Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ladon Ka Pala Episode 10

Ladon Ka Pala by Misbah

اگلے دن دونوں کے ہی مزاج بدلے ہوۓ تھے دل کا موسم بدل رہا تو مزاج میں تبدیلی تو آنی ہی تھی

آج صبح اٹھ کر دونوں نے لڑاٸی بھی نہیں کی تھی دونوں ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر بات بے بات مسکرا رہے تھے

سحر تو ان دونوں کے اس نۓ بدلاٶ پر حیرت ذدا سی دونوں کی آنکھ مچولی دیکھ رہی تھی

تم دونوں ٹھیک ہو

سحر سے اور صبر نہ ہوا

جی آپی ٹھیک ہیں ہمیں کیا ہوا ہے

سنی نے جلدی سے جواب دیا چوری جو پکڑی گٸ تھی

دیکھ رہی ہوں میں بھی سب ٹھیک ہے لڑاٸی نہیں ہوٸی آج تم دونوں کی

سحر نے چاۓ پیتے ہوۓ دونوں کو دیکھتے ہوۓ کہا

کیا تم تھانیدارنی بن گٸ ہو ناشتہ کرو خاموشی سے آفس کے لیے دیر ہوجاۓ گی نہیں تو

مشال نے بھی بولنے کی زحمت کر ہی لی بولی تو ایسا کہ سحر کی زبان کو تالا لگوا دیا

تینوں نے خاموشی سے ناشتا کیا پھر سنی سحر سے ملتا مشال پر ایک مسکراتی نظر ڈالتا یونیورسٹی کے لیے نکل گیا

گیا وہ باقی کا شام کو دیکھ لینا

مشال کی سنی کی طرف نظریں مرکوز دیکھ کر سحر نے مشال کا کندھا ہلاتے ہوۓ کہا

ہاں ہاں کیا ہوا

مشال تو ایسے ہوش میں آٸی جیسے کسی نے اس پر پانی ڈال کر اس کو جگایا ہو

کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو نہ

ہاں ٹھیک ہوں آفس چلیں

ہممممم تم میرے بھاٸی کے خیالوں سے باہر آٶ تو چلیں نہ

سحر نے شرارت سے کہا

ایسا کچھ نہیں ہے چلو خاموشی سے

مشال سحر کے کندھے پر مکا جڑتی آگے نکل گٸ

آہ موٹی سارا دن مارتی رہتی ہو سحر نے کراہتے ہوۓ کہا

مشال کا بانچوا مہینہ چل رہا تھا اس کا جسم پہلے سے کافی بھر گیا تھا

آفس میں اکثر لوگ اسے دیکھتے تو مشال سے کٸ سوال کرتے

مشال کی شادی کا کسی کو معلوم نہیں تھا کیوں کہ وہ دونوں کسی سے بات ہی نہیں کرتی تھیں

مشال کو کافی شرم بھی آتی لیکن سحر اس کے بدلے سب کی باتوں کا جواب دیتی سب کو بڑے فخر سے بتاتی میری بیسٹی میری بھابھی ہے

کچھ لوگ ان کی عظیم دوستی کو سراہتے تو کچھ جلتے

دونوں ہی آفس پہنچ کر اپنے اپنے کام میں مصروف ہوگٸیں تھیں

آٹینشن ایوری ون

(Attention every one)

شاہ ویز کی آواز پر سب اس کی طرف متوجہ ہوۓ

میری سربراہی میں آج اس کمپنی کا پہلا بڑا پروجیکٹ فاٸنلی مکمل ہوگیا ہے اسی خوشی میں میں نے کل رات پارٹی رکھی ہے اور سب کو ضرور آنا ہے کیوں کہ وہ پروجیکٹ مکمل آپ لوگوں کی دن رات کی محنت کی وجہ سے ہوا اسی لیے سیلیبریشن بھی سب کے ساتھ ہونی چاہیے تو سب کو آنا ہے کسی کا کوٸی ایکسکیوز نہیں سنوں گا میں تو سب آٸیں گے نہ

شاہ ویز اپنی بات مکمل کرتا اب سب سے ان کے آنے کی تصدیق کررہا تھا

یس سر ہم ضرور آٸیں گے

سب ورکرز نے یک زبان ہوکر جواب دیا تھا

شاہ ویز سب کی مرضی جان کر ایک نظر سحر پر ڈالتا اپنے آفس روم میں چلا گیا تھا

مشال کیا تم جانا چاہتی ہو پارٹی میں سحر نے مشال سے پوچھا

نہیں بھٸ مجھے ایک ہی دن تو ملتا ہے سنی کے ساتھ میں وہ زایع نہیں کرنا چاہتی

میں پارٹی میں جانے سے اچھا اپنی چھٹی کا دن اپنے شوہر کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں

کہی تم سنی کے نام کی تسبیح پڑھنے نہیں لگ جانا ہر وقت سنی سنی کرتی رہتی ہو دیوانی ہوگٸ ہو تم بلکل

سحر نے مشال کے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوۓ کہا

تمھیں جب محبت ہوگی نہ تو تب پوچھوں گیں تم سے تم کس کی مالا جپتی ہو

مشال نے ناک سے مکھی اڑاٸی

اچھا دفع کرو ان باتوں کو چلو سر سے معزرت کرلیتے ہیں

سحر ںے مشال کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا

ہمممم چلو مشال نے بھی ہامی بھری

میں آٸی کم ان سر

(May i come in sir )

یس کم ان (Yes come in )

شاہ ویز کی اجازت ملتے ہی سحر مشال دونوں ہی کمرے میں داخل ہوٸیں

کچھ کہنا ہے آپ دونوں کو

شاہ ویز نے دونوں کو ایک دوسرے سے اشارے سے بات کرتے دیکھا تو سمجھ گیا کوٸی بات ہے اسی لیے خود ہی پوچھ بیٹھا

جی سر

سحر نے جواب دیا

پلیز سیٹ

شاہ ویز نے دونوں کو بیھٹنے کا کہا

دونوں خاموشی سے بیٹھ گٸیں

جی کہیں کیا کہنا ہے آپ دونوں کو شاہ ویز اپنی فاٸل بند کرتا پوری طرح ان دونوں کی طرف متوجہ ہوا

وہ سر ہم دونوں پارٹی میں نہیں آسکتے

سحر نے بات کا آغاز کیا تھا

وجہ نہ آنے کی شاہ ویز نے ایک آٸبرو اچکا کر دونوں کو بھر پور گھورا تھا

سر وہ میں ایکسپیکٹ کررہی ہوں تو میں کہی آنے جانے سے احتیاط برطی ہوں اور سحر میرے ساتھ ہوتی ہے میرا خیال رکھنے کے لیے ایسی حالت میں میرا اکیلا رہنا ٹھیک نہیں

مشال نے ہمت کرکے اپنے زبان پر لگا تالا بھی کھولا پھر جو منہ میں آیا بولتی گٸ

دیکھیں اس پروجیکٹ کی کامیابی میں آپ دونوں کی محنت بھی ہے میں کچھ نہیں جانتا آپ دونوں کو آنا ہوگا تھوڑی دیر کے لیے ہی آٸیں لیکن آنا ہوگا اگر آپ کے ہسبینڈ اجازت نہ دیں تو آپ میری بات کروا دیجیے گا میں اجازت لے لوں گا ان سے

اصل معاملہ تو شاہ ویز کے دل کا تھا جو اتنی بڑی خوشی سحر کے بغیر منانے پر راضی نہیں تھا اسی لیے وہ ان دونوں کو پارٹی میں آنے پر زور دے رہا تھا

مشال کے بغیر سحر بھی نہ آتی وہ ان دونوں کی دوستی سے اچھی طرح واقف تھا

ہاۓ وہ کیا بولے گا اتنا سیدھا آدمی ہے وہ تو مشال بڑبڑاٸی

جی آپ نے کچھ کہا مشال

نہیں نہیں سر کچھ نہیں میرے ہسبینڈ تو کچھ نہیں کہتے مشال نے بے چارگی سے کہا کیونکہ اب انکار کرنے کے لیے کوٸی وجہ نظر نہیں آرہی تھی

ٹھیک ہے سر آپ اتنا انسسٹ کررہے ہیں تو ہم تھوڑی دیر کے لیے آجاٸیں گے

سحر نے ہار مانتے ہوۓ کہا

گڈ مجھے خوشی ہوگی آپ دونوں آٸیں گیں تو

شاہ ویز نے مسکراتے ہوۓ کہا

تھینکیو سر اب ہم اجازت چاہتے ہیں سحر نے کرسی سے کھڑے ہوکر کہا

یس پلیز

شاہ ویز کی اجازت ملتے ہی دونوں روم سے باہر نکل گٸیں

یار سحر تم نے منا کیوں نہیں کیا

یار کیا بولتی وجہ ہی نہیں تھی کوٸی

بس تھوڑی دیر کے لیے چلے جاٸیں گے پارٹی میں پھر سنی کو کال کرکے بلا لیں گے پھر اس کے ساتھ گھر چلیں جاٸیں گے

سحر نے پورا پلین ترتیب دیا

ہمممم ٹھیک ہے مشال خوشی سے چہکتی ہوٸی بولی

پھر دونوں مسکراتی ہوٸی کام میں لگ گٸیں

اَلسَلامُ عَلَيْكُم

سحر مشال کو گھر میں داخل ہوتا دیکھ سنی نے صوفے سے کھڑے ہوکر ادب سے سلام کیا تھا

وَعَلَيْكُم السَّلَام سحر مشال یک زبان ہوکر بولیں تھیں

سنی تمھیں پتا ہے کل ہمارے آفس میں پارٹی ہے اور باس نے سب کو بلایا ہے

مشال تو سلام کا جواب دینے کے بعد ہی شروع ہوگٸ تھی جبکہ سحر مسکراتی ہوٸی صوفے پر بیٹھ گٸ تھی

تو جاٸیں گی آپ دونوں

سنی نے باری باری دونوں کو سوالیہ نظروں سے دیکھا

ہم نے تو بہت منا کیا باس کو لیکن باس نے کہا آپ دونوں کو بھی آنا ہے اس لیے ہم بھی جاٸیں گے بس تھوڑی دیر کے لیے

سحر نے صوفے پر ہی نیم دراز ہوتے ہوۓ جواب دیا

ٹھیک ہے آپ چلی جاٸیے گا مشی نہیں جاۓ گیں

سنی سنجیدگی سے کہتا ٹی وی پر چینل چینج کرنے لگ گیا

ایسے ہی سیدھا سمجھتی ہوں میں تمھیں تم بھی دوسرے مردوں کی طرح ہو بیوی پر پابندیاں لگانے والے

مشال نے سنی کے کندھے پر تھپڑ لگاتے ہوۓ کہا

آہ آپ کا ہاتھ کتنا بھاری ہے مشی ہاتھ قابو میں رکھا کریں اپنا

سنی نے کراہتے ہوۓ کہا مشال کا ہاتھ سچ میں زور سے لگا تھا اس کو

سنی جان جانے دو نہ کیوں منا کرہے ہو اس کو جانے سے

سحر کو دونوں کے لڑنے کے اثار نظر آۓ تو خود ہی بول پڑی

آپی آپ نے ان کی حرکتیں دیکھیں ہیں نہ

یہ اپنا خیال بلکل نہیں رکھتی ہیں اور یہ ہیل والی سینڈل پہن کر جاٸیں گیں خدا نہ خاستہ گر گٸیں تو

مشال سچ میں اپنا خیال نہیں رکھتی تھی ہر وقت یہاں وہاں گھومتی رہتی تھی یا کچھ نہ کچھ کھاتی رہتی تھی سنی ہی تھا جو اس کو ڈانٹ ڈانٹ کر بیٹھایا کرتا تھا سنی کی ڈانٹ کا بھی اتنا اثر نہیں ہوتا تھا آخر میں اس بیچارے کو

نگحت بیگم کی دھمکی دینی پڑتی تھی تو وہ بیٹھتی تھی کیونکہ ایک دو دفع سنی نگحت بیگم سے مشال کی اچھی خاصی کلاس لگوا چکا تھا

ارے کیا ہوگیا ہے سنی تمھیں میں رکھوں گیں نہ اس کاخیال میں بھی تو ساتھ ہی جاٶں گی اس کے اور یہ آفس بھی تو جاتی ہے جب تو تم کچھ نہیں کہتے

سحر نے مشال کے حق میں دلاٸل پیش کیے

آپی میں ان کو آفس جانے سے بھی منا کرتا ہوں یہ سنتی نہیں ہیں اب بس اس منتھ اور کام کرلیں یہ پھر نہیں جانے دوں گا ان کو میں

سنی نے مشال کی طرف دیکھتے ہوۓ سنجیدگی سے جواب دیا

اچھا میں چھوڑ دوں گیں جاب لیکن پلیز پارٹی میں جانے دو سحر اکیلے کیسے جاۓ گی سر نے بھی بہت انسسٹ کیا ہے سنی پلیز پلیز جانے دو نہ پلیز پلیز

مشال کو شاہ ویز کی طرف سے کھٹکا تھا کہی وہ سحر اکیلا پاک اسے پرپوز نہ کردے اور مشال اتنا اچھا سین دیکھنے سے محروم نہ ہوجاۓ شاہ ویز کی آنکھوں میں سحر کے لیے محبت مشال دیکھ چکی تھی

مشال سنی کو منانے کے چکر میں کھسک کھسک کے پوری سنی کے برابر پہنچ چکی تھی

سنی اس کو گھوریوں سے نواز رہا تھا لیکن اس پر کوٸی اثر نہ ہوا

پلیز سنی پلیز سنی جانے دو نہ میں کچھ نہیں کروں گیں وہاں جا کر ایک جگہ بیٹھ جاٶں گی

مشال نے سنی کا ہاتھ تھام کر معصوم سی شکل بناٸی

اب تو پگھلنا ہی تھا سنی کا دل

اچھا ٹھیک ہے لیکن آپ لوگ گھر جلدی واپس آجاٸیں گیں میں خود چھوڑنے جاٶں گا آپ دونوں کو اور خود لینے آٶں گا ٹھیک ہے

سنی نے دونوں کو دیکھتے ہوۓ سنجیدگی سے اپنا فیصلہ سنایا

یس سنی تم بہت اچھے ہو

مشال خوشی سے اچھلتی سنی کی گردن میں بانہیں ڈال گٸ

مشال کی حرکت پر سحر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

جبکہ سنی مشی کی حرکت پر سٹپٹا گیا تھا

سو سوری ہوش آنے پر مشال نے جلدی سے اپنے ہاتھ کھینچے اور کمرے میں بھاگ گٸ

میں بھی فریش ہوکر آتی ہوں

سنی کو حجل ہوتا دیکھ سحر بھی اٹھ کر روم میں چلی گٸ

دونوں کےجانے کے بعد سنی نے سکون بھرا سانس خارج کیا اور دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہوا جہاں آج بین ٹین کارٹون لگے ہوۓ تھے

مشال سحر صبح سے ہی پارٹی میں جانے کے لیے تیاری میں لگی تھیں

سنی بیچارہ صبح سے گھنچکر بنا ہوا تھا دونوں پہلی دفع ہی پارٹی میں جارہی تھی اسی لیے وہ کافی پریشان بھی تھیں کہ وہ کوٸی ایسی حرکت نہ کردیں کہ سب ان کا مزاق اراٸیں دونوں چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے بار بار سنی کو باہر بھیج رہی تھیں

آخر کار وہ دونوں پارٹی میں جانے کے لیے تیار ہوگٸیں تھیں

دونوں نے پارٹی کے لیے ایک جیسے کپڑوں کا انتخاب کیا تھا

سیاہ رنگ کی پیروں کو چھوتی نازک نگ کی کامدار میکسی دونوں کے ہی دودھیا رنگت کو نکھار گٸ تھی

سنی ان دونوں کو ہال (جہاں پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا) میں چھوڑ کر واپس جاچکا تھا مشال کی تعریف کرنے کی زحمت سنی نے آج بھی نہیں کی تھی

سنی کی زبان سے اپنی لیے تعریف کے دو بول سننے کی خواہش دل میں دباۓ مشال بھی پارٹی میں پہنچ چکی تھی

سحر ڈیکوریشن کتنا اچھا کروایا ہے باس نے ان کی چوٸز کتنی اچھی ہے نہ

مشال سجے ہوۓ ہال کو ستاٸیش بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ سحر کے کان میں سرگوشی کی

ہممم سب کچھ بہت اچھا لگ رہا ہے بلکل صوبر سا نہ آنکھیوں کو چپنے والی روشنی نہ اونچی آواز میں چلتا ہوا میوزیک مجھے اندازہ نہیں تھا باس اتنے سادگی پسند ہیں

سحر نے آس پاس نظر دوڑاتے ہوۓ دل سے تعریف کی

آٸی تھینک یہاں میرے بارے میں بات ہورہی ہے

شاہ ویز کی شوخ سی آواز پر دونوں چونک کر پلٹی

سامنے ہی شاہویز بلیک پینٹ کے ساتھ نیوی بیلو شرٹ پہنے گلے میں بلیک ہی ٹاٸی سجاۓ بلیک واسکوٹ میں کافی ہنڈسم نظر آرہا تھا

ایکسکیوزمی لیڈیذ میں آپ لوگوں سے مخاطب ہوں

شاہ ویز نے دونوں کے چہرے کے آگے چٹکی بجاتے ہوۓ کہا جو محویت سے شاہ ویز کو دیکھنے میں مگن تھیں

گڈ ایونیگ سر

سحر نے ہوش میں آتے ہی جلدی سے خود کو سنبھالتے ہوۓ کہا

گڈ ایونگ مجھے لگ رہا تھا آپ لوگ نہیں آٸیں گی آپ لوگوں نے میری بات کا مان رکھا مجھے بہت اچھا لگا

شاہ ویز نے خوش اخلاقی سے کہا

تو دونوں مدھم سا مسکرا دی

سر آپ کی چوٸز بہت اچھی ہے آپ نے بہت اچھی ڈیکوریشن کرواٸی ہے

مشال نے شاہ ویز کی تعریف کرنے میں صاف گوٸ کا مظاہرہ کیا

ہممم تھینکس مشال

شاہ ویز نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا

سحر تم سر سے باتیں کرو میں ابھی آتی ہوں

ایکسکیوزمی سر

مشال کچھ کھانے کے ارادے سے سحر کو آگاہ کرتی ان دونوں کو اکیلا چھوڑ کر چلی گٸ

ہم کہی بیٹھ کر بات کریں

شاہ ویز نے مشال کو جاتے ہوۓ دیکھتی سحر کی توجہ اپنی طرف کرنے کی کوشش کی

سوری سر وہ میں مشال کو دیکھ لوں کچھ الٹا سیدھا نہ کھالیں

سحر نے شاہ ویز کی لو دیتی نظروں سے گھبراتے ہوۓ کہا

مشال بچی نہیں ہیں سحر پلیز مجھے ضروری بات کرنی ہے آپ سے

شاہ ویز نے نرم سے لہجے میں التجا کی تھی

ہممم ٹھیک ہے سر

سحر نے لمبی سانس کھینچ کر جواب دیا

وہ دونوں ایک دیوار کے ساتھ رکھے ہوۓ صوفے پر ایک دوسرے سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گۓ

سحر کی نظریں مسلسل مشال کو تلاش کررہی تھیں

کیا آپ میری طرف متوجہ ہونا پسند کریں گیں

شاہ ویز نے سنجیدگی سے کہا

جی جی سر کہیں کیا بات کرنی تھی آپ کو

سحر نے فوراً سے شاہ ویز کی طرف رخ کیا تھا

مشال اور آپ کافی کلوز ہیں ایک دوسرے کے کیا آپ لوگ کزن بھی ہیں

شاہ ویز نے اپنی بات کا آغاز شروع کیا

نہیں سر اصل میں مشال میری بیسٹ فرینڈ ہونے کے ساتھ ساتھ میری بھابھی بھی ہیں

سحر نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا

ہممم گڈ آپ کے گھر میں اور کون کون ہے آپ دونوں کے علاوہ

شاہ ویز نے سنجیدگی سے سوال کیا

جی میں مشال میرا بھاٸی بس ہم تینوں ہی رہتے ہیں

سحر نے ایک نظر آس پاس ڈالتے ہوۓ جواب دیا

آپ کے پیرنٹس کہاں ہوتے ہیں

شاہ ویز نے نرمی سے پوچھا

جی وہ دونوں اس دنیا میں نہیں ہیں سحر نے سنجیدگی سے کہا

اوہ سوری سحر اگر آپ کو میری سوال سے دکھ پہنچا ہو تو

شاہ ویز نے شرمندہ ہوتے ہوۓ کہا

کوٸی بات نہیں سر آپ وہ بات کریں جو آپ کو کرنی تھی مجھے مشال کے پاس جانا ہے

سحر نے مدعے کی بات کی

میں آپ کے بھاٸی سے ملنا چاہتا ہوں ملنا تو پیرنٹس سے تھا لیکن وہ حیات نہیں ہیں تو آپ کے بھاٸی سے ملنا چاہتا ہوں

سر کیوں ملنا ہے آپ کو میرے بھاٸی سے

سحر نے حیرانگی سے استفسار کیا

وہ میں انھیں کو بتاٶں گا بتاٸیں کب ملوا رہی ہیں اپنے بھاٸی سے

شاہ ویز نے شریر سے لہجے میں جواب دیا

وہ سر ہمیں لینے آٸیں گے تو میں ملوا دوں گی آپ سے

ناٶ ایکسکیوس می

سحر سامنے مشال کو دیکھتی اٹھ کھڑی ہوٸی شاہ ویز سے معزرت کرتی مشال کی طرف بڑھی جو جانے کونسا مشروب ہاتھ میں لیے پی رہی تھی

سحر کے اس طرح جانے پر پہلے تو شاہ ویز حیران ہوا لیکن سامنے کھڑی مشال کو دیکھ کر سمجھ گیا سحر کیوں اتنی جلدی میں بھاگی

وہ ان دونوں کو دیکھتا نفی میں سرہلاتا دوسرے مہمانوں کی طرف بڑھ گیا

یہ کیا پی رہی ہو تم

سحر نے مشال کے ہاتھ سے گلاس چھینتے ہوۓ کہا

ارے بھٸ اسپاراٸیٹ ہے پینے دو نہ

مشال نے سحر سے گلاس لینے کی کوشش کرتے ہوۓ کہا

نہیں تمھیں نہیں ملے گی یہ رکھو اس کو کوٸی ضرورت نہیں یہ الٹے سیدھے مشروپ پینے کی

سحر کو ڈر تھا کہی اس میں الکوحل نہ ملی ہو

یار کیا ہے پیاس لگی ہے نہ مجھے مشال نے منہ بناتے ہوۓ کہا

چلو پانی پلاٶں تمھیں سحر گلاس ٹیبل پر رکھتی مشال کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گٸ

سر سے کیا باتیں کی تم نے

مشال نے پیزا کھاتے ہوۓ پوچھا

کچھ نہیں سر سنی سے ملنا چاہتے ہیں

سحر نے عام سے لہجے میں جواب دیا

کیوں ملنا چاہتے ہیں باس سنی سے

مشال نے ناسمجھی سے پوچھا

مجھے نہیں معلوم وہ کہہ رہے تھے میں آپ کے پیرنٹس سے ملنا چاہتا تھا لیکن وہ حیات نہیں ہیں تو آپ کے بھاٸی سے ملنا چاہتا ہوں

سحر نے یہاں وہاں دیکھتے ہوۓ لاپرواٸی سے جواب دیا

سحر اس ملاقات کا مطلب سمجھتی ہو تم

مشال نے فکر مندی سے کہا

کیا یار مجھے کیا معلوم سر کے دماغ میں کیا چل رہا ہے کیوں انھیں میرے بارے میں جاننے کا شوق چڑھا ہے

سحر نے بے زاری سے کہا

سحر تم اس بات کو سیریس نہیں لے رہیں جتنا میں اب تک باس کو جان پاٸی ہوں باس کے آنکھوں میں تمھارے لیے پسندیدگی میں دیکھ چکی ہوں

تو شاید باس تمھارے لیے رشتہ بھیجنا چاہتے ہو اسی سلسلے میں وہ سنی سے ملنا چاہتے ہو

مشال نے اپنی خیالی پلاٶں کو سحر کے سامنے بیان کردیا تھا

کیا بکواس کررہی ہو میں کہاں باس کہاں ان کو کوٸی لڑکیوں کی کمی ہے جو وہ میرے جیسی عام سی لڑکی سے رشتہ جوڑے گے

سحر کو مشال کی بات ذرا اچھی نہ لگی

جو بہت جلد سہی ثابت ہونے والی تھی

دونوں کھانا کھانے کے ساتھ ساتھ بحث میں بھی مصروف تھیں

تب مشال کی موباٸل پر سنی کی کال آنے لگی

تمھاری مسکراہٹ بتارہی ہے کہ کال تمھارے مزاجی خدا کی ہے

سحر نے مشال کے چہرے پر چمکتی مسکراہٹ دیکھ کر اندازہ لگایا تھا جو صرف سنی کے لیے مخصوص تھی

اَلسَلامُ عَلَيْكُم

وَعَلَيْكُم السَّلَام

کب تک لینے آٶں میں آپ لوگوں کو

سنی نے بے چین دل کے ساتھ پوچھا مشال کے بغیر آج اس کا دل اداس ہوگیا تھا وہ ہر چھٹی کا دن مشال اور سحر کے ساتھ گزارتا تھا لیکن آج پارٹی کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا تھا

ابھی آجاٶ لینے

مشال کا بھی کونسا موڈ تھا سنی سے مزید دور رہنے کا اس نے جلدی سنی آنے کا آرڈر دے دیا

اوکے میں پندرہ منٹ میں پہنچتا ہوں

سنی نے خوشی سے جواب دیا اور کال منقطع کرتا باٸیک کی چابی اٹھاتا گھر سے باہر نکل گیا

سنی آرہا ہے پندرہ منٹ میں جلدی کھانا کھالو

مشال نے موباٸل پرس میں رکھتے ہوۓ کہا

سحر نے مسکراتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا

کچھ ہی دیر بعد سنی کی دوبارہ کال آٸی

میں باہر ہوں آپ لوگ آجاٸیں

سنی نے کال پر اپنےآنے کی اطلاع دی تھی

اوکے ہم آتے ہیں مشال نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا

اوکے سنی کال منقطع کردی

چلو جی سنی صاحب آچکے ہیں

مشال نے ڈراماٸی انداز اپنایا وہ کچھ زیادہ ہی خوش تھی سنی کی آمد پر

تم چلو میں باس کو ڈھونڈ کر لاتی ہوں سحر نے آس پاس شاہویز کو تلاش کرتے ہوۓ جواب دیا

ہممم ٹھیک ہے جلدی آجانا مشال سحر کو جواب دیتی باہر چلی گٸ

مشال کو سامنے پارکینگ میں ہی سنی کھڑا نظر آگیا وہ مسکراتی ہوٸی سنی کے پاس پہنچی

آپی کہاں ہیں

سنی نے مشال کو اکیلا آتے دیکھا تو سحر کے بارے میں پوچھا

وہ باس کو بلانے گٸ ہے باس تم سے ملنا چاہتے ہیں

کیا آپ لوگوں کے باس مجھ سے کیوں ملنا چاہتے ہیں

سنی نے حیرانگی سے پوچھا

یہ تو ہمیں بھی نہیں معلوم مجھے جہاں تک اندازہ سر سحر کا ہاتھ مانگے گے تم سے

مشال نے پر سوچ انداز میں کہا

وہاٹ کیا مطلب ہے آپکا مشال آپ کہنا کیا چاہتی ہیں

سنی کے چہرے پر سنجیدگی تاثرات تھے ماتھے پر بل نمودار ہوۓ تھے

سنی دیکھوں یہ غصہ کرنے والی بات نہیں سحر کا اس میں کوٸی قصور نہیں

آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے یہ مجھے میں جانتا ہوں اپنی بہن کو بہت اچھی طرح مجھے اس لیے غصہ آرہا ہے میں اپنی جوان بہن کو کسی ایجیٹ شخص کے ساتھ نہیں بیاہ سکتا صرف اس بنیاد پر کہ وہ امیر ہے اور اس شخص کو شرم نہیں آٸی میری بہن کے بارے میں ایسا سوچتے ہوۓ

مشال نے سنی کو آج پہلی بار غصے میں دیکھا تھا لیکن وہ یہ جان کر خوش تھی کہ سنی بھی اپنی بہن سے اتنا ہی پیار کرتا ہے جتنا اس کی بہن کرتی ہے

سنی میرے نیلی آنکھوں والے معصوم شہزادے میری بات غور سے سنو

مشال نے سنی کے گال کھینچتے ہوۓ سنی کا چہرہ اپنے سامنے کیا تھا

تم غلط فہمی کا شکار ہو ہمارے باس ایک ینگ ہنڈسم سے باس ہیں نہ کہ ہمارے دادا کی عمر کے وہ بہت اچھے انسان ہیں نرم دل پروقار شخصیت کے مالک تم سحر کے بھاٸی ہو مجھ سے اچھا تم سوچ سکتے ہو اس کے لیے لیکن میرے حساب سے شاہ ویز سر سحر کے لیے اچھے جیون ساتھ ثابت ہونگے آگے تمھاری مرضی لیکن اگر سر تم سے رشتے کی بات بھی کریں تو تم ان کے بڑوں سے مل کر بات کرنے کی خواہش ظاہر کرنا اگر وہ راضی ہوجاٸیں تو سمجھ جانا باس سحر کے معاملے میں سچ میں سنجیدہ ہیں

مشال نے سنی کو اپنی تٸیں ہر طرح سے سمجھانے کی کوشش کی

ہمممم ٹھیک ہے سنی نے اثبات میں سر ہلایا

ہممم گڈ بوۓ

مشال نے سنی کے بال بگاڑتے ہوۓ شرارتی لہجے میں کہا

سنی بھی مسکرادتا ہوا اپنے بال ہاتھ سے سنوارنے لگا

آہم آہم آہم

کسی کے گلا کھنگارنے پر وہ دونوں ایک دوسرے سے نظریں ہٹا کر آنے والے کو دیکھنے لگے

سحر اور شاہ ویز کو دیکھ کر مشال سنی کے سامنے سے ہٹ کر اس کے برابر میں کھڑی ہوگٸ

شاہ ویز کی نظر جب سنی پر پڑی تو وہ مبہوس سا رہ گیا

سنی کا لمبا چوڑا قد اسے عمر سے بڑھا دیکھاتے تھے لیکن سنی کی شفاف چہرے سے ٹپکتی معصومیت اس کی کم عمری کا پتا دیتے تھے

شاہ ویز کو بھی اندازہ ہوگیا تھا اس کے سامنے شہزادوں جیسا نظر آنے والا لڑکا کم عمر ہے

سر ان سے ملیں یہ میرے چھوٹے بھاٸی سنی ہیں

سحر نے خوشدلی سے کہا

سحر کے آواز پر شاہ ویز ہوش کی دنیا میں واپس آیا

ہیلو آٸی ایم شاہ ویز حمدانی

شاہ ویز نے ہوش میں آتے ہی مصافحہ کے لیے سنی کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا

سنی نے بھی بنا تردو کے شاہویز کا ہاتھ تھام لیا تھا

ہیلو سر کیسے ہیں آپ

سنی نے پر اعتمادی سے شاہ ویز کو مخاطب کیا

شاہ ویز کافی امپریس ہوا تھا اپنے سے کٸ سال چھوٹے لڑکے کے پر اعتماد لہجے پر

میں ٹھیک سنی آپ اپنے بارے میں کچھ بتاٸیں کیا کرتے ہیں شاہ ویز نے مسکراتے ہے کہا

جی میں پڑھتا ہوں اور ایک کیفے میں جاپ بھی کرتا ہوں

گڈ کیا عمر ہے آپ کی شاہ ویز پوچھے بغیر نہ رہ پایا

انیس سال کا ہوں میں

شاہ ویز نے حیرانی سے سنی کے برابر میں کھڑی مشال کو دیکھا جو اس کو بیس سے بھی اوپر کی لگی

آپ ہماری عمر پر مت جاٸیں محبت کی کوٸی عمر نہیں ہوتی

شاہویز کی حیرانگی بھانپتے ہوۓ سنی نے فوراً شرمندہ ہوتی مشال کو اپنے گھیرے میں لیتے ہوۓ جواب دیا

جس پر مشال کا چہرا سرخ ہوا تھا

سہی کہا آپ نے سنی اصل میں میں بھی آپ سے محبت کے ہاتھوں ملنے پر مجبور ہوا ہوں میں سحر کو پسند کرتا ہوں اور اپنے بڑوں کو آپ کے گھر بھیجنے کی اجازت چاہتا ہوں

شاہ ویز نے ملاقات کا مقصد بیان کیا

اس نے ایک نظر سحر کو دیکھا جو منہ کھولے شاہویز کو تک رہی تھی جبکہ مشال لبوں پر ہاتھ رکھے مسکرارہی تھی وہ تو پہلے ہی سمجھ گٸ تھی

سنی کے دیکھنے پر سحر نے نظریں جھکا لیں

سر آپ کے اور ہمارے اسٹیٹس میں زمین آسمان کا فرق ہے آپ باس ہیں میری بہن کے جہاں تک میں اس دنیا کو جانتا ہوں وہ میری بہن پر تہمت لگانے سے باز نہیں آۓ گی

سنی نے سمجھداری سے جواب دیا

میں آپ کے خدشات سمجھ سکتا ہوں سنی لیکن میں سچ میں سحر پر ایک حرف بھی نہیں پڑھنے دوں گا آپ ایک موقع تو دیں مجھے پلیز

شاہویز نے التجا کی

سنی نے ایک نظر مشال کو دیکھا جس نے اثبات میں سر ہلایا پھر سحر کو دیکھا جو خاموش کھڑی تھی

ٹھیک ہے سر پھر کب لارہے ہیں آپ اپنے بڑوں کو ہمارے گھر

سنی نے مسکراتے ہوۓ پوچھا

کل لے آٶں شاہ ویز نے اجازت چاہی

ٹھیک ہے کل شام کو ملتے ہیں پھر

سنی نے مسکراتے ہوۓ شاہ ویز کے آگے ہاتھ کیا

جیسے شاہ ویز بنا دیر کیے تھام گیا

اوکے کل ملتے ہیں گڈ باۓ

شاہویز مسکرا کر مصافحہ کرتا سحر پر ایک مسکراتی نظر ڈالتا واپس پارٹی میں چلا گیا

گھر چلیں سنی نے دونوں کو متوجہ کیا جو اپنی اپنی سوچوں میں گھم تھیں

ہممم چلو سحر سنجیدگی سے کہتی آگے بڑھ گٸ

آپی کیا آپ ناراض ہیں مجھ سے گھر پہنچتے ہی سنی نے سحر کے ہاتھ تھام لیے تھے

نہیں میری جان میں کیوں ناراض ہوگی تم سے میں جانتی ہوں میرا بھاٸی کبھی میرا برا نہیں چاہے گا میں خوش ہوں تم نے سر کو بہت اچھے سے ڈیل کیا

سحر نے سنی کے چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہوۓ جواب دیا

آپی آپ بلکل پریشان نہیں ہونا آپ کی مرضی کے بغیر کوٸی فیصلہ نہیں ہوگا

سنی اپنی نیلی آنکھیں سے سحر کو دیکھتے کہا

اففففف بس بھی کرو تم دونوں رولاٶ گے کیا مجھے

مشال نے اپنے نادیدہ آنسوں صاف کرتے ہوۓ کہا

مشی آپ کتنی ڈرامے باز ہے نہ

سنی نے شریر سے لہجے میں کہا

تم ہی ہو گے ہنہہ

مشال ناک منہ چڑاتی کمرے میں چلی گٸ

پیچھے دونوں بہن بھاٸی ایک دوسرے کو دیکھتے ہنسنے لگے تھے

جاٶ دیکھو اس کو کہی منہ نہ بنا لے نہیں تو پیزا کھاۓ بنا مانے گی نہیں

سحر نے ہنسی روکتے ہوۓ کہا

ارے ہاں ابھی مہینے کا آخر میں اتنا مہینگا پیزا افورٹ نہیں کرسکتا

سنی بھی مسکراتا ہوا کہتا کمرے میں بھاگ گیا

سنی کے جانے کے بعد سحر کو شاہ ویز کا خیال آیا

کیا کوٸ مجھ سے بھی پیار کرسکتا ہے کیا شاہ ویز ہی وہ انسان ہے جس کا میں نے ہمیشہ انتظار کیا کبھی کسی لڑکے سے دوستی نہیں کی بات نہیں کی کاش امی ابو آپ ہوتے آج میرے ساتھ مجھے آپ کے مشورے کی ضرورت ہے سنی اتنا سمجھدار نہیں

سحر کی آنکھوں سے دو موتی گیرے تھے

سحر کچھ نہ سمجھ آنے پر آنسوں پونچتی کمرے میں چلی گٸ تھی

سنی کمرے میں داخل ہوا تو مشال کو ڈریسینگ ٹیبل کے سامنے کھڑے پایا

وہ اپنا بریسلیٹ اتار رہی تھی جس کا لاک اس سے کھل نہیں رہا تھا

سنی کی آمد پر بھی وہ لاپرواہ بنی بریسلیٹ سے الجھی ہوٸی تھی

میں اتار دوں سنی نے اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا

اتاروں مشال نے اپنی دودھیا کلاٸی سنی کے آگے کردی ناراضگی اب بھی ختم نہیں ہوٸی تھی چہرے پر ناراضگی کے تاثرات نمایا تھے

سنی نے نرمی سے مشال کی کلاٸی سے بریسلیٹ اتار کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا تھا

شکریہ

مشال دوبارہ اپنا رخ ڈریسینگ کی طرف کرچکی تھی

آپ ناراض ہیں مجھ سے سنی نے انتہاٸی معصومیت سے پوچھا تھا

مشال اپنے شوہر کے معصومنہ سوال پر دل و جان سے فدا ہوٸی تھی

نہیں میں نہیں ہوں ناراض

مشال نے مسکراتے ہوۓ کہا اور واشروم میں چلی گٸ

سنی بھی سرشار سا مسکراتا ہوا بیڈ پر دراز ہوگیا

مشی

ہمممم

مشی

ہمممم

چھوڑے نہ اس موباٸل کو بات کرنی ہے مجھے آپ سے

مشال بیڈ پر نیم دراز آج کی پارٹی کی تصویریں دیکھ رہی تھی کہ اچانک ہی سنی نے اس کا موباٸل چھین لیا

کیا ہے

مشال ناک پھلاۓ ماتھے پر بل سجاۓ سنی سے مخاطب ہوٸی

وہ میں سوچ رہا تھا کل شاہ ویز بھاٸی کی فیملی کے ساتھ ساتھ آپ کی فمیلی کو بھی انواٸیٹ کریں انکل آنٹی بڑے ہیں ہمارے وہ ان معاملات کو ہم سے بہتر سمجھتے ہیں تو اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے

سنی نے اپنی بات پوری کرکے اب مشال کی راۓ لینی چاہی تھی

سنی تم نے بہت اچھا سوچا ہے میں کل صبح ہی گھر پر کال کرکے انواٸیٹ کردوں گی سب کو سحر میری بہت اچھی دوست ہے بلکہ دوست سے بھی بڑھ کر ہے تو اس لیے جو تمھیں بہتر لگتا ہے وہ تم کرو میں تمھارے ہر فیصلے میں تمھارے ساتھ ہوں

مشال نے سنی کے ہاتھ کی پشت پر ہاتھ رکھا تھا

ہممممم تھیکیو مشی سنی نے اپنادوسرا ہاتھ مشال کے ہاتھ کی پشت پر رکھ دیا تھا

اب سوجاٸیں کافی دیر ہوگٸ ہے مشال سنی کی نظروں سے پزل ہوتی شرماتی ہوٸی گویا ہوٸی تھی

جی ضرور سنی نے مسکراتے ہوۓ مشال کا ہاتھ چھوڑا تھا اور بیڈ پر دراذ ہوگیا تھا

دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے دیکھتے نیند کی وادی میں چلے گۓ تھے

دوسرے دن مشال نے کال کرکے سفدر صاحب کو سارے معاملے سے آگاہ کرکے انھیں گھر آنے کی دعوت بھی دی تھی جو انھوں نے خوش ہوتے ہوۓ قبول کرلی تھی

سحر مشال کے والدین کے آنے کا سن کر کچھ مطمٸن ہوٸی تھی وہ بھی اس کے ماں باپ کی جگہ تھے

مشال سحر نے آج آفس سے چھٹی کرلی تھی جبکہ سنی یونیورسٹی گیا تھا کیفے سے چھٹی لے لی تھی

رات آٹھ بجے شاہ ویز اپنے گھر والوں کے ساتھ سحر کے گھر پہنچ گیا تھا

سنی مشال نے بہت اچھے طریقے سے ان کا استقبال کیا تھا

سفدر صاحب نگحت بیگم بھی ان لوگوں سے خوش اخلاقی سے ملے تھے جبکہ حیدر آفس کی مصرفیت کی وجہ سے آ نہیں سکا تھا اور اس معاملے سے بلکل انجان تھا

شاہویز کے بنگلے کے سامنے سحر کا گھر چھوٹا تھا ویسے تو وہ گھر کشادہ اور ویل فرنیشٹ گھر تھا لیکن شاہ ویز کے بڑے بنگلے کے سامنے کچھ نہیں تھا پھر بھی شاہ ویز کو ذرا فرق نہیں پڑا تھا

سب خوش گپیوں میں مصروف تھے مگر شاہ ویز کی نظر تو صرف سحر کی طلبگار تھیں جو جانے کہاں چھپی بیٹھی تھی

کچھ دیر بعد مشال سحر کو کمرے سے لے آٸی جو زندگی میں پہلی بار گھبراہٹ کا شکار ہورہی تھی

مشی مجھے ڈر لگ رہا ہے یار مشال کے پہلو میں چلتے ہوۓ اس نے مشال کے کان میں سرگوشی کی تھی

ڈرنے کی کیا بات ہے یہ وقت ہر لڑکی پر آنا ہوتا ہے

مشال نے سحر کا ہاتھ تھامے نرمی سے کہا

اچھا تم میرے ساتھ رہنا

اچھا بابا میں ساتھ رہوں گی تمھارے

مشال نے نرمی سے جواب دیا

شاہ ویز کی نظر سامنے سے آتی سحر پر پڑی توپلٹنا ہی بھول گٸ

نکھرا نکھرا سا چہرا جس پر حیا کی لالی نے چار چاند لگا دیے تھے مہندیاٸی رنگ کی فراک زیپ تن کیے سر پر ادب سے دوپٹہ سجاۓ سحر سیدھا شاہ ویز کے دل میں اتر رہی تھی

سلام دعا کے بعد سحر سر جھکا کر شاہ ویز کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گٸ تھی

جی میں آپ لوگوں سے کچھ کہنا چاہتا ہوں

شاہ ویز کی سنجیدہ آواز پر سب شاہ ویز کی طرف متوجہ ہوۓ تھے

سحر کا دل دھڑکا تھا نہ جانے شاہ ویز کیا بات کرنے والا ہے

میں کسی جھوٹ کے سہارے یہ نیا رشتہ قاٸم نہیں کرنا چاہتا اسی لیے آپ لوگوں سے اپنا ایک راز شٸر کرنا چاہتا ہوں

شاہ ویز نے ایک پل روک کر سب کے چہرے کے پاثرات جانچے تھے

پھر دوبارہ گویا ہوا تھا

میں میرے پیرینٹس امریکہ کے رہاٸشی تھے میری مما انگریز خاتون تھیں لیکن مسلمان تھی میرے بابا امریکہ پڑھنے گۓ تھے لیکن انھیں میری مما پسند آگٸیں انھوں نے دادا کے خلاف جاکر مما سے شادی کرلی میرے دادا نے ان سے ہر تعلق توڑ لیا تھا تو ڈیڈ نے امریکہ میں ہی اپنی چھوٹی سی دنیا بنا لی تھی وہاں ہم بہت خوشگوار زندگی بسر کررہے تھے ڈیڈ کے بہت منانے کے بعد بھی دادا کی ناراضگی کسی طور کم نہ ہوٸی جب میں پانچ سال کا ہوا تو دادا کی طبیعت بہت خراب ہوگٸ جب دادا نے ڈیڈ کو معاف کیا اور ان کو واپس گھر لوٹنے کا کہا

ڈیڈ خوشی خوشی راضی ہوگۓ

مما اور مجھے ساتھ لے کر پہلی فرصت پاکستان آگۓ

ڈیڈ گھر واپس آکر بہت خوش تھے دادا میرے اکلوتے چاچو چاچی میرا دو سالہ کزن سب سے مل کر مجھے بہت اچھا لگا تھا

کچھ دنوں بعد ڈیڈ کو آفس سے کال آٸی کہ ان کی ایک ضروری فاٸل ان کے پاس رہ گٸ ہے تو ڈیڈ اور مما اپنا کچھ سامان لانے جو ہم جلدی جلدی میں لا نہیں سکے تھے وہ لینے اور فاٸل دینے کے ارادے سے امریکہ چلے گۓ اور مجھے پاکستان ہی چھوڑ گۓ

لیکن امریکہ سے واپسی پر ان کا پلین کریش ہو گیا اور وہ دونوں اس دنیا سے رخصت ہوگۓ جوان بیٹے کے غم میں دادا بھی ایک مہینے بعد اپنے خالق حقیقی سے جاملے اس کے بعد مجھے چاچا چاچی نے پالا اور یہ میرے چاچا چاچی ہیں شاہ ویز اپنے ساتھ بیٹھے سلمان صاحب اور سیما بیگم کی طرف اشارہ کیا انہوں نے مجھ میں اور اپنے بیٹے میں کبھی فرق نہیں کیا آچ یہی میرے سب کچھ ہیں

شاہ ویز خاموش ہوچکا تھا وہاں بیٹھے سب ہی لوگ آبدیدہ ہوگۓ تھے

سب نے ہی شاہ ویز کی حوصلہ افزاٸی کی تھی وہ کافی اداس ہوگیا تھا

سحر کو بھی بہت دکھ ہوا تھا اس کے دل میں شاہ ویز کے لیے مدھم سے جذبات جاگے تھے جو ہمدردانہ تھے

شاہ ویز کے چاچا چاچی سحر کے لیے خوشدلی سے راضی تھے

سحر اور سنی کی اجازت کے سب نے دونوں کا رشتہ پکا کردیا تھا

دو دن بعد شاہ ویز اور سحر کی منگنی کے لیے چھوٹے سے فنگشن کا فیصلہ ہوا تھا

سحر تو بلکل حق میں نہیں تھی اس کا کہنا تھا کہ سادگی سے منگنی ہونی چاہیے لیکن شاہ ویز کے اسرار پر سب راضی ہوگۓ تھے

حیدر بیٹا نگحت بیگم ناشتہ کرتے حیدر سے مخاطب ہوٸیں تھیں

جی امی بولیں

بیٹا تم دو دن سے اتنے مصروف تھے کل بھی جلدی آفس چلے گۓ تھے رات لیٹ گھر آۓ تھے مجھے موقع ہی نہیں ملا تم سے بات کرنے کا۔۔۔

کونسی بات امی

نگحت بیگم کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی حیدر بول پڑا

وہ بیٹا آج سحر کی منگنی ہے تو تم مجھے کپڑے بتا جاٶ کونسے کپڑے پہنو گے تاکہ میں استری کرکے تیار کردوں تمھارے کپڑے

حیدر کی سماعت میں صرف ایک ہی بات گھوم رہی تھی سحر کی منگنی

بیٹا کیا ہوا

نگحت بیگم نے گم سم سے کھڑے حیدر کو کندھا ہلا کر دوبارہ مخاطب کیا

امی میں نہیں جا سکتا آفس کا کام زیادہ ہے نہیں آپاٶں گا

حیدر حد سے زیادہ سنجیدہ تھا

بیٹا تم ٹھیک ہو

نگحت بیگم کو تشویش ہوٸی تھی

جی امی میں چلتا ہوں دیر ہورہی ہے خدا حافظ

حیدر بنا نگحت بیگم کی سنے گھر سے نکل گیا تھا

میرا بچہ کتنا مہنتی ہے نگحت بیگم ہوا میں حیدر کی بلاٸیں لیتیں برتن سمیٹنے میں مصروف ہوگٸیں

صرف سحر کو مانگا تھا آپ سے اتنے سالوں سے جتنی دعاٸیں مانگی میں نے اس میں صرف سحر کو مانگا تھا کیوں کیا میرے ساتھ ایسا کیوں

کیا قصور تھا میرا میں نے اپنی محبت دل میں چھپا کر رکھی اتنی پاک محبت کی کہ کبھی اس کو نظر بھر کے دیکھا تک نہیں کیونکہ حق نہیں رکھتا تھا میں اس کو دیکھنے کا لیکن اس کو محرم بنانے کی خواہش کرنے کا تو حق تھا مجھے پھر کیوں میری محبت چھینی مجھ سے

مجھے نہیں پتا سحر مجھے چاہیے مجھے چاہیے

میں مر جاٶں گا میں اس کو کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتا

حیدر ہاتھوں میں منہ چھپاۓ بلک بلک کر رو دیا تھا

وہ اپنے گھر سے نکل کر آفس کے بجاۓ ساحل پر پہنچ گیا تھا وہاں اس وقت حیدر تھا اور سمندر کی لہروں سے اٹھتا شور

حیدر جب سے آیا تھا ریت پر بیٹھا خدا سے شکوہ شکایت کررہا تھا بچوں کی طرح رو رو کر سحر کو خدا سے مانگ رہا تھا

وہ کبھی ہذیانی ہوکر چلاتا تو کبھی روتے ہوۓ آسمان کی طرف شکوہ بھری نظر ڈالتا کبھی سحر کے ساتھ گزارے پل یاد کرتا تو کبھی آنسوں پونچ کر خود کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتا پھر اگلے ہی پل دوبارہ ڈھے جاتا

اَلسَلامُ عَلَيْكُم حیدر بھاٸی

پندرہ سالہ سحر نے لاٶنج میں داخل ہوتے حیدر کو دیکھتے ہی صوفے سے کھڑے ہوکر سلام کیا تھا

وَعَلَيْكُم السَّلَام سحر

انیس سالہ حیدر نے سحر کے مقابل رکھے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ نرمی سے جواب دیا

بھاٸی شروع کریں پڑھاٸی مشال نے خوش ہوتے ہوۓ کہا وہ خوش تھی وہ اب اکیلی نہیں پڑھا کرے گی بللکہ اس کے ساتھ اس کی سہیلی بھی ہوگی

جی گڑیا کرتے ہیں شروع پہلے تم مجھے یہ بتاٶ جو ٹاٸم ٹیبل میں نے تمھیں بنوایا تھا وہ سحر کو بھی بنوادیا تم نے

جی بھاٸی بنوا دیا

گڈ

اب تم دونوں ٹاٸم ٹیبل کے حساب سے آج کے سبجیکٹ نکالوں

حیدر مکمل طور پر استاد بنا بیٹھا تھا دونوں کا

دونوں جی کہتی بیگ سے کتابیں نکالنے لگی تھی

حیدر نے دو گھنٹوں تک سحر مشال کو ٹیوشن پڑھایا تھا

سحر کا آج پہلا تجربہ تھا حیدر سے پڑھنے کا جو بہت اچھا ثابت ہوا تھا

اب روز آفس سے آکر حیدر سحر اور مشال کو ٹیوشن پڑھاتا تھا

کالج میں ٹیسٹ شروع ہوچکے تھے دونوں نے بہت محنت سے ٹیسٹ دیے اور کلاس میں اساتذہ کی تعریفیں بھی وصول کیں ٹیسٹ پاس ہونے کی خوشی میں سحر حیدر کے لیے حلوہ بنا کر لاٸی چونکہ حیدر بنا فیس کے سحر کو بڑھاتا تھا تو سحر کو شکریہ کا یہی راستہ بہتر لگا حیدر حلوہ شوق سے کھاتا تھا سحر کے ہاتھ کا حلوہ حیدر کو بہت اچھا لگا اس نے کھلے دل سے تعریف کی اس کی

سحر اپنی تعریف پر چھینپ گٸ

حیدر کی تعریف ہی کچھ ایسی تھی

سحر مجھے معلوم ہی نہیں تھا میری لاٸق اسٹوڈینڈ اتنی اچھی شیف بھی ہے تمھی معلوم ہے امی کہتی ہیں شوہر کے دل کا راستہ پیٹ سے ہوکر گزرتا ہے اور مجھے یقین ہے یہ راستہ تم باآسانی پار کرلو گی

تو یہ تھے حیدر کے الفاظ وہ زیادہ بولتا نہیں تھا لیکن سحر سے باتیں کرنا اس کو اچھا لگنے لگا تھا

وہ اکثراس سے ایسی بات کردیتا وہ کھلکھلا کر ہنس دیتی

اس کی مسکراہٹ پر حیدر اس کو یک ٹک دیکھتا رہ جاتا ہر وقت سمجیدہ رہنے والی سحر تھوڑا مسکرانا سیکھ گٸ تھی

اس کے اوپر اتنی ذمہ داریاں ہونے کے باوجود وہ کبھی نہیں ہاری حیدر کو اس کی یہ ہی ادا بہاتی تھی

سحر کی آنکھوں میں اس کو ایک عزم نظر آتا تھا آگے بڑھنے کا اپنے گھر والوں کو بہتر زندگی دینے کا

مشال آج سحر کیوں نہیں آٸی پڑھنے

سحر کی غیر حاضری کی وجہ حیدر نے مشال سے پوچھی

وہ بھاٸی آج اس کی طبیعت ٹھیک نہیں بیچاری کی ایکسو دو بخار ہے کالج بھی نہیں آٸی آج

مشال نے دکھ بہرے لہجے میں جواب دیا

اچھا چلو ایسا کرتے ہیں ہم آج کی چھٹی کرلیتے ہیں اور سحر کے گھر چلتے ہیں

سحر کی طبیعت کا سن کر حیدر بھی بے چین ہوگیا تھا اس لیے فوراً ہی اس کے گھر جانے کا فیصلہ کیا

ٹھیک ہے بھاٸی میں تیار ہوکر آتی ہوں راستے سے ہم سحر کے لیے فروٹ اور جوس بھی لے لیں گے

مشال خوش ہوتی اپنا بیگ اٹھاتی کمرے میں بھاگ گٸ

کچھ ہی دیر میں حیدر اور مشال سحر کے گھر میں موجود تھے

سحر کی والدہ حیدر مشال سے مل کر کچن میں چلی گٸیں تھیں

سنی اپنے ننھے ہاتھوں سے سحر کی ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھ رہا تھا

سنی جان تم تھک جاٶ گے بس کرو اب جاٶ پڑھاٸی کرو اب شاباش

سحر نے اپنی نیم وا آنکھیں کھول کر سنی کا خیال کرتے ہوۓ اسے کمرے سے بھیجنا چاہا

نہیں آپی جب مجھے آپ کی ضرورت ہوتی ہے آپ میرے ساتھ ہوتی تو آج آپ کو میری ضرورت ہے تو کیسے میں چھوڑ کر جاٶں میں نہیں جاٶں گا

سنی ضدی لہجے میں کہتا دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا تھا

سنی آپ کی بہن ٹھیک کہہ رہی ہیں جاٸیں پڑھاٸی کریں

کمرے میں داخل ہوتا حیدر ان کی بات سن چکا تھا تو اس نے بھی سنی کو پڑھنے کا ہی کہا

جی نہیں چاہے دنیا ادھر سے ادھر ہوجاۓ میں آپی کے پاس سے ایک انچ نہیں ہلوں گا

سنی نے ناک پھلاتے ہوۓ خفگی سے کہا تو سب ہی ہنس دیۓ

سحر بھی نکاہت ذدہ سی مدھم سی مسکرادی

یہ میری لاٸق فاٸق اسٹوڈینڈ کو نالاٸق سا بخار کیسے چڑھ گیا

حیدر کا رخ اب بستر پر لیٹی سحر کی طرف تھا جو حیدر کی بات سن کر ہلکا سا مسکاٸی تھی

مجھے نہیں معلوم کیسے چڑھا

سحر نے معصومیت سے جواب دیا

بخار کی حدت سے سحر کی ناک گال سرخ ہوگۓ تھے حیدر کو وہ سچ میں چھوٹی بچی لگی

جس کی محبت میں حیدر آہستہ آہستہ خود کو ہار رہا تھا

سحر کی موجودگی میں وہ خود کو بھول جاتا تھا

سنجیدہ روبدار حیدر تو کہی دور سوجاتا تھا

مشال حیدر کافی دیر تک سحر کے پاس بیٹھ گھر چلے گۓ تھے

روکو تم بتاتی ہوں تمھیں میں روکو

سحر سڑک کے کنارے پر کھڑی ایک لڑکے کو بری طرح پیٹ رہی تھی

وہ لڑکا معافیاں مانگ رہا تھا مگر وہ سن ہی کب رہی تھی

سحر بس کردو یار جان سے ماردوں گی کیا اس کو

مشال نے ٹارزن بنی سحر کو کندھوں سے پکڑ کر پیچھے کیا

تم چھوڑو مجھے سحر مشال کی پکڑ سے مچلتی آزاد ہوٸی اور دوبارہ اس لڑکے پر دھاوا بول دیا

شٹ یہ لڑکیاں کر کیا رہی ہیں رستے پر کھڑی

راستے سے گزرتے حیدر کی نظر ان دونوں پر پڑی تو وہ باٸیک ساٸیڈ پر کھڑی کرتا ان کی طرف بھاگا

یہ کیا کررہی ہو سحر چھوڑوں اس کو

حیدر نے کھینچ کر اس لڑکے کو اپنے پیچھے کیا

بھاٸی بچا لو غلطی ہوگٸ مجھ سے میں بہن سے کب سے معافی مانگ رہا ہوں بہن سن ہی نہیں رہیں

وہ لڑکا ہاتھ جوڑتا حیدر کے پیچھے چھپ گیا

اچھا اب میں بہن ہوگٸ ابھی گرل فرینڈ بنانے والے تھے تم مجھے تمھاری ہمت کیسے ہوٸی مجھے پھول دینے کی

حیدر کو اب ساری بات سمجھ آگٸ تھی حیدر نے پیچھے مڑ کر لڑکے کو دیکھا جو مشکل سے اٹھارہ سال کا تھا اور اس کی حالت تو رحم کے قابل تھی بلکل

جاٶ یہاں سے سبق تو مل گیا ہوگا تمھیں

حیدر نے اس لڑکے کو گھورتے ہوۓ کہا

وہ لڑکا گولی کی سپیٹ سے بھاگا

روکو تم روکو واپس آٶ یہاں بزدل

سحر چیختی ہوٸی دوبارہ اس کے پیچھے بھاگی

سحر روک جاٶ اس کو مار کے ہی دم لوگی کیا

حیدر نے سحر کے بازوں پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا

سحر کا غصے سے لال ہوتا چہرا حیدر کے دل میں شور مچا گیا

حیدر مبہوث سا اس کو دیکھتا رہا

اچھا نہیں جارہی اس کے پیچھے چھوڑے مجھے سحر کو غصے میں حیدر کے آنکھوں میں محبت کا ٹھاٹے مارتا سمندر بھی نہ دیکھا

اس بیچ مشال خوف ذدہ سی ایک طرف کھڑی ہوٸی تھی

حیدر دونوں کو اپنے ساتھ لے گیا ان دونوں کو گھر چھوڑ کر خود واپس آفس چلا گیا

وہ دن اور اس کے بعد کا ہر دن حیدر کی محبت میں اضافہ ہورہا تھا اب حیدر محبت سے کافی آگے نکل آیا تھا اس کی محبت عشق بن چکی تھی

منگنی کا فنگشں ایک بہت اچھے بینکوٸٹ میں رکھا گیا تھا

سحر نے سیلور کلر کی ستاروں اور نگوں کے کام والی جگ مگ کرتی میکسی زیب تن کی تھی

شاہ ویز نے سحر کی میچینگ کی تھی اس نے بھی سلور رنگ کا تھریپس پہنا تھا

دونوں اسٹیج پر بیٹھے بہت پیارے لگ رہے تھے ہر کوٸی ان کی جوڑی کو سراہا رہا تھا

مشال سنی مہمانوں سے مل رہے تھے

مشال شاہ ویز کی چاچی سے بات کررہی تھی جو اسے اپنے بیٹے کی آمد کا بتا رہی تھیں وہ اپنے دوستوں کی ساتھ ٹرپ پر گیا ہوا تھا آج ہی واپس لوٹا تھا

دروازے سے داخل ہوتے اپنے بیٹے کو دیکھ کر سیما بیگم نے مشال کا رخ اپنی بیٹے کی طرف کیا

سیما بیگم کے بیٹے کو دیکھ کر مشال کے تاثرات پل میں بدلے تھے گزری سب ہی اذیت تازہ ہوٸی تھیں مشال کے قدم لڑکھڑاۓ تھے وہ مزید کھڑی نہیں رہ سکتی تھی کرسی کا سہارا لیتے اس پر گرنے کے انداز میں بیٹھی تھی