Ladon Ka Pala by Misbah NovelR504184 Ladon Ka Pala Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Ladon Ka Pala Episode 13
Ladon Ka Pala by Misbah
گڈ مارنیگ بھابھی جان کیسی ہیں آپ
سحر فاٸل پر سر جھکاۓ کچھ کام کررہی تھی اسے اپنے قریب کسی کی آواز سناٸی دی
اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا سامنے عاصم چہرے پر مکروہ مسکراہٹ سجاۓ سحر کو دیکھ رہا تھا
اس وقت سحر شاہ ویز کے آفس میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی اسے پروجیکٹ کے حوالے سے کچھ معلومات چاہیے تھی
لیکن شاہ ویز کی جگہ عاصم کو دیکھ کر سحر کا حلق تک کڑوا ہوا تھا
تم یہاں کیا کررہے ہو شاہ ویز کہاں ہیں
سحر کرسی سے کھڑی ہوتی اپنے چہرے کے تاثرات نارمل رکھتی گویا ہوٸی تھی
آج بھاٸی نہیں آٸیں گے ان کی طبیعت ذرا ناساز ہے تو ان کے بدلے میں آگیا ہوں
عاصم نے سنجیدگی سے جواب دیا
ہمممم ٹھیک ہے مجھے انھی سے کام تھا میں بعد میں آجاٶں گی
سحر کا دل تو تھا شاہویز کا پوچھے اسے کیا ہوا ہے لیکن وہ عاصم سے زیادہ بات نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے خاموشی سے دروازے کی طرف چلدی
ابھی وہ کچھ ہی قدم آگے بڑھی تھی لیکن اپنی کلاٸی پر دباٶ کی وجہ سے روکنا پڑا
سحر نے گردن پیچھے گھماٸی تو اپنی کلاٸی عاصم کی گرفت میں پاٸی
یہ کیا حرکت ہے عاصم چھوڑو میرا ہاتھ
سحر غصے سے سرخ ہوتی دبی دبی سے آواز میں چیخی تھی
وہ آفس میں اپنا تماشا نہیں بنوانا چاہتی تھی اس لیے اپنی آواز آہستہ رکھی تھی
ارے بھابھی جان اتنا غصہ آپ کے صحت کے لیے مضر ہے
عاصم نے سحر کی کلاٸی کو جھٹکا دیا تھا اگلے ہی پل وہ اس کے مقابل کھڑی تھی
تمھاری اس گھٹیا حرکت کی وجہ جان سکتی ہوں
سحر نے دانت پیستے ہوۓ عاصم کو گھورا تھا
اپنے بھاٸی کی سلامتی چاہتی ہیں تو اس سے کہیں میرے اور مشال کے درمیان سے نکل جاۓ
عاصم تمھاری شرم غیرت مر گٸ ہے کیا تمھیں رشتوں کا بھی پاس نہیں رہا کس قسم کے انسان ہو تم
سحر نے عاصم کے ہاتھ سے اپنی کلاٸی کھینچی تھی جس پر عاصم سخت پکڑ کی وجہ سے عاصم کی انگلیوں کے نشان واضح نظر آرہے تھے
بھابھی پلیز مجھ پر مطالعہ بعض میں کرلیجیے گا پہلے اپنے بھاٸی کا سوچیں نہیں تو دوسری صورت میں بھاٸی سے تو ہاتھ دھو بیٹھیں گیں ساتھ شاہ ویز بھاٸی کی زندگی سے بھی بے عزت ہوکر نکالی جاٸیں گیں
عاصم ایک بار پھر اپنی دماغ کی غلاظت اگلنے لگا تھا
تم جو کرسکتے ہوکر لو مجھے مشال نہیں سمجھو تم میں نہیں ڈرتی تمھاری فضول دھمکیوں سے
سحر نے اپنی ڈر پر قابوں پاتے ہوۓ مضبوط لہجے میں عاصم کو اپنے نیڈر ہونے کا ثبوت دیا تھا
واہ میری بھابھی تو بہت بہادر ہیں ہمم مزا آۓ گا آپ کے ساتھ کھیلنے میں چلیں آپ کی بہادری کو مدِ نظر رکھتے ہوۓ میں آپ کو دو دن سوچنے کا ٹاٸم دیتا ہوں جو بھی فیصلہ ہو مجھے بتا دینا اوکے
عاصم مسکراتا ہوا کرسی پر جا بیٹھا تھا ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر سحر کی طرف دل جلادینے والی مسکراہٹ اچھالی تھی
تم انتہاٸی گھٹیا انسان ہو
سحر غصے سے کہتی پاٶں پٹختی روم سے نکل گٸ تھی
عاصم کے مکروں چہرے پر شیطانی مسکراہٹ چمکی تھی
سحر کو آفس میں مزید روکنا محال لگ رہا عاصم کی موجودگی میں وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی تھی
کچھ ہی دیر بعد سحر گھر آگٸ تھی مشال کو وہ پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے اس نے اسکو کچھ نہیں بتایا
وہ سنی سے بات کرنے کا سوچ رہی تھی لیکن وہ ابھی یونی سے نہیں لوٹا تھا
عاصم کے بارے میں سوچ سوچ کر سحر کے سر میں درد ہوگیا تھا
وہ مشال کو آرام کرنے کا کہہ کر خود بھی روم میں چلی گٸ تھی
مشال کمرے میں داخل ہی ہوٸی تھی کہ زور سے بادلوں کے گرجنے کی آواز آٸی موسم صبح سے ابر آلود ہورہا تھا پوا سفید آسمان سیاہ بادلوں کی اوٹ میں چھپا ہوا تھا بارش کے پورے پورے امکان تھے
مشال بارش کی دیوانی تھی بادلوں کی گرج سن کر مشال نے اپنے قدم کمرے سے باہر نکل کر چھت کی طرف کردیے تھے بنا اپنی پریگنینسی کا خیال کیے
وہ چہرے پر بچوں جیسی خوشی لیے چھت پر آگٸ تھی کتنے ہی لوگ اپنی اپنی چھتوں پر چڑھ کر بارش کا انتظار کررہے تھے اور اگلے ہی لمحے گرج چمک کے ساتھ بارش شروع ہوچکی تھی
مشال کی خوشی کا کوٸی ٹھکانا نہیں رہا
وہ دونوں آنکھیں بند کرکے دونوں ہاتھ کھولے گول گول گھوم رہی تھی سفید لان کی قمیض پوری بھیگ چکی تھی لمبے بال کمر پر بکھر گۓ تھے
آس پاس کی چھت پر چڑے مرد اور نوجوان مشال کی خوبصورتی دیکھ دیکھ کر خوب لطف اندوز ہورہے تھے
اففف میں تو سارا بھیگ گیا سنی راستے میں ہی تھا کہ بارش شروع ہوگٸ تھی اب وہ بھیگتا ہوا گھر پہنچا تھا
یہ گھر میں اتنا سنناٹا کیوں ہے میرے گھر کی رونقیں کہاں گٸیں
سنی گھر میں داخل ہوا تو آج سحر مشال اس کو لاٶنج میں اپنا انتظار کرتی ہوٸیں نظر نہیں آٸیں
سنی کندھے اچکاتا کمرے میں آگیا لیکن کمرا بھی خالی تھا سنی منہ بسورتا کمرے سے نکل کر سحر کے کمرے میں آیا وہاں سحر سورہی تھی وہ سر کے درد کی گولی کہا کر سوٸی تھی اسی لیے اتنے بارش کے شور پر بھی اس کی آنکھ نہیں کھلی
سنی کو اچانک چھت کا خیال آیا اس نے بجلی کی رفتار سے چھت پر دوڑ لگادی
چھت پر پہنچ کر جو منظر سنی دیکھنے کو ملا اس سے سنی کا دماغ گھوما دیا
مشال میڈم آس پاس سے انجان خوب مزے سے برسات میں بھیگ رہی تھیں اور آس پاس کے لوگ اسے دیکھ کر اپنی آنکھیں سیک رہے تھے سنی کو دیکھ کر جلدی سے نظروں کا زاویہ بدلہ
سنی ان سب کو ایک گھوری سے نوازتا مشال کی طرف بڑھا اور اسے بازوں سے پکڑ کر سیدھا کڑھا کیا
مشال سنی کو دیکھ کر گھبرا گٸ
سنی نے بنا کچھ کہے اپنی شرٹ اتار کر مشال کو پہنا دی کیوں سفید بھیگی قمیض میں مشال کا وجود الگ ہی منظر پیش کررہا تھا
شرٹ پہنا کر سنی مشال کا ہاتھ پکڑ کر نیچے لے آیا تھا کمرے میں لے جاکر مشال کی خوب کھنچاٸی بھی کی
مشی آپ کوٸی بچی نہیں ہیں جو آپ کو ہر بات سمجھانی پڑے آپ جوان ہیں بللکہ بہت جلد ماں کے مرتبے پر فاٸز ہونے والی ہیں اس طرح کی حرکتیں آپ کو زیب نہیں دیتیں
سنی مشال کو روم لاتے ہی اس پر برس پڑا تھا
میں نے کیا کیا ہے میں تو بارش انجواۓ کررہی تھی بارش روز روز تھوڑی ہوتی کبھی کبھی تو ہوتی ہے وہ بھی انجواۓ نہ کروں میں
مشال کی اس فضول بات پر سنی نے غصے سے اپنی پیشانی مسلی تھی
سنی نے ایک جھٹکے مشال کے اوپر سے اپنے شرٹ ہٹا کر پھنکی پھر مشال کا بازوں پکڑ کر اسے آٸینے کے سامنے لاکھڑا کیا تھا خود اس کے پیچھے کھڑا ہوگیا تھا
مشال نے جیسے ہی خود کا بھیگا وجود آٸینے میں دیکھا شرم سے نظریں جھکا لیں مشال کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی نہ ہمت تھی سنی سے نظریں ملانے کی
مشال کو ہلتا نہ پاکر سنی خود ہی الماری سے مشال کے لیے کپڑے نکال کر لے آیا تھا
پکڑے یہ کپڑے چینج کریں جاکر
سنی نے مشال کو کپڑے تھاما کر واشروم کی طرف دھکیلا تھا
مشال خاموشی سے واشروم میں گھس گٸ تھی
کچھ دیر بعد مشال واشروم سے نکھری نکھری سی نکلی تھی
اس کے بعد سنی اپنے کپڑے لے کر واشروم میں گھس گیا تھا
مشال آٸینے کے سامنے کھڑی بال سنوار رہی تھی سنی بھی واشروم سے نکل آیا لیکن مشال کے لمبے بال نہیں سلجھے سنی ہاتھوں سے بال سنوراتا موباٸل اٹھا کر بیڈ پر لیٹ گیا
موباٸل چلانے کے ساتھ ایک نظر مشال کو بھی دیکھ لیتا
مشال جب اپنے ہار شینگار سے فارغ ہوٸی تو اسنے کمرے کے دروازے کی طرف رخ کیا
کہاں جارہی ہیں
مشال نے لاک پر ہاتھ رکھا ہی تھا پیچھے سے سنی کی آواز سن کر چونکتے ہوۓ پیچھے مڑی
وہ میں سحر کے پاس جارہی تھی
سنی کے چہرے پر چھاٸی سنجیدگی دیکھ کر مشال نے جلدی سے جواب دے دیا
آپی سو رہی ہیں آپ جاٸیں پکوڑے تل کر لاٸیں اور اچھی سی چاۓ تیار کریں بارش انجواۓ کرنی تھی آپ کو تو وہ ایسے انجواۓ کرتے ہیں
اچھا ابھی لاتی ہوں بنا کر سب مشال نے منہ بناتے ہوۓ کہا
اور ہاں پکوڑوں کے ساتھ چٹنی بھی ہو تو مزا آجاۓ گا
سنی نے مسکراتے ہوۓ کہا
مشال کا منہ مزید لٹک گیا وہ کچن کے کاموں سے بہت بھاگتی تھی
سنی نے آج مشال کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا
مشال سر ہلاتی روم سے نکل گٸ تھی پیچھے سنی ہنستے ہوۓ دوبارہ موباٸل میں مصروف ہوگیا تھا
مشال کچن میں برتنوں پر غصہ اتارتی چیزیں پٹک پٹک کر ڑکھتی پکوڑے بنانے کی تیاری کررہی تھی
تقریباً آدھے گھنٹے کی لگا تار محنت سے مشال چاۓ چٹنی پکوڑے س تیار کرچکی تھی
سنی آجاٶ سب تیار ہوگیا ہے مشال نے ٹیبل پر پکوڑوں سے بھری پلیٹ سجاتے ہوۓ سنی کو آواز لگاٸی
اگلے ہی لمحے سنی روم سے باہر آگیا تھا
آپی نہیں اٹھیں ابھی تک
نہیں ابھی تک نہیں اٹھی تمھاری آپی جاٶ اٹھا کر لاٶ اسے جب تک میں یہ سب ٹیبل پر رکھتی ہوں
اچھا ابھی بلا کر لاتا ہوں
سنی سحر کے کمرے میں چلا گیا
آپی آپی اٹھیں نہ یہ کس ٹاٸم کا سورہی ہیں آپ
سنی نے نرمی سے سحر کے بکھرے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوۓ اسے اٹھایا تھا
سنی میرے سر میں درد ہورہا تھا تو گولی کھا کر سوٸی تھی
سحر نے اپنی نیم وا آنکھیں کھول کر جواب دیا
ارے تو مجھے بتاتیں میں دواٸی دلا لاتا آپ کو میری پیاری آپی
سنی نے محبت سے کہا تو سحر مسکرا اٹھی
آپی کی جان تم ٹینشن نہیں لو میں ٹھیک ہوں اب سحر نے سنی کے دونوں رخسار کھینچے تھے
آپی یہ نہیں کرا کریں آپ کو دیکھ کر مشال بھی سیکھ گٸیں ہیں وہ بھی اکثر ایسے ہی کرتی ہیں میں بچہ نہیں ہوں جو آپ دونوں میرے گال کھینچتی رہتی ہیں
سنی نے خفگی سے سحر کے دونوں ہاتھ پکڑ کر جھٹکے تھے
او میرا پیارا بھاٸی اب نہیں کروں گی سوری سحر نے کان پکڑ کر کہا تھا
بھاٸی بہن کی باتیں ہوگٸیں ہوتو کمرے سے باہر تشریف لے آٸیں
مشال کب سے ان دونوں کا انتظار کررہی تھی جب وہ دونوں نہیں آۓ تو خود ہی آگٸ
آپی میں تو بھول ہی گیا مشی نے پکوڑے بناۓ ہیں چلیں چل کر کھاتے ہیں
سنی نے مشال کا پھولا ہوا چہرا دیکھتے ہوۓ کہا
بڑی جلدی نہیں یاد آگیا تمھیں
مشال نے سنی کو گھورا
اففف بس کرو تم دونوں چلو پکوڑے کھاتے ہیں
سحر نے دونوں کو لڑتا دیکھ جلدی سے کہا تھا
پھر وہ تینوں ہی روم سے باہر آگۓ تھے ایک اور خوشگوار دن کا اختتام ہوا تھا
دوسرے دن سحر آفس نہیں گٸ تھی عاصم سحر کا انتظار کرکر کے تھک گیا تھا مزید برداشت نہ ہوا تو اٹھ کر سحر کے گھر پہنچ گیا
سنی بھی گھر میں موجود تھا یونی سے آج اس کا اوف تھا
دروازے پر مسلسل بیل ہورہی تھی آنے والا بیل پر ہاتھ رکھ کر بھول گیا تھا
کیا مسلٸہ ہے سنی نے غصے میں دروازہ کھولا تھا
عاصم کو دیکھ کر سنی کے نقوش تن گۓ تھے
کس لیے آۓ ہو یہاں
سنی نے سخت لہجہ اختیار کیا
ہٹو سامنے سے
عاصم سنی کو دھکا دیتا دھڑلے سے گھر میں گھس آیا تھا
نکلو میرے گھر سے سنی دھاڑا تھا
مشال سحر بھی کچن سے نکل آٸیں تھیں
عاصم کو دیکھ کر دونوں کی ہی جان خشک ہوٸی تھی
ہیلو مشی ڈارلینگ
عاصم مسکراتا ہوا مشال کی طرف بڑھا تھا
لیکن اس کے پہنچنے سے پہلے ہی سنی مشال کے سامنے کسی چٹان کے ماند کھڑا ہوگیا تھا
اپنی حد میں رہو اور جاٶ یہاں سے
سنی سختی سے گویا ہوا
لیکن عاصم پر کوٸی اثر نہیں ہوا تھا
وہ خباثت سے سنی کے پیچھے چھپی ڈری سہمی مشال کو دیکھ رہا تھا
یار کیا مسلٸہ ہے تمھارا میں اپنی جان سے ملنے آیا ہوں ہٹو سامنے سے
عاصم بنا کسی ڈر خوف کے سنی کے سامنے ڈٹ کے کھڑا تھا
بس بہت ہوگیا خبردار میری بیوی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو جان سے ماردوں گا میں تمھیں
سنی غصے نے طیش میں آکر عاصم کا گریبان ابنی مضبوط کرفت میں جکڑا چکا تھا
تمھاری ہمت کیسے ہوٸی میرے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی عاصم نے بھی غصے سے سنی کا گریبان پکڑا تھا
سحر نے جلدی سے مشال کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لگایا تھا
مشال ڈر خوف سے کانپ رہی تھی
سحر کی بھی حالت خراب تھی
سنی نے زور سے عاصم کو دھکا دیا تھا وہ زمین بوس ہوا تھا
سنی برق رفتاری سے سحر مشال کی طرف لپکا تھا آپی مشال کو لے کر روم میں جاٸیں روم لاک کرلیں میرے موباٸل سے میرے دوست علی کو کال کریں اس سے کہیں اپنے ماموں کی لے کر پہنچے
سنی نے یہ سب اتنی جلدی کہا تھا کہ سحر بامشکل ہی سمجھ پاٸی تھی
اس نے کہتے ہی دونوں کو روم میں بند کردیا تھا وہ پیچھے مڑا تھا عاصم پاگل بیل کی طرح سنی کی طرف آرہا تھا سنی بھی آگے بڑھا دونوں ایک دوسرے کو وقفے وقفے سے گھونسوں اور لاتوں سے نواز رہے تھے
سحر نے کمرے میں آتے ہی جلدی سے سنی کا موباٸل اٹھا کر سنی کے دوست کو کال کی تھی
سنی اپنے دوست کو پہلے ہی سارے معاملے سے آگاہ کرچکا تھا اسی لیے بنا کوٸی سوال کیے اس نے دس منٹ میں گھر پہنچنے کا کہا تھا
سحر مشال ڈری سہمی باہر سے آنے والی آوازیں سنتی سنی کی سلامتی کی دعاٸیں کررہیں تھیں
سحر مجھے ڈر لگ رہا ہے یہ سب میری وجہ سے ہورہا ہے عاصم سنی کو کچھ کرنہ دیں مجھے جانے دو عاصم کے ساتھ
مشال روتی روتی سحر کے آگے ہاتھ جوڑ گٸ تھی
مشی چپ بلکل چپ تم میری سہیلی ہونے کے ساتھ میری بھابھی بھی ہو میرے بھاٸی کی عزت ہو کیسے میں تمھیں کسی غیر مرد کے حوالے کردوں تم سنی کی فکر مت کرو سنی کو فاٸیٹینگ آتی ہے جب وہ انٹر میں تھا تو اس نے ایک فاٸٹینگ کلب جواٸین کیا تھا مجھ سے اور اماں سے چھپ کر وہاں اس کو فاٸیٹ کرنا سیکھاٸی جاتی تھی
کچھ ٹاٸم بعد مجھے معلوم ہوا تو میں نے اس کو وہاں جانے سے سختی سے منا کر دیا تھا تو وہ اس کے بعد کبھی نہیں گیا
سحر کی ساری بات سن کر مشال ذرا سکون میں آٸ اور خاموشی سے بیٹھ کر وقفے وقفے سے آنسوں بھی بہارہی تھی
کچھ دیر بعد باہر سے لڑاٸی کی آواز آنا بند ہوگٸ تھی بلکہ اب کچھ لوگوں کی باتیں کرنے کی آواز آرہی تھی
باہر علی اپنے ماموں ہاشم کو لے کر پہنچ چکا تھا
ہاشم صاحب نے موقع پر ہی عاصم کو پکڑ لیا تھا
عاصم نے بہت شور کیا لیکن ہاشم صاحب نے دو تین تھپڑ لگا کر اس کو خاموش کروایا اور پولیس وین میں ڈال کر لے گۓ
سنی اپنی حالت دیکھ توں چل تجھے ہاسپٹل لے چلوں
علی نے سنی کے زخم دیکھتے ہوۓ کہا
نہیں میں ٹھیک ہوں تو بس اس گھٹیا آدمی سے جان چھڑا دے میری
سنی نے علی کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا
یار توں فکر نہیں کر ماموں سے بولوں گا عقل ٹھکانے لگا دیں گے وہ اس کی دو دن میں
ہممم معلوم نہ ہو اس کے بارے میں کسی کو اس کا بڑا بھاٸی میری بہن کا منگیتر ہے اس کو تو بلکل معلوم نہ ہو
سنی نے سنجیدگی سے کہا
یار تو ٹینشن فری ہوجا اور جاکر آپی اور بھابھی کو دیکھ وہ فکرمند ہوگی تیرے لیے
علی نے مسکراتے ہوۓ کہا
ہممم دیکھتا ہوں رو رو کر برا حال کرلیا ہوگا دونوں نے اپنا مشی تو کچھ زیادہ ہی جذباتی ہیں
چل ٹھیک ہے اب میں بھی چلتا ہوں یونی میں ملاقات ہوگی پھر
چل ٹھیک ہے
علی سنی سے مصافحہ کرتا داخلی دروازے سے باہر نکل گیا
سنی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا
آپی دروازہ کھولیں
سنی کی آواز پر سحر نے جلدی سے دروازے کا لاک کھولا
سنی میری جان
دروازہ کھولتے ہی سحر سنی کے سینے لگی پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی
مشال بھی سنی کو دیکھ کر سنی کی طرف لپکی تھی سنی نے مشال کو بھی دوسرے بازوں کے گھیرے میں لیا تھا دونوں سنی کے سینے سے لگی رو رہی مشال کے تو باقاٸدہ ہچکیاں بن گٸیں تھیں
سنی خاموشی سے کھڑا دونوں کے بالوں میں انگلیاں چلاتا ان کو پر سکون کرنے کی کوشش کررہا تھا
بس کردیں یار مرا نہیں ہوں میں زندہ ہوں
دونوں کو چپ نہ ہوتے دیکھ سنی جھنجلاتا ہوا بولا تھا
دونوں نے جھٹکے سے سر اٹھایا تھا
سنی پاگل ہوگۓ ہو کیسی باتیں کررہے ہو
سحر نے سنی کے کندھے پر تھپڑ مارا تھا
آہ آپی یار نہیں کریں درد ہورہا ہے پورے جسم میں
سنی کی بات سن کر مشال باآواز بلند روتی دوبارہ سنی کے سینے میں منہ چھپا گٸ تھی
سحر سنی نے ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھا پھر دونوں ہی ہلکا سا مسکراۓ تھے مشال کے بچوں کی طرح رونے پر
سنی مشال کو سینے سے لگاۓ بیڈ پر لے آیا تھا
سحر بھی اپنی ہنسی روکتی کمرے سے باہر نکل گٸ تھی باہر پھیلاوا سمیٹنے جو سنی عاصم کی لڑاٸی سے پھیلا تھا
سنی مشال سے الگ ہوتا اس کے قدموں میں بیٹھ گیا تھا
مشی یہاں دیکھیں میری طرح
سنی نے مشال کا چہرا ٹھوڈی سے پکڑ کر اوپر کیا
مشال نے بھیگی پلکوں کی جہالر اٹھا کر سنی کو دیکھا تھا
رو کیوں رہی ہیں دیکھیں میں آپ کے سامنے ہوں بلکل ٹھیک ہوں پھر کیوں رو رو کر مجھے اذیت دیں رہی ہیں
سنی نے نرمی سے کہا
تمھیں کتنی چوٹیں آٸیں ہیں سنی تمھارا چہرا دیکھوں کتنے زخم ہیں اس پر
مشال آنسو بہاتی گویا ہوٸی تھی
تو آپ کے رونے سے میں ٹھیک ہوجاٶں گا آپ میرے زخموں پر مرہم لگانے کے بجاۓ اپنے نمکین آنسوں چھڑک رہی ہیں بتاٸیں اب میرے زخم کیسے ٹھیک ہوں گے
سنی نے مشال کے آنسوں صاف کرتے ہوۓ شریر لہجے میں کہا
میں نہیں روں گی اب مشال نے ہاتھوں کی پشت سے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا
گڈ اب جاٸیں فسٹ ایڈ باکس لاٸیں میرے زخم صاف کریں
سنی نے بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ کہا
ہممم میں ابھی لاتی ہوں مشال بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوٸی
سنی بیڈ پر لیٹ گیا
مشال الماری سے فسٹ ایڈ باکس لے آٸی
اس نے روٸ پر پاٸیوڈین لگا کر کپکپاتے ہاتھوں سے سنی کے پھٹے ہونٹ پر رکھی
سنی کی تو ہلکی سی سسسی نکلی لیکن مشال کی آنکھیں برسنا شروع ہوگٸیں تھیں
مشی نہیں روٸیں نہ ایسے پلیز
سنی نے التجا کی
میں نہیں رو رہی سنی خود ہی آٸیں جارہے ہیں آنسو
مشال نے آنسو صاف کرتے ہوۓ معصومیت سے کہا
سنی بے اختیار مسکرایا تھا
مشال دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگٸ تھی
کچھ دیر بعد مشال نے سنی کے سارے زخم صاف کرکے ان پر ٹیوب لگادی تھی
سنی کو آرام کرنے کا کہہ کر خود سنی کے لیے ہلدی والا دودھ لینے چلی گٸ تھی
پھر سنی کو ہلدی والے دودھ کے ساتھ پین کلر کھلا کر اسے سونے کا کہہ کر روم سے باہر چلی گٸ تھی
سنی بھی کچھ دیر بعد سوگیا تھا
سحر مشال گھر کی صفاٸی کرکے دوپہر کا کھانا تیار کرنے لگی تھیں
ہاشم صاحب عاصم کی اچھی طرح خاطر مدارت کر رہے تھے دن میں کھانا پانی صرف ایک بار دیتے تھے جب وہ شور کرتا تو اس کو بنا صرف پاٶڈر کے دھودیتے
عاصم کو غاٸب ہوۓ تین دن گزر چکے تھے شاہ ویز ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا تھا شاہ ویز کے چاچا چاچی بھی بہت پریشان تھے چاچی تو بستر سے لگ گٸیں تھی
یہ سب سحر کو معلوم ہوا تو اس نے سنی سےکہا کہ عاصم کو آزاد کروا دے
سنی نے پہلے تو منا کیا لیکن سحر مشال کے اسرار پر مان گیا
مشال سحر کا کہنا تھا کہ عاصم اب سدھر چکا ہوگا اب وہ کوٸی اوچھی حرکت نہیں کرے گا لہذاٰ اسے چھوڑ دیا جاۓ
سنی نے اسی وقت علی کو کال کر کے عاصم کو چھوڑنے کا کہہ دیا
کھانا پانی نہ ملنے کی وجہ سے عاصم کی حالت غیر ہوگٸ تھی وہ نیم بے ہوش رہتا تھا
ہاشم صاحب نے اسی حالت میں اسے اس کے گھر کے باہر چھوڑدیا
چوکیدار نے جب عاصم کو دیکھا تو جلدی سے دوسرے چوکیدار کی مدد سے عاصم کو اٹھا کر اندر لے گیا
شاہ ویز نے عاصم کی حالت دیکھی تو اسے بہت نکلیف محسوس ہوٸی اس نے فوری طور پر فیملی ڈاکٹر کو بلایا
ڈاکٹر نے جیک اپ کرکے یہ ہی بتایا خوراک اور پانی کی ذیادتی کی وجہ سے عاصم کی یہ حالت ہے
شاہ ویز عاصم کے ماں باپ نے دن رات اس کا خیال رکھا
عاصم کو پوری طرح صحت یاب ہونے میں ایک ہفتہ لگا تھا اب وہ بہتر تھا
عاصم کی طرف سے خاموشی پاکر سنی پر سکون ہوگیا تھا سحر مشال بھی خوش تھیں ان کی زندگی برباد ہونے سے بچ گٸ
عاصم میری جان کیسے ہو تم
شاہ ویز ابھی آفس سے آیا تھااور آتے ہی عاصم کے پاس آیا
بات نہیں کریں بھاٸی آپ مجھ سے
عاصم رخ موڑ گیا
کیا ہوا عاصم تم مجھ سے کیوں ناراض ہورہے ہو
شاہ ویز نے نا سمجھی سے کہا
آپ یہ جھوٹی ہمدردی نہیں جتاٸیں مجھ سے میرے ساتھ جو بھی ہوا اس کے قصور وار آپ ہیں
عاصم آنکھوں میں مصنوعی آنسو لاتے ہوۓ بولا
عاصم میرے بھاٸی میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں بھلا میں ایسا کیوں کروں گا کچھ تو بتاٶ مجھے ہوا کیا ہے
شاہ ویز دکھ سے گویا ہوا تھا
مجھ سے کیا پوچھ رہے ہیں بھابھی سے جاکر پوچھیں یہ سب ان کا کیا دھرا ہے میں بھابھی کو بہت سیدھا سمجھتا تھا لیکن وہ انتہا کی چلاک اور مکار لڑکی ہیں
عاصم نے نحوست سے کہا
کیا بکواس کررہے ہو دماغ ٹھیک ہے تمھارا
شاہ ویز طیش میں آکر کھڑا ہوتا دھاڑا تھا
چاچا چاچی بھی کمرے میں آگۓ تھے
کیا ہوا ہے کیوں لڑ رہے ہو تم دونوں چاچی نے اپنے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا
چاچی عاصم کو سمجھاٸیں سحر کے متعلق الٹی سیدھی باتیں کررہا ہے
شاہ ویز نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوۓ کہا
ماما آپ جانتی ہیں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ سحر بھابھی نے کروایا ہے
ماما آپ کو یاد ہے اس دن بھاٸی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی میں آفس گیا تھا اس دن بھابھی جلدی آفس سے چلیں گٸیں تھیں پھر دوسرے دن بھی نہیں آٸیں مجھے فاٸل کی ضرورت تھی وہ ان کے پاس تھی تو میں ان کے گھر لینے چلا گیا لیکن بھابھی نے مجھ سے کہا کہ میں شاہ ویز سے نہیں تم سے پیار کرتی ہوں شاہ ویز سے کہو یہ رشتہ توڑ دے اور پھر تم مجھ سے شادی کرلینا
میں نے بھابھی سے کہا یہ کیسی باتیں کررہی ہیں بھاٸی اتنا چاہتے ہیں آپ کو آپ پلیز مجھ سے ایسی باتیں نہیں کریں
میں صوفے سے اٹھا تو انھوں نےمیرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہنے لگیں اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو میں بہت برا کروں گی تمھارے ساتھ
لیکن پھر بھی میں نے ان کی بات نہیں مانی تو انھوں نے شور مچا کر سب کو جما کرلیا اور سب کو کہا میں ان کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کررہا تھا
ان کے بھاٸی نے اپنے ایک پہچان والے پولیس والے کو بلا کر مجھے جیل میں ڈلوا دیا اور جانے کیا سوچ کر اس دن چھوڑ دیا مجھے
جب آپ لوگوں کو میں گھر کے باہر زخمی حالت میں ملا تھا
عاصم نے بڑی صفاٸی سے ایک جھوٹی کہانی بنا کر سب کو سناٸی تھی
شاہ ویز کو اپنے دل میں درد سا محسوس ہوا
عاصم ہوسکتا ہے کوٸی غلط فہمی ہوٸی ہو تمھیں
شاہ ویز نے ہلکی سی امید کے ساتھ پوچھا تھا
ہاں آپ کو کیوں ہوگا مجھ پر یقین مجھ سے زیادہ تو وہ سگی ہیں نہ آپ کی
عاصم کا تیر نشانے پر لگا تھا
شاہ ویز عاصم سے بہت محبت کرتا تھا اس کی ہر بات پر آنکھیں بند کرکے بھروسا کرلیا کرتا تھا آج بھی اس نے یہ ہی کیا تھا بنا تحقیق کیے سحر کو مجرم مان لیا تھا
اس نے اسی وقت سحر کو کال کی
سحر مشال لاٶنج میں بیٹھی باتیں کررہیں تھیں
جب ہی سحر کے موباٸل پر شاہ ویز کا نام جگمگایا سحر نے مسکراتے ہوۓ کال اٹھالی
اَلسَلامُ عَلَيْكُم شاہ ویز کیسے ہیں آپ
بند کرو یہ جھوٹی محبت کا ناٹک تم نے جو میرے بھاٸی کے ساتھ کیا ہے نہ اس کے لیے میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گا سحر میں تم سے ہر رشتہ توڑتا ہوں آٸندہ اپنی شکل بھی نہیں دیکھانا مجھے جان لے لوں گا میں تمھاری
شاہ ویز میری بات تو سنیں کیا ہوا ہے کچھ بتاٸیں تو مجھے
سحر روہانسی ہوٸی تھی
اب کچھ سننے کو باقی نہیں رہا گڈ باۓ شاہ ویز نے کاٹ کر زور سے موباٸل دیوار پر مارا تھا اور لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے میں بند ہوگیا تھا
سحر ہاتھوں میں منہ چھپاۓ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی
سحر کیا ہوا کیوں رو رہی ہو کیا کہا شاہ ویز بھاٸی نے تم سے
مشال سحر کے چہرے سے ہاتھ ہٹاتی اس سے رونے کی وجہ پوچھ رہی تھی
سب ختم ہوگیا مشال سب ختم ہوگیا شاہ ویز نے چھوڑ دیا مجھے چھوڑ دیا
مجھے معاف کردو سحر یہ سب میری وجہ سے ہوا مشال شرمندہ ہوٸی تھی
نہیں نہیں سحر اس میں تمھاری غلطی نہیں ہے تم معافی نہیں مانگو
سحر مشال کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے تھے
سحر میرے کیے کی سزا تمھیں مل رہی ہے ضرور عاصم نے کچھ بکواس کی ہوگی جب ہی شاہ ویز بھاٸی نے ایسا کیا
نہیں مشال تم ایسا نہیں سوچو محبت میں اعتبار بھی ضروری ہوتا ہے جو شاید شاہ ویز کو مجھ پر نہیں تھا اسی لیے تو وہ عاصم کی باتوں میں آگۓ ان کو مجھے مجرم ٹھیرانے سے پہلے ایک بار مجھ سے تصدیق کرنی چاہیے تھی سچ جاننے کی کوشش کی ہوتی لیکن انھوں نے سزا سنا دی مجھے اس بات کا دکھ ہے بس
سحر کی آنکھیں دوبارہ برسنے لگیں تھیں
مشال کافی دیر تک سحر کو حوصلہ دیتی رہی
دونوں بہت اداس ہوگٸیں تھیں
رات کو سنی گھر پر آیا تو سحر کا رشتے ٹوٹنے کا سن کر اس کو بہت تکلیف ہوٸی اس نے کتنے مان سے سحر کے لیے شاہ ویز کا انتخاب کیا تھا سنی بھی اپنی جگہ شرمندہ ہوا تھا
آپی مجھے معاف کردیں میں آپ کے لیے ٹھیک فیصلہ نہیں لے سکا
سنی جان تم خود کو قصور وار نہ ٹھراٶ شاید میرے نصیب میں یہ ہی لکھا تھا تو بس میرے ساتھ وہ ہی ہوا
سحر نے سنی کا معصوم چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہوۓ کہا
میری پیاری آپی
سنی نے سحر کا چہرا ہاتھوں میں بھر کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا
سحر مسکراٸی تھی اس کا باپ نہیں تو کیا ہوا اس کا بھاٸی تو ہے جو اسے کبھی اس ظالم دنیا کی بھیڑ میں اکیلا نہیں چھوزے گا
چلیں اب اٹھیں کھانا کھاتے ہیں بہت زوروں کی بھوک لگی ہے
سنی سحر کو اپنے بازوں کے حصار میں لے کر کھانے کی ٹیبل پر لے گیا
سنی سحر کو مسکراتا دیکھ مشال بھی مسکراٸی تھی
شاہ ویز کے کمرے کی ہر چیز اس کی اذیت کا پتا دے رہی تھی کمرے کی ہر چیز شاہ ویز تہس نہس کرچکا تھا
کیوں کیا تم نے ایسا سحر ایک بار مجھے بتاتی تو سہی اپنے دل کی بات میری محبت میں کیا کمی تھی کتنا چاہا میں نے تمھیں اور تم نے اس کے بدلے میں مجھے کیا دیا دھوکا درد میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گا سحر کبھی نہیں
شاہ ویز ٹھوٹی پھوٹھی چیزوں کے درمیان بیٹھا اپنی محبت کا سوگ منا رہا تھا آنسوں اس کی آنکھ سے ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے
آپی مشی چلیں آج کہیں باہر چلتے ہیں رات کا کھانا بھی باہر کھاٸیں گے
کیوں کام چور تمھیں کیفے نہیں جانا
مشال نے دونوں آٸبرو چڑھا کر سنی کو گھورا تھا تھا
کیا میں کام چور آپ سے زیادہ کام کرتا ہوں میں آپ اگر ذرا سے برتن بھی دھولیں تو ایک گھنٹے آرام کے بعد دوسرے کام کو ہاتھ لگاتی ہیں
سنی نے کہا تو سچ تھا مشال آج کل جلدی تھک جاتی تھی زیادہ تر کام سحر ہی کرتی تھی
سن رہی ہو تم سحر تمھارے بھاٸ کو اب میرے آرام سے بھی مسلٸہ ہے
مشال سے کوٸی جواب نہیں بن سکا تو اس سحر کو بھی بیچ میں گھسیٹ لیا
سنی جان تم کیفے جاٶ میری بھی جاب نہیں ہمیں پیسے بچا کر رکھنے چاہیے ہم گھر میں ہی کچھ اچھا بنا لیں گے
سحر نے سمجھداری کا مظاہرا کرتے ہوۓ بات ہی بدل دی
آپی آج کیفے سے چھٹی ہے میری باس ضروری کام سے شہر سے باہر گۓ ہوۓ ہیں رات تک لوٹیں گے جہاں تک پیسوں کی بات ہے میرے پاس ہیں آپ جانتی ہیں نہ آپ کا بھاٸی کتنا سمجھدار ہے تو آپ دونوں کسی بھی چیز کی پروا کیے بنا تیار ہوجاٸیں ہم باہر جارہے ہیں
سنی نے دونوں کی طرف دیکھ کر اپنا فیصلہ سنایا اور خود بھی تیار ہونے چلا گیا
تینوں کچھ ہی دیر میں گھر سے نکل گۓ سنی ان کو چڑیا گھر لے کر گیا پھر فن لینڈ پھر رات کو ایک اچھے ریسٹورینڈ میں کھانا کھلانے لے گیا
اَلسَلامُ عَلَيْكُم
وہ تینوں کھانے کا آرڈر دے چکے تھے اب کھانے کا انتظار کررہے تھے
چونک کر سلام کرنے والے شخص کو دیکھا تو وہاں حیدر گرے شرٹ پلیک پینٹ پہنے ان لوگوں کو ہی دیکھ رہا تھا
بھاٸی مشال کرسی سے اٹھ حیدر کے سینے سے لگ گٸ
کیسے ہی میری بہن حیدر مشال کے گرد بانہیں پھلاتا بولا
میں ٹھیک ہوں بھاٸی آپ یہاں کیسے
مشال نے چہکتے ہوتے ہوۓ پوچھا
وہ اصل میں آج میرا پرموشن ہوگیا ہے میں ایک امپلاۓ سے مینیجر کے عہدے پر فاٸز ہوچکا ہوں تو کچھ کولیک ٹریٹ مانگ رہے تھے میں ان کو یہاں لایا تھا
حیدر نے مشال کو ساتھ لگاتے ہوۓ مسکراتے ہوۓ جواب دیا
مبارک ہو آپ کو حیدر بھاٸی
سنی خوشدلی سے کہتا کرسی سے اٹھ کر حیدر سے بغلگیر ہوا
تھینکیو سنی
حیدر نے بھی نرمی سے جواب دیا تھا
آٸیں بیٹھیں ہمارے ساتھ
سنی کی پیش کش پر حیدر بھی ان ہی کے ساتھ بیٹھ گیا تھا
وہ سحر کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا تھا لیکن سحر کو مکمل نظر انداز کیا تھا
مبارک ہو حیدر بھاٸی آپ کو
سحر نے مسکراتے ہوۓ کہا
لیکن حیدر نے صرف ہلکی سی گردن کو جنبش دے کر جواب دیا
سحر کو برا لگا لیکن بولی کچھ نہیں اس کو اپنے ساتھ حیدر کا یہ روکھا روکھا سا رویہ سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن وہ کر بھی کیا سکتی تھی خاموش رہی
بھاٸی بتاٸیں ٹریٹ کب دیں رہے ہیں مشال نے لاڈ سے پوچھا حیدر سے
ابھی لے لو تم لوگ کھانا کھاٶ پیسے میں دے دوں گا
حیدر ٹریٹ دینے کے لیے راضی تھا
نہیں حیدر بھاٸی آج تو میں لایا ہوں ان لوگوں کو اپنے خرچے پر تو آپ پھر کسی دن کھلا دینا
سنی نے نرمی سے کہا
ہمم بھاٸی آپ آٸسکریم کھلا دینا
حیدر کے بولنے سے پہلے مشال بول پڑی
ہمم ٹھیک ہے جیسے میری گڑیا کہے
حیدر نے مشال کے رخسار چھوتے ہوۓ کہا
سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا حیدر تو اپنے کولیگ کے ساتھ کھانا کھا چکا تھا لیکن سب کے اسرار کرنے پر تھوڑا بہت کھا لیا
سب ہلکی پھلکی باتوں کے درمیان آٸسکریم کھا رہے تھے کہ مشال کو سحر کی جاب کی فکر لاحق ہوٸی
بھاٸی آپ کے آفس میں کوٸی سیٹ خالی ہے کیا
مشال نے آٸسکریم کھاتے ہوۓ پوچھا
ہاں ہے تو میں تو مینیجر کے عہدے پر فاٸز ہوگیا ہوں تو میری جگہ خالی ہوگٸ اس کے لیے ضرورت ہے تمھیں جاب کرنی ہے کیا
حیدر نے جواب دینے کے بعد سوال بھی پوچھا
مجھے نہیں سحر کو کرنی ہے
مشال نے سحر کی طرف اشارہ کیا
حیدر کے دیکھنے پر سحر نے بھی اثبات میں سر ہلایا
کیوں تمھارے منگیتر کو تمھارا کام پسند نہیں آیا کیا جو جاب ڈھونڈ رہی ہو
حیدر نے ظنز کیا
حیدر بھاٸ پلیز اس طرح بات نہیں کریں میری آپی سے اس شخص سے میری آپی کا کوٸی تعلق نہیں
سنی کو حیدر کا طنز بہت برا لگا تو اپنی آپی کے حق میں بول اٹھا
کیا مطلب رشتہ نہیں
حیدر نے ناسمجھی سے پوچھا
وہ شاہ ویز بھاٸی کو کسی نے سحر کے خلاف الٹا سیدھا کچھ کہہ دیا اور انھوں نے بنا بات کی تصدیق کیے سحر سے ہر رشتہ ختم کردیا
مشال افسردگی سے بولی
حیدر کو ایسا لگا جیسے اس کے دل سے ہزاروں من بوج کم ہوا ہو وہ خود کو بہت ہلکا محسوس کررہا تھا سحر کو کھونے کا جو ڈر ہر وقت اسکے سینے پر کسی وزن کی طرح مسلط رہتا تھا وہ اب کہی نہیں تھا
حیدر کا بس نہیں چل رہا تھا وہ سحر سے ابھی اظہار محبت کردیتا لیکن یہ سب اتنا آسان نہیں تھا
دکھ ہوا سن کر سحر جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے ہوسکتا ہے اس میں بھی کوٸی بہتری ہو
حیدر نے اپنے مخصوص انداز میں سحر کو مخاطب کیا تو سحر کے دل میں سکون سا اترا
جی بھاٸی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں میں اپنی آپی کے لیے کوٸی اچھا لڑکا ڈھونڈوں گا جو آپی کو تحفظ محبت اعتبار اور عزت دے
سنی نے سحر کو اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ کہا
افسوس یہ میں نہیں کر پایا اپنی بہن کے لیے تم جو چمٹ گۓ تھے اس کو کسی جن کی طرح
حیدر بڑبڑایا تھا لیکن مشال اس کے پاس بیٹھے ہونے کی وجہ سے سب سن چکی تھی
وہ زور زور سے ہنسنے لگی تھی حیدر بھی ہلکا سا مسکرایا تھا ساتھ مشال کو آنکھیں دیکھا دیکھا کر چپ رہنے کا اشارہ بھی کر رہا تھا
سحر نا سمجھی سے مشی کو دیکھ رہی تھی کہ اچانک کیا ہوا اس کو
سنی مشال کو گھوریوں سے نوازتا اسے چپ کروانے کی کوشش کررہا تھا کیونکہ سب لوگ مشال کو ہی دیکھ رہے تھے
گڑیا اب بس چپ ہوجاٶ سحر تم کل میرے آفس آجانا جاب مل جاۓ گی
حیدر مشال کو چپ کرواتا سحر سے مخاطب ہوا
بھاٸی میں آتو جاٶں گی لیکن مجھے سفارش پر جاب نہیں کرنی
سحر بہت خودار تھی حیدر اچھے سے جانتا تھا
نہیں سحر میں سفارش نہیں کروں گا تم آنا انترویوں دینا سب کی طرح اورمجھے یقین ہے تمھیں جاب مل جاۓ گی تم میری قابل شاگردہ جو تھیں
حیدر نے مذاقًا کہا تو سب ہی ہنس دیے
اس دن کے بعد شاہ ویز خاموش سا ہوگیا تھا صبح آفس جاتا رات کو آتا پھر اپنے کمرے میں بند رہتا اس کے چاچا چاچی بھی اس سے باتیں کرنے کی کوشش کرتے لیکن وہ سواۓ ہاں ہوں اچھا کے کچھ بولتا نہیں
عاصم دوبارہ نیا شکار ڈھونڈ رہا تھا اب اس کی نظر آفس کی لڑکیوں پر تھی جلد ہی اس کو ایک معصوم سی سیدھی سادی لڑکی نظر آگٸ
وہ کانچ سی آنکھوں والی گندمی رنگت کی مالک بھولی بھالی سی باٸیس سالہ خوبصورت لڑکی تھی سحر کے جانے کے بعد حنا کو اس کی جگہ رکھا گیا تھا جو آفس میں نٸ تھی اور ابھی کام سیکھ رہی تھی
اس کا زیادہ تر پالا عاصم سے پڑتا تھا کیونکہ شاہ ویز زیادہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا حنا خود بھی شاہ ویز سے دور رہتی تھی کیونکہ آۓ دن کوٸ نہ کوٸ شاہ ویز کے ہاتھوں ذلیل ہوکر اس کے آفس سے باہر آرہا ہوتا تھا
عاصم کے بناوٹی نرم مزاج لب و لہجے کی وجہ سے وہ ہر بات عاصم سے ہی کرتی تھی
عاصم بہت جلد حنا کی معصومیت کا فاٸدہ اٹھانے والا تھا
حنا متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی اپنے گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے سب کی لاڈلی تھی اس نے اپنی گریجوشن کے بعد تعلیم کو خیر آباد کرکے جاب کرنے کا فیصلہ کیا گھر والوں نے پہلے تو منا کردیا گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی حنا جو خواہش کرتی اس کے گھر والے فوراً پوری کردیتے لیکن پھر بھی حنا کو جاب کرنے کا شوق چڑھا تھا حنا نے دو آنسوں ٹپکاۓ تو گھر والوں نے اجازت دے دی حنا کا بڑا بھاٸی روز اسے آفس چھوڑتا اور خود ہی لینے بھی آتا تھا
حنا کا جاب کرنے کا تجربہ اب تک بہت اچھا جا رہا تھا وہ بہت خوش تھی
حیدر کے چہرے سے مسکراہٹ چپک کر رہ گٸ تھی وہ جلد سے جلد سحر کو اپنا بنانے کا سوچ رہا تھا شادی نہ سہی لیکن سحر کو اپنے نکاح میں لینے کا سوچ چکا تھا رخصتی جب سحر کہتی تب ہوتی وہ کسی بھی قیمت پر یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا وہ اسی سلسلے میں مشال سے جلد بات کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا
سحر دوسرے دن ہی سنی کے ساتھ حیدر کے آفس چلی گٸ تھی انٹرویو کے لیے
وہاں اس کو حیدر تو نہیں ملا کیونکہ وہ اپنے کیبن میں کام میں مصروف تھا لیکن اس کا انٹرویو بہت اچھا ہوا تھا اس کو پوری امید تھی کے جاب مل جاۓ گی
وہ انٹرویو دینے کے بعد سنی کے ساتھ واپس گھر چلی گٸ تھی سنی سحر کو گھر چھوڑ کر یونی چلا گیا تھا
شام کے وقت مشال سحر لاٶنج میں بیٹھیں باتیں کررہیں تھی
سحر کے موباٸل میں آتی کال نے اس کی توجہ اپنی طرف کی
سحر نے موباٸل دیکھا تو حیدر کی کال تھی سحر نے جلدی سے کال اٹھاٸی
اَلسَلامُ عَلَيْكُم حیدر بھاٸی
وَعَلَيْكُم السَّلَام مس سحر
آپ آج انٹرویو کے لیے آٸیں تھیں تو مجھے باس نے ابھی بتایا کہ آپ کو اطلاع دیں دوں کہ آپ کو جاب مل گٸ ہے اور آپ کل سے جوٸن کرسکتی ہیں
حیدر نے بلکل پرفیشنل انداز میں کہا
حیدر بھاٸی آپ ایسے بات کیوں کر رہے ہیں
سحر نے منہ بسور کر کہا
تم میرے انڈر کام کرو گی نہ تو تمھارا باس بننے کی کوشش کررہا تھا
حیدر کافی خوش تھا اب سحر آدھا دن اس کے قریب رہے گی
ہاہاہا حیدر کی بات سنی کر سحر کھلکھلا کر ہنس دی حیدر بھاٸی آپ بھی نہ
سحر کے ہنسنے پر حیدر نے آنکھیں بند کرکے سحر کا مسکراتا ہوا چہرا اپنے خیال میں سوچا حیدر کے چہرے پر بھی مسکراہٹ نمودار ہوٸی
اب یہ بتاٶ مجھے ٹریٹ کب دے رہی ہو جاب مل گٸی ہے تمھیں
حیدر نے خوش ہوتے ہوۓ کہا
جب آپ بولیں بتاٸیں پھر کب بناٶں حلوہ
سحر نے حیدر کی بات جان لی تھی
ارے واہ سمجھدار ہوگٸ ہو سمجھ گٸیں ہو میرے دل کی بات
حیدر کو اچھا لگا تھا سحر اس کے دل کی بات جان گٸ تھی
جی آپ بتاٸیں کب کھانا پسند کرے گے حلوہ
سحر نے مسکراتے ہوۓ اپنا سوال دوبارہ دہرایا
اگر تم آج بنالو تو میں آج ہی کھانے آجاٶں گا
حیدر تو بس بہانا تلاش کررہا تھا سحر کو دیکھنے گا جو اس کو مل گیا
ٹھیک ہے آجاٸیں میں بنا رہی ہوں
سحر نے چہکتے ہوۓ کہا
اوکے ابھی آیا
حیدر نے مسکراتے ہوۓ کہا اور موباٸل رکھ کر تیار ہونے چلا گیا
مشال خاموش بیٹھی سحر کا مسکراتا چہرا دیکھ رہی تھی اس کے دل میں ایک پل کو خیال آیا سحر اور حیدر بھاٸی کی شادی ہوجاۓ تو کتنا اچھا ہو
لیکن اگلے ہی پل مشال نے یہ خیال جھٹک دیا کیونکہ مشال کی نظر میں حیدر تو سحر کو بہن مانتا ہے تو یہ نا ممکن ہے
مشی تم نے سنا مجھے جاب مل گٸ
سحر نے مشال کے گلے لگتے ہوۓ خوشی سے کہا
مبارک ہو سحر
مشال نے بھی خوشی سے سحر کے گرد بازوں حماٸل کیے
تھینکیو اب میں حیدر بھاٸی کے لیے حلوہ بنانے جارہی ہوں حیدر بھاٸی آرہے ہیں کھانے
سحر مسکراتی ہوٸی بنا مشال کی بات سنے کچن میں چلی گٸ
افففف اس کو جاب کی ملنے کی خوشی ہے یا حیدر بھاٸی کے گھر آنے کی مشال سوچتی رہ گٸ تھی
کچھ ہی دیر میں حیدر سحر کے گھر پر تھا
اَلسَلامُ عَلَيْكُم بھاٸی
مشال نے دروازہ کھولتے ہی مسکراتے ہوۓ سلام کیا
وَعَلَيْكُم السَّلَام میری بہنا حیدر نے مشال کو اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ کہا
دونوں ایسے ہی چلتے ہوۓ صوفے پر بیٹھ گۓ
سحر نظر نہیں آرہی کہاں ہے
حیدر نے نے آس پاس نظر دوڑاتے ہوۓ پوچھا
وہ حلوہ بنا رہی ہے آپ کے لیے میں بلا کر لاتی ہوں اس کو
مشال صوفے سے اٹھتے ہوۓ بولی
نہیں نہیں رہنے دو تم یہی بیٹھو مجھے تم سے بات کرنی ہے
حیدر نے مشال کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب ہی بیٹھا لیا
جی بولیں بھاٸی
مشی میری پیاری بہن وہ اصل میں نہ میں شادی کرنا چاہتا تو مجھے اس معاملے تمھاری مدد درکار ہے
حیدر نے مسکین سی شکل بنا کر کہا
کیا مطلب بھاٸی میں بہلا کیا مدد کرسکتی ہوں آپ کی مشال نے حیرانگی سے استفسار کیا
تم ہی مدد کرسکتی ہو میری
کیونکہ مجھے تمھاری نند سے شادی کرنی ہے محبت کرتا ہوں میں اس سےابھی سے نہیں کٸ سالوں سے
اس کی منگنی کا سن کر مجھے بہت دکھ ہوا ایسا لگا جیسے کسی نے میرا دل نکال لیا ہو میں ہر وقت بے سکون رہتا تھا لیکن جب اس دن مجھے معلوم ہوا کہ سحر کی منگنی ٹوٹ گٸ ہے مجھے سحر کے لیے دکھ تو ہوا لیکن خوشی بھی ہوٸی کہ مجھے ایک موقع مل گیا سحر کو اپنا بنانے کا میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں بلکہ محبت نہیں عشق کرتا ہوں مشال تم میری مدد کرو سحر کو مناٶ میرے لیے پلیز
حیدر نے مشال کے آگے اپنا دل کھول کر رکھ دیا تھا
مشال حیرت زدہ سی حیدر کو یک ٹک دیکھتی رہ گٸ
مشال کچھ بولو نہ چپ کیوں ہو
حیدر نے مشال کا کندھا ہلا کر کہا
بھاٸی کچھ دیر پہلے میرے ذہن میں بھی یہ ہی خیال آیا تھا سحر کو اپنی بھابی بنالوں
لیکن میں نے یہ خیال جھٹک دیا تھا کیونکہ میں سمجھتی تھی آپ سحر کو بہن سمجھتے ہیں
پر میں آپ کے فیصلے سے بہت خوش ہوں مشال خوش ہوتی حیدر کے گلے لگ گٸ تھی
لیکن ایک منٹ بھاٸی ایک پرابلم ہے
مشال کچھ یاد آنے پر حیدر سے الگ ہوتی گویا ہوٸی ۔
