Ladon Ka Pala by Misbah NovelR504184 Ladon Ka Pala Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Ladon Ka Pala Episode 8
Ladon Ka Pala by Misbah
ہاۓ میری پیاری امی“
مشال نے لاڈ سے نگحت بیگم کا گال چوم لیا
چل ہٹ شرارتی یہ کیا کیا ساری لیپسٹک لگادی میرے
”امی میں تو بھول ہی گٸ تھی میری لپپسٹک لگی ہے سوری“
مشال نے معصومیت سے کان پکڑے
”چل پگلی کپڑے بدل کر سوجا اب میں بھی کمرے میں جارہی ہوں“
نگحت بیگم مشال کے سر پر ہلکی سی چپت لگاتیں مسکراتی ہوٸ کمرے سے چلی گٸیں
*****
”سنی ایک بات تو بتاٶ مجھے “
سحر نے ناشتہ کرتے ہوۓ سنی کو مخاطب کیا
”جی آپی پوچھیں “
سنی نے نیوالہ منہ میں رکھتے ہوۓ کہا
”وہ جو تم مشال کے لیے گولڈ کا بریسلیٹ لاۓ ہو وہ کافی مہنگا لگتا ہے تمھارے پاس اتنے سارے پیسے کہا سے آۓ“
”میں نے جمع کیے تھے آپی اور میری جو سیلری ملتی ہے وہ بھی آپ کہاں خرچ ہونے دیتی ہیں آپ خود ہی سارا خرچ اٹھاتی ہیں تو وہ پیسے بھی جمع تھے میرے پاس تو میں نے خرید لیا بریسلیٹ “
سنی نے اپنے کفایت شعاری ہونے کا ثبوت دیا
”واہ میرا بھاٸ تو بڑا سمجھدار ہے ویسے مجھے بہت خوشی ہوٸ تم نے تحفہ لینے میں کنجوسی نہیں کی“
سحر نے مسکراتے ہوۓ کہا
”آپی آپ نے کہا تھا نہ قیمتی ہونا چاہیے تحفہ اور خوبصورت بھی تو بس مجھے اس سے بہتر کچھ ”نہیں ملا “
میرا سمجھدار بھاٸ“
سحر نے پیار سے سنی کے دونوں گال کھینچے
”آپی بڑا ہوگیا ہوں میں “
سنی چڑ گیا تھا
”مجھ سے تو چھوٹے ہی رہو گے نہ “
سحر نے اتراتے ہوۓ کہا
”ہمم “سنی منہ لٹکاۓ بولا
”اچھا یہ چاۓ ختم کرو جلدی سے پھر مجھے بازار سے سامان لا کر دینا “
سحر کچن میں چلی گٸ
سنی برے برے منہ بناتا چاۓ پینے لگا کیونکہ اسے بازار جانے سے سخت چڑ تھی
********
”مشال بیٹا“
”جی امی“
”بیٹا تمھیں آج دوسرا دن ہے اور سنی نے ایک دفع بھی کال کرکے تمھاری خیریت نہیں پوچھی نۓ شادی شدہ جوڑے تو ایک دوسرے سےبات کرنے کے لیے موقعے ڈھونڈتے ہیں تم کو تو میں نے ایک بار بھی فون پر بات کرتے نہیں دیکھا کیا تم دونوں کا جھگڑا ہوا ہے“
نگحت بیگم کو تشویش ہوٸ تھی وہ اب مشکوک نگاہوں سے مشال کو دیکھ رہی تھیں
”نہیں نہیں امی ایسی کوٸ بات نہیں وہ رات میں سکون سے بات کرلیتے ہیں ہم دن میں ان کو بھی کام ہوتے ہیں اس لیے بات نہیں ہو پاتی “
مشال نے اپنی طرف سے نگحت بیگم کو مطمئن کرنے کی کوشش کی
”اچھا اچھا چلو تم کہتی ہو تو مان لیتی ہوں“ نگحت بیگم نے مسکراتے ہوۓ کہا
جی امی مشال بھی مسکراٸ
”اب آجاٶ کھانا کھا لو “
”جی امی آپ چلیں میں آتی ہوں“
”ٹھیک ہے جلدی سے آجاٶ“ نگحت بیگم مسکراتی ہوٸ کمرے سے نکل گٸیں
نگحت بیگم کے جاتے ہی مشال نے موبائل اٹھا کر سحر کو کال کی
”ہیلو مشال کیسی ہو تم“
سحر تو کال اٹھاتے ہی شروع ہوگٸ تھی
”بہت بری ہوں میں تمھارے نکمے بھاٸ کا بھولا پن مرواۓ گا مجھے“
مشال نے سیدھی مدعے کی بات کی
” مشال کیا ہوگیا ہے تمیں اب کیا کردیا میرے بھاٸ نے“
سحر کو مشال کا اپنے بھاٸ کے خلاف بات کرنا ناگوار گزرا
”یار سحر سوری سنی تو نادان ہے بیچارا آٸ ایم سوری“
سحر کا سخت لہجہ محسوس کرکے مشال کو اپنی غلطی کا احساس ہوا
”اچھا کوٸ بات نہیں مجھے بتاٶ کیا ہوا ہے “
پھر مشال نے اپنے اور نگحت بیگم کے درمیان ہونے والی ساری باتیں سحر کو بتادیں
”اچھا تم پریشان نہ ہو میں سنی کو کہتی ہوں تمہیں کال کرلے گا وہ “
سحر نے مشال کو سمجھایا
”تھینک پو یار میں کتنا تنگ کرتی ہوں تم دونوں بہن بھاٸ کو “ مشال شرمندگی سے بولی
””مشال کیسی باتیں کر رہی ہو تم آٸندہ نہیں کہنا ایسا چلو باۓ میں آفس میں ہوں بعد میں بات کروں گی“
”اوکے باۓ “مشال نے کال منقطعہ کردی
مشال نے تو ایک ہفتے کی چھٹیاں لی ہوٸیں تھیں جبکہ سحر اور سنی نے چار دن کی ہی لیں تھی بس اب دونوں ہی اپنی روٹین پر واپس آچکے تھے بس مشال میڈم ہی چھٹیوں کے مزے لوٹ رہی تھیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سنی اکیڈی سے کچھ دیر پہلے گھر لوٹا تھا
وہ اپنے بیڈ پر آنکھیں موندے آڑا تیرچھا لیٹا آرام فرما رہا تھا
موباٸل کی بیل پر بند آنکھیں کھول کر موباٸل کی اسکرین پر چمکتا سحر کا نام دیکھ کر مسکراتے ہوۓ کال اٹھاٸ
”اَلسَلامُ عَلَيْكُم آپی “
”وَعَلَيْكُم السَّلَام میری جان کیا کررہے ہو“
”کچھ نہیں آپی اکیڈمی سے ابھی آیا ہوں لیٹا ہوا ہوں “
”اچھا یہ بتاٶ مشال سے بات ہوٸ تمھاری“
”نہیں آپی میری بات نہیں ہوٸ ان سے “
سنی کو تھوڑا عجیب لگا لیکن کچھ بولا نہیں
”کتنی بری بات ہے سنی وہ دو دن سے گٸ ہوٸ ہے
تم نے ایک بار بھی اس کی خیریت نہیں پوچھی“ سحر نے خفگی سے کہا
”آپی میں کیوں پوچھوں ان کی خیریت کیا ان کی طبیعت خراب ہے “
سنی کا بھولا پن عروج پر تھا
سحر کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے
”جان میری بات سنو دیکھو اب تم دنوں کا رشتہ بدل گیا ہے تم شوہر ہو اس کے تمھیں اس کی پل پل کی خبر رکھنی چاہیے تمھں دن میں کم سے کم اس کو دو بار کال کرنی چاہیے تمھارے ایسا کرنے سے وہ بہت خوش ہوگی اور کیا تم نہیں چاہتے مشال بھی تم سے میری طرح محبت کرے تم اس کا خیال رکھو گے اس کی فکر کرو گے تو وہ بھی تم سے محبت کرے گی بلکل ایک اچھی بیوی کی طرح “
سحر نے اپنی طرف سے کوشش کی سنی کو مشال اور اس کا رشتہ سمجھانے کی
”اوکے آپی میں کال کر لوں گا ان کو برا تو نہیں لگے گا“
سنی نے خدشہ ظاہر کیا
”ارے پاگل ابھی تو کہا وہ خوش ہوگی“
”اوکے آپی میں کرلوں گا کال “
سحر کامیاب ہو ہی گٸ سنی کو سمجھانے میں
”اوکے میں رکھتی ہوں کال تم بات کرلینا کھانا ٹاٸم پر کھا لینا “
سحر نے اپنے پیارے بھاٸ کو پیار سے کہا
”جی آپی خدا حافظ “
”خدا حافظ جان “
سحر کال منقطع کرکے اپنے کام میں مصروف ہوگٸ
سنی فریش ہونے چلا تھا
”دیکھیے امی آپ یاد کررہی تھیں نہ اپنے داماد کو کال آگٸ ان کی“
مشال نے مسکراتے ہوۓ فون کان سے لگایا
”اَلسَلامُ عَلَيْكُم “
مشال نے کال اٹھاتے ہی شیریں بھرے لہجے میں سلام کیا
”وَعَلَيْكُم السَّلَام “
سنی تو حیران ہی رہ گیا اتنا میٹھا لہجا
مشال کے میٹھے لہجے کی وجہ سامنے کھڑی نگحت بیگم تھیں
وہ اس وقت اپنی امی کے ساتھ کچن میں ان کا ہاتھ بٹا رہی تھی کہ سنی کی کال آگٸ وہ دوبارہ اپنی عزت افزاٸ نہیں کروانا چاہتی تھی اس لیے تمیز کے داٸرے میں مخاطب ہوٸ سنی سے
”کیسے ہیں آپ”
سنی تو بار بار موباٸل کان سے ہٹا کر دیکھ رہا تھا کہی اس نے غلط نمبر تو نہیں ڈاٸل کردیا
”کیا دل نہیں لگ رہا آپ کا میرے بنا بہت یاد آرہی ہے آپ کو میری“
سنی کے جواب دینے سے پہلے ہی مشال بول پڑی
”یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ میں نے تو کچھ کہا ہی نہیں“ سنی نے ناسمجھی سے کہا
”جی میں جانتی ہوں آپ کتنا چاہتے ہیں مجھے رات کو اتنی دیر تک بات کی تھی آپ نے مجھ سے پھر بھی آپ کا دل نہیں بھرا“
مشال نے نگحت بیگم کے سامنے شرمانے کی ایکٹینگ کی
”کیا بولے جارہی ہیں آپ میرے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا“ سنی جھنجلا گیا تھا
نگحت بیگم مشال کے لیے سنی کی محبت دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سمارہی تھیں
” آپ مجھے لینے آرہے ہیں آج “
مشال خود ہی باتیں بنا رہی تھی
مشال کی ساری باتیں سنی کے سر سے گزر رہیں تھیں میں نے کب کہا آپ کو لینے آنے کی“
سنی کو اب غصہ آنے لگا تھا
” میری بات غور سے سنو آج رات تک مجھے لینے آٶ “
مشال بات کرتے کرتے کچن سے باہر آگٸ تھی تواب وہ اپنے ازلی انداز میں گویا ہوٸ
سنی کو مشال کا یہ انداز ایک آنکھ نہ بھایا
”کیوں لینے آٶں میں آپ کو آنٹی نے تو کہا ہی نہیں جب وہ بولیں گی جب ہی آٶں گا لینے“
سنی بھی بھرمی سے بولا
”سنی میں کیا کہہ رہی ہوں سمجھ نہیں آرہی تم آج رات تک لینے آٶ مجھے“
مشال نے بھی غصہ دیکھایا
”میں تو نہیں آٶں گا وہی رہیں کچھ دن میں بیڈ پر اکیلا سکون سے سوں گا اس دن آپ کی موجودگی کی وجہ سے میں سہی سےسو نہیں پایا “
سنی نے مشال کو جلانے میں کوٸ کسر نہیں چھوڑی تھی
”میں تمھاری ٹانگے توڑ دوں گی پھر پڑے رہنا سارے دن اپنے بیڈ پر“
مشال نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا
”آپ مجھے دھمکی دیں رہی ہیں میں آپی سے شکایت کردوں گا آپ کی“
سنی نے بچوں کی طرح کہا
”میں نہیں ڈرتی تمھاری آپی سے “
مشال نے لاپرواٸ سے کہا
”حیدر بھاٸ سے تو ڈرتی ہیں نہ ان سے کہہ دوں گا“
سنی نے مشال کو ڈرانے کی کوشش کی
”ہنہ پہلے حیدر بھاٸ کے سامنے کھڑے ہوکر تو دیکھاٶ تم تو مجھ سے بھی زیادہ ڈرتے ہو ان سے“ مشال نے الٹا سنی کو ہی چیلنج کردیا
اور سچ ہی کہا تھا حیدر کی روبدار شخصیت کے سامنے سنی کی زبان تالوں سے لگ جاتی تھی
سنی نے برا سا منہ بنایا پھر کچھ یاد آنے پر دوبارہ گویا ہوا
”آنٹی سے شکایت کردوں گا مجھے یاد ہے اس دن کیسا ڈانٹا تھا آنٹی نے آپ کو “
سنی کو اپنی شادی کا دوسرا دن یاد آگیا جب مشال کے گھر والے ناشتہ لے کر آۓ تھے
اس دن نگحت بیگم نے مشال کی جو عزت افزاٸ کی تھی وہ سب سن چکاتھا
”تم تم امی سے شکایت لگاٶ گے میری“
مشال تو تپ ہی گٸ تھی
”ہاں لگاٶں گا “سنی نے اکڑ کر کہا
”اچھا آٸ ایم سوری تم پلیز مجھے لینے آجاٶ آج“
سنی کا بھروسا نہیں تھا وہ نگحت بیگم سے شکایت کردیتا تو مشال کی دوبارہ عزت افزاٸ ہوتی یہ ہی سب سوچ کر مشال اب سنی کے آگے منتوں پر اتر آٸ تھی
مشال کی اکثر طبیعت ٹھیک نہیں رہتی تھی کچھ کھاتی تو الٹیاں ہوجاتی بیٹھے بیٹھے گھبراہٹ ہونے لگ جاتی راتوں کو کھٹی میٹھی چیزیں کھانے کا دل کرتا مشال نے بہت مشکل سے اپنی حالت نگحت بیگم سے چھپاٸ ہوٸ تھی اسی لیے وہ جلد سے جلد گھر جانا چاہتی تھی
” اچھا چلیں اتنا کہہ رہی ہیں تو آجاٶں گا رات کو لینے “سنی نے احسان کرتے ہوۓ کہا
”اوہ سنی تم کتنے اچھے ہو میں یوں ہی لڑتی رہتی ہوں تم سے میں رات کو تمھارا ویٹ کروں گی پھر ہم کھانا ساتھ کھاٸیں گے“
مشال نے سنی کو مکھن لگانا ضروری سمجھا
”اوکے آپی کی دوست میں آجاٶں گا “
سنی کا موڈ بھی خوشگوار ہو گیا تھا
”سنی میرا نام لیا کرو یہ آپی کی دوست کیا ہوتا ہے“
”آپ بڑی ہیں مجھ سے نام کیسے لوں آپ کا “
سنی کی معصومیت کا کوٸ ثانی نہیں تھا
”ہاۓ اتنا سیدھا شوہر میرے نصیب میں ہی رہ گیا تھا کیا“
مشال نے سر پکڑ کر دل میں سوچا
”دیکھوں سنی میں اب تمھاری بیوی ہوں تم نام لے سکتے ہو میرا کوٸ کچھ نہیں کہے گا تم اب میرا نام لینا ٹھیک ہے “
مشال نے نرمی سے سنی کو سمجھایا
”اوکے آپ کہہ رہی ہیں تو لے لوں گا“
سنی نے خوش ہوتے ہوۓ کہا
”اچھا اب میں رکھتی ہوں فون تم یاد سے آجانا مجھے لینے“
”اوکے خدا حافظ آپی کی دوس…“
”سنییی ! “
سنی کی بات پوری ہونے سے پہلے مشال بول پڑی
”سوری مشال “
سنی اپنی غلطی سمجھ کر بولا
”ہمم گڈ بوۓ چلو باۓ رات کو ملاقات ہوگی“
مشال نے مسکراتے ہوۓ کہا اور کال منقطع کردی
”آپی آپ بھی چلیں نہ میرے ساتھ مشال کے گھر “
سنی آج کیفے سے جلدی گھر آگیا تھا کب سے سحر کے کان کھا رہا تھا سنی اکیلے جانے میں گھبرا رہا تھا سحر کو ساتھ لے جانا چاہتا تھا لیکن وہ تھکی ہوٸ تھی پھر اس کو اس طرح جانا اچھا بھی نہیں لگ رہا تھا
”جان تم چلے جاٶ دیکھوں نو بج گۓ ہیں مشال بھی کتنی بار کال کر چکی ہے کسی کو زیادہ انتظار کروانا بری بات ہوتی ہے “
سحر نے سنی کو کہا تو
وہ منہ بناتا کھڑا ہوگیا
”بات نہیں کریے گا اب آپ مجھ سے“
سنی منہ بگاڑتا باٸیک کی چابی اٹھا کر گھر سے نکل گیا
”اففف سنی میں کیا کروں تمھارا تمھیں اسٹرونگ ہونا ہوگا میں ساری زندگی تمھارے ساتھ تھوڑی رہوں گی سنی اب تمھیں بڑا ہونا ہوگا میرا آنچل چھوڑنا ہوگا“
سحر اپنی سوچوں میں سنی سے ہمکلام تھی
”اَلسَلامُ عَلَيْكُم “۔
سنی ابھی مشال کے گھر پہنچا تھا سلام دعا کا سلسلہ جاری تھا
”وَعَلَيْكُم السَّلَام ماشاءاللہ میرا بچہ کتنا پیارا لگ رہا ہے اللہ نظر بد سے بچاۓ“
نگحت بیگم اپنی خوبصورت داماد پر صدقے واری جارہیں تھیں
سنی نیوی بیلو شرٹ کے ساتھ بیلو رنگ کی جینس کی پینٹ پہنا ہوا تھا نیلی آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح معصومیت چمک رہی تھی
سنی کی تعریف سن کر مشال تو جل بھن گٸ وہ خود بھی سفید گڑاہی دار پیروں تک آتی فراک میں بہت پیاری لگ رہی تھی لیکن نگحت بیگم نے اتنی اسکی تعریف نہیں کی تھی
”بیٹا سحر کو نہیں لاۓ میں نے فون پر کہا تھا نا اس کو بھی لے کر آنا“
نگحت بیگم نے سنی سے استفسار کیا
”جی آنٹی وہ آپی بہت تھک گٸ تھی آفس میں کام زیادہ تھا تو اس لیے نہیں آٸیں “
سنی نے مسکراتے ہوۓ کہا
”اچھا بیٹا چلو آٶ کھانا کھاتے ہیں ٹھنڈا ہورہا ہے “
کھانا بہت ہی خوشگوار ماحول میں کھایا گیاتھا اب چاۓ کا دور چل رہا تھا
سنی سے ہلکی پھلکی باتیں میں جاری تھیں
مشال کو تو کھٹکا لگا ہوا تھا کہی سنی کوٸ ایسی بات نہیں کردے جو اس کے لیے نقصان کا باعث بنے
سفدر صاحب بھی سنی سے بہت خوش تھے وہ ان کو بہت زیادہ معصوم اور بھولا بھالا لگا ہر طرح کے منفی خیالات سے پاک ذہن کا مالک
جبکہ حیدر نے کچھ خاص بات نہیں کی تھی وہ ابھی بھی سنی سے کھینچا کھینچا سا رہتا تھا اسی وجہ سے سنی بھی اس کو مخاطب نہیں کرتا تھا
”سنی اب گھر چلیں بہت دیر ہوگٸ ہے سحر بھی اکیلی ہے گھر پر“
سنی تو ویسے ہی پرتول رہا تھا جانے کے لیے مشال کے کہنے پر اٹھ کر کھڑا ہوا
”جی جی چلیں کافی دیر ہوگٸ ہے “
”اچھا امی ابو ہم چلتے ہیں“
مشال دونوں سے مل کر چادر اوڑھنے لگی
ّآنکل آنٹی آٸیے گا آپ لوگ گھر پر“
سنی نے بھی مسکرا کر کہا
”جی بیٹا ضرور آٸیں گے تم دونوں دیکھ بھال کے جانا“
سفدر صاحب نے سنی سے بغلگیر ہوتے ہوۓ کہا
جی انکل خدا حافظ
”امی ابو خدا حافظ“
مشال بھی خوشی خوشی سنی کے پیچھے آگٸ
”اللہ ہمارے بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے“ ان کو ڈھیروں خوشیاں دیکھاۓ نگحت بیگم اپنے بچوں کے لیے دعاگو تھیں
”سنی میرا آٸسکریم کھانے کا دل کر رہا ہے “
مشال نے دور سے ہی آٸسکریم شاپ کو للچاٸ ہوٸ نظروں سے دیکھتے ہوۓ سنی کے کان کے پاس سر گوشی کی
”تو میں کیا کروں “؟ سنی نے لاپرواٸ سے کندھے اچکاۓ
”تو کیا کھلا دو نہ آٸسکریم“ مشال نے سنی کے کندھے پر نرمی سے دباٶ ڈالا
”نہیں رات کا وقت ہے ہمیں سیدھے گھر جانا چاہیے آپی بھی گھر میں اکیلی ہیں“
سنی نے حکمیہ انداز اختیار کیا
”سنی پلیز کھلا دو نہ بہت دل کر رہا پلیز کھلا دو پلیز “
مشال التجا کرتی کرتی سنی کے مزید قریب آگٸ
سنی کو مشال کی سانسوں کی گرماہٹ اپنے کان پر محسوس ہورہی تھی
”اچھا اچھا ٹھیک ہے کھلا رہا ہوں لیکن گھر لے کر چلیں گے یہاں بیٹھ کر نہیں کھانے دوں گا اب ذرا مجھ سے دور ہوکر بیٹھیں“
سنی کو مشال کا اتنا قریب آجانا اچھا نہیں لگا
”ٹھیک ہے “
مشال بھی شرمندہ سی پیچھے ہوکر بیٹھی
”آپ یہی باٸیک کے پاس کھڑی ہو میں آٸسکریم لے کر آتا ہوں“
سنی نے آٸسکریم کی شاپ کے سامنے گاڑی روکی اور مشال کو وہی کھڑا کرکے اندر کی طرف چلدیا
مشال کی نظریں سنی کی چوڑی پشت پر تھیں وہ سامنے کھڑا آٸسکریم لے رہا تھا
مشال نے ذرا سی نظر گھماٸ تو سامنے کا منظر دیکھ کر مشال کو یکدم ہی غصہ آیا
وہ پیر پٹختی ہوٸ ان لڑکیوں کے سامنے جاکھڑی ہوٸ جو سنی کی تصویر لینے کے چکر میں تھیں
سنی تھا ہی اتنا پیارا ہر لڑکی اسے دیکھ کر اس کا اپنا بنانے کی خواہش کربیٹھتی
”شرم آتی ہے تم لوگوں کو دوسروں کے شوہر کو تاڑتے ہوۓ“
مشال ان دونوں کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی
”میم کیا مسلٸہ ہے آپ کے ساتھ ہم نے تو کچھ نہیں کیا “
ان میں سے ایک لڑکی ڈرتے ڈرتے بولی
”بتاٶں ابھی تمھیں کیا “……
”آپ یہاں کیا کررہی ہیں میں نے آپ کو باٸیک کے پاس کھڑے رہنے کو کہا تھا“
مشال کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی سنی وہاں آگیا
وہ لڑکیاں بھی حیران کھڑی تھیں سنی کو مشال سے بات کرتا دیکھ اب وہ سمجھ گٸیں تھی مشال کیوں ان کے سر پر آکر کھڑی ہوگٸ تھی
”کچھ نہیں کسی کا دماغ ٹھیکانے لگانے آٸ تھی تم نے آٸسکریم لے لی چلو چلتے ہیں“
مشال ان دونوں لڑکیوں گھورتے ہوۓ سنی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتی بنی
سنی کے تو کچھ سجھ نہیں آیا
ہوا کیا ہے
وہ مسلسل اپنا ہاتھ مشال کی گرفت سے نکالنے کی کوشش کررہا تھا جو چھوڑنے کے بلکل موڈ میں نہیں تھی
مشال نے باٸیک کے پاس پہنچ کر سنی کا ہاتھ چھوڑ دیا
”یہ کیا ہوا تھا آپ کو ابھی“
سنی نے مشکوک نگاہوں سے مشال کو گھورا
”بھٸ کچھ نہیں نہ چلو نہ سحر پریشان ہورہی ہوگی گھر میں اکیلی “
مشال نے سنی کا دھیان سحر کی طرف کر دیا
ارے ہاں میں تو بھول ہی گیا سنی جلدی سے باٸیک پر بیٹھا باٸیک اسٹارٹ کی مشال بھی پیچھے بیٹھ گٸ دونوں گھر کی طرف روانہ ہوگۓ
”کتنی دیر سے میں تم لوگوں کا ویٹ کررہی ہوں اب پہنچے ہو تم لوگ “
گھر میں داخل ہوتے ہی پریشان ہوتی سحر نے ان کا استقبال کیا
”آپ کو کیوں فکر ہورہی تھی اکیلا بھیجا تھا نہ مجھے جب فکر نہیں ہوٸ اب آپ کی دوست ساتھ تھیں تو کتنی فکر ہورہی ہے آپ کو “
سنی ابھی تک نہیں بھولا تھا کہ اس کی آپی نے اسے اکیلے بھیج دیا تھا
”اسے کیا ہو گیا تم سے ایسے کیوں بات کررہا تھا “
مشال نے کمرے میں جاتے سنی کی طرف حیرانگی سے دیکھا اس نے کبھی بھی سنی کو ایسے نہیں دیکھا تھا اتنا سنجیدہ
”میں جانتی ہوں میں اپنے بھاٸ کے ساتھ نا انصافی کررہی ہوں“
سحر گرنے کے انداز میں صوفے پر بیٹھی پھر دوبارہ گویا ہوٸ
”لیکن میں ہمیشہ اس کو اپنے پلو سے باندہ کر نہیں رکھ سکتی اسے اب بڑا ہونا ہوگا تمھارا شوہر بننا ہوگا “
سحر نے سامنے کھڑی مشال کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
مشال سحر کے برابر میں آکر بیٹھ گٸ
”ہوا کیا ہے سحر مجھے بتاٶ کچھ“
”وہ مجھے اپنے ساتھ چلنے کی کہہ رہا تھا لیکن میں نے منع کردیا اسے اکیلے بھیج دیا تمھیں لینے“
”تو تمھیں بھی تو بلایا تھا آٸ کیوں نہیں“
مشال نے سحر کو گھورا
”یار مشال میں نے ابھی تو کہا میں اس کو بڑا کرنا چاہتی ہوں وہ انیس سال کا ہے لیکن اس کا دماغ بچوں جیسا ہے اس کو شادی کے تقاضوں تک کا علم نہیں ہے زیادہ لوگوں سے گھبراتا ہے وہ ہر کہی مجھے اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے جیسے اکیلے گیا تو کھو جاۓ گا اسے تو بہن اور ماں کی محبت کے علاوہ اور کسی محبت کا معلوم ہی نہیں ہے اس کے دل میں تمھارے لیے ہمدردی عزت و احترام جیسے جذبات ہے لیکن شوہر والی محبت کا جذبہ کہی نہیں ہے تم بیوی ہو اس کی اسے سمجھنا ہوگا اس رشتے کو کل کو وہ باپ کے عہدے پر فاٸز ہوگا تو پھر کیا ہوگا کیا وہ جب بھی میرے آنچل کے ساتھ لگا رہے گا
میں نے اس کو اکیلے اس لیے بھیجا تھا وہ ہر چیز ہر رشتہ ہر ذمہ داری خود سمجھے کیا میں نے غلط کیا تھا“
سحر نے اپنی بات کے اختتام پر مشال کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
”تم نے بلکل سہی کیا سحر تم پریشان نہیں ہو ہم دونوں کوشش کرے گے تو وہ ہر رشتے کے تقاضے اور ذمہ داریاں سمجھ جاۓ گا “
مشال نے مسکراتے ہوۓ سحر کا ہاتھ تھاما
” ان شاء اللہ “سحر نے امید بھری نظروں سے مشال کی طرف دیکھا
”ارے یار سحر ساری آٸسکریم پگل گٸ تمھاری باتوں میں تو تم اپنے لاڈلے بھاٸ کو مناٶ میں جب تک آٸسکریم نکال کر لاتی ہوں “
مشال مسکراتے ہوۓ کہتی کچن میں چلی گٸ
سحر ایک گھیری سانس ہوا میں کے سپرد کرتی سنی کے روم میں چلی گٸ
سنی ڈھیلی سی ٹی شرٹ کے ساتھ ٹراٶذر زیب تن کیے بیڈ پر نیم دراذ سا بیٹھا موباٸل میں مگن تھا
سحر کے کمرے میں موجودگی پر بھی اس نے ایک نظر نہیں ہٹاٸ موباٸل سے
”میرا لاڈلا بھاٸ ناراض ہے مجھ سے“
سحر مسکراتی ہوٸ سنی کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گٸ
آپ کیوں آٸیں ہیں میرے روم میں جاٸیں اپنی دوست سے باتیں کریں سنی کو انتظار تھا اس کی بہن اسے منانے آۓ گی لیکن وہ مشال سے باتوں میں لگ گٸ تھی
سنی کو اس بات کا گلہ تھا جو وہ کرگیا سحر سے
تم مشال سے جیلس ہورہے ہو سحر نے سنی کے ہاتھ سے موباٸل چھین کر اپنے ہاتھ میں دبا لیا
ہاں ہورہا ہوں جیلس پہلے صرف آپ میرے ساتھ باتیں کرتی تھی میرے ساتھ باہر جاتی تھی صرف میری فکر کرتی تھی لیکن اب آپ مجھ سے زیادہ مشال کے ساتھ رہے گی وہ آپ کی دوست جو ہیں اب تو سارا دن آپ کے ساتھ رہے گی وہ آپ مجھے بھول جاٸیں گی
سحر حیران ہوگٸ تھی سنی کے خدشات سن کر وہ کتنی غلط فہمیاں پال کر بیٹھا تھا
لگتا ہے مجھ سے کوٸ شدید قسم کا جیلس ہے مشال آٸسکریم لے کر کمرے میں داخل ہورہی تھی سنی کا پورا کلام سن چکی تھی
مشال میرے بھاٸ کو تنگ نہیں کرو سحر نے مشال کو گھورتے ہوۓ کہا تھا
سنی جان معاف کردو غلطی ہوگٸ مجھ سے میں اپنے بھاٸ کو اب بلکل اکیلا نہیں چھوڑوں گی اپنے بھاٸ کی ساری باتیں مانوں گی ہمم سحر نے پیار سے سنی کا معصوم سا چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا
اچھا ٹھیک ہے آپی
سنی مسکرا دیا
سحر نے بھی مسکرا کر جواب دیا
اچھا نا اب آٸسکریم کھاتے ہیں یہ پگل رہی ہے مشال پگلتی آٸسکریم کی جانب اشارہ کیا
اگلے ہی پل سب ہی آٸسکریم پر ٹوٹ پڑے تھے
کتنا معصوم ہے یہ تمھیں کوٸ بھی لڑکی مل جاتی سنی لیکن شاید تمھارا نصیب مجھ سے جوڑا ہوا تھا میں تم پر خود کو زبردستی مسلط نہیں کروں گی اگر تم مجھے چھوڑنا چاہو گے یا دوسری شادی کرنا چاہو گے تو میں خوشی خوشی راضی ہوجاٶں گی تم نے مجھے عزت دی میرے بچے کو نام دینے کو راضی ہوگۓ میرے لیے یہ ہی کافی ہے اور کچھ نہیں چاہیے تم سے سنی میرا ہر عمل اب صرف تمھارے خوشی کے خاطر ہوگا
مشال کب سے سوۓ ہوۓ سنی کا معصوم چہرا دیکھ رہی تھی اور اپنے سوچو میں اس سے ہمکلام تھی
یوں ہی سوچتے سوچتے مشال سوچکی تھی
چھوڑیں گلاس میں پیوں گا پانی
نہیں تم چھوڑوں میں پیوں گی
پانی تو میں نے بھرا ہے نہ گلاس میں
ہاں تو کیا ہوا تم دوبارہ بھر لینا مجھے پینے دو پانی
نہیں پہلے میری پیاس تھی میں پیوں گا پانی آپ چھوڑیں گلاس
نہیں پہلی میری پیاس تھی تم چھوڑوں گلاس
نہیں آپ چھوڑیں
نہیں تم چھوڑو
سنی اور مشال ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے پانی کے گلاس پر لڑ رہے تھے سحر ناشتہ لگارہی تھی اور ان دونوں کی لڑاٸ بھی ملاحظہ فرما رہی تھی
سنی کو پیاس لگی تھی اس نے گلاس میں پانی نکالا
گلاس سنی کے اٹھانے سے پہلے مشال نے تھام لیا
مشال گلاس اٹھاتی اس سے پہلے سنی نے پکڑ لیا
گلاس کا نچلا حصہ سنی کے ہاتھ میں تھا تو اوپری حصہ مشال کے ہاتھ میں
دونوں پورا زور لگا رہے تھے کے گلاس اپنے قبضے لے لیں ساتھ زبانی گولا باری بھی جاری تھی
اففففف بس کردو تم لوگ صبح صبح ہی لڑنے بیٹھ گۓ ہو سر میں درد کردیا ہے میرے سحر نے دنوں کو اچھا خاصا گھور کر کہا
آپی پانی میں نے گلاس میں بھرا تھا یہ اپنا حق جمانے لگ گٸ گلاس سنی ایسے کہا جیسے پانی کا گلاس نہ ہو سنی کی جاٸیداد ہو جس پر مشال نے قبضہ کر لیا ہو
ہاں تو کیا ہوا پانی کا گلاس تم نے بھرا تھا تو میں پانی پی لوں گی تو کیا ہوجاۓ گا مشال نے بھی تنک کر کہا
کیا تم دونوں بچوں کی طرح لڑے جارھے ہو یار سحر نے بریشانی سے کہا
میں بچہ نہیں ہوں شادی ہوگٸ ہے میری بڑا ہوگیا ہوں میں سنی نے چیسے سحر کو یاد دلایا
حرکتیں تو بچوں والی ہی ہیں مشال بڑبڑاٸ
میری جان تم بڑے ہوگۓ تو بڑا پن دیکھاٶ مشال کو دے دو پانی تم اس دوسرے گلاس میں لے لو پانی سحر نے دوسرا گلاس سنی کی طرف بڑھایا
ٹھیک ہے آپی سنی نے خاموشی سے پہلے والا گلاس چھوڑ کر سحر کے ہاتھ سے گلاس لے لیا
مشال نے مسکراتے ہوۓ گلاس ہونٹوں سے لگایا
مشال نے بھی دوبارہ آفس جانا شروع کردیا تھا گزرتے دنوں کے ساتھ مشال کے دل میں اپنے معصوم شوہر کے لیے جذبات پنپنے لگے تھے جس سے وہ خود بھی واقف نہیں تھی
اکثر سنی سے لڑاٸ بھی کرتی رہتی مشال کا یہ پسندیدہ مشگلہ بن چکا تھا
مشال اپنے زخم فراموش کرچکی تھی یاد تھا تو بس سنی کےساتھ گزرنے والی کھٹی میٹھی زندگی کا آغاز
مشال نے سنی کے کافی کام اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے سنی کے کپڑے دھونا استری کرنا سنی جب رات کو گھر آتا تو اس کو کھانا دینا
شروع میں تو سنی کو یہ سب اچھا نہیں لگتا تھا وہ مشال کو کہتا تھا اس کے سارے کام آپی کرتی ہیں وہ ہی کریں گی آپ میری چیزوں کو ہاتھ نہ لگایا کریں مشال بحث میں اس کے سارے کام سرانجام دیتی تھی
سنی بھی یہ سب دیکھ کر پیچھے نہ رہتا وہ اکثر مشال کے کام بڑھاتا رہتا
سلیقے سے استری ہوٸی شرٹ پر بھی نقص نکال نکال کر مشال سے دوبارہ استری کرواتا کبھی کپڑوں پر ایسا داغ لگا کر آتا بچاری مشال کے ہزار جتن کرنے بعد ہی وہ داغ جاتا راتوں کو اس سے کھانے بنواتا اچھا خاصا اپنی ناپسندیدگی لسٹ میں شامل کرکے مشال سے راتوں کو خوب محنت کرواتا مشال منہ بسورتی اس کے سارے کام انجام دیتی
اسی طرح آہستہ آہستہ ہی سہی دونوں کو ایک دوسے کی عادت ہورہی تھی
سحر کے سمجھانے پر سنی نے بھی مشال کو کچھ بولنا چھوڑ دیا وہ بیوی تھی اس کی اسے ہی کرنے تھے اس کے کام
سحر بھی اپنے فیصلے پر مطمعین ہوگٸ تھی
وہ اپنے خاموش گھر میں سنی اور مشال کی تکرار کی آوازیں سنتی تو خوش ہوتی کیوں کہ اس کاویران گھر پھر سے آباد ہوگیا تھا
مشال سنی کی شادی کو دو ماہ گزر چکے تھے سب ہی اس شادی سے خوش تھے سواۓ حیدر کے وہ اپنی بہن کو خوش دیکھ کر پرسکون تھا لیکن خوش نہیں سنی بچوں جیسی باتیں جہاں لوگوں کا دل موہ لیتی وہی حیدر کا غصہ بڑھ جاتا وہ اکثر اپنی باتوں سے سنی کو یہ احساس دلا چکا تھا کہ وہ اس شادی سے خوش نہیں سنی بھی حیدر کے سامنے جانے سے گریز کرتا
آج مشال اپنے میکے آٸی تھی اپنے ماں بننے کی خوشخبری سے سب کو آگاہ کرنے کے کا ارادے کے ساتھ
مشال کیا بات ہے بیٹا آج بہت زیادہ خوش نظر آرہی ہو نگحت بیگم کب سے نوٹ کررہی تھی مشال خود ہی خود مسکرا رہی تھی
وہ امی مجھے کچھ بتانا ہے آپ کو مشال نے شرمانے کی بھرپور اداکاری کی
ہاں بیٹا بتاٶ کیا بات ہے نگحت نے مشال کا ہاتھوں میں لیتے ہوۓ پوچھا
وہ امی آپ نا نانی بنے والی ہیں مشال کے کہتے کے ساتھ اپنا چہرا دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا
کیا میری بچی میری جان تم کب سے آٸ ہو مجھے اب بتا رہی ہو اتنی بڑی خوشخبری نگحت بیگم دل سے خوش تھیں بہلے ان کے داماد کی آمدنی اتنی اچھی نہیں تھی لیکن ان کی بیٹی خوش تھی ان کے لیے یہ ہی کافی تھا
وہ امی مجھے شرم آرہی تھی مشال دوپٹے کا کونہ اپنی انگلی میں لاپیٹتے ہوۓ کہا
جھلی مجھے بتا کب معلوم ہوا تمھیں اس خوشخبری کا نگحت بیگم نے سکراتے ہوۓ کہا
وہ کل میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو سنی مجھے ہوسپٹل لے کر گۓ تھے تو جب معلوم ہوا مشال جھوٹی کہانی سناٸی
سنی خوش ہے
جی امی وہ تو بہت خوش ہیں کہہ رہے تھے ہمارا رشتہ اب اور مضبوط ہوجاۓ گا مشال نے دوبارہ جھوٹ کا سہارا لیا
میری بچی خوش رہو بس تم ہمیشہ میری دعاٸیں تمھارے ساتھ ہیں نگحت بیگم نے محبت سے مشال کی پیشانی چومی اور اسے خود میں بھینچ لیا
سفدر صاحب بھی نانا بننے کی خبر سن کر خوشی سے نہال ہوۓ تھے جبکہ حیدر کے چہرے کے زاویے بگڑ گۓ تھے
اس ابھی بھی اپنی بہن خوشی نہیں سنی کا بچپنہ نظر آیا
تف ہے امی اتنی جلدی یہ سب امی کیسےاتنی بڑی ذمہ داری اٹھاۓ گا وہ اس کی دو آمدنی اتنی اچھی نہیں کیسے خرچے پورے کرے گا وہ کیا میری بہن ساری زندگی کماتی رہے گی سکون میسر نہیں ہوگا کیا اس کو
حیدر اپنے خدشات سے اپنی ماں کو آگاہ کررہا تھا
حیدر کیا تم بھول رہے ہو اس رشتے پر تم نے ہی راضی کیا تھا ہمیں اور تم نے ہی اس کی کم آمدنی والی بات نظرانداز کرکے خوش دلی سے یہ رشتہ قبول کیا تھا اب یہ سب کرنے کی وجہ اور جہاں مشال تک کی نوکری کرنے کی بات ہے تو وہ اپنی خوشی سے کرتی ہے سنی نے کبھی نہیں کہا اس کو جب وہ یہاں تھی تب بھی تو نوکری کرتی تھی یہاں کس چیز کی کمی تھی اس کو جب تو تمھیں کوٸی اعتراز نہیں ہوا تو اب کیوں نگحت بیگم نے حیدر کو آڑے ہاتھوں لیا
امی میرا مطلب تھا سنی کے سیٹل ہونے کے بعد وہ بچے کے بارے میں سوچتے تو بہتر تھا حیدر شرمندہ سا ہوتا بولا
تم ٹھیک کہہ رہے ہو بیٹا لیکن یہ تو اللہ کہ کام ہیں ہم کون ہوتے ہیں اس میں دخل دینے والے نگحت بیگم حیدر کو شرمندہ ہوتے دیکھ پیار سے سمجھایا
جی امی آپ صحیح کہہ رہی ہیں میں بلاوجہ غصہ کررہا تھا حیدر نے نرم لہجے میں کہا
میں جانتی ہوں تم مشال سے بہت محبت کرتے ہو بیٹا لیکن تم ہر چیز نظر انداز کرکے اپنی بہن کی خوشی کا سوچوں بس کیا تمھیں اس کے چہرے سے نہیں لگتا وہ اپنی زندگی سے بر سکون اور سنی کے ساتھ خوش ہے
جی امی نظر آتا ہے مجھے اب میں نہیں کہوں گا کچھ اب آپ جاکر سوجاٸیں میں بھی چلتا ہوں صبح آفس جانا ہے مجھے
حیدر مسکراتے ہوۓ صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا
ٹھیک ہے بیٹا نگحت بیگم بھی اپنے کمرے میں چلی گٸیں تھی
نگحت بیگم کی باتیں حیدر کو پرسکون کرگٸ تھی مشال کے معاملے میں اس نے خاموشی اختیار کر لی تھی وہ بس اپنی بہن خوش دیکھنا چاہتا تھا جو وہ تھی
مشاااااال سنی غصے سے چلاتا ہوا کمرے سے باہر نکلا
کیا ہے مشال نے آنکھیں دیکھا روب سے پوچھا
میری گرے والی شرٹ نہیں مل رہی کہاں رکھی ہے
وہ تو گندی ہورہی ہے دھوں گی ابھی
ایک مہینے سے یہ ہی سن رہا ہوں میں کپڑے بھی کتنی دفع دھول چکے سنی نے تفصلی جواب دینا ضروری سمجھا
اصل میں وہ شرٹ مشال کو بلکل پسند نہیں تھی نہ ہی وہ سنی پر جچتی تھی اس لیے مشال نے اس شرٹ پوچا بنا ڈالا جو ابھی تک سنی کی نظروں کے سامنے سے نہیں گزرا تھا
کیا مسلٸہ ہے تم دونوں کے ساتھ روز لڑتے ہوۓ تمھاری صبح ہوتی ہے سحر بھی جھنجلاتی ہوٸی کمرے سے نکل آ ٸی
آپی اتنے دن ہوگۓ ہیں میری گرے شرٹ نہیں مل رہی جب بھی ان سے پوچھتا ہوں کہتی ہیں دھولی نہیں ہے ان سے پوچھے کہاں ہے میری شرٹ سنی نے اپنی شرٹ کی گمشدگی کی پوری رپورٹ سحر کے گوشگزار کی
مشال یہ کہی وہ ہی شرٹ تو نہیں کہہ رہا جس کا تم پوچا بناچکی ہو سحر نے مشال کے خاموش رہنے کو اشارے کو بھی سمجھنے کی زحمت نہیں کی اور اپنی رو میں بولتی چلی گٸ
آپ نے میری شرٹ کا پوچا بنا دیا سنی صدمے کی حالت میں گویا ہوا
وہ مجھے اچھی نہیں لگتی تھی اس لیے مشال نے چہرے پر جھولتی لٹ کو کان کے پیچھے اڑستے ہوۓ گھبراتے ہوۓ کہا
اوہ اچھا اب آپ مجھے اچھی نہیں لگ رہیں آپ کا بھی پوچا بناٶں گا میں سنی کڑے تیوروں کے ساتھ مشال کے پیچھے بھاگا
سنی کا انداز دیکھ کر مشال نے پہلے ہی دوڑ لگا دی تھی
روکیں آپ میں چھوڑوں گا نہیں آپ کو
سوری سنی میں تمھیں دوسری شرٹ لادوں گی مشال اپنے پیچھے دوڑتے سنی کو پیچھے دیکھتے ہوۓ بولی
نہیں اب میں آپ کو پوچا بناٶں گا
سحر کبھی سنی کو روکتی تو کبھی مشال کو بچاری آخر میں ہلکان ہوتی سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گٸ…….
