Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ladon Ka Pala Episode 15

Ladon Ka Pala by Misbah

آہ سنی بہت درد ہے اٹھا نہیں جاۓ گا

مشال فل اداکاری کرنے کے موڈ میں تھی

کچھ دن پہلے سنی مشال کو چیک اپ کے لیے لے کر گیا تھا تو ڈاکٹر نے ایک ہفتے کا وقت دیا تھا جب سے مشی سنی کو ایسے ہی تنگ کرتی تھی وہ بیچارہ اس کے لیے آدھی آدھی رات کو اٹھ کر بیٹھ جاتا تھا

مشی اٹھنے کی کوشش کریں ہاتھ پکڑیں میرا

سنی نے بیڈ پر بیٹھی مشال کی طرف ہاتھ بڑھایا

نہیں نہیں سنی بہت درد ہو رہا ہے کھڑے ہونے کی ہمت نہیں مجھ میں

مشی نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کراہتے ہوۓ کہا

سنی نے پریشانی سے اپنی پیشانی مسلی

مشال کی طرف دیکھا تو وہ چہرے پر درد کے تاثرات لیے سنی کو امید بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی

سنی بنا دیر کیے مشال کی طرف جھکا

لیکن سنی کا ارادہ سمجھ کر مشال نے سنی کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے وہی روک دیا

نہیں نہیں سنی میرا درد ٹھیک ہوگیا اب نہیں ہورہا

مشال نے اپنی بےقابوں دھڑکن سنبھالتے ہوۓ کہا

جو سنی کی قربت میں ضرورت سے زیادہ تیز ہوجاتی تھیں

ابھی تو ہورہا تھا درد آپ کو اتنی جلدی کیسے ٹھیک ہوگیا

سنی نے پر تجسس نظروں سے مشال کو دیکھا تھا

وہ وہ تھوڑا سا ہورہا تھا اب ٹھیک ہوگیا تم لیٹ جاٶ واپس اب ٹھیک ہوں میں

مشال نے سنی کی نظروں سے گھبراتے ہوۓ کہا

اوہ اچھا تھوڑا سا درد تھا ٹھیک ہوگیا

سنی مشال کی شرارت سمجھ گیا تھا اب چہرے پر سنجیدگی سجاۓ مشال کو تک رہا تھا

مشال جزبز سی ہوتی یہاں وہاں دیکھ رہی تھی

آہہہ سنی میرے بال

مشال سر پکڑے چلا رہی تھی

سنی مشال کے گھنے بال اپنی مٹھی میں جکڑے ہنس رہا تھا

اب ہوا درد اس کو کہتے ہیں درد مشی

سوری سوری اب درد کا نہیں بولوں گی جب سچ میں درد ہوگا تب بولوں گی

مشال کراہتی ہوٸ گویا ہوٸ تھی سنی کی مٹھی سے اپنے بال آزاد کروانے کی تکدو بھی جاری تھی

ہممم اب آٸیں نہ لاٸن پر اب خاموشی سے سوجاٸیں آواز نہیں آۓ مجھے آپ کی

سنی سخت لہجے میں گویا ہوا

مشال شکوہ کناہ نظر سنی پر ڈالتی لیٹ گٸ

سنی بھی مسکراتا ہوا لیٹ گیا

اگلے دن کا آغاز معمول کے مطابق ہوا تھا سحر حیدر آفس جا چکے تھے سنی یونی نگحت بیگم اور سفدر صاحب مشال کے ساتھ تھے

حیدر بھاٸ آرام سے چلاٸیں گاڑی ابھی ایکسیڈینڈ ہوجاتا ہمارا

سحر کی آواز پر حیدر ہوش میں آیا ان کا دو بار ایکسیڈینٹ ہوتے ہوتے بچا تھا

حیدر آج سحر سے اپنی محبت کا اظہار کرنے والا تھا وہ بار بار یہ ہی سوچ رہا تھا سحر انکار نہ کردے یہ نہ کہہ دے وہ بھاٸ سمجھتی ہے اس کو

حیدر کے دل و دماغ میں عجیب عجیب وسوسے جنم لے رہے تھے ہر تھوڑی دیر بعد وہ سحر کے بارے میں اس کی سوچوں کا مہور سحر ہوتی

روکیں گاڑی حیدر بھاٸ ہم آفس گۓ ہیں

حیدر کو گاڑی آگے لے جاتے دیکھ سحر نے حیدر کو ہوش دلایا تھا

ہاں ہاں روک دی حیدر نے گاڑی روکتے ہوۓ کہا

بھاٸی آج مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی آپ چھٹی کرلیتے

سحر نے افسردگی سے کہا

نہیں سحر میں ٹھیک ہوں بس کچھ سوچ رہا تھا چلو آفس چلتے ہیں

حیدر اپنے جزبات پر قابو رکھتا گویا ہوا تھا

پھر وہ دونوں آفس کی عمارت کے اندر داخل ہوگۓ تھے

کیا کچھ معلوم ہوا عاصم پیسے کس نے چوری کیے ہیں

شاہویز کے آفس میں چوری ہوگٸ تھی لیکن چور کا کوٸ سوراخ نہیں مل رہا تھا شاہ ویز سر پکڑ کر بیٹھا تھا

بھاٸی آپ پریشان نہ ہو پولیس تحقیقات کررہی ہے جلد چور ہماری گرفت میں ہوگا آپ روم میں جاکر آرام کریں

عاصم نے شاہ ویز کی پریشانی کم کرنے کی کوشش کی تھی

ٹھیک ہے میرے سر میں درد ہورہاہے میں روم میں جارہا ہوں جیسے ہی کچھ معلوم ہو مجھے بتانا

شاہ ویز پیشانی مسلتا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا

جی بھاٸی آپ آرام کریں

ہممم

شاہ ویز اپنے کمرے میں چلا گیا عاصم صوفے پر ہی ڈھے گیا وہ بھی تھک گیا تھا صبح سے بھاگ دوڑ کر کر کے

شاہ ویز کمرے میں جاکر لیٹ گیا

شاہ ویز کو آنکھیں موندے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ کچھ یاد آنے پر اپنی آنکھیں وا کرتا اٹھ بیٹھا

بیڈ سے اٹھ کر کچھ تلاش کرنے لگا مطلوبہ چیز ملتے ہی وہ اٹھا کر بیڈ پر آبیٹھا

شاہ ویز کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ تھا شاہ ویز نے ورکرز پر نظر رکھنے کے لیے اپنے آفس میں خفیہ کمرے لگواۓ ہوۓ تھے جس کی ساری ریکارڈینگ شاہ ویز اپنے لیپ ٹاپ پر دیکھتا تھا

وہ لیپ ٹاپ اپنے سامنے رکھے ایک دن پہلے کی ریکارڈینگ دیکھنے لگا

ریکارڈینگ دیکھنے کے بعد اس کو معلوم ہوگیا چور کون ہے

چور آفس کا چوکیدار تھا جو کچھ دن پہلے ہی نیا آیا تھا وہ بڑی صفاٸ سے بنا کوٸ ثبوت چھوڑے چوری کرکے چلاگیا تھا

شاہ ویز کے ماتھے پر بے شمار بل ابھرے تھے چہرے کے نقوش تن گۓ تھے

شاہ ویز نے کچھ اور ویڈیوز دیکھنی شروع کردیں کہی کچھ اور بھی چوری تو نہیں ہوا جس سے وہ بے خبر ہو

سب ویڈیوز دیکھتے شاہ ویز کی نظر ایک ویڈیو پر جم گٸ وہ ویڈیو بار بار دیکھ رہا تھا شاید یقین کرنے کی کوشش کررہا تھا اس کی آنکھیں پتھر کی ہوٸی تھیں جسم میں گرمی سی بھر گٸ تھی چہرے پر غصے کے سخت تاثرات نمایا تھے جبڑے بھیج گۓ تھے

سحر

جی بھاٸی

حیدر نے کار سحر کے گھر کے سامنے روکی تھی سحر کار کا دروازہ کھولنے ہی والی تھی حیدر کی پکار پر روک گٸ

وہ وہ مجھے تم سے نہ ایک ضروری بات کرنی ہے

حیدر کے ماتھے پر شبنم کی بوندیں نمودار ہوٸیں تھیں اتنا نروس وہ جاب انٹرویو کے وقت بھی نہیں تھا جتنا آج تھا

جی بھاٸی بولیں کیا بات کرنا چاہتے ہیں

سحر حیدر کی طرف پوری طرح رخ موڑ کر بیٹھ گٸ

ایک تو تم بھاٸ بولنا تو بند کرو حیدر جھنجلایا تھا

سوری سوری وہ بس منہ سے نکل گیا

سحر کو ڈرتے دیکھ حیدر نے جلدی سے معافی مانگی تھی

آپ کو جو کہنا ہے کہہ دیں اتنا گھبرا کیوں رہے ہیں ایسی بھی کیا بات کرنی ہے آپ کو مجھ سے

سحر نے ہمت کرکے بول ہی دیا صبح سے ہی سحر کو حیدر کے انداز پر تشویش ہورہی تھی

سحر دیکھو میں جو تم سے کہنا چاہتا ہوں اگر تمھیں وہ برا لگے تو پلیز مجھ سے لڑ لینا غصہ کرلینا لیکن پلیز دور نہیں ہونا میں برداشت نہیں کرپاٶں گا

ک کیا مطلب بھ۔۔

سحر کے آگے کچھ بولنے سے پہلے ہی حیدر نے اپنی ہتھیلی سحر کے ملاٸم ہونٹوں پر رکھ دی تھی

سحر حیرت ذدہ سی حیدر کو تک رہی تھی جس کی آنکھیں آج اس کے جذبات عیاں کررہیں تھیں

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد حیدر دوبارہ گویا ہوا

سحر جب تم میرے پاس پڑھنے آٸیں تھیں پندرہ سال کی عمر میں جب میں تمھیں اپنی چھوٹی بہن ہی سمجھتا تھا لیکن آہستہ آہستہ میرے جذبات تمھارے لیے بدلنے لگے تم مجھے اچھی لگنے لگیں تمھارے ہاتھ کا مزیدار حلوہ کھایا تو میں تمھیں پسند کرنے لگا شاید تمھارے حلوے میں کوٸ جادوں تھا جو سیدھا میرے دل پر جاکر لگا

حیدر ہلکا سا مسکرایا سحر کے لب بھی پھیلے تھے

پھر جب تمھیں اس لڑکے کو پیٹتے ہوۓ دیکھا مجھے تم سے محبت ہوگٸ

مجھے تمھارے جیسی بہادر لڑکی ہی چاہیے تھی جو ہر وقت میری محتاج نہ رہے اپنی حفاظت کرنا جانتی ہو اس کے علاوہ زندگی میں بھی میرے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے تم بلکل ویسی ہی ہو جیسے میں چاہتا تھا

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میری محبت نے عشق کی شکل اختیار کرلی سحر میں تم سے عشق کرتا ہوں میں تم سے یہ نہیں کہتا مجھ سے محبت کرو میں صرف چاہتا ہوں تم میری ہوجاٶ تاکہ تمھاری طرف اٹھنے والے غلط ہاتھ کو میں حق سے توڑ سکوں میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں اور نکاح کے دو بول میں اتنی کشش ضرور ہوتی ہے تمھیں مجھ سے خود ہی محبت ہوجاۓ گی اب میں تمھارے فیصلے کا منتظر ہوں جو تم کہو گی وہ میرے سر آنکھوں پر کوٸ زبردستی نہیں ہے تمھارے ساتھ

بس فیصلہ لیتے ہوۓ میرے اس نازک دل کا خیال رکھنا

حیدر اپنے دل کے مقام پر انگلی رکھ کر بولا تھا

حیدر کے انکشافات پر سحر ششدر رہ گٸ تھی سحر کو جانے کیوں حیدر پر غصہ نہیں آیا تھا وہ اپنے جذبات سمجھ نہیں پارہی تھی وہ خاموش بیٹھی اپنے اندر ہی ایک جنگ لڑ رہی تھی

سحر میں جانتا ہوں یہ سب تمھارے لیے اتنا آسان نہیں تم جتنا وقت چاہتی ہو لے لو اچھی طرح سوچ لو مجھے کوٸی جلدی نہیں تم جا سکتی ہو

حیدر نے سحر کی خاموشی کا مطلب سمجھ لیا تھا اسی لیے اس کو آرام سے سوچنے کا کہہ کر جانے کو کہہ دیا

سحر بنا کچھ کہے سر جھکاۓ کار کا دروازہ کھول کر باہر نگل گٸ

گھر میں داخل ہوتے ہی اس کا سامنا مشال سے ہوا

آگٸیں تم میں کب سے انتظار کررہی تھی تمھارا آج دیر ہوگٸ تمھیں آنے میں کیا زیادہ کام تھا آفس میں

سحر کو دیکھتے ہی مشال نے سوال شروع کردیے تھے

اففف مشال آٸی ہوں میں ابھی بیٹھنے تو دو سحر زچ ہوگٸ تھی

اچھا سوری تم فریش ہوکر آٶ میں اچھی سی چاۓ بناتی ہوں پھر دونوں بیٹھ کر باتیں کرے گے

حیدر نے مشال کو پہلے ہی بتادیا تھا وہ آج سحر سے اظہار محبت کرے گا اس لیے مشال اتنے سوال جواب کررہی تھی سحر سے

سحر اثبات میں سر ہلاتی کمرے میں چلی گٸ مشال نے بھی کچن کی راہ لی

آگیا میرا بیٹا

حیدر کو گھر میں داخل ہوتا دیکھ نگحت بیگم مسکراتی ہوٸیں گویا ہوٸی تھیں

جی امی

حیدر تھکا ہارا سا ماں کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تھا

کیا ہوا میرا بیٹا آج زیادہ تھک گیا ہے

نگحت بیگم نے حیدر کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ استفسار کیا

امی آج میں نے سحر کو اپنے دل کی بات بتادی ہے میں نے بتا دیا اس کو میں کتنی محبت کرتا ہوں اس سے

کیا جواب دیا سحر نے

نگحت بیگم نے تجسس سے پوچھا

ابھی نہیں دیا اس نے جواب میں نے اس کو سوچنے کے لیے وقت دیا ہے

اس نے تم پر غصہ تو نہیں کیا نہ ناراض تو نہیں ہوٸ تم سے

نہیں امی وہ بلکل غصہ نہیں ہوٸ نہ ناراض ہوٸ

بس خاموش تھی

ہمممم ان شاء اللہ میرے بیٹے کے حق میں ہی فیصلہ کرے گی وہ

نگحت بیگم نے حیدر کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا

جی امی ان شاء اللہ حیدر بھی مسکرایا تھا

تم اتنی خاموش کیوں ہو کیا کوٸی بات ہوٸی ہے

مشال نے چاۓ کا کپ ہونٹوں سے لگاتے ہوۓ استفسار کیا

مشی مجھے معلوم ہے تم سب جانتی ہو تم مجھے یہ بتاٶ کب سے معلوم ہے تمھیں یہ سب

سحر نے الٹا مشی سے ہی سوال کرڈالا

وہ اس دن حیدر بھاٸی حلوہ کھانے آۓ تھے نہ تب بتایا تھا انھوں نے مجھے

مشال نے صاف گوٸ سے کام لیا

ہمممم سحر دوبارہ خاموش ہوگٸ

سحر تم بھاٸی کو انکار تو نہیں کر آٸیں کہیں

مشال نے خدشہ ظاہر کیا

نہیں انکار نہیں کیا وقت دیا ہے انھوں نے مجھے سوچنے کا

اففف شکر میں تو ڈر ہی گٸ تھی

مشال نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا

سحر بتاٶ تم نے کیا سوچا ہے تم بھاٸی کو بچپن سے جانتی ہو ان کی زندگی میں تمھارے علاوہ کبھی کوٸ لڑکی نہیں آٸی نہ ہی انھوں نے آنے کی اجازت دی تمھارے انتظار میں آج تک کنوارے بیٹھیں ہیں وہ

پلیز تم دل مت توڑنا میرے بھاٸی کا وہ بہت محبت کرتے ہیں تم سے

مشال اپنے بھاٸ کے حق میں بولتی بولتی سحر سے سے التجا کرنے لگی تھی

مشال تم جذباتی نہ ہو وہ اچھے ہیں میں جب سے ان کے ساتھ آفس جانے لگی ہوں میرے دل میں بھی ان کے لیے جذبات پنپنے لگے ہیں میں آدھا دن ان کے ساتھ گزارتی ہوں وہ میرا آدھا دن خوشگوار بنا دیتے ہیں ساۓ کی طرح میرے ساتھ رہتے ہیں کسی کی ہمت نہیں ہوتی مجھے آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی اور سب سے بڑی بات میں کتنا بھی منع کرلوں کھانا کھلاۓ بغیر بخشتے نہیں ہیں مجھے

آخری بات پر سحر مسکراٸ تھی

تو میڈم یعنی میرے بھاٸی کے حق میں فیصلہ سنانے والی ہیں

مشال چہکتی ہوٸ گویا ہوٸی تھی

لیکن وہ نکاح کے کہہ رہے ہیں تم جانتی ہو میں نہیں کرسکتی ابھی شادی سنی کو ضرورت ہے میری

سحر نے عزر بیان کیا تھا

پاگل لڑکی شادی اور نکاح میں فرق ہوتا ہے

وہ تم سے صرف نکاح کرنا چاہتے ہیں رخصتی نہیں چاہتے وہ جب ہوگی جب تم چاہو گی

مشال نے سحر کی غلط فہمی دور کی

تو اب کیا سوچا ہے تم نے

مشال دوبارہ گویا ہوٸی

تم سنی سے بات کرلو جو اس کا فیصلہ ہوگا وہی میرا فیصلہ ہوگا

سحر کے چہرے پر شرمگی مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا

ہاۓ میری دوست شرما گٸ

مشال سحر کے کندھے سے کندھا ٹکراتی بولی تھی

سحر دل سے مسکراٸی تھی

سنی وہ۔۔۔

مشی میں یونی کا کام کررہا ہوں براۓ مہربانی اپنا مذاق کسی اور دن کے لیے اٹھا کر رکھ دیں

مشال کی بات سنے بغیر ہی سنی نے اپنی کہہ سناٸی

سنی میں مذاق نہیں کرنے والی تھی میں تو ایک سنجیدہ موضوع پر تم سے گفتگو کرنا چاہتی تھی

مشال نے منہ پھلا کر سنی کو آگاہ کیا

اور وہ موضوع کیا ہے

سنی نے مشال کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا

سحر اور حیدر بھاٸی

مشال نے آہستہ سے کہا

کیا بات کرنی ہے آپ کو آپی اور حیدر بھاٸی کے متعلق سنی کتاب بند کرتا پوری طرح مشال کی طرف متوجہ ہوا

ہممم تو سنو ۔۔۔۔۔مشال نے سنی کو حیدر کی محبت سے لے کر سحر کے سامنے اظہار محبت تک کی ساری کہانی سنا دی

آپی کا کیا فیصلہ ہے سنی سنجیدہ تھا

وہ کہہ رہی ہے جو سنی فیصلہ کرے گا وہی اس کا فیصلہ ہوگا

مشال نے سحر کی کہی بات سنی کو بتاٸی

مشی آپ بتاٸیں آپی حیدر بھاٸی کے بارے میں کیا سوچتی ہیں

سنی جہاں تک مجھے اندازہ ہے وہ راضی ہے صرف تمھاری رضامندی کا انتظار ہے

ہممم ٹھیک ہے کل میں خود آپی سے بات کروں گا پھر فیصلہ کروں گا

ٹھیک ہے جیسے تمھاری مرضی لیکن تمھارا فیصلہ میرے بھاٸی کے حق میں ہونا چاہیے نہیں تو میں تمھیں گنجا کردوں گی

مشال نے لطیف سا جملہ کہا

مجھے گنجا کریں گیں آپ میں آپ کو اندھا کردوں گا سنی نے بھی دوبدو جواب دیا

اچھا میں تمھیں لنگڑا کردوں گی

اچھا پھر آٸسکریم پیزا کس کے ساتھ کھانے جاٸیں گی سنی نے مشال کو لالج دی

ارے ہاں چلو لنگڑا نہیں کرتی تمھیں گھونگا کردیتے ہیں

مشال نے پر سوچ انداز میں جواب دیا

مشی میں آپ کو سلامت اچھا نہیں لگتا

سنی نے افسوس سے کہا

تم تو ہر روپ میں اچھے لگتے ہو مشال نے سنی کے دونوں رخسار کھینچ لیے

مشییی یار یہ حرکت نہیں کیا کریں

سنی خفگی سے گویا ہوا

اس کے بعد دونوں نوک جونک کرتے کرتے سوگۓ

سحر کی ساری رات آنکھوں میں گزری وہ ساری رات اپنے اور حیدر کے بارے میں سوچتی رہی

کیا حیدر ہی وہ شخص ہے جو اس کے لیے بنا ہے یا یہ بھی شاہ ویز کی طرح مجھ سے دور ہوجاۓ گا

سحر کی آنکھیں نم ہوگٸیں تھیں

دوسرے دن اتوار ہونے کے باعث چھٹی تھی سب ہی معمول سے ذرا دیر سے بیدار ہوۓ تھے

ناشتے کے بعد مشال کام میں لگ گٸ تھی سنی سحر کے پاس بیٹھ گیا تھا تاکہ اس سے بات کر سکے

آپی گھوما پھرا کر بات نہیں کروں گا سیدھا مدعے کی بات کروں گا آپ کا کیا فیصلہ ہے حیدر بھاٸی کے بارے میں

سنی سنجیدگی سے گویا ہوا

سنی تمھارا جو فیصلہ ہوگا وہی میرا ہوگا

سنی تھا تو سحر سے چھوٹا لیکن اس کے بابا کے بعد سنی ہی اس کا محافظ تھا وہ سنی کو بڑے بھاٸیوں جیسا مان دیتی تھی

آپی میری زندگی کا فیصلہ آپ نے کیا تھا میں خوش ہوں مشی کے ساتھ خوشگوار زندگی بسر کررہا ہوں اس لیے میں یہ فیصلہ بھی آپ کے سپرد کرتا ہوں جو آپ کا فیصلہ ہوگا وہی میرا ہوگا

سنی اگر میرا فیصلہ ان کے حق میں ہو تو

سحر نے نظریں جھکا کر کہا

تو مجھے خوشی ہوگی آپی کیونکہ حیدر بھاٸی میں کوٸی کمی نہیں جب وہ مجھے اتنی خامیوں سمیت اپنی بہن کے لیے قبول کرسکتے ہیں تو پھر میں کیوں ان کو بہتر نہ سمجھوں اپنی بہن کے لیے

سنی نے شرارتی انداز اپنایا

کوٸی خامی نہیں اتنا لاٸق اور محنتی ہے میرا بھاٸی

سحر نے محبت سے سنی کی پیشانی چومی تھی

مجھ سے پوچھوں اس سادھے لوح انسان میں کتنی خامیاں ہیں شادی کے تقاضوں تک کا تو علم ہے نہیں جناب کو

مشی پہلی بات اونچی آواز میں کہتی دوسری دل میں کہتی صوفے پر براجمان ہوگٸ تھی

کیا خامی ہے میرے بھاٸی میں بتانا ذرا

سحر نے ماتھے پر بل سجاۓ مشال سے استفسار کیا

آپی رہنے دیں ان کو تو میں ویسے ہی اچھا نہیں لگتا رات کو بھی گنجا لنگڑا بہرا بنانے پر تلی تھی مجھے

سنی نے شکایتی انداز میں کہا

سب سے بڑی خامی تو یہ ہی ہے اس میں حد سے زیادہ سیدھا ہے

مشال نے دانت کچکچاتے ہوۓ کہا

سیدھا ہوں تو کیا ٹیڑھا ہوجاٶں کُرکُرے کی طرح

سنی نے مشال کو پاپڑ کا نام لے کر چڑھایا

مشال سنی کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی

اب کیا مجھے کھاٸیں گیں ناشتے سے پیٹ نہیں بھرا آپ کا بھوکی

سنی نے مشال کو دوبارہ زچ کیا

سحر بیٹھی ان دونوں کی نوک جونک انجواۓ کررہی تھی

آہہہہ سنی آہہہ بہت درد ہورہا ہے

مشال ایک دم سے ہی پیٹ پکڑ کر چیخنے لگ گٸ تھی

سنی ہڑبڑا کر صوفے سے کھڑا ہوگیا

مشی کیا ہوا زیادہ درد ہورہا ہے

سنی مشال کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا

مشال نے موقع ملتے ہی سنی کے بال پکڑ لیے

میرا مزاق اڑا رہے تھے نہ تم اب اڑاٶ

آہہہ مشی جنگلی بلی چھوڑے میرے بال

سنی چلایا تھا

مشی چھوڑوں کیا کررہی ہو

سحر بھی مشال کے ہاتھوں سے سنی کے بال آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی

اسی اثنا میں دروازے پر دستک ہوٸی

سحر ان دونوں کو ان کے حال پر چھوڑتی دروازہ کھولنے چلی گٸ

دروازے پر موجود نفوس کو دیکھ کر سحر کی مسکراہٹ گھیری ہوٸی

اَلسَلامُ عَلَيْكُم

آنکل آنٹی اندر آٸیں

بیٹا یہ گھر میں شور کیسا سنی کیوں چیخ رہا ہے

نگحت بیگم دل پر ہاتھ رکھتی گھبراتی ہوٸی گویا ہوٸیں

آپ خود دیکھ لیں آنٹی

سحر کہہ کر آگے بڑھ گٸ

نگحت بیگم سفدر صاحب بھی نہ سمجھی سے سحر کے پیچھے چل دٸیے

لاٶنج کا منظر دیکھ کر سفدر صاحب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

نگحت بیگم کے ماتھے پر لاتعداد بل نمودار ہوۓ تھے ان کا پارہ سو سے تجاوز کرگیا تھا

مشال چھوڑوں سنی کے بال نگحت بیگم مشال کے سر پر جاکھڑی ہوٸیں ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے سنی کے بال آزاد کرواۓ

سنی جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا

مشال ہکدک ماں کو دیکھ رہی تھی اب اس کو کوٸی نہیں بچا سکتا تھا نگحت بیگم کے عتاب سے وہ موقع واردات پر پگڑی گٸ تھی

سحر کو اپنے کمرے میں موباٸل کی آواز آٸی تو اتنا اچھا سین چھوڑ کر وہ منہ بناتی کمرے میں چلی گٸ

شرم آتی ہے تمھیں عقل نام کی کوٸی چیز ہے تم میں گھوڑی کی گھوڑی ہورہی ہو عقل گھٹنوں میں ہے تمھاری اس طرح کرتے ہیں شوہر کے ساتھ وہ تم سے چھوٹا ہے تو کیا مطلب ہے اس کا تم ہاتھ اٹھاٶ گی اس پر بال نوچوں گی اس کے

مشال نے امید بھری نظروں سے سنی کو دیکھا

سنی بےنیازی سے کندھے اچکا گیا

پھر اپنے باپ کو دیکھا

جو اسے خاموش رہنے کا اشارہ کررہے تھے

سب کی بے روخی دیکھ کر مشال کے آنکھوں میں آنسوں بھر آۓ

وہ سوں سوں کرتی رونا اسٹارٹ ہوچکی تھی

رو کس بات کے لیے رہی ہو مارا ہے میں نے تمھیں جیسے تم اپنے شوہر کو مار رہی تھیں

نگحت بیگم نے مشال کو طعنہ بھی دے ڈالا

آنٹی پلیز نہیں ڈانٹیں ان کو ہم تو بس مزاق کررہے تھے

سنی کو مشال پر ترس آہی گیا

ہاں چھوڑدوں نگحت بچے ہیں آپس میں مزاق کررہے ہوگے

سفدر صاحب بھی بول اٹھے

ارے ایسے کیسے مزاق کہ شوہر کے بال ہی نوچ ڈالے

نگحت بیگم مشال کو گھورتے گویا ہوٸیں

آنٹی ہم مزاق ہی کررہے تھے آپ اتنا غصہ کیوں ہورہی ہیں یہاں بیٹھیں آرام سے

سنی غصے سے کھولتی نگحت بیگم کو بازوٶں سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا

مشی جاٸیں آنٹی آنکل کے لیے کھانے کا انتظام کریں

مشال سنی پر شکوہ کناہ نظر ڈالتی آنسوں پونچتی کچن میں چلی گٸ

موباٸل پر حیدر کا نام چگمگاتا دیکھ کر سحر کی دل دھڑکن تیز ہوگٸ

اس نے شرماتے ہوۓ کال اٹینڈ کرکے موباٸل کان سے لگایا

سحر یار میں نے امی ابو کو بہت روکا لیکن انہوں نے نہیں سنی میری میں تمھارے جواب کا انتظار کررہا تھا پر امی ابو کو بہت جلدی تھی وہ تمھارے گھر آرہے ہیں تمھارا ہاتھ مانگنے

فون سے حیدر کی پریشان سی آواز ابھری

آنے دیں میں انھی کو اپنا فیصلہ سنا دوں گیں

اتنا کہہ کر سحر نے کال منقطعہ کردی

حیدر موباٸل کو تکتا رہ گیا

سحر کمرے سے باہر آکر سب کے ساتھ بیٹھ گٸ تھوڑی بات چیت کے بعد کچن میں مشال کی مدد کے لیے چلی گٸ

کچھ ہی دیر میں وہ دونوں ہاتھوں میں لوازمات کی ٹرے لے کر لاٶنج میں نمودار ہوٸیں صوفوں کے درمیان رکھی ٹیبل پر سلیقے سے لوازمات سجا دیے

سب کچھ رکھ کر وہ دونوں بھی سب کے ساتھ بیٹھ گٸیں

سنی بیٹا ہم تم سے ایک ضروری بات کرنے آٸیں ہیں

نگحت بیگم نے بات کا آغاز کیا

آنٹی میں جانتا ہوں آپ کیا بات کرنے آٸی ہیں مشی مجھے سب بتا چکی ہیں مجھے کوٸ اعتراز نہیں اس رشتے سے حیدر بھاٸی سے بہتر کوٸی ہو ہی نہیں سکتا میری بہن کے لیے

سنی نے مان سے کہا

تو پھر بیٹا نکاح کی تاریخ بھی دے دو رخصتی جب بچے چاہیں گے ہوجاۓ گی

سفدر صاحب نے بھی اپنا حصہ ڈالا

ہمارے بڑے آپ ہی ہیں انکل آنٹی جو تاریخ آپ کو مناسب لگے وہ ہی رکھ دیں

تو ٹھیک ہے بھٸ یہ اہم فریضہ کل شام کو ہی سر انجام دے دیتے ہیں

نگحت بیگم خوشی سے پھولی نہیں سمارہی تھیں

ٹھیک ہے جیسا آپ کو مناسب لگے سنی نے بھی باخوشی اجازت دی

سحر بیٹا میرے پاس آٶ

نگحت بیگم نے سر جھکاۓ بیٹھی سحر کو مخاطب کیا

سحر خاموشی سے اٹھ کر نگحت بیگم کے پہلو میں براجمان ہوگٸ

نگحت بیگم نے پرس سے نازک سی سونے کی انگھوٹی نکال کر سحر کی انگلی میں سجا دی

بیٹا یہ ہماری خاندانی انگھوٹھی ہے میری ساس نے مجھے دی تھی اور میں تمھیں دے رہی ہوں

نگحت بیگم نے مسکراتے ہوۓ سحر کا ماتھا چوما اور اسے اپنے ساتھ لگا لیا

عاصم ابھی بھی آنکھیں موندے صوفے پر بیٹھا سستا رہا تھا اپنے چہرے پر پڑنے والے مکے سے ہوش میں آیا

جیسے ہی اس نے آنکھیں وا کیں شاہ ویز خون آشام نظروں سے اس کو دیکھ رہا تھا

عاصم کو بنا موقع دیے شاہ ویز نے عاصم کو گریبان پکڑ اٹھایا ساتھ ہی ایک اور مکہ بھی جڑ دیا

ذلیل گھٹیا انسان تمھیں یہ سب کرتے ذرا شرم نہیں آٸی

شاہ ویز ںے ایک مکہ اور رسید کیا

بھا بھاٸی کی کیا ہوا ہے کو کچھ ب بتاٸیں تو صحیح

عاصم سے درد کی وجہ سے الفاظ بھی ادا نہیں کیے جارہے تھے

کتنی لڑکیوں کی زندگی برباد کی ہے تم نے اور مجھ سے پوچھتے ہو کیا ہوا ہے

شاہ ویز نے دوبارہ اس پر مکوں لاتوں کی برسات شروع کردی

ہاۓ میرے اللہ یہ تم دونوں کیا کررہے ہو شاہ ویز چھوڑوں عاصم کو کیا کررہے ہو

شور کی آواز سن کر عاصم کے ماں باپ بھی آگۓ تھے وہ شاہ ویز کے ہاتھوں سے عاصم کو چھوڑ وانے کی کوشش کررہے تھے

چھوڑوں تم پاگل ہوگۓ ہو

عاصم کے والد نے پورا زور لگا کر شاہ ویز کی گرفت سے عاصم کو نکال کر اپنے پیچھے کیا تھا

شاہ ویز ہوش میں آٶ کیوں مار رہے ہو چھوٹا بھاٸی ہے تمھارا یہ ایسا سلوک کرتا ہے کوٸی اپنے بھاٸی کے ساتھ

سلمان صاحب دھاڑے تھے

چاچو پوچھیں اس غلیظ سے کتنی لڑکیوں کی زندگی خراب کی ہے اس نے پوچھیں اس سے چاچو پوچھیں

غصے کی ذیادتی سے شاہ ویز کا چہرا سرخ ہوگیا تھا دماغ کی رگیں پھول گٸیں تھیں

یہ کیا کہہ رہے ہو بھاٸی آپ کو کوٸی غلط فہمی ہوٸی ہے

عاصم سلمان صاحب کے پیچھے چھپا بڑبڑایا

دیکھاٶں ابھی ثبوت جو تو نے اس معصوم حنا کے ساتھ کیا ریکارڈینگ ہے میرے پاس پوری اسی وجہ سے وہ آفس نہیں آرہی تھی بیچاری ناجانے اس رات گھر کیسے پہنچی ہوگی اس کے گھر والوں نے کیا سلوک کیا ہوگا اس کے ساتھ

شاہ ویز کے دل میں حنا کے لیے صہمدردی کے جذبات سر اٹھاۓ کھڑے تھے

عاصم مجھے بتاٶ شاہ ویز جو کہہ رہا ہے وہ سچ ہے یا جھوٹ

سلمان صاحب نے اپنی پشت سے عاصم کو نکال کر اپنے سامنے کھڑا کیا تھا

ان سب کے درمیان سیما بیگم خاموش تماشاٸی بنی تھیں شاہ ویز کے انکشاف پر آنسوٶں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا تھا

عاصم مجرموں کی طرح سلمان صاحب کے سامنےسر جھکاۓ کھڑا تھا

ناہنجار

سلمان صاحب کا ہاتھ اٹھا تھا اس کے بعد اٹھتا ہی چلا گیا تھا

تمھاری ہر خواہش پوری کی تمھیں ہر طرح کی آزادی دی ہم نے ہمیں بھروسا تھا تم پر تم نے یہ سب کرکے ہمارا سر شرم سے جھکا دیا عاصم تم چیسی بولاد سے تو ہم بے اولاد رہتے

شکر کرو تمھاری بہن نہیں ورنہ اکثر بھاٸیوں کا کیا بہنوں کو بھگتنا پڑتا ہے ذلیل انسان دور ہوجاٶ میری نظروں کے سامنے سے

سلمان صاحب جب اس کو مار مار کے بے حال ہوگۓ تو عاصم کی طرف سے رخ موڑ گۓ

عاصم خاموش کھڑا تھا اس میں کسی سے نظریں ملانے تک کی ہمت نہ رہی تھی آج اس کو احساس ہورہا تھا مشال اور حنا جیسی لڑکیوں کی بے بسی کا کیسے بھیک مانگی تھی انہوں نے اپنی عزتوں کی لیکن عاصم تو شیطان کو بھی مات دے چکا تھا

ایک منٹ ایک منٹ تم نے کہی سحر کے ساتھ بھی تو

نہیں اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا

شاہ ویز کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی عاصم نے جواب دے دیا تھا

تو کیا مفاد تھا تمھارا سحر کو مجھ سے دور کرنے کے پیچھے مجھے یقین ہے تم نے جو اس دن کہا تھا وہ جھوٹ تھا ہے نا

شاہ ویز نے عاصم کا گریبان پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا تھا

سحر کی بھابھی مشال کے ساتھ زیادتی کی تھی میں نے وہ بچہ سنی کا نہیں میرا ہے

آج عاصم کی پکڑ ہوگٸ تھی اس کو کچھ بھی چھپانا بے معنی لگ رہا تھا اسی لیے ایک ایک کرکے شاہ ویز کو اپنے ہر جرم کی داستان سناتا گیا

مشال سے ملاقات سے لے کر شاہ ویز کی منگنی ٹوٹنے تک کی

عاصم تم کسی قسم کے مرد ہو تم نے میری محبت مجھ سے دور کردی بہت محبت کرتا تھا میں اس سے آج بھی کرتا ہوں تم نے تو مجھے اس قابل بھی نہیں چھوڑا میں اس سے معافی مانگ آٶں ارے تم سے اچھا تو وہ سنی ہے کم عمر ہے لیکن اس کا ظرف ہم دونوں سے بھی بڑا ہے اپنے سے بڑی عمر کی لڑکی سے شادی کی اس کے ناجاٸز بچے کو اپنایا میں نے خود اس کے آنکھوں میں مشال کے لیے جتنی عزت اور محبت دیکھی ہے تم سوچ بھی نہیں سکتے

عاصم تم جیسے مردوں کی تو مردانگی چھین لینی چاہیے تم سے اور میں لعنت ہے مجھ پر جو میں نے بنا تصدیق کیے تمھاری باتوں پر یقین کیا اس پاک دامن لڑکی کو اتنا غلط سمجھا

عاصم تم نے مجھے برباد کردیا برباد کردیا

شاہ ویز نڈھال سا صوفے پر بیٹھ گیا

عاصم تم نے ان معصوم بے ظرر سی لڑکیوں کے ساتھ نہیں کیا یہ سب بللکہ اپنی ماں کی تربیت کا مزاق بنایا ہے چلے چاٶ میری نظروں کے سامنے سے چلے جاٶ آج سے میرا بس ایک ہی بیٹا ہے شاہ ویز عاصم تم مر گۓ آج سے میرے لیے مر گۓ

سیما بیگم روتی ہوٸیں اپنے کمرے میں چلی گٸیں سلمان صاحب بھی پہلے ہی جاچکے تھے

عاصم اپنا زخمی وجود گھسیٹتا گھر سے باہر نکل گیا

ضبط کے مارے شاہ ویز کی آنکھیں جلنے لگی تھیں اس میں مزید برداشت کی سکت نہیں تھیں اس کی آنکھیں جھلک پڑی تھی وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کے رو دیا تھا

سحر سب آنے والے ہوگے تم تیار نہیں

واٶ یار بھاٸی کہیں آج ہی رخصتی نہ کروا لیں

مشی سجی سنوری سحر کو دیکھ کر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوگٸ تھی

سحر سرخ رنگ کے بھاری گڑاہی دار لہنگے میں بہت پیاری لگ رہی تھی خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی

واہ بھٸ آپی حیدر بھاٸی تو بے ہوش ہوجاٸیں گے آج تو

سنی کمرے میں داخل ہوا تو اپنی بہن کو حیدر کے نام سے چھیڑا

سنی تم بھی شروع ہوگۓ ہو مجھے تنگ کرنے کے لیے تمھاری یہ چھچوری بیوی کافی نہیں تھی

سحر نے شکایتی انداز میں کہا

ارے آپی مشی کے ساتھ کا کچھ اثر تو مجھ پر بھی پڑے گا نہ

ہاں ہاں مجھ میں ہی ہیں سب خامیاں تم تو بڑے دودھ کے دھولے ہو نہ

مشال دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر آنکھیں گھوما گھوما کر بولی تھی

اور نہیں تو کیا مشی ایسا ہی ہے بلکل

سنی نے مشال کو مزید تنگ کرنا شروع کردیا

تم بہت بدتمیز ہو بات نہیں کروں گی میں تم سے

مشال منہ پھولاۓ کمرے سے نکل گٸ

کیوں تنگ کرتے ہو بیچاری کو

یار آپی بیچاری تو نہ کہیں یہ سراسر نا انصافی ہوگی میرے ساتھ

سنی نے منہ بناتے ہوۓ کہا

اچھا اچھا نہیں کہتی اس کو بیچاری جاٶ تم مہمانوں کو دیکھو

اوکے آپی سنی مسکراتا ہوا کمرے سے نکل گیا

کچھ دیر بعد حیدر کے گھر والے آگۓ تھے چند مہمان بارات میں آۓ تھے

نکاح سادگی سے رکھا گیا مختصر لوگوں کو1 مدعوں کیا گیا تھا

اعجاب و قبول کے بعد سحر کو لا کر صوفے پر حیدر کے برابر میں بٹھایا گیا تھا

حیدر نے آج کریم کلر کا کرتا شلوار پہنا تھا وہ بھی بہت خوبصورت لگ رہا تھا

نکاح مبارک ہو مسز حیدر

حیدر نے سب سے نظر بچا کر سحر کے کان میں سرگوشی کی تھی

آپ کو بھی

سحر شرماتے ہوۓ گویا ہوٸی تھی

بھاٸی سیدھے ہوکر بیٹھیں سب دیکھ رہے ہیں

مشال کے ٹوکنے پر حیدر منہ بناتا سیدھا ہو بیٹھا تھا

نگحت بیگم سفدر صاحب نے اپنے چاروں بچوں کے لیے کے ہزاروں دعاٸیں دے ڈالیں تھی

سنی اشارو اشارو میں کتنی بار مشال سے سوری کہہ چکا تھا لیکن مشال کے تو مزاج ہی نہیں مل رہے تھے

سب کچھ بہت اچھے سے ہوگیا تھا

سنی بھی مشال کو منانے میں کامیاب ہوگیا تھا

اسی طرح ہنستے کھیلتے ایک اور دن کا اختتام ہوا تھا

سنی مجھے آفس چھوڑ دو گے

سحر نے ناشتہ کرتے ہوۓ سنی سے پوچھا

میں کیوں چھوڑوں حیدر بھاٸی کے ساتھ جاٸیے گا ان کی ذمہ داری ہیں آپ

سنی نے مصروف سے انداز میں جواب دیا

ہاں سنی ٹھیک کہہ رہا ہے روز بھاٸی کے ساتھ جاتی ہو آج کیا مسلٸہ ہے تمھیں

مشال نے بھی بھابھی والا روپ اختیار کرلیا

اب سحر کیسے بتاتی اسے شرم آرہی ہے حیدر کا سامنہ کرنے میں

اس لیے خاموشی سے ناشتہ کرنے بیٹھ گٸ

حیدر کی آمد کا معلوم ہوا تو سحر کا دل زور سے دھڑکا

سحر شرماتے ہوۓ پرس اور چادر سنمبھالتی سنی اور مشال کو الوداع کہتی گھر سے باہر نکل گٸ

سنی مشال معنی خیزی سے مسکراتے رہے

حیدر سرشار سا کار سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا سحر کو آتا دیکھ مسکراتا ہوا سحر سے مخاطب ہوا

صبح بخیر کیسے مزاج ہیں مسسز حیدر جی ٹھیک بھا۔۔۔۔

سہر کے الفاظ ادا ہونے سے پہلے حیدر نے اپنی شہادت کی انگلی سحر کے لبوں پر رکھ کر سحرکو مزید بولنے سے روک دیا تھا

سحر شرمندہ ہوتی نظرے جھکا گٸ تھی

سحر میں پہلی اور آخری بار یہ غلطی برداشت کر رہاہوں اگر اب یہ غلطی ہوٸی تو میں سزا دوں گا

حیدر نے سنجیدگی سے سحر کو تنبیہ کی

جی آٸندا خیال رکھوں گی

سحر نے شرمندگی سے نظرے جھکاتے ہوۓکہا

ہممم تمہارے لیے یہ ہی بہتر رہے گا

حیدر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہوۓسحر کے لیے کار کا دروازہ وا کر دیا

سحر حیدر کے رویے سے حیران ہوتی کار میں بیٹھ گٸ

سحر

سحر کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی اسے کے کانوں میں حیدر کی آواز گنجی

جی

کیا تمھیں برا لگا میری باتوں کا

حیدر نے نظریں سڑک پر جماۓ ہی پوچھا

نہیں مجھے برا نہیں لگا میں جانتی ہوں میں غلطی پر تھی

سحر نے گود میں رکھیں انگلیاں چٹخاتے ہوۓ کہا

سحر ان پر ظلم مت کرو

حیدر نے سحر کا ہاتھ دوسرے ہاتھ سے آزاد کروایا اور اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا

سحر نے اپنا ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش کی لیکن حیدر نے ہاتھ چھوڑنے کے بجاۓ اور مضبوطی سے پکڑ لیا

سحر مزید کوشش کا ارادہ ترک کرکے سیدھی ہوکر بیٹھ گٸ

آفس کی عمارت کے سامنے گاڑی روک کر حیدر نے

سحر کا ہاتھ اپنی گرفت سے آزاد کیا

سحر شکر کا کلمہ پڑتی سیٹ بیلٹ کھولنے لگی لیکن سیٹ بیلٹ پھنس گیا تھا کھول ہی نہیں رہا تھا

اتنے میں حیدر نے سحر کی طرف کا دروازہ کھولا

حیدر بھاٸی یہ دیکھیں نہ کھول نہیں رہا

سحر اپنی ہی رو میں بولتی چلی گٸ لیکن اپنی غلطی یاد آنے پر زبان دانتوں تلے دبا گٸ

سحر میں نے کہا تھا اب یہ غلطی سرزد ہوٸی تو سزا ملے گی

حیدر نے ارد گرد کا معاٸنہ کرتے ہوۓ کہا

جی سحر نے ڈرتے ہوۓ کہا جانے کیا سزا ملے گی اب

ہممم بھگتو اب

حیدر گاڑی میں بیٹھی سحر کے لبوں پر جھکا تھا

اور سحر کی آنکھیں باہر آنے کی حد تک کھل گٸ تھیں

سحر کو بلکل اندازہ نہیں تھا حیدر سے اس طرح کی سزا کا

حیدر جب پیچھے ہٹا تو سحر اپنا حیا سے سرخ ہوتا چہرا اپنے دونوں ہاتھوں میں چھپا گٸ

حیدر نے بے ساختہ قہقہ لگایا تھا پھر جھک کر سحر کا سیٹ بیلٹ کھولا تھا

سحر ہمم لیٹ ہوجاٸیں گے چلو اترو گاڑی سے

حیدر نے نرمی سے سحر کے چہرے سے ہاتھ ہٹاۓ تھے

سحر اپنی کپکپاتی ٹانگوں کے ساتھ کار سے نیچے اتری

سنجیدہ رہنے والا روب دار حیدر سحر کے لیے کافی رومانوی ثابت ہوا تھا

آفس میں داخل ہو کر سحر اور حیدر اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگۓ

سحر پورا دن آفس میں حیدر سے چھپتی پھیری

اور حیدر سحر کے پاس جانے کے بہانے تلاش کرتا رہا

میں آٸی کم ان سر

فاروقی صاحب (حیدر کے باس ) نے حیدر کو اپنے آفس میں طلب فرمایا تھا حیدر فوراً ہی حاضر ہوا تھا

کم ان ینگ مین

فاروق صاحب نرمی سے گویا ہوۓ

سر آپ نے مجھے بلایا تھا

حیدر نے مہذب انداز میں پوچھا

ہمم حیدر اصل میں تم سے معزرت کرنا چاہتا تھا میں تمھارے نکاح میں شریک نہیں ہوپایا مجھے نواسے کی سالگرہ میں جانا پڑا تھا

کوٸی بات نہیں سر میں سمجھ سکتا ہوں

حیدر نے اپنے آفس سےصرف فاروق صاحب کو مدوع کیا تھا ان کے علاوہ آفس میں حیدر کے لیے کوٸی خاص نہیں تھا

بہت بہت مبارک ہو تمھیں نکاح کی

شکریہ سر حیدر مسکراتا بولا تھا

میں آ تو نہیں سکا لیکن تمھارے اور تمھاری واٸف کے لیے کچھ گفٹ ضرور لایا ہوں پلیز یہ لے لو

فاروق صاحب نے دو بڑے باکس حیدر کی طرف بڑھاۓ

سر نہیں میں یہ نہیں لے سکتا آپ شادی میں شرکت کرٸیے گا میری میں جب ہی آپ سے یہ گفٹ لوں گا

حیدر نے حجل ہوتے ہوۓ کہا

حیدر پلیز دیکھوں مجھے اچھا نہیں لگے گا تم نے مجھے اپنے اتنے خاص دن پر بلایا اور میں آ نہیں سکا پلیز یہ گفٹ لے لو

فاروق صاحب نے اپنی بات پر زور دیتے ہوۓ کہا

میں آٸی کم ان سر

حیدر کوٸی جواب دیتا اس سے پہلے کسی نے دروازے پر دستک دے دی

کم ان

فاروق صاحب نے اجازت دی

سحر کو اندر آتا دیکھ حیدر کو شرارت سوجھی

سر میں اپنا گفٹ لے لیتا ہوں لیکن میری واٸف کا گفٹ آپ ان کو خود دے دیں

فاروق صاحب نے چونک کر حیدر کو دیکھا

کیا مطلب حیدر میں سمجھا نہیں

فاروق صاحب نے ناسمجھی سے کہا

سر میٹ ماۓ واٸف سحر حیدر

حیدر نے اپنے پہلو میں کھڑی سحر کی طرف اشارہ کرکے مسکراتے ہوۓ کہا

ہممم بہت اچھی جوڑی ہے ماشاءاللہ

فاروق صاحب نے دونوں کی چاند سورج جیسی جوڑی کو سراہا

سحر کی تو نظریں اٹھنے سے انکاری تھیں شادی کے بعد پہلی بار وہ حیدر کے نام سے جانی جا رہی تھی

کچھ دیر بعد دونوں اپنے گفٹ سنبھالتے باس کے روم سے باہر آگۓ تھے

بہت سے لوگوں کی نظر ان دونوں کے تحفوں پر پڑی لیکن کسی کے کوٸی سرا ہاتھ نہ لگا تو دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگۓ

سنی آہہہہ سنی اٹھو نہ پلیز مجھے بہت درد ہورہا ہے

آدھی رات کا وقت مشال کی چیخے عروج پر تھیں

مشی ہر وقت مزاق اچھا نہیں لگتا وقت دیکھاہے آپ نے رات کے دو بج رہے ہیں پلیز سونے دیں مجھے

سنی نیم غنودگی میں مشال کو جھاڑتا دوبارہ سوگیا

مشال بے بسی سے سنی کی پشت کو دیکھتی رہ گٸ

جب درد حد سے سوا ہوا تو مشال نے سنی کو جھنجوڑ ڈالا

اٹھو میں مزاق نہیں کررہی مجھے سچ میں درد ہورہا ہے

مشال کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے تھے

مشی کیا سچ میں درد ہورہا ہے

مشال کی بھیگی آنکھیں دیکھ کر سنی نے استفسار کیا

اور نہیں تو کیا میں مزاق نہیں کر رہی مجھے بہت درد ہورہا ہے

مشال پیٹ پکڑ کر رونے بیٹھ گٸ تھی

مشی میں آپی کو بلا کر لاتا ہوں روۓ نہیں

سنی جلدی سے سحر کے کمرے کی طرف بھاگا

آپی آپی اٹھیں آپی اٹھیں

کمرے کے دروازے پر مسلسل دستک سے سحر کی آنکھ کھول گٸ

کیا ہوا ہے سنی

سحر نے خمار آلود حالت میں دروازہ کھولا

آپی وہ مشی کو پین ہورہا ہے پلیز جلدی چلیں

سنی کی بات سنتے ہی سحر فوراً سنی کے کمرے کی طرف دوڑی

آہہہہہہ سنییییی پلیز کچھ کرو مشال کی دعاٸیاں جاری تھیں

مشی اچانک سے کیا ہوا ہے رات کو تو تم ٹھیک تھیں

سحر نے کراہتی ہوٸی مشال سے پوچھا

تم دونوں فالتو باتیں کرنا بند کرو مجھے ہاسپٹل لے کر چلو

مشال درد کی شدت سے دونوں پر چیخی تھی

اتنی رات میں گاڑی نہیں ملے گی آپی کیسے لے کر جاٸیں باٸیک پر تو لے جا نہیں سکتا

میں حیدر کو کال کرتی ہوں وہ گاڑی لے کر آجاٸیں گے

سحر نے دوبارہ اپنے کمرے کی طرف دوڑ لگادی

حیدر اپنے بستر میں دراز خوابِخرگوش کے مزے لے رہا تھا

موباٸل کی بچتی بیل سے حیدر نیند سے بیدار ہوا ساٸیڈ ٹیبل سے موباٸل اٹھایا اسکرین پر سحر کا نام جگمگا رہا تھا حیدر نے ایک لمحے کی دیر کیے بغیر کال اٹھالی

ہیلو حیدر پلیز جلدی سے گھر آجاٸیں مشی کی طبیعت خراب ہوگٸ ہے

سحر کی پریشانی میں ڈوبی آواز سن کر حیدر کی نیم وا آنکھیں پوری کھل گٸیں

سحر میں ابھی آتا ہوں تم پریشان نہیں ہو

حیدر سحر کو دلاسا دیتا گاڑی کی چابی اٹھاتا گھر سے باہر نکل گیا

مشی آپ سنبھالیں خود کو آپی نے حیدر بھاٸی کو کال کی ہے وہ آتے ہی ہوں گے

سنی میں مر جاٶں گی اگر میں مر گٸ تو تم دوسری شادی کر لینا ابھی تمھاری عمر ہی کیا ہے لیکن ہمارے بچے کا بھی خیال رکھنا اسے نہیں بھول جانا

مشال کی درد سے جان نکلی جا رہی تھی اس کے جو منہ میں آرہا تھا بولے جارہی تھی اتنی دیر سے سنی اس کی یہ ہی باتیں برداشت کررہا تھا

بیچارا اور کر بھی کیا سکتا تھا مشال کی حالت ہی ایسی تھی وہ اس کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا

اسی اثنا میں حیدر کی گاڑی کی آواز آٸی

سنی نے شکر کا سانس بھرا اور مشال کو پکڑ کر اپنے سہارے کھڑا کیا لیکن درد کی شدت سے پیٹ پکڑ کر دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گٸ

سنی نے سحر کو سوالیہ نظروں سے دیکھا

کیا کروں

اب دیکھ کیا رہے اس کو گود میں اٹھاٶ حیدر باہر انتظار کررہے ہیں

سحر نے بنا توقف کے جواب دیا

سنی مشال کی طرف جھکا اور اس کو اپنی بانہوں میں بھر لیا

مشی کتنی بھاری ہیں آپ

مشال کا وزن سچ میں بڑھ گیا تھا

چپ کرو جلدی ہاسپٹل چلو میری درد سے جان نکلی جارہی ہے

مشال نے سنی کو جھاڑا

سنی منہ بناتا ہوا مشال کو لے کر گھر سے باہر نکل گیا

سحر نے کار کا دروازہ وا کیا

سنی نے مشال کو پیچھے سیٹ پر بٹھایا

آپی آپ مشی کے ساتھ بیٹھیں میں آگے بیٹھ جاتا ہوں

سنی سحر کو کہتا آگے بڑھا

لیکن اس سے پہلے ہی مشال نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا

نہیں تم میرے پاس بیٹھو

سنی تم بیٹھ جاٶ میں حیدر کے ساتھ بیٹھ جاتی ہوں

سحر حیدر کے پاس بیٹھ گٸ

سنی مشال کے پاس بیٹھ گیا

مشی مسلسل روۓ جارہی تھی سنی حیدر سحر سب اس کو دلاسے دے رہے تھے لیکن مشال کی چیخیں بڑھتے ہوۓ درد کے ساتھ تیز ہوتی جارہی تھیں

مشی بس آگیا ہاسپٹل آپ رونا تو بند کریں

سنی کا کبھی ایسے حالات سے پالا نہیں پڑا تھا مشال کی حالت دیکھ کر وہ بھی روہانسا ہوگیا تھا

ہاسپٹل پہنچتے ہی سنی نے مشال کو گود میں اٹھایا اور ہاسپٹل کے اندر داخل ہوگیا

مشال کو داخل کرلیا گیا تھا سنی مشال کی فکر میں کبھی بیٹھ جاتا تو کبھی اٹھ کر چکر لگانے لگ جاتا

حیدر سحر سنی کو کتنے ہی دلاسےدے چکے تھے لیکن سنی کو کسی طور قرار نہ آیا

مبارک ہو اللہ نے آپ کو بیٹے کی نعمت سے نوازہ ہے

نرس کی آواز پر سب نے نرس کی طرف دیکھا

وہ ایک نومولود بچے کو گود میں لیے کھڑی تھی

میرا بچہ سنی نے آگے بڑھ کر نرس کے ہاتھ سے بچہ لیا

سنی خوشی سے نہال ہوگیا تھا اس نے بچے کی چھوٹی سی پیشانی کو چوما اس کےبعد اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چومتا بچے کو اپنے سینے میں چھپا گیا

سنی میں بھی کچھ لگتا ہوں اس بچے کا مجھے بھی دے دو اس کو

حیدر نے طنزاً کہا

جی جی بھاٸی آپ بھی لیں آپ سے تو تین رشتے ہیں اس کے ماموں پلس انکل پلس پھوپھا

سنی نے مسکراتے ہوۓ بچے کو حیدر کو دے دیا

حیدر نے بھی خوب پیار کرکے بچہ سحر کو دے دیا

میری بیوی کیسی ہیں

سنی کو اب یاد آٸی تھی مشال کی

جی وہ ٹھیک ہیں ابھی بے ہوش ہیں کچھ دیر میں ہوش آجاۓ گا ان کو پھر آپ مل سکتے ہیں ان سے

نرس نے اپنے پرفیشنل انداز میں کہا اور وہاں سے چلی گٸ

حیدر نے سفدر صاحب کو کال کرکے ان کو نانا بننے کی خوشخبری سناٸی تو وہ فجر کی نماز پڑھ کر نگحت بیگم کو ساتھ لےکر ہاسپٹل پہنچ گۓ

سب ہی بہت خوش تھے

مشی آپ تو زندہ بج گٸیں اب میں اس لڑکی کو کیا بولوں جس سے میں نے شادی کی بات کرلی تھی

سنی مشال کے بیڈ کے پاس اسٹول لگا کر بیٹھا مشال کو زچ کررہا تھا

سنی تم میرے مرنے کا انتظار کررہے تھے

مشال نے صدماتی کیفیت میں استفسار کیا

ہاں نہ مشی اب آپ زندہ بچ گٸ اب اس بیچاری کا کیا ہوگا وہ تو کتنے سپنے سجاۓ بیٹھی تھی مجھ سے شادی کرنے کے

سنی نے معصومیت سے کہا

مشال کی آنکھیں نم ہوگٸیں تھیں

جاٶ جس سے شادی کرنی ہے کرو لیکن پہلے مجھے طلاق دو

مشال سنی کے مزاق کو بنا سمجھے جذبات میں آکر غلط بات بول گٸ تھی

مشی پاگل ہوگٸیں ہیں کیسی باتیں کر رہی ہیں میں مزاق کررہا تھا

سنی نے اپنے غصے پر قابوں پاتے ہوۓ سخت لہجے میں مشال کو اصل بات بتاٸی

مشال اپنی جگہ شرمندہ ہوگٸ

دونوں طرف خاموشی تھی بچے کے رونے کی آواز نے خاموشی توڑی

مشال نے جلدی سے اپنے پہلو میں سوۓ بچے کو اٹھایا جو بھوک کی وجہ سے رو رہا تھا

وہ اس کو بھوک لگی ہے

مشال نے جھیجکتے ہوۓ کہا

سنی بنا کچھ کہے کمرے سے باہر نکل گیا

دو دن بعد مشال کی ہاسپٹل سے چھٹی ہوگٸ تھی اب وہ گھر میں سب سے خدمتیں کروا رہی تھی

سحر نے بھی آفس سے چھٹی لے لی تھی

نگحت بیگم ان لوگوں کے ساتھ ہی رہ رہیں تھی

سفدر صاحب اور حیدر چکر لگاتے رہتے تھے

بچے کا نام سب کی رضا مندی سے حسن رکھا گیا تھا

تقریباً ایک مہینے بعد سب لوگ اپنی روٹین پر واپس اۓ نگحت بیگم اپنے گھر چلی گٸیں

سحر بھی اب باقاعدگی سے آفس جارہی تھی

سنی نے بھی یونیورسٹی جانا شروع کر دیا تھا

مشال کو حسن کو سنبھالنے میں تھوڑی دقت پیش آٸی لیکن نگحت بیگم نے سگھڑ ماٶں کی طرح مشال کو سب کچھ سیکھا دیا

سنی جب گھر میں ہوتا تو وہ مشال کے ساتھ حسن کا خیال رکھتا سحر ہوتی تو وہ خیال رکھتی اس طرح مشال بھی سکون میں تھی

کیا ہو گیا ہے سنی ابھی تک گھر کیوں نہیں آیا

مشال سوچ ہی رہی تھی

سنی دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوگیا

سنی تم آگۓ میں کب سے ویٹ کررہی تھی اتنی دیر کہاں لگا دی تم نے

مشال کے لہجے میں فکر واضح تھی

کام زیادہ تھا

سنی سنجیدگی سے کہتا واشروم میں گھس گیا

کھانا لاٶں تمھارے لیے

سنی واشروم سے نکلا تو مشال نے کھانے کا پوچھا

نہیں مجھے بھوک نہیں میں سو رہا ہوں آپ بھی سوجاٸیں

سنی بنا مشال کی طرف دیکھے بیڈ پر دراز ہوگیا

مشال کے سمجھ نہیں آٸی آخر سنی کو ہوا کیا ہے گھر سے تو اچھا بھلا گیا تھا

سنی کیا بات ہے تم ایسا برتاٶ کیوں کررہے ہو

مشال نے سنی کے کندھے پر ہاتھ رکھا

مشی مجھے ہاتھ مت لگاٸیں

سنی نے مشال کا ہاتھ جھٹک دیا

مشال کی آنکھوں میں نمکین پانی جما ہونے لگا

سنی ایسے کیوں کررہے ہو میرے ساتھ مجھ سے غلطی ہوگٸ کیا

مشال نے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا

آپ نہیں خاموش ہوگیں نہ میں ہی چلا جاتا ہوں روم سے بللکہ گھر سے ہی چلا جاتا ہوں

سنی غصے سے دانت پیس کر کہتا اٹھ کر روم سے باہر نکل گیا

مشال سکتے میں آگٸ تھی

کمرے کا دروازہ بند ہونے کی آواز سے مشال کا سکتا ٹوٹا

مشال بھی بھاگی بھاگی روم سے نکلی

سنی روکو کہاں جارہے ہو ابھی تو آۓ ہو

مشال نے سنی کا بازوں پکڑ کر اسے روکنے کی کوشش کی

دور رہیں مجھ سے ہاتھ مت لگاٸیں مجھے

سنی مشال کا ہاتھ جھٹکتا دھاڑا تھا

سنی ایسا کیوں کررہے ہو میرے ساتھ میں نے کیا کیا ہے مجھےمیری غلطی تو بتاٶ

مشال نے روتے ہوۓ دوبارہ سنی کی کلاٸی تھام لی

دور رہیں مجھ سے سمجھ نہیں آرہی میری بات آپ کو گھن آرہی ہے مجھے آپ سے آپ کے وجود سے ہمارے رشتے سے سمجھیں آپ

سنی نے دوبارہ مشال کا ہاتھ جھٹکتا

غصے سے دھاڑتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا گھر سے باہر نکل گیا

مشال کو تو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں ہورہا تھا یہ دن بھی دیکھنا رہ گیا تھا مشال کا دل چاہا خود کو ختم کرلیں اپنے ناپاک وجود کو کٸ ٹکڑوں میں تقسیم کردے

مشی کیا ہوا سنی کیوں چیخ رہا تھا کہا گیا وہ

سنی کی دھاڑ سے سحر کی بھی آنکھ کھل گٸ تھی وہ بھی روم سے نکل آٸی

سحر سنی کو گھن آتی ہے مجھ سے میرے وجود سے ہمارے رشتے سے

مشال نے ٹرانس کی کیفیت میں سنی کی کہی بات دہراٸی

نہیں نہیں مشی میرا بھاٸی ایسا نہیں ہے میں نے اس کی ایسی تربیت نہیں کی ہے ضرور وہ اپنے دوستوں سے ملا ہوگا انہوں نے ہی اس کے دماغ میں یہ خناس بھری ہوگی تم رو نہیں وہ آتا ہے تو میں اس کی خبر لیتی ہوں

سحر مشال کو خود سے لگاۓ اسے دلاسے دے رہی تھی

مشال نے رو رو کر آنکھیں سوجا لیں تھیں

سحر کے کافی سمجھانے کے بعد مشال واپس کمرے میں چلی گٸ تھی حسن اکیلا تھا کمرے میں

سحر سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گٸ

سنی یہ کیا کیا تم نے تم آٶ ذرا گھر کرتی ہوں میں دماغ ٹھیک تمھارا

سحر بڑبڑاتی