Ladon Ka Pala by Misbah NovelR504184 Ladon Ka Pala Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Ladon Ka Pala Episode 2
Ladon Ka Pala by Misbah
سحر کیوں تم مجھ جیسی لڑکی کے لیے اپنے بھاٸ کی زندگی داٶں پر لگارہی ہو سنی جو کہہ رہا ہے ٹھیک کہہ رہا ہے اس کی عمر ہی کیا ہے ابھی اس عمر میں تو لڑکے سحروتفریح کے دیوانے ہوتے ہیں نٸے نٸے شوق پورے کرتے ہیں تم کیوں میری وجہ سے اس معصوم کی خواہشوں کو مار رہی ہو مشال کو لگا وہ سنی کے ساتھ غلط کررہی ہے
اس لیے اس نے سحر کو سمجھانا چاہا
سنی کو مشال کی باتوں سے تھوڑی ڈھارس ہوٸ اس نے پرسکون اندز میں پیچھے ہوکر صوفے سے ٹیک لگایا
لیکن سحر کی اگلی بات پر وہ جھٹکے سے سیدھا ہوا اور حیرانگی سے اپنی بڑی بڑی آنکھیں مزید بڑا کرکے مشال اور سحر کو تکنے لگا
مشال یہ تم کیا کہہ رہی ہو اس بچے کو لے کر کہاں جاؤ گی کیا کرو گی تم سحر نے مشال کے دونوں بازوں پکڑ کے اسے جھنجوڑا
چلی جاؤں گی کہی بھی کسی پہاڑی سے کھود کر اپنی جان دے دوں گی مشال نے روتے ہوۓ کہا
نہیں نہیں یہ تم کیسی باتیں کررہی ہو مشال خبردار جو تم نے اب ایسی بات کی تو سحر تڑپ اٹھی تھی
اور میں کیا کروں مجھ جیسی نافرمان لڑکی کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے میں نے اپنے ماں باپ کا مان اور بھاٸ کا غرور توڑا ہے مجھ جیسی لڑکی کا انجام یہ ہی ہونا چاہیے کتنا بھروسا کرتے ہیں حیدر بھاٸ مجھ پر کیا منہ لے کر جاؤں گی میں ان کےسامنے مشال کہتے کہتے سحر کے گلے لگ گٸ اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
یہ آپ لوگ کیا باتیں کررہی ہیں مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا سنی کب سے خاموش بیٹھا ان دونوں کی باتیں سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کچھ نہ سمجھ آنے پر صبر کا دامن چھوڑ کر پوچھ ہی لیا
سنی مشال پریگنینڈ ہے سحر کو اپنے بھاٸ سے یہ بات کہنا ٹھیک نہیں لگا لیکن سنی کو یہ بات بتانی ضروری تھی تاکہ وہ سنی کو شادی کے لیے راضی کرسکےآ آپی یہ کیسے ہو سکتا ہے ان کی تو شادی بھی نہیں ہوٸ سنی نے حیرانگی سے کہا
سنی اصل میں بات یہ ہے کہ کچھ ماہ پہلے مشال کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوٸ تھی
****-************-*******-****
بچاؤ پلیز کوٸ میری مدد کرو بچاؤ بچاؤ
ارے ارے روکی یہ کیا کررہے ہو خاموش ہوجاٶ ڈرا دیا بجاری لڑکی کو
سنیں مس وہ جو آنکھیں زور سے میچے کانوں پر ہاتھ رکھے مدد کے لیے چلا رہی تھی لڑکے کی آواز پر ہوش میں آٸ
اس نے اپنے سامنے ایک خوش شکل نوجوان کو کھڑا دیکھا ٹریک سوٹ زیب تن کیے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے گندمی رنگت کا مالک ساتواں ناک ہاتھ میں رولیکس کی گھڑی پہنے ہوۓ دوسرے ہاتھ میں ایپیل کا آٸفون تھامے وہ نہایت معزز انداز میں اسی سے مخاطب تھا
آٸ ایم سوری مس یہ میرا ڈوگ ہے اس کی طرف سے میں آپ کو سوری کہتا ہوں میں اس کو یہاں چھوڑ کر ایک ایمپورٹینٹ کال سننے گیا تھا
مجھے بہت ڈر لگتا ہے ڈوگز سے پلیز اسے ہٹاٸیں یہاں سے وہ لڑکی رندھی ہوٸ آواز میں گویا ہوٸ
اوکے اوکے آپ روٸیں نہیں یہ کچھ نہیں کرتا آپ نے ضرور کچھ کیا ہوگا ورنہ میرا روکی بلاوجہ کسی پر نہیں بھونکتا وہ خوش شکل نوجوان اپنے ڈوگ کی حمایت میں بولا اور مشال کا ڈر کم کرنے کی کوشش کی
می میں نے کچھ نہیں کیا وہ وہ ایک آدمی میرا پیچھا کررہا تھا میں گھبرا کر جلدی جلدی چلنے لگی مو مجھے معلوم نہیں تھا ڈوگ یہاں بیٹھا ہے میں غلطی سے اس کی دم پہ پر چڑھ گٸ پھر یہ بھونکنے لگا
مشال نے ڈوگ کو خوفزدہ نظروں سے دیکھتے ہوۓ جواب دیا
کیا آپ مجھے بتائيں گی کون پیچھا کررہا ہے آپ کا
لڑکے نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوۓ پوچھا جو مشال کے جواب دینے کے انداز سے اس خوش شکل نوجوان کو آٸ تھی
وہ جو کالا سا موٹا سا آدمی کھڑا ہے نہ کالا چشمہ لگاۓ ہوۓ وہ آدمی میرا پیچھا کررہا تھا مشال نے ان سے کچھ دور کھڑے ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا
وہ جو فون پر بات کررہا ہے نوجوان نے اس آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا
جی جی وہ ہی وہ کوٸ فون پر بات نہیں کررہا ڈرامے کررہا ہے ابھی میں آگے جاؤں گی تو میرے پیچھے آۓ گا
ہممم ٹھیک ہے روکی جاؤ ذرا اس آدمی کی عقل تو ٹھیکانے لگا کر آٶ نوجوان نے مسکراتے ہوۓ اپنے وفادار ڈوگ کو اشارہ کیا
روکی مالک کا اشارہ ملتے ہی اس آدمی پر حملہ آور ہوا اگلے ہی لمحے اس آدمی کی چیخے ہوا میں بلند ہوٸ تھیں
ارے بچاؤ کوٸ یہ کتا پاگل ہوگیا ہے ارے بچاؤ کوٸ مدد کرو میری کس کا کتا ہے یہ بھاٸ ہٹاٶ اسے وہ آدمی زمین پر پڑا کتے سے اپنا بچاؤ کرتا ہوا چلا رہا تھا
اس آدمی کی درگت بنتے دیکھ مشال کے نا روکنے والے قہقے شروع ہوگۓ تھے
وہ لڑکا مشال کے قہقوں میں کھو سا گیا تھا چاہتے ہوۓ بھی وہ مشال کے خوبصورت چہرے سے اپنی نظریں نہیں ہٹا پارہا تھا
مشال کو اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کا حصار محسوس ہوا تو مشال نے چونک کر نظروں کا زاویہ بدلہ
