Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ladon Ka Pala Episode 7

Ladon Ka Pala by Misbah

ایک نٸ صبح نٸ اذیت مشال اپنی سوچی آنکھیں مسلتی نیند سے بیدار ہوٸ تھی رات اپنے بھاٸ کے ساتھ ہونے والی تلخ کلامی مشال کو ایک بار پھر اذیت کے کنوے میں دھکیل گٸ

مشال کی آنکھوں میں ایک بار پھر نمی اتر آٸ تھی

بھاٸ سے سامنا کرنے کی دوبارہ ہمت نہ تھی لیکن ابھی مشال کو اپنے بھاٸ کی بے رخی بھی برداشت کرنی تھی

مشال تھکے ہوۓ قدوں کو اٹھاتی واشروم کی طرف چلدی کچھ دیر میں وہ باہر آٸ

افسوس فریش ہونے کے باوجود بھی تروتازگی کے بجاۓ اس کے چہرے پر درد کی لکیرے تھیں

حیدر سنجیدہ چہرا لیے ناشتے کی ٹیبل پر براجمان تھا سامنے سے آتی مشال کو دیکھ کر غصے کے اظہار میں مشال کو نظر انداز کیے کھانے میں مشغول

نگحت بیگم پہلے ہی اپنے مجازی خدا کے ساتھ ناشتہ کرچکی تھیں اب وہ اپنے دل کے تکڑوں کے لیے میز پر ناشتہ سجا رہی تھیں حیدر بنا مشال کا انظار کیے ناشتہ شروع کرچکا تھا

”بھاٸ گلاس دینا “

مشال نے اپنے خشک لبوں سے بڑی مشکل سے حیدر کو مخاطب کرنے کی ادنہ سی کوشش کی

حیدر نے بنا کچھ کہے اپنے ہاتھ سے کچھ دور رکھ گلاس مشال کے سامنے پٹکنے کے انداز میں رکھا

وہ جو نظریں جھکاۓ بیٹھی تھی گلاس کی آواز پر حیدر کی طرف متوجہ ہوٸ جو دوبارہ ناشتہ کرنے میں مصروف ہوچکا تھا

مشال گلاس اٹھاتی آنکھوں کی نمی چھپاتی خشک حلق کو تر کرتی اب پیٹ پوجا کرنے لگ گٸ تھی

حیدر ناشتہ کرکے نگحت بیگم کو الوداع کہتا گھر سے نکل گیا تھا

مشال بھی جلدی گرم چاۓ اپنے اندر انڈیلتی نگحت بیگم کو الوداع کہتی حیدر کے پیچھے بھاگی تھی

”جی بھاٸ آپ نے بلایا “

مشال آج پھر کٹھیرے میں کھڑی تھی

حیدر سنجیدہ تاثرات لیے مشال کی طرف سے رخ موڑے لاتعلق بنا کھڑا تھا

”کیا چاہتی ہو تم مشال تم کیوں نہیں سمجھ رہی ہو سنی اور تمھارا کوٸ جوڑ نہیں تمھارے لیے بہتر یہ ہی ہے تم اسے دل سے نکال دو“

حیدر نے رخ موڑ کر مشال کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ سختی سے مشال کو باز رہنے کا مشورہ دیا

”بھاٸ میری……..“

مشال اس سے پہلے کچھ کہتی حیدر نے ہاتھ اٹھا کر مشال کو مزید کچھ کہنے سے روک دیا

”ناٶ گیٹ لوسٹ“

حیدر نے مشال کو دروازہ دیکھایا

مشال لبوں پر ہاتھ رکھتی اپنی ہچکیاں روکتی آنسوبہاتے کمرے سے نکل گٸ

حیدر سر پکڑ کر بیڈ پر ڈھے گیا

اس کو بھی دکھ تھا اپنی لاڈلی بہن سے اتنا برا پیش آنے پر لیکن اس وقت حیدر کو یہ ہی بہتر لگا

اس دن کے بعد حیدر نے دوبارہ مشال سے بات نہیں کی

ماں باپ کے سامنے دونوں نارمل برتاٶ کرتے لیکن تنہائی میں دونوں اپنے اپنے دکھ دل میں چھپاۓ بے رخی اختیار کرلیتے

مشال رات رات بھر روتی رہتی خود کو کوستی نیند تو اس سے روٹھ ہی گٸ تھی اس کو ہر وقت یہ ہی خدشہ رہتا کہی اس کے گھر والوں پر اس کا راز افشاں نہ ہوجاۓ کیسے وہ سب سے نظریں ملاۓ گی

حیدر ہر روز اپنی بہن کی آنکھوں میں قرب دیکھتا تھک سا گیا تھااس نے اکثر مشال کے کمرے سے اس کے سسکنے رونے کی آواز سنی تھی اس نے ایک بار پھر مشال سے بات کرنے کا سوچا تھا اپنی لاڈلی بہن کو اس حال میں دیکھ اس کا دل جلتا تھا

آج وہ خود ہی مشال سے بات کرنے کے لیے اس کے کمرے میں موجود تھا

”بھاٸ آپ آٸیں بیٹھیں “

مشال جو رونے میں مصروف تھی حیدر کو اپنے کمرے دیکھ کر ہڑبڑا گٸ جلدی سے اپنے نازک رخساروں سے ہتیھلی کے ذریعے اشک رگڑے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ حیدر کو خوشآمدید کہا

حیرد خاموشی سے بیڈ پر بیٹھی مشال کے سامنے بیٹھ گیا

”کیوں روتی ہو میری جان اتنا

دیکھومیں مان بھی جاؤں تو امی ابو نہیں مانے گے سنی کے بچپن سے جوانی تک کا دور امی ابو کے سامنے گزرا ہے میں سنی کو برا نہیں کہہ رہا بس وہ شادی جیسی ذمداری اٹھانے قابل نہیں ہے اگر پھر بھی تم اس کو اپنا شریک حیات بنانے پر باضد ہوتو میں اس کو تمھاری زندگی میں شامل کروں گا لیکن اس کے خودمختار ہونے کے بعد

حیدر نے بےحد محبت اور نرمی سے مشال کو سمجھانے کی ادنیٰ سی کوشش کی “

”بھاٸ میرے پیارے بھاٸ آپ مجھے سمجھنے کی کوشش کریں اس کے بنا ایک پل گزارنا بھی محال ہے میرے لیے پلیز ترس کھاٸیں مجھ پر ہم دونوں کو ایک کردیں“

مشال نے حیدر کے وجیہا چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرے التجا کی

مشال آنکھوں میں نمی لیے حیدر کے جواب کی منتظر تھی

لیکن حیدر ابھی خاموش تھا

”بھاٸ اگر آپ نے زندگی میں کس سے محبت کی ہے تو اس کا واسط آپ کو پلیز بھاٸ مجھے سنی کا بنادیں“

مشال کی بات حیدر کے دل پر لگی تھی حیدر نے ایک پل نہیں لگایا تھا فیصلہ کرنے میں

”ٹھیک ہے میں کل ہی امی ابو سے بات کرتا ہوں لیکن تم مجھے یہ بتاٶ کیا وہ بےوقوف بھی تم سے اتنی محبت کرتا ہے جتی تم کرتی ہو کیا وہ بھی تمھارے لیے ایسے ہی تڑپتا ہے جیسے تم تڑبتی ہو“

حیدر نے نہایت سنجیدگی سے پوچھا

”جی بھاٸ “مشال نے زور زور سے گردن ہلاٸ

حیدر کی آنکھوں میں دیکھنے سے مکمل گریز کیا کیونکہ وہ اس وقت سفید جھوٹ بول رہی تھی جس کا ہرجانہ ابھی سنی کو ادا کرنا تھا

”ہمم ٹھیک ہے اب سوجاٶ رونا نہیں بلکل بھی“ حیدر نے مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ مشال کی پیشانی پر بوسہ دیا اور سیدھا کمرے سے باہر نکل آیا

مشال حیدر کے جانے کے بعد فون کی طرف لپکی تاکہ اپنی پیاری سہیلی سحر کو خوشخبری سنا سکے

”کیا سچ میں حیدر بھاٸ مان گۓ“

سحر نے تقریباً چیختے ہوۓ کہا

”ہاں ہاں سحر بھاٸ مان گۓ وہ کل ہی امی ابو سے بات کرے گے اب وہ مجھ سے ناراض بھی نہیں ہیں “

مشال نے چہکتے ہوۓ کہا

”واٶ کتنا مزا آۓ گا ہم ساتھ رہے گے “

سحر بھی بہت خوش تھی

دونوں سہیلیوں کی نا ختم ہونے والی باتیں شروع ہوگٸ تھی اب جو نہ جانے کب ختم ہوتیں

***************

”آپ بہت اچھے ہیں “

”کیا میں کہا اچھا تم اچھی ہو نا اس لیے تمھیں سب اچھے لگتے ہیں“

حیدر نے سامنے کھڑی اپنی محبت کو مسکراتے ہوۓ جواب دیا

”نہیں نہیں آپ سچ میں اچھے ہیں دل سے کہہ رہی ہوں “

حیدر کی معصوم محبت نے معصومیت سے جواب دیا

”چلو تم کہہ رہی ہو تو مان لیتا ہوں ورنہ لوگ تو مجھے کھڑوس کا خطاب دیتے ہیں “

حیدر کی بات پر حیدر کے ساتھ ساتھ اس کی معصوم محبت بھی مسکرا اٹھی

حیدر اس کی مسکراہٹ میں کھو سا گیا

”آہ اور کتنا انتظار کرواٶ گی میری زندگی میں آجاٶ یا میری یادوں سے بھی نکل جاؤ“

حیدر کی خاموش محبت نے آج پھر سر اٹھالیا تھا

آج پھر وہ اپنی محبت کی یادوں میں گزارنے والا تھا

******

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم حیدر بھاٸ آپ یہاں کیسے “

سنی اکیڈمی سے باہر آیا تو سامنے حیدر کو کھڑے دیکھ کر حیران رہ گیا

حیدر آج سنی کی عقل ٹھیکانے لگانے آیا تھا مشال نے جو جھوٹ بولا تھا سنی کو سزا بھگتنی تھی

تم گھٹیا انسان تمھاری ہمت کیسے ہوٸ میری بہن کو ورغلانے کی شکل سے تم کتنے معصوم لگتے ہو اندر سے پورے ہو تم شرم نہیں آٸ اپنے سے بڑے عمر کی لڑکی سے محبت کا کھیل کھیلتے ہوۓ “

حیدر سنی کا گریبان پکڑے سنی پر چڑ دوڑا تھا

”بھاٸ یہ کیسی باتیں کررہے ہیں غلط فہمی ہوٸ ہے آپ کو“

سنی نے حیدر سے اپنا گریبان چھڑوانے کی کوشش کی

”بن کرو اپنی بکواس مشال مجھے سب بتا چکی ہے اگر تمھاری وجہ سے میری بہن کی زندگی برباد ہوٸ تو سن لو تباہ کردوں گا تمھیں بھی میں“

حیدر سنی کو شہادت کی انگلی دیکھاۓ دھاڑا

”جی ٹھیک ہے “

سنی نے سر جھکا کر کہا اس کے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا تھا حیدر کس بارے میں بات کررہا ہے اسی لیے بیچارا سنی خاموشی سے سر جھکا گیا

حیدر خاموشی سے واپس چلا گیا وہ سنی کے دل میں اپنا ڈر بیٹھانا چاہتا تھا تاکہ وہ خود ہی اس فیصلے سے پیچھے ہٹ جاۓ لیکن یہ فیصلہ تو سنی کا تھا ہی نہیی جو وہ پیچھے ہٹتا

*************

”سنی یہ کیا حالت بنائی ہے تم نے تم لڑکر آۓ ہو یہ ہی کرنے جاتے ہو تم اکیڈمی“

سنی گھر میں داخل ہوا تو سحر اس کا کھلا گریبان دیکھ کر حیران رہ گٸ حیدر کے مضبوطی سے گریبان پکڑنے پر سنی کی شرٹ کے اوپری بٹن ٹوٹ گۓ تھے

سحر کام کم ہونے کی وجہ سے آج آفس سے جلدی گھر آگٸ تھی سنی کی حالت دیکھ کر وہ صدمے میں مبتلا ہوگٸ کہی اس کا لاڈلا بھاٸ غلط راہ تو اختیار نہیں کرگیا

”آپی آپی کیا ہوگیا ہے مجھے اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع تو دیں“

سنی نے آگے بڑھ کر سحر کو کندھوں سے تھاما

”اچھا پیش کرو صفائی دیکھوں میں بھی تم ملزم ہو یا مجرم “

سحر نے سینے پر ہاتھ باندھ سنجیدگی سے کہا

”آج حیدر بھاٸ مجھے اکیڈمی کے باہر ملے جیسے ہی میں باہر نکلا وہ مجھ پر جھپٹ پڑے تب ہی میرے گریبان کے بٹن ٹوٹے ہوۓ ہیں پتا نہیں کیا باتیں کر رہے تھے میرے تو کچھ پلے ہی نہیں پڑا ان کا غصہ دیکھ کر میری تو ہمت ہی نہیں ہوٸ میں ان سے کچھ پوچھوں وہ تو اپنی سنا کر آندھی طوفان کی طرح واپس چلے گۓ“

سنی نے چھوٹے بچوں کے جیسے طوطے کی طرح بولتے ہوۓ پوری روداد سنا ڈالی

سحر تو حیران ہی رہ گٸ حیدر بھاٸ نے یہ کیسی حرکت کی ہے

”آپی انھوں نے ایسا کیوں کیا “

سنی نے معصومیت سے پوچھا

سنی کی آواز پر سحر اپنی سوچوں سے باہر آٸ

”ہاں وہ میں بات کروں گی مشی سے تم چاٶ فریش ہوجاٶ پھر ساتھ کھانا کھاتے ہیں “

سحر نے سنی کا گال تھپتھپایا

”اوکے آپی“ سنی اپنے روم میں چلا گیا

”او ہاں میں تو بھول ہی گٸ مشال نے حیدر بھاٸ کو سنی اور اپنی محبت کا بتا کر شادی پر راضی کیا تب ہی وہ غصے میں آٸیں ہوگے سنی کو دھمکانے“

سنی کے جاتے ہی سحر نے دماغ چلانا شروع کردیا اب اس کو ساری بات سمجھ آگٸ تھی

”میرے بھاٸ کو ناجانے اور کیا کیا برداشت کرنا ہوگا “سحر بڑبڑاتی ہوٸ کچن میں چلی گٸ

*************

”حیدر تم ہوش میں تو ہو یہ کیا بکواس کررہے ہو تم وہ لڑکا کہی سے بھی مشال کے جوڑ کا نہیں تم نے سوچ بھی کیسے لی اتنی بڑی بات“

سفدر صاحب حیدر کی بات سن کر غصے سے دھاڑے کمرے سے باہر کھڑی مشال کا دل بھی کانپ اٹھا

”بابا میں جانتا ہوں لیکن مشال کی خوشی اس کے ساتھ ہے وہ بہت محبت کرتی ہے اس سے“ حیدر نے سر جھکا کر نرمی سے جواب دیا

”تمھیں میں کہتا تھا لڑکی ذات ہے زیادہ سر نہیں چھڑاٶ تم نے میری ایک نہ سنی دیکھ لو اب وہ کس راہ پر چل نکلی ہے “

سفدر صاحب غصے سے پھنکارے

نگحت بیگم بھی دل تھامے دونوں باپ بیٹے کی باتیں سن رہی تھیں

”بابا محبت کرنے میں کوٸ براٸ تو نہیں

ہاں نہیں ہے لیکن غلط شخص سے محبت کرنے میں برائی ہے ہمارے خاندان میں یہ چونچلے نہیں ہوتے تم جانتے ہو اور پھر کوٸ ایک وجہ بتاٶ میں مشال کو بیاہ دوں اس لڑکے کے ساتھ عمر میں بھی چھوٹا ہے وہ لڑکا کماتا بھی کچھ خاص نہیں ساری زندگی محبت سے نہیں گزرتی“

سفدر صاحب نے سخت لہجے میں جواب دیا

”بابا میں جانتا ہوں وہ عمر میں چھوٹا ہے کماتا بھی کچھ خاص نہیں لیکن یہ بھی تو سوچیں مشال ساس نند کے جھنجٹو سے بچی رہے گی سحر خود اس کی دوست ہے ان دونوں کی دوستی سے تو ہم سب واقف ہیں اور پھر سنی چھوٹا ہے ہم اس کو آسانی سے روعب میں رکھ سکتے ہیں بابا سوچیں ذرا ایک ہی بیٹی ہے آپ کی اگر آپ اپنی مرضی سے شادی کر بھی دیں مشال کی کیا گارنٹی ہے اس کو سسرال اچھا ہی ملے آج کل ساس نند کے جھگڑوں سے تو آپ واقف ہیں کل کو کوٸ اونچ نیچ ہوگٸ تو ہم کیا کریں گے“

حیدر نے سفدر صاحب کو تصویر کے دوسرے رخ آشنا کروایا

”حیدر تم کہہ تو سہی رہے ہو لیکن وہ ابھی پڑھ رہا ہے کماٸ بھی کوٸ خاص نہیں کیسے ذمہ داری پوری کرے گا مشال کی “

”بابا جب بندے پر ذمہ داری آتی ہے تو وہ خود ہی سنبھل جاتا وہ کیسے نہ کیسے ہاتھ پاٶں مار کر گھر والوں کا پیٹ بھرتا ہے اور پھر سنی تو ہمارے سامنے کا بچہ ہے آپ جانتے تو ہیں وہ کتنا محنتی اور ذہین ہے ہماری مشال بھی کوٸ شاہ خرچ نہیں اس کی ضرورتیں بھی محدود ہیں شادی کے بعد ویسے بھی ہر لڑکی اپنے شوہر کی جیب دیکھ کر ہی خرچا کرتی ہے کچھ سالوں کی بات ہے اس کی پڑھاٸ پوری ہوجاۓ گی تو اسے اچھی جاب بھی مل جاۓ گی “

حیدر نے سفدر صاحب کو ہر طریقے سے کاٸل کرنے کی کوشش کی آخر بات اس کی لاڈلی بہن کی خوشیوں کی تھی

”ٹھیک ہے پھر ان دونوں بہن بھاٸ کو بولو کل آجاٸیں منگنی کی رسم کرنے کل ہی شادی کی ڈیٹ بھی فکس کردیں گے“

حیدر سفدر صاحب کو راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا

”تھینک یو سو مچ ابو آپ بہت اچھے ہیں حیدر خوشی سے سفدر صاحب کے گلے لگ گیا“

”بہن کی شادی تو کروا رہے ہو اپنا بھی کچھ سوچ لو مشال چلی جاۓ گی تو میں تو اکیلی ہی پڑ جاؤں گی“

کب سے چپ کھڑی نگحت بیگم بھی بول پڑی

”اففففف امی میں نے کتنی دفع کہا ہے مجھے نہیں کرنی شادی وادی جب کرنی ہوگی خود بتادوں گا “

حیدر نے بےزار سے انداز میں جواب دیا

”چھوڑ دیں اس کو نہیں آۓ گی سمجھ “

سفدر صاحب نے بات ہی ختم کردی

”اچھا میں مشال کو خوش خبری سنا کر آتا ہوں“

مشال تو سفدر صاحب کی رضامندی سنتے ہی اپنے کمرے میں دوڑ گٸ اور جلدی سے موبائل اٹھا کر سحر کو کل گھر آنے کا حکم دے دیا ساتھ میں پوری بات بھی بتادی

”مشی وہ ابو نے کہا …..“

”جی بھاٸ میں نے بتا دیا سحر کو وہ دونوں کل شام تک آجاٸیں گے“

حیدر کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی مشال نے چہکتے ہوۓ جواب دیا

مشال کا چہرا جو اتنے دن سے مرجھایا ہوا تھا گلاب کے پھول کے ماند کھل اٹھا تھا

حیدر کو اپنی بہن پر بے تاہاشا پیار آیا

وہ آگے بڑھا مشال کی پیشانی چومی اور اس کو اپنے سینے سے لگا لیا

”میری پیاری بہن میں تمھیں ہمیشہ ہنستا مسکراتا دیکھنا چاہتا ہوں وعدہ کرو زندگی میں کبھی بھی کوٸ مشکل پیش آۓ گی تو اپنے بھاٸ کو سب سے پہلے بتاٶ گی کچھ نہیں چھپاٶ گی مجھ سے“

حیدر نے نرمی سے مشال کو اپنے سامنے کیا

مشال کی آنکھوں کے سامنے اپنے اوپر ہوا ظلم یاد آگیا مشال کی آنکھیں نمکین پانی سے بھر گٸیں

بھاٸ مجھے معاف کردینا میں نے بہت ستایا ہے آپ کو اب نہیں ستاٶں گی کوٸ ضد نہیں کروں گی“

مشال دوبارہ حیدر کے سینے سے لگ گٸ

”ہاں ہاں اب مجھے ضرورت بھی نہیں تنگ کرنے کی اپنے اس معصوم شوہر کو ستانا وہ برداشت کرے گا اب تمھیں میری جان چھوٹی تم سے شکر ہے بھٸ“

حیدر نے مشال کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے سنجیدہ بات کو مزاہ کا روپ دے دیا

”جی جی چھوڑ دی میں نے آپ کی جان اب آپ بھی کوٸ لے آٸیں آپ کو برداشت کرنے والی“

مشال نے مسکراتے ہوۓ حیدر کو چھیڑا

”کیا یار تم سب لوگ کیوں مجھ آزاد پنچھی کو قید کرنا چاہتے ہو مجھے نہیں لانی کوٸ باگڑبلی چلو تم سوجاٶ خاموشی سے میں بھی سونے جارہا ہوں “

حیدر مشال کا رخسار تھپتھپاتا کمرے سے نکل گیا

مشال مسکراتی ہوٸ بیڈ پر لیٹ گٸ

”تم میری یادوں سے جاتی کیوں نہیں

اگر نہیں جاتی تو میرے پاس آتی کیوں نہیں “

حیدر آج پھر اپنی محبت کی یاد میں تڑپ رہا تھا سب نے انجانے میں ہی سہی لیکن حیدر کے زخم ہرے کر دیے تھے

”سنی تم اٹھے ہو مجھے بات کرنی ہے“

سحر سنی کے کمرے کا دروازہ وا کرتی کمرے میں داخل ہوٸ

”جی آپی بس سونے ہی لگا تھا آپ کو کیا بات کرنی ہے “

سنی لیٹے سے اٹھ بیٹھا

”وہ مشال کی کال آٸ تھی اس کے گھر والے راضی ہوگۓ ہیں کل ہمیں ان کے گھر جانا ہے تمھاری منگنی کی رسم کرنے “

”واٹ نو نو میں نہیں جاؤں گا حیدر بھاٸ کچا چبا جاۓ گے مجھے “

سنی نے چھری جھری لی

”ارے کچھ نہیں کرے گے انھوں نے تو سب کو منایا ہے وہ بھی خوش ہیں اس رشتے سے کچھ نہیں کہے گے اب“

سحر نے سنی کا معصوم سا مکھڑا اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر سمجھایا

”آپی مجھے عجیب لگ رہا ہے میں نے کبھی شادی کا نہیں سوچا اور آپ کی دوست تو بلکل میرے لیے آپ کی طرح ہی ہیں اب اچانک شادی ڈر لگ رہا ہے پتا نہیں میں اس رشتے کو نبھا پاٶں گا بھی یا نہیں “

سنی نے اپنے دل میں پیدا ہونے والے خدشات سے سحر کو آگاہ کیا

”سنی نا امیدی کی باتیں نہیں کرو میری جان ان شاء اللہ سب اچھا ہوگا اور تمھیں اپنے دل کا ایک راز بتاٶں“

سحر نے مسکراتے ہوۓ کہا

سنی نے سحر کی طرف دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا

”میری ہمیشہ سے خواہش تھی مشال ہی میری بھابھی بنے وہ میری بہت پکی سہیلی ہے وہ میرے بھاٸ کو کبھی مجھ سے دور نہیں کرے گی اور وہ ایک بہت اچھی ہمسفر بھی ثابت ہوگی بس اسی لیے میں اس کو بھابھی بنانا چاہتی تھی لیکن تم اس سے عمر میں چھوٹے تھے یہ ناممکن تھا اس لیے میں نے کبھی ذکر نہیں کیا اس بات کا لیکن اب حالت ایسے ہوگۓ ہیں تم دونوں کی شادی سے ہی سب ٹھیک ہوسکتا ہے“

”آپی آپ کی خواہش میرے سر آنکھوں پر “

سنی نے سحر کی ہاتھ کی پشت پر مان بھرا بوسا دیا

”میرا پیارا بھاٸ مجھے پتا تھا میرا بھاٸ اپنی بہن کی خواہش کا مان رکھے گا لیکن تم مجھ سے ایک وعدہ کرو کبھی بھی تم مشال کے ساتھ ہوۓ حادثے کا ذکر نہیں کرو گے اور نہ کبھی اس بات کو لے کر مشال کو طعنے مارو گے “

سحر نے مشال کا مستقبل بھی محفوظ کرنا چاہا

”آپی آپ بے فکر ہوجاٸیں آپ کو میری طرف سے شکایت کا موقع نہیں ملے گا “

دونوں بہن بھاٸ نے ایک دوسرے کے سارے خدشات ختم کردیے

”اب تم سوجاٶ میں بھی چلتی ہوں “

”اوکے آپی گڈ ناٸٹ“

سنی بھی بستر میں گھس گیا

سحر اپنے روم میں چلی گٸ

شام کے وقت سنی اور سحر مشال کے گھر پر موجود تھے

سنی کافی گھبرایا ہوا تھا وہ سحر کے پہلو میں سے ہل بھی نہیں رہا تھا کسی چھوٹے بچے کی طرح سحر سے چپکا بیٹھا تھا

”بیٹا کیا ساری عمر بہن کے پلو سے بندھے رہو گے بہن کو چھوڑو آٶ ہمارے ساتھ بیٹھو “

سفدر صاحب نے سنی کی بچوں جیسی حرکت پر چوٹ کی

سحر نگحت بیگم اور مشال سے باتوں میں مصروف تھی اس نے بھی چونک کر اپنے پہلو میں دیکھا سنی اسی کے پہلو میں بیٹھا تھا

سحر نے سنی کو آنکھوں کے اشارے سے اٹھنے کا کہا

سنی کا دل تو نہیں تھا لیکن اٹھ کر سفدر صاحب کے پہلو میں نظریں جھکا کر بیٹھ گیا

”وہ انکل اصل میں شروع سے ہی اکیلا رہا ہے تو گھبرا رہا ہے اب “

سحر نے سنی کے بچپنے پر بات بنائی

”جی جی بیٹا معلوم ہے مجھے ہمارے سامنے کا تو بچہ ہے“

سفدر صاحب نے مسکرا کر سنی کے کندھے پکڑ کر خود سے لگایا

”جی انکل“ سحر مسکرا کر دوبارہ باتوں میں لگ گٸ کچھ دیر بعد منگنی کی رسم ادا ہوٸ

مشال کو سحر نے اور سنی کو سفدر صاحب نے انگھوٹھی پہناٸ

مشال شرمانے کی پوری ایکٹیگ کر رہی تھی جبکہ سنی تو سمجھ ہی نہیں پارہا تھا ہوکیا رہا ہے اور اسے کیسے ری ایکٹ کرنا چاہیے

وہ خاموشی سے سب کچھ دیکھتا رہا

سب کی باہمی رضامندی سے ایک مہینے بعد کی شادی کی تاریخ طے پاٸ

ایک مہینہ بعد شادی تھی سحر گھنجکر بنی ہوٸ تھی آفس گھر کا کام شادی کی تیاریاں سنی سے بھی جتنا ہوسکتا تھا وہ اپنی بہن کی مدد کرنے کی کوشش کرتا تھا ہال اور کھانے کے انتظام میں حیدر نے مدد کردی تھی وہ جانتا تھا سحر اکیلی ہے اتنا کچھ کیسے سنبھالے گی

سنی اور مشال کی شادی کو لے کر لوگوں میں چہ مگویاں ہورہی تھں لیکن سحر نے سب کو یہ کہہ کر چپ کروا دیا

”جب لڑکی کی شادی اس سے تین گنا بڑے مرد سے ہوسکتی ہے تو مشال اور سنی کی بھی ہوسکتی ہے “

سحر نے کسی بھی بات کا کوٸ بھی اثر لیے بنا سنی کی شادی خوب انجواۓ کی کیوں نہ خوش ہوتی وہ اس کے اکلوتے لاڈلے بھاٸ کی شادی تھی

اتنی بڑی خوشی میں دونوں کو اپنے ماں باپ بہت یاد آۓ لیکن دونوں بہن بھاٸ نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنا غم بانٹ کر دل ہلکا کیا

”سنی “

”جی آپی“

”تم نے مشال کو رونماٸ میں دینے کے لیے کوٸ گفٹ لیا “

سحر کو معلوم تھا اس کا لاڈلا بھاٸ بہت معصوم ہے اسی لیے اس نے پوچھنا ضروری سمجھا

”کیا میں کیوں لوں ان کے لیے گفٹ ان کی شادی تو مجھ سے ہی ہورہی ہے نہ کسی اور سے ہوتی تو گفٹ دیتا نہ“

سنی نے معصوم سا جواب دیا

”اففف سنی میں کیا کروں تمھارا“

سحر تو سر پکڑ کر صوفے بیٹھ گٸ

”آپی میں نے کچھ غلط کہہ دیا کیا آٸ ایم سوری“

سنی گھٹنوں کے بل سحر کے پاس بیٹھ گیا

”سنی میری بات سنو جان دیکھو جب لڑکی اپنا گھر چھوڑ کر اپنے شوہر کے گھر آتی ہے اور ایک نٸ زندگی شروع کرتی ہے تو ایک اچھا شوہر اپنی دلہن کا ویلکم کرنے کے لیے اس کو ایک قیمتی تحفہ دیتا ہے جو اس لڑکی کی زندگی کا سب سے خوبصورت تحفہ ہوتا ہے اور وہ لڑکی اس تحفے کو اپنے پاس ساری زندگی سنبھال کے رکھتی ہے

کیا تم اچھے بھاٸ ہونے کے ساتھ اچھا شوہر نہیں بننا چاہتے ہو“

سحر نے ہاتھوں کے پیالے سنی من موہنا چہرہ لیا

”جی جی آپی مجھے اچھا شوہر بننا ہے میں آپ کی دوست کے لیے اچھا سا تحفہ لاٶں گا “

سنی نے خوش ہوتے ہوۓ کہا

”ٹھیک ہے وہ تحفہ تم اس کو شادی والی رات دینا جب وہ روم میں سجی سنوری تمھاری منتظر ہوگی “

”ٹھیک ہے آپی میں سمجھ گیا “

سنی کو کتنی بات سمجھ آٸ یہ تو وقت آنے پر پتا چلے گا

شادی کی ہر تقریب بہت اچھے سے ہوٸ تھی مہندی مایوں سب نے بہت انجواۓ کیا تھا نکاح مایوں میں ہی ہوگیا تھا اب بس رخصتی باقی تھی جس کا وقت اب آچکا تھا

”سنی تم تیار ہوگۓ آہ یہ کیا پہن لیا تم نے“

سحر سنی کے کمرے میں آٸ تھی اس کو دیکھنے وہاں جو دیکھا سحر کا تو دماغ ہی گھوم گیا

سنی تم پیٹ جاؤ گے میرے ہاتھوں پینٹ شرٹ کیوں پہنا ہے تم نے تمھارے سسرال سے یہ شیروانی آٸ ہے یہ پہنو “

سحر کا چہرا غصے سے لال ہوگیا تھا

”بھٸ آپی شیروانی میں گرمی لگ رہی ہے اسی لیے میں نے پینٹ شرٹ پہنی ہے یہ نیںو ہے پرانی نہیں ہے مجھے اتنا تو معلوم ہے اپنی شادی میں پرانے کپڑے نہیں پہنتے“

سنی کے خیال میں اس نے بہت سمجھداری کی بات کی تھی.

”سنی غصہ نہیں دلاٶ مجھے اتارو یہ “

سحر نے کہنے کے ساتھ عمل کرنا بھی شروع کردیا

اس نے سنی کی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کردیے

”اچھا اچھا آپی میں کررہا ہوں چینج آپ جاٸیں باہر“ سنی شرمندہ ہوا

”ٹھیک ہے پانچ منٹ میں آٶ باہر“

سحر حکم صادر کرتی روم سے باہر نکل گٸ

”آپی میں کیسا لگ رہا ہوں سنی سحر کے سامنے کھڑا اس سے پوچھ رہا تھا “

ماشاءاللہ ماشاءاللہ نظر نہ لگے میرے بھاٸ کو کسی کی “

سحر نے جلدی سے کالا ٹیکا سنی کے کان کے پیچھے لگایا

سنی آج سچ میں کوٸ شہزادہ لگ رہا تھا کالی شیروانی کے ساتھ سفید پجامہ پاٶں کالا کھوسا سنی پر خوب جچ رہا تھا اوپر سے سنی کے چہرے پر بلا کی معصومیت لڑکیوں کا چین لوٹ گٸ تھی

سنی کو مشال کے برابر میں بٹھایا گیا تو سب کی نظریں مشال کو چھوڑ سنی پر ٹھیر گٸیں سنی کے نیلی آنکھیں اس کی معصومیت وجاہت سے بھر پور چہرا کسرتی جسم لڑکیاں تو سنی کی دیوانی ہی ہوگٸں تھیں

مشال بھی سرخ دلہن کے جوڑے میں کوٸ نازک سی پری ہی معلوم ہورہی تھی

سحر بھی آج لولڈن میکسی اور ہلکے پہلکے میک اپ اور جیولری کے ساتھ قیامت ڈھا رہی تھی سحر کو پوری تقریب میں اپنے وجود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہو رہی تھی لیکن لاکھ کوشش کے باوجود سحر نہیں جان سکی وہ پوری تقریب میں کس کی نظروں کے حصار میں تھی

آخر کار شادی کی تقریب کا اختتام ہوا مشال اپنے ماں باپ کے گھر سے اپنے شوہر کے گھر رخصت ہوکر آچکی تھی

سحر نے بے انتہاٸی محبت اور چاہت سے مشال کا استقبال کیا

گھر آتے ہی مشال نے مرچوں سے اپنے لاڈلے بھاٸ اور اپنی جان سے پیاری سہیلی کی نظر اتاری

سنی تو بہت تھک گیا وہ صوفے پر ہی نیم دراز ہوگیا

سحر مشال کو روم میں چھوڑ آٸ

” ارے یہاں کیوں بیٹھے ہو اندر جاؤ تم “

سنی آنکھیں موندیں صوفے پر نیم دراز تھا سحر کی آواز پر چونک کر اٹھ بیٹھا سحر سنی کے برابر میں آکر بیٹھ گٸ

”آپی بہت تھک گیا ہوں میں“

سنی دوبارہ سحر کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا

”سنی اندر جاکر لیٹو نہ مشال کا تو کچھ خیال کرو بیچاری وہ بھی تھکی ہے وہ تمھارا انتظار کررہی ہے روم میں “

سحر نے سنی کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ کہا

”آپی مجھے شرم آرہی ہے ان سے میں کیسے سامنا کروں ان کا “

سنی نے اپنی نیلی آنکھوں میں معصومت سموۓ سحر سے اپنے دل کی بات کہی

سحر کا بے ساختہ قہقہ لاٶنج میں گونجا

”پاگل اپنی بیوی سے کون شرماتا ہے چلو اٹھو روم میں جاؤ “

سحر ہنستے ہنستے سنی کو اٹھا کر بٹھایا

”آپی بھٸ مزاق تو نہیں اڑاٸیں میرا ایک تو اتنی کم عمر میں شادی کردی میری اب مزاق بنا رہی ہیں“

سنی نے منہ پھلا کر جواب دیا

”اچھا اچھا نہیں کہتی کچھ چلو اٹھو میں اپنے پیارے بھاٸ کو روم میں چھوڑ آٶں“

سحر نے سنی کا ہاتھ تھاما اور کمرے کا دروازہ کھول کر سنی کو اندر دھکا دے دیا ایسے تو جانا نہیں تھا اس نے

”سنی تم آگۓ دیکھو پلیز مجھے بلکل تنگ مت کرنا میں بہت تھک گٸ ہوں میں نے چینج کرلیا ہے تم بھی کرلو اور خاموشی سے سوجاٶ“

مشال ہلکا پلکا لون کا سوٹ پہنی بیڈ پر بیٹھی سونے کی تیاری میں تھی

سنی نے سر کھجایا پہلے دروازے کو دیکھا پھر مشال کو

”آپی کی دوست آپ نے چینج کیوں کیا ہے آپ کو اپنا گفٹ نہیں لینا کیا“

سنی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا مشال کے سامنے بیٹھ گیا

”گفٹ کونسا گفٹ“

مشال نے ناسمجھی سے سنی کو دیکھا

”آپی نے مجھے کہا تھا جب میں روم میں جاؤں گا تو آپ دلہن بنی بیٹھی ہوں گی پھر آپ کو آپکا ویلکم گفٹ دوں گا ”

سنی نے ساری شرم ایک طرف رکھ کر مشال کو اپنی بات سمجھاٸ

”او ہاں میں تو بھول ہی گٸ لاٶ دو میرا گفٹ“ مشال نے سنی کی طرف ہاتھ بڑاھایا

”اب تو نہیں دوں گا آپ دلہن تو بنی نہیں ہیں آپی نے کہا تھا آپ دلہن بنی ہوگی تو دوں “

سنی کے یہی سمجھ آیا گفٹ دلہن کو دینا ہے اپنی بیوی کو نہیں

”یہ کیا بات ہوٸ مجھے گرمی لگ رہی تھی تو میں نے کپڑے بدل لیے تم مجھے گفٹ دو “

مشال تیوری چڑھاۓ کہا

سنی نے ہاتھ میں پکڑی لال مخملی ڈبی پیچھے کرلی

”نہیں دوں گا پہلے آپ دلہن کی طرح تیار ہوۓ پھر دوں گا ”

سنی مسکاتے ہوۓ گویا ہوا

”ہاں رکھ لو اپنا گفٹ نہیں چاہیے مجھے کوٸ بچوں والی ٹافی چاکلیٹ ہی لاۓ ہوگے “

مشال نے سنی کی ذہنیت کا اندازہ لگاتے ہوۓ کہا

لیکن مشال اس وقت غلط اندازہ لگا گٸ تھی

”ہاہاہاہا اتنا بھی بھودوں نہیں ہوں میں مجھے آپی نے کہا تھا قیمتی تحفہ ہونا چاہیے دیکھیں میں آپ کے لیے گولڈ کا بریسلیٹ لایا تھا “

سنی نے مخملی ڈبیاں مشال کے سامنے کرکے وا کی

مشال کا تو بریسلیٹ پر دل ہی آگیا وہ بہت نازک سا چین نما بریسلیٹ تھا جس کے درمیان میں سفید نگوں کا خوبصورت سا پھول بنا ہوا تھا

”سنی پلیز دے دو نا میں تمھیں کل تیار ہوکر دیکھا دوں گی “

مشال نے سنی کو لالج دینا چاہا

”نو نو ایسا نہیں چلے گا گفٹ بھی کل لینا آپ “

مشال کا تو اب پارہ ہاٸ ہوگیا تھا سنی کی بے وقوفیوں پر

”بھاڑ میں جاؤ نہیں چاہیے مجھے کچھ تم سے سورہی ہوں میں گڈ ناٸٹ“

مشال غصے سے سرخ ہوتی کروٹ لے کر لیٹ گٸ

سنی بھی کندھے اچکاۓ کھڑا ہوگیا

احتیاط سے بریسلیٹ الماری میں رکھا جو مشال کی نظروں سے مخفی نہ رہ سکا

سنی کپڑے تبدیل کرکے سکون سے لیٹ چکا تھا لیکن مشال کے ہوتے ہوۓ وہ کافی سمٹ کر لیٹا ہوا تھا خیر وہ بہت تھکا ہوا تھا کچھ دیر کروٹیں لینے کے بعد سنی بھی میٹھی نیند میں کھو گیا تھا

*****************

سحر بے خبر سورہی تھی موبائل کی بیل پر سحر کی آنکھیں کھولیں وقت دیکھا گھڑی کی سوٸیاں دس کا ہندسہ پار کرنے کو بے قرار تھیں

سحر موبائل کی سکرین پر نظر ڈالی تو حیدر کا جگمگاتا نام دیکھ کر جلدی سے کال اٹھاٸ

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم حیدر بھاٸ“

سحر پوری طرح ہوش میں آچکی تھی

”وَعَلَيْكُم السَّلَام کیا تم سو رہی تھیں کب سے کال کررہا ہوں “

حیدر نے شکایتی انداز میں پوچھا

”سوری حیدر بھاٸ وہ تھک اتنا گٸ تھی آنکھ ہی نہیں کھولی“

”سوری میں نے تمھیں جگا دیا وہ اصل میں میں نے اطلاع دینے کے لیے کال کی تھی کہ ہم لوگ تھوڑی دیر میں ناشتہ لے کر پہنچ رہے ہیں “

حیدر نے کال کرنے کا مقصد بیان کیا

”کوٸ بات نہیں اچھا ہوا آپ نے کال کردی ورنہ میں تو سوتی رہتی چلیں آپ لوگ پھر جلدی سے آجاٸیں میں دلہن دلہا کی خبر لوں ذرا ابھی تک اٹھے ہیں کہ نہیں “

سحر نے لہجے میں شوخی سموۓ جواب دیا

”اوکے خدا حافظ “

”خدا حافظ بھاٸ“

***********

”مشی اٹھ جاؤ صبح ہوگٸ ہے سنی تم بھی اٹھ جاؤ “

سحر سنی کے کمرے کے باہر کھڑی آوازیں لگا رہی تھی ساتھ میں دروازے پر دستک بھی دے رہی تھی

دو تین بار کی دستک کے بعد دروازہ کھل چکا تھا

دروازہ مشال نے کھولا تھا

”نٸ زندگی نٸ کی صبح مبارک ہو میری پیاری دوست “

سحر مسکراتے ہوۓ مشال سے مخاطب ہوٸ

”شکریہ “سحر مشال مسکراتے ہوۓ سحر کے گلے لگ گٸ

کچھ دیر کے بعد سحر کو اپنے کندھے پر نمی محسوس ہوٸ

سحر نے جھٹکےسے مشال کو اپنے روبرو کھڑا کیا

مشال کا چہرا آنسوٶں سے تر تھا

”مشی کیا ہوگیا ہے کیوں رو رہی ہو سنی نے کچھ کہا ہے کیا تم سے“

سحر مشال کو روتا دیکھ پریشان ہوگٸ تھی

”نہیں سحر وہ معصوم مجھے کیا کہے گا اس کو تو اندازہ بھی نہیں ہے اس کے ساتھ ایک ناپاک

وجود باندھ دیا گیا ہے “

مشال نے رخساروں پر پھسلتے آنسوٶں کو بے دردی سے رگڑا

”مشال خبر دار جو آٸندہ تم نے اس طرح کی بات کی تو سمجھی تم“

سحر نے مشال کو گلے سے لگا لیا

”اچھا بس اب چپ ہوجاٶ حیدر بھاٸ کی کال آٸ تھی کچھ دیر میں آرہے ہیں وہ لوگ ناشتا لے کر تیار ہوجاٶ تم“

سحر نے نرمی سے مشال کے آنسوں صاف کرکے حیدر کا پیغام دیا

”ٹھیک ہے میں فریش ہونے جارہی ہوں تم اپنے بھاٸ کو اٹھاٶ دیکھو کیسے گھوڑے گدھے بھیچ کر سورہا ہے“

مشال نے بیڈ پر بے خبر سوتے سنی کی طرف اشارہ کیا

”اچھا تم فریش ہوجاٶ میں اٹھاتی ہوں اس کو“ سحر نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا

مشال الماری سے کپڑے نکال کر واشروم میں چلی گٸ

”سنی جان اٹھ جاؤ صبح ہوگٸ ہے “

سحر نے محبت سے سنے کے بالوں انگلیاں چلاتے ”ہوۓ سنی کو پکارا

آپی سونے دیں نہ “

سنی نے کروٹ بدلتے ہوۓ نیند میں ہی جواب دیا

”اٹھ جاؤ مشی کے گھر والے ناشتہ لے کر آرہے ہیں

ہیں “

”آپی آپ کی دوست کے گھر والے کیوں ناشتہ لے کر آرہے ہیں ہمارے گھر ناشتہ ختم ہوگیا ہے “

سنی لیٹے لیٹے ہی اپنی عقل کے حساب س سوال کیا

”ارے پاگل جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو اس کے گھر والے شادی کی پہلی صبح اس کے لیے ناشتہ لے کر آتے ہیں یہ رسم ہوتی ہے “

سحر نے ہنستے ہنستے جواب دیا

”آپ منا کردیں ان کو ہمارے گھر ہے گا ناشتہ ہم کروا دیں گے مجھے نیند آرہی ہے سونے دیں اب“ سنی کے ابھی بات سمجھ نہیں آٸ

”سنی بری بات ہوتی ہے ایسے نہیں کرتے چلو جلدی اٹھو فریش ہوجاٶ “

سحر نے اب باقاعدہ سنی کو کندھوں سے پکڑ کر بٹھایا

اتنے میں مشال بھی فریش ہوکر آگٸ ایک نظر مسکرا کر سحر کو سنی کے لاڈ اٹھاتے دیکھا پھر آٸینے کے سامنے کھڑی ہوکر بال سنوارنے میں مصروف ہوگٸ

”چلو سنی اٹھ جاؤ فریش ہوکر آٶ سب آتے ہی ہونگے “

سحر نے سنی کے بال ہاتھ سے سنوارتے ہوۓ کہا

”اوکے آپی“

سنی خاموشی سے اپنے کپڑے لے کر واشروم کی طرف جا رہا تھا ایک نظر مشال کو دیکھا جو اسی کو دیکھ رہی تھی

سنی کو شرارت سوجی وہ مشال کو زبان چڑھاتا ہوا واشروم میں گھس گیا

سحر تو اپنی مسکراہٹ دباتی بیڈ سے اٹھ گٸ

”دیکھ لی اپنے بھاٸ کی حرکت اس کا تو پچپنہ ہی ختم نہیں ہوتا میرے گھر والوں کے سامنے بھی ایسے ہی حرکتیں کرے گا تو کیا جواب دوں گی میں ان کو “

مشال سحر کے سامنے کھڑی سنی کا غصہ نکال رہی تھی

”اچھا نہ تم پریشان نہیں ہو میں سمجھاٶں گی اس کو“

سحر نے مشال کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے دباؤ ڈالا

”ہاں مجھے معلوم ہے کیسا سمجاٶ گی اس کو تم جانتی ہو اس نے رات کو کیا حرکت کی ہے“

مشال کو رات والی بات یاد آٸ تو اس کا غصہ اور بڑھ گیا

”کیا کیا تھا“

اب تو سحر بھی سنجیدہ ہوگٸ تھی

”رات کو اس بدتمیز نے مجھے رونماٸ کا تحفہ نہیں دیا بلکہ مجھے دیکھا کر واپس اپنے پاس رکھ لیا“

مشال نے لہجے خفگی لیے جواب دیا

”کیا کیوں نہیں دیا اس نے تحفہ“

سحر نے حیرانگی سے کہا

”تم نے اس کو کیا تھا نہ دلہن کو رونماٸ کا تحفہ دینا “

مشال نے سوالیہ نظذوں سے سحر کو دیکھا

”ہاں کہا تھا “

اور پھر مشال نے رات کی ساری روداد سحر کو سنا ڈالی

سب سننے کے بعد سحر کے قہقے تھے اور مشال غصے والا چہرا

”تم پریشان نہیں ہو میں بولوں گی سنی کو وہ دے دے گا تمھیں وہ بریسلیٹ “

سحر نے اپنی ہنسی پر قابو کیا

”رہنے دو میں نے دیکھ لیا تھا رات اس نے الماری میں رکھا تھا وہ بریسلیٹ میں خود لے لوں گی“

مشال نے شریر سے انداز میں کہا پھر الماری کے پٹ وا کرکے سنی کے طے شدہ کپڑوں کے نیچے سے مخملی ڈبیا نکال کر اس میں سے بریسلیٹ نکال اپنے سیدھے ہاتھ کی کلاٸ میں سجا لیا

”واٶ یار مجھے تو یقین نہیں ہورہا سنی کی پسند اتنی اچھی ہے سچ میں بہت ہی خوبصورت ہے اور تمھاری نازک کلاٸ میں جج بھی رہا ہے “

سحر نے دل سے تعریف کی

”ہمم مجھے بھی بہت اچھا لگا“

مشال نے بھی بریسلیٹ پر انگلی پھیرتے ہوۓ مسکراتے ہوۓ جواب دیا

”اچھا اب تم تیار ہوجاٶ میں چاۓ چھڑادوں سب آنے والے ہونگے “

ٹھیک ہے سحر مسکراتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گٸ

مشال آٸینے کے سامنے کھڑی خود کو سنوارنے میں مصروف ہوگٸ

کچھ دیر میں سنی بھی تولیہ سے بال رگڑتا واشروم سے باہر نکل آیا

سنی بلیک شرٹ بیلو پینٹ میں نکھرا نکھرا سا بہت پیارا لگ رہا تھا ایک پل کے لیے تو مشال سنی کے سحر میں جکڑ گٸ

”ایسے کیا دیکھ رہی ہیں مجھے نظر لگاٸیں گی کیا “

سنی کی آواز پر مشال ہوش میں آٸ

”نہ نہیں کچھ نہیں “

مشال نے گھبرا کر نظروں کا زاویہ بدلہ

اپنے لمبے کھلے بالوں میں کیچر لگایا

سنی کی نظر جب مشال کی کلاٸ پر گٸ تو سنی نے جھٹ سے مشال کی کلاٸ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام لی

سنی کے ٹھنڈے ہاتھ کا لمس محسوس کرتے ہی مشال کا دل زور سے دھڑکا سنی کو بھیکچھ عجیب محسوس ہوا اس نے فوراً مشال کی کلاٸ اپنی گرفت سے آزاد کردی

”آپ نے بریسلیٹ کس سے پوچھ کر پہنا مجھے واپس کریں“

سنی نے مشال کے آگے ہتھیلی پھلاٸ

”لو “مشال نے سنی کی چوڑی ہتھیلی پر تالی ماری اور کھلکھلاتی ہوٸ روم سے ہی بھاگ گٸ

سنی کو جب ہوش آیا بہت دیر ہوچکی چڑیا کھیت چک چکی تھی سنی مٹھیاں بھینجتا بال سنوارنے میں لگ گیا

مشال بھاگی بھاگی کمرے سے باہر نکلی تو دروازے پر دستک ہورہی تھی

مشال کو معلوم تھا دروازے پر کون ہوگا وہ جلدی سے گٸ دروازہ کھول کرسامنے کھڑی اپنی ماں کے گلے لگ گٸ

”امی آپ آگٸیں میں کب سے ویٹ کررہی تھی“ مشال بچوں کی طرح نگحت بیگم کے گلے کا ہار بن گٸ

”واہ بھٸ میں تو سمجھ رہا تھا میری گڑیا نے سب سے زیادہ مجھے یاد کیا ہوگا لیکن یہاں تو امی سے جھپیاں ڈالی جارہی ہیں “

حیدر نے مسکراتے ہوۓ مشال کو اپنی موجودگی کا احساس دلایا

”ارے بھاٸ آپ کو بھی بہت مس کیا میں نے“ مشال مسکراتے ہوۓ حیدر کے سینے سے لگ گٸ

حیدر نے محبت سے مشال کے ماتھے پر بوسہ دیا

”مشال سب کو اندر تو آنے دو تم تو دروازے پر ہی شروع ہوگٸں “

سحر نے مشال کو میزبانی کے اداب یاد دلاۓ

”افف میں تو بھول ہی گٸ آٸیں نہ سب اندر“ مشال نے سر پر ہاتھ مارتے ہوۓ سب کو گھر میں آنے کی دعوت دی

”ابو نہیں آۓ “

مشال کو اب سفدر صاحب کی کمی محسوس ہوٸ تھی

”وہ ابو کی طبیعت ذرا ناساز تھی اس لیے نہیں آۓ وہ“

حیدر نے جواب دیا

سحر سب کو صوفے پر بٹھا کر ناشتہ لے کر کچن میں چلی گٸ تھی

” کیا ہوا ہے ابو کو “مشال افسردہ ہوتی حیدر کے پہلو میں بیٹھ گٸ

”میری گڑیا کتنی جلدی پریشان ہوجاتی ہے بھٸ کچھ نہیں ہوا ابو کو بس شادی کی تھکن زیادہ ہوگٸ تھی آرام کرے گے تو ٹھیک ہوجاٸیں گے“ حیدر نے محبت سے مشال کو اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ کہا

”اچھا ٹھیک ہے“

”سنی کہاں ہے بیٹا اس کو تو بلاٶ “نگحت بیگم کو داماد کی یاد آٸ

”اففف یہ لڑکا اتنی دیر سے تیار ہو رہا ہے اس کی تیاری ختم نہیں ہوتی“

مشال نے سر پکڑتے ہوۓ کہا

”مشال کتنی بری بات ہے شوہر کا ذکر ایسے کرتے ہیں یہ تربیت کی ہے میں نے تمھاری سنی چھوٹا ضرور ہے تم سے لیکن شوہر ہے وہ تمھارا ہر صورت تمھیں اس کی عزت کرنی ہے تمھیں اس کی سمجھی تم“

نگحت بیگم کو تو غصہ ہی آگیا تھا کیسے ان کی پڑھی لکھی بیٹی گنواروں کا سا برتاٶ کررہی رہی تھی

”سوری امی میں ابھی بلا کر لاتی ہوں ان کو“ مشال کو انتہا کی شرمندگی محسوس ہوٸ وہ منہ بسورتی اٹھ کھڑی ہوٸ

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم“

مشال اٹھی ہی تھی سنی کو بلانے کے لیے اتنے میں وہ خود ہی آگیا

مہزب انداز میں سب کو سلام کرتا صوفے پر ہی بیٹھ گیا

”وَعَلَيْكُم السَّلَام بیٹا کیسے ہو “

نگحت بیگم نے محبت سے اپنے خوبرو داماد سے پوچھا جو ان کو اس وقت کسی شہزادے سے کم نہ لگا

”آنٹی میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں“

سنی نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا

”آللہ کا شکر ہے بیٹا ٹھیک ہوں“

نگحت بیگم نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا

”آجاٸیں سب ناشتہ لگ گیا ہے “

سحر کی آواز پر سب ناشتے کے لیے چل دیے

خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا کچھ دیر بعد حیدر اور نگحت بیگم گھر روانہ ہوگۓ

”آپی اپنی دوست سے کہیں مجھے میرا بریسلیٹ واپس کریں “

مشال کے گھر والوں کے جاتے ہی سنی سحر کے سر پر پہنچ گیا بریسلیٹ کی واپسی کی فریاد لے کر

”کیوں دوں تمھیں بریسلیٹ تم پہنو گے کیا “

جواب سحر کے بجائے مشال کی طرف سے آیا

”میں کچھ بھی کروں مجھے دیں بریسلیٹ “

سنی نے خفگی سے کہا

”اففف چپ کرو تم دونوں“

سحر نے جھنجلاتے ہوۓ کہا

”سنی دیکھو تم بریسلیٹ لاۓ تو مشی کے لیے ہی تھے نہ تو بس اس نے لے لیا اب تم بڑے ہوگۓ ہو چھوڑ دو یہ بچوں والی حرکتیں“

سحر نے نرمی سے سمجھایا

”ٹھیک ہے آپی جیسا آپ کہیں.“

. ایک نظر مشال کی طرف ڈالی جو اب اسے بریسلیٹ دیکھا دیکھا کر چڑا رہی تھی

”ہنہ “سنی ھنگکارہ بھرتا ہوا کمرے میں چلا گیا

”مشال تم بھی بس کرو یار میرے بیچارے بھاٸ کو تنگ کرنا…“

سحر نے مشال کو آنکھیں دیکھاٸ

”اوکے اوکے نہیں کرتی تنگ..“. مشال نے ہاتھ کھڑے کیے اور مسکراتی ہوٸ صوفے پر بیٹھ گٸ

گلابی رنگ کی پاٶں کو چھوتی میکسی میں مشال بہت پیاری لگ رہی بلکل گڑیا جیسی نگحت بیگم کٸ بار اپنی لاڈلی بیٹی کی بلاۓ لے چکی تھیں

مشال کے پہلو میں بیٹھا سنی تھری پیس میں خوب جچ رہا تھا سفدر صاحب نگحت بیگم اپنی بیٹی کو خوش دیکھ کر اطمینان اور سکون محسوس کررہے تھے

لیکن حیدر اب بھی مطمئن نہیں لگ رہا تھا وہ اپنی بہن کے لیے ویل سیٹیلٹ شخص تلاش کر رہا تھا لیکن مشال کی پسند کے آگے حیدر کو گھٹنے ٹیکنے پڑے

سحر نے آج براٶن رنگ کا پلازو اور اس کے ساتھ شارٹ فراک پہنی تھی سحر بھی نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی

سحر آج بھی خود کو کسی کی نظروں کے حصار میں محسوس کیا لیکن نہیں جان پاٸ وہ کس کے دل میں دھڑکن بن کر دھڑکنے لگی ہے

”اچھا سحر بیٹا اب ہمیں اجازت دو کافی دیر ہوچکی ہے “

ولیمے کی تقریب کا اختتام ہوچکا تھا مہمان بھی گھر کو لوٹ گۓ تھے نگحت بیگم کو بھی گھر کی یاد آٸ

”جی جی آنٹی ضرور مشال بھی آپ لوگوں کے ساتھ جاۓ گی آپ اس کو بھی لے جاٸیں پھر جب آپ لوگ کہے گے سنی لینے آجاۓ گا “

سحر نے خوش دلی سے جواب دیا

”سنی دو دن بعد لینے آجانا “

مجھے مشال نے سب سے نظر بچا کر سنی کے کان میں سرگوشی کی

”کیوں“ ؟ سنی نے آٸبرو اچکاۓ مشال کو دیکھا

” جتنا کہا ہے اتنا کرو زیادہ سوال نہیں کرو“

مشال نے رعب سے کہا

”میں تو نہیں آٶں گا لینے جب آنٹی کہے گی جب ہی آٶں گا“

سنی کو مشال کا رعب جمانا بلکل نہیں بھایا

”مشال آجاٶ بیٹا“ نگحت بیگم نے آواز لگاٸ

مشال خاموشی سے سنی کو گھورتی ہوٸ اپنے گھر والوں کے ساتھ چلی گٸ

سنی اور سحر بھی گھر لوٹ آۓ

”امی میرے بالوں میں سے پینس بھی نکال دیں پلیز “

”اففف بیٹا خود بھی کچھ کرلو”

مشال جب سے آٸ تھی نگحت بیگم کو اپنے کاموں میں ہی لگایا ہوا تھا

اب آخر میں بالوں کی باری آٸ تھی

”امی نکال دیں بھٸ جلدی سے میں بہت تھک گٸ ہوں سونا چاہتی ہوں“

مشال سچ میں بہت تھک گٸ تھی اب شادی کے جھمیلے ختم ہوۓ تو مشال لمبی تان کے سونے کا منصوبہ بنا رہی تھی

”اچھا مشال یہ تو بتا سنی نے تمھیں رونماٸ میں کیا دیا“

نگحت بیگم نے مشال کے بال پینوں سے آزاد کرتے ہوۓ پوچھا

”یہ بریسلیٹ دیا ہے “

مشال نے چہکتے ہوۓ اپنی نازک کلاٸ نگحت بیگم کے سامنے کی

”ماشاءاللہ بہت خوبصورت ہے اللہ میری بچی کے نصیب اچھے کرے تمھارے چہرے سے کبھی مسراہٹ نہ جاۓ سنی اور تو ہمیشہ ساتھ رہو “ نگحت بیگم نے اپنی پیاری بیٹی کو ڈھیرو دعاٸیں دی