Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ladon Ka Pala Episode 4

Ladon Ka Pala by Misbah

*********************************************وہ کالی جینس کے اوپر پیشتہ رنگ کی شرٹ پہنے جیبوں میں ہاتھ ڈالے سیدھا مشال کے دل میں اتر رہا تھا

ہیلو مس کہاں کھو گٸیں آپ…. اس نوجوان نے مشال کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجاٸ

مشال ایکدم ہوش میں آٸ …

اپنی بے باکی پر جی بھر کر شرمندہ ہوٸ …

سوری وہ میں بھول گٸ تھی …مشال نے نظرے جھکا کر جواب دیا …

کیا بھول گٸیں میرے چہرے سے نظر ہٹانا یا مجھے کال کرنا….نوجوان نے شرارت سے پوچھا

جی کال کرنا… مشال نے چہرے پر آٸ لٹ کان کے پیچھے اڑس کر جواب دیا …

ہاہاہاہا اچھا چلیں کوٸ نہیں اگر آپ کو مجھ پر بھروسا ہے تو مجھے اپنا نمبر دیں میں آپ کو کال کرنا نہیں بھولوں گا ….

جی وہ میری دوست آجاۓ گی لوگ بھی دیکھ رہے ہیں پلیز آپ جاٸیں میں خود کال کرلوں گی آپ کو…. مشال نے اردگرد کا جاٸزہ لیتے ہوۓ جواب دیا …

پکا کریں گی کال بھولیں گی تو نہیں نہ …

جی جی میں کر لوں گی کال پلیز جاٸیں آپ… مشال نے پیچھے مڑ دیکھا جہاں سے سحر ابھی آفس بیلڈینگ سے باہر نکلی تھی …

اوکے خدا حافظ اینڈ یوں ٹیک کٸیر فار می…. وہ اپنے الفاظ کے سحر میں مشال کو ایک دفع پھر جکڑ چکا تھا …

مشال حیرت سے اسے جاتا دیکھ رہی کیسے وہ بنا کسی رشتے کے اپنا حق جتا گیا تھا..

مشی کی بچی تم نے ابھی تک رکشہ نہیں کیا وہ کون تھا جو ابھی گیا یہاں سے سحر نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا صرف

پشت دیکھی تھی…

وہ وہ وہ

ارے مشال کیا وہ وہ کررہی ہو بتاٶ کون تھا وہ… سحر نے جھنجلاتے ہوۓ پوچھا ….

وہ راہ گیر تھا کسی کا ایڈریس پوچھ رہا تھا میں نے کہہ دیا مجھے نہیں معلوم.. مشال نے جلدی سے بات بناٸ …

او اچھا چلو رکشہ دیکھتے ہیں…

کچھ دیر میں ان دونوں کو رکشہ مل گیا اور وہ دونوں گھر روانہ ہوگٸیں…

عاصم علوی تو یہ نام ہے صاحب بہادر کا …

مشال نے گھر لوٹ کر سب سے پہلے وہ کارڈ نکالا تھا جس کو وہ دراز میں بند کرکے فراموش ہی کرگٸ تھی …

مشال نے کارڈ میں سے عاصم کا نمبر اپنے موبائل میں محفوظ کیا پھر احتیاط سے کارڈ اپنی الماری کی دراز میں رکھ دیا …

عاصم کو رات کو کال کرنے کا سوچ کر وہ فریش ہونے چلی گٸ…

وہ رات کو سونے کے لیے لیٹی تو اس کی سماعتوں میں وہی سحر انگیز آواز گونجی …

” پکا کریں گی نہ کال بھولیں گی تو نہیں.. “

مشال کے ہونٹ خود بہ خود مسکراۓ…

مشال نے موبائل اٹھایا اس کو کال کرنا معیوب لگا اس نے کچھ سوچ کر ایک میسیچ لکھ کر عاصم کو بھیج دیا ..

اَلسَلامُ عَلَيْكُم میں مشال …

مشال کا میسیج موصول ہوتے ہی عاصم کے چہرے پر مکروہ سی مسکراہٹ آٸ …

مچھلی جال میں پھنس ہی گٸ …

سوری میں آپ کو پہچانا نہیں…. مشال کون… عاصم نے انجان بننے کی ایکٹینگ کی …

ارے میں تو بھول ہی گٸ میں نے تو اس کو اپنا نام نہیں بتایا تو وہ کیسے پہچانے گا…. مشال بڑبڑاٸ

وہ جو آپ نے مجھے کارڈ دیا تھا مجھے میں آپ کے ڈوگ کی دم پر چڑھ گٸ تھی… مشال نے دو دن پہلے کا واقع یاد دلایا ….

اوہ تو آپ کا سویٹ نیم مشال ہے بہت پیارا نیم ہے آٸ لاٸق اٹ…. عاصم کا میسیج پڑھ کر مشال کا دل خوشی سے جھوم اٹھا…

ویسے بہت ظالم ہیں انتظار کی مشکل راہوں سے گزارا ہے آپ نے مچھے میں کب سے آپ کے میسیج کا ویٹ کررہا تھا آپ کو اب یاد آٸ میری ….

مشال کو عاصم کا ایک اور میسیج موصول ہوا مشال کے چہرے سے مسکراہٹ جدا ہونے کا نام ہی لے رہی تھی ….

مشال جواب دینے ہی والی تھی کہ عاصم کی کال آنا شروع ہوگٸ …

مشال گھبرا گٸ مشال کے ہاتھ سے موبائل گرتے گرتے بچا وہ جلدی سے اٹھی روم لاک کیا اور کال اٹھاٸ …

اَلسَلامُ عَلَيْكُم… مشال نے سلام کیا …

وَعَلَيْكُم السَّلَام کیسی ہیں آپ مشال ….

عاصم کی زبان سے اپنا نام سن کر مشال کو اپنا نام اور خوبصورت لگنے لگا …

میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں ….

میں تو بلکل ٹھیک نہیں جب سے تمھیں دیکھا ہے دل تمھیں دیکھنے کو بے چین رہتا ہے اور ایک تم ہو جس کو میرے معصوم دل کا بلکل خیال نہیں… عاصم نے شکایتی انداز میں کہا ….

عاصم آپ سے تم پر آگیا اپنا دل کا حال مشال کے سامنے کھول کے رکھ دیا مشال کو حیرت ہوٸ اتنی جلدی اتنی بے تکلفی …

مشال آٸ ایم سوری برا لگا تو آپ کو میں بہت شرمندہ ہوں مجھ سے اپنے جذبات قابو نہیں رہتے یہ ہی ایک براٸ ہے مجھ میں… عاصم نے پھر معصوم بننے کی اداکاری کی…

ہاۓ کتنا اچھا ہے یہ سوری بھی کہہ رہا ہے جبکہ اس نے ایسا تو کچھ غلط نہیں کہا اپنے دل کا حال بیان کیا ہے …مشال نے دل میں سوچا ….

کیا مسلٸہ ہے اس لڑکی کے ساتھ بول کیوں نہیں رہی کچھ…. عاصم نے جھنجلاتے ہوۓ خود کلامی کی اور موبائل کو کان سے ہٹاکر گھورنے لگا…

پتا نہیں کتنے ترلے کرواۓ گی… عاصم نے بڑبڑاتے ہوۓ فون کان سے لگایا …

مشال اگر آپ بات نہیں کرنا چاہتی تو کوٸ بات نہیں ہم کل بات کرلے گے یا جیسا آپ کو ٹھیک لگے …

عاصم کی آواز پر مشال عاصم کی طرف متوجہ ہوٸ …

نہیں کچھ نہیں… آپ بتائيں کیا کرتے ہیں …

جی میں اپنے ڈیڈ کا بزنس سنبھالتا ہوں اور مجھے سنبھالنے والی کی بھی تلاش ختم ہوگٸ ہے میری… عاصم جانتا تھا لڑکیوں کے دل میں کیسے اترا جاتا ہے …

وہ اس وقت پورا مشال کے دل میں اتر چکا تھا …

مشال کافی دیر تک عاصم سے باتیں کرتی رہی پھر کل بات کرنے کا کہہ کر سوگٸ حلانکہ اس کو نیند بہت مشکل سے آٸ کیوں کہ وہ ابھی تک عاصم کی باتوں کے سحر میں جکڑی ہوٸ تھی …

تیرے ہی خواب دیکھوں میں

تجھے ہی ہر وقت سوچوں میں

اپنے یہ جذبات کیسے چھپاٶں میں

عاصم ایک بگڑا ہوا امیر زادہ تھا وہ امریکہ سے پڑھ کر کچھ مہینہ پہلے ہی لوٹا تھا امریکہ میں تو اس کی زندگی بہت آزاد تھی وہاں ہر روز ایک نٸ لڑکی اس کی بانہوں میں ہوتی تھی کلپ پارٹیز شراب اور شباب اس کے لیے عام تھیں لیکن اسے اپنے والدین کے خاطر واپس آنا پڑا جو اسے بڑے بھاٸ کے ساتھ بزنس میں ہاتھ بٹانے کا کہہ رہے تھے اسے بزنس میں کوٸ دلچسپی نہیں تھی لیکن اگر وہ واپس نہ آتا تو اس کا خرچا پانی بند ہوسکتا تھا اس لیے اسے مجبورن پاکستان واپس آنا پڑا یہاں آکر عاصم کو اپنی زندگی قیدی کی طرح لگی یہاں وہ کھلے عام لڑکیوں سے بات بھی نہیں کرسکتا تھا ان کے قریب جانا تو دور کی بات ہے… اسی بیچ عاصم کی نظر ڈری سہمی مشال پر پڑی معصوم سی مشال اس کو آسان شکار لگی اس نے سوچ لیا تھا وقت گزاری کا سامان تو ہوگیا…

اب وہ مشال کو اپنی باتوں میٹھے لہجے اور جھوٹی محبت کا یقین دلا رہا تھا جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوگیا تھا …

مشال نے دنیا کے مکروہ چہرے نہیں دیکھے تھے حیدر نے اپنی بہن کو ہر بری نظر سے بچا کررکھا تھا وہ بھولی بھالی مشال عاصم کے لیے بہت آسان شکار ثابت ہوٸ لیکن انجان تھی اپنی بربادی کے انجام سے….

مشال ہر روز عاصم سے بات کرتی وہ اپنی ایک نٸ خوابوں کی دنیا میں قدم رکھ چکی تھی عاصم کے ساتھ زندگی جینے کے خواب اپنی آنکھوں میں سجانے لگی تھی جو بہت جلد پاش پاش ہونے والے تھے

عاصم بہت دن سے مشال کے پیچھے لگا تھا کہ وہ اس سے ملنا چاہتا اکیلے میں کچھ خوبصورت پل اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتا ہے ….

دیکھتا تو وہ روز ہی تھا مشال کو آفس سے آتے جاتے لیکن اب اس کا صبر ختم ہوگیا تھا وہ کسی بھی طرح مشال کو پاکر اپنے اندر کی حوس کی آگ کو بھجانا چاہتا تھا …

عاصم کے ارادوں سے انجان عاصم کی محبت میں پگل کر اسے ملنے کا وعدہ کرچکی تھی ….