Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ladon Ka Pala Episode 9

Ladon Ka Pala by Misbah

مشال کمرے کا دروازہ کھولا دیکھ کر کمرے میں گھس گٸ لیکن دروازہ بند کرنے سے پہلےہی سنی بھی کمرے میں داخل ہوگیا

مشال نے دروازہ چھوڑ کر سنی سے بچنے کے لیے دوڑ لگادی

سنی نے کمرے کا دروازہ لاک کیا تاکہ مشال کمرے باہر نہ نکلے

پھر مشال کو پکڑنے کے ارادے سے آگے بڑھا

سنی نے لمبے لمبے قدم لیتے مشال کے کلاٸی تھام لی تھی

اگلے ہی لمحے وہ اس کو جھٹکا دے کر اپنے مقابل کھڑا کرچکا تھا

سنی کی ایسی جرأت پر مشال کی تو سانس ہی اٹک گٸ تھی

سہ سنی کیا کررہے ہو چھوڑو مجھے

مشال نے سنی کا دوسرا ہاتھ بھی اپنے بازوں پر محسوس کیا تو کسماتی ہوٸی

اس سے خود کو آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی

سنی تو پہلی بار مشال کو اتنے قریب سے دیکھ رہا تھا اس کا دل الگ ہی طرح دھڑک رہا تھا

مشال کی براٶن آنکھوں پر آج غور کیا تھا اسے وہ بہت خوبصورت لگیں

سنی محبت کے جذبے سے ناآشناتھا اسی لیے اپنے دل کی کیفیت نہ سمجھ سکا

شرمندہ ہوتا مشال کو چھوڑ کر یونیورسٹی کے لیے نکل گیا سنی نے ایک ہفتے پہلے ہی یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا اب وہ باقاٸدگی سے یونیورسٹی جاتا وہاں سے آکر تھوڑا آرام کرکے کیفے چلا جاتا سنی کی شادی کا معلوم ہوتے ہی سنی کے باس نے سنی کی تنخواہ دس ہزار سے پندہ ہزار کردی تھی سنی بہت خوش تھا اپنی زندگی سے

مشال شرمگی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی چادر اور پرس سنبھالتی کمرے سے نکل گٸ

ہوگیا تم دونوں کا بچپنہ ختم چلیں اب آفس

سحر تلملاتی ہوٸی مشال کے سر پر کھڑے ہوگٸ

چلو نہ یار اتنا غصہ کیوں کررہی ہو مشال نے سحر کو بازوں کے گھیرے میں لیتے ہوۓ لاڈ سے کہا

کیوں تنگ کرتی ہو تم میرے معصوم بھاٸی کو سحر نے خفگی سے کہا

ارے نند بیگم جب تک تمھارے بھاٸی کو تنگ نہ کرلوں نہ قسم سے سکون میسر ہی نہیں آتا

جس دن اس کو اپنے حق کا علم ہوگیا نہ نیندیں حرام کردے گا وہ تمھاری پھر سوچنا اس کو تنگ کرنے کی

سحر نے معنی خیزی سے کام لیا

کتنی بے شرم ہو تم سحر

مشال نے سحر کے کندھے پر دھموکا جڑتے ہوۓ کہا

چلیں آفس سحر ہنستے ہنستے گویا ہوٸی

ہاں چلو مشال منہ بسورتی بولی

دونوں ہنستی کھیلتی گھر سے نکل گٸیں

یار ایسا کیوں کر رہے ہیں باس اب وہ نیا باس آۓ گا سب پرانے ورکرز کو نکال دے گا پھر ہم دونوں کیا کرے گے مجھ میں تو ہمت نہیں اس حالت جاب تلاش کرنے کی

مشال کو جب سے معلوم ہوا تھا ان کے باس نے اپنی کمپنی کسی اور کو فروخت کردی ہے اور اگلے ہفتے سے ان کا نیا باس اپنے عہدے پر فاٸز ہو کر اپنے آفس کی ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر لے گا تب سے ہی مشال پریشان سی سحر کے کان کھا رہی تھی

مشال کے مقابلے میں سحر پرسکون تھی اس کو اپنی قابلیت پر اعتماد تھا اور مشال کی بھی لیکن مشال جلدی پریشان ہوجاتی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر

افففف چپ بھی ہوجاٶ مشال ایک ہفتہ ہے ابھی کچھ نہیں ہوگا سحر نے ادھر ادھر چکر لگاتی پریشان مشال کو پکڑ کر کرسی پر بٹھایا

یار اگر نۓ باس نے ہمیں نکال دیا تو ہم کیا کرے گے مشال کی پریشانی کسی طور کم نہیں ہورہی تھی

ارے تو کیا ہوا میں ڈھونڈ لوں گی نٸ جاب تم آرام کرنا گھر میں ایسی حالت میں تمھیں آرام ہی کرنا چاہیے سحر نے نرمی سے مشال کو سمجھایا

نہیں یار میں اکیلی گھر میں بور ہوجاٶں گی سنی بھی گھر پر نہیں ہوتا جو اسے پریشان کرکے دل بھیلا لوں

مشال نے منہ کے زاویے بگاڑتے ہوۓ کہا

مطلب میرا بھاٸی تمھارے لیے تفریح ہے جس کو تنگ کرکے تمھیں مزاہ آتا ہے

سحر نے لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ دھرے کہا

ہاں تو کتنا بھولا اور سیدھا ہے ذرا چلاکی نہیں اس میں کچھ دن پہلے یاد ہے نہ کیا ہوا تھا مشال نے سحر کو کچھ دن پہلے والا واقع یاد دلایا

چھٹی کا دن تھا سنی اپنے دوستوں کے ساتھ باہر نکلا ہوا تھا لیکن کچھ دیر میں ہی پھولا ہوا منہ لے کر گھر میں داخل ہوا

مشال سحر لاٶنج میں ہی ٹی وی دیکھ رہی تھیں سنی کو اس طرح آتا دیکھ کر ٹی وی پر سے توجہ ہٹا کر سنی پر مرکوز کردی

کیا ہے ؟ خود کو مسلسل گھورتیں مشال سحر کو سنی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا

تم تو دوستوں کے ساتھ گۓ تھے نہ اتنی جلدی کیسے واپس آگۓ ؟

پہلا سوال مشال نے پوچھا

اور یہ منہ کیوں پھولا ہوا ہے تمھارا ؟

دوسرا سوال سحر نے کیا اب وہ سنی کے جواب کی منتظر تھیں

آپی بھٸ پتہ نہیں میرے دوست مجھ سے کیا پوچھتے رہتے ہیں سمجھ نہیں آتا مجھے

کیا پوچھتے ہیں ایسا جو تمھیں سمجھ نہیں آتا

مشال کو تجسس ہوا

وہ کہتے ہیں گولڈن ناٸٹ میں کیا ہوا توں نے کیا تحفہ دیا بھابھی کو پسند آیا یا نہیں

وہ تجھ سے پیار تو کرتی ہے اور توں کرتا ہے

بھلا میں اپنی ذاتی زندگی کے مطالق خاص طور پر گھر کی لڑکیوں کی باتیں ان کو کیوں بتاٶں

تم نے کچھ بتایا تو نہیں اپنے دوستوں کو مشال کو پریشانی نے آگھیرا تھا

نہیں نہیں میں کیوں بتاٶں گا اپنے گھر کی باتیں کسی کو بھلے وہ میرے دوست ہی کیوں نہ ہو

سنی نے سمجھدار لڑکوں کی طرح جواب دیا

واہ اتنے بھی بچے نہیں ہو تم تھوڑے سے بڑے بھی ہو مشال نے سنی کا مذاق اڑاتے ہوۓ کہا

دیکھیں آپی مزاق اڑا رہی ہیں یہ میرا سنی نے خاموش بیٹھی سحر سے شکایت کی

مشال نہیں کرو میرے بھاٸی کو تنگ سحر نے مشال کو آنکھیں دیکھاٸیں

مشال مسکرادی

ہاں تو میرا بھاٸی سمجھدار کتنا ہے اس نے اس دن اپنے دوستوں کو کچھ بھی نہیں بتایا سحر نے اپنے بھاٸی کی سمجھداری پر غرورانہ انداز میں جوابدیا

یہ آپ دونوں کام کرنے آٸیں ہیں یا باتیں کرنے پاس سے گزرتے مینیجر نے ان کو ٹوکا تو دونوں خاموشی سے اپنے اپنے کام میں مصروف ہوگٸیں

سنی

ہمم

وہ میرا نہ پیزا کھانے کو دل کررہا ہے

تو میں کیا کروں سنی نے اپنا ہمیشہ بولنے والا ڈاٸیلاگ بولا

تو مجھے پیزا کھیلانے لے کر چلو

مشال نے بڑے مزے سے کہا جیسے سنی اس کو لے ہی جاۓ گا

سنی میرے پیارے بھا او سوری میرے پیارے شوہر نہیں ہو چلو نہ پلیز میں سحر کو بھی بولاتی ہوں

ہم ساتھ چلتے ہیں

مشال نے اپنا جملا درست کرتے ہوۓ سنی کو مکھن لگانا شروع کیا

مشال مجھے تنگ نہیں کریں میرا ٹیسٹ ہے کل پلیز پڑھنے دیں مجھے اور آپ خاموشی سے سوجاٸیں سنی نے بلکل شوہروں والے لہجے میں کہا

کھڑوس کہی کا کنجوس مجھے کہی بھی لے کر نہیں جاتا

مشال نے سنی کے کندھے پر مکا جڑا اور بڑبڑاتے ہوۓ منہ تک کمبل تان کر لیٹ گٸ

سنی پہلے تو حیران ہوا پھر مسکراتے ہوۓ اپنی بک پر جھک گیا

مشال کو لیٹے کچھ وقت ہی گزرا تھا مشال کمبل پھیکتی واشروم میں جاگھسی

سنی بھی پریشان ہوتا مشال کے پیچھے بھاگا

مشال آپ ٹھیک ہیں سنی نے واشروم کے باہر کھڑے ہوکر ہی پوچھا

لیکن مشال کا کوٸی جواب نہ آیا بس مشال کی درد بھری آوازیں آرہی تھیں

سنی بنا کچھ سوچے واشروم میں گھس گیا تھا

وہاں مشال واشبیسن پر جھکی قے پر قے کررہی تھی

مشی کیا ہوا آپ ٹھیک تو ہیں

سنی کے تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کیا کرے

آپ روکیں یہیں میں آپی کو بلا کر لاتا ہوں سنی پریشان سا آگے بڑھا ہی تھا مشال نے سنی کا ہاتھ تھام لیا

سنی چہ چکر آ آرہے ہیں مو مجھے مشال قے کر کر کے نڈھال ہوچکی تھی قے تو روک چکی تھی لیکن اس کو ہر چیز گھومتی ہوٸی نظر آرہی تھی

اچھا آٸیں آپ سنی نے جھیجکتے ہوۓ مشال کو اپنے حصار میں لیا اور آہستہ آہستہ اسے لے کر روم میں آگیا

مشال کا سارا وزن سنی پر تھا

سنی کی قربت میں مشال کو انجانا سا سکون ملا تھا جیسے سنی ہر مصیبت اس تک پہنجنے سے پہلے اسے بچالے گا

دوسری طرف سنی بھی سب کچھ بھلاۓ مشال کو خود سے لگاۓ بیڈ تک لے آیا تھا

آپ یہاں بیٹھیں میں آپی کو بلا کر لاتا ہوں

سنی مشال کو احتیاط سے بیڈ پر بیٹھاتا بولا

سنی رہنے دو وہ صبح کی اٹھی ہوتی ہے سوگٸ ہوگی مشال نے اپنا چکراتا سر تھامتے ہوۓ کہا

تو میں اب کیا کروں آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں

سنی میں ٹھیک ہوں ایسی حالت میں ایسا ہوجاتا ہے مشال نے بامشکل مسکرابتے ہوۓ جواب دیا

نہیں آپ جھوٹ بول رہی ہیں مشی آپ ٹھیک نہیں

ایک تو اتنی رات ہوگٸ کوٸی ڈاکٹر بھی نہیں ملے گا سنی نے بے چارگی سے کہا

سنی کو اپنے لیے پریشان ہوتا دیکھ مشال کو بہت خوشی ہورہی تھی وہ تو سمجھتی تھی سنی صرف اس سے لڑتا جھگڑتا رہتا ہے اس کو فکر ہی نہیں اس کی

سنی تم ایسا کرو مجھے کچھ کھانے کو لادوں مجھے اتنی الٹیاں ہوٸیں ہیں سب کھایا پیا نکل گیا اب بھوک لگ رہی ہے چکر بھی آرہے ہیں کچھ کھاٶں گی تو ٹھیک ہوجاٶں گی

مشال کو واقعی بہت بھوک لگ رہی تھی قے کی وجہ سے مشال کا سفید چہرا ذرد پڑھ گیا تھا

ٹھیک ہے میں نے پیزا آرڈر کردیا ہے کچھ دیر میں آجاۓ گا جب تک میں آپ کے لیے دودھ لے کر آتا ہوں سنی نے موباٸل رکھتے ہوۓ کہا اور روم سے باہر نکل گیا

چند ہی منٹوں بعد سنی دودھ لے کر حاضر ہوگیا تھا

یہ لیں دودھ پٸیں سنی نے دودھ کا گلاس مشال کی طرف بڑھایا تھا

مشال نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سنی کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس لے کر ہونٹوں سے لگا لیا

اب کیسا محسوس کررہی ہیں آپ

میں ٹھیک ہوں اب سنی

ویسے پیزا کھانے کے لیے اتنا بڑا ڈرامہ کیسے کر لیا آپ نے

سنی کی بات سن کر مشال کی آنکھیں اور منہ دونوں کھل گیا

ہاہاہاہا مشال کی حالت دیکھ کر سنی کا بے ساختہ قہقہ ہوا میں بلند ہوا تھا

سنی تم بہت برے ہو میری اتنی طبیعت خراب ہے تم ڈرامہ کہہ رہے ہو مشال نے روہانسی ہوکر کہا

آٸی ایم سوری مشی میں مزاق کررہا تھا میں جانتا ہوں سچ میں آپ کی طبیعت خراب ہے سنی ہنسی کو بریک لگاتا گویا ہوا

اتنے میں دروازے پر دستک ہوٸی

آگیا آپ کا پیزا سنی مسکراتا ہوا کہتا کمرے سے باہر نکل گیا

مشال بھی مسکرادی سنی چھوٹا ہی سہی لیکن مشال کے لیے ہر لحاظ سے بہتر ثابت ہورہا تھا

یہ لیں بھٸ آپ کا پیزا اب میں ٹیسٹ یاد کررہا ہوں آپ پیزا کھاٸیں خاموشی سے

سنی مشال کو پیزا تھماتا اپنی جگہ پر واپس بیٹھ گیا تھا

تم نہیں کھاٶ گے

نہیں اگر میں پیزا کھانے بیٹھ گیا تو ٹیسٹ یاد نہیں کرسکوں گا آپ کھالیں سنی مشال کو جواب دیتا اپنی کتاب پر جھک گیا

مشال نے ایک ٹکڑا تو خاموشی سے کھا لیا لیکن دوسرے ٹکڑے پر سنی یاد آگیا

وہ آہستہ سے سنی کی طرف کھسکی پیزا سنی کے چہرے کے قریب کر دیا

سنی نے ایک آٸی برو اٹھا کر مشال کو دیکھا

کھاٶ مشال نے مسکراتے ہوۓ اتنے پیار سے کہا کہ سنی کچھ بول ہی نہیں پایا اور بنا چوں چراں کے مشال کے ہاتھوں سے پیزا کھالیا تھا

اب حال یہ تھا مشال دو باٸیٹ خود لیتی تو ایک باٸیٹ سنی کو کھلاتی

اسی طرح ایک خوبصورت رات کا اختتام ہوا تھا

دوسرے دن سنی مشال کا چیک اپ کروا کر اسے گھر واپس چھوڑ گیا تھا

مشال کی طبیعت کی وجہ سے سحر نے بھی آفس سے جھٹی کرلی تھی

پورے دن سحر نے مشال کو بیڈ سے اٹھنے تک نہ دیا تھا

سنی تم آگۓ مشال خوشی سے چہکی

ہاں تو اس میں نٸ بات کیا ہے جو آپ اتنا خوش ہورہی ہیں روز آتا ہوں میں یونیورسٹی سے سنی نے بے نیازی سے کہا

ہاں تو تم جس وقت یونیورسٹی سے آتے ہو میں آفس میں ہوتی ہوں آج گھر میں ہوں اور خوش اس لیے ہوٸی ہوں تمھاری جو بہن ہے نہ اس نے صبح سے مجھے بستر پر پھینکا ہوا ہے کوٸی کام نہیں کرنے دے رہی میں بور ہورہی تھی اب تم آگۓ ہو تو تم مجھ سے باتیں کرو

مشال نے خوشی سے سنی کا ہاتھ تھام لیا تھا

مشال کی آنکھوں میں اپنے لیے خوشی کی چمک اور اس کا بچوں کا سا انداز دیکھ کر سنی اس کی براٶن آنکھوں سے نظریں ہٹانا ہی بھول گیا تھا

سنی کو ٹکٹکی باندھے خود کی دیکھتا پاکر مشال مسکراتے لبوں کے ساتھ اپنے پلکیں اٹھاتی جھبکاتی اور بھی پیاری لگ رہی تھی

آہم آہم سحر نے گلا کھنگگار کر ان دونوں کو ہوش دلایا

سنی نے ہوش میں آتے ہی اپنا ہاتھ مشال کی گرفت سے آزاد کیا

میں میں فریش ہوکر آتا ہوں سنی تو اپنی جان چھڑا کر نکل چکا تھا

یہ کیا ہورہا تھا سحر نے شرماتی ہوٸی مشال کو چھیڑا

کچھ بھی تو نہیں ہورہا تھا مشال نے شرماتے ہوۓ جواب دیا

ہاۓ میری دوست شرماتے ہوۓ کتنی پیاری لگ رہی ہے

سحر نے آگے بڑھ کر مشال کا جھکا سر ٹھوڈی سے پکڑ کر اوپرکیا

سحر بس کردو اب کتنا تنگ کرو گی مشال نے خفگی سے کہا

اچھا چلو کھانا کھا لو

دن اپنی رفتار سے گزر رہے تھے مشال اور سنی کو ایک دوسرے کی عادت ہونے لگی تھی دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے تو مکمل اور خوش نظر آتے

ایک ہفتہ گزر چکا تھا آج مشال سحر کے آفس میں نۓ باس کی آمد تھی

دونوں نے ہی صبح سے جلدی مچارکھی تھی سنی کو بھی اپنے آگے پیچھے بھاگا رہیں تھیں

افففف روکو میں تو فاٸل لینا بھول گٸ

سنی کو گھر کا تالا لگاتے ہوۓ دیکھ کر مشال کو فاٸل کی یاد آگٸ تھی

مشی آپ بھی نہ جاٸیں جلدی لے کر آٸیں

سنی نے جھنجلاتے ہوۓ کہا

مشال بھاگی بھاگی گھر میں داخل ہوٸی تھی لیکن جلدی جلدی میں صوفے سے ٹکرا گٸ تھی

مشی سحر چیخی تھی

مشییی

سنی بجلی کی تیزی سے بھاگا تھا مشال کا وجود زمین بوس ہونے سے پہلے ہی سنی نے اپنی مضبوط بانہوں میں سمالیا تھا

مشال کا پورا وجود خوف کے مارے لرز رہا تھا وہ سنی کی پناہوں میں سسکیاں لے رہی تھی

سنی متاعِ جان کی طرح مشال کو خود میں سموۓ ہوۓ تھا

مشال کچھ اس طرح ٹکراٸی تھی صوفے سے اگر وہ گرتی تو پیٹ کے بل گرتی اس کے بعد کیا ہوتا وہ سوچ کر ہی تینوں کے دل لرز اٹھے تھے

سحر بھی بھاگی بھاگی آٸی تھی اور مشال کی پشت سے جالگی تھی

مشی تم ٹھیک ہونا سحر نے گلوگیر لہجے میں پوچھا

ہممم مشال بس اتنا ہی کہہ سکی

سنی نے نرمی سے مشال کو خود سے دور کیا سحر بھی پیچھے ہٹ چکی تھی

آپ ٹھیک ہیں نہ سنی نے سنجیدگی سے پوچھا تھا

ٹھیک ہوں

اگر ٹھیک نہیں ہیں تو آپ آفس نہ جاٸیں چھٹی کرلیں آج کی

سنی ابھی بھی مطمٸعن نہیں ہوا تھا

نہیں میں ٹھیک ہوں سنی تم پریشان نہیں ہو

مشال نے ہلکا سا مسکاٸی تھی وہ خوش تھی اپنے شوہر کو اپنے لیے فکر مند ہوتا دیکھ

ٹھیک ہے چلیں میرے ساتھ آپی آپ فاٸل لے کر آجاٸیں ہم باہر ویٹ کررہے ہیں

سنی مشال کو اپنے حصار میں لیتا راہ داری کی طرف بڑھ گیا تھا

سحر اپنے معصوم بھاٸی کو ایک کیرٸینگ شوہر کے روپ میں دیکھتی مسکراتی ہوٸی فاٸل لینے چلی گٸ تھی

مشال سحر لاکھ کوشش کے باوجود آفس سے لیٹ ہوچکی تھیں ان کے نۓ باس نے ان کو طلب فرمایا تھا

میں آٸی کم ان سر سحر نے اندر آنے کی اجازت مانگی مگر کوٸی جواب موصول نہیں ہوا

سحر نے ہلکا سا دروازہ وا کرکے اندر جھانکا تو وہاں کوٸی موجود نہیں تھا

مشال یہاں تو کوٸی نہیں ہے اب کیا کریں سحر نے مشال کی طرف رخ کرتے ہوۓکہا

آپ دونوں اندر جاٸیں سر ایک میٹینگ میں بزی ہیں آتے ہی ہوں گے

اپنے باس کی سکیٹری کی بات سن کر دونوں منہ بناتیں روم کے اندر داخل ہوگٸیں

افففف کسی طرح جان بخشی نہیں ہونی ہماری مشال نے چڑ کر کہا

مشال کی بچی سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے نہ تم فاٸل بھولتیں نہ ہم دوبارہ گھر میں جاتے نہ وہ سب ہوتا سحر مشال پر چڑھ دوڑی تھی

اچھا میں نے کب دیر کی تمھارے بھاٸی کا دل نہیں چاہ رہا تھا مجھ سے دور ہونے کا اس میں میرا کیا قصور

مشال کو بولنے کے بعد احساس ہوا وہ کیا بول گٸ

اس نے چور سی نگاہ سحر پر ڈالی تو وہ پوری دل جمی سے معنی خیز نظروں سے مشال کو دیکھ رہی تھی

بھٸ اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو وہ وہ میری زبان سے نکل گیا مشال سرخ ہوتی گویا ہوٸی

ہاۓ ایسے شرماتے ہوۓ تو سچ میں میری بھابھی لگ رہی ہو سحر نے مشال کے دونوں گال کھینچتے ہوۓ کہا

سحر میں بچی نہیں ہوں مشال نے سحر کے ہاتھ جھٹکتے ہوۓ کہا

آپ دونوں کا ہوگیا ہو تو یہاں بھی نظرِ ثانی فرمالیں

مردانہ سرد آواز پر دونوں ہی بھونچکا کر رہ گٸیں

دونوں نے ڈرتے ڈرتے پیچھے دیکھا تو سامنے ایک خوش شکل جواں مرد گندمی رنگت کا حامل نیوی بلیو تھری پیس میں ملبوس سینے پر ہاتھ باندھے انھیں کو دیکھ رہا تھا

آپ کون یہاں نیو آٸیں ہیں کیا

وہ جو اپنے پیچھے باس کی موجودگی کا سوچ رہیں تھیں اٹھاٸیس انتیس کی عمر کا نوجوان دیکھ کر اسی سے سوال پوچھ ڈالا

حیرت ہے آپ اپنی کمپنی کے باس کے آفس میں کھڑے ہوکر اپنے باس سے ہی پوچھ رہی ہیں آپ کون

واٶ تالیاں ہونا چاہیے آپ کے لیے

شاہویز نے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجاۓ سحر اور مشال کا تمسخر اڑایا تھا

اپنے اتنے ینگ باس کو دیکھ کر دونوں کی آنکھیں باہر آنے کو تھیں

میرا معاٸنہ ہوگیا ہوتو اپنا تعارف کروانا پسند کریں گیں آپ دونوں

شاہ ویز نے خود کو تکتی لڑکیوں سے سنجیدگی سے استفسار کیا

سو سوری سر

آٸی ایم سحر ناصر

سب سے پہلے سحر کو ہوش آیا تھا

آٸی ایم مشال سفدر

مشال نے بھی اپنا تعارف کروایا

اور جو تعارف کروایا تھا اس پر سحر مشال کو گھور کر رہ گٸ

مشال شرمندہ سی سرجھکا گٸ

جب سے اس کی شادی ہوٸی تھی اس کو ضروت ہی نہیں پڑی تھی تعارف کروانے کی تو اسی لیے اس کی زبان سے سنی کے بجاۓ سفدر صاحب کا ہی نام نکل گیا جس پر وہ شرمندہ بھی ہوٸی

ٹھیک ہے سحر مشال آپ آفس آتی ہیں تو باتوں سےزیادہ کام پر فوکس کریں گیں تو بہتر ہوگا آپ دونوں کے لیے

اور ہاں وقت کی پابندی کے بہت سے فواٸد ہیں

تو اگر آپ دونوں وہ بھی کریں تو آپ دونوں ان فاٸدوں سے لطف اندوز ہوسکیں گیں

امید کرتا ہوں آپ کو میری باتیں سمجھ آگٸیں ہوگیں

شاہ ویز نے بنا غصہ کیے دونوں کو اپنی بات سمجھا دی تھی

وہ دونوں سر جھکاۓ شاہویز کی باتیں ذہن نشین کررہیں تھیں

سوری سر آٸندہ آپ کو شکایت کا موقع نہیں دیں گیں میں امید کرتی ہوں آپ کو ہمارا کام پسند آۓ گا

سحر نے پر اعتمادی سے جواب دے کر شاہ ویز کو خود کی طرف دیکھنے پر مجبور کردیا تھا

وہ جو موباٸل پر مصروف تھا

پراعتمادی سے کہے گۓ جملوں پر غور کرتا سامنے کھڑی سحر کو دیکھنے لگا

جس کے چہرے پر بلا کا اعتماد تھا

گڈ آٸی لاٸیک یوٸر کانفیڈینٹ مس سحر

(I like your confident miss seher)

شاہ ویز نے اس کی شہد رنگ آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا

تھینکیو سر کیا اب ہم جا سکتے ہیں

سحر اپنی تعریف پر شکریہ کرتی جانے کی اجازت طلب کررہی تھی

یا شور (yeah shure)

شاہ ویز نے مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ ان دونوں کو جانے کی اجازت دی تھی

وہ دونوں خاموشی سے وہاں سے نکل گٸیں تھیں

واٶ یار سحر سر کتنے ینگ ہے نہ آفس باس تو لگتے نہیں کہی سے

تم باس پر دھیان دینے سے اچھا ہے کام پر دھیان دو نہیں تو جاب سے ہاتھ دھو بیٹھو گی

شاہ ویز کے لیے مشال کی زبانی تعریفی کلمات سن کر سحر کو بلکل اچھا نہ لگا اسی لیے اس کو کام پر دھیان دینے کا کہا

یار میں تو ایسے ہی کہہ رہی تھی سر کتنے کم عمر ہیں ہمارے پہلے والے باس تو ہمارے ابّا لگتے تھے

مشال کی زبان کو ابھی بھی چین نہ آیا تھا

میرے بھاٸی کے سامنے کچھ نہیں ہیں سر

سحر نے مشال کو اس کے ایک عدد شوہر کی یاد دلاٸی

سنی کا تو کوٸی مقابلہ نہیں سر سے سنی تو نیلی آنکھوں والا معصوم شہزادہ ہے

سنی کا ذکر کرتے ہوۓ مشال کے لہجے میں محبت اور آنکھوں میں چمک تھی

ہاں یہ سچ تھا ان چار ماہ میں مشال کو ہوگٸ تھی محبت اپنے معصوم شوہر سے

ہممم شکر ہے یاد ہے تمھیں میرا بھاٸی مجھے تو لگا تھا سر کو دیکھ کر بھول گٸ ہو تم اس کو

سحر نے خفگی سے کہا

یہ کیسی باتیں کر رہی ہو تم میں سنی کو کیسے بھول سکتی ہوں وہ تو میرا انٹرٹینڈمینٹ کا سامان ہے

مشال نے مسکراتے ہوۓ کہا

تم گھر چلو دماغ ٹھیک کرواتی ہوں میں تمھارا سنی سے کہہ کر

سحر نے جل کر کہا

تم۔۔۔

آپ دونوں یہاں باتیں کرنے آتی ہیں یا کام کرنے

آج پھر مینیجر نے دونوں کو باتیں کرتے پکڑا تھا

سوسوری سر کام ہی کررہے تھے ہم سحر نے گڑبڑا کر کہا

ہممم کریں کام

کھڑوس کہی کا پتا نہیں کہا سے آجاتا ہے اس کی نظر ہر وقت ہم پر رہتی ہے

مشال کو مینیچر کی ڈانٹ کسی صورت ہضم نہیں ہورہی تھی

مشال چپ ہوجاٶ ابھی پھر آجاٸیں گے وہ خاموشی سے کام ختم کرو

مشال کی چلتی زبان کو سحر نے ہی چپ کروایا

پھر دونوں ہی کام میں مصروف ہوگٸیں تھیں

میں نہیں پہنوں گا یہ لڑکیوں والی شرٹ

سنی پہن لو پرپل رنگ کوٸی لڑکیوں والا رنگ نہیں ہوتا

میں نے کہہ دیا نہیں پہنوں گا اور میں شرٹ پہنتا ہوں آپ ٹی شرٹ اٹھا لاٸیں ہیں آپ سیدھی سیدھی گرے شرٹ نہیں لاسکتی تھیں جس کا آپ نے پوچا بنایا تھا

سنی کو اپنی گرے شرٹ کا غم اب تک تھا

تم دونوں پھر شروع ہوگۓ اب کیا مسلٸہ ہوگیا ہے سحر زیادہ دیر ان کی بحث برداشت نہیں کرپاٸی آخر کار کمرے سے نکل آٸی

سنی آگے تھا تو مشال ہاتھ میں شرٹ تھامے اس کے پیچھے تھی

آپی ان کو سمجھا لیں میں نہیں پہنوں گا یہ شرٹ سنی نے اب سحر کو بیچ میں گھسیٹا تھا

مشال میں نے تمھیں کہا بھی تھا سنی اس طرح کی شرٹ نہیں پہنتا پھر بھی تم لے آٸیں

سحر نے بھی سنی کا ہی ساتھ دیا

میں اتنے پیار سے لاٸی تھی تم دونوں بہن بھاٸی کو کبھی میری کوٸی چیز پسند نہیں آتی اب میں نہیں لاٶں گی کبھی کچھ

مشال رونے کا ڈرامہ کرتی صوفے پر جا بیٹھی تھی

سنی مشال نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر دونوں مشال کے داٸیں باٸیں جاکر بیٹھ گۓ

اچھا سوری مشال پلیز ایسے نہیں رو سحر نے پیار بھرے لہجے میں کہتے ہوۓ مشال کو اپنے ساتھ لگایا تھا

لاٸیں دیں میں پہن کر آتا ہوں شرٹ سنی نے نرمی سے کہتے ہوۓ شرٹ اٹھاٸی تھی اور کمرے میں چلا گیا تھا

میں چاۓ بنا کر لاتی ہوں ساتھ بیٹھ کر پٸیے گے مشال خوشی سے چہکتی کچن میں چلی گٸ

اے اوپر والے ان دونوں کو عقل دے ان دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت ڈال دے

آمین

سحر اپنی سہیلی اور بھاٸی کے لیے دعاگو تھی

آپی کیسا لگ رہا ہوں میں

سنی بلیک پینٹ کے ساتھ پرپل ٹی شرٹ میں ملبوس سحر کے سامنے کھڑا تھا

پرپل ٹی شرٹ میں سنی کا گورا رنگ واضح نظر آرہا تھا سنی کی وجاہت نکھر گٸ تھی

ہاۓ اللہ سنی تم کتنے پیارے لگ رہے ہو نظر نہ لگ جاۓ تمھیں میرا دل چاہ رہا ہے تمھیں کہیں چھپا دوں

مشال نے چہکتے ہوۓ چاۓ کی ٹرے ٹیبل پر رکھی

اور سنی کے سامنے کھڑی ہوگٸ

آپی آپ بتاٸیں یہ تو تعریف ہی کریں گٸیں ان کی لاٸی شرٹ جو پہنی ہے

سنی مشال کے سامنے سےنکل کر سحر کے سامنے کھڑا ہوا تھا

ماشاءاللہ میرا بھاٸی بہت بہت پیارا لگ رہا ہے

سحر نے محبت سے سنی کی بلاٸیں لیں تھیں

سنی تم سچ میں بہت ہنڈسم لگ رہے ہو

مشال دوبارہ سنی کے سامنے آکھڑی ہوٸی تھی

اس دفع تو اس نے تعریف کے ساتھ سنی کے دونوں رخسار بھی کھینچ ڈالے تھی

چھوڑے میرے چیکس (cheeks)

سنی نے مشال کے ہاتھ جھٹکے تھے

ہاۓ سنی تم اتنے پیارے لگ رہے ہو قسم سے دل چاہ رہا ہے تمھیں دیکھتی رہوں

مشال کا تو آج دل ہی بے ایمان ہورہا تھا سنی پر

اچھا بس اب چاۓ پی لو ٹھنڈی ہوجاۓ گی

سنی کو منہ کھولتا دیکھ سحر نے جلتی سے بات بدلی تھی نہیں تو ان لڑاٸی ہونے کے آثار نظر آرہے تھے

جی آپی مجھے کیفے بھی جانا ہے پھر

سنی نے مسکراتے ہوۓ کہا اور چاۓ کا کپ اٹھا کر صوفے پر بیٹھ گیا

کچھ دیر بعد سنی چاۓ پیکر کیفے کے لیے نکل گیا تھا

جب تک وہ گھر میں تھا مشال کی نظریں اسی کا ہی تواف کر رہیں تھیں اس کے جانے کے بعد مشال اداس ہوگٸ تھی وہ دل بھر کر سنی کو دیکھنا چاہتی تھی جو شاید کبھی نہ بھرتا وہ ہاتھ پکڑ کر اس کو روکنا چاہتی تھی لیکن ابھی اتنا حق ہی کہاں دیا تھا سنی نے اس کو

مشال تم ٹھیک ہو

مشال کا اترا چہرا دیکھ کر سحر کو تفتیش ہوٸی تھی

ہممممم میں ٹھیک ہوں مشال کے لہجے میں اداسی تھی

سنی کے جانے پر اداس ہو سحر نے نرمی سے مشال کا ہاتھ تھاما تھا

سحر مجھے نہیں معلوم میرے ساتھ کیا ہورہا ہے لیکن سنی کا ساتھ اچھا لگنے لگا ہے ان چار مہینوں میں مجھے سنی کی عادت ہوگٸ ہے امی کے گھر بھی جاتی ہوں تو دل نہیں لگتا میرا

بس سنی کی یاد ستاتی رہتی ہے لیکن میں امی ابو کی وجہ سے وہاں دو دن روک جاتی ہوں اکثر میری راتیں سوتے ہوۓ سنی کو دیکھ کر کٹتی ہیں

لیکن میں اتنی بد قسمت ہوں جس کو اپنے شوہر کا پیار بھی نصیب نہیں

مشال کے آنکھوں سے دو موتی نکل کر بےمول ہوۓ تھے

مشال ایسا نہیں سوچوں تم جانتی ہو نہ وہ ابھی چھوٹا ہے اسے ان باتوں کی سمجھ نہیں تم دیکھنا جب وہ میچور ہوجاۓ گا سب کچھ سمجھنے کے قابل ہوجاۓ گا تو تمھیں بہت چاہے گا بس تم وقت دو اس کو

سحر نے مشال کو حوصلہ دیا

ہممم میں جانتی ہوں جب وہ سمجھدار ہوگا تو وہ پہلی فرصت میرے جیسے ناپاک وجود کو اپنی زندگی سے نکال باہر کرے گا

مشال نے تلخ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر جواب دیا تھا

نہیں نہیں مشال میرا بھاٸی ایسا نہیں ہے میں نے اس کی تربیت ایسی نہیں کی ہے وہ کبھی بھی یہ گناہ نہیں کرے گا تم نا امید مت ہو سب ٹھیک ہوجاۓ گا تم پریشان نہیں ہو

سحر نے مشال کو خود سے لگایا تھا مشال بھی خاموشی سے آنکھیں بند کرگٸ تھی شاید اسے بھی سمجھ آگٸیں تھیں سحر کی باتیں

وہ کونسا دن ہوگا جب تم میرے اس ویران کمرے کو آباد کرو گی تمھاری کھنکتی آواز میرے اس کمرے میں گونجے گی وہ لمحہ کب آۓ گا جب میں تمھیں محسوس کرسکوں گا اپنی محبت میں تمھیں پور پور بھیگونا چاہتا ہوں

آہ کب آۓ گا وہ دن میری زندگی میں کب

حیدر تصور میں اپنی محبت سے محو گفتگو تھا

لیں پکڑیں

سنی گھر میں داخل ہوتے ہی سحر مشال کے سر پر آکھڑا ہوا تھا

وہ جو ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی سنی کی حرکت پر نظروں کا زاویہ ٹیبل پر کیا جہاں سنی نے ابھی کچھ پرچیاں رکھی تھیں

یہ سب کون ہیں ماہ رخ سدرہ حرا منیبا انجم فرح ایمن ہانی رانیا

اور کیا یہ نمبر ان لڑکیوں کے ہیں

مشال نے پرچیاں پڑھتے پڑھتے سنی سے سوال کیا

جی بلکل یہ ساری لڑکیاں کیفے میں کھانا کھانے آٸیں تھیں بل کے ساتھ نمبر بھی دے کر گٸیں ہیں مجھے اپنا

سنی کا چہرا غصے سے سرخ ہوگیا تھا

ہاہاہاہاہا سحر اور مشال ہنسی سے لوٹ پوٹ ہورہیں تھیں

آپ لوگوں کو ہنسی آرہی ہے مجھے غصہ آرہا ہے آج کل کی لڑکیوں کو ہوکیا گیا ہے ایک انجان لڑکے کو اپنا نمبر تھما گٸیں شرم نام کی تو کوٸی چیز ہی نہیں ان لڑکیوں میں

سنی غصے سے لفظ چبا چبا کر کہتا

سحر مشال کی ہنسی کو بریک لگوا چکا تھا

اچھا چھوڑو غصہ نہیں کرو جاٶ فریش ہوکر آٶ ہم کھانا لگا رہے ہیں

سحر نے سنی کے چہرے پر پیار سے ہاتھ دھر کر کہا

اوکے آپی

سنی پیر پٹختا اپنے کمرے میں گھس گیا

مشال اب ہنسنا بند کرو چلو اٹھو کھانا لگاتے ہیں سنی کے جانے کے بعد مشال کے قہقے دوبارہ شروع ہوگۓ تھے

ہنستے کھیلتے یوں ہی دن گزر رے تھے شاہ ویز کے دل میں سحر کے لیے جذبات تبدیل ہورہے تھے وہ سحر کے کام سے خوش تھا وہ ہر کام وقت سے پہلے کرتی تھی کبھی کوٸی بہانا نہیں بناتی تھی کبھی ہار نہیں مانتی تھی شاہ ویز کے دل میں بھورے بالوں شہد رنگ آنکھوں والی سحر بہت خاص بنتی جارہی تھی

سنی مشال بھی لڑتے جھگڑتے ہی سہی ایک دوسرے کے قریب آتے جارے تھے

اختری بوا یہ کیا ہوا

سحر آفس کے کچن میں اختری بوا کو کافی کا کہنے آٸی تھی لیکن ان کا جلا ہاتھ دیکھ کر پریشان ہوگٸ

بٹیا بس کچھ نہیں جل گیا ہاتھ گرم پانی گر گیا ہاتھ پر

اختری بوا نے سادگی سےجواب دیا

بوا آپ چھوڑیں یہ سب میں بنا لوں گی کافی سحر بوا کے ہاتھ سے دیگچی لے کر خود کافی بنانے کھڑی ہوگٸ

آۓ بٹیا نہیں نہیں تم رہنے دو مجھے صاحب کے لیے بھی بنانی ہے کافی

بوا نے آگے بڑھ کر سحر کو ہٹانا چاہا

بوا بٹیا بھی کہتی ہیں اور بٹیا کو مدد بھی نہیں کرنے دیں رہیں آپ خاموشی سے یہاں بیٹھ جاٸیں میں سر اور اپنے لیے خود کافی بنا لوں گیں آپ دے کر آجاٸیے گا سر کو

سحر نے بوا کو پکڑ کر کچن میں موجود ایک اسٹول پر بیٹھا دیا تھا

لیکن بٹیا ۔۔۔۔

بوا آگے کچھ بولتی سحر کی گھوری سے خاموش ہو کر بیٹھ گٸیں

کچھ دیر بعد بوا سحر کو دعاٸیں دیتیں شاہ ویز کے لیے چاۓ لے گٸیں تھیں

یہ کافی کس نے بناٸی ہے

شاہ ویز نے کافی کا ایک سپ لے کر دوبارہ کپ ٹیبل پر رکھا تھا اب وہ سامنے کھڑی بوا سے مخاطب تھا

صاحب ٹھیک نہیں بنی کیا کافی لاٸیں میں دوبارہ بنا لاتی ہوں

بوا نے ڈرتے ڈرتے کہا

میں نے آپ سے پوچھا ہے کافی کس نے بناٸی

شاہ ویز نے اس دفع سختی سے کام لیا تھا

صاحب وہ میرا ہاتھ جل گیا ہے تو سحر میڈم کو کافی پینی تھی تو انھوں نے ہی آپ کے لیے اور خود لیے کافی بناٸی تھی میں نے منا بھی کیا تھا لیکن وہ مانی نہیں

بوا ساری بات شاہ ویز کو بتا کر خاموش ہو چکی تھیں

شاہ ویز کے لب مسکراۓ تھے

ہممم ٹھیک ہے بوا آپ چھٹی کریں جب آپ کا ہاتھ ٹھیک ہوجاۓ تب آپ کام پر آنا شروع کریں تب تک آپ آرام کریں اور سحر کو میرے روم میں بھجیں ذرا

صاحب میڈم نے تو میری مدد کرنی چاہی تھی ان کو کچھ مت کہیں

بوا نے اپنی طرف سے سحر کو بچانے کی کوشش کی تھی

آپ بے فکر ہو کر گھر جاٸیں کچھ نہیں کہہ رہا میں سحر کو مجھے ان سے کام ہے آپ انھیں بھیج دیں

ٹھیک ہے صاحب میں بھیجتی ہوں

بوا مسکراتی ہوٸی شاہ ویز کے روم سے باہر نکل گٸیں

میں آٸی کم ان سر

(May i come in sir)

سحر شاہویز کے روم کے باہر کھڑی اجازت مانگ رہی تھی

یس کم ان (yes come in )

شاہ ویز کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی

پلیز سیٹ

(please sit )

شاہ ویز نے سحر کو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا

سحر خاموشی سے بیٹھ گٸ تھی اب وہ شاہ ویز کے اگلے حکم کی منتظر تھی

یہ کافی آپ نے بناٸی تھی

شاہ ویز نے کافی کے خالی کپ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا

جی سر میں نے ہی بناٸی تھی اختری بوا کا ہاتھ جل گیا تھا تو میں نے خود بنالی کافی

سحر نے ہمیشہ کی طرح پر اعتمادی کا مظاہرہ کیا

کیا آپ میرے لیے روز ایسی کافی بنا دیا کریں گیں

شاہ ویز کو کافی بہت پسند آٸی تھی وہ ہمیشہ سے کافی کا شیداٸی تھا سحر کی ہاتھ کی کافی پی کر دل نے ہر روز ایسی ہی کافی پینے کی خواہش کی تھی وہ اپنی خواہش کے آگے مجبور ہوکر سحر سے کافی بنانے کا کہہ گیا تھا

آٸی ایم سوری سر

یہ میرے کام میں شامل نہیں تو میں نہیں کر سکتی میں یہاں کی ورکر ہوں نہ کہ آپ کی پرسنل سکیٹری

سحر کو شاہ ویز کی مسکراتی آنکھوں سے الجھن ہورہی تھی اوپر سے کافی بنانے کی خواہش

سحر کو بہت کچھ سمجھا گٸ تھی اس نے اپنے لہجے کو حد درجے نرم رکھنے کی کوشش کرتے ہوۓ جواب دیا تھا

آپ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں یہ آپ کا کام نہیں میں معزرت چاہتا ہوں اگر آپ کو میرا بات بری لگی ہو تو

شاہ ویز سحر کی آنکھوں میں ناگواری اور چہرے پر حد درجے سنجیدگی کو بھانپ گیا

تب ہی موقع پر ہی معزرت کرنا بہتر سمجھا اس نے

کوٸی بات نہیں کیا اب میں جاسکتی ہوں

شاہ ویز کی معزرت پر سحر کے چہرے پر ذرا نرمی کے آثار نمایا ہوۓ تھے

جی ضرور آپ جا سکتی ہیں

شاہ ویز نے مسکراتے ہوۓ اجازت دی تھی

اوکے سر

سحر اس کی بولتی آنکھوں کو دیکھ کر مسکرا بھی نہ سکی

کیا ہوا سر کیا کہہ رہے تھے

سحر کو دیکھتے ہی مشال نے سوال کر ڈالا تھا

کچھ نہیں بس کام سے بلایا تھا

سحر نے فاٸل یہاں وہاں کرتے ہوۓ جواب دیا

اوہ تو اب تم مجھ سے باتیں چھپاٶ گی

مشال نے خفگی سے سحر کے چلتے ہاتھ پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا

اففف مشی یار کوٸی چھپانے والی بات نہیں میں نے تمھیں بتایا تھا نہ بوا کا ہاتھ جل گیا تھا تو کافی میں نے بنا دی تھی سر کے لیے تو وہ کافی سر کو پسند آٸی وہ چاہ رہے تھے ان کے لیے روز کافی میں بناٶں بس اتنی سی بات تھی

تو تم نے کیا جواب دیا سر کو

میں نے کہہ دیا یہ میرا کام نہیں میں یہاں کی ورکر ہوں آپ کی پرسنل سیکٹری نہیں

سحر نے مشال کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ چھڑواتے ہوۓ لاپرواٸی سے کہا

یہ کیا کر آٸیں تم سر نے جاب سے نکال دیا تو

مشال کی آنکھیں اور منہ دونوں ہی کھل گۓ تھے

نہیں نکالیں گے تم بے فکر ہوجاٶ اور کام کرو وہ کھڑوس مینیجر آرہا ہے

سحر نے شہادت کی انگلی مشال کی ٹھوڈی پر رکھ کر اس کا منہ بند کرتے ہوۓ سامنے سے آتے مینیچر کو دیکھتے ہوۓ مشال کو خبردار کیا تھا

مینیجر کو دیکھ کر مشال جلدی سے کرسی پر بیٹھی تھی

سحر نے بھی اپنی جگہ سنبھالی تھی

دونوں ہی اپنے کام میں مصروف ہوگٸیں تھیں

آپ کب واپس آٸیں گیں

مشال اپنے میکے جانے کے لیے تیار ہورہی تھی

سنی کیفے جاتے ہوۓ اسے چھوڑتا ہوا جاتا

میں دو تین دن میں لوٹ آٶں گیں

مشال نے بالوں کو سنوارتے ہوۓ جواب دیا

ہممم ٹھیک ہے

سنی اپنی کیفیت خود نہیں سمجھ پارہا تھا مشال کے جانے پر وہ اداس ہورہا تھا

چلو میں تیار ہوں

مشال نے فروزی رنگ کی پیروں کو چھوتی فراک زیب تن کی تھی کھلے بال ہونٹوں پر گلابی لیپسٹک آنکھوں میں آٸی لینر سنی کو وہ اس وقت دنیا کی سب زیادہ خوبصورت لڑکی لگی تھی لیکن تعریف کرنے سے اب بھی وہ قاصر تھا

سنی چلو نہ کہاں کھو گۓ ہو

مشال نے سنی کا کندھا ہلا کر سنی کو ہوش دلایا تھا

چلیں سنی نے دروازے کی طرف قدم بڑھاتے ہوۓ کہا

مشال بھی بیڈ پر رکھی چادر ادب سے اپنے سر پر سجاتی کمرے سے باہر نکل گٸ

سحر سے مل کر وہ باٸیک پر بیٹھ گٸ تھی

مشال کے بیٹھتے ہی سنی باٸیک اسٹارت کرتا مشال کے گھر کے راستے پر چل پڑا تھا

کچھ ہی دیر میں سنی نے مشال کے گھر کے سامنے باٸیک روکی تھی

تم اندر نہیں آٶ گے سنی مشال خود باٸیک سے اتر گٸ تھی سنی کو باٸیک پر بیٹھے دیکھ مشال نے استفسار کیا تھا

نہیں میں لیٹ ہوجاٶں گا آپ جاٸیں اندر اپنا خیال رکھیے گا

سنی نے مسکراتے ہوۓ کہا

ٹھیک ہے تم بھی اپنا خیال رکھنا

مشال مسکراتے ہوۓ کہتی گھر کے داخلی دروازے کی طرف بڑھ گٸ تھی

سنی کی نظریں اس پر سے ایک منٹ کو بھی نہیں ہٹی تھیں سنی کو ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس کی کوٸی قیمتی چیز اس سے دور جارہی ہو

مشال نے دروازے پر پہنچ کر پیچھے مڑ کر سنی کو ہاتھ ہلا کر باۓ کیا

سنی نے بھی اسی کے انداز میں باۓ کیا

اور باٸیک اسٹارٹ کرکے نکل گیا

مشال گھر میں سب سے خوشی خوشی ملی تھی لیکن سنی کا اداس چہرا بار بار اس کی نظروں کے سامنے آرہا تھا اس کے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیوں اداس تھا

سنی رات کو گھر میں داخل ہوا تو آج مشال کا مسکراتا ہوا چہرا اس کے سامنے نہیں تھا وہ مزید اداس ہوگیا صوفے پر نظر پڑی تو سحر سورہی تھی جو شاید وہاں بیٹھ کر اس کا انتظار کررہی تھی

آپی آپی اٹھیں

سنی سحر کا کندھا تھپکتا اٹھانے کی کوشش کررہا تھا

ہممم سنی تم آگۓ تم فریش ہوجاٶ میں کھانا لارہی ہوں ساتھ بیٹھ کر کھاٸیں گے

سحر نے دوپٹہ شانوں پر پھیلاتے ہوۓ کہا

آپی آپ تو کھانا کھالیتیں میری وجہ سے بھوکی رہیں

سنی کو دکھ ہوا تھا اس کی وجہ سے سحر بھوکی رہی

آج وہ کافی لیٹ ہوگیا تھا آج حساب کا دن تھا تو اس کو وہی دیر ہوگٸ تھی

مشال بھی نہیں تھی اکیلے کھانے کا دل نہیں چاہ رہا تھا بس اسے لیے نہیں کھایا اب تم باتیں کانا بند کرو فریش ہوجاٶ جاکر

سحر نے صوفے سے اٹھتے ہوۓ کہا

اوکے آپی سنی خاموشی سے کمرے میں چلا گیا

کیا مسلٸہ ہے نیند کیوں نہیں آرہی مشی کیا کیا ہے آپ نے میرے ساتھ کیوں مجھے آپ کی اتنی عادت ہوتی جارہی ہے

سنی کب سے کروٹیں بدل رہا تھا لیکن نیند تھی جو آنے کو تیار نہ تھی

آخر میں تھک ہار کر سنی اٹھ بیٹھا تھا اب وہ جھنجلایا ہوا سا روم سے باہر نکل گیا تھا پہلے تو اس نے مشال کو کال کرنے کا سوچا تھا لیکن مشال کی نیند خراب ہونے کے خیال سے ارادہ ترک کردیا تھا

وہ کمرے سے نکل کر لاٶنج میں آکر ٹی وی اون کرکے بیٹھ گیا تھا

رات کے تین بجے سحر کی آنکھ پیاس کی شدت سے کھلی تھی سحر پانی پینے کمرے سے باہر نکلی تو لاٶنج میں سنی کو ٹی وی دیکھتا پا کر حیران رہ گٸ

سنی جان کیا کررہے ہو اتنی رات میں یہاں سوۓ کیوں نہیں ابھی تک طبیعت تو ٹھیک ہے نہ تمھاری

سحر کو سنی فکر نے آگھیرا تھا

آپی میں بلکل ٹھیک ہوں آپ پریشان نہیں ہو

بس نیند نہیں آرہی تھی تو ٹیوی دیکھنے بیٹھ گیا

سنی نے اپنی بہن کی فکر میں ختم کرنے کی کوشش کی

کیوں نہیں آرہی نیند سحر بھی صوفے پر بیٹھ گٸ تھی

پتہ نہیں آپی سنی سحر کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تھا

مشال کی یاد آرہی ہے

سحر نے سنی کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ پوچھا

نہیں آپی ایسا تو کچھ نہیں ہے سنی گڑبڑا کر جواب دیا

میرا بھاٸی مجھ سے جھوٹ بھی بولنے لگا ہے

سحر نے مسکراتے ہوۓ سنی کی نیلی آنکھوں میں دیکھا تھا

جی آپی میں مس کر رہا ہوں ان کو

سنی نے ہار مان لی تھی

تو لے آٶ جاکر اس کو

نہیں آپی ان کو برا لگے گا نہ وہ یہی تو رہتی ہیں مہینے میں دو بار تو جاتی ہیں وہ بھی دو دن کے لیے اچھا نہیں لگے گا ایسے ان لینے جانا

تم جاٶ گے تو وہ خوش ہوگی میری جان اس کا خود کا دل نہیں لگتا جب ہی دو دن گزرتے ہی تیسرے دن تمھیں کال کردیتی ہے لیکن اس دفع تم خود لینے جاٶ گے تو اس کو اچھا لگے گا

سحر کو اچھی طرح معلوم تھا مشال کے دل کا حال یہی وجہ تھی کہ وہ سنی کو جانے پر مجبور کررہی تھی

ٹھیک ہے آپی کل میں کیفے سے جلدی واپس آجاٶں گا پھر ان کو لینے چلا جاٶں گا

سنی نے خوش ہوتے ہوۓ کہا

ٹھیک اب جاکر سو صبح یونیورسٹی بھی جانا ہے نہ

جی آپی آپ بھی سوجاٸیں جاکر

سنی مسکراتا ہوا اٹھ بیٹھا تھا

اوکے گڈ ناٸیٹ

گڈ ناٸیٹ آپی دونوں ہی اپنے کمرے میں چل گۓ تھے اب کہی جا کر سنی کو سکون میسر آیا تھا

دوسرے دن سنی کیفے سے جلدی لوٹ آیا تھا سحر کو بتا کر مشال کے گھر کے لیے نکل گیا تھا

مشال اپنی والدہ کے ساتھ مل کر کھانا لگا رہی تھی تب ہی دروازے پر دستک ہوٸی

صوفے پر بیٹھے حیدر نے اٹھ کر دروازہ کھولا لیکن سامنے سنی کو کھڑا دیکھ کر حیدر کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے

اَلسَلامُ عَلَيْكُم حیدر بھاٸی

سنی نے مسکراتے ہوۓ سلام کیا

وَعَلَيْكُم السَّلَام حیدر بے روخی سے جواب دیتا ایک ساٸیڈ ہوگیا تھا

سنی گھبراتے ہوۓ گھر میں داخل ہوا تھا

آج حیدرکے تیور سنی کو بلکل اچھے معلوم نہیں ہورہے تھے

اَلسَلامُ عَلَيْكُم سنی نے گھر میں داخل ہوتے ہی سب کو ادب سے سلام کیا تھا

سفدر صاحب نگحت بیگم سنی کو دیکھ کر خوش ہوۓ تھے

مشال بے یقینی سے سنی کو دیکھتی رہ گٸ تھی اس کو بلکل امید نہیں تھی کہ سنی اس کے بنا بلاۓ چلا آۓ گا

بیٹا بڑے سہی وقت پر آۓ ہو ہم کھانا لگا رہے ہیں تم بھی ساتھ کھالینا

نگحت بیگم تو اپنے خوبرو داماد کو دیکھ کر ہی خوشی سے نہال ہوگٸیں تھیں

نہیں نہیں آنٹی میں تو بس مشی کو لینے آیا تھا

سنی نے اپنے آنے کی وجہ بتاٸی تھی

سنی تم مجھے لینے آۓ ہو

مشال چہکتی ہوٸی سنی کے سامنے آکھڑی ہوٸی تھی

جی آپ چلیں گی میرے ساتھ

سنی نے مسکراتے ہوۓ مشال کی مرضی جاننی چاہی تھی

تم نے سمجھ کیا رکھا ہے میری بہن کو جب بھی وہ رہنے آتی ہے تم اس دو دن میں ہی لینے چلے آتے ہو وہ اپنے باپ کے گھر آتی ہے کسی گیر کے تو نہیں

حیدر یہ سب سوچ ہی سکا اپنی بہن کے چہرے پر دمکتی خوشی دیکھ کر وہ خاموش رہا

ہممم چلوں گی اگر تم مجھے باہر کھانا کھلاٶ گے تو

مشال نے موقعے سے فاٸدہ اٹھانا ضروری سمجھا

مشال کتنی بری بات ہے ایک تو وہ تمھیں لینے آیا ہے تم اس کے آگے شرطے رکھ رہی ہو

نگحت بیگم کو اپنی بے وقوف بیٹی پر غصہ آگیا تھا

آنٹی کوٸی بات نہیں مجھے منظور ہے ان کی شرط

سنی کے دل کو قرار آگیا تھا مشال کا کھلتا چہرا دیکھ کر

تو ٹھیک ہے میں ابھی روم سے چادر اور پرس لے کر آتی ہوں

مشال خوشی سے چہکتی ہوٸی کمرے میں بھاگی تھی

کچھ دیر بعد ہی دونوں سب سے ملتے گھر سے نکل گۓ تھے

سنی نے مشال کو اچھا سا ڈینر کروایا تھا اس کے بعد مشال کی فرماٸش پر اسے آٸسکریم کھلاتا گھر لے گیا تھا

سحر کھانا کھا کر سوچکی تھی اسی لیے اس کی آٸسکریم فریج میں رکھ کر دونوں اپنے میں چلے گۓ تھے

آج دونوں ہی ایک دوسرے کی موجودگی میں سکون سے سوۓ تھے بنا نیند آنے کا انتظار کیے

محبوب کے آغوش میں

نیند کی دیوی خود

ہی مہربان ہوجاتی ہے