37.8K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Epi 2

آج پھروہ اپنے کمرے میں اندھیرا کیے بیٹھا تھا ۔
جب بھی اداسی اس کی ذات پہ چھاتی وہ ایسا ہی کرتا تھا ۔
اسے” اس کے سگریٹ پینے سے نفرت تھی اس نے یہ عادت چھوڑنے کی بہت کوشش کی
لیکن عادتیں آسانی سے نہیں جاتی یہ انسان کو اپنے آگے بے بس کر دیتی ہیں
وہ ہمیشہ کہتی تھی یا تو سگریٹ چھوڑ دو یا پھر مجھے ۔اس سے ارتضیٰ حیدر کی زندگی میں بدلہ تو کچھ نہ تھا بس اس کے سامنے سگریٹ پینا چھوڑ دیا ۔
اور اس کے جانے کے بعد ایک بار پھر سے سگریٹ کا سہارا لیا
آج پھر اس کی یاد ٹوٹ کے آنے لگی
آج باہر بہت بارش ہو رہی تھی
اس کو بارش بہت پسند تھی اور اسے بارش میں وہ ۔
اس کی محبت اس کا عشق سب کا سب کچھ جیسے یاد کرتے وہ اکثر سسک اٹھتا تھا
مجھے معاف کر دو خدا کے لئے مجھے ایک بار معاف کردو میری زندگی میں واپس آجاؤ میں مر رہا ہوں پل پل مر رہا ہوں تمہاری جدائی مجھے مار دے گی
میں جانتا ہوں میری غلطی قابل معافی نہیں ہے میں نے اپنی زندگی میں تمہاری جگہ کسی اور کو دی
بہت بڑی غلطی ہوئی ہے مجھ سے میں مانتا ہوں معافی کے لائق نہیں
تم مجھے معاف نہیں کر سکتی میں جانتا ہوں تم مت کرو مجھے معاف بس میرے پاس لوٹ آؤ میرےپاس رہو ۔
مجھ سے دور مت جاؤ تم جو کہو گی میں کروں گا میں جانتا ہوں میں غلط تھا
یا اللہ اسے میری زندگی میں واپس بھیج دے میں نہیں رہ سکتا اس کے بغیر ۔ میں مر رہا ہوں اس کی
جدائی پل پل میری جان لے رہی ہے
آنسووں سے تر چہرہ وہ زمین پر بیٹھا بے تحاشہ رو رہا تھا ۔
لوگ کہتے ہیں مرد روتا نہیں وہ مضبوط ہوتا ہے ۔ ارتضی بھی مرد تھا دنیا کے سامنے ایک مضبوط انسان جو ہر رات کی تنہائی میں ایک عورت کے لیے تڑپتا تھا جس کی جدائی نے اسے پل پل اذیت دی تھی
چار سال سے ہر رات وہ رویا ہر رات وہ تڑپا لیکن اس کے آنسو صاف کر نے اس کی تڑپ مٹانے اس
کی روشانے ارتضیٰ حیدر لوٹ کے واپس نہ آئی ۔
اسے اندھیرے سے وحشت نہیں ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ کیوں کہ اب اس کی زندگی میں اس کی روشنی نہیں
تھی ۔ اس کی شانی نہیں تھی ۔
°°°°°
وہ بابا کو ان کا فون واپس کرنے آئی تھی جب بابا نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے پاس صوفے پر
بٹھا لیا اور مسکرا کر انکے قریب بیٹھی
مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے بیٹا ۔۔ بابا نے کہا
جی بابا بولیں کیا بات کرنی ہے روشنی نے مسکرا کر پوچھا
بیٹا آپ نے اپنی زندگی کے بارے میں آگے کیا سوچا ہے ۔۔۔ ؟ سوال بالکل آسان تھا لیکن اس کا
جواب اتنا آسان نہ تھا یہ شانی اور بابا دونوں ہی جانتے تھے
میں سمجھی نہیں بابا آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔ ؟ روشنی نے انجان بننے کی کوشش کی
بیٹا میں آپ کی شادی کے بارے میں بات کر رہا ہوں
آپ جانتی ہیں تنزیل کیا چاہتا ہے اور آج وہ آپ کو کس مقصد سے ملنے بھلا رہا ہے
روشنی نے بابا کے چہرے کی طرف دیکھا
۔ کیا تنزیل نے آپ کو کہا ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے مجھے ملنے بلا رہا ہے ۔ ۔ ؟ روشنی نے پوچھا
دیکھو روشبی بیٹا وہ آپ کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے آپ کے تلخ ماضی کی تلخ یادیں تلخ باتیں وہ کسی بھی چیز سے انجان نہیں ہے
اس کے باوجود بھی وہ آپ کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہےوہ آپ سے محبت کرتا ہے
میرے خیال میں اب آپ کو اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہیے بابا کی باتوں سے روشنی کی آنکھوں سے آنسوآنے لگے ۔
دیکھو بیٹا ساری زندگی روتے دھوتے نہیں کٹے گی ہر کسی کو آگے بڑھنے کے لئے سہارے کی ضرورت
ہوتی ہے ۔
آپ نے اپنی مرضی سے وہ فیصلہ کیا تھا جو غلط ثابت ہوا ہے
اب میں باپ ہونے کے ناطے آپ کی زندگی کا ایک فیصلہ کرنا چاہتا۔
کیسا فیصلہ بابا۔ ۔ روشنی کو اپنی آواز کسی گہری کھائی سے آتی محسوس ہوئی ۔
میں آپ کی اور تنزیل کی شادی کرنا چاہتا ہوں ۔
آپ جانتے ہیں یہ ممکن نہیں ہے بابا ۔ ۔
اس دنیا میں سب کچھ ممکن ہے بس انسان میں حاصل کرنے کی ہمت ہونی چاہئے
مجھے یقین ہے میری بیٹی اپنی آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی ۔
°°°°°°
بہت کوشش کے باجود بھی وہ تنزیل کی بلائی ہوئی جگہ پر نہ جا پائی۔ ۔ ۔
تنزیل ساری رات اس کا انتظار کرتا رہا۔ وہ چار سال سے اس کا انتظار ہی تو کر رہا تھا ۔
وہ ہر بار اسے تکیلف و دور سے کھینچ کر خوشی کے راستے لاتا اور وہ پھر اسی راستے پر چلی جاتی ۔ ۔ تنزیل کو لگتا تھا کہ روشنی کے ساتھ جو بھی ہوا کہ اس میں کہیں نہ کہیں وہ بھی قصورار ہے ۔
روشنی کے ایگزام ہو رہے تھے اسے یقین تھا کہ وہ یونی میں ہی ہو گی ۔ اس لیے اس کے گھر جانے کےبجائے اس کی یونی چلا آیا ۔
اسے یونی کے باہر دیکھ کر وہ اسے اگنور نہیں کر سکی
تم یہاں ۔۔۔۔؟
تم کل کیوں نہیں آئی نہیں پوچھوں گا ۔۔ جانتا ہوں
تمہارے سر میں درد تھا۔ ۔ یا تمہاری گاڑی خراب ہو گئی ہو گی ۔ ۔ یا شاید گھر پر کوئی نہیں ہو گا کیونکہ تمہارے گھر کے نوکر تو اکثر گھاس چڑنے چلے جاتے ہیں نہ ۔ رئیٹ ۔ ۔ ۔ ؟
اس کی بات پر روشنی ہنس دی ۔
چلو میں تمہیں لینے آیا ہوں ۔
لیکن کہاں۔ ۔۔؟
کوئی سوال نہیں جتنا کہا ہے اتنا کرو ۔ کل جو کام ادھورا رہ گیا تھا وہ پورا کرنا ہے ۔ اس کے ساتھ چلتےہوئے ایک پل کو اس کے پیر تھم گئے۔
دیکھو روشنی میں ساری رات نہیں سویا ۔ اب تم نے اپنی من مانی کرنے کی کوشش کی تو میں تمہیں اٹھاکر لے جاؤں گا۔
اس کی دھکی ہمیشہ کی طرح کافی پاورفل تھی اس لیے روشنی نے اس کے ساتھ جانے میں ہی
بہتری جانی
°°°°°°
وہ اسے اپنے ساتھ ایک ریسٹورنٹ لے کے گیا تھا
یہاں جو بھی انتظامات ہوئے تھے وہ کل کے تھے کیونکہ زمین پر پڑے ہوئے پھول مرجھا چکے تھے
یہاں تک کہ ٹیبل پر جو پھول رکھے گئے تھے وہ بھی باسی حالت میں تھے
ایم سوری مجھے تم پر اتنا غصہ تھا کہ یہ سب کچھ ری نیو بھی نہیں کر پایا ۔ شرمندہ ہونے کا یہ اندازکچھ نیا سا تھا
اپنے غصے کا اظہار بھی کر رہا تھا اور اسے اس کی غلطی بھی بتا رہا تھا
جب کہ اپنے پرپوزل پر وہ کچھ شرمندہ تھا
خیر میں جانتا ہوں کہ تم جانتی ہو کہ میں یہاں تمہیں کیوں لے کے آیا ہوں
اسی لئے بیکار میں ٹائم وسیٹ نہیں کرتے
دیکھو روشنی میں تم سے محبت کرتا ہوں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں میں تمہاری زندگی کے بارے میں ،میں سب کچھ جانتا ہوں ۔
یہ بھی جانتا ہوں کہ اس وقت تمہارے دل میں کیا چل رہا ہے روشنی مجھے پتا ہے پہلی محبت کو بھلا کر آگے بھرنا بہت مشکل ہوتا ہے
لیکن ایک جگہ پر رک جانا یہ بھی تو کہیں کی عقلمندی نہیں
میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ہوں میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا ویسے ہی جیسے پچھلے چار سال سے کوشش کر رہا ہوں
ویسے تو یہ پھول مرجھا چکا ہے لیکن پھر بھی میں تمہیں یہی والا پھول دوں گا ۔ ۔ کیونکہ میں ایسا ہی ہوں میں نے تمہاری غلطی نظر انداز کی تاکہ تم میری غلطی کو نظر انداز کرواسی کا نام زندگی ہے روشنی
ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنا ہوگا اگر تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو بھی مجھے کوئی پروبلم نہیں ہے کیونکہ میں بس تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں اور مجھے پتا ہے جب تک تم اکیلی رہو گی تب تک تمہارے خوش رہنے کے کوئی چانسز نہیں ہیں
میں تمہیں ایک جگہ روکے ہوئے نہیں دیکھ سکتا یہ کہتے ہوئے وہ زمین پر بیٹھا اور اس کا ہاتھ اپنے
ہاتھ میں تھاما
جیب سے انتہائی نازک انگوٹھی نکالی اور اس کے ہاتھ میں پہنا نے لگا
اجازت – – – -؟
اس کا سوال اسے گہری سوچوں سے نکال کر باہر لایا تھا
ٹھیک کہہ رہا تھا وہ ایک جگہ رک کے وہ چار سال سے اپنی زندگی برباد کر رہی تھی
یہ ٹھیک تھا کہ اب وہ کوئی دبوسی لڑکی نہیں تھی اس میں کمال کا کانفیڈنس تھا
اب وہ کسی سے بھی مقابلہ کرتے ہوئے ڈرتی نہیں تھی ۔ وہ اپنے حق کے لیے لڑنا جان چکی تھی
لیکن اس سب کے باوجود بھی وہ ایک ہی جگہ کھڑی تھی کیوں ۔۔۔۔ ؟
کیا اسے آج بھی اس شخص کا انتظار تھا ۔۔۔۔ ؟
جس شخص نے اس کی جگہ کسی اور کو دے دی
کیا آج بھی وہ اس شخص سے محبت کر رہی تھی جو اس کی محبت کو روند کر وہ چلا گیا
نہیں وہ شخص اس کے قابل نہیں تھا
نہیں تھا وہ اس کے قابل
یہ شخص تھا اس کی محبت کے قابل جو زمین پے بیھٹا اس سے اسے مانگ رہا تھا۔ ۔
ہاں ۔ ۔ اس نے ایک لفظ میں اسے زندگی کی نوید سنائی۔
کیا کہا تم نے تنزیل نے بے یقینی سے کہا جس پر وہ مسکرا دی ۔
ہاں ۔ ۔ وہ پھر بولی ۔تو بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا پھر جیسے سکتے سے باہر نکلا
آنگوٹھی پہنا کر وہ کھڑا ہو گیا ۔ اور اس کے بلکل قریب آکے رکا ۔
لیکن پھر اپنی بے اختیاری پر خود ہی شرمندہ ہوکر پیچھے ہو گیا ۔
میں بابا سے بات کرنا چاہتی ہوں اس بارے میں روشنی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ فورا وہاں سے نکل گیا
°°°°°
بابا اس نے مجھے شادی کیلئے پرپوز کیا ہے میں نے ہاں کر دی بابا کی فون اٹھاتے ہی وہ بولی
میں تمہارا شکرگزار ہوں بیٹا ۔۔
مجھے آگے بھرنا ہے بابا
اسے بھلا کر پلیز میرا ٹکٹ کنفرم کردادیں مجھے پاکستان جانا ہوگا
نہیں تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے میں یہی سب کچھ ٹھیک کروا دوں گا تمہیں بالکل
پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے
نہیں بابا میں پاکستان جاؤں گی میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے طلاق مانگنا چاہتی ہوں میں
اسے بتانا چاہتی ہوں
میں اسے بھلا کر آگے بھر رہی ہوں بابا میں اسے بتانا چاہتی ہوں کہ اگر وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا ہے تو رکی میں بھی نہیں ہوں
بابا آپ پاکستان کے لئے میرا ٹکٹ کنفرم کروادیں
میں زیادہ دن کے لئے نہیں رہوں گی طلاق لے کر فورا واپس آجاؤں گی ۔
اتنا کہہ کر اس نے فون بند کر دیا ۔
جب کہ اس کے بابا جانتے تھے کہ یہ ضدی لڑکی اب کسی کی نہیں سننے والی ۔لیکن اب وہ اس کی بات ماننے سے انکار بھی نہیں کرسکتے تھے
وہ اس کا ٹکٹ کنفرم کروا چکے تھے دو دن بعد وہ جارہی تھی
°°°°°°°
بیٹا میرے خیال میں تمہیں نہیں جانا چاہیے ۔
اب بھی وقت ہے رک جاؤ میں یہیں سے سب کچھ ٹھیک کروا دوں گا تنزیل اور بابا اسے ایئرپورٹ
چھوڑنے آئے تھے
نہیں بابا شاید اس طرح سے وہ مجھے طلاق نہ دیں ۔ آپ فکر نہ کریں آپ کی بیٹی بہت بہادر ہے وہ اپناخیال رکھ سکتی ہے
میں جلدی واپس آؤں گی اس نے تنزیل سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا
تنزیل کو اسے چھونے کی بس اتنی ہی اجازت تھی ۔ اور تنزیل کو اس سے بھر کر اور کوئی خواہش نہ
تھی ۔
وہ اسے جاتا دیکھتا رہا جب تک وہ اس کی نظروں سے اوجھل نہ ہوگی
°°°°°°
با با اب آپ کی طبیعت کیسی ہے ارتضی تیار ہو کر باہر آیا
ہاں بچے اب میں ٹھیک ہوں اور آج تمہاری میٹنگ ہے
تم اسے لیٹ ہو آو جلدی سے ناشتہ کرو ۔ اور
یہ کنٹریکٹ مجھے ہر حال میں چاہیے تم جانتے ہو یہ کنٹریکٹ ہمارے لیے کتنا ضروری ہے
باپ بیٹے سے فورا ہی وہ بزنس مینز بن چکے تھے
جی بابا میں جانتا ہوں اور میں ناشتہ نہیں کروں گا کیونکہ اگر میں ناشتہ کرنے بیٹھ گیا تو بہت لیٹ ہوجائے گا
ارتضیٰ نے مسکراتے ہوئے سیب اٹھایا
بالکل نہیں آرام سے بیٹھو اور ناشتہ کرو میں تمہیں ہرگزایسے نہیں جانے دوں گی دادو نے ڈانٹا
اوہو پیاری دادو آپ فکر نہ کریں میں ابھی جاؤں گا اور ابھی واپس آ جاؤں گا ۔
بس کنٹریکٹ سائن کرنا ہے مجھے یقین ہے کہ یہ پروجیکٹ ہماری کمپنی کو ہی ملے گا
ان کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ باہر نکلنے لگا
°°°°°°
آج چار سال بعد وہ واپس اس حویلی میں آئی تھی ۔ ترکی سے پاکستان کی فلائٹ میں وہ صرف ایک ہی بات سوچتی رہی کہ کیسے کرے گی وہ اس شخص کا سامنا اسے تو بات کرنا بھی اسی نے سکھایا تھا
اس کا ہنسنا بولنا لڑتا جھگڑتا وہ سب صرف اپنی ذات تک محدود رکھتا تھا
اسے پسند ہی نہیں تھا کہ وہ اس کے علاوہ کسی غیر مرد سے بات کرے مرد تو مرداسے اس کی
لڑکیوں سے دوستی پسند نہیں تھی ۔
اس حویلی کے اندر قدم رکھتے ہی اس کی آنکھوں میں ڈھیروں آنسو آ گئے ۔ اسی حویلی میں تو اس نے چلنا بولنا دوڑ نا ہنسنا رونا سب کچھ سیکھا تھا
یہ حویلی تو تھی اس کی پہلی پہچان تھی ۔
آنسوؤں کا سمندر پیچھے دھکیل کر اس نے دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے ہاتھ اٹھایا
لیکن اگلے ہی لمحے دروازہ کھل چکا تھا
وہ جو سوچ رہی تھی کہ وہ اس شخص کا سامنا کئے بغیر ہی واپس لوٹ جائے گی وہی اس کے سامنے تھا
ہاں وہ اپنے بابا کو کہہ کر آئی تھی کہ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر طلاق مانگنا چاہتی ہے لیکن جہاز میں بیٹھتے ہی اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ اس کے سامنے نہیں آئے گی
کیونکہ اس میں کتنی ہی ہمت سی کتنا بھی کونفیڈینس سہی لیکن آج بھی وہ شخص سے ڈرتی تھی
وہ صرف اپنے ماموں اور نانی سے مل کر لوٹ جانے والی تھی ۔
لیکن ایسا نہ ہوا ۔ وہ شخص اس کے سامنے کھڑا تھا شاید اس کی طرح وہ بھی بے یقینی کی کیفیت میں تھا
اس کے چار سال کا انتظار اس کے سامنے تھا جس کے لیے وہ ہر رات تڑپا ہر رات رویا تھا ۔ کتنی
دعاؤں میں سسک سسک کر اس نے اسے اپنے لیے مانگا تھا وہ اس کے سامنے کھڑی تھی
اس کی ضد اس کی محبت اس کا جنون اس کا سکون سب کچھ تو تھی وہ لڑکی جس کی جدائی میں چار سال سے وہ تڑپ رہا تھا
ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر اس نے اسے شانوں سے تھاما اور اپنے سینے میں بھیج لیا
وہ بے یقینی سے پہلے کھڑا دروازے پر کھڑے وجود کو دیکھتا رہا وہ کوئی غیر نہیں اس کی اپنی شانی تھی یہ اس کی روشانے اس کی زبدگی کی روشنی
وی ارتضی حیدر کے لئے جان سے بھی بڑھ کر تھی
اس کی ضد تھی ۔ کہ اسے ہمیشہ کے لئے ارتضی کے نام لکھ دیا جائے ۔
وہ صرف چار سال کی تھی جب اس کے ہاتھ میں ارتضی کے نام کی انگوٹھی پہنا دی گئی
اور پندرہ سال کی جب ارتضی کے نکاح میں آگئی ۔
جوانی کی دہلیز پرپہلا قدم رکھتے ہی وہ ارتضی سے محبت کر بیٹھی صرف اسے چاہنے والی صرف اسے سوچنے والی
اسی کی زندگی سے بہت دور چلی گئی تھی اسے ہمیشہ کے لیے اسے چھوڑ کر اور آج چار سال بعد ایک بار پھر سے اس کی باہوں میں تھی
اپنے بچپن سے لے کراب تک کی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔
جب ارتضی نے اسے سامنے کر کے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا ۔
دادو دیکھیں میری شانی واپس آگئی بابا دیکھیں نا آپ لوگ وہاں کیوں کھڑے ہیں اس نے دادو اور
بابا کی طرف دیکھا جو ڈائننگ ٹیبل کے ساتھ کھڑے دروازے کی طرف دیکھ رہے تھے
آج ارتضی کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی ۔
دادو نے دل ہی دل میں ارتضی کی نظر اتاری اور مسکراتے ہوئے آگے بھر کر اپنی شانی کو اپنے سینے
سے لگایا ۔
آگئی میری بچی ۔ تیری نانو نے تجھے بہت مس کیا ۔
ان لوگوں کے بیچ آکر وہ چار سال پہلے کی ہر بات کو فرموش کر چکی تھی ماموں اس کے قریب آئیں ۔
اور اسے اپنے سینے سے لگایا ۔
چار سال پہلے جو کچھ ہوا وہ جیسے سب کچھ بھول چکی تھی ۔ اپنے ماموں اور نانو کو دیکھ کر ایک بار پھرسے جی اٹھی تھی ۔ جبکہ ارتضی ابھی تک اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے کھڑا تھا ۔
جب اچانک اس کا فون بجا ۔ اس نے جلدی سے فون نکالا جہاں تنزیل کالنگ لکھا تھا ۔ شانی نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ ارتضی کے ہاتھ سے نکالا اور فون لے کر باہر لان میں چلی آئی
°°°°°°
تنزیل تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہاں کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے یہاں سب
کچھ ٹھیک ہے میں جس مقصد کے لیے یہاں آئی ہوں پورا کر کے ہی واپس آؤں گی
دیکھو میں بس اتنا کہ رہا ہوں کہ تم اس ارتضی سے دور رہنا ۔ پہلے جو بھی تھا مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا لیکن اب تم میری منگیتر ہو یہ بات یاد رکھنا
وہ تنزیل سے بات کر رہی تھی جب کہ اس کی نظر شیشے کے اس پار کھڑے ارتضی پر تھی جو اسے
دیکھتا یہاں سے وہاں چکر کاٹ کر اس کی کال ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا ۔
لیکن اس کی کال ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
بابا یہ کس سے باتیں کر رہی ہے اتنی دیر سے ۔ اور آپ لوگ مجھے جانے کیوں نہیں دے رہے ابھی
اس کی کال بند کرواتا ہوں ۔
بابا اور دادو اسے باہر نہیں جانے دے رہے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ وہ کسی سے بھی بات کر رہی
ہے اس کی کال ختم ہونے کا انتظار کرو ۔
ہوسکتا ہے وہ اپنی کسی سہیلی یا باپ سے بات کر رہی ہو۔
اگر تم اس طرح سے کرو گے تو یہ نہ ہو کہ وہ ناراض ہو کر واپس چلی جائے ۔
اور میٹنگ پر نہیں جا رہے تم ۔ میں نے تمہیں بتایا ہے ارتضی یہ میٹنگ ہمارے لیے بہت ضروری
ہے ۔ لیکن اگر تم نہیں جا سکتے تو میں چلا جاتا ہوں بابا نے اسے آفردی
ارے نہیں نہیں بابا میں تو اس کی کال ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا اچھا ٹھیک ہے میں جاتا ہوں
جلدی آجاؤں گا ۔
پھر اپنی شانی سے بہت ساری باتیں کروں گا اور ایک ہفتے تک آفس کا منہ تک نہیں دیکھوں گا ۔
اس نے بات کرتے کرتے اینڈ پر اپنے ارادہ بتایا جس پر بابا مسکرادیۓ
ہاں بیٹا اب ہم بھی انتظار نہیں کریں گے بس اب تو شانی کو رخصت کر کے ہمیشہ کے لیے تمہارے
پاس لے آئیں گے
اب اپنے بچے کو میں مزید اداس نہیں دیکھ سکتی دادو نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو چھپایا
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی میٹنگ کے لیے چلا گیا
°°°°°
جیسے ہی شانی کو لگا کے ارتضی جاچکا ہے اس نے جلدی سے کال ختم کی اور نانو اور ماموں کے پاس آ گئی کیونکہ طلاق کی بات ارتضی سے کرنا اس کے بس میں نہیں تھا
اس کی باہوں کی گرفت وہ اب تک اپنے شانوں پر محسوس کر رہی تھی کتنی شدت سے اس نے اسے خود میں بھیجا تھا
فون بند کرنے کے بعد وہ نانو کے پاس آکر بیٹھی نانو کبھی نواسی کومحبت سے دیکھتیں تو کبھی اس کا چہرہ چومتیں ۔
اور پھر کوئی پرانی بات چھیڑ دیتی ہے تقریبا دو گھنٹے تک ان کے پاس بیٹھی رہی
اس نے بچپن سے ہر دن اپنی نانو کے ساتھ گزارا تھا لیکن اب وقت ایسا گیا تھا کہ وہ چار سال سے
اپنی نانو اور ماموں سے دور تھی
نانو مامی کہاں ہیں۔؟ بہت دیر نظر دوڑانے کے بعد بھی اسے کہیں رخسانہ بیگم نظر نہ آئیں تو پوچھنے لگی
تیرے جانے کے کچھ دن بعد ہی اسے اور اس کی بھتیجی کو تیرے ماموں نے گھر سے نکال دیا ۔
خیر تو چھوڑ ان سب باتوں کو تھوڑی دیر آرام کر لے پھر ارتضی آجائے گا تو تجھے آرام کرنے کا بھی
موقع نہیں لے گا نانو نے مسکراتے ہوئے ارتضی کی بیتابیاں بتائیں
تو روشنی چاہ کر بھی یہاں آنے کی اپنی حقیقت نہ بنا پائی لیکن اسے کچھ بھی چھپانا نہیں تھا اسے یہ بات بتائی تھی کہ وہ یہاں کس مقصد کے لیے آئی ہے
جی نانو میں تھوڑی دیر آرام کر لیتی ہوں پھر مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے
ہاں کیوں نہیں میری جان مگر یہ تو بتا کے رات کو کیا کھائے گی تُو میں اپنی لاڈلی کے لیے اپنے ہاتھ
سے بناؤں گی اس کی پسند کی چیز اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا
آپ کے ہاتھ میں جادو ہے نانو
آپ جو بھی بنائیں گی آپ کی شانی کھالے گی ۔ ان کا گال چوم کر وہ اپنے کمرے میں آگئی
یہ کمرہ جس میں اس کی کہیں سالوں کی یادیں جڑی تھی جہاں وہ بچپن سے رہ رہی تھی
°°°°°
ارتضی کا چار بار فون آ چکا تھا
اس نے میرے بارے میں بات کی ۔ ۔ ۔ ؟ اس نے میرے بارے میں کچھ پوچھا ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
مجھے مس کیا اس نے ۔۔۔۔۔ ؟ مجھ سے ناراض ہو گئی نہ بہت اس کا حق بنتا ہے میں منا لوں گا
دیکھیے گا زیادہ دن ناراض نہیں رہنے دوں گا میں اسے
اب میں بالکل غصہ نہیں کروں گا اسے بالکل نہیں ڈانٹوں گا ایک بارا سے کھو کر اس کی اہمیت جان چکا ہوں ۔
اب دوبارہ اپنے کسی بھی رویے سے اسے کھونا نہیں چاہتا ۔
ارتضی کے لہجے میں خوشی جھلک رہی تھی
جیسے آج اس نے اپنی محبت کو پالیا تھا اور ایسا ہی تو ہوا تھا
آج چار سال بعد وہ واپس آئی تھی اس کی محبت اس کے سامنے کھڑی تھی
ارتضی ابھی تک اس لمحے میں قید تھا جب اس نے چار سال بعد شانی کو اپنی باہوں میں لیا تھا کتناحسین احساس تھا وہ، وہ واپس اپنی شانی کے پاس پہنچ جانا چاہتا تھا لیکن ہائے یہ میٹنگ
وہ اس میٹنگ کے ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا جوابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی