Ladon Ka Pala by Misbah NovelR504184 Ladon Ka Pala Episode 17 (Last Episode Part 1)
No Download Link
Rate this Novel
Ladon Ka Pala Episode 17 (Last Episode Part 1)
Ladon Ka Pala by Misbah
حیدر ایسا نہیں بولیں آپ بہت اچھے ہیں اس دن آپ نے میری بھی تو حفاظت کی تھی اگر آپ وقت پر نہ آتے تو نہ جانے میرا کیا حال ہوتا آپ ہر جگہ سہی وقت پر موجود تو نہیں ہوسکتے نہ
پلیز خود کو ملامت کرنا بند کریں آپ یہ سوچیں جو بھی ہوا لیکن مشال اب سہی ہاتھوں میں ہے حیدر سنی بہت محبت کرتا ہے مشال سے اس کے روٹھ کے جانے سے وہ بہت اداس ہوگیا ہے لیکن اس نے مجھے یقین دلایا ہے وہ جلد منا لے گا مشال کو آپ پریشان نہیں ہو
سحر نے حیدر کو نرمی سے سمجھایا
ہممم مشال بھی بہت اداس ہے میں اپنی بہن کو ایسے نہیں دیکھ سکتا اس کو بولو جلدی سے مناۓ مشال کو اور لے جاۓ اپنے ساتھ واپس
حیدر نے آنکھوں میں آٸی نمی صاف کرتے ہوۓ مسکراتے ہوۓ کہا
جی وہ کوشش کررہا ہے وہ جلد مان جاۓ گی
سحر بھی مسکراٸی
اچھا اب سوجاٶ پھر صبح تمھاری آنکھ نہیں کھولے گی
اوکے حیدر گڈ ناٸٹ
گڈ ناٸٹ حیدر کی جان
دونوں اپنے بستروں پر دراز ہوکر آنکھیں موند گۓ تھے
سنی کی آنکھ کھولی تو نہ اس کی سماعتوں میں حسن کی کلکاریاں گونجی نہ کمرے میں ہنستی بولتی مشال نظر آٸی
وہ سست روی سے اٹھ کر واشروم چلا گیا
سحر کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی سنی بھی اترا ہوا منہ لے کر کچن میں آگیا
گڈ مارنیگ آپی
گڈمارنیگ میرے جان
چلو بیٹھ جاٶ میں ناشتہ لگا رہی ہوں
سنی خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گیا
سحر نے ناشتہ لگایا پھر خود بھی ناشتہ کرنے بیٹھ گٸ
مشال
جی بھاٸی
وہ دونوں بیٹھ کر ناشتہ کررہے تھے حیدر نے مشال کا حال جاننے کی کوشش کی
سب ٹھیک ہے نہ
جی بھاٸی سب ٹھیک ہے
مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہیں کوٸی بات ہے تو مجھے بتاٶ
مشال کا منہ میں جاتا ہاتھ روکا تھا
جی بھاٸی سب ٹھیک ہے
مشال نے بامشکل مسکراتے ہوۓ جواب دیا
میری گڑیا ہنستی کھیلتی اچھی لگتی ہو ایسی خاموش خاموش نہیں
حیدر نے پیار سے کہا
جی بھاٸی بس یہ حسن تنگ بہت کرتا ہے اس کی وجہ سے تھوڑی پریشان ہوجاتی ہوں
مشال نے منہ بناتے ہوۓ کہا
چھوٹے بچے تو ایسے ہی تنگ کرتے ہیں تم بھی امی کو ایسی تنگ کرتی تھیں اب حسن بدلے لے گا تم سے امی کے
حیدر مشال کو چھیڑتا ہنسنے لگا
بھاٸی آپ بھی نہ میں نے کوٸی تنگ نہیں کیا امی کو بللکہ آپ تنگ کرتے تھے
مشال برا مانتے ہوۓ بولی دونوں بہن بھاٸی کی محبت بھری تکرار شروع ہوگٸ تھی
مشال کی گود میں لیٹا حسن اپنے ماموں اور امی کو اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھولے کھلکھلاتے ہوۓ دیکھتا رہا
تھوڑی دیر بعد حیدر مشال کو اچھا خاصا تنگ کرکے آفس کے لیے نکل گیا تھا
اَلسَلامُ عَلَيْكُم حیدر بھاٸی
سنی نے دروازہ کھولتے ہی احترام سے سلام کیا
وَعَلَيْكُم السَّلَام میرے بھاٸی
حیدر خوش دلی سے سنی سے بغلگیر ہوا
سنی حیرت کا مجسمہ بنا کھڑا تھا
کیونکہ مشال سے شادی کے بعد حیدر سنی سے بلکل بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا بس دور دور سے ہی سلام دعا کرتا تھا آج تو خود سے گلے ملا تھا
سنی تمھیں یقین نہیں ہورہا نہ میں تم سے اتنی اچھی طرح پیش آرہا ہوں مجھے معاف کردو سنی میں نے تمھارے ساتھ بہت برا سلوک کیا تم سے سیدھی طرح بات نہیں کرتا تھا تم نے تو میرا سر جھکنے سے بچا لیا مجھے میرے گھر والوں کو بےعزت ہونے سے بچا لیا سنی میں بہت شرمندہ ہوں اپنے رویے پر پلیز مجھے معاف کردو
حیدر نے بنا دیر کیے اپنے رویے کی سنی سے معافی مانگ لی
بھاٸی آپ میرے بڑے ہیں میں نے کبھی بھی آپ کی کسی بات کا برا نہیں مانا بھاٸی پلیز مجھے شرمندہ نہیں کریں
سنی نے کھلے دل کا مظاہرا کیا
سنی تم بہت اچھے ہو سچ میں خود بھی اپنی بہن کے لیے تمھارے جیسا ہیرا نہیں تلاش کر سکتا تھا
حیدر نے جذباتی ہوکر سنی کو دوبارہ گلے لگا لیا سنی نے بھی اپنے بازوں حیدر کے گرد پھیلا لیے
دونوں بھاٸیوں کا ملاپ ہوگیا ہو تو ہمیں نکلنا چاہیے دیر ہورہی ہے سحر جو کب سے ان کو باتیں کرتا دیکھ رہی تھی بول پڑی
ارے ہاں بیگم میں تو بھول ہی گیا چلو چلتے ہیں
حیدر شوخ لہجے میں بولا
جی جاٸیں آپ لوگ میں بھی یونی کے لیے نکل رہا ہوں
سنی بھی مسکراتا گویا ہوا
ہممم چلو خدا حافظ
خدا حافظ
وہ تینوں ایک دوسرے کو الوداع کہتے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگۓ تھے
تین دن گزر گۓ تھے لیکن مشال مان ہی نہیں رہی خود تو تکلیف سے گزر رہی تھی سنی کو بھی تکلیف دے ری تھی
سنی کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا وہ آج یونی سے سیدھا مشال کے گھر پہنچ گیا تھا
اَلسَلامُ عَلَيْكُم آنٹی
وَعَلَيْكُم السَّلَام کیسا ہے میرا بچہ
نگحت بیگم نے محبت سے پوچھا
جی آنٹی میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں
بیٹا میں بھی ٹھیک ہوں نگحت بیگم نرمی سے بولیں
مشی نظر نہیں آرہیں کہاں ہیں وہ
سنی نے نظریں چاروں اطرف ڈالتے ہوۓ کہا
بیٹا وہ روم میں ہے ابھی گٸ ہے تم بیٹھو میں بولا کر لاتی ہوں
نگحت بیگم صوفے سے اٹھنے والی تھیں
سنی نے ہاتھ پکڑ کر دوبارہ بیٹھا لیا
آنٹی آپ رہنے دیں میں روم میں ہی چلا جاتا ہوں ان سے ملنے
سنی اٹھ کر مشال کے روم میں چلا گیا
سنی بنا دستک دیے دھڑلے سے کمرے میں گھس گیا
مشال بیڈ پر دوپٹہ رکھے حسن سے مستیاں کرنے میں مصروف تھی دروازہ کھولنے کی آواز پر سر اوپر کیا تو سنی سامنے کھڑا تھا
مشال کی رگ رگ میں سکون اترتا چلا گیا لیکن ناراضگی تو دیکھانی ہی تھی
تم تم یہاں کیا کررہے ہو اور تمھیں تمیز نہیں ہے کسی کے روم میں ناک کرکے داخل ہوتے ہیں
مشال نے غصہ دیکھایا ساتھ میں اپنا دوپٹہ بھی اوڑھا
اپنی بیوی کے روم میں کون پاگل آتا ہے اجازت لے کر
سنی بیڈ پر پھیل کر لیٹ گیا حسن کو بیڈ سے اٹھا کر اپنے سینے پر لیٹا لیا
کیسا ہے میرا بیٹا
بابا کو یاد کیا
بابا نے تو بہت یاد کیا اپنے بیٹے کو
اور تھوڑا تھوڑا ماما کو بھی یاد کیا آپ کی
سنی مشال کو مکمل نظر انداز کیے حسن سے گفتگو میں مصروف تھا جیسے حسن سچ میں اس کی باتیں سمجھ رہا ہو
حسن تو اپنے باپ کی باتیں سن سن کر گو گو کررہا تھا
سنی چلے جاٶ یہاں سے
مشال نے دانت پیس کر کہا
اسے اپنا آپ نظر انداز کرنا بلکل پسند نہیں آیا
مشی یار کتنا ظلم کریں گی مان بھی جاٸیں اب پلیز اب نہیں بولوں گا ایسی باتیں آپ کو میں روز پیزا بھی کھلاٶں گا آپ کو
سنی حسن کو دوبارہ بیڈ پر لیٹا کر مشال کے سامنے آکھڑا ہوا
تم نہیں جاٶ گے نہ میں ہی چلی جاتی ہوں
مشال غصے سے کہتی آگے بڑھی ہی تھی سنی نے اس کی کلاٸی تھام لی
”او میری محبوبہ“
”محبوبہ محبوبہ “
”تجھے جانا ہے تو جا “
”تیری مرضی میرا کیا “
”پر دیکھ توں جو روٹھ کر ”
”چلی جاۓ گی”
”تیرے ساتھ ہی “
”میرے مرنے کی“
”خبر جاۓ گی “
او میری محبوبہ“
”محبوبہ محبوبہ“
”تجھے جانا ہے تو جا “
”تیری مرضی میرا کیا“
مشال پھٹی آنکھوں کھلے منہ کے ساتھ سنی کو تک رہی تھی سنی نے زندگی میں پہلی بار مشال کے لیے گانا گایا تھا
سنی نے یہ گانا آج ہی یونی میں سنا تھا ایک لڑکا اپنی گرل فرینڈ کو منانے کے لیے گا رہا تھا اس نے یاد کرلیا
مشی اب تو معاف کردیں
سنی نے مشال کی کلاٸی چھوڑ کر دونوں ہاتھوں سے کان پکڑ لیے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا
مشال کھلکھلا کر ہنس دی
میں تمھیں معاف کردوں گی اگر تم روز مجھے ایک سونگ سناٶ تو
کیوں نہیں مشی ایک کیا چار سناٶ گا
سنی خوش ہوتا واپس کھڑا ہوگیا
پھر ٹھیک ہے میں نے تمھیں معاف کیا
مشال مسکراتی ہوٸی بولی
او مشی آپ جانتی نہیں میں کتنا خوش ہوں آج
سنی مشال کو اپنی بانہوں میں لے چکا تھا
مشال نے بھی اپنے ہاتھ سنی کی کمر کے گرد حماٸل کردیے تھے
اب آپ گھر چلیں گیں میرے ساتھ
سنی مشال سے الگ ہوتا بولا
ہاں چلوں گی لیکن پہلے کھانا کھاٶ میرے ساتھ مجھے بہت زوروں کی بھوک لگی ہے
مشال نے پیٹ پکڑ کر کہا
جی جی میں ضرور کھاٶں گا کھانا آپ روم میں ہی لے آٸیں
اوکے میں ابھی لاتی ہوں تم حسن کا خیال رکھنا
مشال سنی کو تاکید کرتی کمرے سے باہر نکل گٸ
دونوں کھانا کھا کر نگحت بیگم کو اپنے گھر جانے کی اطلاع دے کر گھر آگۓ
نگحت بیگم کو بلکل حیرانی نہیں ہوٸی مشال کے اس طرح جانے پر کیونکہ ان کو معلوم تھا وہ دونوں ایک دوسرے سے زیادہ دن تک دور نہیں رہ سکتے تھے
ارے یہ کیا ہمارے گھر کی رونقیں لوٹ آٸی ہیں
سحر آفس سے ابھی لوٹی تھی
لاٶنج میں حسن مشال کو بیٹے دیکھ کر خوشگوار لہجے میں بولی تھی
جی میڈم آگٸ ہوں تمھارا بھاٸی کامیاب ہوگیا مجھے منانے میں
مشال اپنی پرانی ٹون میں واپس آچکی تھی
سنی کہاں ہے
سحر نے چاروں طرف نظریں دوڑاتے ہوۓ کہا
وہ نہا رہا ہے کیفے جاۓ گا نہ
مشال نے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا
اچھا میں بھی فریش ہوکر آتی ہوں پھر بیٹھ کر باتیں کرے گے
ہمممم ٹھیک ہے میں بھی سب کے لیے جاۓ بنا لیتی ہوں سب ساتھ بیٹھ کر پٸیے گے
مشال بھی حسن کو لیے صوفے سے کھڑی ہوگٸ
اوکے سحر اپنے کمرے میں چلی گٸ
مشال کچن میں
اَلسَلامُ عَلَيْكُم امی یہ گھر میں اتنا سنناٹا کیوں ہے
حیدر نے گھر میں داخل ہوتے ہی سلام کے ساتھ سوال بھی پوچھ ڈالا
وَعَلَيْكُم السَّلَام بیٹا گھر میں سنناٹا اس لیے ہے کیونکہ مشال واپس اپنے گھر چلی گٸ ہے سنی آیا تھا دوپہر کو وہ لے گیا
نگحت بیگم نے تفصیلی جواب دیا
ہمم دونوں سے ہی نہیں رہا جاتا ہے ایک دوسرے کے بغیر
حیدر نے داٸیں باٸیں گردن ہلاتے ہوۓ کہا
ہمم ٹھیک کہہ رہے ہو چلو تم فریش ہوکر آٶ میں کھانا لاتی ہوں تمھارے لیے
نگحت بیگم مسکراتی ہوٸیں کچن میں چلیں گٸیں حیدر اپنے کمرے میں چلا گیا
ہر چیز جان لینے کے بعد سنی کا مشال کو دیکھنے کا نظریہ بدل گیا تھا
وہ مشال کو اب محبت بھری نظروں سے دیکھتا کبھی اس کی نظریں مشال کے ہلتے لبوں پر ٹک جاتیں تو کبھی مشال کی شفاف گردن پر
مشال دیکھ لیتی تو فوراً نظروں کا زاویہ بدل لیتا
سنی کی بولتی نظروں سے مشال بھی آگاہ ہوچکی تھی
لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پارہی تھی سنی کے اندر اتنا بدلاٶ کیسے آگیا
سحر نے ابھی مشال کو سنی اور اپنے درمیان ہونے والی بات نہیں بتاٸی تھی
جی آپ کون ؟
میں شاہ ویز حمدانی
کیا حنا سرفراز یہی رہتی ہیں ؟
شاہ ویز آج ہمت کرکے حنا کے گھر آیا تھا تاکہ اس سے معافی مانگ سکے عاصم تو اس دن سے گھر ہی نہیں لوٹا تھا
شاہویز کا نام سنتے ہی سامنے کھڑے شخص کے تیور بگڑے تھے
میری بہن کی زندگی برباد کرکے اب کیا لینے آۓ ہو یہاں چلے جاٶ یہاں سے اس سے پہلے میں خود پر قابوں کھو بیٹھوں
فرحان (حنا کا بڑا بھاٸی ) غصے سے دھاڑا تھا
دیکھیں میں اپنے بھاٸی کی طرف سے معافی مانگنے آیا ہوں مجھے اپنے بھاٸی کی کرتوتوں کا علم نہیں تھا اگر مجھے معلوم ہوتا میرا بھاٸی انسانی شکل میں بھیڑیا ہے میں کبھی بھی حنا کو اس کے رحم و کرم نہ چھوڑتا پلیز ایک دفع حنا سےملنے دیں میں اس سے مل کر معافی مانگنا چاہتا ہوں
شاہ ویز نے ملتجی لہجے میں کہا
تمھارے معافی مانگنے سے سب ٹھیک ہوجاۓ گا ہماری خاندان میں بدنامی ہوٸی حنا کی عزت پر کتنی ہی انگلیاں اٹھاٸی گٸ وہ پاک اور بے قصور ہوتے ہوۓ بھی گناہگار ٹہراٸی گٸ تم جانتے ہو میری بہن ایک دفع خود خوشی کی کوشش بھی کرچکی ہے
فرحان شاہ ویز کا گریبان پکڑے رندھے ہوۓ لہجے میں بولا تھا
لیکن اس دن کچھ نہیں ہوا تھا حنا میرے بھاٸی کے ہاتھوں سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوگٸ تھی
شاہ ویز نے ناسمجھی سے کہا
اس دن میری بہن بکھری حالت میں گھر لوٹتے ہی بےہوش ہوگٸ تھی
گھر میں پھوپھو آٸی ہوٸیں تھیں اپنی فیملی کے ساتھ اپنے بیٹے کا رشتے لے کر حنا کے لیے
لیکن جب حنا کو اس حالت میں دیکھا (حنا کی ایک آستین پھٹی ہوٸی تھی بال بکھرے ہوۓ تھے چہرے پر خراشے تھیں دونوں ہاتھوں کی کلاٸیوں پر انگلیوں کے نشان تھے ) تو پھوپھو نے خوب واویلا کیا
وہ ہمیشہ سے میری بہن کی پڑھاٸی اور جاب کے خلاف تھیں انھوں نے میری بہن پر گھٹیا الزام لگانے شروع کردیے
بابا نے غصے میں پھوپھو سے ہر تعلق ختم کرلیا
اس کے بعد پھوپھو نے میری بہن کو پورے حاندان میں بدنام کردیا
ہوش میں آنے کے بعد اس نے ہمیں ساری بات بتاٸی تو ہم نے شکر ادا کیا ہماری عزت محفوظ ہے
لیکن پھوپھو نے ہی وہ عزت محفوظ نہیں رہنے دی میری بہن کو اندھیروں میں دھکیل دیا
میری ہنستی کھیلتی بہن مرجھاۓ ہوۓ پھولوں کے ماند ہوگٸ ہے نہ جانے اس کو کوٸی بیاہ کر لے جاۓ گا بھی کہ نہیں
شاہ ویز کو فرحان کی زبان سے حنا کے متعلق سن کر بہت دکھ ہوا وہ اس کو دلاسا بھی نہ دے سکا جھکے کندھے شکستہ قدم اٹھاتا شاہویز واپس گھر لوٹ آیا تھا
اس دن عاصم حنا کو اپنے آفس روم میں لے گیا
کافی دیر تک حنا کو بہلاتا رہا چھٹی کا وقت قریب تھا ایک ایک کرکے سب ہی آفس سے نکل گۓ شاہ ویز پہلے ہی نکل چکا تھا
آفس میں اب صرف حنا اور عاصم ہی بچے تھے
عاصم نے موقعے سے فاٸدہ اٹھاتے ہوۓ حنا کی چادر اتارنی چاہی
حنا نے چادر پکڑ لی
سر یہ کیا کررہے ہیں
حنا ڈارلینگ مجھ سے کیا شرمانا اب یہ شرم کے پردے گیرا دو ہم دونوں کے درمیان سے
عاصم نے ایک جھٹکے سے حنا کی چادر کھینچ کر دور اچھالی تھی
س سر یہ کی کیا کر رہے ہیں مجھے گھر جانا ہے
حنا خوف کے مارے جلدی سے کرسی سے اٹھ کھڑی ہوٸی
ابھی نہیں بےبی اتنے دنوں سے تم پر محنت کررہا ہوں اپنا معاوضہ تو وصول کرنے دو
عاصم نے حنا کی کلاٸی دبوچ کر اسے اپنی طرف کھنیچا تھا
نہیں نہیں سر نہیں پلیز میں تو آپ کو اپنے بڑے بھاٸی کی طرح سمجھتی تھی ایسا نہیں کریں پلیز
حنا عاصم کی گرفت میں مچلتی اس سے دور ہونے کی کوشش کررہی تھی
دیکھو بھاٸی نہیں بولو نہیں تو میں ناراض ہوجاٶں گا
عاصم نے ناراض ہونے کی اداکاری کرتے ہوۓ کہا
پلیز سر میں ہاتھ جوڑی ہوں آپ کے آگے مجھے جانے دیں سر پلیز
حنا ہاتھ جوڑتی گویا ہوٸی تھی آنکھیں اشک بار تھی چہرا سرخ ہوگیا تھا
مجھے خوش کردو عزت سے گھر پر چھوڑ کر آٶں گا
عاصم نے حنا کے بکھرے بال کان کے پیچھے کرتے ہوۓ کہا
عزت بچے گی ہی کہا پھر پلیز سر جانے دیں
نہیں کہہ دیا نہ بس چلو بس بہت نخرے اٹھالیے تمھارے اب وقت ہے تھوڑے مزے کرنے کا
پہلی بات سخت سے کہتا آخری جملا شوخ لہجے میں کہتا اس نے حنا کا بازوں پکڑ کر روم میں رکھے صوفے پر پٹخا تھا
وہ حنا کا کے اوپر جھک گیا تھا اس نے حنا کی آستین بھی پھاڑ دی تھی حنا اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے خود سے دور رکھنے کی کوشش کررہی تھی وہ مسلسل چیخ بھی رہی تھی لیکن وہاں کوٸی موجود ہوتا تو اس کی مدد کو آتا نہ
حنا کی نظر پاس رکھے گلدان پر پڑی حنا نے اپنی پوری طاقت سرو کرکے عاصم کو زور سے دھکا دیا
عاصم گرتے گرتے بچا
you bloody bich
تمھاری ہمت کیسے ہوٸی مجھے دھکا دینے کی
عاصم تلملاتا ہوا دوبارہ حنا کی طرف بڑھا
حنا برق رفتاری سے صوفے سے اٹھی گلدان اٹھا کر قریب آتے عاصم کے سر پر دے مارا
عاصم کا سر چکرا کر رہ گیا وہ سر پکڑ کر وہی صوفے پر ڈھے گیا
حنا نے موقعے سے فاٸدہ اٹھاتے ہوۓ اپنی چادر لی اور وہاں سے بھاگ نکلی
وہ اپنا پرس موباٸل سب آفس میں ہی چھوڑ آٸی تھی کسی کو فون بھی نہیں کرسکتی تھی
وہ اپنی رفتار سے سڑک پر بھاگ رہی تھی آتے جاتے لوگ اس پر مشکوک سی نظر ڈالتے اور آگے نکل جاتے
وہ آدھے گھنٹے کی مشقت کے بعد اپنے گھر پہنچ گٸ تھی
فرحان اس کو لینے کے لیے نکل رہا تھا حنا کو دیکھ کر فوراً اس کی طرف بڑھا
وہ جو گرنے ہی والی تھی فرحان کا سہارا پاتے ہی اس بانہوں میں جھول گٸ تھی
فرحان اس کو بانہوں میں بھر کر گھر لے آیا تھا
اس کی پھوپھو حنا کے کردار کو چھلنی کرتی اپنے گھر لوٹ گٸ تھی
حنا کو ہوش آیا تو اس نے اپنی آب بیتی سب کو سناٸی
فرحان کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا
بابا میں ابھی جاکر پولیس میں کمپلین کرتا ہوں وہ گھٹیا آدمی جیل کی ہوا کھاۓ گا نہ سارا گند اس کے دماغ سے نکل جاۓ گا
فرحان پاگل ہوگۓ ہو تمھاری بہن عزت سے گھر لوٹ آٸی ہے یہ ہی بہت ہے وہ بڑے لوگ ہیں ہمارا ان کا کیا مقابلہ وہ اپنے پیسوں کے زور پر آزاد ہوجاۓ گا بدنامی تو تمھاری بہن کی ہوگی نہ
لیکن بابا
فرحان بیٹا دیکھ میرے چوڑے ہاتھ دیکھ لے بس ختم کر یہ بحث حنا کے لیے کوٸی مناسب رشتہ تلاش کر بس اس کو عزت سے اپنے گھر کا کردیں ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے
فرحان اپنی ماں کے آگے بےبس ہوگیا تھا وہ آگےکچھ نہ بول سکا
رات کا وقت تھا مشال حسن کو سلا کر اس کی کارٹ میں لیٹا کر خود بھی لیٹ گٸ کچھ فاصلے پر سنی لیٹا مشال کو ہی تک رہا تھا
کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہے ہو
مشال کے سوال کرنے پر سنی سیدھا ہوکر لیٹ گیا نظریں چھت کی طرف جما لیں
کچھ نہیں سوجاٸیں آپ
سنی خود کو بہت بے بس محسوس کررہا تھا وہ چاہا کر بھی مشال کے قریب جانے کی ہمت نہیں جوٹا پا رہا تھا
سنی تم ٹھیک ہو نہ کوٸی بات ہے تو مجھ سے شٸر کرو
مشال نے فکرمندی سے استفسار کیا
آپ نے مجھے بےبس کردیا ہے
سنی اپنے دل کی بات زبان پر لے آیا
کیا مطلب سنی میں سمجھی نہیں
سو جاٸیں
سنی نے مشال کی طرف پشت کرلی
مشال تھوڑی دیر سوچتی رہی لیکن پھر سمجھ آنے پر سرخ ہوگٸ لیکن وہ سنی کو اس کے حق سے محروم نہیں رکھنا چاہتی تھی سنی نے بھی تو اس کے لیے کتنا کچھ کیا تھا
مشال ہمت کرتی آگے بڑھی سنی کو واپس سیدھا کیا
مشی کیا کررہی ہیں
سنی نے مشال کی حرکت پر بوکھلا کر پوچھا
جو تم چاہتے ہو
مشال کہ کر روکی نہیں تھی سنی کے لبوں پر جھک گٸ تھی
سنی آنکھیں پھاڑیں مشال کی حرکت ملاحظہ فرما رہا تھا
سنی مزید خود کو نہیں روک سکا
مشال کی کمر میں ہاتھ ڈال کر ایک ہی جست میں اس کو بیڈ پر لیٹایا اور خود اس پر جھک گیا
مشال کے گلے سے دوپٹہ اتار کر دور اچھالا اپنی شرٹ کے بٹن کھولتا مشال پر مزید جھکتا گیا
مشال سنی کی قربت میں خود کو بھول چکی تھی سنی نرمی اور احتیاط سے مشال پر اپنی محبت کی بارش کررہا تھا
رات قطرا قطرا گزر رہی تھی مشال سنی کی محبت تکمیل کو پہنچ چکی تھی
صبح مشال کی آنکھ کھلی تو خود کو سنی کی بانہوں میں پایا
مشال نے شرماتے ہوۓ سنی کا ہاتھ اپنے اوپرسے ہٹایا اور بنا آہٹ کے بیڈ سے اٹھ کر اپنے کپڑے نکال کر واشروم میں چلی گٸ کچھ دیر بعد تیار ہوکر سوتے ہوۓ سنی پر مسکراتی نظر ڈال کمرے سے نکل گٸ
سحر کچن میں داخل ہوٸی تو مشال گنگناتی ہوٸی ناشتہ تیار کرہی تھی
کیا بات ہے میڈم آج بہت خوش لگ رہی ہیں
سحر نے مشال کو چھیڑا
ہاں تو نہیں ہونا چاہیے مجھے خوش میرا شوہر سمجھدار جو ہوگیا ہے
مشال نے رخ موڑ کر سحر کو دیکھا
مشال سحر کو آج اور زیادہ خوبصورت لگی اس کی آنکھوں کے ساتھ چہرے پر بھی چمک تھی
سحر نے غور سے مشال کو دیکھا اس کا نکھرا نکھرا چہرا نم بال سحر سمجھ گٸ مشال کیوں اتنی خوش ہے
مشال کیا جو میں سمجھ رہی ہوں سچ میں وہی بات ہے
سحر نے اوپرسے نیچے تک مشال کا معاٸنہ کرتےہوۓ کہا
ہاں بلکل جب ہی تو کہہ رہی ہوں میرا شوہر سمجھدار ہوگیا ہے
مشال نے دوپٹے کا کونہ انگلی پر لپیٹتے ہوۓ کہا
ہاۓ میری پیاری بھابھی تم ہمیشہ ایسے ہی خوش رہو
سحر خوشی سے مشال کے گلے لگ گٸ
وہ خوش تھی اس کی دوست کو اس کی خوشیاں مل گٸ تھی
دونوں باتوں میں لگیں تھیں
حسن کی آواز سماعتوں میں پڑتے ہی مشال جلدی سے کمرے کی طرف بھاگی
وہ کمرے میں داخل ہوٸی سنی حسن کو گود میں لیٸے پچکار رہا تھا
میرا بیٹا آرہی ہیں ماما ابھی ایسے نہیں روتے میرا بچہ
مشال مسکراتی ہوٸی سنی کے پاس آٸی
لاٶ سنی مجھے دے دو حسن کو یہ تم سے چپ نہیں ہوگا
مشال نے سنی کی طرف ہاتھ پھیلاتے ہوۓ کہا
سنی نے احتیاط سے حسن کو مشال کو دے دیا
سنی شرمایا شرمایا سا خاموشی سے بیڈ سے اٹھ کر الماری سے اپنے کپڑے نکال کر واشروم میں بند ہوگیا
مشال داٸیں باٸیں گردن ہلا کر رہ گٸ
(اس کا کچھ نہیں ہوسکتا )
مشال حسن کو تیار کرکے روم سے باہر لے آٸی
سحر نے تیار شیار گولوں مولوں سے حسن کو دیکھ کر فوراً مشال سے لے لیا
ہاۓ میرا گڈا کتنا پیارا لگ رہا ہے
سحر نے گود میں لیتے ہی حسن کو چوم چوم کر رولا ہی دیا
یار سحر یہ کیا کیا تم نے اتنی مشکل سے چپ کروایا تھا اس کو
مشال نے منہ بناتے ہوۓ کہا
تم کیوں فکر کرتی ہو میں نے رولایا ہے نہ میں چپ کروالوں گی جاٶ تم اپنا کام کرو
سحر مشال کو کہتی دوبارہ حسن کی طرف متوجہ ہوگٸ اور اس کو منٹوں میں چپ بھی کروا دیا تھا
کچھ دیر بعد سحر ناشتہ کرکے آفس چلی گٸ تھی
سنی یونی جانے کے لیے تیار کھڑا تھا
اچھا مشی میں چلتا ہوں اپنا اور حسن کا خیال رکھیے گا
ہمممم بلکل رکھوں گی تم بھی اپنا خیال رکھنا اور پیزا لیتے آنا میرے لیے
مشال سنی کے مقابل آتے بولی
مشال کے ہلتے لب سنی کو شرارت کرنے پر اکسا رہی تھے سنی ایک بار پھر بےخود ہوگیا تھا
مشال کو کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کرتا اس کے ہونٹوں پر جھکا تھا
مشال آنکھیں بند کیے سنی کا کالر پکڑے سنی کی سانسوں کی مہک کو اپنے اندر اترتا محسوس کررہی تھی
خدا حافظ سنی پیچھے ہوتا مشال کے رخسار کو اپنے لبوں سے چھوتا گھر سے باہر نکل گیا
مشال سنی کے سحر سے لوٹتی مسکراتی شرماتی گھر کے کاموں میں مصروف ہوگٸ تھی
سب ٹھیک ہے گھر پر مشال سنی کی صلح ہوگٸ
حیدر نے کار ڈراٸیو کرتے ہوۓ استفسار کیا
ٹھیک حیدر ٹھیک تو کیا سب کچھ بہت بہت اچھا ہوگیا ہے سنی نے حیدر کو منا لیا ہے وہ بھی گانا سنا کر مشال بہت خوش ہے ان کے درمیان میاں بیوی والا تعلق بھی قاٸم ہوگیا ہے اور ۔۔۔
ہمارے درمیان کب ہوگا میاں بیوی والا تعلق قاٸم
سحر کی بات پوری ہونے سے پہلے حیدر اپنے مطلب کی بات اچک لی
حیدر آپ کچھ زیادہ ہی فری نہیں ہوتے جارہے
سحر نے آنکھیں سکیڑ کر حیدر کو گھورا
تم سے نہیں تو نتاشا سے فری ہوں
حیدر نے سحر کی ناک پکڑتے ہوۓ کہا
حیدر ناک نہیں پکڑا کرے یار درد ہوتا ہے
سحر نے ناک سہلاتے ہوۓ کہا
اچھا نہیں پکڑوں گا اب سوری
حیدر نے ایک ہاتھ سے کان پکڑ کر کہا
دونوں باتیں کرتے آفس پہنچ گۓ
مشی
ہمممم
یہاں آٸیں نہ میرے پاس
سنی مشال دوپہر کا کھانا کھا کر آرام کے غرض سے کمرے میں لیٹے تھے لیکن حسن صاحب سے کہاں برداشت ہوتا مشال کا آرام انھوں نے ڈاٸپر گندہ کر لیا پھر گلا پھاڑ پھاڑ کر رونے لگے
بیچاری مشال دوبارہ اٹھ کر اس کو صاف کرنے لگی اب اس نے بڑی مشکل سے چپ کروا کر فیڈ کروایا پھر اس کو کارٹ میں لیٹا دیا ابھی وہ لیٹی تھی سنی نے حکم دے دیا
وہ تھوڑا آگے کھسک کر سنی کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گٸ
سنی تم سے ایک بات پوچھوں
مشال سنی کی شرٹ کے بٹنوں سے کھیلتی گویا ہوٸی
جی پوچھیں
سنی نے مشال کا ہاتھ اپنے لبوں سے چھوتے ہوۓ اجازت دی
وہ تم کو تو یہ سب معلوم نہیں تو کیسے علم ہوا بیوی کے حقوق کا
مشی اس دن آپ سے بلاوجہ لڑاٸی کی تھی نہ تو اس کے بعد۔۔۔۔۔
پھر سنی نے مشال کو پوری بات بتادی
اوہ جب ہی تم اتنے سمجھدار ہوگۓ ہو
مشال داد دیتے انداز میں بولی
جی بلکل ماۓ سویٹ واٸف
سنی پوری طرح مشال کی طرف رخ کرکے لیٹ گیا
ماۓ سویٹ ہسبینڈ تم نے مجھے سونگ نہیں سنایا دوبارہ
مشال نے بھی سنی کے انداز میں جواب دیا
وہ مشی یاد نہیں مجھے کوٸی سونگ
سنی نے سر کھجاتے ہوۓ کہا
اچھا وہ سونگ کہاں سے یاد کیا تھا
مشال نے سنی کے سینے سے سر اٹھا کر پوچھا
وہ میں نے سنا تھا یونی میں تو میں نے آپ کو سنا دیا
او اچھا تمھیں کیسے پتا چلا میں یہ سونگ سن کر مان جاٶں گی
وہ یونی میں لڑکی بھی مان گٸ تھی تو میں۔۔۔۔۔
کیا لڑکی کونسی لڑکی
سنی کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی مشال نے سنی کی بات کاٹ دی
سنی ہلکا سا مسکرایا
مشال جو اس کے پہلو سے اٹھ بیٹھی تھی سنی نے دوبارہ اس کو اپنے پہلو میں لیٹا لیا
مشی آپ ناراض کیوں ہورہی ہیں بھٸ یونی میں لڑکے کی گرل فرینڈ اس سے ناراض ہوگٸ تھی تو اس لڑکے نے اپنی گرل فرینڈ کو منانے کے لیے گانا گایا تھا یہ سونگ سن کر وہ لڑکی مان گٸ تو میں نے سوچا آپ بھی مان جاٸیں گیں
سنی کے تفصیل سے بتانے پر مشال کے تنے نقوش نرم پڑے
مشال نے مسکراتے ہوۓ سنی کی دونوں آنکھیں چوم لیں
مجھے تمھاری نیلی آنکھیں بہت پسند ہیں
اور مجھے آپ کی سنی نے مشال کی دونوں آنکھوں پر لب رکھتے ہوۓ کہا
دونوں ایک دوسرے میں کھوۓ تھے
سحر کی آواز پر ہوش میں آۓ
سحر آفس سے ابھی لوٹی تھی لاٶنج خالی دیکھ کر مشال سنی کو آوازیں لگانے لگی
آگٸ سحر تم فریش ہوکر آٶ میں چاۓ بنا رہی ہوں تینوں ساتھ بیٹھ کر پٸیے گے پھر تم کیفے چلے جانا
اوکے جیسا آپکا حکم
سنی مسکراتا ہوا اٹھ گیا
مشال کارٹ میں سے حسن کو اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گٸ
شکر ہے تم لوگ گھر میں ہو مجھے تو لگا تم مجھے اکیلا چھوڑ کر کہی سیرو تفریح پر نکل گۓ ہو
سحر نے مشال کو کمرے سے نکلتا دیکھ خفگی سے کہا
ہاں تو تمھیں چھوڑ کر ہم اکیلے چلیں بھی جاٸیں تو کیا تم بھی چلی جانا اپنے شوہر کے ساتھ گھومنے اب ہم ہر جگہ تو تمیں اپنے ساتھ لے جانے سے تو رہے
مشال نے بلکل بھابھیوں والے انداز میں کہا
سحر منہ کھولے مشال کو دیکھ رہی تھی
بے مروت شوہر ملتے ہی بھابھیوں والے انداز اپنا لیے تم نے دوست کو بھول گٸیں
سحر نے جل کر کہا
یار سحر تم تو نند ہی بن گٸیں میں تو مزاق کررہی تھی
مشال نے برا مانتے ہوۓ کہا
میں کونسا سیریس ہوں مزاق ہی کررہی تھی
سحر نے بھی
سحر مسکراتے ہوۓ صوفے پر بیٹھ گٸ
اچھا ٹھیک ہے تم فریش ہوجاٶ سنی بھی آرہا ہے جب تک میں اچھی سی چاۓ بنا کر لاتی ہوں
مشال سحر کو اپنا پلین بتاتی کچن میں چلی گٸ
سحر اٹھ کر کمرے میں چلی گٸ
مشال کو سنی کا سمجھدار ہونا بہت مہنگا پڑھ رہا تھا اس کا جب دل چاہتا مشال کو پکڑ کر اپنی محبت میں بھیگو دیتا اس کو سحر کی بات یاد آتی تھی
(جس دن اس کو اپنے حق کا علم ہوگیا نہ نیندیں حرام کردے گا وہ تمھاری پھر سوچنا اس کو تنگ کرنے کے بارے میں)
سحر کی کہی بات سچ ہورہی تھی مشال کو اپنے ہر حصے سے سنی کی خوشبوں آتی تھی
سنی کی اتنی محبتوں کا صلہ سنی کو ایک اور خوشخبری کی صورت میں ملا حسن چھے ماہ کا ہوگیا تھا مشال دوبارہ ماں بننے والی تھی
یہ خبر جب سے مشال نے سُنی تھی وہ سنی کو خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی
سحر بھی مشال کا یہ ردِ عمل دیکھ کر حیران تھی وہ سمجھ رہی تھی وہ خوش ہوگی لیکن وہ جب سے ڈاکٹر کے پاس سے آٸی تھی سنی کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہی تھی
مشی بس بھی کریں نہ کیا ہوگیا ہے آپ کو
سنی سر کھجاتا شرمندہ سا بولا تھا
میں نے تمھیں کتنا منا کیا تھا تمھارے سمجھ نہیں آٸی تمھارے سر پرتو ہر وقت رومینس کا بھوت سوار رہتا ہے
مشال کی کھلی گفتگو پر سحر تو خاموشی سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گٸ
مشی آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں میں ہوں نہ آپ کے ساتھ
سنی نے مشال کا غصے سے بھرا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر پیار سے کہا
ہٹو پیچھے تم تمھیں کیا معلوم تم تو صبح یونی جاتے ہو شام میں کیفے سارے دن تو میں ہوتی ہوں نہ گھر میں حسن اتنا تنگ کرتا ہے مجھے اور تم بھی کم نہیں ہو دونوں باپ بیٹے نے میری نیندیں حرام کر رکھی ہیں
مشال نے تو بچوں کی طرح رونا شروع کردیا تھا
مشی میری جان اتنی سی بات پر کون روتا ہے میں ماسی رکھوا دوں گا وہ گھر کے کام کردیا کرے گی آپی کھانا بنا لیاکریں گی آپ بس بچے سنبھالنا میرے کام بھی نہیں کرنا میں خود کرلیا کروں گا اور جب گھر میں ہوا کروں گا تو میں بچے بھی سنبھال لیا کروں گا
سنی نے ہر طریقے سے مشال کو پر سکون کرنے کی کوشش کی تھی
لیکن سنی پھر بھی بچے سنبھالنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے
مشال آنسوں بونچتی سنی کے سینے سے لگ گٸ تھی
سنی نے اس کو بانہوں میں بھر لیا تھا
گانا سنیں گی مشی آپ
تم سناٶ گے تو سن لوں گی
مشال نے سنی کے سینے میں منہ چھپاۓ ہی جواب دیا
سنی کو نسخہ مل گیا تھا مشال کو منانے کا وہ جب بھی ناراض ہوتی یا اداس ہوتی وہ اس کو گانا سنا دیا کرتا تھا
پھر وہ مان جاتی تھی
تو سنیں
”کیونکہ اتنا پیار تم کو کرتے ہیں ہم
کیونکہ اتنا پیار تم کو کرتے ہیں ہم“
”تم کیا جانو گے ہمارے صنم
کیونکہ اتنا پیار تم کو کرتے ہیں ہم“
”ہمارے دل کی تم تھوڑی سی قدر کرلو
ہم تم پر مرتے ہیں تھوڑی سی فکر کرلو
فکر کر لووووو“
”کیونکہ اتنا پیار تم کو کرتے ہیں ہم
کیونکہ اتنا پیار تم کو کرتے ہیں ہم“
سنی نے محبت سے مشال کی دونوں آنکھوں کو چوما تھا
مشال مسکرا دی تھی اور آج وہ بھی پیچھے نہیں رہی تھی اس نے بھی محبت کا کھل کر اظہار کیا تھا گانے کے ذریعے
”دل کے بدلے صنم دردِ دل لے چکے
دل کے بدلے صنم دردِ دل لے چکے“
”دے چکے دے چکے
تجھے یہ دل
دل دے چکے“
اب تم کو ہی دیکھ کے سانسیں چلتی ہیں
چلتی ہیں صنم“
”اب نہ تنہا تنہا راتیں ڈھلتی ہیں صنم
ڈھلتی ہیں صنم“
”ہم تو تیرے ہوچکے
خواب میں تیرے کھوچکے“
”دے چکے دے چکے
تجھے یہ دل
دل دے چکے“
سنی نے مشال کا اظہار سن کر اس کو بانہوں میں بھینچ لیا تھا
عاصم گھر سے نکلنے کے بعد سڑکوں کی خاک چھانتا رہا کار کی چابی بھی وہ گھر بھول گیا تھا
اس کے پرس میں کچھ ہزار کے نوٹ تھے اور جیب میں ایک لاکھ کا موباٸل تھا وہ پورے دن ایسے ہی ایک پارک میں بیٹھا رہا وہ گھر والوں کے ساتھ گزارے ہوۓ خوبصورت پل یاد کرتا رہا کبھی کچھ سوچ کر ہنس دیتا تو کبھی رو دیتا
رات کو جب پارک بند ہونے کا وقت ہوا تو وہ وہاں سے نکل گیا اس کے بعد وہ اپنے دوست کے گھر چلا گیا جہاں اس نے مشال کے ساتھ زیادتی کی تھی اس گھر کی ایک چابی اس کے پاس ہی رہتی تھی اس کا دوست ملک سے باہر گیا ہوا تھا اس کی واپسی کچھ سال بعد تھی جب تک عاصم کو سر چھپانے کی جگہ مل گٸ تھی
وہاں پہنچ کر بھی اس کو سکون نصیب نہیں ہوا ساری رات مشال کی چیخیں اس کی سماعتوں میں گونچتی رہیں
وہ صبح ہوتے ہی گھر سے باہر نکل گیا تھا اس کا سویا ضمیر جاگ چکا تو جو اسے کسی پل چین لینے نہیں دے رہا تھا
اس کے دن رات ایسے ہی گزر رہے تھے نہ کھانے کا ہوش تھا نہ سونے کا
دن بھر اس کا ضمیر اس کو ملامت کرتا رہتا رات کو سونے لیٹتا تو مشال اور حنا کی آہ و پکار اس کو سونے نہیں دیتیں کبھی رونے لگ جاتا تو کبھی کانوں پر ہاتھ رکھ کر چیخنے لگ جاتا اس کی حالت کسی پاگل سے کم نہیں تھی
اس نے سکون کی تلاش میں خدا سے لوح لگا لی تھی وہ پنچ وقت نمازی بن گیا تھا
دو تین بار گھر کے چکر لگاۓ لیکن چوکیدار نے صاف انکا کردیاوہ کہتا ہے صاحب نے آپ کو گھر میں داخل ہونے سے منا کیا ہے
وہ گھنٹوں گھر کے باہر کھڑا رہتا لیکن کوٸی اس کی شکل تک دیکھنا گوارا نہ کرتا
چھے ماہ گزر چکے تھے لیکن عاصم کی زندگی روک گٸ تھی اس کے پاس پیسے بھی ختم ہوگۓ تھے اس کے سارے اکاٶنٹس بھی سلمان صاحب نے بند کروا دیے تھے عاصم نے اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اپنا قیمتی موباٸل بھی فروخت کردیا تھا
دو ماہ خواری کرنے کے بعد اس کو ایک معقول سی جاب مل ہی گٸ وہ اسی پر صبر کرگیا تھا
اب وہ خاموشی سے گمنامی کی زندگی گزار رہا تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا اس کی سزا میں کمی کب آۓ گی
وہ مال میں اپنی بیوی کے ساتھ کھڑا اپنے ہونے والے بچے کے لیے شوپینگ کررہا تھا جب اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی اس لڑکی کو دیکھ کر اس کو کیا کچھ یاد نہ آیا تھا
اس کی نظریں اس لڑکی پر مرکوز ہوگٸیں تھیں
اس کے ساتھ کھڑی بیوی نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں نظر ڈالی تو وہاں ایک خوبصورت لڑکی کھڑی تھی
یہ وہی ہے نہ
اس کی بیوی نے شوہر کی غیر ہوتی حالت کو دیکھتے پوچھا تھا
ہمممم وہ ہی ہے
اس نے اس لڑکی سے نظر ہٹا کر اپنی بیوی کو دیکھا تھا
چلیں ہم ملتے ہیں اس سے
نہیں مجھ میں ہمت نہیں اس کا سامنا کرنےکی
اس کا شوہر رخ پھیر گیا تھا
ایسے کب تک دور بھاگتے رہے گے چلیں اب میں آپ کی اور نہیں سنوں گی
اس کی بیوی اس کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی لے گٸ
سحر
اپنے نام کی پکار پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا
سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر سحر کی چہرے کی مسکراہٹ معدوم ہوگٸ پلکے گیرنے سے انکاری تھیں
سحر معاف کردو مجھے میں نے تمھارے ساتھ بہت برا کیا میں عاصم کی باتوں میں آگیا تھا پلیز معاف کردو
شاہ ویز سحر کے سامنے کھڑا اس سے معافی کا طلب گار تھا
اے مسٹر کیا مسلٸہ ہے کیوں تنگ کررہے ہو میری بیوی کو
حیدر سحر سے کچھ دور کھڑا کسی سے کال پر بات کررہا تھا سحر کے پاس کسی انجان شخص کو دیکھا تو فوراً سحر کے پاس آگیا
اور اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ سامنے کھڑے شخص سے سوال کیا
حیدر نے شاہ ویز کو ایک بار ہی سرسری سا دیکھا تھا اس لیے پہچان نہیں پایا
حیدر یہ شاہ ویز ہیں مجھ سے معافی مانگ رہے ہیں
حیدر کے بگڑے تیور دیکھ کر سحر جلدی سے بولی تھی
شاہ ویز بھی حیران ہوا تھا حیدر کو دیکھ کر کیونکہ اس کو یہ روڈ سا بندہ یاد تھا جس نے اس سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کی تھی جب سحر نے اسے حیدر سے ملوایا تھا
پلیز معاف کردیں میرے شوہر کو انہوں نے اور ان کے بھاٸی نے جو آپ لوگوں کے ساتھ کیا اس کی وجہ سے یہ گلٹ میں مبتلا رہتے ہیں آپ ان کے بھاٸی کو نہ سہی لیکن ان کو معاف کردیں یہ بہت شرمندہ ہیں
شاہ ویز نے اپنی بیوی کو سب بتا دیا تھا شادی کی پہلی رات ہی اس لیے وہ ہر بات جانتی تھی
سحر کو حیرت ہوٸی شاہ ویز نے اپنی بیوی کو بھی سب بتایا ہوا ہے
ٹھیک ہے شاہ ویز میں نے آپ کو معاف کیا
سحر نے نرم لہجے میں کہا
دل سے معاف کیا یا ایسے ہی کہہ رہی ہو
شاہ ویز کو یقین نہیں ہورہا تھا اس کو معافی مل گٸ ہے
جی میں نے آپ کو دل سے معاف کیا میرے پاس آپ سے ناراض ہونے کا یا سزا دینے کا کوٸی جواز نہیں میں حیدر کے ساتھ خوش ہوں مجھے آپ سے کوٸی گلہ نہیں
سحر نے مسکراتے ہوۓ کہا
حیدر اس دوران خاموش ہی کھڑا تھا
یہاں کیا ہورہا ہے
سنی کی آواز پر سب نے پلٹ کر دیکھا
لیکن شاہ ویز کو دیکھ کر سنی کی مسکراہٹ غاٸب ہوٸی وہ غصے سے شاہ ویز کو گھورنے لگا
سنی ریلیکس شاہ ویز معافی مانگنے کے ارادے سے آیا تھا
حیدر نے سنی کو غصے میں دیکھ کر سنی کو شاہ ویز کی موجودگی کا مقصد بتایا
ہممم مانگ لی معافی تو جاٸیں یہاں سے
سنی کے تنے نقوش ابھی ڈھیلے نہیں پڑے تھے
کیا میں ایک بار تمھارے بچے کو دیکھ سکتا ہوں صرف ایک نظر
سنی کی گود میں بچے کو دیکھ شاہ ویز کے دل میں خواہش جاگی تھی اپنے بھاٸی کا بچہ دیکھنے کی آخر خون تھا وہ ان کا
نہیں سنی نے یک لفظی جواب دیا
شاہ ویز کا منہ اتر گیا
سنی ایسے نہیں کرو ایک دفع ان کو دیکھنے دو
حیدر نے سمجھداری سے کام لیتے ہوۓ سنی کو کہا
مشی آپ کیا چاہتی ہیں
سنی نے اپنے پیچھے خاموش کھڑی مشی سے اجازت چاہی
ہمممم دیکھنے دو مشال نے سنجیدگی سے جواب دیا
یہ لیں سنی نے حسن کو شاہ ویز کو دے دیا
حسن سنی کے کندھے سے لگا سورہا تھا
شاہ ویز کی گود میں آتے ہی اٹھ گیا
نیا چہرا دیکھ کر اس نے فل والیم سے رونا شروع کردیا
شاہ ویز گھبرا گیا
میں نے تو کچھ نہیں کیا یہ ایسے کیوں رو رہا ہے
جی یہ ایسے ہی روتا ہے آپ پریشان نہ ہو
مشال نے بےزاری سے کہا
کیا ہوا میرے شہزادے کو بابا یہی ہیں رو نہیں
سنی شاہ ویز کے برابر میں کھڑا ہوکر حسن کو بہلانے لگا
حسن کے رونے میں کمی آٸی وہ سنی کی طرف ہمکنے لگا
شاہ ویز نے حسن کے دونوں بھرے بھرے گال چومے پھر اسے سنی کو دے دیا کیونکہ وہ روک ہی نہیں رہا تھا اس کی گود میں
سنی کے پاس جاتے ہی حسن کا چہرا کھل اٹھا ایک سال کا حسن اپنے بابا کے گال پر اپنے ہی طریقے سے پیار کرنے لگا یعنی چوسنے لگا
یہ کون ہیں
مشال نے شاہ ویز کے ساتھ کھڑی لڑکی کا پوچھا
یہ حنا ہے میری واٸف
شاہ ویز نے حنا کو ساتھ لگاتے ہوۓ کہا
کچھ دیر بات کرنے کے بعد حنا شاہ ویز وہاں سے چلے گۓ
وہ چاروں بھی گھر واپس آگۓ
اس دن شاہ ویز جب حنا کے گھر سے واپس لوٹا تھا اسے حنا کے بارے میں سوچ کر اس کو بہت دکھ ہوا دو دن سوچنے کے بعد تیسرے دن اس نے حنا کے گھر اپنے چاچا چاچی کو رشتہ لے کر بھیج دیا وہ لوگ بہت خوش تھے
فرحان نے تھوڑا احتجاج کیا لیکن اس کے ماں باپ نے اسے چپ کروا دیا کیونکہ شاہ ویز ان کو بھی اچھا لگا تھا عاصم سے بھی ان کی بیٹی کو کوٸی خطرہ نہیں تھا کیونکہ اس کے گھر والے اس کو گھر سے نکال چکے تھے
حنا نے کسی قسم کے ردِعمل کا اظہار نہیں کیا تھا اپنے ماں باپ کی خوشی دیکھ کر خاموشی سےشادی کے لیے راضی ہوگٸ تھی
شادی کی پہلی رات ہی شاہویز نے ہر بات حنا کو بتا دی تھی اور حنا کو محبت عزت و احترام دینے کا وعدہ بھی کیا تھا
شاہ ویز نے اپنی کہی بات ثابت بھی کی تھی
شاہ ویز سے ڈری سہمی رہنے والی حنا شاہ ویز سے خوب لاڈ اٹھواتی تھی
شاہ ویز نازک مزاج حنا کا بہت خیال رکھتا تھا اس سے محبت بھی کرنے لگا تھا جب سے اس
کو باپ بننے کی خبر ملی تھی وہ آۓ دن حنا کو لے کر شوپینگ پر نکل جاتا وہ اپنی زندگی سے خوش اور مطمٸن تھا بس ایک خلا تھا جو آج سحر کے معاف کردینے سے پُر ہوگیا تھا
عاصم کی اکثر اسے یاد آتی تھی لیکن حنا مشال کا چہرا سامنے آتے ہی اسے غصہ آنے لگتا تھا
سنی
ہمممم
وہ ڈاکٹر کہہ رہیں تھیں ان کو شک ہے کہ ہمارے جڑوا بچے ہیں
مشال سنی کے سینے پر سر رکھے آج ڈاکٹر کی بتاٸی ہوٸی بات بتا رہی تھی
مزاق کررہی ہوں گیں
سنی نے مشال کی طرف کروٹ لیتے ہوۓ کہا
ڈاکٹر کوٸی میری بچپن کی سہیلی ہیں جو مجھ سے مزاق کریں گی وہ سنجیدہ تھیں مجھے ڈر لگ رہا ہے سنی
مشال کو وہ دن یاد آگیا جب حسن کی پیداٸش کا وقت تھا کتنی تکلیف ہوٸی تھی اسے
مشی آپ گھبراۓ نہیں میں ہوں نہ اپ کے ساتھ کچھ نہیں ہونے دوں گا آپ کو
سنی نے مشال کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اسے خود سے اور قریب کرلیا
مشال سنی کی کمر میں بازوں حماٸل کرتی آنکھیں موند گٸ تھی
پاگل ہو کیا تم دماغ خراب ہے کیا تمھارا ابھی گاڑی کے نیچے آجاتیں دونوں مرجاتیں جب چلنے کا ڈھنگ نہیں تو کیوں نکل آتی ہو تم لڑکیاں گھر سے
عاصم اپنے باس کی کار ماکینیک کے پاس لے جارہا تھا اس کی کار کے سامنے اچانک سے ایک لڑکی آگٸ اس کے ساتھ ایک چار پانچ سال کی بچی بھی تھی
عاصم نے بڑی دقت سے کاڑی روکی تھی ورنہ وہ دونوں کار کے نیچے آچکی ہوتیں
وہ لڑکی تو ابھی بھی ویسے ہی کھڑی تھی لیکن بچی بہت ڈر گٸ تھی وہ بچی خوف کے مارے اس لڑکی کے پیروں سے لپٹ گٸ تھی
وہ اس لڑکی پر چلا رہا تھا لیکن اس لڑکی کو کوٸی فرق نہیں پڑا
وہ غصے سے پیج و تاب کھاتا گاڑی سے اترا اور اس کے سر پر پہنچ گیا
ہوش میں ہو یا نیند میں چل رہی ہو اپنا نہیں تو بچی کا ہی خیال کرلو دیکھو کتنا ڈر گٸ ہے بچی اب ہٹو میری گاڑی کے سامنے سے
عاصم نے اس لڑکی کو ہوش میں لانے کی کوشش کی لیکن وہ اب بھی بت بنی کھڑی تھی
او بی بی ہوش کے ناخون لو یہ سڑک تمھارے باپ کی نہیں ہے ہٹو راستے سے میرے
عاصم کو مجبوراً اس کا بازوں پکڑ کر ہلانا پڑا
وہ لڑکی اپنے بازوں پر کسی کا لمس محسوس کرکے ایک دم ہوش میں آٸی تھی
ایک جھٹکے سے عاصم سے اپنا بازو چھوڑوایا
سوری پلیز ہٹو یہاں سے
عاصم شرمندہ ہوتا گویا ہوا تھا
ہمیں مار دیں پلیز ہمیں اپنی گاڑی سے کچل دیں پلیز بھیڑیوں کے ہاتھ لگنے سے اچھا ہے ہم حرام موت مرجاٸیں ہمیں مار دیں
وہ لڑکی روتے روتے عاصم سے کہہ رہی تھی
عاصم سکتے میں آگیا تھا عاصم کو اس لڑکی کے ذہنی حالت پر شبہ ہوا
تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے اپنے گھر کا پتا دو میں تمھیں گھر چھوڑ دیتا ہوں
عاصم بے زار آگیا تھا آخر میں ہار مانتے ہوۓ اس لڑکی کو گھر پہنچانے کا ارادہ کرلیا
میرا کوٸی گھر نہیں ہے میں کہاں جاٶں کوٸی مجھ بیوہ کو رکھنے کو تیار نہیں پلیز آپ کا احسان ہوگا مجھ پر آپ ہمیں اس ذلت بھری زندگی سے نجات دلا دیں
کیا مطلب تمھارا کوٸی گھر نہیں ہے کیا
عاصم تھوڑا نرم پڑا تھا وہ لڑکی مشکل سے باٸیس تیٸس سال کی تھی
عاصم کو جان کر دکھ ہوا اتنی کم عمر میں اس لڑکی کے سر پر بیوگی کی چادر آگٸ تھی
میرا نام علشبہ ہےمیری پیداٸش پر میری ماں کی وفات ہوگٸ تھی میرے بابا نے دوسری شادی کرلی لیکن سوتیلی بیٹی تو سوتیلی ہوتی ہے میرے بابا نے میری امی کی باتوں میں آکر کم عمر میں میری شادی کردی
میری شادی کے دو سال بعد ہارٹ اٹیک سے میرے بابا بھی اس دنیا سے چل بسے اور اب ایک سال پہلے کینسر کے مرض میں مبتلا میرے شوہر بھی مجھے اس ظالم دنیا میں چھوڑ کر چلے گۓ
میرے جیٹھ کی مجھ پر نیت خراب ہوگٸ میں نے کیسے نہ کیسے اپنی عدت پوری کی اور اپنے ماں باپ کے گھر آگٸ لیکن وہاں بھابھیوں کو میرا رہنا اچھا نہیں لگا مجھ پر چوری کا جھوٹا الزام لگا کر گھر سے نکلوا دیا
اب آپ ہی بتاٸیں میں مروں نہیں تو اور کیا کروں کہا جاٶں ایک بیٹی کو لے کر قدم قدم پر بھوکے بھیڑیے ہمیں نوچنے کو بیٹھے ہیں
وہ لڑکی اپنے بیٹی کو خود سے لگاۓ پھوٹ پھوٹ کر رو دی
عاصم خاموش کھڑا اسی کشمکش میں مبتلا رہا اس لڑکی کی مدد کیسے کرے ایک زمانے میں وہ خود بھی بھیڑیا تھا وہ جانتا تھا یہ لڑکی اور بچی اس بھری دنیا میں رات کے پہر اکیلی سنسان سڑک پر کسی طور محفوظ نہیں
وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر ایک فیصلے پر پہنچا
مجھ سے شادی کرو گی
عاصم کی بات سن کر علشبہ نے عاصم کی طرف دیکھا کیا یہ شخص اس کی بے بسی کا مزاق اڑا رہا ہے
میں سیریس ہوں میرا نام عاصم سلمان ہے میں بھی آپ ہی کی طرح ہوں میرے گھر والوں نے بھی مجھے گھر سے نکال دیا لیکن فرق اتنا ہے کہ میں مجرم تھا اور آپ مظلوم وہ کہتے ہیں نہ اوپر والا کبھی کسی سے لےکر آزماتا ہے تو کبھی دے کر
اوپر والے نے آپ سے لے کر اور مجھے دے کر آزمایا ہے
اپنے اوپر بہت غرور تھا مجھے جو دل میں آتا تھا وہ کرتا تھا لڑکی ہو یا شراب دنوں ہی سے لطف اٹھانے میں دیر نہیں کرتا تھا لیکن اوپر والے کی لاٹھی بےآواز ہے اس نے میری ڈھیلی ڈور کس لی
میرے گھر والوں کو میرے کرتوت کا علم ہوگیا
انھوں نے مجھے گھر سے نکال دیا اور ہر تعلق ختم کرلیا بہت بار ان سے معافی مانگی لیکن وہ لوگ میری شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے
میں بدل گیا ہوں میں اب ویسا نہیں رہا ہوسکتا ہے میرے خدا کو مجھ پر رحم آگیا ہو مجھے تمھارے ذریعے میرے گناہوں کا مداوا کرنے کا موقع ملا ہے
پلیز مجھ سے شادی کرلو میں تمھاری بیٹی کو کبھی باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گا اس کو سینے سے لگا کر رکھوں گا تمھاری بھی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کروں گا
وہ لڑکی خاموش کھڑی اپنی بچی کو دیکھتی رہی اپنی بیٹی کا مستقبل سنورانے کے لیے اس نے عاصم کو ہاں کردی
عاصم اسی وقت اسے اپنے ساتھ مسجد لے کر گیا اور نکاح کرلیا
اس نے راستے سے کھانا لیا اور ان کو لے کر اپنے گھر آگیا
علشبہ ابھی بھی تھوڑی گھبرا رہی تھی وہ اپنی بچی کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے اس کے پیچھے چل رہی تھی
علشبہ تم گھبراٶ نہیں آج سے یہ تمھارا گھر ہے تمھارا جیسے دل چاہے یہاں رہو اور جب تک تم اس رشتے اور مجھ سے مطمٸعن نہیں ہوگی ہم اپنی ازدواجی زندگی شروع نہیں کرے گے
یہ میرا کمرا ہے آپ دونوں یہ برابر والا روم لے لیں کپڑے اور باقی ضرورت کا سامان میں تمھیں کل لادوں گا
عاصم خاموش ہوا تو
علشبہ جی کہتی اپنے کمرے میں چلی گٸ
عاصم کندھے اچکاتا اپنے کمرے میں چلا گیا
کچھ دیر بعد تینوں نے مل کر کھانا کھایا
عاصم کار صبح مکینیک کو دینے کا ارادہ کرتا سونے لیٹ گیا
آدھی رات کا وقت تھا
علشبہ ابھی بھی جاگ رہی تھی انجان شخص پر اعتماد کرنا اتنا آسان نہیں تھا اس کے لیے
علشبہ اپنی سوچوں میں گھوم تھی
عاصم کی چیخو پکار پر وہ ایک دم سے اٹھ بیٹھی بنا کچھ سوچے سمجھے اس کے روم کی طرف بھاگی
کمرا لاک نہیں تھا وہ سیدھا کمرے میں گھس گٸ
عاصم کانوں پر ہاتھ لگاۓ پاگلوں کی طرح چیخ رہا تھا
پلیز میرا پیچھا چھوڑ دو مجھے معاف کردو مجھے معاف کردو چپ ہوجاٶ چپ ہوجاٶ پلیز
عاصم کی حالت دیکھ کر علشبہ پریشان سی اس کے پاس بیڈ پر آکر بیٹھی
عاصم جی آپ ٹھیک ہیں کیا ہوا ہے آپ کو
عاصم اس وقت اپنے ہوش میں نہیں تھا علشبہ کو سامنے دیکھ کر اس کے گلے لگ کر بچوں کی طرح رو دیا
وہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتی وہ سونے نہیں دیتی مجھے معاف بھی نہیں کرتی اس سے کہو نہ مجھے معاف کردے
علشبہ کے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے عاصم کی پکڑ بہت مضبوط تھی علشبہ سانس بھی بامشکل لے پارہی تھی
عاصم جی میں کہوں گی اس کو وہ معاف کردے گی آپ سوجاٸیں
علشبہ نے عاصم کو زبردستی خود سے الگ کیا اور
