Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ladon Ka Pala Episode 3

Ladon Ka Pala by Misbah

وہ لڑکا کھڑا اس کو ہی دیکھ رہا تھا دونوں کی نظریں ملیں تھیں

مشال نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں وہ لڑکا بھی حجل ہوا تھا

روکی بس کرو اسے اس کے کیے کی سزا مل گٸ ہے اب یہ کسی راہ چلتی لڑکی کا پیچھا نہیں کرے گا کیوں سہی کہا نہ میں نے… لڑکے نے اس آدمی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا

میرے باپ کی طوبہ اب جو میں کبھی کسی لڑکی کو تنگ کروں تو …

وہ آدمی اب تو وہ زخمی آدمی ہوگیا ہے وہ اپنے کانوں کو پکڑتے ہوۓ بولا اور لنگڑاتے ہوۓ وہاں سے بھاگ گیا

تھینک یو سو مچ آپ نے میری مدد کی…مشال چہکتے ہوۓ بولی

کوٸ بات نہیں لیکن آپ کو گھر سے اکیلے نہیں نکلنا چاہیے تھا کسی کو ساتھ لے کر نکلا کریں

جی آپ سہی کہہ رہے اصل میں

میں جاب کرتی ہوں میری فرینڈ ہوتی ہے روز میرے ساتھ لیکن آج اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو وہ نہیں آٸ میں نے بھاٸ کو بھی کال کی تھی وہ بزی تھے انھوں نے ویٹ کرنے کی کہا تھا مجھے لیکن میں نے ضد کی میں بڑی ہوگٸ ہوں جاسکتی ہوں گھر اکیلے…. آخری بات مشال نے چہرا جھکا کر کہا کیونکہ اس کو اپنی ضد کی سزا مل گٸ تھی …

ہمم تو میڈم اب تو آپ کو نصحیت ہوگٸ ہوگی امید ہے آپ ایسی ضد اپنے بھاٸ سے پھر کبھی نہیں کرے گی …

نوجوان نے مسکراتے ہوۓ مشال سے سوال کیا …

بلکل اب میں اکیلے کہی جانے کی غلطی کبھی نہیں کروں گی… مشال نے نظریں جھکا کر جواب دیا

چلیں میں آپ کو گھر چھوڑ دوں …

ارے نہیں میں چلی جاؤں گی…

اچھا ٹھیک ہے آپ میرا یہ کارڈ رکھ لیں اس میں میرا نمبر ہے آپ گھر پہنچ جاٸیں تو مجھے انفارم کردینا ورنہ میں پریشان ہوتا رہوں گا… نوجوان نے مشال کی طرف اپنا وزیٹینگ کارڈ بڑھایا ..

اوکے خدا حافظ… مشال نے کارڈ لیا اور چپ چاب چلدی وہ اس لڑکے کی نظروں سے کنفیوز ہورہی تھی جو اس کسی انجانے احساس کی خبر دیں رہی تھیں…

ہمم روکی اچھی ہے نہ لڑکی… اس کے ساتھ کھیل کر بہت مزا آۓ گا ویسے بھی جب سے پاکستان آیا ہوں کوٸ شکار ہاتھ نہیں لگا… وہ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجاۓ روکی سے مخاطب تھا …

میری پیاری گڑیا آگٸ میں تمھیں ہی لینے آرہا تھا تمھیں کافی دیر ہوگٸ میں پریشان ہوگیاتھا مشال کے گھر میں داخل ہوتے ہی اس کا سامنا حیدر سے ہوا جو اسے لینے کے لیے ہی نکلنے والا تھا

بھاٸ بس ٹریقک میں پھنس گٸ تھی آپ کب آۓ گھر …مشال صوفے پر بیٹھتے ہوۓ گویا ہوٸ

میں بس پانچ منٹ پہلے آیا… امی نے بتایا تم ابھی تک نہیں آٸیں آفس سے تو تمھیں لینے ہی آرہا تھا حیدر نے محبت سے جواب دیا

آگٸ میری لاڈلی… نگحت بیگم کچن سے ہاتھ پونچتی ہوٸ باہر نکلیں …

جی امی بڑی زور کی بھوک لگی ہے پلیز کھانا لگاٸیں میں فریش ہوکر آتی ہوں.. حیدر بھاٸ آپ بھی فریش ہوکر آٸیں ہم ساتھ کھانا کھاتے ہیں …

جو میری گڑیا کا حکم میں ابھی فریش ہوکر آتا ہوں… حیدر نے چٹکی بجاتے ہوۓ جواب دیا

چلو پھر میں بھی کھانا لگاتی ہوں تمھارے ابو بھی آتے ہونگے… نگحت بیگم کچن میں مشال اور حیدر اپنے اپنے روم میں چلے گۓ…

کروں یا نہیں کال کرلیتی ہوں وہ پریشان ہورہا ہوگا ایک منٹ وہ کیوں پریشان ہوگا میرے لیے لیکن اس نے تو کہا تھا گھر پہنچ کر کال کرنا ورنہ میں پریشان ہوتا رہوں گا… مشال ہاتھ میں کارڈ لیے کب سے شش وپنج میں مبتلا تھی …

اس انجان شخص کو کال کرے نہ کرے کہی نہ کہی مشال کو بھی وہ بہت اچھا لگا اس کا بات کرنے کا نرم میٹھا انداز مشال کے دل کو بہت بھایا اس نے زندگی میں باپ اور بھاٸ کے بعد پہلی بار کسی مرد سے بات کی تھی جو اس کے لیے ایک ہی ملاقات میں خاص ہوگیا تھا ….

مشال بیٹا آجاٶ کھانا لگ گیا ہے… نگحت بیگم کی آواز پر مشال اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آٸ

جی امی آٸ… مشال نے کمرے سے ہی آواز لگاٸ پھر جلدی سے وہ کارڈ اپنے بیڈ کے ساٸیڈ ٹیبل کی دراز میں رکھا اور کمرے سے باہر آگٸ…

ارے یار میں تو اپنا موبائل آفس میں ہے بھول آٸ… سحر نے اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوۓ کہا …

اففف سحر تم بھی نہ یار اب میں نہیں جاؤں گی واپس اوپر چڑھ کر تم جاٶ لے کر آٶ میں یہی کھڑی ہوں… مشال نے تھکے ہوۓ انداز میں کہا …

اچھا تم رکشہ کرو میں لے کر آتی ہوں موبائل… سحر مشال کو ہدایت دیتی آفس بلڈینگ کے اندر چلی گٸ …

مشال رکشے کی تلاش میں روڈ پر کھڑی ہوگٸ …

میں نے انتظار کیا تھا کال کا…. مشال کو اپنے پیچھے وہی نرم میٹھا لب و لہجے والی مانوس سی آواز آٸ

مشال کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ نمودار ہوٸ …

آپ یہاں کیسے… مشال نے مسکراتے ہوۓ اس نوجوان سے سوال کیا جو اب اس کے مقابل آکھڑا ہوا تھا …