37.8K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Meri Tanhayi Meri Jaan Pe Bani Hai Saiyaan) Epi 11

کنزہ ہاتھوں میں پیزا اور کیچپ کی بوتل لے جارہی تھی ۔ کہ اچانک سامنے سے آتے تنزیل سے ٹکرائی ۔
بوتل جو نہ جانے کیسے کھلی ہوئی تھی تنزیل کی ساری شرٹ گندی کر گئی ۔
ایم ریلی سوری سر مجھے پتا نہیں چلا میں دھیان میں نہیں تھی پلیز مجھے معاف کر دیں وہ گھبرا کر پیچھے ہوئی
اٹس اوکے کنزہ کوئی بات نہیں وہ اسے ناگوار نظروں سے دیکھتا آگے جانے لگا کیونکہ جس دن سے اس نے جھوٹ بولا تھا کہ شانی اس سے پیار کرتی ہے اس دن سے وہ اس سے بالکل بھی بات نہیں کر رہا تھا ۔
ایسے کیسے سر یہ میری غلطی ہے میری وجہ سے ہوا ہے ایم سوری وہ ٹشو سے اسکی شرٹ صاف
کرنے لگی ۔
کنزہ کوئی بات نہیں تنزیل نے اس کا ہاتھ ہٹایا ۔
نہیں سر پلیز آپ اپنی شرٹ مجھے دیں میں ابھی آپ کو واش کر کے دیتی ہوں ۔
دیکھیں میری غلطی کی وجہ سے یہ ہوا ہے پلیز آپ اس طرح سے گندی شرٹ کے ساتھ باہر مت
جائیے گا پلیز سر کنزہ منتیں کرنے لگی تو مجبوری تنزیل کو اس کی بات ماننی پڑی ۔
آپ ڈریسنگ روم میں جا کر بیٹھے میں ابھی شرٹ دھو لاتی ہوں ۔
تنزیل ڈریسنگ روم میں آیا تھا تو اندر اندھیرا تھا اس نے اپنی شرٹ اتار کے کنزہ کو دے دی ۔
لیکن اگلے ہی پل اسے جیسے احساس ہوا کہ اس کمرے میں اس کے علاوہ کوئی اور بھی موجود ہے ۔
اس نے اپنے موبائل کی ٹارچ جلائی تو کرسی پر نیم بے ہوش حالت میں شانی پڑی تھی ۔
روشا نے آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے وہ اس کے قریب آکر پوچھنے لگا ۔
اسنے دو تین بار اس کا گال تھپتھپایا شانی نے ذرا سی آنکھیں کھولیں ۔
ارتضی ۔ شاید وہ نیند میں بول رہی تھی ۔
نہیں میں ارتضی نہیں ہوں آپ یہاں آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ۔ وہ اس پر جھکا پوچھنے لگا ۔
اگلے ہی مجھے دروازہ دڑام سے کھلا اور لائٹ آگئی ۔
تنزیل نے بے اختیار دروازے کی طرف دیکھا جہاں دروازے کے بیچوں بیچ ارتضی کھڑا تھا ۔
اس نے ایک نظر تنزیل کو دیکھا جو بنا شرٹ کے اس کی شانی کے اتنے قریب تھا اور شانی کا دوپٹہ
اس سے کافی فاصلے پر پڑا تھا ۔
بنا دوپٹےکے وہ کبھی اس کے سامنے نہیں آئی تھی ۔ اور یہاں ڈیپ نیک گلے میں کسی اور کے
سامنے پڑی تھی ۔
ارتضی ۔ شانی دروازے کی طرف دیکھتی بڑبڑائی۔ جبکہ تنزیل کو اندازہ ہو چکا تھا کہ کچھ بہت برا ہونے والا ہے تنزیل اس کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے اس کی طرف بڑھا تھا ۔
جبکہ ارتضی نے ہاتھ اٹھا کر اسے کچھ بھی بولنے سے باز رکھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا
وہ گھر نہیں گیا تھا وہ بے مقصد سڑک پر گاڑی دہراتا رہا اس کی شانی کسی اور کے اتنے قریب وہ
منظر اس کی آنکھوں سے ہٹ ہی نہیں رہا تھا ۔
اس کی شانی اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہے ۔
وہ تو اس پر بھروسا کرتا ہے کسی کی بات نہیں مانتا کوئی اس کی شانی کے خلاف کچھ نہیں کہہ سکتا
کوئی اس کے کردار پر انگلی نہیں اٹھا سکتا لیکن آج جو اس نے دیکھا اس نے اپنی آنکھوں سے اپنی
شانی کو تنزیل کے اتنے قریب دیکھا ۔
اس کی بیوی کسی دوسرے مرد کے ساتھ یہ سوچ ہی ارتضی کو ہلا گئی تھی ۔
بار بار وہ منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آتا فل سپیڈ میں چلتی گاڑی کہیں بار دوسری گاڑی سے
ٹکراتے ہوئے بچی ۔
وقت کیسے گزر رہا تھا کوئی نہیں جانتا تھا وہ شام کے تین بجے کے قریب اس کے کالج میں آیا تھا
کنزہ نے فون کر کے اسے بتایا تھا ۔
کہ جس کی تم تعریفیں کرتے ہو جس کے کردار کی گواہی دیتے رہتے ہو آکر دیکھ لو اس کے کرتوت ۔
اس کا دل چاہا وہ دھاڑیں مار مار کے روئے ۔ اس کی شانی کسی اور کے ساتھ ۔
ارتضی کا دماغ اب تک اس دوپٹےمیں انکا تھا جو شانی سے کچھ فاصلے پر پڑا تھا ۔
اس کے ہزار بار منع کرنے کے باوجود شانی کیوں جاتی تھی کالج ۔
شانی کیوں اداس تھی شادی سے ۔
وہ کیوں خوش نہیں تھی اس کے ساتھ ۔ آج اسے اپنے سارے سوالوں کے جواب مل چکے تھے کیونکہ
اس کی شانی اس کی تھی ہی نہیں ۔
وہ جس سے جنون کی حد تک محبت کرتا تھا وہ تو کسی اور کی تھی اس کا دل چاہا کہ اس تنزیل کو جان سے ماردے ۔
لیکن اسے بنا کچھ کے وہ لوٹ آیا ۔ اس میں کسی سے بات کرنے کی ہمت نہ تھی فون بار بار بج کر
بند ہو رہا تھا ۔
اسے فون کر نے والا کون تھا یہ جاننا اس نے ضروری نہ سمجھا ۔
رات کے ساڑھے گیارہ بجے تھے ۔
اور ارتضی حیدر آج اپنی مہندی کی رات اپنی محبت کا سوگ منا رہا تھا
اس نے لندن میں ایک دو بار دوستو کے ساتھ شراب پی تھی لیکن پھر چھوڑ دی یہ حرام کام اسے نہیں کرنا تھا
اور آج پھر اس نے یہ حرام کام کیا تھا ۔
وہ کتنی پی چکا تھا اور کس حد تک نشہ اس پر سوار تھا سامنے کھڑا ویٹر سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔
بس وہ اسے انڈیل کر دے رہا تھا اور ارتضی یہ کڑوا مشروم اپنے اندر اتار چلا گیا ۔
°°°°°°
ارتضی آپ یہاں کیا کر رہے ہیں پلیز گھر چلیے کنزہ جانے کب اس کے پاس آئی وہ اس کے پاس
کیسے پہنچی نہ تو وہ جانتا تھا اور نہ ہی جاننا ضروری سمجھتا تھا ۔
جبکہ کنزہ نے اس کے موبائل پر لوکیشن ٹریس کی تھی ۔
اس نے کنزہ کو دھکا مار کے خود سے دور کیا لیکن اس نے ہار نہیں مانی ۔ کنزہ بڑی مشکل سے اسے اسی ہوٹل کے ایک کمرے میں لے آئی جہاں اس نے اپنا مقصد پورا کرنا تھا
وہ نشے میں تھا وہ کیسے اس کے ساتھ کمرے میں پہنچا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا
°°°°°°
صبح ارتضی کی آنکھ کھلی تو اسے دبی سسکیوں کی آواز آئی ۔
اس نے چاروں طرف کمرے میں دیکھا جہاں ایک کونے میں کنزہ بیٹھی رو رہی تھی ۔ اس کے کپڑے
جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔
کنزہ یہ سب کچھ کیا ہے کس نے کیا ہے تمہارے ساتھ ایسا ۔ ارتضی تیزی سے اس کی طرف آیا ۔
یہ آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں میری آبرو روند کر آپ میرے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں ۔
کس نے حق دیا آپ کو میرے ساتھ ایسا کرنے کا میں شانی نہیں ہوں جس سے آپ اپنی محبت کا
انتقام لیں گے ۔
استغفر اللہ میں شانی کے ساتھ ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔ تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے کنزہ ارتضی کو اپنے لفظ ٹوٹے پھوٹے لگے ۔
ہاں غلط فہمی ہی ہوئی ہے مجھے ۔ کل رات شانی کا نام لے کر جس طرح سے آپ نے میری آبرو کو
داغدار کیا آپ اسے غلط فہمی کا نام دے رہے ہیں تو یہ غلط فہمی ہی ہے فکر نہ کریں آپ کا نام کہیں نہیں آئے گا۔
جائیں آپ جاکر اپنی محبت کی جیت کا جشن منائیں ۔ آج رخصت کر کے لائیں آپ اپنی منکوحہ کو اپنے کمرے میں ۔ اور میرا کیا ہے ۔
پاکستان میں مجھ جیسی لڑکیوں کی کمی نہیں ہے جو روز خود کشی کر کے مرتی ہیں کنزہ کہتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
یہ سب کچھ تم کیا کہہ رہی ہو میں یہ کیسے ۔۔۔۔ میرا ایمان اتنا کچا نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ارتضی کو یقین نہ تھا
مگر ارتضی کی اس بات پر کنزہ پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
آپ نے شانی کی بے وفائی کا انتقام مجھ سے لیا جو سزا آپ اسے دینا چاہتے تھے آپ نے مجھے دی
لیکن میں جاننا چاہتی ہوں کے اس سب میں میری کیا غلطی ہے ۔ میں ہی کیوں ۔ کیونکہ میں آپ کی
ہمدرد بن کے آپ کی پیچھے آئی ۔ آپ کی آنکھوں پر بندھی شانی کی جھوٹی محبت کی پٹی کھولی ۔ یا آپ کی محبت میں پاگل ہو ہوکر آپ سے اپنی محبت کا اظہار کر بیٹھی ۔ اگر یہ میرا قصور ہے تو ہاں میں قصوروار ہوں ۔
لیکن جو انعام آپ نے مجھے میری محبت کا دیا ہے وہ میں ساری زندگی یاد رکھوں گی کنزہ نے روتے
ہوئے کہا ۔
کنزہ میں نہیں جانتا کہ میں اپنے کردار میں اتنا کیسے گر گیا لیکن میں تم سے معافی نہیں مانگوں گا
۔ کیونکہ میری معافی مانگنے سے تمہاری عزت پر لگا تھا داغ نہیں جائے گا ۔
میں مولوی کا انتظام کرواتا ہوں ۔ میں ابھی اسی وقت تم سے نکاح کروں گا۔
ارتضی کہتا ہوا اس کے قریب سے اٹھا اور باہر چلا گیا ۔
جبکہ کنزہ وہی زمین پر بیٹھی اسے جاتا دیکھتی رہی ۔
تو روشانے ارتضی حیدر آج سے تمہارا ارتضی میرا ہوا ۔
°°°°°
کل کیا ہوا تھا کسی کو کچھ بھی پتا نہ تھا شانی کو بس اتنا پتا تھا کہ وہ کالج کے ڈریسنگ روم میں تھی
جب ارتضی وہاں آیا ۔
اور تنزیل اسے گھر چھوڑ کے گیا تھا ۔
شانی کی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ گھر میں کسی کو کچھ بھی بتا پاتی لیکن تنزیل نے احسن صاحب کو سب کچھ بنایا تھا ۔
احسن صاحب نے تو اس کی بات سن کر یہی فیصلہ کیا تھا کہ یہ سب کچھ کنزہ کا کیا دھرا ہے ۔
کیونکہ ارتضی اور کنزہ رات سے غائب تھے ۔
آج گھر میں شادی تھی ۔ آج شانی نے رخصت ہوکر ارتضی کے کمرے میں آنا تھا ۔
جبکہ شانی گھبرائی ہوئی تھی نہ جانے ارتضی اس سے کیا کہے ۔ نجانے اس نے وہاں کیا دیکھا ہے ۔
کل ڈاکٹر شانی کو چیک کر کے گیا تو اس نے یہی کہا کہ شانی کو نشہ کروایا گیا ہے ۔
اسے نشہ کروانے کے بعد تنزیل کو اسی کمرے میں بھیجا گیا ۔ اور تنزیل کو بیجنے والی کنزہ تھی تنزیل نے یہ بھی بتایا کہ کنزہ نے ہی اسے کہا تھا کہ شانی تنزیل سے محبت کرتی ہے ۔
احسن صاحب کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہ تھا کہ یہ سب کچھ کنزہ کا کیا دھرا ہے ۔
اب بس کنزہ اور ارتضی کا واپس آنے کا انتظار کر رہے تھے ۔
اور جب وہ لوگ واپس آئے احسن صاحب کے پیروں تلے زمین نکل گئی ۔
°°°°°
ارتضی نے کنزہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے یہ اعلان کیا کنزہ اس کی بیوی ہے اور آج وہی اس کے کمرے
میں رخصت ہو کر آئے گی۔
یہ کہتے ہوئے ارتضی نے شانی کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھا ۔ ۔
لیکن اس کی نظروں میں شانی بھی اس کی محبت کی قاتل تھی ۔
اس کی ضد کے سامنے کسی کی ایک نہ چلی اس نے کسی کی نہیں سنی نہ دادو کی اور نہ ہی احسن صاحب کی ۔
اس نے فیصلہ کرلیا کہ آج رخصتی ہوگی ۔
اور اسی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے گھر میں کسی کی نہ چلی ۔ ۔ ۔ اور کنزہ رخصت ہو کر اس کے
کمرے میں آ گئی ۔
جبکہ شانی میں اتنی ہمت بھی نہ رہی کہ وہ کمرے سے باہر نکل کر ایک نظر اس ستمگر کو دیکھ لیتی
کنزہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا وہ اس وقت ارتضی کے سجے سنورے کمرے میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی ۔
اس نے کتنی ہوشیاری سے کیا تھا سب کچھ ۔
یہ سب کچھ ان کے پلان میں شامل نہ تھا اسے تو بس ارتضی کو وہاں سے واپس لانا تھا ۔
لیکن اس نے پھو پو پر یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ ان سے زیادہ چالباز ہے ۔
ان کا ارادہ شانی کو ذلیل کر کے اس گھر سے باہر نکلوانے کا تھا ۔ لیکن یہاں تو الٹا ہی ہوگیا ۔ کنزہ یہ
تو سمجھ چکی تھی کہ ارتضی ہر لڑکی کی عزت کرتا ہے ۔ تب ہی تو اس دن ارتضی نے اسے بدنام ہونے بچایا تھا ۔
ارتضی کل کی طرح ٹوٹی بکھری حالت میں کمرے میں آیا۔ اس نے کنزہ کے قریب سے تکیہ اٹھایا اور
صوفے پر رکھا ۔
سوری کنزہ فی الحال میں یہ رشتہ نبھانے کے لیے تیار نہیں ہوں ۔ اور میں جانتا ہوں تم میری اس
مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کروگی ۔
ارتضیٰ نے ایک ہی پل میں اس کے ارمانوں کو آگ لگائی تھی
لیکن چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجائے وہاں سے اٹھ کر اس کے قریب آئی ۔
میں سمجھتی ہوں ارتضی آپ فکر نہ کریں ۔
ارتضی وہی صوفے پر لیٹ گیا ۔ آج پھر اس نے اپنی محبت کا سوگ منانا تھا ۔
°°°°°°
وہ ساری رات روتی رہی ۔ تقریبارات کے تین بجے وہ اٹھی اور اپنے بابا کا نمبر ملانے لگی ۔
تیسری بار فون اٹھا لیا گیا ۔
السلام علیکم میرا بچہ کیسا ہے ۔ آج تو میرے بچے کی شادی ہوئی ہے ۔ بابا نے حیرت سے وقت کے
بارے میں سوچتے ہوئے کہا ۔
بابا پلیز مجھے لے جائیں یہاں سے ۔ خدا کے لئے مجھے اپنے پاس بلا لے میں نہیں رہ سکتی یہاں ۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی
شانی بیٹا کیا ہوا ہے آپ اس طرح سے کیوں کہہ رہی ہیں بابا نے پریشانی سے پوچھا ۔
بابا اس نے شادی کرلی ۔ صرف ایک غلط فہمی کی بنا پر اس نے مجھے سزا دے دی ۔ بابا اس نے مجھے
صفائی کا موقع تک نہ دیا ۔ اس نے میرا حق کسی اور کو دے دیا شانی روتے ہوئے بولی ۔
مجھے لے جائیں بابا میں یہاں نہیں رہ سکتی پلیز مجھے لے جائیں ۔ شانی روتے روتے فون بند کر چکی تھی جبکہ اس سے مینوں کے فاصلے پر اس کا باپ جیسے بے جان سا ہوکر زمین پر بیٹھ گیا ۔
دوسرے دن بھی شانی نے دروازہ نہ کھولا ۔ نانو کتنی بار اس کے کمرے تک آئی تھیں ۔
لیکن وہ باہر نہ نکلی ۔
آج کنزہ اور ارتضی کا ولیمہ تھا ۔ ارتضی سب جانتا تھا ۔ کہ شانی نے کل سے کچھ نہیں کھایا اور نہ ہی کمرے سے باہر نکلی
مگر اس نے پروا نہ کی وہ کیوں پروا کرتا اس کی جبکہ شانی نے اس کے ساتھ بے وفائی کی تھی اسے دھوکا دیا تھا ۔
اور اس کے لیے دھوکے کی یہ سزا کافی تھی ۔
تمہیں کیا لگا تھا شانی تم میرے ساتھ اس طرح سے کرو گی تو میں تمہاری محبت میں روؤں گا تڑپوں گا
۔ تڑپو گی تو تم شانی بی بی ۔ ہاں تم تڑپو گی ساری زندگی میرے نام پر بیٹھی رہو گی میں تمہیں طلاق نہیں دوں گا ۔
تم ساری زندگی اس شخص کے ساتھ خوش نہیں رہ پاؤگی ۔ اور میں تمہیں خوش رہ کر دکھاؤں گا ۔
وہ اپنے آپ کو شیشے میں دیکھتا رہا جہاں اس نے شانی کی فیورٹ شیروانی پہنی تھی ۔
ارتضی کی ساری شاپنگ شانی نے اپنی مرضی سے کی تھی ۔
جبکہ کنزہ کو بیوٹیشن نے شانی کے لہنگے میں تیار کیا تھا ۔
°°°°
شانی کے پاس اپنا پاسپورٹ ویزا ہر چیز موجود تھی ۔
دن دو بجے کے قریب ایک آدمی آکر اس کے بارے میں پوچھنے لگا ۔
سب نے پریشانی سے اسے دیکھا ۔
تم کون ہو بھئی شانی سے کیوں ملنا چاہتے ہو کیا کام ہے تمہیں اس سے احسن صاحب نے پوچھا ۔
سر یہ ان کا ٹکٹ ہے چار بجے کی انکی ترکی کی فلائٹ ہے اس کا سارا انتظام ترکی سے کیا گیا ہے ۔
۔
انہیں ارجنٹلی ترکی پہنچنا ہے ۔ آدمی نے سب کے سروں پر دھماکہ کیا تھا ۔
اس سب کے بعد اگر کسی کو فرق نہیں پڑا تو وہ ارتضی تھا ۔ جو کمرے میں کنزہ کو اہمیت دے نا دے
لیکن سب کے سامنے بہت پیار سے بات کر رہا تھا ۔
شاید وہ سب کے سامنے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ شادی سے بہت خوش ہے لیکن
وہ دادو اور احسن صاحب سے اپنا غم چھپا نہیں سکتا تھا ۔
ملازم نے شانی کو خبر دی تو اپنا سارا سامان پیک کیے آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترتی نیچے آئی ۔
لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر آنکھوں میں مرچیں بھر گئی ۔ جہاں ارتضی بہت محبت سے کنزہ کے
بال اس کے کانوں کے پیچھے کر کے اس کا چہرہ اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا ۔
وہ سب سے پہلے نانو کے پاس آئیں اور ان سے ملنے لگی نانو نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن اس نے انہیں اپنی قسم دے دی ۔
بس آج آپ اپنی بیٹی کو رخصت کر دیں نانو ۔ ان سے مل کر وہ احسن صاحب سے ملی ۔ رخسانہ نے اسے دیکھتے ہیں منہ پھیر لیا
وہ سب سے مل کر اس کر قریب آ کر روکی ۔ جہاں وہ نظر پھیرے کنزہ کی طرف متوجہ تھا ۔ جبکہ کنزہ فاتحانہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
یہ جو آپ نے کیا ہے ارتضی کل اس کے لئے پچھتائیں گے مجھ سے معافی مانگیں گے لیکن یاد رکھنے گا آپ کو مجھ سے کچھ نہیں ملے گا ۔
وہ آنکھوں میں آنسو لیے سے دیکھ کر بولی جب کہ وہ منہ پھیرے اس سے بالکل بے نیاز تھا ۔
آپ نے جو دیکھا اس پر یقین کیا ایک بار مجھ سے سچائی جانے کی کوشش نہیں کی ۔ آپ کی محبت
کتنی سچی تھی میں سمجھ چکی ہوں ۔ میری دعا ہے کے آپ کنزہ کے ساتھ خوش رہے ۔ اور اللہ کرے
آپ کی یہ غلط فہمی کبھی دور نہ ہو ۔
کیونکہ اگر یہ غلط فہمی دور بھی ہو گئی نہ تو میں واپس نہیں آؤں گی ۔ آپ نے میرا حق کسی اور کو دے دیا
۔ میں آپ کو آپ کی اس غلطی کے لیے کبھی معاف نہیں کروں گی ۔
وہ کہتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جب ارتضی کنزہ کا ہاتھ چھوڑ کر اٹھ کر دروازے کی طرف آیا
اور پورا دروازہ کھول دیا ۔
گیٹ آؤٹ ۔ دفع ہو جاؤ میرے گھر سے اورمیری زندگی سے آج کے بعد مجھے اپنی شکل مت دکھانا اور نہ ہی میں تمہاری شکل دیکھنے کا خواہش مند ہوں ۔
وہ پورا دروازہ کھولے ایک ایک لفظ چھپا چھپا کر بولا ۔
اور ایک سیکنڈ کی دیر نہ کرتے ہوئےوہ اس کھلے دروازے سے باہر نکل گئی ۔
°°°°°°°°
اسے گھر سے نکالے کے بعد وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں واپس آیا تھا کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر کے وہ اپنی مخصوص جگہ پر آبیٹھا تھا ۔
آج اس کا دل ویران ہو چکا تھا ۔ دل چاہا کے دھاڑیں مار مار کے روئے لیکن وہ کیوں روئے ایک بے وفا کی یاد میں ۔
اس کی شانی اس کے ساتھ بے وفائی کر گئی تھی ۔
لیکن اس نے کون سا اس کی محبت کی قدر کی تھی بے وفائی تو اس نے سبھی کی تھی وہ بھی برابر کا گناه گار تھا اگر اسنے تنزیل کو چاہا تو اس نے کنزہ کے ساتھ کیا گیا ۔
کنزہ نا جانے کتنی دیر تک دروازہ کھٹکھٹا کر واپس چلی گئی ۔ لیکن ارتضی کو نہ اپنا ہوش تھا اور نہ ہی کسی اور کا ۔
°°°°°
وہ مسلسل روتی رہی تھی پھر سائیڈ والی سیٹ پر بیٹھی آنٹی بھی اٹھ کر چلی گئی شاید وہ بھی اس کے رونے سے تنگ آ گئی تھی لیکن اگلا جھٹکا اسے تب لگا جب اس سیٹ پر آکر تنزیل بیٹھا اس نے اپنی سیٹس چینج کروائی تھی ۔
میں نے تمہیں جہاز میں بیٹھتے ہوئے دیکھ لیا تھا لیکن تم اس وقت بہت رو رہی تھی اس لیے میں نے
مخاطب کرنا مناسب نہیں سمجھا ۔
اور مجھے لگا شاید تمہارا شوہر تمہارے ساتھ ہوگا کل تمہاری شادی ہونے والی تھی نا تم یہاں کیا کر رہی وہ پریشانی سے اس کے قریب بیٹھ کر پوچھنے لگا
کل جو کچھ ہوا تھا وہ اس سے انجان نہ تھا ۔
وہ جانتا تھا کہ جس حالت میں وہ شانی کو گھر چھوڑ کے آیا ہے اس کے بعد کچھ نہ کچھ ہنگامہ ضرور ہوگا
لیکن اگلی فلائٹ میں شانی اسے اپنے ساتھ ملے گی یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔
شانی اسے کچھ بھی نہیں بتانا چاہتی تھی لیکن اس وقت اسے ہمدرد کی ضرورت تھی ۔
جو پاکستان سے لے کر ترکی کے سفر میں اس کا ساتھی بن کر اس کو سہارا دیتا ۔
اس کا سہارا پاکر وہ ایک بار پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور اپنے ساتھ ہوئی ہر زیادتی سے بنا
دی ۔
تنزیل کو ارتضی پر افسوس ہوا ہو رہا تھا جو کل تک اس کی محبت کی قسمیں کھاتا تھا اور آج ۔ لیکن اس وقت وہ ارتضی کے بارے میں بات کر کے شانی کو مزید ڈسٹرب نہیں کر سکتا تھا
اس لئے وہ اسے آگے پیچھے کی باتوں میں لگانے لگا ۔
جب باتوں ہی باتوں میں اسے شانی نے ایک بار سر کہا ۔
محترمہ میں تمہارا ٹیچر تمہارے کالج میں تھا یہاں پر نہیں بہتر ہوگا کہ مجھے یہاں میرے نام سے بلاؤ ۔
اور ان دونوں کو ہی نہ پتہ چلا کہ یہ دوستی کس حد تک اور کہاں تک جانے والی ہے
°°°°°
اپنا درد اور دکھ سمیٹ کر وہ گھر سے باہر نکل گیا نہ جانے کتنی دیر وہ باہر رہا ۔
وہ شانی کو نہ تو بھلا سکتا تھا اور نہ ہی کنزہ کے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات کر سکتا تھا وہ اپنے ساتھ ساتھ کنزہ کو بھی تکلیف پہنچا رہا تھا ۔
لیکن وہ شانی پر یہ بھی ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ اس کے چلے جانے سے اس کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑا ۔
وہ اس کے بغیر ایک بہترین زندگی گزار رہا ہے اور ارتضی نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ کنزہ کو اس کے
سارے حق دے گا وہ اسے شانی کی جگہ دے گا ۔
اور یہی فیصلہ کر کے وہ آج رات گھر واپس آیا تھا ۔
°°°°°°
وہ اپنے کمرے میں جانے لگا جب اسے ایسا لگا کے کمرے میں کنزہ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے
ارتضی وہیں رک گیا ۔
کیا پلاننگ کی ہے تم نے کنزہ ماننا پڑے گا تم تو مجھ سے بھی بڑی کھلاڑی ہو میں اتنے سالوں میں
احسن کو اپنی باتوں میں نہیں لگا پائی اور تم نے ارتضی جیسے انسان کو لگا لیا ۔
کہاں سے آئی تمہارے دماغ میں یہ پلاننگ ہم تو شادی والے دن ہی اسے ذلیل کر کے نکالے والے تھے
لیکن تم نے ۔ کالج میں کیسے کی ساری پلاننگ تمہارے دماغ میں آیا کیسے یہ سب کچھ
رخسانہ اس کو داد دیئے ہوئے پوچھنے لگی جبکہ دروازے پر کھڑے ارتضی کے سرپر آسمان آگرا تھا ۔
ہونا کیا ہے پھو پو میں نے اسے نشے کی دوائی ملاکر جوس میں دے دی جسے پیتے ہی شانی ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئی ۔ پھر تنزیل کی شرٹ پر کیچپ گرا کہ اسے اسی کمرے میں بیٹھ کر لائٹ آف کر دی ۔
۔
تنزیل کو لگا کے کمرے میں کوئی نہیں ہے جبکہ شانی کا دوپٹہ اتار کے میں پہلے ہی پھینک چکی تھی ۔
بس پھر کیا تھا شانی اور تنزیل کی جو تصویریں میں نے کونٹیسٹ میں کھینچی تھی وہ ساری
میں نے ارتضی کے نمبر پر سینڈ کر دی ۔
اور ارتضی اگلے دس منٹ میں ہی وہاں پر تھا اور اس نے اپنی آنکھوں سے اپنی پیاری شانی کے سارے کارنامے دیکھ لیے ۔ ۔ ۔ جو اس کی نظروں کا دھوکا ہونے کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھا ۔
کنزہ نے داد وصول کرتے ہوئے بتایا جبکہ دروازے پر کھڑے ارتضی کا دل چاہا کہ وہ اس کا سر دیوار
پر دے مارے ۔ اس نے اس کی شانی کو اتنا ذلیل کیا اسے اس کی نگاہوں میں گرا دیا ۔
وہ سب کچھ تو ٹھیک ہے کنزہ لیکن ارتضی سے شادی کیسے کی تم نے مطلب وہ اچانک تم سے نکاح کرنے پر راضی کیسے ہوگیا ۔
ہا ہا ہا میں بہت پہلے ہی سمجھ چکی تھی کہ ارتضی عورتوں کی بہت عزت کرتا ہے اسی لیے تو اس نے آپ کو میرے اس کے کمرے سے نکلنے کا یہ ریزن بنایا تھا کہ ہم شانی کی برتھ ڈے پلان کر رہے
تھے لیکن ایسا کچھ نہیں تھا ۔
تنزیل کے اس قدر قریب شانی کو دیکھ کر ارتضی نے کلب میں جاکر ضرورت سے زیادہ نشہ کر لیا اور
میں اسے اپنے ساتھ اسی کلب کے کمرے میں لے گئی ۔
کمرے میں جاتے ہی وہ بے ہوش ہوگیا لیکن میں نے اپنے کپڑے پھاڑ دیے اور اپنی حالت کسی
اجڑی ہوئی عورت کی طرح بنالی ۔ اور پھر ارتضی کو میری ایکٹنگ پر یقین کرنا پڑ گیا وہ قہقہ لگا کر بولی ۔
جبکہ دروازے پر کھڑا ارتضی اس کے ایک ایک لفظ پر اپنے آپ کو زمین میں دفن ہوتا محسوس کر رہا تھا
کیسی عورت تھی یہ اس نے ایک ہی سیکنڈ میں نہ صرف اس کی بلکہ شانی کی زندگی بھی برباد کر کے رکھ دی ۔
وہ تنزیل کی نظر میں بھی خود کو گناہ گار سمجھ رہا تھا ۔
اگلے ہی تیزی سے وہ کمرے میں آیا اور اسے بالوں سے پکڑ کر ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر دے
مارا ۔
اور اس سے اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتا ہوا سیڑھیوں سے نیچے لے آیا ۔
ارتضی بیٹا یہ تم کیا کر رہے ہو ۔ رخسانہ سچویشن کو سمجھتی اس کے پیچھے بھاگی
شور سن کر احسن اور دادو بھی باہر آچکی تھیں ۔
میں ارتضی حیدر اپنے پورے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں ابھی اسی وقت طلاق دیتا ہوں ۔ میرا دل تو کر رہا ہے میں تمہیں زندہ زمین میں گاڑ دوں لیکن میں ایسا نہیں کروں گا
تمہارے لیے یہی سزا بہت ہے ۔ وہ تمہیں اپنی دوست کہتی تھی یقین کرتی تھی تم پر اور تم نے کیا کیا
تم نے میری شانی کو مجھ سے دور کیا اب ساری زندگی اسی طرح رہو ۔
ارتضی نے ایک ہی پل میں اس کی ساری خوشیاں چھین لی تھی ۔
وہ جو اس کے پیر پکڑ کر بھی اس سے معافی مانگ لیتی لیکن ارتضی نے اسے ایسا کچھ کرنے کا موقع ہی نہ دیا ۔ بالکل اسی طرح جس طرح اس نے بے گناہ ہوتے ہوئے شانی کو کوئی موقع نہ دیا تھا اور ایک ہی سیکنڈ میں اسے اپنی زندگی سے نکال باہر کیا ۔
آج رات میں تمہارے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے جارہا تھا خدا کا شکر ہے کہ میں اپنی ہی نظروں میں گر نے سے بچ گیا ۔
میرا ایمان کہتا تھا کنزہ کے میں غلط نہیں ہوں میں نے آج تک شانی کے علاوہ کسی اور کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تو میرا کردار اتنا میلا کیسے ہو سکتا ہے
میں کسی حالت میں بھی کسی لڑکی کے ساتھ
اتنا غلط کر دوں ۔۔۔ نہیں تھا میں اتنا گرا ہوا کنزہ جتنا تم نے گرا دیا مجھے نا خود سے نظریں ملانے کے قابل رہا ہوں اور نہ ہی اپنی شانی سے ۔
وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی کبھی نہیں تم نے مجھ سے میری زندگی چھین لی ۔ ارتضی کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا ۔
اپنا سب کچھ گنوا کے وہ بالکل ہی تنہا ہو چکا تھا ۔
لیکن شاید اس کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہ ہوا تھا اس نے کنزہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے دھکے مار کر نکالے لگا ۔
دفع ہو جاؤ یہاں سے یہ میری شانی کا گھر ہے ۔ وہ مجھے زندگی بھر معاف نہ کرے لیکن اس گھر میں
کسی کو نہیں آنے دوں گا ۔
بابا یہ بھی اس کی پلاننگ میں شامل ہیں ارتضی نے رخسانہ کی طرف اشارہ کیا اسے اپنی طرف اشارہ کرتے دیکھ کر بوکھلا گئیں ۔
جبکہ احسن صاحب تو کنزہ کے بارے میں پہلے ہی سمجھ چکے تھے لیکن جب ارتضی اس سے نکاح کر
کیا تو وہ کچھ نہ بول سکے ۔
تم فکر مت کرو بیٹا یہ بھی کنزہ کے ساتھ ہی اس گھر سے جائے گی ۔ احسن صاحب نے اعلان کیا ۔
بہت جلد طلاق کے کاغذات پہنچ جائنگے رخسانہ دفع ہو جاؤ اس گھر سے ۔ انہوں نے ہاتھ پکڑ کر تو نہ نکالا تھا لیکن دروازے کی طرف اشارہ کر کے انہوں نے اسے بھی گھر سے نکلنے کا کہہ دیا تھا ۔
اور پھر آگے بڑھ کر اپنے بیٹے کو سینے سے لگا لیا ۔ جو اپنے آپ میں اس حد تک الجھا ہوا تھا کہ جسے
اب سنبھالا نہ جائے تو مر جائے گا ۔
دادو بھی اس کے نزدیک آکر اسے سنبھالے لگیں ۔
میں نے سب کچھ برباد کر دیا بابا اپنے ہاتھوں سے ان ہاتھوں سے میں نے اپنا گھر برباد کر دیا ۔
وہ اپنے ہاتھ اٹھائے مسلسل بولے جا رہا تھا ۔
جبکہ دادو اسے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
°°′°°°
بابا نے اسے سنبھال لیا تھا وہ پاکستان میں کسی سے بات نہیں کرتی تھی ۔
بابا نے بھی دوبارہ پاکستان میں کسی سے رابطہ نہ کیا وہ تو اپنی بیٹی کے دکھ میں پریشان تھے
وہ اسے کسی بھی حالت میں خوش رکھنا چاہتے تھے ۔
بابا کو اندازہ تھا کہ وہ اپنا سب کچھ لٹا کے آئی ہے ۔
اسی دوران ایک دن تنزیل ان کے گھر اس سے ملنے آیا تنزیل کی طبیعت اتنی اچھی تھی کہ بابا کو پہلی بار میں ہی وہ بہت اچھا لگا ۔
خوشی تو تب ہوئی جب پتا چلا کہ وہ ان کے بچپن کے دوست کا بیٹا ہے
انہوں نے تنزیل کو کہا تھا کہ اگر تم میری بیٹی کو سنبھالو تو یہ تمہارا احسان ہوگا ۔ اسے اس وقت ایک>دوست کی ضرورت ہے ۔
اور تنزیل اس کا اچھا نہیں بلکہ بہترین دوست ثابت ہوا تھا ۔
وہ بہت جلدی ہی اسے اس کے دکھوں سے باہر نکال لیا تھا ۔
تنزیل ایک بہت بڑا فلم ڈائریکٹر تھا جو پاکستان اچھے اداکاروں کی تلاش میں گیا تھا ۔
لیکن وہاں نہ جانے کب شانی اس کے دل میں آبسی ۔ وہ اسے کتنا چا ہنے لگا تھا یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا
لیکن ایک دن اچانک اس نے شانی سے کہا کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔
شانی چار سال تک اس کی اس بات کو ٹالتی رہی ۔
اور پھر اس نے بھی اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کرلیا کب تک وہ اس شخص کو یاد کر کے روتی جس نے اس کی قدر نہیں کی اب یہ بات الگ تھی کہ ہزار بار اس کے بابا کو فون کر کے صرف ایک بار اس سے بات کرنے کی منتیں کرتا تھا ۔
لیکن بابا کے ہزار کہنے کے باوجود بھی شانی نے اس سے بات نہ کی اب وہ اس شخص سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی تھی ۔
اور اب یہی بات ثابت کرنے کے لیے وہ پاکستان آئی تھی وہ تنزیل سے شادی کرنا چاہتی تھی اپنی
زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی تھی یہ اس کے لئے مشکل تھا لیکن وہ کیا کرتی ساری زندگی ایک بے وفا کی یادوں میں بیٹھ کے رو تو نہیں سکتی تھی ۔
لیکن یہاں آنے کے بعد جو ارتضی نے اس کے ساتھ کیا تھا وہ بھی ناقابل قبول تھا وہ ساری زندگی ایک ایسے شخص کے ساتھ نہیں گزار سکتی تھی جس نے اس کی جگہ کسی اور کو دے دی ہو