Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan By Areej shah Readelle50295 (Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Epi 1
No Download Link
Rate this Novel
(Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Epi 1
اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو سمبھالوں کیسے
تجھ کو دنیا کی نگاہوں سے چھپا لوں کیسے
اپنے ہاتھوں سے دیا دل کا بجھالوں کیسے
میری تنہائی میری جاں پہ بنی ہے سائیاں
کمرے کی خاموشی کو توڑتی ہوئی آواز ۔ اس نے اپنی آنکھوں سے نکلے ننھے سے اک قطرے کو اپنی انگلی کی پوروں پہ چنا اور بے دردی سے ہوا میں اچھال دیا ۔
اپنے درداپنی تکلیف کو اگنور کرتے ہوئے اس نے ایک اور سگریٹ سلگایا ۔
کمرہ گہرے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔ وہ اپنے کمرے کی لائٹس ہمیشہ آف رکھتا تھا ۔
اسے روشنی سے وحشت ہوتی تھی ۔
“میری ہستی کو ہرا کر دیتی سزا ہوں مولا
دے مجھے میرا پتا کوئی کہاں ہوں مولا
ایک بجھے گھر کے چراغوں کا دھواں ہوں مولا
میری آواز میرے دل میں دبی ہے سائیاں ۔
“میری آنکھوں میں جدائی کی نمی ہے سائیاں ۔
۔۔ میری تنہائی میری جاں پہ بنی ہے سائیاں ۔
اب مزید برداشت نہ ہو سکا تو اٹھ کر میوزک سسٹم بند کر دیا ۔ اور ایک بار پھر سے اسی کرسی پہ آ گیا ۔
اسے سگریٹ پے سگریٹ سلگاتے نہ جانے کتنی ہی دیر ہو چکی تھی ۔ جب کمرے میں ذرا سی روشنی ہوئی شاید دروازہ کھلنے کی وجہ سے ‘ کیونکہ اندھیرے میں تو صرف اس کی زندگی ڈوبی تھی ۔ اس نے خود اپنے آپ کواندھیرے کی نظر کیا تھا ۔
اسے لگا شاید اس کا ملازم ہوگا اسی لیے ویسے ہی بیٹھا رہا ۔
جب کچھ دیر میں اپنے بالوں میں کسی کے نرم ملائم ہاتھ کا لمس محسوس کیا ۔
اپنے سر پہ کھڑی اپنی دادو کو دیکھ کر اس نے فورا سگریٹ بجھایا ۔
اتنی جلد بازی کرنے کی ضرورت نہیں ہے بیٹا میں دیکھ چکی ہوں دادو کے لہجے میں ہلکا سا طنز تھا جیسےمحسوس کر کے وہ شرمندہ سا ہو گیا
آپ یہاں مجھے بلا لیا ہوتا ۔ ۔ آئیں باہر چلتے ہیں
ارتضی نے دادو کو بیٹھنے کی جگہ دی لیکن کمرے میں دھواں ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر سے
شرمندگی نے آگھیرا ۔ اس لئے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتا انہیں کمرے سے باہر لے جانے لگا
تمہیں ذرا فکر نہیں رہی میری ۔ صبح اٹھتے ہو تیار ہوتے ہو۔ بیگ اٹھاتے ہو اور آفس چلے جاتے ہو ۔ رات
میرے سونے کے بعد آتے ہو ۔ ایسا کب تک چلے گا ۔
بس اب بہت ہوگیا تمہارا باپ بھی تمہاری روٹین
سے بہت تنگ ہے ۔
اگر وہ میرے ساتھ نہ ہوتا تو شاید تنہائی میں مر جاتی میں وہ اپنے دل کا حال سنانے لگیں
کیسی باتیں کر رہی ہیں دادو اپنے عزیز رشتے کو خود سے دور ہونے کی بات کرتے دیکھ کر ارتضی حیدرتڑپ اٹھا تھا ۔
تو میں اور کیا کہوں ارتضی ۔ تمہارے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ قسمت کا لکھا تھا اس میں میری تو کوئی غلطی نہیں یا تمہارے باپ کی ۔ تم ہمیں کیوں خود سے محروم کر رہے ہو ۔
کیا اب تمہاری نظروں میں ان رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔
باہر نکلواس اندھیرے سے ارتضیٰ
میں اب نہیں کہوں گی تمہیں شادی کا کبھی نہیں کہوں گی
دادو نے آنکھ سے آنسو صاف کیے ۔
دادو پلیز اس طرح سے نہ روئیں آپ کے آنسو مجھے تکلیف دے رہے ہیں
اور تمہاری زندگی سے بیزاری مجھے تکلیف دے رہی ہے ارتضی ۔
میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتی ہوں ۔
میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ تم اپنی زندگی میں آگے بھرو ۔
مجھے بھوک لگی ہے دادو اس سے پہلے کہ دادو شادی کا ٹاپک ایک بار پھر سے شروع کرتیں ارتضی بول اٹھا
ارے اس سب میں میں تو بھول ہی گئی کہ میں نے آج تمہاری پسند کا حلوہ بنایا ہے سوچا تھا دونوں دادی پوتا مل کے کھائیں گے ۔ دادو اپنے آنسو صاف کیے مسکراتے ہوئے اٹھیں
تمہارے باپ کو پتہ نہ چلے ورنہ پھر کھائے گا اور شگر اس کا ہائی ہو جائے گا ۔
اس بڑھاپے میں بھی بالکل بچوں جیسی حرکتیں کرتا ہے تمہارا باپ دادو احسن صاحب کو کوستی کچن میں چلی گئیں ۔
جبکہ دادی کی پریشانی کو سوچتے ہوئے ارتضی ایک بار پھر سے اپنے ماضی میں جانے لگا تھا
ٹھیک تو کہتی تھیں دادی کتنا خوش رہتا تھا وہ ابھی چار سال پہلے اس کی زندگی کتنی حسین تھی اس کی زندگی میں اس کی پسند کی ہر چیز شامل تھی ۔ وہ ضدی انسان اپنی ہر بات منوانے کا فن رکھتا تھا ۔
چاہے دادو ہوں یا بابا یا پھر چاہے” وہ “ہی کیوں نہ ہو اس گھر میں ہمیشہ سے صرف ارتضی حیدر کی چلتی آئی تھی
اس کی ضد کے آگے اس گھر کا ہر فرد بے بس تھا ۔
لیکن پھر وہ اسے چھوڑ کر چلی گئی ۔ اور ارتضی حیدر اپنی ذات سے ہی ناراض ہوگیا
°°°°°
ترکی کے شہر ازمیر میں اس وقت شوٹنگ جاری تھی اس کا فون مسلسل بج رہا تھا جیسے وہ اگنور کر نےکی کوشش کر رہا تھا
لیکن یہ ٹینشن بھی تھی کہ کہیں روشنی کا فون نہ ہو ۔
کیونکہ اگر اس وقت اس کے فون پر روشنی کا فون آرہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آج اس کی جان
نہیں بچنے والی ۔
یا تو وہ اس کا سر کسی دیوار پر دے مارے گی ۔ یا اس سے خونخوار جانور کے آگے پھینک دے گی ۔
تنزیل کی سوچ میں اب یہ ضرورت سے زیادہ ہوگیا کیونکہ اس کی معصوم سی روشنی اتنی بھی ظالم نہیں تھی
°°°°
آخر اپنا سارا کام نپٹاکر وہ فون کی طرف آیا ۔
اندازے کے مطابق اس کے موبائل پر اس کی مس بیوٹی کی تیرہ مسڈ کالز آ چکی تھی ۔ اب اس کا
خدا ہی حافظ
اس نے کال بیک کی جیسے بڑی خوبصورتی سے اگنور کر دیا گیا ۔
اور اس کے بعد تنزیل نے کالز کا کسی نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیا ۔
آخر تنگ آکر 23ویں کال پرروشنی نے فون اٹھانے کا احسان کر دیا ۔
ہیلو کون بات کر رہا ہے ؟
بار بار کیوں ڈسٹرب کر رہے ہو؟
مجھے اگر میں فون نہیں اٹھا رہی تو سمجھ نہیں
آرہا کہ میں آپ کو نہیں جانتی
روشنی نے اسے پہچانے سے انکار کر دیا
جس پر اس کے ہونٹوں کو مسکان چھو کر گزری ۔
سوری میں بزی تھا ۔ تنزیل نے کچھ بولنے کو لب کھولیں ۔
ایک منٹ ، کون ہیں آپ ؟کیا میں آپ کو جانتی ہوں یا میں نے آپ سے کوئی صفائی دینے کو بولا
میں آپ کو جانتی ہی نہیں آپ مجھے سوری کیوں بول رہے ہیں میں نہیں جانتی آپ کو کون ہیں آپ ۔۔۔؟
تمہارا عاشق “اس کے لہجے میں ناراضگی محسوس کر کے وہ شوخ انداز میں بولا ۔
جس پر ہمیشہ کی طرح روشنی کی بولتی بند ہوگئی
اور ایک بھی منٹ ضائع کیے بغیر اس نے کال کاٹ دی اس کی اس حرکت پر تنزیل قہقہہ لگا کر ہنسا
تنزیل ڈارلنگ شوٹ ریڈی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی فلم کی ہیروئن ایک ادا سے چلتی ہوئی اس کے قریب
آئی اور کندھے پر ہاتھ رکھ کے بولی
تمہیں کتنی بار کہا ہے ۔ دیدم مجھے اس طرح کے بے خودہ ناموں سے نہ بلایا کرو ۔
اس کا ہاتھ جھٹک کر سردمہری سے کہتا ہوا وہ اپنی فلم کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
تنزیل احمد ترکی کی فلموں کا بہت بڑا ڈریکٹر تھا ۔ ایک دنیا اسے جانتی تھی ۔ بہت ہی کم عمر میں اس کا فلموں میں بہت بڑا نام تھا ۔ ایک سے ایک حسین لڑکی اس کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کو اپنیخوش قسمتی سمجھتی تھی ۔
لیکن تنزیل کی زندگی میں صرف ایک لڑکی تھی تنزیل کی زندگی ایک لڑکی کے آگے پیچھے گھومتی ہے ۔
وہ پچھلے چار سال سے اسے شادی کی آفر کر رہا تھا ۔
اس کی بس ایک ہاں کا منتظر تھا ۔
لیکن کا بس اتنا ہی کہنا تھا کہ اس نے تنزیل کو کبھی اس نگاہ سے نہیں دیکھا
وہ اس کے بارے میں ایسا نہیں سوچتی وہ اسے صرف اپنا دوست سمجھتی ہے ۔
تنزیل جانتا تھا کہ وہ یہ سب کچھ کیوں کہہ رہی ہے ۔
چار سال پہلے جو کچھ ہوا تھا اس کو بھلا کر ایک نئی زندگی شروع کرنا روشنی جیسی لڑکی کے لیے تقریبا ناممکن تھا ۔
ایک مرد اپنی پرانی محبت کو بھلاکر کتنی آسانی سے نئی زندگی شروع کر لیتا ہے لیکن ایک عورت ہمیشہ اپنی پہلی محبت کے زیراثر رہتی ہے
روشنی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا وہ آج بھی اس شخص کو بھلا نہیں پائی تھی ۔
اور یہ بات تنزیل اچھے سے جانتا تھا ۔
°°°°°
وہ ابھی ابھی میٹنگ سے فارغ ہوا تھا اب وہ اپنے آفس میں جا رہا تھا کہ اس کی نظر ویٹنگ ایریا پر
بیٹھی اس عورت پر پڑی
غصے سے اس کے ماتھے کی روگیں سامنے آگئی
آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے آفس میں قدم رکھنے کی وہ غصے سے چلاتے ہوئے بولا
بیٹا میں بس ایک بار تم اسے ملنے آئی ہوں میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو ۔
خاموش ایک لفظ اور نہیں نکل جائیں یہاں سے اس سے پہلے کہ بابا آپ کو یہاں دیکھ لیں
مجھے تو اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن آپ کی بچی کوچی زندگی برباد ہو جائے گی
بیٹا ایک بار تم اپنے بابا کو سمجھانے کی کوشش کرو وہ مجھے طلاق دینا چاہتے ہیں
میں تمہاری سگی ماں نہ سہی لیکن ماں تو ہوں خدا کے لئے مجھے سمجھنے کی کوشش کرو مجھ سے غلطی ہوگئی مجھے معاف کردو
میں جانتی ہوں اگر تم نے مجھے معاف کر دیا تو تمہارے بابا بھی کر دیں گے خدا کے لئے مجھ پر رحم کرو
اس عمر میں طلاق لے کر میں کہاں جاؤں
پلیز میری مدد کرو اس دنیا میں تمہارے علاوہ میری کوئی مدد نہیں کر سکتا صرف تم ہی اپنے بابا کو سمجھا سکتے ہو پلیز میری مدد کرو مجھ سے غلطی ہوئی ہے میں مانتی ہوں بس ایک بار مجھے معاف کر دو بس ایک بار اگر تم کہو گے تو میں روشانے سے بھی معافی مانگوں گی
پلیز ارتضی میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں
دیکھیں آنٹی پلیز یہاں سے چلی جائیں میں نہیں چاہتا آفس میں کسی بھی قسم کا کوئی تماشا ہو
یہ آپ کا اور بابا کا پرسنل میٹر ہے میں اس میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا
اور جہاں تک معافی کی بات ہے تو میں کون ہوتا ہوں کسی کو معاف نہ کرنے والا میں تو خود گناہگار ہوں اس کا
میں تو خود دن رات تڑپتا ہوں اس کی ایک معافی کے لئے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا پلیز چلی جائیں یہاں سے اس عورت سے ارتضی کو کبھی بھی کوئی محبت یا لگاؤ نہیں رہا نہ تو وہ اس کا بیٹا تھا اور نہ ہی وہ اس کی ماں
ہاں لیکن زندگی کے کھیل میں اس عورت نے اسے ہرانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا تھا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے آفس میں آنے کی کیوں آئی ہو اب کچھ رہ گیا ہے برباد کرنے کو احسن صاحب غصے سے دھاڑتے ہوئے وہاں آئیں
احسن خدا کے لئے مجھے معاف کر دیں خدا کے لئے مجھ سے غلطی ہوگئی میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی پیر پکڑتی ہوں رخسانہ بیگم ان کے پیروں میں آگریں لیکن احسن صاحب کو ان پر ترس نہ آیا
دفع ہو جاؤ یہاں سے اس سے پہلے کے میں کوئی غلط الفاظ استعمال کر دوں
تم ہماری زندگی میں جتنا زہر گھولنا چاہتی تھی گھول چکی اب اپنی زہریلی سوچوں کو لے کر چلی جاؤ یہاں سے احسن صاحب غصے سے دھاڑے
احسن خدا کے لئے میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں
گارڈز اس عورت کو اندر کس نے آنے دیا نکالو اسے یہاں سے ابھی اور اسی وقت
گارڈز کہاں مر گئے ہو سب کے سب نکالو اس عورت کو یہاں سے احسن صاحب غصے سے بولتے اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے
بابا آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔ کیا ہوا ہے آپ کو ۔ ۔ ۔ ؟ ارتضی پریشانی سے ان کے قریب آیا
اس عورت کو نکالو یہاں سے ارتضی۔میں اسے جان سے مار دوں گا
نکالو اسے یہاں سے میرے بچوں کی زندگی برباد کردی اس نے نکالو اسے یہاں سے ورنہ میں اسے زندہ زمین میں گاڑ دوں گا۔وہ چلا رہے تھے
خدا کے لیے چلی جائیں آپ یہاں سے کیا میرے بابا کی جان لینا چاہتی ہیں آپ جب ارتضی سے کچھ
نہ بن پڑا تو رخسانہ بیگم پر دھاڑا
جبکہ گارڈز ان کے قریب آچکے تھے
اس سے پہلے کہ وہ رخسانہ بیگم کو دھکے مار کے وہاں سے نکالتے رخسانہ بیگم اپنے منہ پر دوپٹہ رکھے روتی سسکتی ہوئی وہاں سے نکل گئیں ۔
°°°°°°
روشنی کہاں ہے انکل میں کب سے اسے فون کر رہا ہوں فون نہیں اٹھا رہی پلیز انکل اسے کہیں مجھے
معاف کردے مجھ سے غلطی ہوگئی آئندہ ایسا نہیں ہوگا پلیز اس سے کہیں کہ مجھے معاف کردے اور میرا فون اٹھالے
تنزیل ابراہیم صاحب کے فون اٹھاتے بھی شروع ہوگیا جس پر ابراہیم صاحب مسکرادیۓ
ہاہاہا اتنا بڑا ڈریکٹر اور ایک عام سی لڑکی سے بات کرنے کیلئے اتنے پاپڑ بیل رہا ہے ابراہیم صاحب نےمسکراتے ہوئے کہا
اوہو ابراہیم انکل میں آپ کو کیا بتاؤں وہ آپ کی لاڈلی مجھ سے ناراض ہو گئی ہے اسی لیے مجھ سے بات بھی نہیں کر رہی دراصل ہوا کچھ ایسا کہ میری فلم کی شوٹنگ چل رہی تھی کہ اس کی بہت ساری کالز آئی جنہں میں پک نہیں کر پایا
اس کے بعد میں نے اسے فون کیا اور فون پر میری کوئی بات اسے بری لگ گئی اس کے بعد سے وہ
میرا فون نہیں اٹھا رہی
پلیز میری مدد کیجئےآپ کو بابا اور اپنی بچپن کی دوستی کی قسم تنزیل نے شرارت سے کہا
واہ۔برخودار اپنی اور روشنی کی دوستی بچانے کے لیے مجھے میری اور میرے بچپن کے دوست کی قسم دے رہے ہو
انکل آپ میرے بھی تو دوست ہیں صرف بابا کے دوست تھوڑی ہیں اب صرف مسکا لگانے سے ہی
کام بن سکتا تھا ورنہ یہ ٹیری بیٹی کا ٹیرا باپ نہ جانے اس کی مدد کرے یا نہ کرے
ہاں بیٹا میں سیڑھیاں چڑھ رہا ہوں بس آگیا میں اس کے کمرے میں رکو میں بات کرواتا ہوں
ابراہیم صاحب نے روشنی کے بیڈ روم کا دروازہ کھولا تو وہ کوئی کتاب پڑھ رہی تھی ۔
جبکہ پاس پڑا فون بند تھا ۔
بیٹا آپ کو آپ کا دوست نہ جانے کب سے فون کر رہا ہے اور آپ ہیں کہ کتاب میں اس حد تک گم
ہیں کہ اس کا فون بھی رسیو نہیں کر رہی
ابراھیم صاحب نے کمرہ کا دروازہ ناک کرتے ہوئے کہا
سوری بابا میں نے دھیان نہیں دیا ۔
روشنی کو اندازہ تھا کہ جو موبائل ان کے کان سے لگا ہے اس پر کال اس کے اسٹوپڈ دوست تنزیل کی
ہی ہوگی ۔
میں ابھی اسے فون کرتی ہوں ۔
نہیں بیٹا آپ یہیں سے بات کر لیں وہ کب سے آپ کو فون کر رہا ہے
وہ کا مطلب اس کا اکلوتا دوست تنزیل ہی تھا ۔
اس نے بابا کے ہاتھ سے فون لیا تو بابا کمرے سے باہر چلے گئے
بابا کے کمرے سے باہر جاتے ہی اس نے فون کان سے لگایا
سوری تنزیل وہ دراصل میرا فون بند ہو گیا تھا اس لئے میں تمہارا فون رسیو نہیں کر پائی ایم سوری روشنی نے معذرت کی
کوئی بات نہیں روشنی میں جانتا ہوں فون تم نے جان بوجھ کر نہیں اٹھایا تھا
میں سمجھ سکتا ہوں میری بات تمہیں بری لگی ہے
کون سی بات ۔۔۔ مجھے تمہاری کوئی بات بری نہیں لگی تم کون سی بات کی بات کر رہے ہو روشنی نے اگنور کیا
چھوڑو آج مل رہی ہو مجھ سے تنزیل نے ٹاپک چیلنج کیا
اتنے مصروف ڈائریکٹر کو ایک عام سی لڑکی سے ملاقات کرنے کا وقت کہاں سے ملا روشنی نے چوٹ
کرتے ہوئے کہا
ہاہاہا میں تمہارے لئے کبھی مصروف نہیں ہوسکتا روشنی یہ بات تم بہت اچھے طریقے سے جانتی ہو مجھ سے ملو میں تم سے بہت ضروری بات کرنا چاہتا ہوں تنزیل کا لہجہ بہت سیریس تھا
ٹھیک ہے کہاں آوں میں ۔۔۔؟
جہاں کوئی مجھے نہ پہچانے ۔۔۔
ہاہاہا مشہور ہونا بھی ایک مصیبت ہے روشنی کی معصوم سی مسکراہٹ اس کیلئے کسی میٹھے ہوا کی جھونکے سے کم نہ تھی
اور یہی بات آج وہ اس پر ظاہر کرنا چاہتا تھا
