37.8K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Epi 10

میری تنہائی میری جان پہ بنی ہے سائیاں
قسط نمبر 10
تحریر اریج شاہ
°°°°°
وہ یہ نکاح رکھنا ہی نہیں چاہتی ۔ ارتضی تم اس کے ساتھ زیادتی کر رہے ہو ۔ ایک معصوم لڑکی
کے ساتھ زبردستی نکاح کر کے تم اس کی زندگی برباد کر رہے ہو اور میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا ۔
تنزیل اسی کے انداز میں چلاتے ہوئے بولا تھا ۔
کس نے بکواس کی ہے یہ تم سے یہاں کچھ بھی زبردستی نہیں ہورہا شانی کی مرضی سے ہوا ہے یہ
نکاح اور ہم بہت خوش ہیں اس رشتے سے ۔
ارتضی کا غصہ کسی قیمت کم نہیں ہو رہا تھا
تم خوش ہو ارتضی وہ نہیں ۔ تم اس پر ظلم کر رہے ہو وہ مجھ سے محبت کرتی ہے تم سے نہیں ۔
اس بار تنزیل نے اپنی طرف سے آخری پتا پھینکا تھا ۔
محبت ۔ وہ تم سے محبت کرتی ہے ۔ اس کے بات پر ارتضی ہنسا تھا جیسے تنزیل نے بہت بڑا مزاق کیا
اس نے ایک جھٹکے سے اس کا کالر چھوڑا ۔
شانی ۔ ۔ وہ چلایا تھا ۔
وہ اتنی زور سے چلایا تھا کہ اندر بیٹھی بے خبر شانی جو اپنے بری کے کپڑوں کو دیکھ رہی تھی ۔
بوکھلا کر رہ گئی ۔
وہ تیزی سے وہاں سے اٹھی اور باہر کی طرف آئی جہاں ارتضی اسے آوازیں دے رہا تھا ۔
یہاں آؤ شانی اسے سامنے دیکھتے ہی اس نے پکارا ۔
سر تنزیل کب آئے یہ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔ شانی نے تنزیل کو دیکھتے ہوئے سوچا ۔
شانی بتاؤ اسے کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہورہا ہے زبردستی ہے زبردستی تمہاری اس کے ساتھ شادی کیجارہی ہے یہ نکاح بھی زبردستی کا ہے تم نہیں مانتی اس نکاح کو تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو تم مجھ سے محبت کرتی ہو بتاؤ اس آدمی کو ۔ تنزیل پورے یقین سے اس کے سامنے کھڑا اس سے بات کررہا تھا ۔
جبکہ ارتضی اسے دیکھ رہا تھا ۔ جو خود حیران اور پریشان سی اپنے سامنے کھڑے ارتضی کو تو کبھی تنزیل کو دیکھ رہی تھی
۔
بولو شانی کیا یہ نکاح زبردستی کا ہے ۔۔۔؟
کیا میں تم پر کوئی ظلم کر رہا ہوں ۔۔۔ ؟
کیا زبردستی ہورہی ہے اس شادی کے لیے تم پر ۔۔۔؟
کیا یہ سچ ہے کہ تم مجھ سے نہیں بلکہ اس شخص سے محبت کرتی ہو ۔..؟
وہ تنزیل کی باتیں دہراتے ہوئے بولا ۔
وہ حیران اور پریشان کھڑی اس کی باتیں سن رہی تھی ۔
محبت ۔ میں نے کب کہا آپ سے ایسا کچھ بھی ۔ وہ غصے اور حیرانگی سے بول رہی
تھی ۔
تم نے نہیں کہا شانی لیکن میں بے وقوف نہیں ہوں کہ تمہاری آنکھیں پڑھ نہ سکوں ۔
تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے جذبات کو محسوس کر سکتا ہوں تمہیں ڈر نے یا گھبرانے کی ضرورت نہیںہے کہو کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہوا بھی کے ابھی میں تمہیں یہاں سے لے جاؤں گا
اس آدمی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں ۔۔
سر آپ کیا بکواس کر رہے ہیں ۔ آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے بارے میں ایسا سوچنے کی ۔
میں آپ کو اپنا ٹیچر سمجھتی ہوں آپ کی عزت کرتی ہوں اور آپ میرے بارے میں ایسا سوچتے ہیں ۔
انتہائی گھٹیا سوچ ہے آپ کی ۔ آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے ۔
اسے تنزیل کی سوچ پر بہت افسوس تھا ۔
بس شانی تم اندر جاو ۔ اسے میں دیکھ لوں گا ۔
ارتضی نے اسے دیکھتے ہوئے کیا ۔ جبکہ شانی اس پر افسوس کرتی ہوئی واپس اندر کی طرف قدم اٹھانےلگی تھی ۔
روشانے تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہو
۔ میں تمہاری مرضی سے یہ رشتہ لے کے آیا ہوں اور تم ۔ اگر تم اس سے ڈر رہی ہو تو تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں یہاں ۔ تنزیل اب بھی خاموش نہ رہا تھا اسے جاتے دیکھتے وہ بول اٹھا ۔
خدا کے لئے سر اپنی سوچ بدلے میرے نزدیک آپ صرف میرے ٹیچر ہیں اور کچھ نہیں ۔
شانی کہتے ہوئے اندر کی طرف بھر چکی تھی ۔
اگر تم شانی کے ٹیچر نہ ہوتے نہ تو میں تمہارا وہ حال کرتا کہ تم زندگی بھر یا درکھتے
اکبر ان جناب کو باہر کا راستہ دکھاؤ ۔
ارتضی کہتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا
°°°°°°
ایسے ہی تو نہیں آجاتے رشتے کوئی تو وجہ ہوگی ۔
اب یہ بات کسی سے چھپی ہوئی تو ہے نہیں کے اسے مشہور بزنس مین کے بیٹے کی شادی ہو رہی ہے
ارے بچہ بچہ جانتا ہے شہر کا اس بات کو یہ کیسے ممکن ہے کہ دلہن کا رشتہ آجائے شادی سے چاردن پہلے ۔ میں کچھ نہیں کہتی ۔
لیکن ایک بار اس سے پوچھیں تو سہی ۔ کہ ایسے کیسے لڑکا گھر پر رشتہ لے کے آگیا ۔
ہائے ہائے وہ دعوے نہیں دیکھے تھے اس کے کیسے کہہ رہا تھا کہ شانی اس سے محبت کرتی ہے ۔
رنگین خواب دکھانے میں اس کا بھی ہاتھ ہے ۔
بس مسز احسن بہت ہوگیا ۔ میں کب سے برداشت کر رہا ہوں اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ شانی پر
کوئی بھی بے بنیاد الزام لگائیں گی اور میں خاموش رہوں گا ۔
یہ صرف ایک غلط فہمی تھی اور کچھ نہیں اور اس کی وجہ کو میں بہت اچھے طریقے سے دور کر چکا ہوں
اب شانی کی ذات پے کسی نے انگلی اٹھائی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔
ارتضی تیزی سے ان کی بات کاٹتے ہوئے بولا تھا ۔
جبکہ شانی کب سے بیٹھی آنسو بہا رہی تھی ۔ کتنی عزت کرتی تھی وہ شخص کی ۔ ایسے کیسے وہ اس کےگھر رشتہ لے کے آگیا ۔
اب میں کبھی کالج نہیں جاؤں گی ٹھیک کہتی ہیں نانو جتنا پڑھ لیا بہت ہے ۔
وہ آنسو بہاتے ہوئے دھیمی آواز میں منمنائی تھی ۔
لیکن شانی یہ شو تمہارا خواب ہے اتنے سارے لوگوں کے سامنے پرفارمنس کرنا ۔
کیا تم اپنا خواب اس طرح اسے چھوڑ دوگی وہ بھی صرف ایک غلط فہمی کی بنا پر کنزہ بہت سمجھداری سے ارتضی کی نظروں میں اچھا بننا چاہ رہی تھی ۔
نہیں شانی تم کالج جاؤ گی اور اپنے خواب پورے کروگی ۔
تمہاری ماں کی یہ خواہش تھی کہ تم بہت پڑھو ۔ تم اپنی ماں کے خواہش کو اس طرح سے نہیں چھوڑسکتی ۔
گرانجویشن تو تمہیں کرنا ہوگا ۔
تمہارے شوہرنےیہاں ڈبل ایم اےکر رکھا ہے ۔ تمہیں اس نالائق کا بھی مقابلہ کرنا ہے
ورنہ طعنے مارتا پھرے کا رخصتی کے بعد تمہیں ۔
کہ تم سے زیادہ پڑھا لکھا ہے ماموں نے بات کو مزاحیہ انداز میں لیا ۔
نانو اور ارتضی بھی مسکرا دیۓ
ہم کیا اس شخص سے ڈرتے ہیں جو اس طرح سے خاموش ہو جائیں گے ۔
میرا خیال ہے اس کی یہاں سے جتنی انسلٹ ہوئی ہے نا وہ بہت ہے اس کے بعد تو تم سے نظریں تک
ملانے کی ہمت نہیں کرے گا ۔
احسن صاحب نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا ۔
ہمیں ہماری بیٹی پر پورا بھروسہ ہے ۔
ہمیں شرمندہ نہیں کرے گی اور جہاں تک بات ہے اپنے خوابوں کی تو تم انہیں پورا ضرور کرو
تم اپنی پڑھائی جاری رکھو گی ۔
اور ان مسئلوں کے لئے ہم سب ہیں وہ صرف ایک غلط فہمی تھی جو دور ہو چکی ہے ۔
احسن صاحب نے پیار سے سمجھایا ۔
ہاں بھئی غلط فہمی ۔ اپنی لاڈلی کو کچھ مت کہیے گا ۔ ارے میں کہتی ہوں ایسے کیسے کوئی گھر رشتہ لےکے آ گیا ۔۔۔ رخسانہ نے شانی کو ذلیل کرنے کا پکا ارادہ کر رکھا تھا تو وہ خاموش کیسے رہتی ۔
رخسانہ تم جاؤ یہاں سے ۔ رخسانہ کی باتوں پر شانی سر جھکا کرپھر رونے لگی تو احسن صاحب نے غصے
سے کہا ۔
جبکہ رخسانہ پیر پٹکنے وہاں سے نکل گئی آخر اپنا کام تو وہ کر ہی چکی تھی ۔
شانی میرا بچہ اب تم رونا بند کریں ۔ جو کچھ بھی ہوا اس میں تمہاری تھوڑی نہ کوئی غلطی ہے ۔
بابا نے اسے پھر سے پیار سے سمجھاتے ہوئے اپنے سینے سے لگایا ۔
°°°°°°
وہ کالج نہیں آنا چاہتی تھی ۔ لیکن کنزہ کے باربار فورس کرنے پر وہ کالج تو آگئی لیکن اب وہ یہی دعامانگ رہی تھی کہ سر تنزیل سے اس کا سامنا نہ ہو ۔
کل اس کی مہندی کی رسم تھی ۔ اور کل ہی کالج میں فنکشن تھا ۔
جانے فنکشن کتنی دیر میں ختم ہونا تھا وہ اس میں پارٹیسٹ نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن پرنسپل نے بتایا
کہ سر تنزیل نے اس شو میں بہت زیادہ انویسٹمنٹ کی ہے ۔
اور اب شونہ کرنے پر انہیں بہت نقصان ہوگا اور وہ کسی کے نقصان کی وجہ نہیں بننا چاہتی تھی
،
صرف اسی لیے وہ شو میں حصہ لے رہی تھی ورنہ جو حرکت تنزیل نے کی تھی اس کے بعد تو وہ اس کی .شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔
اس نے اپنی ساری کلاس اٹینڈ کی تھی ۔
اور اب میم اسے پریکٹس کیلئے سر تنزیل کی کلاس میں بھیج رہی تھی ۔
ایک بار اس کا دل چاہا کہ وہ انکار کردے ۔ لیکن اب یہ ممکن نہ تھا شوکو بس ایک ہی دن رہ گیا تھا ۔
اور اس کے بعد تو ویسے بھی سر تنزیل کو یہاں سے چلے ہی جانا تھا ۔
سو وہ یہاں آئی اور اپنے پارٹنر کو ڈھونڈ نے لگی ۔
روشانے میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں سر تنزل کب آ کر اس کے پیچھے کھڑے ہوئے وہ
نہیں جانتی تھی ۔
سر پلیز مجھے کوئی بات نہیں کرنی ۔ وہ آگے پیچھے نظردہراتی اپنے پارٹنر کو ڈھونڈ رہی تھی تاکہ وہ لوگ پریکٹس کر سکے ۔
دیکھیں روشانے۔ مجھے نہیں پتا کے آپ ان لوگوں کے ڈر کی وجہ سے مجھے انکار کر رہی ہیں یا آپ سچ میں اس ارتضی کو چاہتی ہیں ۔
دیکھیں سر ارتضی میرے شوہر ہیں وہ بچپن سے میرے ساتھ ہیں ہم بہت عرصے سے ایک دوسرے
کو چاہتے ہیں آپ صرف کسی غلط فہمی کا شکار ہیں
میں نے کبھی آپ کے بارے میں ایسا نہیں سو چا پلیر ہو سکے تو مجھے معاف کر دیکھئے گا لیکن یہ صرف آپ کی خود ساختہ سوچ ہے
کہ میرے ساتھ کوئی زبردستی ہوئی ہے یا مجھے کسی کا ڈر ہے وہ شخص میرا شوہر ہے اور میں سے بہت محبت کرتی ہوں تنزیل نہ جانے کیا کہنے والا تھا لیکن شانی پہلے ہی بول اٹھی ۔
شانی کے پراعتماد لہجے میں سچائی تھی تنزیل کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ وہ سچ میں ارتضی کو چاہتی ہے اسے نہیں ۔
ٹھیک ہے ۔ جو بھی ہوا بھول جائے میری غلطی تھی میں غلط فہمی کا شکار تھا ہو سکے تو معاف کر دیجیے گا تنزیل نے سرد لہجے میں کہا اور آگے بڑھ گیا ۔ پھر مڑا ۔
وہ دراصل مجھے آپ سے ۔
میں مزید اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی شانی کا لہجہ بدتمیزانہ تھا ۔
جی میں جانتا ہوں میں آپ کو یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ وہ لڑکا جو مجنوں کا کریکٹر کر رہا تھا اس نے انکار کردیا ہے اور وہ واپس جا چکا ہے اور اب وہ کردار میں ادا کر رہا ہوں اگر آپ کو مسلہ نہ ہو تو
آپ کو میرے ساتھ پریکٹس کرنی ہوگی ۔ وہ اس سے زیادہ سرد مہری انداز میں بولا تھا ۔
شانی شرمندہ ہو کر رہ گئی ۔
ایم سوری سر میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔ تو کیا اب ہمارے پاس اس کءکردار کرنے کے لئے کوئی نہیں ہے شانی نے پریشانی سے کہا
آپ پوری بات کیوں نہیں سنتی ہیں میں نے کہا اگر آپ کو پروبلم نہ ہو تو یہ کردار میں کر رہا ہوں ۔
لیکن اگر آپ مجھ پر مزید بے اعتباری دکھانا چاہتی ہیں تو میں کسی اور کو رکھ لوں گا ۔
اب ایک دن میں اس طرح کسی دوسرے لڑکے کا انتظام کرنا بہت مشکل ہے اور میں یہ بھی جانتا
ہوں کے آپ کے لیے میرے ساتھ یہ کردار کرنا اور بھی زیادہ مشکل ہے اس لیے میں یہ شو کنسل
کروا دوں گا ۔
لیکن سرشو کنسل کروانے پر تو آپ کو بہت نقصان ہو گا مجھے آپ پر بے اعتباری نہیں ہے سر میں
آپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں بس آپ میرے گھر رشتہ لے آئیں اس لئے تھوڑی مس انڈر سٹینڈنگ ہوگئی ہے ۔ یقین کریں میں نے آپ کو کبھی غلط نہیں سمجھا ۔ اور نہ ہی مجھے آپ
کے ساتھ کام کرنے میں کوئی پروبلم ہوگئی شانی نے کہا ۔
تو پھر ٹھیک ہے چلئے پریکٹس کرتے ہیں ۔ تنزیل نے ہنستے ہوئے ہاتھ اس کی طرف بڑھایا جو شانی نےتھام لیا ۔
اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کنزہ نے اپنے موبائل میں ان دونوں کی ایک تصویر قید کر لی ۔
اور اپنے ایک انجان نمبر سے ارتضی کے موبائل پر بھی سینڈ کر دی ۔
^°°°°°°
ارتضی کا موبائل بجا تھا ۔ جسے اوپن کرنے کے بعد ایک تصویر اس کے سامنے آئی تھی
جسے دیکھنے کے بعد ارتضی کی سرخ آنکھوں سے غصے کے شعلے نکل رہے تھے ۔
وہ تیزی سے اس کے کالج آیا ۔ اور وہاں باہر کھڑے پیون کو اسے بلانے کا کہا ۔
پیون نے آکر اس کی کلاس میں بتایا ۔
ارے ابھی تو پریکٹس شروع کی ہے اس طرح سے ریسلز کمپلیٹ ہی نہیں ہوگی ۔ تنزیل نے پریشانی سے کہا۔
سر آپ فکر نہ کریں میں ارتضی سے بات کر کے آتی ہوں
وہ میری بات سمجھیں گے ۔ شانی نے مسکرا کر کہا اور باہر کی طرف آئی ۔
ارتضی میں نے آپ کو بتایا تھا کہ آج ہم لیٹ آئیں گے آپ ایسا کرے کہ کنزہ کو لے جائیں میں
ڈرائیور کے ساتھ آجاؤں گی ۔ ہم ابھی پریکٹس کر رہے ہیں شانی نے بتایا ۔
گاڑی میں بیٹھو شانی ارتضی نے غصے سے کہا ۔
ارتضی کیا ہوگیا ہے آپ کو آپ جائیں میں تھوڑی دیر میں آجاوں گی ۔ شانی نے کہا ۔
تمہیں ایک بار میری بات سمجھ میں نہیں آتی ہے میں کیا کہہ رہا ہوں میں کہہ رہا ہوں گاڑی میں بیٹھو
ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ چلو وہ بنا کسی کی پرواہ کیے اونچی آواز میں بولا تھا ۔
شانی نے ایک بار گیٹ کی طرف دیکھا جہاں بہت سارے اسٹوڈنٹ مڑکر انہیں دیکھ رہے تھے ۔
شانی خاموشی سے گاڑی میں بیٹھی اور ارتضی نے گاڑی اسٹارٹ کر دی ۔
جبکہ دور کھڑی کنزہ اپنی چال کی کامیابی پر مسکرا اٹھی تھی ۔
°°°°°
ارتضی سارا راستہ ایک لفظ نہ بولا
شانی اس کا غصہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کیا بات ہے ارتضی آپ غصے میں کیوں ہیں
اس نے ہمت کر کے آخر پوچھ ہی لیا
تم آج سے کالج نہیں جاؤ گی جب تک یہ آدمی یہاں سے چلا نہیں جاتا سمجھی تم وہ غصے سے بولا
کونسا آدمی کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں آپ اور میں کیوں نہیں جاؤں گی کالج شانی نے
پریشانی سے پوچھا ۔
تمہارے ٹیچر کے بارے میں بات کر رہا ہوں اس تنزیل کے بارے میں اور جتنا کہہ رہا ہوں اتنا سمجھ جاؤ کہہ دیا تو بس کہہ دیا ۔ وہ غصے سے بات ختم کر نے والے انداز میں بولا ۔
لیکن ارتضی آپ نے ہی تو کہا تھا شانی نے کچھ کہنا چاہا
اب بھی میں ہی کہہ رہا ہوں ارتضی غصے سے بولا ۔
شانی اس کا غصہ دیکھ کر خاموش ہوگئی اگر کل میں نہ گئی تو تنزیل سر کا کتنا نقصان ہوگا اب
تو وہ دوسرا اسٹوڈنٹ بھی نہیں آرہا تھا پریکٹس بھی نہیں ہوئی تھی اور اوپر سے ارتضی کا غصہ اس وقت وہ کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہ تھا ۔
شانی بنا کچھ بولے خاموشی سے چلنا راستہ دیکھنے لگی ۔
ارتضی کوشانک کی سب سے اچھی بات یہی لگتی تھی کہ وہ جب غصے میں ہوتا تو آگے سے بحث نہیں کرتی تھی
ارتضی اسے گھر پر ڈراپ کر کے چلا گیا وہ اندر آئی جہاں نانو اس کے کپڑے تیار کر رہی تھی وہ ان کے ساتھ اگر بیٹھ گئی ۔
نانو محبت سے ایک ایک سوٹ دیکھتی پھر صدقے واری جاتیں
جب کہ وہ کالج کی پریشانی بھولے نانو کی باتیں سن کر شرما رہی تھی
کنزہ گھرآئی تو اسے نانو کے ساتھ ہنستا کھیلتا دیکھ کر ایک بار پھر سے جل کر راکھ ہونے لگی ۔
اس کا مطلب تھا ارتضی نے اسے کچھ نہیں کہا وہ تو اتنے غصے میں سے لے کر گیا تھا ۔
ارے تم آ گئی صبح کہہ رہی تھی کہ آج دیر ہو جائے گی پریکٹس میں کنزہ نے اس کے قریب بیٹھتےہوئے کہا ۔
ہاں وہ مجھے ارتضی لینے آ گئے تھے شانی نے بتایا
اف تم دونوں لیلی مجنوں کا بھی نہ رومینس ختم نہیں ہوتا اگر یہ بات مجھے بتا دیتی تو میں بھی تم دونوں کے ساتھ آجاتی بیکار میں بسوں کے دھکے کھانے پڑے مجھے آج وین بھی نہیں آئی تھی لینے ۔
وہ کنزه دراصل ارتضی اسے غصے میں تھے کہ میں کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں کر پانی شانی نے بتایا تو
نانو بھی اسے دیکھنے لگیں
کیوں غصے میں تھا خیریت تو ہے نانو نے پریشانی سے پوچھا ۔
ارے چھوڑیں نا نانو آپ کو تو پتہ ہی ہے ارتضی حیدر کا غصہ ہمیشہ ان کی سر پر سوار رہتا ہے کنزہ نے ٹالنا چاہا کیونکہ یہ بات تو وہ بہت اچھے طریقے سے جانتی تھی اس عورت نے اس کے پھوپھو کو اسگھر میں جگہ نہیں چلنے دی تو کنزہ کیا چیز ہے ۔
تو رہنے دے تو بتا مجھے انہوں نے ایک نظر کنزہ کو دیکھ کر کہا اور پھر شانی سے پوچھنے لگیں۔
پتا نہیں نانوآتے ہوئے غصے میں تھے اور کہہ رہے تھے کہ اب کالج نہیں جانا ۔
نانو کل تو میرا شو ہے اگر میں کل کالج نہیں گئی تو تنزیل سر کا بہت نقصان ہو جائے گا
وہ غلط فہمی کی بنا پر ہمارے گھر آئے تھے اور تو اور وہ مجھ سے معذرت کر رہے تھے ۔
وہ ریکویسٹ کر رہے تھے کہ میں ان کے شو میں پرفارم ضرور کروں گا نہیں تو انہیں بہت نقصان ہوگا
آج ہم لوگ دیرتک پریکٹس کرنے والے تھے تاکہ اچھے سے پرفارم کر سکیں
لیکن ارتضی مجھے واپس لے آئیں اور اب کل جانے کے لیے بھی منع کر دیا ہے مجھے تو اتنا برا لگ رہا
ہے تو تنزیل سر کے لیے شانی اداسی سے بولی ۔
ارے تم اتنی سی بات کے لئے اتنی ٹینشن کیوں لے رہی ہو تم کل جانا چاہتی ہونا نہ تو تم چلی آنا میں
بھی تمہارے ساتھ چلوں گی نانو سب کو یہ کہہ دیں گی کہ ہم پالر گئیں ہوئی ہیں اور وہاں جیسے ہی تمہارا شو ختم ہو گا ہم پالر کے لیے نکل جائیں گے ۔
کنزہ نے پلان بنایا ۔
ہاں ایسا ہو تو سکتا ہے اس نے خوشی سے نانو کی طرف دیکھا ۔
اس کے چہرے کی خوشی دیکھ کر نانو مسکرا دیں وہ پچھلے ڈیڑھ مہینے سے اس شو کی تیاری کر رہی تھیں
اور اب وہ اس کا دل خراب نہیں کر سکتی تھی ۔
لیکن میرے پوتے کو پتہ نہیں چلنا چاہیے نانو نے کنزہ کو ایک نظر دیکھ کر کہا ۔
جبکہ شانی خوشی سے چلاتے ہوئے ان کے گلے لگ گئی
°°°°°°°
سارا دن ایک سیکنڈ کے لیے بھی وہ فوٹو اس کے دماغ سے ہٹی نہیں ۔
اور نہ ہی آج سارا دن اپنا کوئی کام کر پایا ۔ اس کے دماغ میں بس ایک ہی بات چل رہی تھی کہ اس تنزیل نے اس کی شانی کا ہاتھ پکڑا ۔
شانی ہر وقت منہ بنائے رکھتی ہے کالج میں بھی سب کو یہی لگتا ہے کہ اس کی شادی زبردستی کی
جاری ہے دماغ میں کنزہ کی باتیں چلنے لگی ۔
کوئی ایسے ہی تو اٹھا کر رشتہ نہیں لے کے نہیں آتا ۔ کچھ تو غلطی شانی کی بھی ہوگی ۔ کنزہ دماغ سے ہٹی تو مسز احسن نے ڈیرہ جمالیا ۔
شانی کی اداسی شاپنگ میں اس کی غیر دلچسپی ۔ ارتضی کے دماغ میں بہت الٹی سیدھی باتیں لارہی تھیں
کیا شانی کے ساتھ زبردستی ہوئی ہے کیا سچ میں وہ شادی نہیں کرنا چاہتی کہیں وہ اس تنزیل سے ۔
نہیں یہ سب میں کیا سوچنے لگا ہوں ۔
لیکن شانی کے اس طرح سے اداس رہنے کیا مطلب ہو سکتا ہے ۔
نہیں وہ میری شانی ہے مجھ سے بہت پیار کرتی ہے کل ہماری مہندی ہے پرسوں شادی ہے میں بیکار
میں اس پر شک کر رہا ہوں نجانے کتنا ناراض ہوگی آج کی حرکت پر مجھ سے ۔
مجھے اس سے بات کرنی چاہیے ۔
وہ اپنے کمرے میں ٹہلتا ہوا یہی سوچ رہا تھا ۔
پھر باہر آکر شانی کے کمرے کی طرف چل دیا
وہ شانی کے کمرے کی طرف آیا بناناک کیے آہستہ سے دروازہ کھولا ۔
شانی بے دھیانی میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے اپنی شادی کا جوڑا پہن کر کھڑی ساتھ کچھ گنگنا رہی تھی ۔
ارتضی نے دلچسپی سے وہیں دروازے کے سائیڈ پر ٹیک لگائی ۔
شاید وہ ابھی تک اس کی موجودگی کو نوٹ نہیں کر پارہی تھی اسی لئے تو شادی کے جوڑے میں مزےسے گانا گارہی تھی ۔ ورنہ وہ تو کبھی بھی اس کے سامنےآنے کی غلطی نہ کرتی
ساجن ساجن تیری دلہن تجھ کو پکارے آجا “۔”
” آکر میرے ہاتھوں میں مہندی تو ہی لگا جا”
ارتضی نے نوٹ کیا کہ شانی گنگنانے کے ساتھ ہاتھ میں کوئی فوٹو پکڑے مسکرا رہی تھی ۔
فوٹو دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے آگے آیا ۔ اور اس کے قریب آکے فوٹو لے لی
محترمہ یہ جو آپ فرما رہی ہیں وہ میرے سامنے فرمائیں تو کچھ فائدہ بھی ہو اب یہ فوٹو تو آپ سے کچھ کہنے سے رہی ۔ وہ مسکراتے ہوئے اپنی تصویر دیکھ رہا تھا جبکہ شانی شرم سے نظریں نہیں اٹھا پا رہی تھی
ارتضی نے سر سے پیر تک اس کا یہ خوبصورت روپ دیکھا شادی کے سرخ جوڑے میں بھی وہ غضب ڈھا رہی تھی
ارتضی میری فوٹو واپس کریں۔ اس نے فوٹو چھینا چاہا جب ارتضی نے ہاتھ اونچا کرلیا ۔
تمہاری فوٹو ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ محترمہ معلومات کے لئے عرض ہے کہ یہ فوٹو میری ہے تمہاری نہیں ۔ ارتضی شرارت سے مسکراتے ہوئے بولا ۔
اس بات نے شانی کو مزید کنفیوز کیا ۔
دو دن انتظار کرلو پورا کا پورا ارتضی حیدر تمہارا ہے ۔
اور اب جاؤ فٹافٹ یہ ڈریس چینج کر کے آؤ تمہیں اس طرح سے دیکھ کر میری نیت خراب ہو رہی ہے یہ
نہ ہو کہ دو دن پہلے ہی ارتضی ذو معنی انداز میں بولتا اپنی بات ادھوری چھوڑ گیا ۔
جبکہ اس کی ادھوری بات پر شانی کے کانوں کی لوح تک سرخ ہو چکی تھی ۔
وہ ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر ڈریسنگ روم میں بھاگی
جبکہ اس کی سپیڈ دیکھ کر ارتضی کا قہقہ بے ساختا تھا
تھوڑی دیر کے بعد وہ کالے رنگ کے سادہ سوٹ میں باہر آئی ۔ اس سادگی میں بھی وہ کمال تھی ۔
ارتضی اس کے بیڈ پر آرام سے لیٹا ہوا تھا ۔
شانی مجھے وہ آدمی اچھا نہیں لگتا ۔ پلیز تم اس سے دور رہو زہر لگتا ہے وہ مجھے ۔ تم کچھ دن کالج سے چھٹی لے لو جب وہ آدمی چلا جائے گا تب پھر سے جوائن کرلینا ویسے بھی شادی کی چھٹیاں لے ہی رہی ہو تم ۔
ارتضی نے نارمل سے انداز میں سمجھایا ۔
اس نے اپنے ذہن کو کسی بھی قسم کے شک سے پاک رکھا تھا ۔
اس کی شانی ایسی نہیں تھی جیسی کنزہ اور مسز احسن کہتی تھی ۔
اس کی شانی بہت معصوم تھی وہ کسی کی بھی باتوں میں آ سکتی تھی کسی کے دو میٹھے بول شانی کےنازک دل کے ساتھ کھیل سکتے تھے
ارتضی کل میرا شو تھا ۔ شانی نے سمجھانے کی کوشش کی ۔
اس کے بعد جتنے بھی شو ہوں گے تم سب میں حصہ لینا اس کو چھوڑ دو ۔
تم جانتی ہو میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں ۔ اور ویسے بھی کل تمہارے لیے اتنا بڑا دن ہے کل ہماری
مہندی ہے سارا دن خوش رہو ۔ یہ پرفارمنس شو وغیرہ کے جھنجٹ میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا ہے تمہیں ۔
ارتضی آپ کو مجھ پر بھروسہ ہے نہ جانے کیوں شانی نے اس سے یہ سوال پوچھا شاید اسکی روک ٹوک شانی کو یہ پوچھنے پر مجبور کر رہی تھی ۔
افکورس میری جان مجھے تم پر بھروسہ ہے خود سے زیادہ بھروسہ ہے ۔
ارتضی غلط ہو سکتا ہے لیکن ارتضی کی شانی کبھی غلط نہیں ہو سکتی ۔ ۔ ۔ وہ یقین سے بولا ۔
آپ ہمیشہ میرا یقین کیجئے گا ۔ وہ اس کے سینے پر سر رکھ کر بولی ۔
تم تو میری جان ہو تم پر یقین نہیں کروں گا تو کس پر کروں گا ارتضی نے اس کے گرد حصار تنگ
کرتے ہوئے کیا ۔
باہر سے دروازہ کھولا اور کنزہ اندر داخل ہوئی ۔
انہیں ایک دوسرے کے اتنے قریب دیکھ کر غصے اور جلن سے سرخ ہوگئی ۔
اس کے اس طرح سے کسی کمرے میں آنے پر وہ دونوں جلدی سے ایک دوسرے سے الگ ہوئے
تھے ۔
ایم سوری لگتا ہے میں غلط وقت پر آگئی کنزہ نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا ۔
نہیں تم ٹھیک وقت پرآئی ہو میں جا رہا ہوں بس اتنا کہہ کا ارتضی باہر نکل گیا ۔
جبکہ شانی نظریں جھکائے کھڑی تھی
°°°°°
کنزہ نے اب تک جو بھی پلان بنایا سب فیل ہو چکا تھا ۔ اس نے جو سوچا تھا سب کچھ غلط تھا ۔
ارتضی شانی میں سب کچھ ٹھیک تھا
صبح سویرے ہی وہ اپنی مہندی کا ڈریس اور سارا سامان پیک کر چکی تھی ۔
کنزہ کچھ گڑبڑ تو نہیں ہوگا نا ارتضی کو شک تو نہیں ہوگا نہ
یہ جو تم اتنا ڈرتی ہونا اسی وجہ سے وہ تمہارے سر پر چڑھا ہوا ہے ۔
اتنا مت ڈرا کرو کچھ نہیں ہوگا ۔
اب تم باہر آؤ کنزہ اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے جانے لگی جہاں مہمانوں کے ساتھ وہ بیٹھا نظر آیا ۔
تم دونوں صبح صبح کہاں جا رہی ہو اس نے پوچھا
کہاں جارہی ہیں مطلب پالر جا رہی ہیں اور کہاں جاۓ گی مہندی کی دلہن ہے کوئی مزاق تھوڑی ہے
کنزہ کانفیڈنٹ سے بولی ۔
اتنی صبح صبح کون سے پالر جا رہی ہو تم لوگ ارتضی نے پوچھا ۔
جہاں اپوائنٹ لیا ہے وہاں جا رہے ہیں ۔ آپ بھی نا ارتضی یوں کھڑے ہو کر عورتوں کی طرح سوال پوچھ رہے ہیں ہم لیٹ ہو جائیں گے پالر میں تھوڑی بوکنگز نہیں ہوتی ۔ کنزہ نے کہا
آؤ میں تم لوگوں کو چھوڑ آتا ہوں ۔ وہ گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے بولا ۔
جبکہ اس کی بات سن کر شانی کے ہاتھ پیر پھول گئے تھے ۔
ارتضی بیٹا ۔ یہاں آؤ میرے تھوڑی مدد کرو اور لڑکیوں تم لوگ ابھی تک پالر نہیں گئی ۔ نانو نے عین وقت پر آکر کہا ۔
کنزہ اور شانی دونوں کے سانس میں سانس آئی تھی ۔
وہ بنا ارتضی کی طرف دیکھے باہر کی طرف نکل گئی ۔
جب ارتضی ان کے پیچھے آیا ڈرائیور کو ہدایات دیے لگا ۔ شنیی نے جانے سے پہلے اسمائل پاس کی۔
جبکہ سب سے نظر بچا اس نے فلائنگ کس دی
جو کنزہ کی نظروں سے نہ چھپ پائی ۔اس کی حرکت پر شانی شرمادی ۔
بنالو خوشیاں شانی بی بی آج تمہاری خوشیوں کا آخری دن ہے
°°°°°°°
وہ لوگ کالج میں پہنچے ۔ تنزیل نے خدا کا شکر ادا کیا ۔ اور اسے فورا تیار ہونے کے لئے کہا ۔ اور خود تیار ہونے چلا گیا ۔
پریکٹس بہت کم تھی لیکن پھر بھی اسے شانی پر یقین تھا کہ وہ اچھا کرے گی ۔
جبکہ شانی اندر سے بہت ڈری ہوئی تھی اسے ارتضی کا بھی ڈر تھا اگر اسے پتہ چل جاتا تو کیا ہوتا ۔
لیکن اس کے باوجود اس نے بہت کونفیڈنس سے آخری بار پریکٹس کی تھی ۔
شو تھوڑی دیر میں شروع ہونے والا تھا ۔
کنزہ نے اسے یقین دلایا کہ کچھ گڑبڑ نہیں ہوگی تم آرام سے اپنی پرفارمنس پر دھیان دو ۔
بس اگلے دس منٹ میں پرفارمنس شروع ہونے والی تھی ۔
°′°°°°°
ارتضی سارے کام اپنے ہاتھ سے کر رہا تھا ۔
اسے سب کچھ پرفکٹ چاہیے تھا ۔ اور سب کچھ ہی پرفیکٹ ہو رہا تھا ۔
اس نے دو تین بار شانی کو فون کیا لیکن اس کا فون بند جا رہا تھا ۔
وہ اس مہندی کی دلہن کے روپ میں سب سے پہلے دیکھنا چاہتا تھا اور اس کے حساب سے یہ صرف اس کا حق تھا ۔
لیکن مسلسل کئی بار فون کرنے کے بعد بھی فون بند ہی گیا ۔ اسے غصہ تو بہت آیا لیکن اپنے غصے
پر کنٹرول کر کے وہ ایک بار پھر سے کام میں مگن ہو گیا
°°°°°°°°
پرفارمنس شروع ہوگئی اور تنزیل کی سوچ کے عین مطابق شانی نے بنا نروس ہوئے بہت کونفیڈنس سے پرفارم کیا ۔
سب لوگ شانی کی اداکاری کو بہت پسند کر رہے تھے ۔
تالیاں سیٹیاں پورے ہال میں گونجنے لگی
جبکہ کنزہ ان سے دور کھڑی اپنے موبائل میں ان دونوں کی نزدیکیوں کو محفوظ کر رہی تھی ۔
پرفارمنس ختم ہو گئی تو ہال میں تالیوں کی آواز گونج اٹھی
وقت پر دھیان دیا تو دوپہر کے ڈھائی بج رہے تھے
اسے اب جلدی جلدی پالر کے لیے نکلنا تھا ۔ وہ جلدی سے اپنا سامان لینے ڈریسنگ روم میں آئی
کنزہ نے اس کے پیچھے آکر اس کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے جوس کا گلاس تھمایا
یہ لو کافی تھکی ہوئی لگ رہی ہو لو جوس . اور ابھی پیو اسے ۔ کنزہ کو اپنی فکر کرتے دیکھ کر شانی بے اختیار مسکرائی ۔
کتنی پیاری تھی اس کی دوست اس نے جوس کا گلاس خالی کیا اور اپنا سامان لینے کے لیے ڈریسنگ روم میں آئی ۔
لیکن یہاں آتے ہی اس کا سر چکرانے لگا ۔
کیا ہوا شانی تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا ۔ کنزہ نے پوچھا ۔
ہاں میں ٹھیک ہوں پر سر گھوم رہا ہے شانی نے اسےبتایا ۔
تم ایسا کرو صبح والی ڈریس پہننے سے بہتر ہے کہ تم مہندی والی ڈریس پہن کر تیار ہو جاؤ میں خود ہی تمہیں یہی پر تیار کردیتی ہوں پھر یہی سے چلیں گے۔ مجھے تمہاری طبیعت بہت خراب لگ رہی ہے ۔
یہ نہ ہو کہ پالر جاتے ہوئے مزید خراب ہو جائے ۔ اور پھر اگر ارتضی کو پتا چل گیا تو اور مسائل
کھڑے ہو جائیں گے ۔
کنزہ کے کہنے پر اس نے اصرار میں گردن ہلائی کنزہ میک اپ وغیرہ بہت اچھا کر لیتی تھی ۔ اسی لئے شانی بھی فوراً مان گئی ۔
کنزہ تم کتنی اچھی ہو ۔ ہر بار میری مدد کرتی ہو ۔ اس نے کنزہ کو گلے لگاتے ہوئے کہا ۔ جبکہ اس کا
سر بری طرح سے چکرا رہا تھا ۔
کنزہ نے اسے زبردستی ڈریس دے کر چیلنج کرنے کے لیے کہا ۔
کچھ دیر میں ڈریس چیلنج کر کے ڈریسنگ روم سے واپس آئی تو روم میں اندھیرا تھا ۔
سنو شانی لگتا ہے لائٹ چلی گئی ۔
تم یہاں بیٹھو میں چیک کر کے آتی ہوں ۔
وہ اسے کرسی پر بٹھا کر باہر جانے لگی ۔
°°°°°°°°