Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan By Areej shah Readelle50295 (Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Epi 4
No Download Link
Rate this Novel
(Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Epi 4
شانی ان کے گلے سے لگی رونے لگی
دیکھو بیٹا میں نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی ہے لیکن وہ میری بات نہیں مان رہا تم اس کی
ضد سے اچھے سے واقف ہو دادو نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
کیا مطلب ہے آپ کا نانو ۔ ۔ اگر وہ ضد پر اڑا ہے تو کیا آپ لوگ اس کی بات مان لیں گے کیا آپ
نہیں جانتے کہ پہلے میری زندگی میں کتنی تباہی مچی ہے اس شخص کی وجہ سے؟
اپنا سب کچھ لوٹا کر میں گئی تھی یہاں سے
اپنی زندگی اپنی عزت اپنی محبت ہر چیز بالکل خالی ہاتھ گئی تھی میں یہاں سے اور مجھے یہاں سے بھیجنےوالا یہ شخص تھا
بیٹا وہ تم سے محبت کرتا ہے نانو نے ایک اور کوشش کی
محبت ۔ روشانے طنزیہ مسکرائی ۔
وہ مجھ سے کتنی محبت کرتا ہے وہ تو میں چار سال پہلے ہی دیکھ چکی ہوں نانو اب میں اپنی زندگی اس شخص کے ہاتھوں برباد نہیں ہونے دے سکتی
میں نہیں رہوں گی یہاں ؟
میں نہیں رہوں گی یہاں مجھے جانا ہے یہاں سے بس اتنا کہہ کر وہ اٹھی اور اپنا سامان پیک کرنے
شانی بیٹا یہ کیا ضد ہے ۔
پلیز ایسا مت کرو تم ایسے یہاں سے نہیں جا سکتی
اگر تم اب چلی گئی تو ارتضی پاگل ہو جائے گا تم نے چار سال اس کی زندگی نہیں دیکھی میں نے تو
اسے کبھی مسکراتے ہوئے بھی نہیں دیکھا
وہ زندہ تو تھا مگر جی نہیں رہا تھا لیکن جب سے تم آئی ہو وہ کتنا خوش رہنے لگا ہے ۔
میرے بچے کی خوشیاں ہو تم پلیز اس سے اپنا آپ مت چھینو اگر تم یہاں سے چلی گئی تو اس کے پاس کچھ نہیں بچے گا ۔
نانو نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا لیکن وہ ان کی بات سن ہی کہاں رہی تھی اسے تو بس یہاں سے نکلنا تھا
اپنا سارا سامان پیک کر کے وہ اپنے ہینڈ بیگ میں اپنا پاسپورٹ ڈھونڈنے لگی جو وہاں نہ
نہیں تھا
میرا پاسپورٹ کہاں چلا گیا؟
یہی تو رکھا تھا میں نے پاسپورٹ کہاں ہے نانو ۔ میں نے یہاں اپنے بیگ میں رکھا تھا’ نانوبتائیں ۔ روشانے نے پوچھا
تم جانتی ہو تو پوچھ کیوں رہی ہو ۔ ۔ ۔ نانو کے انداز سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ جانتی ہےکہ اس کا پاسپورٹ کہاں ہے ۔
نانو آپ بھی اس کا ساتھ دے رہی ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ظلم میرے ساتھ ہوا ہے بے قصور
میں ہوں ۔
وہ غلط تھا ۔ غلطی اس نے کی ہے تو سزا میں کیوں کاٹوں
یاد رکھئے گا نانو آپ میری زندگی کے سب سے بڑے امتحان میں اس شخص کا ساتھ دے رہی ہیں میں اس کے لیے کبھی آپ کو معاف نہیں کروں گی ۔
اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتی وہ کمرے سے باہر نکل گئی
کیونکہ ایسے ارتضی سے اپنا پاسپورٹ لینا تھا
°°°°°°°°°°
وہ کمرے میں آئی تو ارتضی یہاں نہیں تھا واش روم کا دروازہ بند تھا
یقیناً وہ وہیں پر تھا اس کے کمرے میں نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے جلدی سے اس کی
سائیڈ دراز میں اپنا پاسپورٹ ڈھونڈنا چاہا
لیکن اسے کافی مایوسی ہوئی پھر اس نے اس کی الماری کھولی وہ اکثر یہاں رکھا کرتا تھا
وہ تیزی سے اپنا پاسپورٹ ڈھونڈ نے لگی جب اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا
وہ فوراً پیچھے مڑی
وہ بنا شرٹ کے سینے پر ہاتھ باندھے پرسکون کھڑا اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا شاید وہ ابھی نہا کرنکلا تھا ۔
میرا پاسپورٹ کہاں ہے ۔۔۔۔؟
اس کے خلیے سے نظریں چراتے ہوئے اس نے پوچھا
جبکہ اس کے اس طرح سے نظر جھکانے پر وہ مخفوظ ہو کر مسکرا دیا ۔
میرے پاس ہے ۔ اس نے قبول کیا
آپ کو ذرا شرم نہیں آتی چوری کرتے ہوئے آپ نے میرا پاسپورٹ چرالیا شانی نے غصے سے کہا ۔
شوہر کی سب چیزوں پے اس کی بیوی کا حق ہوتا ہے اور بیوی کی چیزوں پر شوہر کا تو سوچا تمہارےپاسپورٹ پر میرا حق ہے ۔ بس میں نے لے لیا تم اسے چوری تو نہیں کہہ سکتی
وہ اس کے بالکل قریب آچکا تھا
پلیز آپ پہلے شرٹ پہنے پھر بات کرتے ہیں ۔ اس نے نظریں چراتے ہوئے کہا ۔
تو کیا اب تک تم میرے ساتھ ڈویٹ گارہی ہو کہ شرٹ پہنے بغیر بات نہیں ہو سکتی ۔ ارتضی نے
مسکراتے ہوئے کہا
دیکھیں پلیز آپ اپنی شرٹ پہنے پھر بات کرتے ہیں ۔ شانی سمجھ چکی تھی وہ اس کے ساتھ جتنی غصے اور نفرت سے پیش آئے گی وہ اتنی ہی ضد کرے گا اسی لئے اس نے اسے سمجھانے کا فیصلہ کیا وہ اسے بنانا چاہتی تھی کہ وہ تنزیل کے ساتھ منگنی کر چکی ہے
بات تو شرٹ پہنے بغیر بھی ہو سکتی ہے ۔ وہ اس کے مزید قریب ہوا ۔ پہلے بھی تو کرتا ہی رہا ہوں تم سے اس طرح سے باتیں ۔
وہ ایک ہاتھ سے اس کے چہرے کے بال ہٹا تا دوسرے ہاتھ اسکی کمر کے پیچھے لے گیا اور ایک
جھٹکے سے کھینچ کر اسے اپنے قریب تر کر لیا
چھوڑیں مجھے نہیں کرنی آپ سے کوئی بات چھوڑیں مجھے ۔ روشانے کو اب اس کے کمرے میں آنے کا فیصلہ غلط لگا ۔
کیا ہوگیا شانی اتنی پریشان کیوں ہو رہی ہو بے فکر رہو رخصتی سے پہلے میں کچھ نہیں کروں گا ۔
ارتضی چھوڑیں مجھے روشانے نے اپنا آپ چھڑواتے ہوئے کہا
پہلے بھی تو آتا تھا تمہارے قریب تب تم اس طرح سے تو نہیں کرتی تھی وہ اس کی مزا حمتوں کو دیکھتےہوئے کہنے لگا
پہلی بات اور تھی روشا نے اپنا آپ چھڑوانے کی ایک اور کوشش کی
ہاں پہلے بات اور تھی پہلے ہمارے بیچ چار سال کا یہ فاصلہ نہیں تھا لیکن اب نہیں رہے گا
بس آج کی رات اور پھر کل تم میری ہو جاؤ گی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔
پھر اپنی یہ مزاحمتیں اپنے کمرے میں چھوڑ کر آنا کیونکہ میرے سامنے نہیں چلے گی اس کے کان کےبالکل قریب سرگوشی کرتے ہوئے وہ اس کے کان کی لوح چوم کر کمرے سے باہر نکل گیا
جبکہ روشانے اس کے کمرے میں آنے کی وجہ سے پچھتا رہی تھی
°°°°°°°
گھر کے نوکر نہ تو اسے گھر سے باہر نکلنے دے رہے تھے اور نہ ہی اسے فون پر کسی سے بات کرنے
دے رہے تھے ۔
وہ التجائی نظروں سے نانو کو دیکھتی لیکن وہ نظر جھکا لیتیں
وہ یہاں آکر قید ہو کر رہ گئی تھی
اسے یہ سب کچھ بابا پر چھوڑ دینا چاہیے تھا اسے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا اس نے سوچ بھی کیسے لیا
کہ بچپن سے اس کی ذات کو اپنے تک محدود رکھنے والا شخص اسے کسی اور کا ہونے دے گا
نجانے تنزیل اس سے بات کرنے کی کتنی کوششیں کر چکا تھا
لیکن اس کی بھی ساری کوششیں ناکام ہو چکی تھی
کیوں کہ گھر کا نمبر اس کے پاس تھا نہیں اور شانی کا فون وہ توڑ چکا تھا
ماموں نے بھی ارتضی کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ بھی اپنی ضد پر اڑا رہا ۔
ارتضی نے اسے شاپنگ پر چلنے کے لیے کہا جس پر اس نے صاف انکار کردیا ارتضی کندھے اچکا کر
خود ہی نکل گیا
اور جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں اس کی پسند کی ویڈنگ ڈریس تھامائی
تم نے یہ ڈریس کل پہنا ہے ۔
نہ ہی میں یہ ویٹنگ ڈریس پہنوں گی اور نہ ہی میں آپ کے ساتھ رخصتی کرونگی آپ کو کیا لگتا ہے
آپ جب چاہیں اپنی من مانی کریان گے بالکل غلط لگتا ہے آپ کو میں نہیں کروں گی آپ سے
شادی سنا آپ نے وہ غصے سے بولی
دیکھو شانی بہت برداشت کر لیا میں نے میں کب سے تمہارا یہ رویہ برداشت کر رہا ہوں ۔
اور تم جانتی ہو نہ تو تمہیں اس طرح سے بات کرنے کی عادت ہے اور نہ ہی مجھے سننے کی ۔
اور جہاں تک بات ہے رخصتی کی تو وہ تو ضرور ہوگی ۔
شادی تو تمہاری میرے ساتھ ہی ہوگی اگر تم یہ خود نہیں پہنوں گی تو میں اپنے ہاتھوں سے پہناوں ہوگا
لیکن تمہیں یہ شادی کرنی پڑے گی ہر حال میں
وہ اس کے انداز میں کہتا ہوں اٹھ کر اپنے کمرے میں جانے لگا۔
پھر مڑا اور اسے دیکھتے ہوئے بولا
ویسے بھی تو مجھ سے پیار کرتی ہو میں جانتا ہوں تو پھر ان سب نخروں کا کوئی مطلب نہ
بنتا
نہیں کرتی میں آپ سے پیار نہیں کرنی مجھے آپ سے شادی میں صرف تنزیل سے شادی کروں گی جس سے میں پیار کرتی ہوں اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتی کا ارتضی کا ہاتھ اس کا منہ بند کر دیا
تھپڑاتنا زوردار تھا کہ شانی کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا اور وہ صوفے سے جا ٹکرائی
میری ہو تم صرف میری ہو ہو خبردار جو اپنے منہ سے کسی اور مرد کا نام بھی لیا ۔ ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا اس کے بھی تمہارے بھی غصے سے دہاڑتا وہ چلا گیا
°°°°°°
کمرے میں آکر اس نے سب سے پہلے شانی کے بابا کو فون کیا
انکل کل آپ کے بیٹی کی رخصتی ہے مجھے لگا کہ آپ کو بتا دینا چاہیے ۔ جانتا ہوں اتنے کم وقت میں
آپ نہیں آسکتے
لیکن پھر بھی میں نے آپ کو بنانا ضروری سمجھا بس اتنا کہہ کے اس نے فون بند کر دیا اس نے انہیں بات کرنے کا موقع بھی نہ دیا
جبکہ شانی کی رخصتی کا سن کر بابا پریشان ہو چکے تھے
وہ سمجھ چکے تھے کہ شانی نے جانے کا فیصلہ کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے
ارتضی اتنی آسانی سے اسے خود سے دور نہیں ہونے دیگا ۔
اب وہ یہ سوچ رہے تھے کہ وہ اس بارے میں تنزیل کو کچھ بتائیں کہ نہ بتائیں انہوں نے بار بار
ارتضی کے نمبر پر دوبارہ فون کیا لیکن اس نے فون
نہ اٹھایا
°°°°°°°
سمجھ کیا رکھا ہے مجھے جب دل کرتا ہے ٹکراتے ہیں جب دل کرتا ہے اپناتے ہیں ۔۔
میں کوئی گڑیا نہیں ہوں ۔
ایک جیتی جاگتی انسان ہوں ۔ میرے بھی کچھ خواب ہیں جنہیں پورا کرنا میرا حق ہے ۔
آپ اس طرح سے مجھ سے میرے حق نہیں چھین سکتے ۔
اور نہ ہی میں آپ کو یہ حق خود سے چھیننے دوں گی ۔
بہت شوق ہے نا آپ کو رخصتی کروانے کا ۔
اب میں وہ کروں گی جو آپ ساری زندگی یاد رکھیں گے
خود سے عہد کرتی وہ ارتضی کے خلاف پلیننگ کرنے میں مصروف تھی ۔
جب اچانک کوئی اس کے ساتھ آکر بیڈ پر بیٹھا ۔
اچانک اپنے ساتھ کسی کو محسوس کر کے گئے روشانے چونکی
میرے ہی خیالوں میں اس حد تک گم ہو کے میرے ہی آنے کی خبر نہیں ہوئی ۔ کیا دعوی تھا اسے
یقین تھا کہ وہ اسی کے بارے میں سوچ رہی ہے ۔
خوش فہمیوں سے باہر نکلے میں آپ کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی اور نہ ہی آپ کے بارے میں
سوچنے کا کوئی ارادہ رکھتی ہوں روشانے غصے سے بولی
او کے فائن مت سوچو میرے بارے میں ۔ لیکن کسی اور کے بارے میں سوچنے کا خیال بھی اپنے
دماغ سے نکال دو۔
وہ اسی کے انداز میں بولا تھا
مجھے میرا پاسپورٹ چاہیے میں واپس جانا چاہتی ہوں بہت بڑی غلطی کردی میں نے یہاں آکر
روشانے نے غصے سے کہا
ہاں لیکن اب تو تم نے غلطی کردی اب کیا ہوسکتا ہے اب یہاں تک آگئی ہو تو میرے بیڈروم تک
بھی آجاؤ ۔
جو نہ جانے کتنے سالوں سے تمہارا منتظر ہے ۔ ارتضیٰ نے بے باکی کی دیوار پھلانگتے ہوئے کہا
جس پر روشانے کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا ۔ لیکن پھر بولی ۔
نہ تو مجھے آپ کے روم میں آنے کا کوئی شوق ہے اور نہ ہی آپ کی زندگی میں ۔ اور خاص کر اس
کمرے میں تو آنے کی میری کوئی خواہش نہیں ہے جہاں مجھ سے پہلے آپ میرے حقوق کسی اور کے
ساتھ ادا کر چکے ہیں ۔
شانی وہ ایک غلطی تھی ارتضی غصے سے چلایا ۔
آپ کی وہ غلطی میرے دکھوں کا آزالہ نہیں کر سکتی ارتضی ۔ روشانے اسی کے انداز میں بولی ۔
تم مجھے ایک موقعہ تو دو روشانے ۔ بنا صفائی پیش کرنے کا موقعہ دیے تم مجھے سزا نہیں سنا سکتی ۔
آپ نے بھی مجھے میری صفائی پیش کرنے کا کوئی موقعہ نہیں دیا تھا اگر آپ کو یاد ہو تو روشانے نےلگے ہاتھ پرانے حساب بے باک کیے ۔
مجھ پر حق جتانے سے بہتر ہوگا کہ آپ اپنی غلطیوں پر غور کریں
میں غلط ۔ میں گناہ گار ۔ میں کمینہ ۔ میں دھوکے باز میں بے وفا ۔ لیکن پھر بھی تم صرف میری ہو
۔ اور ہمیشہ میری رہوگی جب تک ارتضی حیدر کی آخری سانس چلتی ہے تم ارتضی حیدر کی ہی کہلاؤ گی ۔
وہ کہتے کہتے باہر نکل گیا ۔
جبکہ روشانے اپنی بے بسی پر رونا چاہتی تھی لیکن وہ شخص کے سامنے کمزور بھی نہیں پڑنا چاہتی تھی
اپنی آنکھوں میں آیا آنسو کو بے دردی سے صاف کیے اس نے اس شخص کا مقابلہ کرنے کا سوچا ۔
°°°°°°°
بیٹا میں اسے سمجھانے کی بہت کوشش کر چکا ہوں
لیکن وہ اپنی ضد پر اڑا ہے
وہ کسی بھی حال میں تمہیں طلاق دینے کے لئے راضی نہیں ہے میں نے اسے رخصتی نہ کرنے کا
کہا تو اس نے کہہ دیا کہ یہ اس کا معاملہ ہے مجھے بیچ میں پڑنے کی ضرورت نہیں
اس کے بعد بھی میں نے اس سے بات کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ میری بات سننے کو راضی
ہی نہیں ہے
احسن صاحب نے بے بسی سے کہا جو اپنے بیٹے کی ضد سے اچھی طرح سے واقف تھے وہ جانتے تھے
کہ ارتضی کسی بھی حال میں روشانے کو نہیں چھوڑے گا ۔
روشانے جب اس کی کچھ نہیں تھی تب اس نے روشانے پر اپنا حق جتایا اب تو وہ اس کی بیوی تھی
اب تو پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
وہ نہ تو گھر سے با ہر جا پارہی تھی اور نہ ان فون پر بات کر پا رہی تھی
کل رات اس نے یہ تک سوچا تھا کہ وہ اس پر پولیسں کیس کرے گی
ہو سکتا ہے اس معاملے میں وہ اس کی کچھ مدد کر پائے لیکن وہ بھی اس کنڈیشن میں ہوتا جب
ارتضی سے گھر اسے باہر نکلنے دیتا ہے یا فون پر کسی سے بات کرنے دینا
ارتضی نے اس پر ہر قسم کی پابندی لگائی تھی جو نہ چاہتے ہوئے بھی اسے ماننی پڑ رہی تھی ۔
اب تو وہ اسے شاپنگ کے لئے بھی منع کر کے پچھتا رہی تھی ۔
اگر وہ اس کے ساتھ شاپنگ پر چلی جاتی تو کسی نہ کسی طریقے سے وہ پولیس سے رابطہ کر سکتی تھی ۔
لیکن اب وہ بھی ممکن نہ تھا ۔
جبکہ دوسری طرف ارتضی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ۔
پہلے وہ اس کے واپس آنے کی خوشی منا رہا تھا تو اب وہ اپنی شادی کی خوشیوں میں مگن تھا ۔ جبکہ اسکی پیاری نانو اپنے پوتے کی بلائیں لے رہی تھیں ۔
اس کی نانو کو بھی اس کی کوئی پروا نہ تھی وہ اس کا ساتھ دینے کی بجائے ارتضیٰ کا ساتھ دے رہی
تھی یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس بار روشا نے حق پر اور ارتضی غلط ہے
°°°°°°°
آدھی رات کا وقت ہو چکا تھا صبح اسے ارتضی کے کمرے میں بھیجا جانے والا تھا
جو وہ نہیں چاہتی تھی
اسی لئے وہ آدھی رات ہونے کا انتظار کرنے لگی
جب سب لوگ سو جائیں تو اس نے بابا اور تنزیل سے رابطہ کرنے کے بارے میں سوچا تھا ۔
اپنی سوچ کے عین مطابق وہ تقریبا ایک بجے کے قریب کمرے سے باہر نکلی تو یہاں پر کوئی نہیں تھا
سکون کا سانس لیتے ہوئے وہ فون کی طرح بھری ۔
جیسے ہی اس نے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا کسی نے اس کا بازو کھینچ کر اپنے قریب تر کر لیا
کیوں کر رہی ہو تم میرے ساتھ یہ سب کچھ شانی صرف ایک موقعہ ہی تو مانگ رہا ہوں ۔
میں تم سے جتنی نرمی سے پیش آرہا ہوں تم اتنا ہی میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو ۔ اس کےبلکل قریب بڑے پیار سے اسے ڈانٹ رہا تھا
چھوڑیں مجھے وہ غصے سے چلائی ۔
آہستہ بولو شانی اس گھر میں ہمارے علاوہ اور لوگ بھی رہتے ہیں جن کی نیند خراب ہوسکتی ہے وہ اس کے کان میں دھیرے سے بولا ۔
ارتضی پلیز چھوڑیں مجھے ۔ اس بار لہجے میں غصے سے زیادہ التجا تھی ۔
ارتضی نے فورا اسے چھوڑ دیا ۔
چھوڑ رہا ہوں لیکن صرف ابھی کے لئے کل مجھ سے اس طرح کی کوئی امید مت رکھنا ۔
وہ نرمی سے اس کا گال چومتے ہوئے بولا۔
جبکہ اس کی اس حرکت پر شانی سر سے پاؤں تک سرخ ہوگئی ۔
اس کے چہرے پر اپنی چاہت کے حسین رنگ دیکھتے ہوئے ارتضی نے محبت سے اس کا ہاتھ تھاما اور
ایک بار پھر سے اس کے کمرے میں چھوڑ کر دروازہ باہر سے لاک کردیا ۔
روشانے جو اس کی حرکت پر پہلے ہی بہت غصہ تھی دروازہ لاک ہونے کو بھی نوٹ نہ کر پائی ۔
جب غصہ تھوڑا کم ہوا تو دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی ۔
لیکن مایوسی کے سوا اور کچھ نہ ملا
اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ ارتضی اسے اپنے ہی گھر میں اپنے ہی کمرے میں لاک کر کے جا
چکا ہے ۔
