Ladon Ka Pala by Misbah NovelR504184 Ladon Ka Pala Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Ladon Ka Pala Episode 5
Ladon Ka Pala by Misbah
مشال آج گھر سے آفس کے لیے تو نکلی لیکن آفس نہیں پہنچی سحر کو اس نے کال کرکے کہہ دیا تھا آج اس کی
طبیعت ٹھیک نہیں وہ نہیں جاۓ گی… سحر اس کو آرام کرنے کی ہدایت دے کر اکیلے ہی آفس چلی گٸ تھی …
مشال نے عاصم کے بارے میں سحر کو بھی نہیں بتایا تھا لڑکوں کے معاملوں میں سحر بہت الرجک تھی وہ ان معاملوں سے دور ہی رہتی تھی اگر مشال اسے کچھ بتاتی تو وہ عاصم کا اس سے پیچھا چھڑا کر ہی دم لیتی مشال کو اب عاصم سے دور رہنا جان جانے کے مترادف لگتا تھا….
عاصم آفس سے کچھ دور کھڑا مشال کا انتظار کررہا تھا مشال کے آتے ہی جلدی سے کار کی فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا مشال آس پاس کا معاٸنہ کرتی جلدی سے کار میں بیٹھ گٸ …
ویسے میڈم آج آپ ہمارا دل بے ایمان کررہی ہیں بہت پیاری لک رہی ہیں… عاصم نے مشال کا اوپر سے نیچے تک جاٸزاہ لیتے ہوۓ کہا …
مشال سرخ رنگ کی فراک کے ساتھ سرخ رنگ کا پاجامہ زیب تن کیے تھی نرم ملاٸم سفید پیروں میں سیاہ رنگ کی سینڈل پہنے تھے اس نے خود کو کالی چادر سے چھپایا ہوا تھا جو وہ ہمیشہ گھر سے باہر نکلتے ہوۓ پہنتی تھی….
کہاں جارہے ہیں ہم… عاصم کو کار اسٹاڑٹ کرتے دیکھ مشال نے سوال کیا
ہم لانگ ڈراٸیو پر جارہے ہیں تمھیں ڈر تھا نہ ہمیں کوٸ دیکھ نہ لے اس لیے ہم لونگ ڈراٸیو پر جارہے ہیں تاکہ ہمیں کوٸ دیکھے نہیں… خاص طور پر میری خوبصورت سی جان کو جس کو دیکھنے کا حق مجھے ہے اور کسی کو نہیں… عاصم نے مشال کو شیشے میں اتارنا شروع کیا اور وہ اتر بھی گٸ …
آپ بہت اچھے ہیں… مشال نے شرماتے ہوۓ جواب دیا اور پھر مشال کی بربادی کا سفر شروع ہوگیا
عاصم ایک گھنٹے سے مسلسل گاڑی چلا رہا تھا ساتھ ساتھ مشال سے باتیں بھی کررہا تھا …
عاصم نے ایک سنسان جگہ گاڑی روکی پھر مشال کی طرف دیکھا …
کیا ہوا آپ نے گاڑی یہاں کیوں روکی… مشال نے گھبراہٹ چھپاتے ہوۓ پوچھا …
یہاں تمھارے لیے ایک سرپراٸز پلین کیا ہے میں نے چلو میرے ساتھ …عاصم نے وہی میٹھا لہجہ اپنایا …
یہاں ویرانے میں کیسا سرپراٸز.. مشال نے حیرت سے کہا ..
ارے میری جان میں نے کہا تو تھا تمھیں دیکھنے کا حق صرف مجھے ہے اس لیے اس ویرانے میں سرپراٸز رکھا تاکہ میرے سرپراٸز کو دیکھ کر تمھارے چہرے پر آنے والی خوبصورت مسکراہٹ صرف میں دیکھوں… عاصم نے شیریں بھرے لہجے میں جواب دیا …
ٹھیک ہے چلیں.. مشال نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا …
وہ مشال کو وہاں سنسان علاقے میں بنے ایک گھر میں لے گیا جو اس کے دوست کا تھا وہ اپنے غلط کاموں کے لیے اکثر یہ گھر استعمال کرتا تھا جس میں اس کا دوست بھی پیش پیش رہتا تھا…
یہ کس کا گھر ہے… مشال نے پورے گھر پر نظر گھماتے ہوۓ پوچھا …
میرا ہے ہمیں یہاں کوٸ ڈسٹرب نہیں کرے گا… کہتے کے ساتھ ہی عاصم نے مشال کی کمر میں بازوں حماٸل کردیا
یہ کیا کررہے ہیں آپ.. دور رہیں مجھ سے.. مشال ایک جھٹکے سے دور ہوٸ …
ارے میری جان اب دور رہنے کی باتیں نہیں کرو
اب یہ دوری سحی نہیں جاتی ..عاصم نے خباثت سے جواب دیا …
یہ کیسی باتیں کررہے ہیں آپ.. مجھے نہیں رہنا یہاں.. مجھے گھر جانا ہے… مشال کی آنکھوں میں آنسوں بھر آۓ تھے …
نہیں نہیں میری جان اب تم تب تک یہاں سے نہیں جاسکتی جب تک میری پیاس نہیں بجھا دیتی… عاصم خباثت سے کہتا مشال کی طرف بڑھا..
نہیں نہیں عاصم آپ ایسا نہیں کرسکتے ..آپ تو محبت کرتے ہیں نہ مجھ سے.. پلیززز ہاتھ جوڑتی ہوں میں آپ کے
آگے.. مجھے جانے دیں… مشال نے روتے روتے باقاٸدہ ہاتھ جوڑ دیے ..
عاصم پر کوٸ اثر نہیں ہوا ..
ارے کونسی محبت ہاہاہاہاہا مجھے تو تم سے ہمدردی بھی نہیں ہے.. ہاں مجھے تمہارے اس خوبصورت سراپے سے ضرور محبت ہے جب ہی تو تمھیں یہاں لایا تاکہ اپنی محبت دل کھول دیکھا سکوں میں تمھیں ..
پلیز مجھے جانے دو عاصم پلیز میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے میں برباد ہوجاٶں گی.. میری گھر والے کسی کو منہ دیکھانے لاٸق نہیں رہے گے… مشال اس انسان نما حیوان کے سامنے گڑگڑارہی تھی لیکن اس حیوان پر مشال کی منتوں کا کوٸ اثر نہیں ہورہا تھا…
تمھیں اپنے گھر والوں کی اتنی فکر ہوتی نہ کبھی میرے ساتھ نہ آتی.. ارے تم جیسی لڑکیوں کو یہ ہی انجام ہوتا ہے جو اپنے گھر والوں کو دھوکا دے کر یاربازیاں کرنے نکل جاتی ہیں…
عاصم کے الفاظ سے مشال کا دل کرچی کرچی ہوا تھا
میں نے تو محبت کی تھی تم سے.. دھوکا تم نے دیا ہے مجھے. گھٹیا انسان… مشال نے نفرت پھنکاری…
ہاہاہاہا اچھا چلو بہت باتیں ہوگٸیں باتیں کرنے نہیں لایا میں تمھیں… عاصم نے مشال کی کلاٸی اپنی گرفت میں لی اور مشال کو گھسیٹتے ہوۓ کمرے کی طرف لے جانے لگا …
نہیں چھوڑو مجھے گھر جانا ہے چھوڑو مجھے جانا ہے درندے جانور چھوڑو مجھے گھٹیا انسان… مشال اپنی کلاٸ چھڑوانے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی لیکن عاصم بھیرا بنا اسے کھسیٹتا ہوا کمرے میں لے گیا اور ایک جھٹکے سے چھوڑا مڑ کر دروازہ لاک کیا…
پھر مشال کی طرف قدم بڑھاۓ …
نہیں نہیں دور رہو مجھ سے دور رہو مجھے ہاتھ مت لگانا… مشال روتے روتے پیچھے ہوتے ہوتے دیوار سے جالگی …
عاصم نے مشال کی چادر کھینچی اور اجھال کر دور پھینک دی …
نہیں… نہیں… مشال اب باآواز بلند رورہی تھی …
بچاٶ.. بچاؤ.. حیدر بھاٸ.. بابا.. پلیز اپنی گڑیا کو لے جاٸیں… پلیز آجاٸیں… مشال زور زور سے چیخ کر اپنوں کو مدد کے لیے پکار رہی تھی لیکن وہاں کوٸ اس کی مدد کو نہیں آنے والا تھا …
عاصم نے مشال کے قریب پہنچ کر اس کا بازو پکڑا اور اسے بیڈ پر پھینکا مشال اوندھے منہ بیڈ پر جا گری مشال اس سے پہلے سیدھی ہوتی عاصم اس کی طرف لپکا تھا مشال کی کمر دیکھ کر عاصم کی آنکھیں چمک گٸ تھیں وہ مشال کی کمر پر جھکا تھا عاصم کا لمس اپنی کمر پر محسوس کرکے مشال کی دلخراش چیخ نکلی تھی اس کے بعد مشال کی چیخوں کا ناختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا تھا…
چلو اٹھو گھر چھوڑ دوں ویسے دل تو نہیں چارہا لیکن کیا ہے نہ میں جو چیز ایک بار استعمال کرلوں تو دوبارہ نہیں کرتا .. …عاصم نے روتی ہوٸ مشال پر اپنے لفظوں کے تیر چلاۓ…
مشال خاموشی سے کھڑی ہوگٸ تھی اس کے پاس نہ الفاظ بچے تھے نہ جزبات نہ عزت سب کچھ لوٹ چکا تھا اس کا …
“سب کچھ لوٹ گیا میرا
محبت کرنے کا جرم کیا تھا میں نے “
تم چاہو تو میرے خلاف کیس کرسکتی ہو.. لیکن ایک منٹ تم سب کو یہ کیسے بتاٶ گی تم خود اپنی مرضی سے میرے ساتھ گٸ تھیں ہاہاہاہا.. مشال کتنی بیوقوف ہونا تم ….گاڑی ڈراٸیو کرتا وہ مسلسل مشال پر تمسخر اڑارہا تھا مشال پتھر کی مورتی بنی بے تاسر چہرے کے ساتھ خاموش بیٹھی تھی …
مشال کو عاصم نے وہی چھوڑا تھا جہاں سے لیا تھا وہ اس کو اندھیروں کی دنیا کا باسی بنا کر خود روشنیوں کے شہر میں
نکل گیا تھا …
*************************************
مشال کے اندر اس حالت میں گھر جانے کی ہمت نہیں تھی اس لیے اس نے سحر کے گھر جانے کا فیصلہ کیا ایک وہی تھی جو اس حالت میں اس کو سنبھال سکتی تھی…
آپی کی دوست آپ…. سنی چادر میں پوری طرح سے چھپی مشال کو دیکھا کر حیران رہ گیا ..
ہٹو سامنے سے.. سحر کہاں ہے… مشال سنی کو دھکا دیتی گھر میں داخل ہوگٸ …
سنی ناسمجھی سے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے پلک جھپکا جھپکا کر مشال کو دیکھ رہا تھا …
سحر سحر…. مشال اپنے دکھ میں یہ بھی بھول گٸ تھی دوپہر کے وقت سحر آفس میں ہوتی ہے اور پانچ بجے تک گھر لوٹتی ہے وہ سحر کو بار بار پکار رہی تھی …
آپی کی دوست سحر آپی تو آفس گٸیں ہیں ..آپ نہیں گٸیں آفس …سنی نے مشال کی زبان بند کرواٸ …
ہاں میں تو بھول ہی گٸ تھی… اچھا میں سحر کے روم میں ہوں وہ آۓ تو اسے روم میں بھیج دینا …مشال اپنی بات کہہ کر سنی کی بات سنے بغیر سحر کے روم بند ہوگٸ…
سنی حیران پریشان سا کھڑا دیکھتا رہا پھر کندھے اچکا کراپنے روم میں چلا گیا..
میں نے تو محبت کی تھی
کیا مجھے سزا ملی ہے اپنے ماں باپ کو دھوکا دینے کی
ان سے جھوٹ بولنے کی
میری زندگی برباد کردی اس درندے نےاب کیا کروں گی… مشال سحر کے کمرے میں اپنے دل کا غبار نکال رہی تھی اپنی غلطی پر پشتا رہی تھی ..
مشال کو کچھ دیر دل ہلکا کرنے کے بعد خیال آیا سحر کو کال کرکے بلالے …
اس خیال کے آتے ہی مشال نے موبائل اٹھاکر سحر کا نمبر ڈاٸل کیا …
ہیلو سحر پلیز جلدی گھر آٶ میں تمھارے گھر پر ہوں… مشال نے سحر کو بولنے کا موقع دیے بغیر اپنی بات کہی …
کیا ..میرے گھر پر ہوتم.. تمھاری تو طبیعت ٹھیک نہیں تھی نہ.. سحر نے حیرت ظاہر کی …
بس تم کچھ نہیں پوچھو گھر آٶ اور کسی کو نہیں بتانا میں تمھارے گھر ہوں پلیز سحر جلدی گھر آٶ …مشال نے بنا سحر کی بات سنے کال منقطعہ کردی …
