں
تمہاری بھی مرضی سے ہی ہو رہی ہے ۔
اور دوبارہ یہ ترکی جانے کی بات مت کرنا ورنہ ٹانگیں توڑ دوں گا ۔
اور جہاں تک تمہاری پڑھائی کی بات ہے تو چلی جانا شادی کے بعد کالج میں تمہیں منع نہیں کروں گا ۔
وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اپنے ساتھ مال کے اندر لے گیا ۔
ارتضی آپ بہت اچھے ہیں تھینک یو سومچ
وہ خوشی خوشی اس کے ساتھ مال کے اندر چلی آئی ۔
اچھا شادی کی ڈریس تمہاری میری مرضی سے ہو گی ۔
اور مہندی کی تم اپنی مرضی سے لے لو ۔
بعد میں یہ مت کہنا کہ ڈریس بھی اپنی مرضی کی نہیں دلوائی یہاں پر بھی تمہارے ساتھ ظلم ہوا ہے ۔
وہ شرارت سے بولا ۔
ارتضی کواپنا مذاق بناتے دیکھ کر وہ چڑ گئی تھی ۔
لیکن ارتضی کے خوشگوار موڈ میں وہ کچھ نہیں کہتی تھی
°°°°°°
یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے میرے بچے تمہاری نانو نے کہا کہ یہ سب کچھ تمہاری مرضی سے ہو رہا ہے
اسی لئے میں خاموش ہوگیا ۔
بیٹا ابھی تو تمہاری ایجوکیشن بھی کمپلیٹ نہیں ہوئی اور اتنی جلدی شادی میں تو اتنی کم عمری میں میں تمہاری شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ابھی تو تمہارے کھیلئے کودنے کے دن ہیں آخر تمہیں کیوں اتنی جلدی ہے شادی کی ۔
اگر تم پر ارتضی کا پریشر ہے تم مجھے بتاؤ میں سب کچھ ٹھیک کردوں گا اگر تم چاہو تو میں تمہیں ابھی کے ابھی ترکی بلا سکتا ہوں ۔
تم یہاں آجاؤ میرے پاس میں سب کچھ ٹھیک کردوں گا اور ویسے بھی تم دونوں کا نکاح ہو چکا ہے
تم دونوں جب چاہے شادی کر لینا لیکن اس وقت مجھے اتنی جلدی شادی ٹھیک نہیں لگتی میں نے
تمہارے ماموں سے پوچھا انہیں نے کہا اس شادی میں تمہاری مرضی ہے
اور اگر ایسا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔
لیکن میں سچ کہوں تو میں دل سے رشتے کے لیے راضی نہیں ہوں فلحال نہیں ہوں ۔
ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے میں اتنی جلدی تمہاری شادی نہیں کرنا چاہتا ۔
بابا نے آج اسے کافی دنوں کے بعد فون کیا تھا اور وہ ایک ہی بات کہہ رہے تھے کہ اتنی جلدی اس
کی شادی نہیں ہونی چاہیے ۔
وہ بھی بابا کی بات سے ایگری کرتی تھی لیکن وہ کیا کرتی ارتضی سے محبت میں وہ اس حد تک ڈوب چکی تھی کہ اب آگے کوئی کنارہ نہ بچاتھا ۔
بابا میں اس شادی سے بہت خوش ہوں آپ پریشان نہ ہوں یہ شادی میری مرضی سے ہو رہی ہے اور جہاں تک میری پڑھائی کا سوال ہے
تو ارتضی نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ شادی کے بعد بھی میں اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتی ہوں
اور میں ترکی نہیں آنا چاہتی میں کیا کروں گی وہاں آکر میں یہاں بہت خوش ہوں
آپ پلیز میری شادی میں آجائیں ۔
میری جان یہ ممکن نہیں ہے تم جانتی ہو یہاں میرا کام ہے میں اگر ایک دن بھی یہ کام چھوڑ دوں تو بہت مسائل ہو جائیں گے ۔
بابا کے لہجے سے وہ کافی پریشان لگ رہے تھے
تمہیں کیا لگتا ہے میں اپنی بچی کی شادی میں نہیں آنا چاہوں گا یہ تو میری خواہش ہے میں اپنی اکلوتی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے رخصت کرنا چاہتا ہوں ۔
اس بارے میں میں نے تمہارے ماموں سے بھی بات کی تھی لیکن انہوں نے کہا کہ ارتضی کو بہت
جلدی ہے ۔
ورنہ وہ میرے وہاں تک آنے کے لئے ضرور انتظار کرتے
– بابا کے شادی پر نہ آنے کی بات سن کر شانی بہت اداس ہو گئی ۔
بابا کیا آپ میری شادی پر بھی نہیں آئیں گے ۔ وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی
میرا بچہ میری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کرو ۔ بابا کی اداسی وہ صاف محسوس ہو رہی تھی
ہمہم ۔ بس اتنا کہہ کر اس نے فون بند کر دیا جبکہ سات سمندر پار بیٹھا اس کا باپ اسکے ایک لفظ جس کا کوئی مطلب بھی نہیں تھا سن کر تڑپ اٹھا
°°°°°°°
میری جان اتنی ذرا سی بات پر پریشان ہوگئی میں تمہیں ہنیمون پر ترکی لے جاؤں گا ۔
وہ ابھی اس کے کمرے میں آیا تو اسے روتا ہوتا ہوا دیکھ کر وجہ پوچھنے لگا ۔
اس کی اداسی ارتضی کو اچھی نہ لگی تھی ۔
ارتضی کیا یہ آپ کے لیے چھوٹی سی بات ہے وہ آنسو بہاتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
بالکل بھی نہیں یہ بہت بڑی بات ہے بلکہ یہ تو مسئلہ کشمیر ہے لیکن ہم اس مسئلہ کشمیر کو شادی کے بعد حل کرلیں گے وہ اسے مناتے ہوئے آنسو صاف کرنے لگا ۔
ارتضی آپ کے لیے ہر بات ایک مذاق ہے کیا ۔ میرا باپ میری شادی پے نہیں آرہا ۔
اور آپ اس بات کو ہنسی میں اڑا رہے ہیں ۔ وہ دکھ سے بولی
بالکل بھی نہیں میں اسے ہنسی میں نہیں اڑا رہا میں بس تمہیں یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ
میرے بابا بھی تو تمہارے بابا ہیں
بلکہ مجھ سے زیادہ وہ تمہارے ہیں ۔
اس گھر میں اور بھی لوگ ہیں جو تم سے پیار کرتے ہیں اور تمہاری اداس شکل دیکھ کر اور اداس ہو جائیں گے ۔
دادو کے بارے میں سوچا ہے تم نے تمہارے لئے کتنی خوش ہیں وہ ۔
کل میں ان کے کمرے میں گیا تو اندر بیٹھی رو رہی تھیں میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگیں میں اپنی بیٹی کو رخصت کر رہی ہوں ۔
اس کی بات پرشانی نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔
ویسے مجھے ان کی بات پر ہنسی آرہی تھی تم کونسا رخصت ہوتے کہیں اور جارہی ہو ۔
لیکن پھر میں نے سوچا کے آخر انہوں نے تمہیں پالا ہے تمہیں اتنا پیار دیا ہے تم بھی تو ان سے اتنی
محبت کرتی ہو ۔ تمہارے رخصت ہونے پر انہیں دکھ تو ہو گا ہی نا ۔
اب بے شک تم رخصت ہو کر بس ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں آجاؤ گی ۔
بابا بھی پریشان تھے یہ سوچ کے تم رخصت ہو رہی ہو ۔ ارے بھئی مجھے سمجھ میں نہیں آتا آخر مسئلہ کیا ہے وہ لوگ صرف تمہیں دوسرے کمرے میں بھیج رہے ہیں وہ بھی جو ایک ہی گھر میں موجود ہے
اور رونا دھونا ایسا مچارکھا ہے جیسے تمہیں دوسرے پلینٹ میں شفٹ کر رہے ہو ۔
ارتضیٰ نے اس طرح سے منہ بنا کر کہا کہ شانی کی ہنسی نکل گئی ۔
آپ نہیں سمجھ سکتے ارتضی صاحب یہ ماں باپ کی اپنی بیٹی کے لیے محبت ہوتی ہے ۔
وہ منہ بنا کر بولی اوراپنا چہرہ دھونے کے لے واش روم چلی گئی اگلے پانچ منٹ میں وہ مکمل فریش ہو کر اسے ایسے ہی اپنے کمرے میں بیٹھا چھوڑ کر باہر نکل گئی
تھوڑی دیر کے بعد ارتضی باہر آیا تو وہ دادو اور بابا کے درمیان بیٹھی ان سے لاڈ اٹھوانے میں مصروف تھی
وہ بھی مسکراتے ہوئے ان کے ساتھ آبیٹھا ۔
جبکہ دروازے پر کھڑی رخسانہ اور کنزہ یہ منظر دیکھ کر ایک بار پھر سے جل اٹھی تھیں
°°°°°°°
جلدی کچھ کریں پھو پھو یہاں تو شادی ہونے جارہی ہے ۔ مجھے تو لگ رہا ہے میں ارتضی کو کھو دوں گی
کنزہ نے رونے جیسی شکل بنا کر کہا
ہاں تو تمہیں جو کام دیا تھا وہ کرو نا آج کل تو شانی کالج نہیں جا رہی ۔
پھو پھو غصہ دبانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔
کیوں کہ انہیں لگ رہا تھا کہ اس کام کے لیے انہوں نے غلط انسان کو چنا ہے
میں گئی تھی آفس میں آج وہاں تنزیل سر تھے ہی نہیں پر فکر نہ کریں میں کل پھر ضرور اپنا کام کر
کے آؤں گی ۔
°°^^^
کنزہ تنزیل کے آفس کے باہر کھڑی اس سے اندر آنے کی اجازت مانگ رہی تھی
اسے دیکھتے ہی تنزیل مسکرایا اور اسے اندر آنے کی اجازت دے دی
کنزہ آج میں ویسے بھی آپ سے بات کرنے کے لیے آنے والا تھا کیا آپ مجھے بتا سکتی تھی کہ
روشانے اتنے دن سے کیوں نہیں آرہی ۔
اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ پوچھنے لگا ۔
وہ دراصل سر اس کی شادی ہونے جارہی ہے
کنزہ نے ایک انداز سے تنزیل کے سر پر دھماکہ کیا ۔
شادی ۔ ۔ کیا مطلب ہے شادی اتنی جلدی ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے ۔ تنزیل کو واقع ہی کنزہ کی سوچ کے مطابق جھٹکا لگا تھا ۔
سر یہ باتیں ہم سمجھتے ہیں وہ لوگ نہیں جنہوں نے اسے پالا ہی اسی مقصد کے لئے ہو ۔
میرا مطلب ہے مجھے بھی شانی پر بڑا ترس آتا ہے ۔
اب دیکھیں ناں دو سال پہلے وہ صرف سولہ سال کی تھی جب اس کا نکاح ہوگیا ۔
اور نکاح بھی کس کے ساتھ جو اس سے عمر میں سات آٹھ سال بڑا ہے ۔
پر اس سے کیا فرق پڑتا ہے وہ لوگ کون سا اس چیز کو دیکھتے ہیں ۔ میری بہن جیسی سہیلی کی زندگی برباد ہو رہی ہے اور میں کچھ نہیں کر سکتی کنزہ لہجے کو اداس بناتے ہوئے بولی ۔
کنزہ پلیز مجھے صاف بات بتائے آخر آپ کہنا کیا چاہتی ہے کس کا نکاح ہوا ہے دو سال پہلے روشانے
کی شادی اتنی اچانک کیوں ہو رہی ہے ۔۔۔؟
وہ اب مزید اس کی فضولیات نہیں سن سکتا تھا ۔
سر دراصل اس کی ماں کا انتقال ہوگیا تھا باپ اسے چھوڑ کر چلا گیا ۔ تب وہ محض ایک سال کی تھی
اسے اس کے ماموں اور نانی نے پالا ۔ جس کے بعد اس کے ماموں کا بیٹا ارتضی بھی اسے اپنی پراپرٹی سمجھنے لگا ۔ پھر کیا تھا بنا اس سے پوچھے بنا اس کی مرضی جانے زبردستی اس کا نکاح کروا دیا
دوسال پہلے ۔اور اب زبردستی شادی کروا رہے ہیں ۔
زبردستی شادی۔۔۔۔۔۔ تنزیل نے اس کی بات کاٹی ۔
جی سر کنزہ اس کے چہرے پر جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی ۔ اسے یقین تھا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکی ہے
ایسے کیسے کر سکتے ہیں وہ میں ہرگز نہیں ہونے دونگا ایک معصوم لڑکی کی زندگی اس طرح سے برباد نہیں ہونے دوں گا ۔
تنزیل تیز آواز میں بولا ۔
کیا کر لینگے آپ سر کیا آپ اس کے گھر رشتہ لے کے جائیں گے ۔کیا آپ سب کو یہ بتائیں گے کہ شانی آپ سے محبت کرتی ہے ۔ کنزہ کی بات پر تنزیل عجیب سی نظروں سے اس کی طرف
دیکھنے لگا ۔
او آئی ایم سوری یہ بات اس نے مجھے بتانے کے لئے منع کی تھی ۔ ایم سوری میں کچھ اور بتانا چاہتی تھی میرے منہ سے غلطی سے نکل گیا ۔ کنزہ گھبرانے کی بھرپور کوشش کرنے لگی
ایک منٹ کنزہ جو تم نے ابھی کہا ہے کیا وہ سچ ہے کیا روشانے مجھ سے ۔۔۔۔
جی سر لیکن وہ ارتضی سے بہت زیادہ ڈرتی ہے
وہ کبھی آپ کو یہ بات نہیں بتا سکتی ۔ مگر اس نے اپنے دل کی یہ بات مجھ سے شیئر کی تھی اپنا
رازدار بنا کے اور میں نے کیا کیا کنزہ خود کو ملامت کرتے ہوئے بولی ۔
کنزہ آپ کو اس بات کا یقین ہے نہ تنزیل کو کبھی بھی شانی کے رویے سے ایسی کوئی بات محسوس نہ ہوئی تھی
سر کیا ہوگیا ہے آپ کو یہ بات اس نے خود مجھے بتائی ہے ورنہ آپ کو کیا لگتا ہے اس دن جب آپ
نے ہمارے گھر آنے کی بات کی تو وہ کیوں نہیں کچھ بھی بولی
کیونکہ اسے آپ میں اپنا مسیحا نظر آتا ہے وہ آپ سے محبت کرتی ہے چاہتی ہے وہ آپ کو لیکن یہ بات اس نے مجھے آپ کو بتانے سے منع کی تھی بلکہ کسی کو بھی بتانے سے منع کی تھی اور میں نے آپ کو بتا دی ۔
آپ نے بہت اچھا کیا کنزہ ۔ اور بالکل ٹھیک سوچا آپ نے میں رشتہ لے کر اس کے گھر ضرور جاؤں
گا آپ نے بس اسے اس بات کے لئے راضی کرنا ہے کہ میرے رشتے کے لیے وہ ہاں بولے ۔
باقی پولیس کیسں کر کے طلاق کا میں انتظام خود کروا لوں گا وہ اٹھارہ سال کی بالغ لڑکی ہے ۔
جو اپنا صحیح اور غلط سمجھتی ہے آپ نے ایک دوست ہونے کا حق ادا کیا ہے ۔ بس ایک احسان مجھ پر اور کردیں
اسے کہیے کہ سب کے سامنے میرے رشتے کے لیے ہاں کردے ۔
اور جہاں تک بات ہے اس ارتضی کی تو اس کے لئے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔
میں احسن حیدر کا مقابلہ بھی کر لوں گا اور اس کے بیٹے ارتضی حیدر کا بھی ۔
°°°°°°°
نہیں ارتضی میں بہت تھک چکی ہوں مسلسل کتنے دنوں سے ہم بازار کے چکر لگا رہے ہیں اب میں
نہیں جا سکتی شانی نے ہار مانے ہوئے کہا ۔
شانی یہ لاسٹ ہے یار ۔ سب کچھ کمپلیٹ ہو جائے گا ۔ بس آخری بار میرے ساتھ چلو ارتضی اس کی
منتیں کرنے لگا
کوئی لاسٹ نہیں ہے آپ کا تو لاسٹ ہوگا ہی نہیں پھر کچھ نہ کچھ اور نکل آئے گا
آپ ایسا کریں ماموں یا نانو میں سے کسی کو لے جائیں میں بہت تھک چکی ہوں اب میں نہیں جا رہی وہ آج صبح سے دو تین بار بازار سے ہو کے آئے تھے ۔
لیکن ارتضی کا اپنی شادی کو پرفیکٹ بنانے کا شوق اسے بہت مہنگا پڑ رہا تھا ۔
وہ ہر تھوڑی دیر میں کوئی نہ کوئی چیز مسگ بول کر اسے اپنے ساتھ لیے بازار چلنے لگتا ۔
جبکہ مایوں کی رسم کے لیے وہ منع کر چکا تھا اس کا کہنا تھا کہ وہ شانی کو دیکھے بغیر ایک دن بھی نہیں رہ سکتا اسلئے مایوں کی رسم ہو گی ہی نہیں ۔
بہت منتیں کرنے کے بعد بھی وہ نہ مانی ۔
اور اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی ۔
ارتضی تھوڑی دیر کے بعد اس کے کمرے میں آیا تو وہ سو رہی تھی ۔ وہ واقع ہی کافی تھکی ہوئی لگ
رہی تھی ارتضی نے اسے مزید ڈسٹرب نہ کرتے ہوئے اس کے کمرے کا دروازہ بند کیا اور باہر نکل آیا
°°°°°°°
شانی بھی نہ بہت عجیب ہے وہ ابھی باہر آکر صوفے پہ بیٹھ تھا جب کنزہ بولی ۔
وہ اسے کم ہی مخاطب کرتا تھا خاص کر اس دن کے بعد تو بلانا ہی چھوڑ دیا لیکن شانی اسے کسی نہ کسی بات میں گھسیٹ لاتی تھی
پھر مجبوراً اسے اس سے بات کرنی پڑتی
کیا مطلب ۔ بات اگر شانی کے بارے میں نہ ہوتی تو وہ اس سے نہ پوچھتا
ارے مطلب مجھے تو اتنا شوق ہے شادی کیلئے اپنی چیزیں لانے کا مجھے کیا ہر لڑکی کو ہوتا ہے لیکن ایک شانی ہے جو اسے نخرے دکھاتی ہے ۔
ویسے تو لڑکیاں تب ایسا کرتی ہیں جب وہ اپنی شادی سے خوش نہیں ہوتی رخسانہ نے اندر آتے
ہوئے کہا ۔
لیکن پھوپھو شانی اپنی شادی سے خوش ہے یہ بات الگ ہے کہ وہ مجھے کہہ رہی تھی کہ اگر اس کے پاس فیصلے کا حق ہوتا تو وہ اتنی جلدی شادی نہ کرتی ۔
وہ بات ایک دوسرے سے کر رہی تھی مگر سنانے کی کوشش اسے کر رہی تھیں
ویسے ارتضی اس معاملے میں آپ نے غلط کیا ایک بار تو اس سے پوچھ لیتے بیچاری اس کی بھی کوئی مرضی ہوتی ۔ میرا مطلب ہے روز کہتی ہے یہ شادی اس کی مرضی سے نہیں ہورہی ۔
مجھے لگتا تھا کہ وہ آپ کو پسند کرتی ہے ۔
آپ سے شادی بھی کرنا چاہتی ہے ۔
میں نے اس سے پوچھا کہ وہ آپ سے محبت کرتی ہے تو کہنے لگی ۔
کہ اس کے پاس کوئی اور آپشن ہی نہیں تھا ۔
اسے کسی سے محبت کرنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔ کاش اس کی بھی کوئی لو اسٹوری ہوتی ۔
میرا مطلب ہے آپ لومیرج کر رہے ہیں لیکن وہ تو ارینج میرج ہی کر رہی ہے ۔
ورنہ اتنی بیزار تو نہ ہوتی اپنی شادی سے کسی دلہن کو دیکھا ہے اس طرح سے منہ بنائے اور کیسے اپنی شادی کے کچھ دن پہلے سو رہی ہو ۔
میں نے تو کبھی نہیں دیکھا پھو پھو ۔
دادو میں ذرا باہر جا رہا ہوں ۔
ان کی باتیں سن سن کر وہ پک چکا تھا اسی لئے اونچی آواز میں دادو کو بلایا جو کہ کچن میں کچھ کام کرنے میں مصروف تھیں
اور تیز تیز قدم اٹھا تا باہر نکل گیا اس کی شکل سے ہی لگ رہا تھا کہ کنزہ اور رخسانہ کی باتوں نے اسے غصہ دلایا ہے ۔
°°°°°°
اتوار ہونے کی وجہ سے آج کنزہ بھی کالج نہیں گئی تھی ۔
وہ بے چینی سے باہر ٹہلتی تنزیل کا انتظار کر رہی تھی ۔
تنزیل نے اسے آج رشتہ لانے کے بارے میں بتایا تھا ۔
ارتضی آج گھر پہ تھا اور احسن صاحب بھی ۔
سب کچھ کنزہ اور رخسانہ کی پلاننگ کے مطابق ہو رہا تھا ۔
آج اس نے شانی کو ذلیل کر نے کا پکا ارادہ کر لیا تھا ۔
کنزہ یہاں آؤ لڑکی کوئی کام کاج ہی دیکھ لو تمہاری سہیلی کی شادی ہے آخر ۔
دادو جو کب سے اسے باہر لان میں ٹہلتے ہوئے دیکھ رہی تھی کہنے لگیں ۔
تو کنزہ بھی مسکراتے ہوئے ان کے پیچھے آئی ۔
دادواسے ہمیشہ شانی کی سہیلی کہہ کر بلاتی تھیں
اس سے پہلے شانی کی کوئی سہلی نہ تھی یا اگر ہوتی بھی تو ارتضی رہنے نہ دیتا ۔
ارتضی کا کہنا تھا کہ شانی کے وقت پر صرف اور صرف اسی کا حق ہے ۔
اور اس کی ضد کے آگے شانی ہمیشہ ہی خاموش ہو جاتی تھی ۔
لیکن کنزہ کے معاملے میں اس نے سے کبھی کچھ نہ کہا ۔
شاید وہ خود بھی اس بات کو سمجھتا تھا کہ اسے کسی دوست کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنی ہر بات شیئر کر سکے اب سب کچھ وہ ارتضی سے تو نہیں شیئر کر سکتی تھی ۔
اسی لئے جب ارتضی یہاں سے چلا گیا تھا تو کنزہ سے اس کی بہت اچھی دوستی ہوگئی اور بعد میں کنزہ ان کے گھر رہنے کے لئے آگئی ۔
لیکن ارتضی یہ نہیں جانتا تھا کہ کنزہ ان دوستوں میں سے ہے ۔ جو اپنی چیز کے ساتھ ساتھ دوست کی چیز بھی ہتھیا لیتے ہیں
جبکہ ارتضی کے انکار کے بعد ارتضی کو یہی لگا تھا کہ اب کبھی بھی اس کی طرف پیش قدمی نہیں کرے گی ۔
اور ایسا ہی ہوا کنزہ اپنے آپ کو اچھا ثابت کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھی
°°°°°°°
مہمان کے آنے کا پتہ چلنے پر ارتضی اور احسن صاحب باہر آگئے ۔
سر میں روشانے کا ٹیچر ہوں ۔ ان کے کالج میں جو پلے ہونے والا ہے اسے میں نے ہی اوگنائز کیا
میں آپ سے بہت ضروری بات کرنے کے لیے یہاں آیا ہوں ۔
اس نے ارتضی کو دیکھ کر بات شروع کی ۔
جی ہاں سر کیسے ۔ ہماری بیٹی نے بتایا کہ کہ آپ اسے پے میں ہیر کا کردار دے رہے ہیں ہمیں
بہت خوشی ہوئی ۔
غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا کا اسے بچپن سے ہی بہت شوق تھا ۔
سکول سے بھی بہت سارے کے شوز میں حصہ لیتی تھی وہ خوشی خوشی اپنی بیٹی کی قابلیت کی باتیں اس کے ٹیچر کو بتانے گئے ۔
جی سر ماشااللہ وہ بہت قابل ہے ۔
لیکن میں ان سب باتوں کے لیے نہیں آیا میرا یہاں آنے کا ایک مقصد ہے وہ اب بھی ارتضی کو دیکھتے ہوئے ہوا ۔
ارتضی جو کب سے اس کی نظر خود پر محسوس کر رہا تھا ۔ اس کی نظروں میں اپنے لیے نفرت دیکھ کر چونکا ضرور ۔
جی آپ کیا کہتے آئے ہیں اس کے سپریس انداز کو دیکھ کر احسن صاحب پریشان ہو گئے ۔
سر آپ روشانے کو بلائیں اس کے سامنے بات ہوگی ۔ تنزیل نے کہا
وہ اندر ہے آپ کہےجو کہنا چاہتے ہیں اس بار ارتضی بولا تھا
سر میں روشانے کا رشتہ لے کے آیا ہوں ۔ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ اس نے کہا احسن
صاحب سے تھا لیکن دیکھ ارتضی کی طرف رہا تھا ۔
اگلے ہی لمحے ارتضی کا ہاتھ تنزیل کے گربان پر تھا ۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری شانی کا نام اس طرح سے لینے کی ۔ اگر اس کے گھر کا پتہ معلوم کر لیا تھا تو یہ بھی معلوم کر لیتے کہ وہ نکاح شدہ ہے ۔
دو سال پہلے اس کا نکاح ہو چکا ہے ۔ اس نے گلے سے پکڑ کر اسے کھڑا کر لیا تھا ۔
ہاں نکاح ۔ ۔ زبردستی کا نکاح ۔ جس میں اس کے دل کی خوشی شامل ہی نہیں ہے ۔
