Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ladon Ka Pala Episode 17 (Last Episode Part 2)

Ladon Ka Pala by Misbah

عاصم جی میں کہوں گی اس کو وہ معاف کردے گی آپ سوجاٸیں

علشبہ نے عاصم کو زبردستی خود سے الگ کیا اور اس کو لیٹا دیا

وہ اٹھنے لگی تو عاصم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا

نہیں نہیں تم نہیں جاٶ مجھے چھوڑ کر

علشبہ واپس وہی بیٹھ گٸ عاصم اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھر کر آنکھیں موند گیا

کچھ دیر بعد علشبہ کو بھی نیند آگٸ وہ بھی عاصم کے پہلو میں دراز ہوگٸ

ماما ماما

صبح ہوتے ہی علیزہ کی آنکھ کھولی اپنی ماں کو بستر پر نہ پاکر وہ رونے لگی

روتے روتے کمرے سے باہر نکل آٸی

اس کی نظر عاصم کے کمرے کے کھلے دروازے سے ہوتی ہوٸی بیڈ پر گٸ

اپنی ماں کو دیکھ کر وہ ماما ماما کا راگ الاپتی بیڈ کے پاس ہی آگٸ

علشبہ عاصم کے سینے پر سر رکھے سورہی تھی اس کا ایک ہاتھ ابھی بھی عاصم کے ہاتھ میں تھا

علیزا کی آواز پر دونوں کی آنکھ کھول گٸ

عاصم نے گھبرا گر علشبہ کا ہاتھ چھوڑا علشبہ بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی

علشبہ کا چہراہ شرم سے سرخ تھا تو دوسری طرف عاصم شرمندہ تھا

ماما آپ انکل کے پاس کیوں سو رہیں تھیں

عاصم نے علیزا کو اٹھا کر گود بٹھا لیا

پرنسس میں آپ کا انکل نہیں ڈیڈ ہوں آپ مجھے ڈیڈ کہا کریں

علیزا نے اپنی ماں کی طرف دیکھا علشبہ نے سر اثبات میں ہلا دیا

اوکے ڈیڈ ماما آپ کے پاس کیوں سورہی تھیں

بیٹا میں رات کو سوتے ہوۓ ڈر جاتا ہوں اس لیے اب سے آپ کی ماما میں اور آپ ایک ساتھ سویا کرے گے

عاصم نے جواب تو علیزا کو دیا لیکن نظریں علشبہ پر تھیں

علشبہ عاصم کو گھورتی کمرے سے نکل گٸ

اس کے بعد عاصم کی زندگی بھی تھوڑی بہت سدھر گٸ

اس نے اپنی زندگی کی کتاب علشبہ کے سامنے کھول کر رکھ دی

علشبہ نے عاصم کو اس کی ہر براٸی اور اچھاٸی کے ساتھ قبول کرلیا تھا

آہہہہہہہ سنییییی بہت درد ہورہا ہے

میری جان ہمت رکھیں بس پہنچنے والے ہیں مشال ایک بار پھر تکمیل کے عمل سے گزر رہی تھی

اس بار مشال کے یہاں جڑوا بچوں کی پیداٸش ہوٸی تھی ایک لڑکا ایک لڑکی

دونوں کی آنکھیں ناک سنی پر تھیں جبکہ بال ہونٹ مشال جیسے تھے

حسن اپنے چھوٹے بہن بھاٸیں کو ٹکر ٹکر دیکھ رہا تھا وہ کبھی ان کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ پکڑتا تو کبھی ان کے چہرے پر جھک کر انھیں چومتا سب ہی حسن کی معصوم ہرکتوں پر مسکرا رہے تھے

تین سال بعد

مشال کچن میں کھڑی بچوں کی فرماٸش پر ان کے لیے فراٸز بنانے میں مصروف تھی

اَلسَلامُ عَلَيْكُم سنی نے مشال کو پیچھے سے اپنی بانہوں میں لیتے ہوۓ سلام کیا

وہ ابھی آفس سے آیا تھا مشال کو کچن میں دیکھ کر اس کے پاس ہی آگیا تھا

وَعَلَيْكُم السَّلَام کیا بات ہے جناب آج جلدی آگۓ

مشال نے ذرا سی گردن موڑ کر سنی کو دیکھا

کیوں آپ کو اچھا نہیں لگا میرا جلدی آنا

سنی نے اپنی ہلکی داڑھی مشال کے رخسار سے مس کرتے ہوۓ کہا

آہہ ہ سنی چبتی ہے یار تم کٹوا لو اس داڑھی کو

کیوں کٹوا لوں

مشال نے سنی کے ہاتھ اپنے پیٹ سے ہٹا کر رخ سنی کی طرف کیا

تاکہ آپ سے چھوٹا لگوں داڑھی رکھ کر تو ذرا آپ سے بڑا لگتا ہوں ویسے بھی اب آپ موٹی ہوگٸ ہیں تو اور بڑی لگتی ہیں مجھ سے

سنی نے مشال کی کمر میں بازوں حماٸل کرکے اسے خود سے قریب کرتے ہوۓ کہا

مشال کا جسم تین بچوں کے بعد تھوڑا بھر گیا تھا لیکن موٹی نہیں تھی وہ

سنی نے اس کو چڑانے کے لیے کہا تھا

او اچھا میں موٹی ہوں ہٹو پیچھے تم

جاٶ پتلی ڈھونڈوں اپنے لیے کوٸی

مشال نے سنی کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے دھکیلا

موٹی ہو پتلی ہو جیسے بھی ہو آپ ہی ہو میرے دل کی مللکہ میری روح کا سکون

سنی مشال کو دوبارہ بانہوں میں بھرتے ہوۓ کہا

مشال مسکرا دی

سنی مشال کے مسکراتے لبوں پر جھکا

مشال آنکھیں بند کرتی سنی کے لمس کو محسوس کرتی رہی

ماضی

جی آپ کون ؟

میں عاصم کا دوست

تم کون ہو لڑکی ؟

سلمان نے علشبہ کو اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوۓ کہا

علشبہ کو اس کی نظروں سے الجھن ہونے لگی

کون ہے علشبہ

عاصم کی آواز پر علشبہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا

جی وہ آپ کے دوست آٸیں ہیں

علشبہ عاصم کو جواب دیتی وہاں سے چلی گٸ

ارے واہ یار تیرے خوب مزے آرہے ہیں ایک سے ایک لڑکی لاتا ہے توں یار مجھے ایک موقع دے ذرا

سلمان خباثت سے کہتا گھر میں داخل ہوگیا

سلمان پلیز اس طرح کی باتیں مت کر میں وہ سب چھوڑ چکا ہوں وہ لڑکی میری بیوی ہے

عاصم کو غصہ تو بہت آیا لیکن تحمل سے سلمان کو سمجھانے لگا

ہاہاہاہاہا کیا توں اور شادی مزاق نہیں کر چل اس کو منا ایک رات میرے س۔۔۔۔

سلمان حد میں رہے کہہ رہا ہوں نہ بیوی ہے وہ میری اس کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کر

عاصم غصے میں دھاڑتا سلمان کا گریبان پکڑ چکا تھا

یہ توں نے اچھا نہیں کیا عاصم میرے گھر میں کھڑے ہوکر میرے ہی گریبان میں ہاتھ ڈال رہا ہے

چل سامان اٹھا نکل میرے گھر سے ابھی اسی وقت

سلمان عاصم سے بھی زیادہ تیز آواز میں دھاڑا

علشبہ علیزہ دونوں ڈری سہمی کمرے میں بیٹھی لڑاٸی کی آوازیں سن رہیں تھیں

یار سلمان سوری یار مجھے معاف کردے غصہ آگیا تھا یار دیکھ وہ میری بیوی ہے میرے بچوں کی ماں ہے میری عزت ہے میں کیسے اس کو تیرے حوالے کردوں

عاصم کے پاس اس گھر کے علاوہ کوٸی رہنے کا ٹھیکانہ نہیں تھا وہ کہاں جاتا جوان بیوی کو لے کر اب تو وہ پریگنینڈ بھی تھی

علشبہ اور عاصم کو ساتھ رہتے ایک سال ہو گیا تھا کچھ دن پہلے ہی تو عاصم کو اپنے باپ بننے کی خوشخبری ملی تھی ایسی حالت میں وہ اس کو کہاں لے کر جاتا

ٹھیک ہے توں جتنا وقت یہاں رہا ہے مجھے کرایہ دے اور رہ لے یہاں

سلمان عاصم کے حالات سے اچھی طرح واقف تھا اس لیے اس نے یہ شرط رکھی

کتنا کرایہ لے گا

دیکھ اس گھر کا کرایہ دس ہزار سے کم تو ہوگا نہیں توں یہاں دو سال سے رہ رہا ہے مطلب تیرا کرایہ بنتا ہے دو لاکھ چالیس ہزار چل لا دے اب کرایہ

سلمان نے عاصم کی طرف ہاتھ بڑھایا

یار ابھی تو نہیں ہیں کچھ وقت دے میں دے دوں گا کرایہ

عاصم نے بے بسی سے کہا

ٹھیک ہے اپنی بیوی دے دے ایک رات کے لیے سارا کرایہ معاف

سلمان نے خباثت سے کہا

سلمان بکواس نہیں کر کہہ رہا ہوں نہ دے دوں گا کرایہ بس کچھ وقت دے دے مجھے

عاصم نے اپنے غصے پر قابو کرتے ہوۓ کہا

ہمممم ٹھیک ہے اپنا بوریا بستر اٹھا اور نکل یہاں سے چل

یار سلمان توں میرا دوست ہے ایسا نہیں کر میرے ساتھ دوستی کا ہی خیال کرلے کچھ

عاصم نے سلمان کو دوستی کا واسطہ دیا

کونسی دوستی

دوستی جب ہی ٹوٹ گٸ تھی جب توں نے میرے گریبان پر ہاتھ ڈالا تھا سمجھا توں

عاصم سمجھ گیا مزید بحث بیکار ہے آج عاصم کو احساس ہورہا تھا غلط سنگتوں کے کیا نقصانات ہوتے ہیں

اس نے اپنا اور علشبہ علیزہ کا ضرورت کا سامان لیا اور گھر سے نکل گیا

عاصم جی اب ہم کہاں جاٸیں گے

علشبہ تم پریشان نہیں ہو میں تمھیں اپنے گھر لے کر چل رہا ہوں وہ لوگ بھلے مجھے گھر میں آنے کی اجازت نہ دیں لیکن تم دونوں کو رکھ لیں گے گھر میں اتنا مجھے یقین ہے

عاصم کو یہی حل نظر آیا فلحال تو

آپ کہاں جاٸیں گے

میں مرد ہوں کہی بھی رہ لوں گا لیکن تم دونوں کو محفوظ پناہ گاہ کی ضرورت ہے

میں آپ کے بغیر نہیں رہوں گی جہاں آپ رہے گے وہی ہم رہے گے

علشبہ نے روتے روتے کہا

عاصم نے روتی ہوٸی علشبہ کو خود سے لگایا علیزا بھی خاموشی سےبیٹھی سب سمجھنے کی کوشش کررہی تھی ہوا کیا ہے ان کے ساتھ

کچھ دیر بعد ٹیکسی محل نما بنگلے کے پاس روکی

عاصم اپنا سامان اور علشبہ علیزہ کو لے کر ٹیکسی سے اترا

ڈیڈ گھر پر ہیں عاصم نے چوکیدار سے پوچھا

نہیں صاحب جی اور بیگم صاحب شہر سے باہر گۓ ہوۓ ہیں

شاہ ویز بھاٸی ہیں گھر میں

نہیں جی وہ ابھی تک آفس سے نہیں لوٹے

چوکیدار کا جواب سن کر عاصم پریشان ہوگیا ایسے تو اس اندر جانے کی اجازت نہیں مل سکتی تھی وہ وہی کھڑا ہوکر انتظار کرنے لگا

عاصم جی یہ محل جیسا گھر آپ کا ہے

علشبہ بنگلے کو حیرت سے دیکھتی بولی

جی جانِ عاصم یہ گھر میرا ہے کسی زمانے میں میں بھی یہاں بڑے ٹھاٹ سے رہتا تھا

عاصم نے مسکراتے ہوۓ کہا

ڈیڈ ہم یہاں رہے گے

جی میری پرنسس ہم یہاں رہے گے

عاصم نے علیزہ کے دونوں رخساروں پر پیار کرتے ہوۓ کہا

اتنے میں گھر کے دروازے کے پاس ایک کار آکر روکی

عاصم کو دیکھ کر شاہ ویز کار میں سے اترتا اس کے مقابل آ کھڑا ہوا

کیوں آۓ ہو تم یہاں دفع ہوجاٶ یہاں سے

شاہ ویز نے عاصم کو غصے سے گھورا

بھاٸی میں چلا جاٶں گا یہاں سے بس میری بیوی اور بیںٹی کو رہنے کی اجازت دے دیں اس گھر میں جیسے ہی گھر کا کوٸی بندوبست ہوگا میں لے جاٶں گا ان دونوں کو اپنے ساتھ

عاصم کی بات سن کر شاہ ویز نے عاصم کے پیچھے کھڑی لڑکی اور بچی کو دیکھا

وہ دونوں بھی اسی کو دیکھ رہیں تھیں

اتنی بڑی بچی

شاہ ویز بڑبڑایا

اگلے ہی لمحے عاصم کا گریبان شاہ ویز کے ہاتھ میں تھا

تم کتنی لڑکیوں کی زندگیان برباد کرو گے یہ اتنی بڑی بچی تم نے اس لڑکی کے ساتھ بھی ضرور کچھ کیا ہوگا

بھاٸی میری ۔۔۔۔

بھاٸی پلیز چھوڑ دیں میرے شوہر کو انہوں نے کچھ نہیں کیا میرے ساتھ میں بیوہ تھی انہوں نے تو مجھے اور میری یتیم بچی کو سہارا دیاہے یہ بدل گۓ ہیں میں ایک سال سے ان کے ساتھ ہوں لیکن میں نے آج تک ان میں کوٸی براٸی نہیں دیکھی بللکہ یہ تو خود اذیت میں ہیں مشال اور حنا کے ساتھ انھوں نے جو کیا ان کی چیخیں ان کو سونے نہیں دیتیں رات بھر پلیز ان کو معاف کردیں ہم تینوں کو گھر میں رہنے کی اجازت دے دیں جیسے ہی یہ گھر کا انتظام کرلے گے ہم چلیں جاٸیں گے

علشبہ نے اپنے شوہر کے حق میں گواہی دی

کیوں جاٶ گے تم لوگ کہیں اور یہ گھر جتنا میرا ہے اتنا ہی عاصم کا بھی ہے آج سے تم لوگ یہی رہو گے

عاصم میرے بھاٸی میں خوش ہوں تیرے لیے تو نے غلط راستہ چھوڑ دیا

شاہ ویز خوشی سے عاصم کے گلے لگ گیا

شاہ ویز ان تینوں کو لے کر گھر میں داخل ہوا

حنا کب سے لاٶنج میں بیٹھی شاہ ویز کا انتظار کررہی تھی اس کو دیکھتے ہی اس کے سینے سے لگ گٸ

آپ آگۓ میں کب سے انتظار کررہی تھی آپ کا

میری جان آگے پیچھے دیکھ لیتے ہیں ایسے سب کے سامنے شوہر کا استقبال نہیں کرتے اکیلے میں کرتے ہیں

شاہ ویز نے نرمی سے حنا کو خود سے جدا کیا اور اس کے سامنے سے ہٹ کر برابر میں کھڑا ہوگیا

حنا کی نظر دروازے سے اندر آتے عاصم پر پڑی تو اس نے ڈر کے مارے شاہ ویز کا بازوں پکڑ لیا

ڈرو نہیں عاصم سدھر گیا ہے وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آیا ہے میں نے اسے معاف کردیا ہے

شاہ ویز نے حنا کے کان میں سرگوشی کی

حنا کو اپنے بھاٸی کے ساتھ دیکھ کر عاصم کے قدم تھم گۓ

آجاٶ اتنے کیا حیران ہورہے ہو بھابھی ہے تمھاری

شاہ ویز نے حنا کو اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ کہا

بھاٸی یہ سب کیسے

عاصم حیران ہوا تھا

آٶ بیٹھو بتاتا ہوں

اس کے بعد عاصم نے اپنی اور شاہویز نے اپنی شادی کی کہانی سنا دی

عاصم نے حنا سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی

حنا نے بھی اسے معاف کردیا کیونکہ عاصم اپنے حصے کی سزا بھگت چکا تھا

عاصم کے والدین نے بھی اسے معاف کردیا تھا

حال

یار حیدر بھاٸی کیا ہوا ہے اتنی رات میں کال کررہے ہیں

سنی نیند میں فون کان سےلگاۓ حیدر سے بات کررہا تھا جس نے آدھی رات کو سنی کی نیند خراب کی تھی

ابے سالے ہاسپٹل پہنچ جلدی توں ماما پلس انکل پلس پھوپھا بن گیا ہے

حیدر کی چہکتی آواز اور بولنے کے انداز سے حیدر کی خوشی کا پتا چل رہا تھا

ایک سال پہلے ہی سنی نے سحر کو رخصت کیا تھا اس کی بھی اچھی جاب لگ گٸ تھی وہ اب اپنا اور بچوں کا خرچا اٹھانے لاٸق ہوگیا تھا

ابھی آرہا ہوں بھاٸی میں مشی اور بچوں کو لے کر

سنی نے خوشی سے کہا

مشی اٹھیں جلدی

سنی سونے دو مجھے تمھارے بچے اور تم مجھے سونے نہیں دیتے ہو

مشال نیند میں ہی بڑبڑاٸی دوبارہ کمبل منہ تک تان کر سوگٸ

ابھی بتاتا ہوں میں اور میرے بچے سونے نہیں دیتے سنی خود کلامی کرتا

مشال کے اوپر سے کمبل کھینچ چکا تھا

اگلے ہی لمحے مشال کو اپنی سانسیں روکتی محسوس ہوٸیں تھیں

سنی مشال کے لبوں پر جھکا اس کی سانس روک چکا تھا

مشال نے مزاہمت شروع کردی اس کو سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی

سنی نے اس کے مزاہمت کرتے دونوں ہاتھ پکڑ لیے

کچھ دیر بعد اس کو مشال پر رحم آیا تو وہ پیچھے ہٹا

مشال لمبی سانسیں بھرتی اٹھ کر بیٹھ گٸ

اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھ کر اپنی سانس درست کرنے کی کوشش کررہی تھی

سنی مسکراتی نظروں سے مشال کو دیکھ رہا تھا

ظالم گھٹیا انسان ابھی میں مرجاتی دن بہ دن تمھاری محبت کی شدت بڑھتی جارہی ہے تم مجھے مار کر ہی دم لو گے

مشال غصے سے لال ہوتی سنی پر جھنپٹ پڑی ایک کے بعد ایک سنی کے سینے پر تھپڑ مارنے لگی

مشی میری جان میں آپ کی سانسیں تو روک سکتا ہوں لیکن ہمیشہ کے لیے بند نہیں کرسکتا

کیونکہ آپ میں میری جان بستی ہے

سنی مشال کو سینے سے لگاتا مخمور لہجے میں بولا تھا

آٸ لو یو سنی

آٸی لو یو ٹو میری زندگی

حیدر بھاٸی تو بتاٸیں کیسا لگ رہا ہے آپ کو دادا بننے کی عمر میں باپ بننا

واٹ سنی کے بچے روکو ابھی تمھیں بتاتا ہوں خود تو کم عمری میں شادی کرکے بیٹھ گیا اور مجھے بوڑھے ہونے کے طعنے مارتا رہتا ہے

سنی آگے تھا تو

حیدر اس کے پیچھے

عاصم نے سحر مشال سنی سے بھی معافی مانگ لی تھی انہوں نے بھی اس کو معاف کردیا تھا

ہمارے پیار کی نشانیاں کہاں ہیں مشی

سنی ابھی گھر آیا تھا لیکن گھر میں اس کے بچوں کا شور نہیں بللکہ خاموشی تھی

وہ سوگۓ تمھارا ویٹ کرتے کرتے اتنی دیر میں آۓ ہو تم

مشال نے منہ بناتے ہوۓ کہا

اچھی بات ہے سوگۓ اب ہمیں ان کے بہن بھاٸی کے بارے میں سوچنا چاہیے

سنی مشال کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے اپنے قریب کرگیا تھا

نہیں نہیں مجھے نیند آرہی ہے

مشال سنی کا اشارہ سمجھتی فوراً بھاگ لی

سنی بھی اس کے پیچھے بھاگا

دونوں کے قہقے پورے کمرے میں گونج رہے تھے ۔

محبت میں ڈوب کر تیری

اپنا آپ کھو بیٹھے ہیں

سب کچھ چھوڑ کر

صرف تیرے ہو بیٹھے ہیں