Ladon Ka Pala by Misbah NovelR504184 Ladon Ka Pala Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Ladon Ka Pala Episode 11
Ladon Ka Pala by Misbah
مشال کیا ہوا بیٹا آپ کو طبیعت تو ٹھیک ہے نہ آپ کی
مشال کی بگڑتی حالت دیکھ کر سیما بیگم مشال کی طرف متوجہ ہوٸیں تھیں
آنٹی پلیز میرے شوہر کو بلادیں می میری طبیعت خراب ہورہی ہے
سیما بیگم کا بیٹا اور کوٸی نہیں عاصم ہی تھا مشال کی زندگی کا سیاہ باب
عاصم مشال کو دیکھ چوکا تھا چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ وہ قدم در قدم مشال کے نزدیک ہوتا جارہا تھا
مشال کے ہاتھ پاٶں لرز رہے تھے آنکھوں میں نمکین پانی جما ہورہا تھا
عاصم بیٹا تم مشال کے پاس کھڑے ہو اس کی طبیعت ٹھیک نہیں میں ذرا سنی کو بلا کر لاٶں
مشال نے سیما بیگم کو روکنا چاہا تھا لیکن وہ اپنی بات پوری کرتیں سنی کو دیکھنے نکل گٸیں تھیں
عاصم کو اپنے مقابل دیکھ کر مشال کے ماتھے پر ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے
ہیلو سویٹ ہارٹ امید نہیں تھی مجھے کہ ہماری دوبارہ ملاقات ہوگی
عاصم پر شوخ انداز میں بولا تھا
مشال کی جان حلق میں آٹکی تھی
مشی کیا ہوا ہے آپ کو
سنی پریشان سا سیما بیگم کے ہمراہ پہنچا تھا
سنی مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے پلیز گھر لے چلو
مشال عاصم کو نظر انداز کرتی سنی سے کہہ رہی تھی
مشی ریلیکس ہوجاٸیں ابھی تو ٹھیک تھیں کیا ہوا ہے آپ کو مجھے بتاٸیں
سنی مشال کے قدموں میں بیٹھا تھا محبت سے اس کے ہاتھ تھام کر مشال کو ریلیکس کرنے کی کوشش کی تھی
سنی کے اس طرح بیٹھنے پر عاصم ٹھٹکا تھا
پھر اس نے ایک بھرپور نظر مشال کے سراپے پر ڈالی تھی اور وہ سمجھ گیا تھا سنی مشال کا کون ہے
عاصم کو تو صدمہ ہی ہوا تھا مشال کا ہمسفر دیکھ کر کیسے کسی لڑکے نے اس سے شادی کرلی بللکہ وہ تو کوٸی شہزادہ ہی معلوم ہورہا تھا
اس کو مشال کی شادی ہضم ہی نہیں ہورہی تھی
سنی میرا دل گھبرارہا ہے مجھ سے بیٹھا نہیں جارہا پلیز مجھے گھر لے چلو
مشال باقاٸدہ رونے لگی تھی
مشی مشی کیا ہوا ہے آپ کو رو کیوں رہی ہیں پلیز نہیں روٸیں ایسے آپ تھوڑی دیر روک جاٸیں آپی کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتے نہ
سنی نے مشال کے آنسو صاف کرتے ہوۓ مشال کو سمجھانےکی کوشش کی تھی
سنی بیٹا آپ سحر کی فکر نہیں کرو ہم ہیں نہ یہاں آپ ایسا کرو مشال کو ڈاکٹر کے پاس لے جاٶ مجھے طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی بچی کی
سیما بیگم نے مشال کی حالت کو دیکھتے ہوۓ سنی کو مشورہ دیا
مجھے گھر جانا ہے ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا
مشال دوبارہ رونے بیٹھ گٸ تھی
آپ گھر پر اکیلی کیسے رہے گیں طبیعت بھی ٹھیک نہیں آپ کی
امی کو ساتھ لے لو وہ روک جاٸیں گی میرے پاس
اچھا آپ بیٹھیں میں بولا کر لاتا ہوں آنٹی کو
سنی اٹھ کر اسٹیج کی طرف چلا گیا تھا جہاں نگحت بیگم ایک اچھی ماں کی طرح سحر کا خیال کررہی تھیں
اس بیچ عاصم اپنی ماں سے مشال سنی کے بارے میں سب معلوم کرچکا تھا
مشال سے رشتے داری کا سن کر عاصم کے چہرے پر کمینی مسکراہٹ احاطہ کیا تھا
بیٹا ہوا کیا ہے مشال کو
نگحت بیگم بھی بیٹی کا سن کر پریشان ہوتی سنی کے ساتھ آٸیں تھیں
آنٹی کچھ بتا ہی نہیں رہیں وہ بس کہہ رہی ہیں گھبراہٹ ہورہی ہے گھر جانا ہے ڈاکٹر کے پاس جانے سے بھی صاف انکار کردیا
سنی نے مشال کی حالت سے نگحت بیگم کو آگاہ کیا
افففف پتا نہیں کیا بنے گا اس لڑکی کا ذرا ذرا سی بات پر تمھیں بھگاتی ہے
نگحت بیگم کو غصہ آیا تھا کیونکہ انھوں نے اکثر ہی سنی کو مشال کے لیے چکر کاٹتے دیکھا تھا
کچھ دیر میں سنی اور نگحت بیگم
سیما بیگم سے معزرت کرتے مشال کو لے کر نکل گۓ تھے
گھر پہنچ کر مشال کو کمرے میں چھوڑ کر سنی واپس چلا گیا تھا اس کا دل تو نہیں تھا مشال کو ایسی حالت میں اکیلا چھوڑنے کا لیکن سحر کو بھی تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا
مشال تمھیں ہوا کیا ہے مجھے کچھ تو بتاٶ بیٹا
نگحت بیگم اپنی گود میں سر رکھ کر لیٹی مشال سے کب سے ایک ہی بات پوچھ رہی تھیں لیکن مشال صرف ایک ہی جملا کہتی
امی مجھے گھبراہٹ ہورہی تھی
اچھا سو جاٶ تم تھکان ہوگٸ ہوگی تمھیں
نگحت بیگم مشال سے ہار کر اتنا ہی کہہ سکیں
سنی میری دوست کی اتنی طبیعت خراب تھی تم نے مجھے بتایا تک نہیں
سحر کو مشال کی طبیعت کا معلوم ہوا تو وہ سنی پر برس پڑی
آپی آپ کی اتنی بڑی خوشی تھی میں کیسے آپ کو پریشان کرسکتا تھا آپ کو معلوم ہوتا تو آپ سب کچھ چھوڑ کر مشی کی خدمت میں لگ جاتیں
سنی نے بات تو سہی کی تھی وہ سب کچھ چھوڑ کر مشال کی خدمت میں لگ جاتی
پھر بھی تمھیں مجھے بتانا چاہیے تھا سنی
بیٹا کیوں ڈانٹ رہی ہو بیچارے کو اس نے جو کیا ٹھیک کیا تمھیں اپنی دوست کی اتنی فکر ہے تو یہاں اس کو ڈانٹنے سے اچھا ہے گھر جا کر مشال کی خیریت معلوم کرو
سفدر صاحب سے اور برداشت نہ ہوا دونوں بھاٸی بہن کی درمیان ان کو بولنا ہی پڑا
جی انکل آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں چلیں گھر چلتے ہیں
سحر فوراً سے بولی تھی
سفدر صاحب نگحت بیگم کو لے کر گھر چلے گۓ تھے
سحر سوتی ہوٸی مشال کو دیکھ کر اپنے کمرے میں چلی گٸ تھی
سنی بھی تھکا ہارا سا کپڑے بدل کر سوگیا تھا
تو تو تم می میرے گھر میں کیا کررہے ہو اندر کیسے آۓ جاٶ یہاں سے
مشی ڈارلینگ اتنا ڈر کیوں رہی ہو مجھ سے آٶ میرے پاس آٶ
عاصم مشی کے سامنے کھڑا اسے اپنے پاس بلا رہا تھا
مشال کے چہرے پر خوف کے ساۓ پھیلے تھے
دور رہو مجھ سے
سنی سنی سنی
بچاٶ مجھے کہاں ہو تم
پلیز میری مدد کرو
دیکھو یہ بھیڑیا پھر سے آگیا
مشی آس پاس دیکھتی سنی کو آوازیں لگا رہی تھی لیکن سب بے سد
عاصم چہرے پر خباثت لیے مشال کے قریب آتا جارہا تھا
نہیں دور رہو مجھ سے سنی کہاں ہو تم پلیز آجاٶ سنیننننیییییی
ایک چیخ کے ساتھ مشال کی آنکھ کھولی تھی
مشی مشی کیا ہوا ہے آپ کو سنی مشال کی آواز سن کر حواس بختہ سا اٹھ بیٹھا تھا
وہ لے جاۓ گا مجھے وہ واپس آگیا ہے وہ واپس آگیا ہے
مشال بنا کچھ سنے بنا دیکھے چیخ رہی تھی وہ ابھی بھی خود کو خواب میں محسوس کر رہی تھی
مشی ادھر دیکھیں میری طرف سنی نے زبردستی مشال کے بازوں پکڑ کر مشال کا رخ اپنی طرف کیا تھا
سنی تم تم کہاں چلے گۓ تھے مشال سنی کا چہرا دونوں ہاتھوں میں لیے اس یک ٹک دیکھ رہی جیسے یقین کررہی وہ سچ میں ہے
سنی
یقین آنے پر مشال سنی کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی
مشی کیا ہوا ہے آپ کو ایسے کیوں رو رہی ہیں پلیز مجھے بتاٸیں
مشی مجھے ڈر لگ رہا ہے پلیز کچھ تو بولیں نہ
مشال بنا کچھ بولے روۓ جارہی تھی
مشال کی ایسی حالت دیکھ کر سنی کی اپنی حالت خراب ہوگٸ تھی مشال کا ایسا رونا اس سے دیکھا نہیں جارہا تھا وہ اس کو خود میں بیھنچے چپ کروانے کی کوشش کررہا تھا
کچھ دیر ایسے رونے کے بعد مشال خاموش ہوچکی تھی
اسے خاموش ہونے پر جب سنی نے اسے خود سے دور کیا تو وہ سو چکی تھی
اففففف مشی کیا ہوگیا ہے آپ کو کیوں ایسا برتاٶ کررہی ہیں
سنی مشال کے چہرے پر نظر ڈالتا بڑبڑایا تھا
پھر آرام سے مشال کو واپس لیٹا کرخود بھی اس کے پہلو لیٹ گیا تھا
کچھ دیر مشال کے بارے میں سوچنے کے بعد سنی بھی سوچکا تھا
سنی جان اٹھ گۓ تم مشال نہیں اٹھی
نہیں وہ سورہی ہیں اداس سا سنی سحر کے برابر میں بیٹھ گیا تھا
کیا ہوا سنی پریشان لگ رہے ہو
سحر نے سنی کا اداس چہرا دیکھ کر پوچھا تھا
آپی مشی کو بتا نہیں کیا ہوگیا ہے مجھے کچھ بتا بھی نہیں رہیں کچھ پوچھو تو رونے لگ جاتی ہیں
رات کو بھی سوتے سوتے ڈر گٸیں تھیں میں نے بہت پوچھا لیکن بس روتی رہیں اور پھر روتے روتے سوگٸیں
سنی نے ساری بات سحر کو بتادی تھی اب اس کے علاوہ کوٸی مشال کی زبان نہیں کھلوا سکتا تھا
اچھا میری جان تم پریشان نہیں ہو میں آج گھر پر ہی ہوں میں بات کروں گی اس سے تم تیار ہوکر یونیورسٹی جاٶ
سحر نے نرمی سے سنی کو سمجھایا تھا
جی آپی
سنی کچھ دیر بعد یونیورسٹی کے لیے نکل گیا تھا
سنی کے جانے کے بعد سحر مشال کی کلاس لینے کے ارادے سے سوتی ہوٸی مشال کے سر پر جا پہنچی تھی
مشی اٹھو مجھے تم سے بات کرنی ہے
مشال ویسی ہی سوتی رہی
مشی اٹھو یار سحر نے مشال کا کندھا زور سے ہلایا تھا
نہیں نہیں دور رہو مجھ سے
مجھے ہاتھ نہیں لگانا دور رہو مجھ سے
مشال ابھی بھی عاصم کے خوف میں تھی
وہ بنا سامنے دیکھے بیڈ کے کونے سے لگی منتیں کررہی تھی
سحر کی پریشانی میں اضافہ ہوا تھا
مشی میں سحر ہوں کیا ہوا ہے تمھیں
سحر نے نرمی سے مشال کا ہاتھ تھاما تھا
سحر
مشال ایک دم ہوش میں آٸی تھی
ہاں میں سحر کیا ہوا ہے تمھیں سنی بتا رہا تھا تم رات کو سوتے ہوۓ ڈر گٸیں تھیں
وہ بس برا خواب آیا تھا تو ڈر گٸ تھی
مشال نے سحر سے نظریں چراتے ہوۓ جواب دیا
تھا
مشی اب تم مجھ سے چھپاٶ گی
بتاٶ مجھے کیا بات ہے
سحر نے مشال کو گھورا تھا
تم ایسے ہی پریشان ہورہی ہو سچ میں مجھے خواب آیا تھا میں ڈر گٸ تھی اور یہ تمھارا بھاٸی کتنا بدتمیز ہے میں سوری تھی تو مجھے اٹھا ہی دیتا ساتھ ناشتہ کرلیتے
مشال نے بات بدلنی چاہی تھی
لیکن سحر نے تو جیسے کچھ سنا ہی نہیں
مشال مجھے غصہ مت دلاٶ سیدھی طرح بتاٶ کیا بات ہے
سحر نے اب غصے سے پوچھا تھا
کہا نہ کچھ نہیں سمجھ نہیں آرہی تمھیں
مشال نے بھی اب غصے میں ہی جواب دیا تھا
مشال نہیں چاہتی اس کی وجہ سے سحر کسی قسم کی ٹینشن لے اور عاصم تو اب اس کا دیور تھا وہ ڈر رہی تھی کہی اس کی وجہ سے سحر اور شاہ ویز کا رشتہ ٹوٹ نہ جاۓ
مشال اٹھ کر واشروم میں چلی گٸ تھی
لیکن سحر وہی بیٹھی رہ گٸ تھی مشال کے رویے کا سوچ کر اس کو نہیں یاد تھا مشال نے کبھی اس سے اونچی آواز میں بھی بات کی ہو
مشال واشروم سے نکلی تو سحر ابھی بھی وہی بیٹھی تھی
یاااااار سحر میں سچ کہہ رہی ہوں کل تمھاری منگنی میں زیادہ لوگوں کی وجہ سے مجھے گھبراہٹ ہوگٸ تھی اور رات کو بہت ڈراٶنا خواب دیکھا تھا مجھے جس کی وجہ سے بہت زیادہ ڈر گٸ تھی تمھیں پتا ہے ان چڑیلوں کی شکل ہمارے آفس کے مینیچر جیسی تھیں بلکل ان کی بہنیں لگ رہی تھیں
مشال کی آخری بات پر سحر کا قہقہ ماحول میں شور مچا گیا تھا
مشال یار تم بھی نہ کبھی تو بخش دیا کرو مینیجر کو
سحر کو ہنستا دیکھ کر مشال نے شکر کا کلمہ پڑھا تھا
یار میں کیا کروں مینیجر صاحب ہے ہی اتنے ڈارٶنے ان کی مونچھے دیکھی ہیں اتنی بڑی بڑی ہیں بچے ان مونچھوں پر لٹک کر آرام سے جھولا جھول سکتے ہیں
مشال نے مینیچر کے خلاف ایک اور لطیف سا چٹکلا چھوڑا تھا
سحر ہنس ہنس کے دوہری ہوگٸ تھی
مشال مینیجر صاحب کو ہچکیاں آرہی ہونگی تم صبح صبح اتنا یاد جو کررہی ہو ان کو
سحر نے ہنستے ہنستے کہا تھا
ہاں وہ تو آرہی ہونگی دل سے جو یاد کررہی ہوں میں ان کو
مشال بھی ہنسنے لگی تھی
دونوں ہی اپنی ٹینشن بھولا چکی تھیں
سنی یونیورسٹی سے لوٹا تو سحر سے مشال کے مطالق پوچھا تو اس نے ساری صبح والی کہانی سنا دی
مشال کی باتیں سن کر سنی کے بھی قہقے ابل پڑے
طوبہ استغفار آپی
بیچارے مینیجر صاحب
ہاہاہاہا
سنی بولتے بولتے دوبارہ ہنس دیا
یہ تمھیں کونسا دورہ پڑھا ہے یونیورسٹی سے آتے ہی پاگلوں کی طرح ہنس رہے ہو
سنی کی آواز سن کر مشال کچن سے نکل آٸی تھی کمر پر ہاتھ رکھے سنی سے ہنسنے کی وجہ دریافت کررہی تھی
آپی نے مجھے آپ کے صبح والے لطیفے سناۓ تو مجھ سے ہنسی کنٹرول نہیں ہوٸی
سنی نے قہقے روک کر مشال کو جواب دیا اور دوبارہ ہنسنے لگا تھا
اس کو ہنستا دیکھ کر سحر مشال بھی ہنسنے لگی تھیں
تینوں کی مسکراہٹ پھر لوٹ آٸی تھی
لیکن ابھی ان کی مصیبتیں ختم نہیں ہوٸیں تھیں
کچھ وقت کے لیے تھم گٸیں تھیں
عاصم کی وجہ سے مشال نے آفس جانا چھوڑ دیا تھا وہ ویسے بھی کچھ دنوں بعد آفس چھوڑنے والی تھی تو اس نے پہلے ہی چھوڑ دیا
سحر شاہ ویز کے آفس میں جاب نہیں کرنا چاہتی تھی رشتہ جو بدل گیا تھا
لیکن شاہ ویز کے لاکھ سمجھانے بعد سحر مان گٸ تھی
شاہ ویز کے کہنا تھا ہماری منگنی کے بارے میں کسی کو نہیں معلوم آفس میں کیونکہ منگنی پر آفس کے لوگوں کو نہیں بلایا گیا تھا میں خود بھی کچھ ایسا نہیں کروں گا جس سے آفس کے لوگوں کے سامنے تمھارا کردار مشکوک ہو آفس میں ہم باس اور امپلاۓ کی ہی طرح رہے گے اور پھر تم میری نظروں کے سامنے رہو گی تو مجھے تمھاری طرف سے اطمینان رہے گا دوسری جگہ پتا نہیں کیسی ہو لوگ کیسے ہو میں رسک نہیں لے سکتا سحر پلیز مان جاٶ
ٹھیک ہے آپ اتنا کہہ رہے ہیں تو میں نہیں جاتی کہی یہی جاب کروں گی
اپنے لیے شاہ ویز کی اتنی فکر دیکھ کر سحر دل سے خوش ہوٸی تھی اور شاہ ویز کی بات بھی مان گٸ تھی
سحر کی منگنی والے دن سے حیدر دوبارہ مسکرا نہیں سکا تھا حیدر رب کی بارگاہ میں سحر کی خوشیوں کی ڈھیروں دعاٸیں مانگتا
وہ اب سحر کو دعاٶں میں مانگتا نہیں تھا اس کو ڈر تھا سحر کی منگنی ٹوٹے کی تو لوگ بہت بدنام کریں گے اس کو
کیا پتا سحر کو بھی محبت ہو اس سے وہ سحر کو کسی بھی قسم کی آزماٸش میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا تھا
لیکن اس کے دل کی زمین بنجر ہوچکی تھی جسے محبت سے تر کرنا مشکل ہی نہیں نہ ممکن تھا
نگحت بیگم کچھ دنوں سے حیدر کا بدلا ہوا رویہ دیکھ رہی تھیں ان کو لگ رہا تھا شاید کام کا لوڈ زیادہ ہے لیکن وہ پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہوگیا تھا چہرے پر کسی اپنے کو کھونے کادکھ نظر آتا تھا
آج نگحت بیگم نے ٹھان لیا تھا حیدر سے بات کرکے رہے گیں
حیدر
ارے امی آپ آٸیں بیٹھیں
نگحت بیگم کی آواز پر حیدر اپنی سوچوں سے باہر آیا تھا
میرا بیٹا اتنا مصروف رہنے لگا ہے کہ بوڑھی ماں کے لیے وقت ہی نہیں اس کے پاس
نگحت بیگم نے حیدر سے شکوہ کیا تھا
نہیں امی ایسی کوٸی بات نہیں ہے بس تھک جاتا ہوں آفس میں کام زیادہ ہوتا ہے
حیدر نے بودی سی دلیل پیش کی تھی
ہاں میں جانتی ہوں تمھارا آفس کا کام اب ماں باپ سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے
نگحت بیگم ابھی بھی نروٹھے پن سے گویا ہوٸیں تھیں
امی ایسی باتیں کیوں کر رہی ہیں اس دنیا میں میرے لیے آپ کے اور ابو مشال سے زیادہ اہم کوٸی نہیں
حیدر نے محبت سے ماں کی گردن میں بانہیں ڈالیں تھیں
اچھا تو یہ دیوداز کس کے لیے بنے گھومتے ہو
نگحت بیگم اب اپنے مطلب کی بات پر آگٸیں تھیں
کیا مطلب امی میں سمجھا نہیں
حیدر نے ناسمجھی سے ماں کی طرف دیکھا تھا
جو اب سنجیدہ ہوگٸیں تھیں
حیدر دیکھو میں ماں ہوں تمھاری پالا ہے میں نے تمھیں تمھاری رگ رگ سے واقف ہوں میں
شادی کے نام سے تم دور بھاگتے ہو اور اب اپنی حالت ایک ہارے ہوۓ عاشق کی سی بنا لی ہے تم مجھے بتاٶ وہ کون ہے جس نے میرے بیٹے کو اس حال تک پہنچا دیا ہے
امی ایسا کچھ نہیں ہے کوٸی نہیں ہے میری زندگی میں
حیدر نے نگحت بیگم کو قاٸل کرنے کی کوشش کی تھی جس میں وہ ناکام رہا
حیدر مجھے مجبور نہیں کرو تم غصہ کرنے پر سیدھی طرح بتاٶ کون ہے وہ لڑکی میں خود رشتہ لے کر جاٶں گی اس کے گھر تمھارا تم ایک دفع بتاٶ تو سہی میری جان
نگحت بیگم اپنے بیٹے کی حالت پر افسردہ ہوگٸیں تھیں ان کی آنکھیں نم ہوگٸیں تھیں
امی میں ٹھیک ہوں آپ پریشان نہیں ہو اور جس کے بارے میں آپ جاننا چاہتی ہیں اس کا کوٸی فاٸدہ نہیں اس کی منگنی ہوچکی ہے اور وہ خوش بھی ہے
مجھے تھوڑا وقت درکار ہے میں خود کو تھوڑا اس ٹروما سے نکال لوں اس کے بعد آپ جہاں کہیں گیں میں شادی کرلوں گا
حیدر کا ارادہ نہیں تھا کبھی شادی کرنے کا لیکن ماں کی نم آنکھیں دیکھ کر اسے اپنا فیصلہ بدلنا پڑا
میرا بیٹا میری جان میں اپنے لعل کے لیے چاند سی دلہن لاٶں گی
نگحت بیگم حیدر کی زبان سے شادی کا سن کر صدقے واری جارہیں تھیں اس پر
حیدر بھی اپنی ماں کی خوشی میں خوش ہوا تھا لیکن دل سے نہیں
اَلسَلامُ عَلَيْكُم
وَعَلَيْكُم السَّلَام سویٹ ہارٹ
عا عاصم
ارے واہ تم تو پہچان گٸیں مجھے
تمھیں می میرا نمبر کہاں سے ملا
مشال نے کپکیاتے لہجے میں پوچھا تھا
عاصم کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں جانِ من
عاصم کمینگی سے گویا ہوا تھا
تم نے کیوں فون کیا اب کیا چاہتے ہو مجھ سے مشال نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا تھا
بس کچھ تصدیق کرنا تھا تم سے جان
کیا جاننا چاہتے ہو تم
بچہ کس کا ہے ؟
تمھارے شوہر کا یا میرا ؟
عاصم کے سوال پر مشال کی زبان کو قفل لگ گیا تھا وہ سہم گٸ تھی پھر سے بدنامی منہ چڑاۓ اس کے سامنے کھڑی تھی
تم میری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتے تمھیں جو کرنا تھا تم کرچکے ہو اب کیا چاہتے ہو مجھ سے
مشال روہانسی ہوگٸ تھی
یہ میرے سوال کا جواب نہیں مشی ڈارلینگ
میرے شوہر کا ہے یہ بچہ
جوک آف دا ڈے
(joke of the day)
موباٸل کے اسپیکر سے عاصم کا تمسخر سے بھرا قہقہ برآمد ہوا تھا
تمھارا شوہر بلکہ وہ معصوم سا بھولا بھالا لڑکا مجھے نہیں لگتا اس کو شادی کے تقاضوں کا علم بھی ہوگا
سحر کی منگنی پر باتوں باتوں میں عاصم سنی کا دماغ اچھی طرح چھان چکا تھا اس کی باتوں سے اندازہ ہوگیا تھا وہ اندر سے ایک معصوم بچہ ہی ہے
ویسے ماننا پڑے گا تمھیں ہاتھ اچھی جگہ مارا ہے بھونگا سا شوہر ناساس نا سسر ایک ایکلوتی نند جو تمھاری بہت اچھی سہیلی بھی ہے
کیسے بیوقوف بنا لیا تم نے سب کو
عاصم اپنی گندے دماغ کا اور زبان کا دل کھول کے مظاہرا کررہا تھا
مشال کا وجود تھر تھر کانپ رہا تھا وہ کچھ بول بھی نہیں پارہی تھی
میری جان کی خاموشی مجھے بتا رہی ہے کہ یہ بچہ میرا ہی ہے کیوں درست کہا نہ میں نے جانِمن
اپنی بکواس بند کرو یہ سنی اور میرا بچہ ہے تمھیں تمھارا جواب مل گیا اب کبھی مجھے کال نہیں کرنا سمجھے تم گھٹیا انسان
مشال نے خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوۓ عاصم کو اچھی خاصی سنا کر کال کاٹ دی تھی
وہ ہاتھوں میں منہ چھپاۓ رودی تھی اس وقت وہ گھر میں اکیلی تھی تو اپنے دل کا غبار خوب رو رو کے باہر نکالا تھا لیکن وہ ابھی بھی عاصم کے خوف میں مبتلا تھی
اس کال کے بعد عاصم کی دوبارہ کال نہیں آٸی تھی مشال اتنی آسانی سے جان چھٹنے پر حیران بھی تھی لیکن خوش بھی تھی کہ اب اسے رسوا نہیں ہونا پڑے گا وہ دوبارہ اپنی خوشیوں کی طرف لوٹ آٸی تھی
سنی لاٶنج میں بیٹھا اساٸمنٹ تیار کررہا تھا
لیکن جب بھی مشال وہاں سے گزرتی سنی اسی کو دیکھتا رہ جاتا جب وہ چلی جاتی تو دوبارہ کتاب پر جھک جاتا
کچن میں کام کرتی سحر کب سے اپنے بھاٸی کی یہ حرکت دیکھ رہی تھی وہ خاموشی سے سنی کے پاس والے صوفے پر بیٹھ گٸ
مشال پھر کسی کام سے باہر آٸی سنی کی نظریں خود بہ خود اٹھ گٸیں مشال کچن میں چلی گٸ تو دوبارہ کام پر جھک گیا
یہ ایسے کیا دیکھ رہے ہو تم میری دوست کو ہاں نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا
سحر نے آٸبرو اچکا کر سنی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
وہ آپی آج مشی بہت پیاری لگ رہی ہیں
سنی نے شرماتے گھبراتے سحر کو جواب دیا
مشال آج اپنے بھرے بھرے وجود پر ڈھیلی ڈھالی سی مردانہ سرخ رنگ کی شرٹ پہنی تھی جو اس نے لڑ لڑ کے سنی سے ہتھیاٸی تھی اور اس کے ساتھ لیڈیز سیاہ رنگ کی پینٹ پہنی تھی دوپٹہ مفلر کی طرح گلے میں لپیٹا ہوا تھا بالوں کی اونچی پونی باندھی ہوٸی تھی وہ سچ میں بہت پیاری لگ رہی تھی
وہ کسی تتلی کی مانند یہاں سے وہاں حرکت کرتی سنی کو کوٸی پری ہی لگ رہی تھی
ہمممم تو اس کو بتاٶ نہ وہ خوش ہوگی
سحر نے خوش ہوتے ہوۓ کہا
انھوں نے تھپڑ لگا دیا تو سنی کی معصومیت کا تو کوٸی ثانی ہی نہیں تھا
کیا وہ کیوں لگاۓ گی تھپڑ تمھیں
سحر بھر پور حیران ہوٸی تھی
وہ آپی ایک دفع نہ میرے دوست نے نہ کالج کی ایک لڑکی کی تعریف کردی تھی تو اس کو اتنا برا لگا اس لڑکی نے میرے دوست کو تھپڑ مارا اور اس کو بدتمیز بے شرم کہتی چلی گٸ
ہاہاہاہا سنیییی میرے بھاٸی تم اتنے بھولے کیوں ہو سحر نے زور زور سے ہنستے ہوۓ کہا اور آخر میں سنی کے دونوں رخسار زور زور سے کھینچے
آپی کیا کررہی ہیں آپ
سنی نے اپنے گالوں سے سحر کے ہاتھ جھٹکتے ہوۓ کہا
پاگل وہ تو غیر لڑکی تھی تمھارا دوست اس کو چھیڑ رہا تھا تمھیں سمجھ نہیں آیا مشال تو تمھاری بیوی ہے جان تم حق رکھتے ہو اس پر وہ تمھارے لیے سجتی سنورتی ہے
تم اس کی تعریف کیا کرو وہ بہت خوش ہوگی
سحر نے نرمی سے سنی کو سمجھایا تو سنی مسکرا دیا
اب تم یہی بیٹھو میں کچن میں چارہی ہوں وہ دوبارہ آۓ تو صرف دیکھتے نہیں رہنا تعریف بھی کرنا اس کی
سحر سنی سمجھاکر مسکراتی ہوٸی کچن میں چلی گٸ
سنی چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ مشال کی راہ تکنے لگا
مشال تھوڑی دیر بعد دوبارہ کچن سے نکلی ہاتھ میں سیب کی پلیٹ تھامے سنی کے پاس ہی آکر بیٹھ گٸ
مشال کے بیٹھتے ہی سنی نے اپنا سامان سمیٹنا شروع کردیا تھا تاکہ اس سے ٹھیک سے بات کرسکے
مشال خاموشی سے صوفے پر بیٹھی سیب کھانے میں مصروف تھی سنی سے پوچھنے کی زحمت تک نہیں کی تھی
سنی نے ایک بھر پور نظر مشال کے سراپے پر ڈالی تھی جو لاپروا بنی بیٹھی تھی
مشال کو خود پر سنی کی نظریں محسوس ہوٸیں تو وہ سیب پلیٹ میں رکھ کر سنی کی طرف رخ کرکے بیٹھ گٸ
ایسے نہیں دیکھو میں سیب نہیں کھیلاٶں گی
مشال نے سیب کی پلیٹ پیچھے چھپاٸی تھی
بے فکر رہیں مجھے کھانا بھی نہیں ہے آپ کی طرح بھوکڑ نہیں ہوں میں
سنی نے مشال کو چڑایا تھا
تو کیوں دیکھ رہے ہو مجھے ایسے
مشال نے ماتھے پر بل لیے پوچھا تھا
سنی ہلکا سا مسکرایا پھر گویا ہوا
پریستان کی پری ہو یا
کسی محل کی شہزادی ہو
جو بھی ہو
بہت پیاری ہو بہت پیاری ہو
سنی کی زبان سے اپنے لیے تعریفی کلمات سن کر مشال شرمانے پر مجبور ہوگٸ تھی نظریں جھکاۓ خاموشی کی مورت بنے بیٹھی تھی دل میں ڈھیروں سکون اترا تھا
آپ آج بہت پیاری لگ رہی ہیں مشی
سنی نے محبت سے مشال کا ہاتھ تھام کر دوبارہ تعریفی کلمات ادا کیے تھے
مشال نے جھٹکے سے اپنا جھکا سر اٹھایا تھا
لیکن سنی کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت کے چمکتے دیپ دیکھ کر دوبارہ نظریں جھکا گٸ تھی
آپ کچھ نہیں بولیں گی سنی نے مشال کے ہاتھ کی پشت آنگھوٹے سے سہلاتے ہوۓ پوچھا تھا
مشال کا دل تو باہر نکلنے کو تھا آج سے پہلے سنی نے کبھی اتنی محبت کا اظہار نہیں کیا تھا
مہ میں کیا بولوں مشال نے بالوں کی لٹھ کان کے پیچھے اڑستے ہوۓ کہا جو چھوٹے ہونے کی وجہ سے پونی میں سے نکل آٸی تھی
ویسے تو بہت بولتی ہیں آج کیا ہوا ہے
مشال کے کان کے پیچھے سے جھانکتی ہوٸی لٹھ کو سنی دوبارہ سہی کرتے ہوۓ بولا تھا
سنی کے اس عمل سے مشال کے ہاتھ پاٶں ٹھنڈے ہوگۓ تھے سنی کا لمس مشال کے دل میں طلاطم برپا کرچکا تھا
سنی خود بھی کسی ٹرانس کی کیفیت میں یہ سب کررہا تھا وہ خود مشال کی خوبصورتی میں کھو چکا تھا
تم دونوں کی باتیں ہوگٸیں ہو تو کھانا کھالیں
سحر کی آواز پر مشال کے پھڑپھڑاتے دل کو قرار آیا تھا
اپنی قریب آتے سنی کی جسارتوں کو وہ اور برداشت کرتی تو بے ہوش ہی ہوجاتی
سنی بھی ایک دم سے ہوش میں آیا تھا
ہاں چلو کھاتے ہیں مشال پہلی فرصت صوفے سے اٹھی تھی
سنی بھی اپنی کتابیں سمیٹ رہا تھا
پھر تینوں نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا تھا اور اپنے کاموں میں مصروف ہوگۓ تھے
یہ سنی کیوں نہیں آیا ابھی تک مشال لاٶنج میں بیٹھی کب سے سنی کا انتظار کررہی تھی لیکن وہ گھر ہی نہیں آیا تھا
گھڑی بارہ کا ہندسہ بھی پار کر چکی تھی
سحر جلدی سوگٸ تھی صبح آفس جلدی جانا تھا اسکو
کیا کروں سنی کا تو نمبر بھی بند ہے آج سے پہلے تو ایسا نہیں کیا اس نے
مشال نے ہاتھ میں پکڑا موباٸل دوبارہ صوفے پر پھینکا تھا
بس بہت ہوگیا سحر کو اٹھاتی ہوں کیا پتا اس قو کچھ معلوم ہو
مشال خود کلامی کرتی ہوٸی سحر کے کمرے میں چلی گٸ
سحر سحر اٹھو پلیز
یار مشی کیا ہے اتنی رات میں کیوں جگا رہی ہو سونے دو نہ
سحر بامشکل آنکھیں کھولتی بولی تھی
سحر سنی ابھی تک گھر نہیں لوٹا ہے نمبر بھی بند جارہا ہے اس کا پلیز کچھ کرو تم
سنی کا سن کر سحر کی نیند بھگ سے اڑی تھی
ٹاٸم کیا ہورہا ہے
سحر نے اٹھ کر بیٹھ گٸ تھی
ساڑھے بارہ مشال نے اداسی سے کہا
کیا اور تم مجھے اب اٹھا رہی ہو پاگل
سحر بیڈ سے اٹھتی بولی تھی
اس نے اپنا موباٸل اٹھا کر سنی کو کال ملاٸی تھی لیکن نمبر بند جارہا تھا
پھر سحر نے سنی کے باس کو کال کی ان سے معلوم ہوا کہ سنی تو گیارہ بجے ہی کیفے سے نکل گیا تھا
سحر کے دل کی دھڑکن تیز ہوٸی تھی سنی لاپتہ تھا اس کا جان سے پیارا بھاٸی جانے کس مشکل میں تھا
سحر پلیز کچھ کرو سنی کو ڈھونڈو
مشال نے تو اب رونا شروع کردیا تھا
سحر نے اپنے دماغ کا استعمال کرتے ہوۓ حیدر کو کال کی تھی اتنی رات میں سحر کا گھر سے نکلنا ٹھیک نہیں تھا مشال کو بھی گھر میں اکیلا چھوڑ کر نہیں جاسکتی تھی
حیدر کی تو ویسے بھی رات کی نیندیں اڑیں ہوٸیں تھیں
اتنی رات میں سحر کا کال دیکھ کر جلدی سے کال اٹھالی تھی
حیدر بھاٸی پلیز جلدی گھر آجاٸیں
اسپیکر میں سے سحر کی پریشان سی آواز گونجی تھی
سحر سب ٹھیک ہے تم پریشان لگ رہی ہو مشی تو ٹھیک ہے نہ
حیدر بھی بستر سے اٹھ کھڑا ہوا تھا
پلیز آپ گھر آجاٸیں حیدر بھاٸی جلدی سے
سحر نے دوبارہ اپنی بات دوہراٸی تھی
اچھا میں آتا ہوں
حیدر نے کال کاٹ کر موباٸل جیب میں رکھا تھا
ہاتھوں سے بال سنوارتا شرٹ ٹاٶزر میں ہی گاڑی کی چابی اٹھاتا گھر سے باہر نکل گیا تھا
اگلے ہی پل حیدر کی باٸیک ہوا سے باتیں کررہی تھی
سحر سنی کہاں چلا گیا ایسا تو وہ کبھی نہیں کرتا مشال نے رو رو کر آنکھیں سوجا لیں تھیں
سحر کا خود بھی رونے جیسا چہرا ہوگیا تھا لیکن اس نے خود کو سنبھالا ہوا تھا وہ بھی رونے بیٹھ جاتی تو مشال کو کون سنبھالتا
دروازے پر دستک ہوٸی تھی سحر نے برق رفتاری سےدروازہ وا کیا تھا لیکن سامنے حیدر تھا سنی نہیں
کیا ہوا ہے تم لوگوں کو اتنا پریشان کیوں ہو تم دونوں
حیدر بھاٸی مشال حیدر کے سینے سے لگی رونے لگی تھی
سحر کی آنکھوں سے بھی آنسوں بہہ رہے تھے
آخر تم لوگ مجھے بتاٶ گی ہوا کیا ہے اور یہ سنی کہاں ہے
حیدر نے آس پاس نظر دوڑاٸی لیکن سنی کہی نظر نہیں آیا
وہ حیدر بھاٸی سنی پتا نہیں کہاں ہے نمبر بھی آف ہے اس کا
سنی کے باس سے بھی بات کی تھی میں نے وہ کہہ رہے تھے سنی تو گیارہ بجے ہی نکل گیا تھا
اب تو ایک بج گیا ہے پلیز حیدر بھاٸی میرے بھاٸی کو ڈھونڈدیں
سحر جھلکتی آنکھوں سے حیدر سے التجا کررہی تھی
سحر مشال کو روتا دیکھ حیدر بھی افسردہ ہوا تھا
تم لوگ پریشان نہیں ہو میں دیکھتا ہوں کیا پتا باٸیک خراب ہوگٸ ہو وہ ٹھیک کروا رہا ہو
حیدر نے دونوں کو دلاسہ دیا تھا
پھر مشال کو خود سے جدا کرتا سنی کی تلاش میں نکل گیا تھا
سحر میرا سنی ٹھیک ہوگا نا میں بہت محبت کرتی ہوں اس سے وہ میرا دن کا اجالا ہے وہ میری رات کی نیند ہے وہ میرے پیٹ کی بھوک ہے وہ میری آنکھوں کی روشنی ہے دل کا سکون ہے
میری رگ رگ میں بستا ہے وہ
مشال نے آج اپنے جذبات سحر کے سامنے عیاں کردیے تھے
سحر کو خود بھی اندازہ نہیں تھا مشال سنی کی محبت میں گوڈے گوڈے ڈوپ چکی ہے
مشی میری جان حیدر بھاٸی گۓ ہیں نہ وہ لے آۓ گے سنی کو کیا معلوم باٸیک خراب ہوگٸ ہو اس کی تم بیٹھ جاٶ حیدر بھاٸی آتے ہی ہوں گے سنی کو لے کر
سحر مشال کے ساتھ خود کو بھی دلاسے دے رہی تھی
حیدر نے سنی کو ہر جگہ ڈھونڈ لیا لیکن وہ نہیں ملا رات دو بج چکے تھے ہر جگہ سناٹے کا راج تھا حیدر نے کیفے سے گھر آنے والے راستے کو بھی کہی دفع چیک کیا تھا لیکن وہ وہاں بھی نہیں ملا
آخر میں حیدر پولیس اسٹیشن پہنچا لیکن انھوں نے ایف آٸی آر درج نہیں کی ان کا کہنا تھا چوبیس گھنٹے سے پہلے ایف آٸ آر درج نہیں کرسکتے چوبیس گھنٹے بعد لڑکا گھر نہ آۓ تو آپ آجانا واپس
مجبوراً حیدر کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا تھا
بھاٸی آپ لے آۓ سنی کو کہاں ہے میرا سنی
حیدر کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ مشال حیدر کی طرف لپکی تھی
بے چینی سے حیدر کے اعطراف میں سنی کو تلاش کر رہی تھی لیکن وہ نہیں تھا
حیدر بھاٸی کہاں ہے میرا بھاٸی سحر بھی روتے ہوۓ حیدر کے سامنے آکھڑی ہوٸی تھی
بہت ڈھونڈا میں نے نہیں ملا وہ مجھے تم دونوں سنبھالو خود کو میں ڈھونڈنے کی کوشش کررہا ہوں اس کو
حیدر نے مشال سحر کو مدھم سی روشنی دیکھاٸی تھی
ایک بار پھر دروازے پر دستک ہوٸی تھی سحر نے بنا دیر کیے دروازہ وا کیا تھا
سر اور ایک ہاتھ پر پٹی میں لپٹا چہرے پر ہلکی خراشوں کے ساتھ سنی عاصم کا سہارا لیے دروازے میں کھڑا تھا
مشال کی نظر دروازے پر پڑی تو وہ بھاگتی ہوٸی سنی کے سینے سے جالگی
مشال کی پکڑ میں اتنی شدت تھی سنی درد کرتی ہٹیاں مزید درد کرنے لگی تھیں
مشی مجھے تکلیف ہورہی ہے سنی نے بامشکل درد برداشت کرتے ہوۓ لفظ ادا کیے تھے
لیکن مشال کے کان میں جوں تک نہ رینگی وہ بس بھسر بھسر رونے میں مصروف تھی سنی کی شرٹ گیلی ہوچکی تھی
مشی اس کو اندر تو آنے دو بیٹا
حیدر نے مشال کو کندھوں سے تھام کر نرمی سے پیچھے کیا تھا
پھر خود آگے بڑھ کر سنی کو ایک طرف سے سہارا دے کر گھر میں لایا تھا جبکہ عاصم دوسری طرف سے پکڑا ہوا تھا
ان دونوں نے اس کو احتیاط سے صوفے بر بٹھایا تھا خود بھی اس کے برابر بیٹھ گۓ تھے
سنی یہ سب کیسے ہوا
سحر نے سنی زخمی وجود کو دیکھتے ہوۓ دکھ سے پوچھا تھا
بھابھی اصل میں سنی کیفے سے گھر آرہا تھا تو اس کا ایکسیڈینٹ ہوگیا اس کی باٸیک کے بریک فیل ہوگۓ تھے
اتفاق سے میں اس روڈ سے گزر رہا تھا
میری نظر سنی پر پڑی یہ روڈ پر بے ہوش پڑا تھا
میں اسے اٹھا کر ہوسپٹل لے گیا تھا یہ بے ہوش تھا اس کا موباٸل بھی ٹوٹ گیا تھا حادثے میں اسی لیے میں آپ لوگوں سے رابطہ نہیں کرسکا
سنی کے ہوش میں آتے ہی میں اسے گھر لے آیا کیونکہ سنی کو زیادہ خطرناک چوٹ نہیں آٸی تھی بس سر پر چوٹ لگی ہے اور ایک ہاتھ پر جو زیادہ گہری نہیں ہیں اس کے علاوہ خراشیں وہ خود ٹھیک ہوجاٸیں گیں
عاصم نے الف سے ی تک پورا حادثہ سب کے گوش گزار کردیا تھا
مشال تو عاصم کی دل سے مشکور ہوٸی تھی وہ اس کے شوہر کو سہی سلامت گھر لے آیا تھا
سحر نے بھی کھلے دل سے شکریہ ادا کیا تھا
حیدر کی سوٸی لفظ بھابھی پر ہی آٹکی رہ گٸ تھی
ویسے یہ کون ہیں بھابھی ان سے تعارف نہیں کروایا آپ نے
عاصم نے سنجیدہ کھڑے حیدر کی طرف اشارہ کرکے پوچھا تھا
یہ حیدر بھاٸی ہیں مشال کے بڑے بھاٸی ہم دونوں بہت پریشان ہوگۓ تھے تو ہم نے حیدر بھاٸ کو کہا تھا سنی کو تلاش کرنے کی
سحر کے جواب پر عاصم حیدر کی طرف بڑھا تھا
ہیلو حیدر آٸ ایم عاصم
عاصم نے مہذب انداز سے حیدر کو مخاطب کیا تھا
ہیلو ناٸس ٹو میٹ یو مسٹر عاصم
حیدر نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوۓ عاصم سے مصافحہ کیا تھا
میں چلتا ہوں تم لوگوں کو کسی چیز کی ضرورت ہوتو مجھے کال کردینا میں آجاٶں گا
حیدر مشال سحر کو الوداع کہتا گھر سے نکل گیا تھا
حیدر کے روکھے رویے پر مشال سحر عاصم کے سامنے شرمندہ ہوکر رہ گٸیں تھیں
لگتا ہے یہ زیادہ بات کرنا پسند نہیں کرتے
عاصم نے سحر کی شرمندگی کم کرنے کی کوشش کی تھی سنی تو خاموشی سے صوفے پر نیم دراز ہوا وا تھا اس کے تازہ زخم تکلیف دے رہے تھے
جی ہاں وہ کم گو ہیں ذرا
سحر جھیجکتی ہوٸی بولی تھی
ایٹس اوکے بھابھی اب میں چلتا ہوں رات بہت ہوگٸ ہے
عاصم نے کلاٸی میں بندھی کھڑی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
عاصم مجھے بل تو بتاٶ ہوسپٹل اور دواٸیوں کا
بھابھی کیسی باتیں کررہی ہیں میں کوٸی غیر ہوں کیا پلیز ایسا کہہ کر آپ مجھے پرایا کررہی ہیں
عاصم نے شکوہ کیا تھا
نہیں ایسی بات نہیں ہے لیکن پھر بھی اچھا نہیں لگتا ایسے
او کم آن بھابھی آپ بھول جاٸیں سب آپ بس اپنے پیارے بھاٸی کا خیال رکھیں
اوکے برو میں چلتا ہوں اپنا بہت خیال رکھنا تمھاری باٸیک میکینیک کو دے دی ہے جب بن جاۓ گی تو میں گھر بھیجوا دوں گا
عاصم میٹھے لہجے میں کہتا سب کو الوداع کہتا گھر سے نکل گیا
آپی پلیز مجھے روم میں لے چلیں مجھ سے بیٹھا نہیں جارہا
سنی نے کراہتے ہوۓ کہا تھا
سنی سحر کا سہارا لیے کمرے میں چلا گیا تھا مشال سنی کے لیے ہلدی والا دودھ لینے کچن میں چلی گٸ تھی
سنی جان ٹھیک ہو نہ تم زیادہ درد تو نہیں ہورہا نہ
سحر سنی کو بیڈ پر لیٹا کر خود اس کے سرہانے بیٹھ گٸ تھی
آپی میں ٹھیک ہوں پلیز مشی کو مجھ سے دور رکھیے گا
سنی کو مشال کا شدت سے خود کے ساتھ لپٹنا یاد آیا تھا
وہ بہت پریشان تھی تمھارے لیے
مجھ سے زیادہ تو وہ روٸی ہے
وہ اس وقت جذباتی ہوگٸ تھی اسی لیے وہ سب کرگٸ لیکن اب نہیں کرے گی
سحر نے نرمی سے سنی کو مشال کی جذباتی کیفیت کا بتایا تھا
اوکے آپی اب آپ آرام کریں جاکر میں بھی تھک گیا ہوں بہت آرام کروں گا بس
سنی نے سیدھا لیٹتے ہوۓ کہا
ٹھیک ہے میں چلتی ہوں تم آرام کرو
سحر سنی کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ بولی
اوہو بڑے لاڈ اٹھواٸیں جارہے ہیں
مشال ہاتھ میں دودھ لیے رکمرے میں داخل ہوٸی تھی
ہاں تو میری آپی اٹھاٸیں گیں لاڈ آپ تو میری ہڈیوں کا سورمہ بنانے چلیں تھی
سنی ابھی تک نہیں بھولا تھا وہ درد
مشال کو اپنی بے خودی یاد آٸی تو سرخ ہوتی شرمندگی سے سر جھکا گٸ
سوری
مشال نیچے والا ہونٹ لٹکاۓ بولی تھی
سنی کو احساس نہیں ہوا اس کے دل نے خواہش کی تھی مشال کی اس ادا پر اسے خود میں بھنیچ ڈالے لیکن ضروری نہیں ہر خواہش پوری ہو
اچھا کچھ نہیں کہتا دودھ تو دیں میرے لیے لاٸیں ہیں نہ
سنی نے پیار بھرے لہجے میں کہا تو مشال خوش ہوتی سنی کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس تھاما گٸ
سنی نے بھی دودھ کا گلاس ہونٹوں سے لگایا تھا
اچھا بھٸ میں بھی چلتی ہوں نیند آرہی ہے مجھے تم لوگ آرام کرو اگر میری ضرورت ہو تو مجھے بلا لینا
سنی کہی درد تو نہیں ہورہا نہ مشال سنی کے پاس بیٹھی دکھ سے پوچھ رہی تھی
مشی آپ پریشان نہیں ہو میں ٹھیک ہوں آپ بھی سوجاٸیں رات کافی ہوگٸ ہے
اچھا میں سو جاتی ہوں لیکن تمھیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے اٹھا لینا
جی ضرور اب آپ سوجاٸیں
کچھ ہی دیر میں دونوں ہی نیند کی وادیوں میں کھو گۓ تھے
صبح کے خوش رنگ ہر سوں پھیل گۓ تھے
اندھیرا تو بس حیدر کی زندگی میں تھا وہ ساری رات سویا نہیں تھا عاصم کے زبان سے سحر کے لیے بھابھی کا لفظ حیدر کی سماعت میں ہتھوڑے کی طرح لگ رہا تھا اس نے ساری رات سیگریٹ پھونک پھونک کر گزاری تھی لیکن اس کی اذیت میں کمی نہیں آٸی تھی
دوپہر کا وقت تھا دروازے پر دستک ہوٸی تھی
سحر نے دروازہ کھولا تو شاہ ویز کھڑا مسکرا رہا
تھا
اَلسَلامُ عَلَيْكُم
سحر نے جلدی سے سلام کیا تھا
وَعَلَيْكُم السَّلَام کیا میں اندر آسکتا ہوں
سحر کو دروازے کے درمیان جمے دیکھ شاہ ویز نے اجازت مانگنا ہی بہتر سمجھا
جی جی آٸیں سر
سحر نے ایک طرف ہوتے شاہ ویز کے لیے راستہ بنایا تھا
سحر آپ بار بار کیوں بھول جاتی ہمارا ایک اور بھی رشتہ ہے اس رشتے کے لحاظ سے آپ میرا نام بھی لے سکتی ہیں
شاہ ویز نے سنجیدگی سے سحر کو اپنے اور اس کے درمیان کا رشتہ یاد دلایا تھا
سو سوری وہ عادت نہیں ہے نہ مجھے
سحر نے گھبراتے ہوۓ جواب دیا
ہم گھبرایا نہیں کریں سحر مجھ سے آپ سر اٹھا کر پر اعتماد لہجے میں بات کرتیں مجھے زیادہ اچھی لگتی ہیں
شاہ ویز کی کھلی تعریف پر سحر ہلکا سا مسکراٸ تھی
سنی کیسا ہے اب
مجھے عاصم نے اس کے ایکسیڈینڈ کا بتایا تو میں دیکھنے چلا آیا اور یہ کچھ فروٹ جوسیس لایا ہوں میں سنی کے لیے
شاہ ویز نے آنے کا مقصد بیان کیا تھا ساتھ ہاتھ میں پکڑی شوپر سحر کے آگے بڑھاٸی تھیں
اس کی ضرورت نہیں تھی
سحر نے آہستہ سے کہا تھا
کیوں سنی میرا بھی بھاٸی ہے اور میں اپنے بھاٸی کے لیے لایا ہوں یہ سب خبر دار آپ نے اس میں سے ایک چیز کو بھی ہاتھ لگایا تو
شاہ ویز شریر ہوا تھا
سحر پہلے تو حیران ہوٸی پھر مسکراتے ہوۓ بولی
بے فکر رہیں نہیں لگاٶں گی ہاتھ سب کچھ آپ کے بھاٸی کو ہی کھلاٶں گی
سحر نے بھی شاہ ویز کے انداز میں ہی جواب دیا تھا
دونوں ہی کھلکھلا کر ہنس دیے تھے
کھلے دروازے سے حیدر داخل ہوتا یہ منظر دیکھ کر تلملا گیا جسم میں لاوا اٹھنے لگا بڑے ضبط سے اس نے مٹھیاں بھینچی تھیں
اَلسَلامُ عَلَيْكُم
حیدر نے اونچی آواز میں سلام کرکے ان دونوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا
نگحت بیگم بھی حیدر کے پیچھے ہی کھڑی تھیں
سحر ان کو دیکھ کر ذرا شرمندہ ہوٸی تھی اپنی بے خبری پر پھر مسکراتی ہوٸی ان کی طرف بڑھی تھی
اَلسَلامُ عَلَيْكُم آنٹی کیسی ہیں آپ
شاہ ویز نگحت بیگم کو پہچان گیا تھا فوراً آگےبڑھ کر سلام کیا تھا
وَعَلَيْكُم السَّلَام بیٹا میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہو
نگحت بیگم خوشدلی سے بولیں تھی
آنٹی آپ کی دعاٶں سے بکل ٹھیک ہوں
شاہ ویز نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا اسے آتا تھا لوگوں کا دل جیتنا
سحر آپ نے میرا تعارف نہیں کروایا ان سے یہ کون ہیں
شاہ ویز نے حیدر کے بارے میں پوچھا تھا
جی یہ مشال کے بڑے بھاٸی ہیں حیدر بھاٸی
اور حیدر بھاٸی یہ شاہ ویز ہیں
سحر اتنا کہ کر چپ ہوگٸ تھی وہ شرما رہی تھی رشتہ بتانے میں
اور میں سحر کا منگیتر ہوں سحر کی ادھوری بات شاہ ویز نے خود ہی پوری کردی تھی
ہمم مل کر خوشی ہوٸی
مما میں چلتا ہوں مجھے دیر ہورہی ہے جب آپ کو گھر آنا ہو کال کردینا میں لینے آجاٶں گا
حیدر سب کو نظر انداز کرتا بنا کسی کا لحاظ کیے چلا گیا تھا
حیدر کا یہ رویہ سحر کے لیے نیا تھا اسے بہت دکھ پہنچا تھا وہ ایک پھر شرمندہ ہوٸی تھی حیدر کی وجہ سے شاہ ویز کے سامنے
بیٹا اسے کوٸی ہوگا تو چلا گیا تم سنی کے بارے میں تو بتاٶ کیسا ہے میرا بچہ اب
نگحت بیگم نے سحر اور شاہ ویز کا دھیان بھٹکایا تھا
جی پہلے سے بہتر ہے آٸیں آپ دونوں کو ملواتی ہوں اس سے
سحر دونوں کو سنی کے کمرے میں لے گٸ تھی
سحر شاہ ویز اور نگحت بیگم کو کمرے میں چھوڑ کر ان دونوں کی لاٸی ہوٸی چیزیں کچن میں رکھنے چلی گٸ تھی
کچھ دیر بعد سنی سے بات چیت کرکے شاہ ویز چلا گیا تھا جاتے جاتے سحر کو اپنے چاچا چاچی کی آمد کی اطلاع دے گیا تھا کہ وہ لوگ شام کو سنی کو دیکھنے آٸیں گے
نگحت بیگم وہی روک گٸیں تھیں
حیدر کی نظروں کے سامنے بار بار ایک ہی منظر گھوم رہا تھا سحر کا شاہ ویز کے ساتھ ہنسنا اس سے باتیں کرنا
حیدر کے دل پر آریاں چل رہی تھیں
بہت ضبط کے باوجود اشک حیدر کی آنکھوں سے نکل آۓ تھے اپنی بے بسی پر حیدر جی بھر کے رویا تھا
کاش میں اتنی بزدلی نہ دیکھاتا سحر میں تم سے اپنی محبت کا اظہار کردیتا تو آج تم میرے ساتھ ہوتیں میں نہیں دیکھ سکتا تمھیں کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا
حیدر بیڈ کی پشت سے ٹیک لگاۓ پھوٹ پھوٹ کے رو دیا تھا
سنی پی لو کتنے نخرے کرتے ہو تم مشال سنی کو سوپ پلا رہی تھی جو وہ بلکل پینے کو راضی نہیں تھا
تنگ آکر مشال نے سنی کے ہاتھ والے زخم پر ہلکا سا ہاتھ رکھا تھا
آہہہہہہ
سنی کا منہ ایک چیخ کے ساتھ کھلا تھا مشال نے موقعے سے بھر پور فاٸدہ اٹھاتے ہوۓ سنی کے منہ میں سوپ ڈال دیا تھا
مشی کتنی ظالم ہیں آپ
سنی نے بیچارگی سے کہا
تم مجبور کررہے ہو مجھے ظالم بننے پر خاموشی سے پیلو سارا سوپ نہیں تو ایسے ہی کروں گی بار بار
مشال کی دھمکی پر سنی برا برا منہ بناتا سوپ پینے لگ گیا تھا
آہستہ آہستہ دن گزر رہے تھے سنی اب بنا سہارے چلتا تھا وہ پہلے سے کافی صحت یاب ہوگیا تھا
سحر مشال کی دن رات کی محنت سے وہ جلد ٹھیک ہورہا تھا
کیسا لگا سرپراٸز مشی ڈارلینگ
عاصم کی شوخی سے بھری آواز موباٸل سے ابھری تھی
مشال کا دل زور سے دھڑکا
اب کیا کرنے والا ہے یہ شخص
کیا ہوا مشی ڈارلینگ کچھ تو بولو
کیا چاہیے کیوں کال کی ہے تم نے اب
مشال نے مشکل سے آنسوں روکتے ہوۓ سخت
لہجے میں پوچھا تھا
مجھے تم چاہیے ہو مشی ڈارلینگ
عاصم نے خباثت سے کہا تھا
میں اب بیوی ہوں کسی کی اس کے بچے کی ماں بننے والی ہوں پلیز چھوڑ دو میری جان
مشال نے التجا کی تھی
ہاہاہاہاہاہا میں تمھارا شوہر نہیں جو بے وقوف بن جاٶں وہ بچہ میرا ہے یہ بات میں اچھی طرح جانتا ہوں
عاصم نے سخت لہجہ اختیار کیا تھا
اپنی بکواس بند کرو یہ سنی اور میرا بچہ ہے آٸندہ مجھے کال نہیں کرنا
مشال درشت لہجے میں بولی تھی
کال نہیں کاٹنا ایک دفع کال کاٹنے کا انجام تم دیکھ چکی ہو تمھارا شوہر مرتے مرتے بچا ہے کیا پتا اگلی بار جان سے ہی چلا جاۓ
یہ یہ کیا کہہ رہے ہو تم سنی کی باٸیک کے تو بریک فیل ہوگۓ تھے نہ
مشال نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا
میں نے ہی تو کرواۓ تھے عاصم نے فوراً جواب دیا تھا
سنی کا ایکسیڈینڈ حادثاتی طور پر ہوا بریک بھی کسی خرابی کی وجہ سے فیل ہوۓ تھے
لیکن اس حادثے کو عاصم نے اپنے فاٸدے کے لیے استعمال کیا تھا
مشال کا چہرا ذرد پڑ گیا تھا وہ بہت خوف ذدہ ہوگٸ تھی
عاصم اس حد تک پہنچ گیا تھا
پلیز میرا پیچھا چھوڑ دو میں نے تمھارا کیا بگاڑا ہے میں نے تو تمھارے گناہ کی سزا تک نہیں دی تمھیں اب کیوں میرے پیچھے پڑے ہو
مشال روتے روتے عاصم سے التجا کررہی تھی
لیکن عاصم کو کوٸی فرق نہیں پڑا اس نے ایک ہی بات کی
اپنے شوہر کی سلامتی چاہتی ہو تو اس کو چھوڑ کر میرے پاس آجاٶ اور کال کاٹ دی
مشال زمین پر بیٹھتی چلی گٸ گھٹنوں میں منہ دیے رونے لگی تھی
مشال سارا دن گھم سم سی رہی روز کی طرح نہ کوٸی شرارت کی تھی نہ سنی کو تنگ کیا تھا بہت زیادہ کھانا کھایا نہ کوٸی اچھل کھود
سحر کو مشال کی فکر لاحق ہوٸی تو اس نے مشال سے پوچھا کہ وہ کیوں اداس ہے
تو اس نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوۓ جواب
میری طبیعت ٹھیک نہیں آج بس اسی لیے
مشی میری جان مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہیں چلو میں تمھیں ہاسپٹل لے کر چلتی ہوں
نہیں سحر میں ٹھیک ہوں بس تھک گٸ ہوں میں روم میں جاکر سوجاتی ہوں ٹھیک ہوجاٶں گی صبح تک
مشال نے بامشکل آنسوں روکتے ہوۓ جواب دیا تھا
ٹھیک ہے سوجاٶ تم اگر طبیعت زیادہ خراب ہوتو مجھے بتانا میں ڈاکٹر کے پاس لے جلوں گی
سحر نے مشال کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوۓ کہا
ٹھیک ہے مشال اٹھ کر اپنے روم میں چلی گٸ
کمرے میں داخل ہوتے ہی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے تھے وہ مردہ قدم اٹھاتی بیڈ تک پہنچی تھی
سنی اپنی دواٸیاں کھاکر کافی گھیری نیند سورہا تھا اس لیے مشال کے آنے پر بھی اس کی آنکھ نہیں کھلی
مشال نے بھیگی آنکھوں سے سوتے ہوۓ سنی کو دیکھا تھا سنی کا معصوم چہرا دیکھ کر مشال بے خود ہوٸی تھی اور آہستہ سے سنی کی پیشانی پر چھکی تھی جہاں چوٹ لگی تھی وہاں نرمی سے اپنے لب رکھے تھے اس کے بعد دونوں آنکھوں پر پھر مشال نے سنی کے چہرے کے ایک ایک نقش کو اپنے لبوں سے چھوا تھا
آخر میں اس کے سینے پر سر رکھ کر بنا آواز آنسوں بہاتے بہاتے وہ سوگٸ تھی
سنی کی صبح آنکھ کھلی تو اس کو اپنے سینے پر بوجھ محسوس ہوا جب اس نے پوری طرح آنکھیں وا کیں تو مشال کو اپنے سینے پر سر رکھ کر سوتا دیکھ سنی کا چہرا شرم سے سرخ ہوگیا
وہ گھبراتا ہوا کبھی داٸیں طرف دیکھتا تو کبھی باٸیں طرف لیکن مشال کی آنکھ نہیں کھلی سنی نے ہمت کرکے اپنے کانپتے ہاتھ سے مشال کا کندھا ہلایا تھا
مشال کسمساتی ہوٸی سنی کی گردن میں منہ چھپاتی ایک ہاتھ سنی کے گرد حماٸل کرتی دوبارہ سوگٸ تھی
سنی کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوٸی تھی
می می مشی او اوٹھیں پ پلیز یہ یہ کے کیسے
سورہی ہیں آ آپ
سنی کا چہرا ٹماٹر کا رنگ اختیار کرچکا تھا
کیا ہے سونے دو نہ
مشال نیند میں ہی بڑبڑاٸی تھی
تو سوجاٸیں مجھ پر سے تو اٹھیں
سنی نے خفگی سے کہا
سنی کی بات سن کر مشال نے پٹ سے آنکھیں کھولیں تھیں
خود کو سنی کو سنی کے اوپر دیکھ کر جھٹکے سے اٹھی تھی
سنی بھی رہاٸی ملتے ہی واشروم میں بھاگا تھا
مشال اپنی لاپرواٸی پر خود کو کوستی دوبارہ کمبل سر تک تان کر سوگٸ تھی
کچھ دیر بعد سنی نکھرا نکھرا سا واشروم سے نکلا تھا ذرا کی ذرا نظر اٹھا کر بیڈ پر ڈالی تو مشال کو سوتا پاکر سکون بھرا سانس لیتا یونیورسٹی کے لیے تیار ہونے لگ گیا
سنی جان مشی نہیں اٹھی
سنی کو کمرے سے اکیلا نکلتا پاکر سحر نے مشال کے بارے میں استفسار کیا
وہ آپی وہ سورہی ہیں آپ مجھے ناشتہ دے دیں
یونی کے لیے دیر ہورہی ہے مجھے
سنی نے گھبراتے ہوۓ جواب دیا
اچھا تم بیٹھو میں لاتی ہوں ناشتہ
تھوڑی دیر بعد سنی اور سحر ناشتہ کرکے اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگۓ تھے
