Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ladon Ka Pala Episode 6

Ladon Ka Pala by Misbah

ارے اس کو کیا ہوا اب.. افف یہ لڑکی بھی نہ گھر جاکر ہی پتہ چلے گا …“

سحر نے جلدی سے چھٹی کی درخواست دی اور بھاگی بھاگی گھر پہنچی

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم آپی“… سنی لاٶنج میں ہی بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا سحر کو دیکھ کر سلام کیا …

”وَعَلَيْكُم السَّلَام میری جان“.. سحر نے مسکرا کر جواب دیا …

”آپی آپ کی دوست آٸیں ہوٸ ہیں آپ کے روم میں ہیں پریشان لگ رہیں تھیں کچھ“ …

”اچھا میں دیکھتی ہوں“

… سحر اپنے روم میں چلی گٸ سنی دوبارہ ٹی وی دیکھنے میں مشغول ہوگیا جہاں ٹام جیری کی جنگ عظیم جاری تھی …

”مشال یہ کیا حالت بناٸ ہوٸ ہے تم نے اپنی …یہ ہونٹ پر زخم کیسا ہے یہ گلے پر نشان.. کیا ہوا ہے مشال تمھارے ساتھ…“

سحر کو کسی انہونی کا احساس ہوا تھا…

”سحر میں برباد ہوگٸ…“

مشال سحر کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی …

سحر صدمے کی حالت میں روتی بلکتی مشال کے آنسوں اپنے کندھے پر محسوس کررہی تھی ..

میں کہی کی نہیں رہی سحر …

سحر نے ایک جھٹکے سے مشال کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا ..

”کیا بکواس کررہی ہو مشال ہوش میں تو ہو تم… ایسا کیسے ہوسکتا ہے تم تو بیمار تھیں نہ.. اپنے گھر پر تھیں نہ.“

. سحر نے غصے میں کہا …

”میں نے جھوٹ بولا تھا تم سے بھی گھر والوں سے بھی….“

اس کے بعد مشال نے ایک ایک بعد سحر کو بتادی …

”مشال تمھیں شرم نہیں آٸ یہ سب کرتے ہوۓ… میں نے تمھیں کہا بھی تھا ان چکروں سے دور رہنا… ارے آج کل شریف لڑکے یوں سڑکوں پر نہیں ملا کرتے… تم سے اس بیوقوفی کی امید نہیں تھی مجھے… حیدر بھاٸ کا سوچا ہے تم نے.. ان کو تمھاری کرتوت کا پتا چلا تو ان پر کیا گزرے گی …انھوں نے اس وحشی دنیا سے تمھیں کتنا بچا کر رکھا…اور تم نے خود کو ہی ایک وحشی کے حوالے کردیا …“

سحر قرب سے بولی تھی اس کا سچ میں دل دکھا تھا مشال کی بے وقوفی پر…

”نہیں نہیں پلیز حیدر بھاٸ کو کچھ نہیں بتانا وہ میری شکل تک نہیں دیکھے گے پلیز …“

مشال سحر کے ہاتھ پکڑے التجا کررہی تھی …

”جب خیال نہیں آیا حیدر بھٸ کا جب اس غلیظ کے ساتھ جارہی تھیں…“

سحر نے مشال کے ہاتھ جھٹکے تھے …

”سحر میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں پلیز بھاٸ کو کچھ نہیں بتانا …ان کی بے رخی نفرت میں برداشت نہیں کرسکتی…“

مشال سحر کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی …

”ٹھیک ہے نہیں بتا رہی کسی کو کچھ …تم میرے ساتھ چلو پولیس اسٹیشن اس جانور کے خلاف رپورٹ درج کروانے“

… سحر مشال کا ہاتھ پکڑ کر ایک قدم آگے بڑھی ہی تھی مشال نے جلدی سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا…

”نہیں نہیں میں کہی نہیں جاؤں گی… میں وہاں جاکر کیا کہوں گی میں خود گٸ تھی اس کے ساتھ اور ابھی یہ بات کسی کو نہیں معلوم پھر سب کو معلوم ہوجاۓ گی پلیز سحر میں بدنام ہوجاٶں مجھ پر رحم کھاٶ …“

مشال کی آنکھوں سے آنسوں ایک بار پھر روا ہوگۓ تھے …

مشال کی حالت پر سحر کو ترس آیا اس نے مشال کو خود میں بھینچ لیا …

”میری دوست بس چپ ہوجاٶ کوٸ تمھارے ساتھ ہو نہ ہو میں تمھارے ساتھ ہمیشہ رہوں گی کبھی تمھیں خود سے دور نہیں ہونے دوں گی …“

سحر بھی مشال کے ساتھ رو رہی تھی …

”اچھا اب تم یہ رونا دھونا بند کرو اور فریش ہوکر آٶ میں تمھیں اپنے کپڑے دیتی ہوں وہ پہن لو تم …”

.کچھ دیر رونے کے بعد سحر نے نرمی سے مشال کو خود سے دور کیا ..

”ٹھیک ہے “…مشال نہانے چلی گٸ سحر کچن میں ..

تاکہ کچھ کھانے کا انتظام کرسکے

مشال آٸینے کے سامنے کھڑی خود کا جاٸزہ لے رہی تھی ایک ہی دن میں وہ کیا سے کیا ہوگٸ تھی اپنا سب کچھ اپنے ہاتھوں سے برباد کرچکی تھی وہ آٸینے کے سامنے کھڑی آنسوں بہارہی تھی جب ہی دروازہ کھولا اور سحر اندر آٸ ..

سحر مشال کو دیکھ کر پریشان ہوگٸ …

”یہ تمھارا چہرا ہاتھ یہ گلا اتنا لال کیوں ہورہا ایسا لگ رہا جیسے ابھی خون ریسنا شروع ہوجاۓ گا…“

سحر نے مشال کو چھوتے ہوۓ پوچھا ..

”میں اس غلیظ کا لمس اپنے اوپر سے ختم کرنا چاہتی تھی… میں نے بہت کوشش کی سحر لیکن نہیں مٹا پاٸ…. ایسا لگ رہا ہے وہ ابھی بھی میرے جسم کو چھو رہا …مجھے اپنے پورے جسم سے گھن محسوس ہورہی ہے… کاش میں اپنے جسم سے ہر وہ حصہ نکال پاتی جس حصے کو اس غلیظ نے چھوا ہے…“

مشال کی آنکھوں سے اشک ایک بار پھر بہنا شروع ہوگۓ تھے…

مشال کی حالت کے پیشِ نظر سحر نے مشال کو اپنے گھر ہی روک لیا تھا ایسی حالت میں وہ گھر جاتی تو گھر والے سوال کرتے سحر نے اپنی طبیعت خراب ہونے کا کہہ کے مشال کے گھر والوں سے اسے اپنے گھر رکنے کی اجازت لے لی تھی …

دو دن سحر کے ساتھ رہ کر سحر کے حوصلہ دلانے پر مشال اپنے گھر لوٹ گٸ تھی …

مشال سب کے سامنے تو ہنستی بولتی لیکن اکیلے میں اپنی بدقسمتی پر ماتم کرتی.. خود کو کوستی ..راتوں کو نیند نہیں آتی اس کو جب بھی سونے کی کوشش کرتی خود پر گزری قیامت یاد آجاتی …سحر ہمیشہ اس کو دلاسہ دیتی.. اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتی رہتی…

مشال کے ساتھ ہوۓ واقع کو تین ہفتے گزر گۓ تھے صبح سے ہی مشال کی طبیعت ناساز تھی سحر آفس سے آتے ہوۓ مشال کو ڈاکٹر کے پاس لے گٸ.. وہاں جو ان دونوں کو خبر ملی وہ کسی بجلی کے جھٹکے سے کم نہ تھی… مشال رو رو کر بے حال ہوگٸ تھی ایسے میں سحر کو ایک ہی راستہ نظر آیا سنی اور مشال کی شادی …

”لیکن آپی پریگنینڈ تو شادی کے بعد ہوتی ہیں لڑکیاں …آپ کی دوست کی تو شادی نہیں ہوٸ…“

ساری کہانی سن کر سنی کو بس یہ ہی سمجھ آیا اس کو ایسی بات اپنی بہن سے پوچھنا معیوب بھی لگ رہا تھا لیکن پوچھنا بھی ضروری تھا ..

مشال نے صدمے سے اپنا سر پکڑ لیا …

سحر شرمندگی سے سر جھکا گٸ اس کو اندازہ نہیں تھا اس کا بھاٸ اس حد تک انجان ہے ..

سنی اپنی بڑی بڑی آنکھیں جھپک جھپک کر کبھی مشال کو دیکھتا تو کبھی سحر کو…

سنی سحر کے گھر کا اکلوتا مرد تھا اور ان دونوں کا اکیلا سہارا…. سحر نے آج کل کے نوجوانوں کو بگڑتے دیکھا تھا جو صرف اپنی سوچتے ہیں ماں کا احترام بہن کی عزت جوانی میں قدم رکھتے ہی بھول جاتے ہیں بے حس بن جاتے ہیں جن کو صرف اپنی خواہشوں کی فکر رہتی ہے ..

سحر اپنے بھاٸ کو آج کل کے بگڑتے نوجوانوں جیسا نہیں بنانا چاہتی تھی… سحر نے اس کی تربیت ماں کی طرح کی اس نے سنی کو ہر اس چیز سے دور رکھا جس سے سنی کے بگڑنے کا خدشہ تھا …

سحر کے گھر میں ٹی وی نہیں تھا …غربت کے دنوں میں سحر نے ٹی وی بھی بھیج دیا تھا پھر دوبارہ جب خریدہ جب سحر کی جاب لگ گٸ تھی لیکن پھر سنی کے پاس اتنا ٹاٸم نہیں ہوتا تھا کہ وہ ٹی وی دیکھے ..کبھی وہ ٹی وی دیکھتا بھی تو سحر اس کے ساتھ بیٹھ جاتی ..سواۓ کارٹون کے اسے کچھ دیکھنے نہ دیتی ..

سحر نے سنی کو موبائل بھی انٹر کلٸیر کرنے کے بعد دلایا اس شرط پر کہ وہ موبائل ضرورت کے وقت پر یوز کرے گا اس کے علاوہ نہیں… سنی خوشی خوشی مان گیا تھا…

سحر نے سنی کو عورت کی عزت کرنا سکھایا تھا عزت لوٹنا نہیں …

اپنی عزت کی حفاطت کرنا سکھایا تھا عزت بیچنا نہیں ..

محبت کرنا سکھاٸ تھی نفرت کے تو ن سے بھی لاعلم تھا وہ …

سحر نے سنی سے اس دنیا کا سیاہ روپ چھپا کر صرف سفید روپ سے آشنا کوایا تھا …

سنی کا دل اور دماغ دونوں شفاف تھے کسی بھی طرح کی نفرت بغض حسد سے پاک…

”سنی دیکھو شادی کے بعد جو ہوتا ہے مشال کے ساتھ وہ زبردستی شادی سے پہلے ہوگیا ہے…. اب تم سب باتوں کو چھوڑو یہ بتاٶ کرو گے مشال سے شادی… “

سحر نے پیار بھرے لہجے میں پوچھا …

”آپی میں آپ کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں …“

سنی نے محبت سے بہن کا ہاتھ پکڑ کر مسکراتے ہوۓ جواب دیا …

”مشال بتاٶ تم کیا کہتی ہو …میں تم سے ہاتھ مانگتی ہوں تمھارا اپنے بھاٸ کے لیے…“

سحر کا رخ اب مشال کی طرف تھا

”میرے پاس شادی کرنے کے علاوہ اور کوٸ راستہ بھی نہیں ہے میں راضی ہوں…“

مشال نے آنسوصاف کرتے ہوۓ گردن جھکا کر جواب دیا…

”آپی ..“

”ہمم بولو“…

”وہ آپی ان کے گھر والے نہیں مانے گے… میں چھوٹا ہوں ان سے… ابھی تو تعلیم بھی مکمل نہیں ہوٸ میری .“

.سنی نے معصومیت سے کہا…

” میں منا لوں گی کیسے بھی کرکے گھر والوں کو“ …جواب سحر کی جگہ مشال نے دیا …

”ٹھیک ہے آپی میں جارہا ہوں کام پر دیر ہوگٸ آج مجھے …“

سنی نے ہاتھ میں پہنی گھڑی کی طرف دیکھ کر کہا…

”ٹھیک ہے خیال سے جانا فی امان اللہ..“

سحر نے شفقت سے سنی کا ماتھا چوما ..

”خدا حافظ میری پیاری آپی…“

سنی مسکراتا ہوا باٸیک کی چابی اٹھاتا گھر سے نکل گیا …

مشال بھی کچھ دیر سحر سے باتیں کرکے گھر چلی گٸ…

**********

”بھاٸ میں اندر آجاٶں “

…مشال ڈرتے ڈرتے آخر کار حیدر کے کمر ے تک پہنچ ہی گٸ تھی …

”ارے میری گڑیا کو کب سے اجازت کی ضرورت پڑنے لگ گٸ اپنے بھاٸ کے کمرے میں آنے کے لیے….“

حیدر نے خوشدلی سے مشال کو جواب دیا…

”وہ وہ بھاٸ مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی.“

. مشال نے گھبراتے ہوۓ سر جھکا کر بات کا آغاز کیا …

”تو کرو بات اس میں اتنی گھبرانے والی کیا بات ہے مشی.. یہاں میرے پاس آٶ.. “

حیدر نے نرم لیجے میں کہا اور مشال کو اپنے پاس بیڈ بٹھایا..

”ہاں کہو اب “..

مشال کے بیٹھنے کے بعد حیدر نے مشال سے پوچھا …

مشال خاموشی سے سر جھکاۓ بیٹھی اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی ..

”وہ وہ بھا بھاٸ میں وہ ..“

”کیا ہوا ہے اتنا کیوں گھبرا رہی ہو.“

. حیدر کو تفتیش ہوٸ ..

”وہ وہ بھاٸ میں سنی کو پسند کرتی ہوں اور شادی کرنا چاہتی ہوں اس سے …“

مشال نے ہمت کرکے ایک ہی سانس میں جواب دیا ڈر کے ماریں آنکھیں بھی میچ گٸ ..

کچھ دیر تک حیدر کی آواز نہ آنے پر آہستہ آہستہ آنکھیں وا کیں …

ڈرتے ڈرتے حیدر کی طرف دیکھا جو سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹھا مشال کو دیکھ رہا تھا …

”مشال مجھے اس طرح کے مذاق پسند نہیں چلو اٹھو اپنے روم میں جاکر سو“

حیدر نے کچھ سخت کہنے سے باز رکھا خود کو

”بھاٸ پلیز میں مذاق نہیں کررہی …میں سنی کے بغیر نہیں رہ سکتی اب اور دوری برداشت نہیں ہوتی مجھ سے مشال روہانسی ہوٸ “

”شرم آرہی ہے تمھیں ذرا سی بھی اپنے بڑے بھاٸ کے سامنے اپنے عشق کی داستانے سنا رہی ہو“ حیدر نے مشال کا بازو پکڑ کے جھنجوڑا

مشال اس وقت خود کو بہت بے بس محسوس کررہی تھی اس کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جاۓ

مشال اندر سے بہت شرمندہ تھی اس نے کبھی زندگی میں نہیں سوچا تھا کہ وہ اپنے بھاٸ کے سامنے یوں بے شرموں کی طرح اپنی ہی شادی کی بات کرے گی

لیکن وہ کر بھی کیا سکتی تھی اپنی ایک غلطی کی سزا اسے اور کتنی ملنی ہے اس کا اندازہ اس کو خود کو بھی نہیں تھا

”بھاٸ آپ جو بھی کہہ لیں پر میں اب سنی کے بنا نہیں رہ سکتی مجھے اس کے ساتھ زندگی جینی ہے “

مشال پھوٹ پھوٹ کر رو دی

مشال کے یہ آنسوں بے بسی کے تھے حیدر اپنی بہن کے دل کے بھید سے انجان اپنی بہن پر افسوس ہی کرسکا

”مشی میری بات سنو دیکھو تم میری بات سمجھو وہ سنی تمھیں کیا دے سکتا ہے کچھ نہیں وہ خود ہی ابھی اپنی بہن کی جھاٶں میں زندگی گزار رہا ہے تمھیں کیا تحفظ دے سکے گا تم بھول جاؤ اس کو میں اپنی شہزادی کے لیے بہت پیارا سا شہزادہ ڈھونڈوں گا “

حیدر نے پیار سے مشال کو پچکارا

”نہیں بھاٸ نہیں مجھے کچھ نہیں چاہیے میں صرف سنی کا ساتھ چاہتی ہوں“

مشال کے لہجے میں اب ضد کا عنصر تھا

”مشال بس بہت ہوگیا تمھارے سمجھ نہیں آتی ایک دفع کی بات“

حیدر کا غصہ سوا نیزے پر تھا

مشال تو سہم ہی گٸ کبھی حیدر نے مشال پر غصہ نہیں کیا تھا لیکن آج مشال نے حیدر کو اس قدر غصہ دلا دیا تھا وہ خود بھی ڈر گٸ تھی کوس رہی تھی اس وقت کو جب عاصم اس کی زندگی میں آیا تھا

”آپ کچھ بھی کر لیں بھاٸ میں شادی صرف سنی سے کروں گی ورنہ اپنی جان دے دوں گی“ مشال حیدر کو دھمکی دیتی فوراً کمرے سے نکل گٸ کہی تھپڑ ہی نہ پڑ جاۓ

حیدر صدمے کی حالت میں اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکا اس کی جان سے پیاری بہن یہ کس راہ پر چل نکلی ہے

”محبت ہر کسی سے نہیں

خاص سے ہوتی ہے

جس سے بھی ہوتی ہے

لازوال ہوتی ہے“

”عاصم تم مر جاؤ خدا کرے تمھیں قبر بھی نصیب نہ ہو تمھاری وجہ سے میں نے اپنے بھاٸ کے آگے آواز اٹھاٸ“

”بھاٸ مجھے معاف کردیں میں مجبور ہوں آپ کی گڑیا اتنی بری نہیں ہے“

مشال اپنے بیڈ پر لیٹی رونے کے ساتھ اپنی کم عقلی پر ماتم بھی منارہی تھی

مشال روتے روتے نیند کے آغوش میں جاچکی تھی اس کے چہرے پر اشکوں کے نشان اس کی اذیت پتہ دے رہے تھے

”یہ کیا ہوگیا میری گڑیا کو اتنی ضدی تو کبھی نہ تھی اور سنی کیا وہ بھی مشی کو پسند کرتا ہے وہ دیکھنے میں بہت معصوم سا ہے مجھے لگتا تھا اسے ابھی اتنی عقل ہی نہیں کیونکہ جس طرح سحر نے اسے لاڈوں میں پالا ہے اسے علم ہی کہاں ہوگا اور سحر کیا اس کے علم میں ہے یہ سب اففف میں پاگل ہوجاٶں گا مشال یہ تم نے کس مشکل میں ڈال دیا ہے مجھے“

حیدر نے سر کے بال اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں میں جکڑ لیے یہی سب سوچتے سوچتے جانے کب حیدر پر نیند کی دیوی مہر بان ہوٸ

**************

”آپی کیا ہم نے جو آج فیصلہ کیا ہے وہ ٹھیک ہے“ سنی سحر کی گود میں سر رکھ کر لیٹا سحر سے آج ان کے درمیان ہونے والے فیصلے کے بارے میں پوچھ رہا تھا

”مجھے نہیں معلوم سنی میں جانتی ہوں میں تمھارے ساتھ ناانصافی کررہی ہوں لیکن میں مجبور ہوں میری دوست مجھے بہت عزیز ہے میں اسے برباد ہوتے سسک سسک کے مرتے ہوۓ نہیں دیکھ سکتی اس لیے مجھے یہ انتہائی فیصلہ لینا پڑا “

سحر نے سنی کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ کہا

”آپی آپ پریشان نہ ہو آج تک میں نے آپ کی بات مان کر کبھی نقصان نہیں اٹھایا ان شاء اللہ آگے بھی ایسا نہیں ہوگا “

سنی نے محبت سے سحر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا

”میرا پیارا بھاٸ مجھے فخر ہے تم پر“

سحر نے مسکراتے ہوۓ سنی کا ماتھا چوما

جواب میں سنی بھی مسکرا دیا

***********

”بھاٸ رکیں میری بات سنیں “

مشال نے گھر سے نکلتے ہی باٸیک اسٹارٹ کرتے حیدر کو آواز دی

حیدر رک گیا لیکن مشال کو دیکھنے کے بجائے سامنے سڑک پ نظریں جماۓ انجان بنا کھڑا رہا

”بھاٸ پلیز مجھے معاف کردیں رات والی حرکت کے لیے آٸ ایم سوری میں بہت شرمندہ ہوں“ مشال نے نظریں ہنوز جھکاٸ ہوٸیں تھیں

”مشال یہ سہی وقت نہیں بات کرنے کا رات کو کرے گے بات “

حیدر نے سنجیدگی سے جواب دیا اور باٸیک اسٹارٹ کرکے نکل گیا

مشال تھکے قدموں سے سحر کے گھر کی طرف روانہ ہوگٸ

*********

”مشال تم اتنی اداس کیوں ہو کیا ہوا ہے“

مشال سحر کے گھر میں موجود تھی مشال کا مرچھایا ہوا چہرا دیکھ کر سحر کو تشویش ہوٸ

وہ میں نے بھاٸ سے بات کی تھی مشال کے لہجے میں اداسی واضح تھی

”کیا کہا حیدر بھاٸ نے پھر“

سحر متجسس ہوٸ

” کیا کہنا تھا ڈانٹا مجھے ناراض بھی ہوگۓ ہیں مجھ سے کیا کروں سمجھ نہیں آرہا “

”یہ تو ہونا ہی تھا تم پریشان نہ ہو تم سے بہت محبت کرتے ہیں جلد مان جاٸیں گے “

”یار سحر تم میری حالت سے واقف ہو مجھے ڈر لگا رہتا ہے اگر امی کو کچھ معلوم ہو گیا تو عورتوں کو تو ویسے بھی ان باتوں کا علم ہوجاتا ہے “

مشال نے بچارگی سے کہا

”اچھا تم پریشان نہیں ہو تم دوبارہ بات کرنا حیدر بھاٸ سے تھوڑا رونا دھونا کرنا مان جاٸیں گے“

”ہممم اللہ کرے ایسا ہی ہو “مشال نے اداسی سے کہا

” ان شاء اللہ ایسا ہی ہوگا“ سحر نے مسکراتے کہا