Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ladon Ka Pala Episode 14

Ladon Ka Pala by Misbah

کیا پرابلم ہے گڑیا

حیدر نے بے چینی سے پوچھا

وہ بھاٸی آپ کو سحر کو پہلے اپنی محبت کا یقین دلانا ہوگا کیونکہ شاہ ویز کی بے اعتبار محبت کا دکھ ابھی تک ہے اس کو اسی لیے پہلے آپ اس کو اپنی محبت کا یقین دلاٸیں اس کو احساس دلاٸیں اپنی محبت کا جو آپ نے اتنے سالوں سے چھپا رکھی ہے اپنے دل میں پھر اپنے محبت کا اظہار کریں

مشال نے سمجھداری سے کام لیتے ہوۓ اپنے بھاٸی کی بے لگام محبت کی لگامیں کسی تھیں

حیدر ہتھیلی پر سرسوں جماۓ بیٹھا تھا

اب مشال کے انکشافات سن کر خفگی سے مشال کو گھور رہا تھا جیسے سارا قصور ہی اسی کا ہو

مجھے ایسے گھورنے سے کوٸ فاٸدہ نہیں ہونا آپ کا بھاٸ

سحر کو کیسے یقین دلاٸیں گے اپنی محبت کا یہ سوچیں

مشال نے حیدر کو جلانے والی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا

اب تو سحر آدھے دن میرے ساتھ رہے گی آفس میں تو یہ مشن میں آفس میں ہی سرانجام دوں گا اور ساتھ پک اینڈ ڈروپ کی سروس بھی

حیدر مسکراتا ہوا بولا جیسے اس نے ساری پلینیگ پہلے سے کی ہوٸ تھی

اَلسَلامُ عَلَيْكُم حیدر بھاٸ

مشال کوٸ جواب دیتی اس سے پہلے ہی سحر آگٸ

وَعَلَيْكُم السَّلَام

حیدر نے مسکراتے ہوۓ کہا

آپ کب آۓ مجھے بتایا کیوں نہیں مشی تم نے

سحر نے حیدر سے سوال کیا ساتھ مشال سے بھی

بس ابھی آیا تم یہ بتاٶ میرا حلوہ کہاں ہے

حیدر نے آٸبرو اچکا کر کہا

ابھی لاتی ہوں

سحر مسکراتی ہوٸی کچن میں چلی گٸ

شکر سحر نے کچھ نہیں سنا

مشال کی کب کی اٹکی سانس بحال ہوٸ

بھاٸ پلیز میری دوست کی زندگی کی ساری تلخیاں ختم کردیں اس کو اتنی محبت دیں کہ وہ اپنی زندگی میں آۓ ہر دکھ تکلیف کو فراموش کر جاۓ

مشال نے نم آنکھوں سے سحر کو جاتے دیکھا

میری گڑیا تم پریشان نہیں ہو میں اس کی ہر تکلیف کا مداوا کردوں گا اس کو اتنی محبت دوں گا اس سے سنبھالی نہیں جاۓ گی

حیدر نے مشال کو اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ کہا

مشال نم آنکھوں سے مسکرا دی

کیسا لگا آپ کو حلوہ

حیدر نے حلوے کی خالی پلیٹ میز پر رکھی تو سحر پوچھے بنا نہیں رہ سکی

ہمیشہ کی طرح لزیز

حیدر نے دل سے تعریف کی

تھینکیو سحر ہلکا سا مسکاٸ

اچھا اب یہ بتاٶ آفس آنا جانا کیسے کرو گی آفس دور ہے گھر سے

حیدر نے اب اپنے مطلب کی بات کی

صبح سنی آفس چھوڑ دیا کرے گا شام کو میں رکشہ یا ٹیکسی کرکے آجاٶں گی

سحر نے صاف گوٸ سے حیدر کو جواب دیا

سحر سنی کی یونیورسٹی بلکل مخالف سمت میں ہے اس کو بہت دور پڑے گا راستہ

کیا تم میرے ساتھ آنا جانا نہیں کرسکتیں ایک ہی جگہ تو جاٸیں گے ہم دونوں

حیدر نے سنی کو ساٸیڈ کرکے اپنے گوڈ پھنسانی چاہی

حیدر بھاٸی میری وجہ سے آپ پریشان ہونگے میں رکشہ لگوا لوں گی

سحر نے حیدر کے مشورے پر پانی کی جگہ رکشہ پھیر دیا

سحر بھاٸ سہی کہہ رہے ہیں آج کل کے رکشے والوں کا کوٸ بھروسہ نہیں تم بس کل سے بھاٸ کے ساتھ آنا جانا کرنا

مشال نے بھابھیوں والے انداز میں سحر کو ڈاپٹا

پر مش۔۔۔

بس سحر میں مزید بحث کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں سنی آۓ گا میں اس کو بھی سمجھا دوں گی

مشال نے سحر کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اپنا فیصلہ سنا دیا

حیدر بھی مشال کو سراہتی نظروں سے دیکھتا کھڑا ہوگیا

چلو پھر میں چلتا ہوں سحر کل ملاقات ہوگی

حیدر مشال سے ملتا گھر روانہ ہوگیا

سحر تو خاموش ہی ہوگٸ تھی مشال نے منہ ہی ایسا بند کروایا تھا سحر کا

رات کو سنی گھر آیا تو سحر نے اسے جاب کی خوشخبری سناٸ

پھر مشال نے سحر کا حیدر کے ساتھ آفس آنے جانے کی اطلاع دی

سنی کے مسکراتے ہونٹ سیمٹے تھے

کیوں آپی کیوں جاٸیں گیں حیدر بھاٸی کے ساتھ میں چھوڑدوں گا اپنی آپی کو خود آفس

سنی کی غیرت گوارہ نہیں کررہی تھی کہ اس کے ہوتے ہوۓ اس کی بہن کسی اور کا سہارا کیوں لے

سنی تمھارا روڈ الگ ہے سحر کے آفس کا الگ ہے حیدر بھاٸ اور سحر تو ایک ہی جگہ جاٸیں گے تو

ان کو ایک ساتھ جانے دو

مشال نے سنی کو سمجھانے کی کوشش کی

نہیں بلکل نہیں میں جب تک زندہ ہوں میری آپی کو کوٸی ضرورت نہیں کسی کے سہارے کی

سنی دوٹوک الفاظ میں کہتا کمرے میں چلا گیا

مشال خفگی سے سنی کی چوڑی پشت کو گھورتی رہ گٸ

میں سمجھا لوں گی سنی کو سمجھاٶ اب حیدر بھاٸ کے سامنے تو بہت اچھل رہیں تھیں مجھے بھی چپ کروا دیا تھا

سحر نے بھی مشال کو آڑے ہاتھوں لیا

ابھی کمرے جاکر ایک محبت بھرا ہاتھ پھروں گی نہ تمھارے بھاٸ پر دیکھنا کیسے مانے گا تمھارا بھاٸ

مشال نے اتراتے ہوۓ کہا

ہنہہ دیکھوں گی میں بھی کیسے مناتی ہو سنی کو

سحر نے مزاق اڑانے والے انداز میں کیا

مشال پیر پٹختی کمرے میں چلی گٸ

سحر بھی مسکراتی ہوٸی کمرے میں چلی گٸ

حیدر

جی امی

حیدر گنگناتا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا کہ نگحت بیگم کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکراٸی

حیدر مسکراتا ہوا صوفے پر ان کے پہلو میں بیٹھ گیا

کیا بات ہے میرا بیٹا آج کل بڑا خوش رہنے لگا ہے

نگحت بیگم نے حیدر کے گھنے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوۓ پوچھا

امی اب آپ کا بیٹا ایسے ہی خوش رہے گا ہمیشہ

حیدر نگحت بیگم کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا

میں تو چاہتی ہوں میرے دونوں بچے اپنی اپنی زندگیوں میں خوش رہیں اور اپنا گھر بسا لیں

نگحت بیگم نے حیدر کے ابھی تک کنورے رہنے پر چوٹ کی تھی

میری پیاری امی آپ فکر نہ کریں بہت جلد آپ کے بیٹے کا بھی گھر بس جاۓ گا

حیدر نے محبت سے اپنی ماں کا ہاتھ چومتے ہوۓ کہا

تم کہو تو میں لڑکی دیکھنا شروع کردوں

امی مجھے بس دو مہینے کا وقت دیں میں جلد ہی اپنے فیصلے سے آپ کو آگاہ کروں گا

حیدر نے نرمی سے نگحت بیگم کو سمجھایا

ٹھیک ہے میری جان جہاں اتنا صبر کیا ہے وہاں دو مہینے اور سہی لیکن دومہینے کے بعد میں تمھاری ایک نہیں چلنے دوں گی سمجھے تم

نگحت بیگم نے انگلی اٹھا کر حیدر کو تنبیح کیا

جی جی امی جیسا آپ چاہے گی ویسا ہوگا حیدر مسکراتا ہوا گویا ہوا

جواب میں نگحت بیگم بھی مسکرا دی

ویسے یہ ابو کہاں ہیں نظر نہیں آتے آجکل گھر میں

حیدر نے پورے گھر پر نظر ڈالتے ہوۓ استفسار کیا

اپنے دوستوں کے پاس گۓ ہوۓ ہیں آنے والے ہوگے

یہ کچھ زیادہ ہی دوستوں کے پاس نہیں جانے لگے ہیں امی نظر رکھیں ابو پر کہی دوسری شادی تو نہیں کرکے بیٹھ گۓ ہیں

حیدر کی مضحکہ خیز بات پر نگحت بیگم اپنے منہ پر ہاتھ رکھتیں ہنسنے لگیں

چل شرارتی شرم نہیں آتی اپنے ابو کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہوۓ

نگحت بیگم نے حیدر کے کندھے پر تھپڑ رسید کرتے ہوۓ کہا

سہی کہہ رہا ہوں امی نظر رکھا کریں ابو پر ابھی بھی جوان ہی نظر آتے ہیں

حیدر اب خود بھی زور زور سے ہنسنے لگا

برخوردار اب تم اتنے بڑے ہوگۓ ہو اپنے باپ پر شک کرو گے

سفدر صاحب کی آواز پر دونوں کے قہقے روکے

سو سوری ابو میں تو مذاق کررہا تھا

حیدر گھبراتے ہوۓ اٹھ بیٹھا

ویسے میں بھی سوچ رہا ہوں کر لوں شادی تم تو کر نہیں رہے اس گھر میں بچوں کی کلکاریاں سننے کے لیے ہمارے کان ترس گۓ ہیں

سفدر صاحب نے پرسوچ انداز میں کہا

حیدر نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی

کیونکہ ماں کا غصے والا چہرا وہ دیکھ چکا تھا

سفدر صاحب ذرا کمرے میں تو چلیں کرواتی ہوں میں آپ کی دوسری شادی

نگحت بیگم ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتیں کمرے میں چلیں گٸیں

سفدر صاحب بھی مسکراتے ہوۓ ان کے پیچھے چلے گۓ

کیا کبھی سحر بھی مجھ سے اتنی محبت کرے گی کیا اس کو بھی میری دوسری شادی کا سن کر ایسے ہی غصہ آۓ گا

حیدر کے تصور میں سحر کا من موہنا سا چہرا آیا تھا

حیدر مسکراتا ہوا بالوں میں ہاتھ پھیرتا اپنے کمرے میں چلا گیا

سنی میری بات تو سنو

مشی مجھے کچھ نہیں سننا سوجاٸیں خاموشی سے

یہ تم روعب کس پر جما رہے میں نہیں سوتی کیا کرلو گے

مشال کو سنی کا شوہروں والا انداز اچھا نہیں لگا

نہیں سوٸیں میں سو رہا ہوں

سنی بیڈ پر اپنی جگہ پر دراز ہوگیا

مشال سنی کو مسلسل گھورتی رہی لیکن سنی کو ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ سحر نے ایک اور کٹا کھول دیا

میں کل حیدر بھاٸ کے ساتھ گھر جارہی ہوں ایک ہفتے بعد لوٹوں گی

کس خوشی میں جارہیں ہیں

سنی جھٹکے سے اٹھ بیٹھا

میرا دل چارہا ھے

مشال نے لاپرواٸ سے کہا

ٹھیک ہے آپ جانا چاھتی ہیں تو جاٸیں دو دن بعد واپس آجاٸیے گا

سنی اپنی بات پوری کر کے واپس لیٹ گیا

میں جاٶں گی ایک ہفتے کے لیے

مشال نےحتمی انداز میں کہا

جاکر دیکھاٸیں ٹانگے توڑ دوں گا

سنی کا پارہ ہاٸی ہو چکا تھا

سنی کو غصے میں دیکھ کر مشال کی سیٹی گھوم ہوگٸی

وہ وہ میں تو مذاق کر رہی تھی میں کہیں نہیی جارہی

مشال نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوۓکہا

سچ تو یہ تھا مشال سنی کی ٹانگے توڑنے والی بات پر ڈر گٸ تھی

کیونکہ اس وقت سنی حد سے زیادہ سنجیدہ اور غصے میں تھا اسلیے مشال نے فورا بات کو مذاق کا روخ دے دیا

اچھا ٹھیک ہے اب سو جاٸیں سنی تھوڑا نرم پڑا

مشال نےسنی کو نرم پڑتا دیکھ فورا سنی کا ہاتھ تھام لیا اور اس سے التیجا کرنے لگی

سنی پلیز پلیز ایک دفع میری بات سن لو پلیز صرف ایک بار

مشال کی التیجا پر سنی مشال کی بات سنے پر راضی ہوگیا

اچھا بولیں کیا کہنا چاہتی ہیں

سنی کیا تمہیں حیدر بھاٸی پر یقین نہیں ہےتم کیوں سحرکو حیدر بھاٸی کے ساتھ جانے سے منع کر رہے ہو وہ کوٸ غیر تو نہیں

مشال نے سنی کی نیلی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ کہا

مشی آپ سمجھ نہیں رہیں ایسی بات نہیں ہے میں ان کا بھاٸ ہوں وہ میری ذمہ داری ہیں میں کیوں ان کو کسی کا سہارا لینے دوں جبکہ میں خود ان کا سہارا بن سکتا ہوں

سنی نے بے چارگی سے کہا

تو میں نے کب کہا تم اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہے میں بس اتنا کہہ رہی ہوں بھاٸ اور سحر ایک ہی جگہ تو جاٸیں گے تو ایک ساتھ ہی چلیں جایا کریں گے

مشال نے سنی کو تحمل سے سمجھایا

سنی کا ہاتھ ابھی بھی مشال کے ہاتھ میں ہی تھا

سنی پلیز مان جاٶ نہ پلیز

مشال نے سنی کے ہاتھ کی پشت اپنے انگھوٹھے سے سہلاتے ہوۓ التجا کی

سنی کو کچھ عجیب سا احساس ہوا سنی نے مشال کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا

ٹھیک ہے

سنی دولفظی جواب دے کر مشال کی طرف پشت کرکے لیٹ گیا

مشال اپنے خالی ہاتھ کو تکتی رہ گٸ پھر وہ بھی خاموشی سے اپنی جگہ پر لیٹ گٸ وہ جان گٸ تھی سنی ابھی بھی معصوم ہی ہے

دوسرے دن معمول کے مطابق صبح کا آغاز ہوا مشال سنی سحر ہلکی پہلکی باتوں کے درمیان ناشتہ کررہے تھے

دروازے پر ہونے والی دستک پر تینوں کے ہاتھ تھمے

میں دیکھتا ہوں

سنی اپنی کرسی سے اٹھ کر دروازہ کھولنے چلا گیا

اَلسَلامُ عَلَيْكُم حیدر بھاٸ اندر آٸیے

سنی نے حیدر کو سلام کے ساتھ گھر میں آنے کی بھی دعوت دے دی

وَعَلَيْكُم السَّلَام

سنی میں بس سحر کو لینے آیا اس کو بھیج دو

حیدر نے نرمی سے کہا

جی میں بلاتا ہوں

سنی حیدر کو جواب دیتا اندر چلا گیا

آپی حیدر بھاٸ آٸیں ہیں

سنی نے حیدر کی آمد کی اطلاع سحر کو دی

ہمم میں چلتی ہوں مشی اپنا خیال رکھنا زیادہ کام نہیں کرنا میں کرلوں گی آکر

سحر نے مشال کی حالت کا خیال کرتے ہوۓ کہا

مشال کا اٹھواں مہینہ چل رہا تھا

ارے تم بے فکر ہوکر جاٶ سحر میں ایک کام کو بھی ہاتھ نہیں لگاٶں گی

مشال نے شرارت سے کہا

ہممم ٹھیک ہے خدا حافظ

سنی تم پریشان نہیں ہونا میرے لیے حیدر بھاٸ بہت ذمہ دار ہیں خیال رکھیں گے میرا

سحر مسکراتی ہوٸ سنی سے مخاطب ہوٸ

جی آپی جانتا ہوں میں چلیں اب آپ جاٸیں ورنہ لیٹ ہوجاٸیں گی

سنی نے بھی مسکراتے ہوۓ جواب دیا

سحر گھر سے باہر آٸ تو حیدر سیاہ چمچماتی کار سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا

حیدر بھاٸ یہ کار کس کی ہے

سحر نے حیرانگی سے استفسار کیا

میری ہے

لیکن آپ کے پاس تو باٸیک تھی نہ کار کب لی

سحر کو یقین ہی نہیں آرہا تھا

کل ہی آفس کی طرف سے ملی ہے مجھے اب میں مینیجر کے عہدے جو فاٸز ہوگیا ہوں نہ اسی لیے

اوہ اچھا مبارک ہو آپ کو سحر نے خوش دلی سے کہا

خیر مبارک اب چلیں دیر ہورہی ہے

حیدر نے کار کا دروازہ وا کرتے ہوۓ کہا

جی چلیں

سحر بھی حیدر کے ساتھ والی سیٹ پر براجمان ہوگٸ

سفر خاموشی سے کٹا سحر کا پہلا دن تھا وہ بہت گھبرا رہی تھی پورے رستے اپنے ہاتھ مسلتی آٸ تھی

اس کی گھبراہٹ حیدر سے مخفی نہ رہی تھی لیکن وہ خاموش تھا

پارکینگ ایریا میں گاڑی روک کر حیدر نے گہرا سانس لیا پھر سحر سے مخاطب ہوا

سحر یہاں دیکھوں میری طرف

جی سحر نے اپنا جھکا سر اٹھایا

گھبراٶ نہیں یہاں سب اچھے ہیں اور تم اتنا پریشان کیوں ہورہی ہو میں ہوں نہ یہاں تمھارے ساتھ جو بھی سمجھ نہ آۓ مجھ سے پوچھنا ٹھیک ہے

حیدر نے نرم لہجہ اختیار کرتے ہوۓ سحر کو ہر قسم کی ٹینشن سے آزاد کرنا چاہا

جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوگیا تھا

جی حیدر بھاٸ میں سمجھ گٸ

سحر نے ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سچا کر کہا

چلو اب اندر چلتے ہیں

جی چلیں

دونوں کار سے نکل کر آفس کے کشادہ عمارت میں داخل ہوگۓ

اندر پہنچتے ہی حیدر نے سب سے پہلے سحر کو اس جگہ پر پہنچایا تھوڑا بہت کام سمجھا کر اپنے آفس میں چلا گیا

سحر فاٸل کھول کر اس پر کام کرنے میں مصروف ہوگٸ

مشی میں یونی جارہا ہوں آپ دروازہ لاک کرلیں

سنی نے اپنا بیگ کندھے پر ڈالتے ہوۓ کہا

سنی

مشال نے آہستہ سے کہا

جی

سنی نے مشال کی طرف دیکھا

اور دیکھتے ہی اس کو اندازہ ہوگیا مشال ضرور کوٸ ضد کرنے والی ہے

مشال دنیا جہاں کی معصومیت چہرے پر سجاۓ سنی کو ہی دیکھ رہی تھی

مشی مجھے دیر ہورہی ہے میں آکر بات کروں گا

سنی مشال کی چال سمجھتا جلدی سے بولا

سنی سنی آج نہیں جاٶ نہ یونی میرے پاس ہی روک جاٶ

مشال سنی کا بازوں پکڑے کھڑی ہوگٸ تھی

مشی فضول کی ضد مت کریں میرا پیپر ہے آج

سنی نے اپنا بازوں مشال کے ہاتھ سے آزاد کرواتے ہوۓ کہا

اچھا پھر مجھے امی کے گھر چھوڑ دو رات کو لینے آجانا

مشال کسی بھی حال میں گھر اکیلے روکنے کو راضی نہیں تھی

کچھ دن سے مشال سحر کے ساتھ رہ رہی تھی گھر میں سارا دن سحر اور وہ ساتھ رہتیں تھیں مشال کو اب اکیلے رہنے میں ڈر لگ رہا تھا عاصم کا خوف ابھی بھی تھا

اسی لیے وہ اکیلے رہنے پر راضی نہیں تھی

مشی آپ نے سوچ لیا ہے سارا گھر کا کام آپی سے ہی کروانا ہے آپ کو

سنی نے مشال کو سنجیدگی سے کہا

نہیں اس سے نہیں کرواٶں گی بھاٸ کو بولوں گی وہ سحر کو امی کے گھر ہی لے آٸیں گے تم بھی رات کو وہی آجانا پھر کھانا کھا کر ہمیں ساتھ لے آنا

مشال نے پلک جھپکتے ہی سنی کے سارے مسلٸے حل کردیے

ٹھیک ہے جلدی آٸیں باہر ویٹ کررہا ہوں میں

سنی نے دانت پیس کر کہا اور باہر نکل گیا

مشال جلدی سے کمرے میں گٸ چادر اوڑھتی پرس کندھے پر ڈالتی گھر سے باہر نکل گٸ

سنی نے گھر کا تالا لگاکر باٸیک اسٹارٹ کی اور مشال کو لے کر نکل گیا

اَلسَلامُ عَلَيْكُم امی

مشال نے گھر میں داخل ہوتے ہی سلام کیا

وَعَلَيْكُم السَّلَام میری بیٹی کو کیسے یاد آگٸ ماں کی

نگحت بیگم نے مشال کو گلے لگاتے ہوۓ شکوہ بھی کر ڈالا

امی کیا کروں آپ کے داماد صاحب آنے نہیں دیتے کہتے ہیں دل نہیں لگتا میرا آپ کے بنا

مشال نے نگحت بیگم کے شکوے کا جواب دیا

تم دںونوں کا پیار ہمیشہ ایسے ہی رہے یہ بتاٶ آٸ کس کے ساتھ ہو

نگحت بیگم نے مشال کو دعا دی ساتھ سوال بھی پوچھ ڈالا

سنی چھوڑ کر گۓ ہیں ان کا پیپر تھا تو وہ باہر سے مجھے چھوڑ کر یونی چلے گۓ

مشال نے بڑے احترام سے سنی کا ذکر کیا نہیں تو ابھی نگحت بیگم کی ڈانٹ کھاتی

اچھا اچھا چلو کوٸ نہیں تم بیٹھو میں تمھارے لیے اچھا سا بادام کا شربت بنا کر لاتی ہوں اس سے تمھیں اور تمھارے بچے کو طاقت ملے گی

نگحت بیگم مشال کو صوفے پر بٹھا کر خود کچن میں چلیں گٸیں

مشال ٹی وی کھول کر بیٹھ گٸ

ارے ہماری بیٹی کو یاد آگٸ کیا ہماری

سفدر صاحب جو چہل قدمی کرنے باہر گۓ تھے مشال کو گھر میں دیکھ کر ان کو خوشگوار حیرت ہوٸ

اببببو

مشال سفدر صاحب کو دیکھ کر خوش ہوتی ان کے سینے سے جالگی

میری پیاری بیٹی

سفدر صاحب نے محبت سے مشال کے گرد بازوں حماٸل کرلیے پھر دونوں باپ بیٹی کی نہ ختم ہونے والی باتیں شروع ہوگٸیں تھیں

بات سنیں حیدر بھاٸ

حیدر کسی کام سے آفس سے باہر نکلا تھا

سحر کو کچھ پوچھنا تو حیدر کو آواز دینے لگی

ارے پاگل لڑکی میں باس ہوں یہاں تمھارا سر بولو مجھے

حیدر سحر کے سر پر ہلکی سی چپت لگا کر دبی دبی آواز میں بولا

اوہ سوری

سحر شرمندہ سی ہوگٸ

چلو کوٸ نہیں اب سر کہنا اب بتاٶ کیا کام ہے

حیدر نے سحر کی شرمندگی ختم کرنے کے غرض سے بات ہی بدل دی

جی وہ یہ سمجھ نہیں آرہا

سحر نے حیدر کے سامنے فاٸل کرتے ہوۓ کہا

ہممم چلو کینٹین میں سمجھا دیتا ہوں لنچ ٹاٸم ہوگیا ہے حیدر نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوۓ کہا

جی چلیں

سحر حیدر کے پیچھے چل دی

شام کو حیدر سحر کو آفس سے اپنے گھر ہی لے آیا تھا

مشال نے حیدر کو کال کرکے بتا دیا تھا کہ سحر کو گھر ہی لے آۓ

مشی تھوڑا کم کھایا کرو یار کتنی موٹی ہو رہی ہو تم

مشال صوفے پر بیٹھی چپس پوپکان بسکیٹ چاکلیٹ کے مزے لے رہی تھی

سحر نے اسے چھیڑا

تم دونوں بہن بھاٸ ہمیشہ میرے کھانے پر نظر رکھا کرو

مشال منہ میں چپس ڈالتی ہوٸ بولی

ہم نظر نہیں رکھتے تم کھاتی ہی اتنا ہو خود ہی نظروں میں آجاتی ہو

سحر مشال کو تپا کر خود ہنسنے لگ گٸ

مشال سحر کو کھاجانے والی نظروں سے گھور رہی تھی

کیا ہورہا ہے بھٸ

حیدر ابھی فریش ہوکر آیا تھا وہ بھی ان کے ساتھ صوفے پر براجمان ہوگیا

بھاٸ یہ سحر کی بچی مجھے تنگ کررہی ہے

مشال نے بچوں کی طرح حیدر سے سحر کی شکایت لگاٸ

کیوں تنگ کررہی ہو تم میرے بہن کو سحر خبردار جو اب میری بہن کو تنگ کیا تو

حیدر نے مصنوعی غصہ دیکھایا

میں کب تنگ کر رہی ہوں میں تو بس یہ کہہ رہی ہوں کہ کم کھایا کرے اتنی موٹی ہورہی ہے

سحر نے ہنستے ہوۓ کہا

حیدر کا دل ہی نہیں چاہا سحر کے مسکراتے چہرے سے نظر ہٹانے کا مشال کے ٹھوکے سے وہ ہوش میں آیا

اس کے بعد تینوں کی ہی آپس میں نوک جونک جاری تھی

رات کو سنی بھی آگیا تھا سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا

پھر حیدر مشال کی حالت کا خیال کرتے ہوۓ خود ہی مشال سحر کو کار میں چھوڑ آیا تھا

مشال کار دیکھ کر بہت خوش ہوٸ تھی

ساتھ تھوڑی ناراض بھی کہ حیدر نے پہلے کیوں نہیں بتایا

سنی بھی اپنی باٸیک پر آگیا تھا

دن آہستہ آہستہ سرک رہے تھے حیدر سحر کا بہت خیال رکھتا سحر ہر کام جلدی سیکھ گٸ تھی

حیدر سحر کو لنچ اپنے ساتھ کرواتا سحر منا کرتی تو اس کو کلاٸ پکڑ کر ساتھ لے جاتا

بہت سے لوگ یہ منظر دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرتے لیکن حیدر کے سخت رویے کی وجہ سے کسی میں کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوتی

سحر کو بھی حیدر کا ساتھ اچھا لگنے لگا تھا

وہ اس سے اپنا ہر مسلٸہ بلا جھجک شٸیر کردیا کرتی تھی

چھٹی والے دن بھی حیدر کام کے بہانے سے سحر کو ایک کال ضرور کرتا وہ چاہتا تھا سحر کو اس کی عادت ہوجاۓ وہ اس سے اس کی یادوں سے ایک پل بھی غافل نہ رہے اور ایسا ہی ہورہا تھا سحر اکثر حیدر کے بارے میں سوچنے لگتی پھر خود ہی مسکرانے لگ جاتی

مشال کے دل سے عاصم کا خوف تو نکل چکا تھا لیکن مشال کی نازک حالت کی وجہ سے نگحت بیگم اس کے پاس آجایا کرتی تھیں یا وہ ان کے پاس چلی جایا کرتی تھی مشال کی ڈیلیوری کے دن قریب آرہے تھے مشال پہت ڈر رہی تھی لیکن سب اس کی حوصلہ افزاٸ کرتے تو سنبھل جاتی

ہیلو سحر بزی ہو کیا

حیدر کی سیکیٹری نتاشا سحر کے پاس کھڑی اس سے پوچھ رہی تھی

جی ہاں میں بزی ہوں آپ کو کوٸ کام ہے

سحر نے سنجیدگی سے جواب دیا

سحر کو بھی وہ خاص پسند نہیں تھی اپنے حلیے کی وجہ سے

مجھے حیدر سر کے بارے میں بات کرنی تھی تم سے میرے سمجھ نہیں آتا وہ تمھیں اتنی زیادہ اہمیت کیوں دیتے ہیں لنچ بھی اپنے ساتھ کرواتے ہیں کیا تم رشتے دار ہو سر کی

نتاشا نے اپنے دل میں مچلتا سوال پوچھ ہی لیا

سحر نے ناگواری سے اپنے سامنے کھڑی نتاشا کو دیکھا

سر میری دوست کے بھاٸ ہیں اور میری دوست میری بھابھی بھی ہے آپ کو آپ کے سوال کا جواب مل گیا اب آپ جاٸیں اور مجھے کام کرنے دیں

ہممم مجھے تو کچھ اور ہی رشتہ لگتا ہے تمھارے اور سر کے درمیان

نتاشا نے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کہا

ایکسکیوزمی نتاشا آپ کہنا کیا چاہتی ہیں میں سمجھی نہیں

سحر نے ناسمجھی سے پوچھا

اوہو سحر اب اتنی بھولی بھی نہ بنو سب کو ہی نظر آتا ہے یہاں سر اور تمھارے درمیان کیا چل رہا ہے سر کیسے تمھیں لنچ ٹاٸم پر ہاتھ پکڑ کر لے کر جاتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے تم دونوں کے درمیان ضرور کوٸ چکر ہے

نتاشا اترا اترا کر بولتی سحر کو زہر لگ رہی تھی

سحر کا ضبط سے چہرا سرخ ہوگیا تھا

نتاشا اپنی لمیٹ میں رہو اور دفع ہوجاٶ یہاں سے اس سے پہلے میں تمھارے ساتھ کچھ غلط کربیٹھوں

سحر نے خود پر قابو پاتے ہوۓ نتاشا کو لتاڑا

ہنہ سچ سن کر یہ ہی حال ہوتا ہے لوگوں کا جیسے تمھارا ہورہا ہے اس وقت

نتاشا سحر کو مزید تیش دلاتی وہاں سے چلی گٸ

سحر کا ٹیبل آخر میں تھا اس لیے کسی نے ان دونوں کی تکرار نہ سنی

سحر غصہ ضبط کرتی دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگٸ

سحر چلو لنچ ٹاٸم ہوگیا لنچ کرتے ہیں

حیدر سحر کے پاس آیا تھا لنچ ٹاٸم ہوچکا تھا

مجھے نہیں کرنا لنچ مجھے بھوک نہیں آپ جاٸیں

سحر فاٸل پر جھکی ہوٸ تھی جس کی وجہ سے حیدر سحر کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھ سکا

سحر تمھیں معلوم ہے نہ میں تمھیں ایسے نہیں بخشنے والا چلو شاباش اٹھو جلدی

حیدر نے کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھانا چاہا

سحر نے حیدر کا ہاتھ جھٹک دیا

میں نے کہا نہ مجھے بھوک نہیں آپ کے سمجھ نہیں آتی

سحر نے نتاشا کا غصہ حیدر پر نکال دیا

حیدر کو سحر کا ہاتھ جھٹکنا بہت برا لگا لیکن بولا کچھ نہیں

سحر کیا ہوا ہے تم میرے ساتھ ایسے بات کیوں کر رہی ہو

حیدر نے نرم لہجے میں استفسار کیا

کچھ نہیں ہوا مجھے جاٸیں آپ پلیز مجھے اپنا مزید تماشہ نہیں بنوانا

سحر کسی نے کچھ کہا ہے تم سے مجھے بتاٶ پلیز

حیدر کے چہرے پر غصے کے تاثرات نمایاں ہوۓ تھے

سحر کی بےروخی وہ برداشت نہیں کر پارہا تھا

سحر کو اس پر ترس آگیا وہ تھوڑی نرم پڑی

حیدر بھاٸ آپ مجھ سے دور رہا کریں لوگ باتیں بناتے ہیں ہمارے بارے میں الٹی سیدھی

سحر دل کے خدشات زبان پر لے آٸی

اور وہ کون لوگ ہیں مجھے بتانا پسند کرو گی

حیدر نے سنجیدگی سے پوچھا

کوٸ نہیں چھوڑیں آپ جاٸیں لنچ ٹاٸم ختم ہونے والا ہے

سحر نے بات بدلنی چاہی

نہیں سحر تم نہیں بتاٶ گی تو میں ویسے بھی پتا لگوالوں گا لیکن میں تم سے سننا چاہتا کس کی ہمت ہوٸ تم سے بکواس کرنے کی

حیدر کے غصے سے ڈر کر سحر نے اپنے اور نتاشا کے درمیان ہوٸ تکرارکا حیدر کو بتا دیا

حیدر نے غصے سے پیشانی مسلی

نتاشا کا انتظام تو میں کل کروں گا تم ابھی چلو لنچ کرو

سحر حیدر کے بگڑے تیور دیکھ کر خاموشی سے حیدر کے پیچھے چل دی

نتاشا کافی ماڈرن لڑکی تھی وہ جینس کی پینٹ ٹی شرٹ پہنتی تھی تراشے ہوۓ لمبے ناخون جس پر روز کپڑوں کی ہم رنگ کی نیل پالش لگی ہوتی تھی اسٹیپ کٹینگ بال جو ہر وقت کھلے رہتے چہرا پر ڈارک میک اپ ہوتا تھا

حیدر کو وہ بلکل پسند نہیں تھی وہ ہر وقت حیدر کو رجحانے کی کوشش کرتی لیکن حیدر اس کی طرف ایک نظر دیکھنا بھی گورارا نہیں کرتا تھا

سنی

ہممم

سنی

ہممم

سنی

کیا مسلٸہ ہے مشی آرام کرتا ہوا اچھا نہیں لگ رہا کیا میں آپ کو

مشی سنی کے آرام میں خلل ڈال رہی تھی سنی جھنجلا اٹھا

تم خاموش اچھے نہیں لگ رہے مجھ سے باتیں کرو نہ

مشال نے لاڈ سے کہا

مجھے نیند آرہی ہے مشی شام کو کیفے بھی جانا ہے سونے دیں پلیز

سنی بیچارگی سے کہتا رخ موڑ گیا

سنی پیپر کی وجہ سے مشال کو وقت نہیں دے پارہا تھا وہ تھک جاتا تھا رات کو بھی جلدی سوجاتا صبح جلدی یونی چلا جاتا وہاں سے آکر کھانا کھا کر دوبارہ بکس کھول کر بیٹھ جاتا پھر تھوڑا آرام کرکے کیفے چلا جاتا

مشال اس سے بات کرنے کو ترستی رہ جاتی

ابھی بھی وہ سنی کے آرام کا خیال کرکے چپ ہوگٸ تھی لیکن اداس بھی ہوگٸ تھی

مشی

ہممم

آپ اداس نہیں ہو میرے پیپر ہو جاٸیں پھر میں سارا ٹاٸم آپ کو دیا کروں گا

سنی سمجھ گیا تھا مشال اداس ہوگٸ ہے وہ حساس بھی بہت تھی سنی کی ذرا سی تکلیف پر تو رونے بیٹھ جاتی تھی اس لیے سنی نے مشال کو بہلایا پھر دوبارہ آنکھیں موند گیا

مشال بھی مسکراتی ہوٸ بیڈ پر دراز ہوگٸ

عاصم

جی بھاٸ

وہ جو نٸ لڑکی آٸ تھی کیا نام تھا اس کا وہ ہاں حنا وہ نظر نہیں آرہی کیا جاب چھوڑ دی ہے اس نے

شاہ ویز کو ایک ہفتے سے حنا نظر نہیں آٸ تھی تو عاصم سے استفسار کیا کیونکہ زیادہ وہ عاصم کے ساتھ ہی پاٸ جاتی تھی

وہ وہ بھاٸ آپ نے اس دن ڈانٹا تھا نہ اسے وہ معصوم سی تو تھی بیچاری بہت ڈر گٸ تھی شاید اسی وجہ سے جاب چھوڑ دی ہوگی اس نے

عاصم نے من گھڑت کہانی بنا کر شاہ ویز کو سنا دی جبکہ اصل وجہ وہ چھپا گیا

حد ہوتی ہے اتنی ہی نازک مزاج ہیں تو جاب کیوں کرتی ہیں گھر میں بیٹھ کر اپنے گھر والوں سے لاڈ اٹھواٸیں

شاہویز کے چہرے پر بل نمودار ہوۓ تھے

چھوڑے بھاٸ آپ اپنا خون خشک نہ کریں

عاصم نے شاہ ویز کو ٹھنڈا کرنا چاہا

شاہ ویز ہنگکارہ بھرتا دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا

اپنی فتح پر عاصم کے چہرے پر کمینگی سی مسکراہٹ چمکی تھی

حنا جب سے آفس میں آٸی تھی شاہ ویز کو ایک دفع بھی اپنا رخ روشن کا دیدار نہیں کروایا تھا لیکن شاہ ویز اپنے آفس کے ہر امپلاۓ اور اس کے کام سے واقف تھا

آج اس نے حنا کی کار کردگی پر نظر ثانی کرنے کا سوچا

شاہ ویز کا بلاوا سن کر حنا کی سانس ہی اٹک گٸ تھی

ڈرتے گھبراتے اپنے لڑکھڑاتے قدم مضبوطی سے جماطی فاٸل ہاتھ میں لیے سیدھی شاہ ویز کے آفس میں داخل ہوگٸ

مس حنا آپ کو مینرز نہیں کسی کے روم میں ناک کرکے داخل ہوتے ہیں ایسے ہی منہ اٹھا کر نہیں چلے آتے

شاہ ویز کی سخت آواز پر حنا کے قدم وہیں تھم گۓ تھے

سو سو سوری سر

حنا بڑی مشکلوں سے بول پاٸی

آٸندہ خیال رکھیے گا یہ فاٸل دیکھاٸیں مجھے

شاہ ویز تھوڑا نرم پڑا لیکن چہرے تاثرات ابھی بھی سخت تھے

حنا چند قدم کا فاصلہ طے کرتی شاہ ویز کو فاٸل تھاما کر وہی کھڑی ہوگٸ تھی

حنا آپ کو کتنا وقت ہوگیا ہے یہاں کام کرتے ہوۓ

س سر ون منتھ

تو ون منتھ میں یہ سیکھی ہیں آپ

شاہ ویز نے فاٸل حنا کے منہ پر دے ماری

لیکن چہرے پر بروقت ہاتھ رکھنے سے حنا کا خوبصورت چہرا بگڑنے سے بج گیا تھا

حنا نے شاہ ویز کے سامنے ہی آنسوں بہانے شروع کردیے تھے آج تک ایسا سلوک کسی نے نہیں کیا تھا اس کے ساتھ

ہچکیوں سے روتی حنا کے آنسو شاہ ویز کو نا جانے کیوں تکلیف میں مبتلا کرگۓ تھے

فاٸل اٹھاٶ اور دفع ہوجاٶ

شاہ ویز نے سختی سے کہتے ہوۓ رخ موڑ لیا تھا

حنا سسکیاں بھرتی فاٸل اٹھا کر باہر نکل آٸی

اپنی ٹیبل پر بیٹھ کر وہ رونے کا شوغل فرما رہی تھی

عاصم کی نظر روتی ہوٸی حنا پر پڑی تو اس کے چہرے پر خباثت سے بھری مسکراہٹ نے آحاطہ کیا

حنا کیا ہوا کیوں رو رہی ہو

عاصم نے لہجے میں فکر سموۓ استفسار کیا

س سر نے ڈانٹا وہ بہت بد لحاظ ہیں انھوں نے میرے منہ پر فاٸل ماری

اپنے ہمدرد عاصم کو سامنے پاتے ہی حنا اپنا دکھ بانٹنے لگی

اوہو بھاٸی بھی نہ یوں ہی معصوموں پر غصہ کرتے رہتے ہیں تم اٹھو یہاں سے میرے روم میں چلو سب تمھیں روتا دیکھ تمھارا مزاق اڑاۓ گے

عاصم نے حنا کو بچوں کی طرح پچکارا

حنا عاصم کے ارادوں سے انجان اس کے ساتھ چلی گٸ

دوسرے دن حیدر نے نتاشا کو اتنا کام تھاما دیا کہ اس بیچاری کو لنچ کرنے تک کا ٹاٸم نہ ملا

حیدر اور سحر اس کی حالت کا سوچ خوب حظ اٹھا رہے تھے

آج سحر اور حیدر کو گھر آتے دیر ہوگٸ تھی اوپر سے گرج چمک کے ساتھ بارش کی آمد نے دونوں کی مشکل میں اضافہ کردیا تھا

وہ دونوں آدھے راستے ہی پہنچے تھے کہ حیدر کی کار جھٹکے کھاتی سڑک کے بیچو بیچ روک گٸ

کیا ہوا حیدر بھاٸی سحر نے گھبراتےہوۓ پوچھا

پیٹرول ختم ہوگیا میں ڈلوانا بھول گیا تھا

حیدر نے شرمندہ ہوتے ہوۓ کہا

اب کیا کرے گے ہم بارش بھی اتنی تیز ہورہی ہے گھر کیسے جاٸیں گے

تم ڈرو نہیں سحر یہاں سے کچھ دور میں نے پیٹرول پمپ دیکھا تھا میں وہاں سے پیٹرول لے کر آتا ہوں تم گاڑی لاک کرکے بیٹھ جاٶ

بارش کی وجہ سے سڑک سنسان تھی سیاہ بادلوں کی وجہ سے ہر سو اندھیرا چھا گیا تھا سحر اور زیادہ خوف ذدہ ہوگٸ تھی

نہیں نہیں حیدر بھاٸ مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جاٸیں میں بھی چلوں گی آپ کے ساتھ

سحر نے حیدر کا ہاتھ تھام لیا تھا

حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ آٸ تھی جو وہ بڑی صفاٸ سے چھپا گیا تھا

سحر باہر بارش بہت تیز ہورہی تمھیں ٹھنڈ لگ جاۓ گی میں بس پانچ منٹ میں آتا ہوں تم ویٹ کرو میرا

حیدر نے نرمی سے سحر کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے ہٹایا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا

سحر ڈر سے کانپ رہی تھی اس نے جلدی سے گاڑی لاک کی اور آیت الکرسی کا ورد شروع کردیا

حیدر کو گۓ پندرہ منٹ ہوگۓ تھے وہ ابھی تک نہیں لوٹا تھا موباٸل بھی گاڑی میں ہی تھا اس کے سیگنل بھی ٹھیک نہیں آرہے تھے جو وہ سنی کو کال کرلیتی

سحر انھیہں سوچوں میں گھیری تھی کسی نے اس کی طرف کا شیشہ بجایا

سحر نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہاں ایک شرابی ہاتھ میں شراب کی بوتل لیے کھڑا سحر کو خباثت سے دیکھ رہا تھا

سحر دوپٹے سے اپنا منہ چھپاتی دروازے سے تھوڑا دور ہٹ کر بیٹھ گٸ ساتھ میں حیدر کے جلدی آنے کی دعا کرنے لگی

کچھ ہی پل گزرے تھے کہ جھناکے کی آواز سحر کی سماعتوں سے ٹکراٸی

سحر نے روخ موڑ کر دیکھا تو وہ شرابی ہاتھ میں پکڑی شراب کی بوتل سے سحر کی طرف کا شیشہ توڑ چکا تھا

اب وہ اپنا ہاتھ کھڑکی کے اندر سے ڈال کر دروازے کا لاک کھولنے کی کوشش کررہا تھا

سحر کا دل سوکھے پتے کے ماند لرز رہا تھا

سحر بنا وقت ضاٸع کیے دوسری طرف کا دروازہ وا کرکے کار سے نکل گٸ

کار سے نکلتے ہی جل تھل سے ہوتی بارش سحر کے وجود کو بھیگونے لگی تھی

سحر اپنے ارد گرد نظر دوڑا کر کسی کو مدد کے لیے تلاش کررہی تھی لیکن وہاں کوٸی ذی روح موجود نہ تھی

سحر سوچوں میں گھوم تھی کہ اسے اپنے بازوں پر کسی کی گرفت کا احساس ہوا

سحر نے ذرا کی ذرا نظر اٹھاٸی

وہ شرابی چہرے پر خباثت لیے عین سحر کے مقابل کھڑا تھا

سحرنے پوری طاقت مجتبہ کرکے اس شرابی کو دھکا دیا اور بدحواس سی سڑک پر بھاگنے لگی

شرابی نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی تو سحر کی چادر ہاتھ میں آگٸ لیکن سحر اس کی پہنچ سے دور جا چکی تھی

وہ شرابی بھی سحر کے پیچھے بھاگا

سحر اندھا دھند بھاگ رہی تھی

بھاگتے بھاگتے وہ کسی کے وجود سے جاٹکراٸی

ٹکرانے والے شخص کو دیکھتے ہی سحر روتی ہوٸی اس کے چوڑے سینے لگ گٸ

حیدر بیٹرول لے کر واپس آرہا تھا

اچانک سے کوٸی لڑکی اس سے ٹکراٸی

لیکن یہ جان کر اس کو حیرت کا جھٹکا لگا کہ وہ لڑکی اور کوٸی نہیں سحر تھی

سحر کیا ہوا ہے تمھیں تو میں گاڑی میں چھوز کر آیا تھا نہ یہاں کیا کررہی ہو

حیدر نے سحر کے دونوں کندھے پکڑ کر اس کو خود سے دور کرتے ہوۓ پوچھا

حی حیدر بھا بھاٸی وہ وہ می میرے پیچھے

سحر ڈری سہمی اتنے ہی الفاظ ادا کر پاٸی اور دوبارہ رونے لگی

حیدر کا دل چاہا روتی سحر کو خود میں بھینچ لے دنیا کی ہر دکھ تکلیف سے اس کو آزاد کردے

لیکن وہ ایسا صرف سوچ سکا کیونکہ وہ ابھی حق نہیں رکھتا تھا

سحر پلیز مجھے بتاٶ ہوا کیا ہے تم ایسے کیوں بھاگ رہیں تھیں چادر کہاں ہے تمھاری

حیدر نے نرم لہجے میں پوچھا تو سحر رونا بھول کر ایک ایک بات حیدر کو بتاتی چلی گٸ

حیدر کی آنکھیں غصے سے سرخ ہوگٸیں تھیں چہرے کے نقوش تن گۓ تھے وہ خود کو ملامت کررہا تھا کیوں اکیلا چھوڑا سحر کو اس نے

اے لڑکی میرے حوالے کر

یہ وہی ہے حیدر بھاٸی یہ ہی ہے وہ

سحر خوف کے زیرِ اثر حیدر کے پیچھے چھپ گٸ

اے کیا دیکھ رہا ہے تیری بھی نیت خراب ہوگٸ کیا لڑکی پر چل آجا دونوں مل کر مزے کرتے ہیں

وہ شرابی تو تھا لیکن کافی حد تک ہوش میں تھا

شرابی کی بات سنتے ہی حیدر بھپرے شیر کی طرح اس شرابی پر جھپٹ پڑا

اس کے بعد حیدر نے بنا سرف پاٶڈر کے اس شررابی کو خوب دھویا

تیری ہمت کیسے ہوٸی سحر کے بارے میں ایسا سوچنے کی بھی میرے اختیار میں ہوتا نہ ابھی تیری جان لے لیتا لیکن شکر کر توں جو تجھے بخش رہا ہوں

حیدر اس پر اپنا سارا غصہ نکال کر پیٹرل کی بوتل اٹھا کر سحر کی کلاٸی تھام کر وہاں سے نکل گیا

گاڑی کے پاس پہنچ کر حیدر کو سحر کی چادر نظر آٸی اس نے وہ چادر اٹھا کر سحر کے بھیگے وجود کو ڈھانپ دیا

پورا راستہ خاموشی سے کٹا سحر کی ہلکی ہلکی سسکیاں گاڑی میں گونج رہیں تھیں

حیدر اپنی جگہ خود شرمندہ تھا

گھر کے سامنے گاڑی روکتے ہی سحر کار سے اتر کر گھر میں داخل ہوگٸ

مشال اور سنی لاٶنج میں ہی پریشان بیٹھے تھے سحر کو آج کافی دیر ہوگٸ تھی باہر بارش اتنی تیز ہورہی تھی مشال کو بھی سنی اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا سحر کی طرف سے اس کو تھوڑا اطمینان تھا کیونکہ حیدر اس کے ساتھ تھا

سحر کو دیکھتے ہی سنی اس کی طرف لپکا

آپی آگٸیں آپ کہاں رہ ۔۔۔۔

سنی کا جملا مکمل بھی نہیں ہوا تھا سحر سنی کے سینے سے لگی رونا شروع ہوگٸ تھی

سحر کیا ہوا مشال بھی اپنا بھاری وجود سنبھالتی سحر کے پاس آگٸ تھی

بھاٸی سحر کو کیا ہوا ہے

حیدر کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ مشال نے استفسار کیا

وہ سحر ڈری ہوٸی ہے آج ایک حادثہ پیش آگیا تھا ہمارے ساتھ

حیدر شرمندگی سے نظریں جھکاۓ کھڑا تھا

کیا ہوا کیسا حادثہ سنی نے بھی بے چینی سے پوچھا

وہ ۔۔۔

وہ سنی گاڑی میں پیٹرول ختم ہوگیا تھا حیدر بھاٸی پیٹرول لینے گۓ تھے میں گاڑی میں اکیلے تھی سڑک بھی سنسان تھی تو کچھ جنگلی کتے آگۓ تھے وہاں تو میں ڈر گٸ تھی

حیدر کی بات سحر نے اچک لی تھی حیدر کو سنی کے سامنے شرمسار ہونے سے بچالیا تھا اس نے

سحر کی آدھی سچی آدھی جھوٹی کہانی پر جہاں حیدر حیران ہوا وہی سنی ہنسنے لگا

آپی آپ بھی نہ یار کتے آپ کو کھا تھوڑی جاتے آپ تو گاڑی میں تھیں نہ

سنی وہ بہت خونخوار تھے

سحر کی نظروں کے سامنے اس شرابی کا چہرا لہرایا تھا

اچھا چلیں اب گھر آگٸیں ہیں رونا بند کریں

سنی نے سحر کے آنسو صاف کیے

بھاٸی وہاں کیوں کھڑے ہیں آۓ اندر بیٹھیں نہ

مشال نے حیدر کو کھڑا دیکھا تو اس بیٹھنے کا کہا

نہیں مشی میں بس چلتا ہوں امی پریشان ہورہی ہوگیں تم سحر کا اور اپنا خیال رکھنا

اچھا سنی میں چلتا ہوں

خدا حافظ

حیدر مشال کو ہدایت دیتا سنی کو الوداع کرتا باہر نکل گیا

سحر تم بھی بس کرو بہت رو لیں جاٶ فریش ہوجاٶ پھر کھانا کھاتے ہیں مجھے بھوک لگی ہے بڑی زور کی

مشال پیٹ پر ہاتھ رکھتی بولی

ہاں ہاں آپی جلدی جاٸیں کہیں ان کا کھانے کے بجاۓ پیزا کھانے کا دل نہ کرنے لگے اتنی بارش میں میں کہاں پیزا ڈھونڈتا پھیروں گا

سنی نے ماحول کو ذرا خوشگوار بنانے کی کوشش کی

سحر مسکرادی جبکہ مشال سنی کو گھورتی کچن میں چلی گٸ

حیدر بیٹا

جی امی

حیدر گنگناتا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا

نگحت بیگم کے بلانے پر ان کے پاس صوفے پر آکر بیٹھ گیا

کیا بات ہے آج میرا بیٹا بڑا خوش پاش رہنے لگا ہے

نگحت بیگم نے خوشگواریت سے استفسار کیا

جی امی اب آپ کا بیٹا ایسے ہی خوش رہا کرے گا

حیدر نے پرجوش انداز میں کہا

اچھی بات ہے پھر میں اپنے بیٹے کے لیے لڑکی ڈھونڈنا شروع کردوں

نگحت بیگم نے خوش ہوتے حیدر سے اپنے مطلب کی بات کی

امی نہیں ابھی نہیں بس تھوڑا وقت اور دے دیں

حیدر جلدی سے بولا تھا

بیٹا اور کتنا وقت اٹھاٸیس کے ہوگۓ ہو تیس کے بعد کسی نے نہیں دینی تمھیں اپنی لڑکی

نگحت بیگم نے دکھ سے کہا

امی جان کیا ہوگیا ہے آپ کو اپنے خوبروں بیٹے کو دیکھیں تو ذرا میں تیس کیا پیتیس کا بھی ہوجاٶں تب بھی آرام سے لڑکی مل جاۓ گی

حیدر فوراً اپنی تعریف کے قصیدے خود پڑھنے لگ گیا تھا

تو تم نے ابھی نہیں پیتیس کے ہوکر ہی شادی کرنی ہے

نگحت بیگم نے ساری باتوں میں اپنے مطلب کی بات ہی نکالی

اففف امی بس کچھ دن صبر کرلیں

بیٹا مجھ سے نہیں ہوتا اور صبر بس مجھے نہیں معلوم میں جارہی ہوں کل ہی لڑکی دیکھنے ساتھ والی فرزانہ آپا ہے نہ انہوں نے اپنی بھتیجی کا ذکر کیا تھا اسی کو دیکھنے جاٶں گی کل

نگحت بیگم نے فیصلہ کن انداز اپنایا

امی نہیں نہیں یہ میرے ساتھ نا انصافی کررہی ہیں آپ بس کچھ دن روک جاٸیں میں سحر سے محبت کا اظہار کردوں اگر اس نے مثبت جواب دیا تو آپ اس کے گھر رشتہ لے کر چلے جاٸیے گا

حیدر نے بے بسی سے اپنے دل کا راز افشاں کردیا

کیا سحر ؟

کیا تم سچ کہہ رہے ہو ؟

نگحت بیگم حیرت ذدہ سی گویا ہوٸیں تھیں

جی امی سحر ہی ہے وہ جس سے میں نے بے انتہا محبت کی ہے

حیدر سر جھکاۓ بولا تھا

تو بے وقوف لڑکے مجھے پہلے بتانا تھا نہ میں خود ہی بات کرلیتی اس سے نہ ہی وہ شاہ ویز اس کی زندگی میں برے خواب کی طرح آتا

نگحت بیگم نے لہجے میں خفگی سموۓ کہا

بس امی میں سمجھتا تھا سنی کے سیٹیل ہونے سے پہلے سحر شادی کے بارے میں نہیں سوچے گی اس وجہ سے میں پر سکون تھا لیکن میرے سکون میں اس دن خلل پڑا جب آپ نے مجھے سحر کی منگنی کی خبر سناٸی

اس دن مجھے احساس ہوا میں نے سحر کو کھو دیا لیکن میری محبت سچی تھی اوپر والے نے مجھی ایک اور موقع دے دیا

میں یہ موقع گوانا نہیں چاہتا میں بہت جلد سحر کو اپنے اندر سالوں سے پلتی محبت سے آگاہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں

حیدر نے جذباتی انداز میں تقریر جھاڑی

میری دعاٸیں تمھارے ساتھ ہیں میرے جذباتی بیٹے خدا تمھیں تمھارے مقصد میں کامیاب کرے

نگحت بیگم مسکراتی ہوٸی گویا ہوٸیں

حیدر بھی مسکرا دیا

حیدر اپنے دل میں پکہ ارادہ کرچکا تھا اب سحر کو مزید اپنی محبت سے لاعلم نہیں رکھے گا