Ladon Ka Pala by Misbah NovelR504184 Ladon Ka Pala Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Ladon Ka Pala Episode 16
Ladon Ka Pala by Misbah
سنی یہ کیا کیا تم نے تم آٶ ذرا گھر کرتی ہوں میں دماغ ٹھیک تمھارا
سحر بڑبڑاتی ہوٸی صوفے کی پشت سے ٹیک لگاۓ آنکھیں موند گٸ
سنی غصے میں مشال کو سنا توآیا تھا لیکن اب اس کو احساس ہورہا تھا وہ کتنا غلط کرکے آیا ہے
وہ گھر سے باہر نکل کر گلی کے کونے پر بنے ایک تھلے پر بیٹھ گیا تھا
کچھ دیر وہی بیٹھا خود کو ملامت کرتا رہا پھر ہاتھ میں بندھی گھڑی کی طرف نظر پڑی تو رات کے دو بج رہے تھے اس نے فوراً گھر کی راہ لی
دروازہ کھلنے بند ہونے کی آواز پر سحر کی آنکھ کھل گٸ
سنی کو دیکھ کر ماتھے پر بل نمایا ہے
آگۓ تم ذرا شرم نہیں آٸی تمھیں مشال سے اس طرح کی باتیں کرتے ہوۓ کیا بکواس کرکے گۓ تھے تم اس سے احساس ہے تمھیں
آٸی ایم سوری آپی میں تھوڑا ڈسٹرپ تھا اس وقت بس غصے میں کہا جو بھی کہا میں نے میں معافی مانگ لوں گا مشی سے
سنی کو سچ میں اپنی غلطی کا احساس تھا بنا کسی بحث کے اس نے اپنی غلطی قبول کرلی
سنی بہت دل دکھایا تم نے اس کا تم جانتے ہو کتنا روٸی ہے وہ تمھارے جانے کے بعد کتنی مشکلوں سے سنبھالا ہے میں نے اس کو
سحر کسی طور سنی کو بخشنے کے موڈ میں نہیں تھی
آپی میں مانتا ہوں اپنی غلطی میں مشی سے معافی مانگ لونگا پلیز آپ ناراض نہیں ہو مجھ سے
پہلے مجھے سہی بات بتاٶ ہوا کیا تھا تمھیں کس بات سے ڈسٹرب تھے تم
وہ آپی وہ وہ میں وہ ۔۔۔
سننننی یہ کیا وہ وہ کرے جارہے ہو بتاٶ مجھے کیا بات ہے
وہ مجھے میرے دوست ملے تھے آج
سنی اتنا کہہ کر خاموش ہوگیا
تو۔۔۔
سحر نے سوالیہ نظروں سے سنی کو دیکھا
وہ آپی انہوں نے مجھے زبردستی پکڑ کر ایک نازیبا ویڈیو دیکھا دی تھی اور کہہ رہے تھے یہ سب تم نے بھی کیا ہوگا شادی کے بعد یہ ہی سب تو ہوتا ہے
سنی نے سر جھکاۓ سحر کو ساری کہانی سنا ڈالی
سحر حیرت کی مورتی بنی کھڑی تھی
اففغفف سنی تم ایسے کیوں ہو اسی وجہ سے تم مشال کو وہ سب کہہ کر گۓ تھے
سحر نے افسوس سے استفسار کیا
جی آپی
سنی نے دو لفظی جواب دیا
سحر گرنے کے انداز میں صوفے پر بیٹھ گٸ اب وہ کیا سمجھاتی سنی کو وہ اپنے بھاٸی سے اس طرح کی باتیں تو نہیں کرسکتی تھی
سنی بھی مرے مرے قدم اٹھاتا سحر کے برابر میں سر جھکاۓ بیٹھ گیا
نیٹ پیکیچ ہے تمھارا
سحر نے کچھ سوچ کر سنی سے پوچھا
جی آپی ہے
سنی نے آہستہ سے کہا
دو مجھے موباٸل
سنی نے بنا کچھ پوچھے موباٸل سحر کو تھاما دیا
سحر نے یوٹیوب پر شادی کے تقاضوں کے متعلق بیانات کی ویڈیوز نکال کر موباٸل سنی کو واپس دے دیا
یہ سنو تم یہی بیٹھ کر سب سمجھ آجاۓ گا تمھیں
سحر سنی کو ہدایت دیتی اپنے کمرے میں چلی گٸ
سنی نے ایک ویڈیو آن کی اور سننے لگا
مشال رو رو کر سو چکی تھی
آگاہی کے بعد سنی کو اپنا آپ بہت بےوقوف معلوم ہورہا تھا
وہ کبھی مشال اور اپنے رشتے کے بارے میں سوچ کر شرم سے سرخ ہوجاتا تو کبھی اپنی بیوقوفیاں یاد کرکے مسکرانے لگ جاتا
تقریباً صبح کے پانچ بجے کے وقت سنی کوکمرے میں جانے کا خیال آیا وہ اپنے پاٶں پر دباٶ ڈالتا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا
کمرے میں داخل ہوتے ہی سنی کی نظر سوتی ہوٸی مشال پڑی آنسوٶں کے نشان چہرے پر واضح تھے سنی کو دکھ ہوا
وہ خاموش قدم اٹھاتا بیڈ پر دراز ہوگیا
ابھی اسے سوۓ کچھ ہی پل گزرے تھے حسن کی کان پھاڑ دینے والی رونے کی آواز اس کی سماعتوں میں پڑی
سنی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا
او میرا بیٹا کیا ہوا ہے سنی نے حسن کو گود میں لینے کے لیے ہاتھ بڑھاۓ ہی تھے
مشال اٹھ بیٹھی سنی کو نظر انداز کرکے جلدی سے حسن کو گود میں اٹھا لیا
مجھے حسن کو فیڈ کرانا ہے جاٶ تم یہاں سے
مشال نے روکھے لہجے میں کہا
کرالیں فیڈ مجھ سے کونسا پردہ ہے
سنی نے لاپرواٸی سے جواب دیا
مشال نے کھا جانے والی نظروں سے سنی کو دیکھا اور سنی کی طرف پشت کرکے بیٹھ گٸ خود کو اچھی طرح دوپٹے سے کور کر کے حسن کو فیڈ کروانے لگی
مشی آٸی ایم سوری وہ سب میں نے دل سے نہیں بولا تھا بس غصے میں بول دیا تھا میں بہت شرمندہ ہوں پلیز معاف کردیں مجھے
سنی مشال کی پشت دیکھتا شرمندگی سے گویا ہوا
تم جانتے ہو تمھارے الفاظ نے میرا دل کتنا دکھایا ہے اگر میرے اختیار میں ہوتا میں چلی جاتی تم سے دور اپنا ناپاک وجود لے کر لیکن کیا کروں لڑکی ہوں نہ میں کچھ نہیں کر سکتی
مشال کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں لہجہ رندھا ہوا تھا
سنی ندامت سر جھکاۓ بیٹھا تھا
مشی آپ بتاٸیں میں کیا کروں ایسا آپ کو یقین آجاۓ میری باتوں پر میں سچ میں بہت شرمندا ہوں آپ چاہیں تو مجھے سزا بھی دے سکتی ہیں
مشال نے سوۓ ہوۓ حسن کو بےبی کاٹ میں سلایا جو بیڈ کے ساتھ ہی لگا تھا
پھر رخ پوری طرح سنی کی طرف کیا
سنی ملتجی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
میں کل امی کے گھر جارہی ہوں ایک ماہ کے لیے
مشال نے سنی کے سر پر دھماکا کیا تھا
نہیں نہیں مشی پلیز یہ سزا نہ دیں میں حسن اور آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا پلیز مشی یہ ظلم نہیں کریں آپ مجھ سے لڑلیں برا بھلا بول لیں لیکن پلیز مجھ سے دور نہ جاٸیں
سنی مشال کے دونوں ہاتھ تھامے منتیں کررہا تھا
لیکن مشال سپاٹ چہرا لیے بیٹھی تھی
میں جاٶں گی کل امی کے گھر وہ بھی پورے ایک ماہ کے لیے اگر تم نے مجھے روکنے کی کوشش کی تو میں زندگی بھر تم سے بات نہیں کروں گی
مشال سنی کو اپنا فیصلہ سناتی منہ تک کمبل تان کر لیٹ گٸ آنکھوں کی برسات دوبارہ شروع ہوگٸ تھی
سنی کو اب وہ پل یاد آرہا تھا جب مشال اسے ہاتھ پکڑ پکڑ کر روک رہی تھی اور وہ اسے بار بار جھٹک رہا تھا
سنی خاموشی سے لیٹ گیا لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ ساری رات خود کو ملامت کرتا مشال سے دوری کا سوچ سوچ کر بار بار اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگ رہے تھے
”سوچ رہا ہوں محبت میں ایسا کیا لکھوں “
”وہ پڑھ کر روۓ بھی نہ رات بھر سوۓ بھی نہ“
ایک نۓ دن کی شروعات ہوچکی تھی لیکن مشال کا دل اب بھی گزری رات پر اٹکا ہوا تھا
سنی کی باتیں ابھی بھی اس کے دماغ میں گردش کررہی تھیں وہ چاہ کر بھی نہیں بھولا پارہی تھی سنی کے دل چیر دینے والے الفاظ
مشال لاٶنج میں حسن کو گود میں لے کر بیٹھی گزرے دن کی تلخیاں یاد کررہی تھی
دروازے کی دستک سے وہ حال میں لوٹی
آرہی ہوں
مشال حسن کو کندھے سے لگاۓ دروازے کھولنے اٹھی
اَلسَلامُ عَلَيْكُم بھاٸی
وَعَلَيْكُم السَّلَام میری بہنا یہ گھر میں اتنا سنناٹا کیوں ہے
سنی سورہا ہے رات کو وہ لیٹ گھر آیا تھا اور سحر بھی نہیں اٹھی وہ بھی سنی کی فکر میں لیٹ سوٸی تھی
مجھے حسن کی وجہ سے اٹھناپڑا کیونکہ جب یہ صاحب اٹھ جاتے ہیں تو سونے نہیں دیتے ماما کو پھر
مشال نے اپنے کندھے لگے حسن کے پھولے پھولے گال چوم کر کہا
اچھا چلو سونے دو میں لیو دے دوں گا اس کی
بھاٸی آپ مجھے گھر چھوڑ دیں گے سنی کو میں نے رات کو بتا دیا تھا
ہاں کیوں نہیں تم سامان لے کر آجاٶ اور اس گڈے کو مجھے دو
حیدر نے حسن کو گود میں لیتے ہوۓ کہا
مشال جلدی سے کمرے میں گٸ اپنے سامان کے دو تیار بیگ اٹھاۓ (جو وہ صبح ہی تیار کرچکی تھی )
ایک نظر سوتے ہوۓ سنی پر ڈالتی کمرے سے باہر آگٸ
رات میں دیر سے سونے کی وجہ سے سنی گہری نیند میں تھا جس کا مشال نے فاٸدہ اٹھایا وہ خاموشی سے حیدر کے ساتھ اپنے میکے آگٸ
نگحت بیگم سفدر صاحب مشال اور حسن کو دیکھ کر بہت خوش ہوۓ تھے ان کے گھر کی رونق جو آٸی تھی حسن کی کلکاریوں سے گھر گونج اٹھا تھا
سنی کی جب آنکھ کھولی تو بارہ بج رہے تھے اس نے طاٸرانہ نظر کمرے پر ڈالی تو خالی کمرا سنی کو منہ چڑا رہا تھا
سنی منہ بسورتا اٹھ کر واشروم میں چلا گیا
تیار ہوکر روم سے باہر نکلا تو صوفے پر سحر نظر آٸی
گڈ مارنیگ آپی
ہوگٸ صبح تمھاری ٹاٸم دیکھ رہے ہو اور یہ مشال میڈم کی ابھی بھی صبح نہیں ہوٸی
سحر کب سے ان لوگوں کا انتظار کررہی تھی ناشتہ وہ لوگ ساتھ کرتے تھے اسی لیےسحر بھی بھوکی بیٹھی تھی ابھی تک سنی کو اکیلا آتا دیکھ سحر کو غصہ ہی آگیا
آپی مشی روم میں نہیں ہیں میں تو سمجھ رہا تھا وہ آپ کے ساتھ ہیں
سنی نے حیرانگی سے کہا
کیا میں تو یہ سمجھ رہی تھی تم دونوں سو رہے ہو کب سے اکیلے بیٹھی ہوں میں تو
سحر بھی حیران ہوٸی تھی
وہ شاید چلی گٸیں سنی اداس سا صوفے پر ڈھے گیا
کہاں چلی گٸ وہ
سحر نے بے چینی سے پوچھا
آپی میں نے رات کو ان سے معافی مانگی تھی لیکن وہ بہت ناراض تھیں مجھ سے کہہ رہیں تھیں پندرہ دن کے لیے میکے جاٶں گی میں نے کہا بھی ایسی سزا مت دیں میں نہیں رہ سکتا آپ کے اور حسن کے بنا لیکن وہ نہیں مانیں صبح ہوتے ہی چلی گٸیں شاید
سنی نے سارا ماجرا سحر کو سنا دیا
سحر بھی پریشان ہوگٸ
لیکن وہ اکیلی کیسے چلی گٸ وہ تو کبھی نہیں جاتی اکیلے ڈر لگتا ہے اس کو
آپی مجھے بھی نہیں معلوم کچھ آپ کال کریں ان کو
اچھا کرتی ہوں سحر نے صوفے پر رکھا اپنا موباٸل اٹھایا اور مشال کو کال کی
ہیلو
پہلی بیل پر ہی کال اٹھالی گٸ تھی
ہیلو مشی یار تم کہاں ہو یہ کیا حرکت کی ہے تم نے بنا بتاٸیں کیسے کہیں جاسکتی ہو
سحر نے نارضگی سے کہا
صبح بھاٸی آۓ تھے تمھیں لینے لیکن تم سورہیں تھیں تو میں ان کے ساتھ ہی آگٸ تھی گھر
مشال کے لہجے میں سنجیدگی تھی
یار تو بتا کر تو جاتیں کم سے کم
سحر نے خفگی سے کہا
سوری تم دونوں سورہے تھے اس لیے نہیں بتایا
مشال نے معزرت کی
اچھا یہ بتاٶ کب تک واپس آٶ گی
ایک مہینے بعد مشال نے جواب دے کر کال منقطعہ کردی کیونکہ وہ جانتی تھی سحر اس پر واپس آنے کے لیے زور ڈالتی جو وہ ابھی چاہتی نہیں تھی
کیا ہوا آپی کیا کہا مشی نے
موباٸل کو تکتی سحر کو سنی نے مخاطب کیا
وہ بہت ناراض ہے تم سے سنی اس نے کہا ہے ایک مہینے بعد ہی واپس آۓ گی
سحر نے دکھ سے کہا
کوٸی بات نہیں آپی میں نے بہت غلط بات کی تھی حق ہے ان کا ناراض ہونے کا میں مناٶں گا ان کو اور مجھے یقین ہے وہ مان جاٸیں گیں
سنی نے ایک عزم سے کہا
ہممم میں جانتی ہوں تم منا لو گے اس کو اور ویسے بھی وہ تم سے کہاں دور رہ سکتی ہے زیادہ دن تک
سحر نے سنی کی حوصلہ افزاٸی کی
جی آپی صحیح کہہ رہی ہیں آپ
سنی نے سحر کی بات کی تاٸید کی
ہمممم اب تم اپنا موڈ ٹھیک کرو میں ناشتہ بنا کر لاتی ہوں دونوں مل کر ناشتہ کریں گے
سحر سنی کے بال بگاڑتی کچن میں چلی گٸ
سنی افسردہ سا صوفے کی پشت سے ٹیک لگا گیا
سنی تم سے دور رہ کر میں بھی خوش نہیں ہوں لیکن تمھیں سزا دینا ضروری ہے تاکہ تم آٸندہ غصے میں تو کیا ہوش میں بھی کوٸی غلط بات نہ کرو
مشال اپنے خیالوں میں کھوٸی سنی سے مخاطب تھی اس کی آنکھیں بھی اشک بار تھیں
مشی
حیدر کی آواز سن کر مشال نے جلدی سے آنسو صاف کیے
ارے بھاٸی آپ آٸیں نہ اندر
مشال اپنا دکھ چھپانے کی بھرپور کوشش کرتے ہوۓ حیدر سے مخاطب ہوٸی
یہ تمھاری آنکھیں کیوں لال ہورہی ہیں تم روٸی ہو گڑیا
حیدر نے مشال کا چہرا ہاتھوں میں بھرکر فکرمندی سے پوچھا
نہیں بھاٸی وہ یہ حسن اتنا تنگ کرتا ہے مجھے کب سے رو رہا تھا اتنی مشکل سے سلایا ہے اسکو بس تو مجھے رونا آگیا تھا
مشال نے جھوٹ کا سہارا لیا
لیکن حیدر کو مشال کچھ پریشان لگی اس کی آنکھوں میں ہمیشہ جیسی چمک نہیں تھی بللکہ ویرانی تھی ایسی ویرانی اس نے مشال کی آنکھوں میں تب دیکھی تھی جب حیدر نے مشال کی سنی سے شادی کروانے سے انکار کردیا تھا
اچھا گڑیا پھر تم تھک گٸ ہوگی آرام کرو صبح بات کرے گے
حیدر کا دل تو چاہا وہ پوچھے مشال سے لیکن یہ سوچ کر ارادہ ترک کردیا کہ جب اس نے خود کچھ نہیں بتایا تو پوچھنے پر بھی کچھ کہاں بتاۓ گی سارا معاملہ سحر سے معلوم کرنے کا ارادہ کرتا وہ مشال کے کمرے سے نکل گیا
مشی معاف کردیں مجھے واپس آجاٸیں پلیز
دل نہیں لگ رہا آپ کے بنا
حسن کی بھی بہت یاد آرہی ہے
سوںگا کیسے آج رات حسن اور آپ کے بنا
مشی اتنی ظالم نہ بنے ایک میسج کا تو جواب دے دیں
سنی اسی طرح کے صبح سے کتنے ہی میسیج کالز مشال کو کرچکا تھا لیکن وہ سخت دل ثابت ہوٸی اس نے ایک میسیج کا بھی جواب نہیں دیا بس سنی کے مسیج پڑھ پڑھ کر آنسو بہاتی رہی
سنی اداس چہرا لیے خالی کمرے کو تکتا رہا
اَلسَلامُ عَلَيْكُم یاد آگٸ آپ کو میری
سحر نے کال اٹھاتے ہی شکوہ کرڈالا
وَعَلَيْكُم السَّلَام میڈم آپ کتنا یاد کرچکی ہیں صبح سے مجھے
حیدر نے بھی دوبدو جواب دیا
ہاں تو میں بزی تھی نہ
سحر نے نروٹھے پن سی کہا
میں بھی تو بزی تھا نہ جان
حیدر نے محبت سے کہا
میں جانتی ہوں آپ کی مصروفیت ابھی بھی کسی فاٸل میں منہ دٸیے بیٹھے ہوں گے
سحر نے تکہ مارا جو درست ثابت ہوا
حیدر پہلے تو حیران ہوا پھر مسکراتے ہوۓ فاٸل بند کرکے رکھ دی
رکھ دی فاٸل اب بس میں اپنی جان سے بات کروں گا
حیدر نے مسکراتے ہوۓ کہا
ہممم ٹھیک ہے کریں بات پھر
رات کو کب سوٸیں تھیں تم جو صبح تمھاری آنکھ نہیں کھولی
حیدر نے بات کا آغاز کیا
وہ رات کو سنی لیٹ آیا تھا گھر اس کا انتظار کرتے کرتے دو بج گۓ تھے پھر اس سے باتیں کرکے تین بجے سوٸی
سحر نے حیدر کو پوری بات سے آگاہ کیا
حیدر سننا بھی پوری بات چاہتا تھا تاکہ وہ بات کا رخ مشال سنی کی طرف موڑ دے ایسے تو سحر بھی کچھ نہیں بتاتی
اوہ اچھا سنی کیوں لیٹ آیا تھا گھر زیادہ کام تھا کیا کل کیفے میں
نہیں وہ تو دوستوں کے ساتھ تھا
سحر کی زبان سے پھسلا
سحر دانتوں تلے زبان دباگٸ
او اچھا تو وہ میری بہن کو گھر میں چھوڑ کر باہر اپنے دوستوں کے ساتھ مٹر گشتی کرتا پھیرتا ہے
حیدر کا لہجہ ایک دم تیز ہوا تھا
نہیں نہیں حیدر ایسی بات نہیں ہے وہ تو سیدھا گھر آرہا تھا اس کے دوست لے گۓ تھے زبردستی اس کو
سحر نے جلدی سے جواب دیا حیدر غلط فہمی کا شکار نہ ہوجاۓ
ٹھیک ہے اگر ایسی بات نہیں ہے تو مجھے بتاٶ سنی اور مشال کی لڑاٸی کس بات پر ہوٸی ہے
حیدر نے ہوا میں تیر چلایا
لڑاٸی کیسی لڑاٸی
سحر نے لاعلمی کا اظہار کیا
سحر جھوٹ نہیں بولوں مشال مجھے بتا چکی ہے اس کی سنی سے لڑاٸی ہوگٸ ہے اسی لیے وہ گھر آٸی ہے لیکن وجہ نہیں بتاٸی اس نے مجھے
حیدر نے جھوٹ کا بھرپور طریقے سے سہارا لیا
وہ حیدر سنی بہت معصوم ہے اس کے دوستوں نے اس کو الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا دیں تھیں تو وہ غصے میں مشال کو دو تین باتیں بول گیا بس
سحر نے بات سنبھالنے کی کوشش کی
تو سنی اپنے دوستوں کی باتوں میں آکر میری بہن کو باتیں سناتا ہے
حیدر نے سخت لہجہ اختیار کیا
آپ مجھ سے کیوں لڑ رہے ہیں میری کوٸی غلطی نہیں ان سب میں اب آپ صرف اپنی بہن کے حوالے سے مجھ سے بات کرے گے میرا آپ سے کوٸی رشتہ نہیں کیا
سحر کا لہجہ بھیگا ہوا تھا آنکھوں سے بھی اشک روا تھے
آٸی ایم سوری میری جان میں تم سے لڑ نہیں رہا میں سہی بات جاننا چاہتا ہوں مشی جب سے آٸی ہے بہت اداس ہے اس کی آنکھیں بھی سرخ ہورہی ہیں ایسا لگتا جیسے روتی رہی ہو پلیز میری جان سہی بات بتاٶ مجھے آخر سنی اور مشال کے درمیان ہوا کیا ہے
حیدر شرمندہ ہوتا سحر کو سچ بات بتا گیا تھا
حیدر میرا بھاٸی بہت معصوم ہے وہ اتنا معصوم ہے اس کو شادی کے تقاضوں کا بھی علم نہیں ہے کل اس کے۔۔۔۔۔
سحر یہ کیا کہہ رہی ہو تم سنی باپ ہے ایک بچےکا کیسے علم نہیں اس کو شادی کے تقاضوں کا
حیدر نے سحر کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اپنی بات کہہ ڈالی
سحر نے زور سے آنکھیں مچی اب حیدر سے کچھ بھی چھپانا بےکار تھا اس نے حیدر کو سب کچھ بتانے کا فیصلہ کیا
ٹھیک ہے میں آج ہر راز سے پردہ اٹھا دوں گی لیکن آپ کو مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا آپ مشی سے اس بات کا ذکر نہیں کریں گے ورنہ وہ آپ سے کبھی نظریں نہیں ملا پاۓ گی
سحر کی بات سن کر حیدر پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے وہ متجسسس ہوا
سحر ایسی کونسی بات ہے مجھے بتاٶ
نہیں پہلے آپ وعدہ کریں
حیدر نے یک لفظی جواب دیا
اصل میں حسن سنی کا نہیں عاصم کا بیٹا ہے سنی نے تو اس کو نام دیا ہے کچھ ماہ پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔
میری بہن کے ساتھ اتنا سب کچھ ہوچکا اور مجھے خبر تک نہیں ہوٸی لعنت ہے مجھ جیسے بھاٸی پر میں اپنی بہن کی حفاظت نہ کرسکا
مجھ سے بہتر تو سنی ہے ہر چیز سے لاعلم ہوتے ہوۓ بھی اس نے کتنی سمجھداری کا مظاہرا کیا
اور میں اس بیچارے کو ہمیشہ غلط سمجھتا رہا اس نے میری بہن کو رسوا ہونے سے بچایا میں اچھا بھاٸی نہیں ہوں سحر میں اچھا بھاٸی نہیں ہوں
حیدر کا دل پھٹ رہا تھا اپنی بہن کے اوپر ٹوٹی قیامت کا سن کر وہ خود کو ملامت کررہا تھا
