Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ladon Ka Pala Episode 12

Ladon Ka Pala by Misbah

تقریباً گیارہ بجے مشال کی آنکھ کھلی اس نے ایک نظر پورے کمرے میں دوڑاٸی لیکن خالی کمرہ مشال کو منہ چڑا رہا تھا

لگتا ہے چلا گیا میرا سیدھا میاں

مشال منہ بسورتی بڑبڑاتی ہوٸی اٹھ کر واشروم میں چلی گٸ

ناشتہ کرکے وہ اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہوگٸ

عاصم کو وہ مکمل فراموش کرچکی تھی

وہ ابھی دوپہر کا کھانا تیار کرکے فارغ ہی ہوٸی تھی کہ موباٸل پر آتی کال نے مشال کی توجہ کھینچی

اَلسَلامُ عَلَيْكُم

مشال نے بنا نمبر دیکھے کال اٹھالی تھی

وَعَلَيْكُم السَّلَام جانِ من کیسی ہو

اسپیکر سے عاصم کی شوخ آواز مشال کی سماعت سے ٹکراٸی تو وہ کانپ گٸ موباٸل ہاتھ سے گرتے گرتے بچا

تو تم نے کیوں کال کی ہے پلیز مجھے جینے دو سکون سے کچھ تو لحاظ کر لو میں تمھاری بھابھی کی بھابھی ہوں شاہ ویز بھاٸی کو اگر تمھاری کرتوت کا معلوم ہوا تو ان کو کتنا دکھ ہوگا تمھارے پیرینٹس کو کتنی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا میرے لیے نہ سہی اپنے گھر والوں کی خاطر مجھے بخش دو

ہاہاہاہاہاہا مشال کی باتوں کا عاصم پر کوٸی اثر نہیں ہوا

وہ ہنس ہنس کے مشال کا تمسخر اڑاتا رہا

مشال کی آنکھوں میں نمی جما ہونے لگی تھی

کون بتاۓ گا میرے گھر والوں کو

تم بتاٶ گی جان کیا بتاٶ گی تم خود میرے ساتھ آٸی تھیں اپنی مرضی سے اپنے گھر والوں کو جھوٹ بول کر اور کیا تمھارے پاس ثبوت ہے میرے خلاف میرے گھر والے تمھاری کسی بات پر یقین نہیں کرے گے شاہ ویز بھاٸی تو مجھ پر جان چھڑکتے ہیں وہ تمھاری سہیلی سے رشتہ ختم کرنے میں منٹ نہیں لگاٸیں گے تم میرے خلاف کچھ بول کر تو دیکھو تمھارے اور تمھارے گھر والوں کے حصے میں سواۓ رسواٸی بدنامی کے کچھ نہیں آۓ گا

عاصم سفاکی سے کہتا مشال کو مزید تکلیف میں مبتلا کرگیا تھا

کاش تم مرجاٶ عاصم مرجاٶ تم تمھیں قبر کی مٹی بھی نصیب نہ ہو

مشال بلک بلک کر روتی عاصم کو سنا کر کال بند کرچکی تھی

مشال موباٸل ساٸیڈ ٹیبل پر رکھتی پیچھے مڑی تو سحر کو سینے پر ہاتھ رکھ کر کھڑے پایا

سحر کا کام آج جلدی ختم ہوگیا تھا تو وہ گھر آگٸ گھر کے داخلی دروازے کی چابی سحر کے پاس تھی وہ اس سے دروازہ کھول کے گھر میں داخل ہوٸی

مشال کہی نظر نہ آٸی تو وہ اس کے کمرے کی طرف بڑھ گٸ وہ

دروازے کیطرف مشال کی پشت تھی وہ سحر کو کمرے میں داخل ہوتے نہیں دیکھ سکی

سحر مشال کو فون پر بات کرتے دیکھ خاموشی سے کھڑی ہوگٸ اسطرح وہ ساری باتیں سن چکی تھی

سحر کو دیکھ کر مشال کا وجود ساکت ہوا تھا وہ بنا پلک چھپکاۓ سحر کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر غصہ اور سنجیدگی دونوں جھلک رہی تھی

مجھے بتانا پسند کرو گی عاصم نے تمھیں کال کیوں کی تھی اور وہ کیا بکواس کررہا تھا جو تم اسے بددعاٸیں دیں رہی تھیں

مشال کو لگا اب سحر سے مزید کچھ چھپانا بے کار ہے اس نے سحر کے منگنی والے دن سے لے کر آج تک کی ساری باتیں سحر کو بتادی

سب سن کر سحر سر پکڑ بیڈ پر بیٹھ گٸ

مشال بھی سحر کے برابر میں بیٹھ گٸ

مشال مجھے بہت دکھ دیا ہے تم نے اتنی غیر تھی میں تمھارے لیے کہ تم نے مجھ سے اپنی پرابلم تک شٸیر کرنا ضروری نہیں سمجھا تمھاری نظروں میں یہ اہمیت ہے میری

سحر نے دکھ بھرے لہجے میں کہا

سحر کو بہت برا لگا تھا مشال کا باتیں چھپانا

سحر میں نہیں چاہتی تھی میری وجہ سے تمھارے اور شاہ ویز بھاٸی کے درمیان کوٸی بد مزگی ہو میں اپنی وجہ سے تمھاری خوشیاں برباد نہیں کرسکتی تھی مجھے معاف کردو سحر

مشال ہاتھ جوڑ کر سحر سے معافی مانگ رہی تھی

مشال میرے لیے تم اور سنی سب سے پہلے ہو شاہ ویز کو میری زندگی میں آۓ کچھ عرصہ ہوا ہے لیکن تم لوگ تو میرے ساتھ ہی رہے ہو ہمیشہ سے اور رہو گے تو تم نے کیسے سوچ لیا تمھیں میں ان حالات میں اکیلا چھوڑ دوں گی تم رو نہیں میں شاہ ویز سے بات کروں گی

سحر نے مشال کے آنسو پونچتے نرمی سے کہا

نہیں نہیں سحر یہ نہیں کرنا تم شاہ ویز بھاٸی سے کوٸی بات نہیں کرو گی میں خود کوٸی راستہ نکال لوں گی

تم ایسے کیوں کہہ رہی ہو میں بات کرتی ہوں نہ شاہ ویز سے سحر نے مشال کو سمجھانا چاہا

نہیں تم بات نہیں کرو تم کیا بولو گی میں خود گٸ تھی عاصم کے ساتھ اور ہمارے پاس کوٸی ثبوت بھی نہیں کہ اس میرے ساتھ ۔۔۔

مشال اتنا کہتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

اچھا میں نہیں کروں گی بات ہممم سنی کو بتاٸیں گے سب

سحر نے مشال کا بھیگا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہوۓ کہا

نہیں نہیں سنی جذبات میں آکر اس کو مارنے چلا گیا تو یا عاصم نے سنی کو کچھ کردیا تو نہیں نہیں ہم سنی کو کچھ نہیں بتاٸیں گے

مشال خوف سے کانپ رہی تھی سنی کا دور جانا مشال کے لیے جسم سے روح نکلنے جیسا تھا

مشی میری جان تم ڈرو نہیں سنی نے مجھے ایک دفع بتایا تھا اس کا یونیورسٹی میں ایک دوست ہے اس کے ماموں پولیس کے محکمے میں ہیں ہم سنی سے کہہ گے وہ ان سے بات کرے

سحر تحمل سے مشال کو سمجھایا

نہیں سحر پھر کیس چلے گا مجھ پر گندے گندےالزام لگے گے

کچھ نہیں ہوگا ہم بس ان سے کہے گے کہ عاصم تنگ کرپا ہے ہمیں تو وہ عاصم کو تھوڑا ڈرا دھمکا کر ہم سے دور رہنے کا کہہ دیں

سحر ایک اور تجویز پیش کی

جو مشال کو مناسب لگی اور وہ مان گٸ

کچھ دیر میں سنی گھر آگیا تھا تینوں نے ہلکی پھلکی باتوں کے درمیان کھانا کھایا

کھانا کھا کر سحر مشال کو سنی کو سب کچھ بتانے کی ہدایت دے کر اپنے کمرے میں چلی گٸ

وہ سنی مجھے تم سے بات کرنی ہے

مشال انگلیاں مروڑتی سنی سے کچھ دور بیڈ پر بیٹھ گٸ

جی بولیں کیا بات کرنی ہے

سنی نے لیٹے ہوۓ ہی آنکھیں موندے کہا

وہ میں میں وہ ۔۔۔۔۔

مشی اگر آپ امی کے گھر جانا چاہتی ہیں تو چلی جاٸیں مجھے کوٸی مسلٸہ نہیں میں کل لینے آجاٶں گا آپ کو

سنی نے مشال کی گھبراہٹ سے یہ ہی مطلب آخز کیا سنی مشال کو اب زیادہ جانے نہیں دیتا تھا امی کے گھر کیونکہ مشال کے بغیر اس کا بھی دل نہیں لگتا تھا

نہیں مجھے کجھ اور بات کرنی ہے

اچھا بولیں سنی اب اٹھ کر بیٹھ چکا تھا

وہ مجھے تمھیں عاصم کے بارے میں کچھ بتانا ہے

عاصم کا نام سنتے ہی سنی سنجیدہ ہوا تھا

بولیں کیا بات کرنی ہے عاصم بھاٸی کے بارے میں

سنی عاصم ہی میرا مجرم ہے اس نے ہی میرے ساتھ وہ سب کیا تھا یہ بچہ بھی عاصم کا ہے اور ۔۔۔۔۔

مشی ایک بات کان کھول کر سن لیں یہ بچہ میرا ہے خبردار آپ نے اس کے ساتھ آٸندہ کے بعد کسی اور کا نام جوڑا تو

سنی کو ایک دم سے غصہ آیا تھا وہ اس بچے کو دل سے اپنا مان چکا تھا مشال کی اس بات سے اس کو دکھ ہوا تھا

سو سوری اب نہیں بولوں گی مشال شرمندہ ہوٸی تھی

بات مکمل کریں سنی نے سخت لہجہ اختیار کیا

مشال نے سر جھکاۓ ایک ایک بات سنی کو بتا دی تھی

مشی آپ نے مجھے پہلے کیوں کچھ نہیں بتایا آپ مجھے اتنا کمزور سمجھتی ہیں کہ میں آپ کی حفاظت بھی نہیں کرسکتا میں آپ سے چھوٹا ضرور ہوں لیکن مرد ہوں اپنی عزت کی حفاظت کرنا آتا ہے مجھے

سنی خفگی سے بولا تھا

مجھے معاف کردو مجھے ڈر لگتا تھا وہ تمھیں یا سحر کو کوٸی نقصان نہ پہنچا دے

مشال نے سنی سے معافی مانگتے ہوۓ کہا

اچھا آپ رونا بند کریں میں کرتا ہوں کچھ لیکن اب آپ مجھ سے وعدہ کریں آٸندہ مجھ سے کوٸی بات نہیں چھپاٸیں گیں

سنی نے مشال کے سامنے اپنی چوڑی ہتھیلی پھیلاٸی

وعدہ کچھ نہیں چھپاٶں گی کبھی بھی

مشال نے اپنا سیدھا سنی کی ہتھیلی پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے آنسو پونچے

سنی نے مسکراتے ہوۓ مشال کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں قید کرلیا

دونوں پوری طرح مسکراۓ بھی نہیں تھے مشال کا موباٸل بج اٹھا

سنی نے مشال کا ہاتھ چھوڑ کر موباٸل اٹھایا تو ایک نمبر موباٸل کی اسکرین پر جگمگا رہا تھا

مشی یہ نمبر کس کا ہے

سنی نے موباٸل کی اسکرین مشال کے سامنے کرتے ہوۓ کہا

عاصم کا ہے

مشال نے نمبر دیکھ کر دوبارہ نظریں جھکا دی

ہممممم سنی نے کال ریسیو کی لیکن بولا کچھ نہیں

تو کیا سوچا تم نے مشی ڈارلینگ اپنے معصوم شوہر کو بچاٶ گی یا پھر اپنی عزت کے خاطر اسے قربان کردو گی

عاصم کی بکواس سن کر سنی سیخ پا ہوا تھا

افسوس ہورہا ہے مجھے میں نے کبھی آپ جیسے گھٹیا انسان کو بھاٸی سمجھا تھا لیکن آپ تو میری پیٹ پر ہی چھرا گھوپنے چلے ہو آپ اپنی شرم غیرت بیچ کھاٸیں ہو جو ایک شادی شدہ لڑکی کو دھمکیاں دے رہے ہو اس کی مجبوری کا فاٸدہ اٹھا رہے ہیں مجھے تو آپ مرد ہی نہیں لگتے مرد ہوتے تو مرد سے مقابلہ کرتے نہ کہ ایک لڑکی سے

سنی نے عاصم کو دل بھر کر ذلیل کیا

اوہو مسٹر معصوم تمھارے منہ میں بھی زبان ہے اپنی بیوی کے کارناموں کا سنو گے نہ منٹ نہیں لگاٶ گے اسے طلاق دینے میں اور میں مرد ہوں یا نہیں یہ تو تم اپنی بیوی سے پوچھو جو تمھیں جانے کب سے اندھیرے میں رکھی ہوٸی ہے جس بچے کی پیداٸش کا تم انتظار کررہے ہو نہ وہ تمھارا نہیں میرا بچہ ہے

عاصم سمجھ رہا تھا سنی مشال کی سچاٸی سے ناواقف ہے اسی لیے اس نے سنی کو بھڑکانے کے لیے خود ہی سچ بتا دیا

میں آپ جیسا بے غیرت نہیں جو آپ کی باتوں میں آکر اپنی بیوی کو چھوڑ دوں اور جو بات آپ مجھے آج بتارہے ہیں وہ بات میں شادی سے پہلے سے جانتا ہوں آپ تو بزدلوں کی طرح چھپ گۓ تھے لیکن میں آپ جیسا نہیں ہر بات جانتے بوجھتے ہوۓ شادی کی ہے میں نے ان سے سمجھے آپ

سنی نے بھی عاصم کو بنا لگی لپٹی اچھی خاصی سنا ڈالی

تم تمھاری ہمت کیسے ہوٸی مجھے بزدل کہنے کی تم کچھ بھی کہہ لو مشال کا پیچھا تو میں نہیں چھوڑنے والا کیوں کے جو چیز میرے استعمال میں آٸی ہو اس کو میں توڑ تو سکتا ہوں لیکن کسی اور کے استعمال میں نہیں برداشت کرسکتا

عاصم زور سے دھاڑا تھا

مشال خاموش بیٹھی ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی عاصم کا تو اس کو نہیں معلوم تھا وہ کیا بول رہا ہے لیکن سنی کو اپنے لیےلڑتا دیکھ اس کے دل میں سکون سا آیا تھا

یہ پیارا شخص صرف اس کا ہے مشال کو سنی پر فخر ہوا تھا جس نے مشال کے خلاف ایک حرف بھی نہیں بولا تھا نہ مشال پر غصہ کیا تھا

جو کرسکتے ہیں کرلیں میں بھی پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں دیکھتا ہوں کیا کرتے ہیں آپ اور آپ کی مردانگی ابھی بھی قاٸم ہے تو آپ مشی کو تنگ کرنے کے بجاۓ اصل مرد کی طرح میرا سامنا کرے گے

خدا حافظ

سنی عاصم کو جلتے انگاروں پر جلاتا فون بند کرچکا تھا

کیا کہے رہا تھا وہ مشال نے بے تابی سے پوچھا

ایسے گھٹیا لوگ بولتے نہیں بکواس کرتے ہیں اور وہ بکواس ہی کررہا تھا اب آپ ریلیکس ہوجاٸیں اور کچھ دیر آرام کر لیں میں بھی سورہا ہوں تھک گیا ہوں شام کو کیفے بھی جانا ہے

سنی نرمی سے کہتا مشال کو لیٹنے کا کہہ کر خود بھی لیٹ چکا تھا ۔