Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ladon Ka Pala Episode 1

Ladon Ka Pala by Misbah

میں چاند سا وہ چاندنی میری

میں معصوم سا وہ شیرنی میری

اَلسَلامُ عَلَيْكُم آپی ( سحر )آپی کی دوست ( مشال )

وہ اپنی انگلی میں گاڑی کی چابی گھماتا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا

لاٶنج میں بیٹھی اپنی ماں جیسی بہن اور اس کے ساتھ بیٹھی اسکی اکلوتی دوست کو ادب سے سلام کیا تھا

وہ جیسے ہی ان کے سامنے والے صوفے پر بیٹھا دونوں کو دیکھ کر ٹھٹکا

آپی آپ کی دوست رو کیوں رہی ہیں اور آپ کی آنکھوں میں بھی آنسوں ہیں کیا ہوا ہے سب ٹھیک تو ہے اس کے لہجے میں فکر واضح تھی

اس کی آپی کے کب کے روکے آنسوں اس کے رخساروں کا سفر طے کر گۓ تھے

آپی کیا ہوا ہے وہ تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھا تھا اور اپنی آپی کے قدموں میں گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا پھر اپنی انگلیوں کے پوروٶں سے اپنی آپی کے آنسوں صاف کیے تھے

آپی پلیز بتائيں کیا ہوا ہے آپ دونوں ایسے کیوں رو رہیں ہیں اپنی آپی کو بےآواز روتا دیکھ کر دوبارہ سوال کیا تھا

سحر نے اسی وقت ایک فیصلہ کیا تھا اور جلد ہی اس فیصلے پر عمل کرنے کا سوچا تھا

سنی میرے پیارے بھاٸی میں نے تم سے زندگی میں کبھی کچھ نہیں مانگا آج میری ایک بات مانوں گے اپنی بہن کی بات کا مان رکھو گے سحر اپنے چھوٹے بھاٸ کا معصوم سا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر اس سے التجا کر رہی تھی

آپی آج تک میں نے آپ کی کسی بات سے انکار کیا ہے جو اب کروں گا آپ حکم کریں بس سنی نے اپنی بہن کا مان برقرار رکھا

“وہ مان تھا اپنی بہن کا

وہ غرور تھی اپنے بھاٸ کا”

اس بیچ مشال ہاتھوں میں منہ چھپاۓ گھٹنوں میں سر چھپاۓ رونے میں مصروف تھی

سنی تم !

سحر ایک پل کو روکی تھی پھر ہمت جمع کرکے دوبارہ گویا ہوٸ

سنی تم مشال سے شادی کرلو سحر نے بنا روکے ایک ہی سانس میں کہا

******************************

حاجرہ بیگم اور ناصر صاحب بہت خوشحال زندگی گزار رہے تھے ان دونوں میں آپس میں بہت محبت تھی ان کی کل کاٸنات ان کے دو بچے تھے سحر اور سنی

ناصر صاحب ایک فیکٹری میں جاب کرتے تھے جس سے ان کا گزر بسر اچھے سے ہوجاتا تھا وہ اپنے بچوں کی ہر جاٸز خواہشات پوری کرتے تھے لیکن ساتھ ساتھ اچھی تربیت بھی کررہے تھے دونوں بجے صابر و شاکرخوش اخلاق محبت کرنے والے تھے

سنی چھوٹا اور معصوم ہونے کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی لاڈ اٹھواتا تھا سب خوشی خوشی گول مٹول سے سنی کے لاڈ اٹھاتے بھی تھے وہ تھا ہی اتنا معصوم اور پیارا کے کوٸ اس کو انکار ہی نہیں کر پاتا تھا

سحر ابھی میٹرک کے امتحان سے فارغ ہوٸ تھی کہ اس کے سر پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اس کی عمر پندرہ سال تھی جبکہ سنی دس سال کا تھا

ناصر صاحب جس فیکٹری میں جاب کرتے تھے وہاں آگ لگ گٸ تھی اور ناصر صاحب اپنی ساری ذمہ داری حاجرہ بیگم کے کندھوں پر ڈال کر ابدی نیند جاسوۓ تھے

ناصر صاحب کی وفات کے بعد سحر کے گھر کے حالات کافی ابتر ہوگۓ تھے بجلی پانی کے بل سنی کے اسکول سینٹر کی فیس سحر کا داخلہ پھر گھر کے اخراجات حاجرہ بیگم کے لٸے سب سنبھالنا بہت مشکل ہورہا تھا

حاجرہ بیگم کے پاس سلاٸ کا ہنر تھا اور سحر کے پاس علم کی روشنی دونوں ماں بیٹی نے سوچ لیا تھا سنی پر اپنی غربت کی پرچھاٸ نہیں پڑھنے دے گے

حاجرہ بیگم نے کپڑے سلاٸ کرنا شروع کردیے سحر نے بچے پڑھانے شروع کردیٸے اس طرح ان کے گھر کے حالالت کچھ بہتر ہوگۓ تھے لیکن گول مٹول سا سنی باپ کے بچھڑنے کے غم میں کملا گیا تھا وہ اکثر روتا باپ کے پاس جانے کی ضدیں کرتا سحر اپنی سسکیاں روکتی اپنے بھاٸ کو سینے سے لگا کر اسے دلاسے دیتی حاجرہ بیگم اپنے دونوں بچوں کو اپنی مامتا کے آغوش میں لے لیتی پھر تینوں ایک دوسرے کا سہارا ملتے ہی پھوٹ پھوٹ کے رونے لگ جاتے

ایسے ہی ایک سال کا عرصہ گزر گیا وہ کافی سنبھل گۓ تھے سحر نے کالج میں ایڈمیشن لے لیا تھا حاجرہ بیگم سلاٸ کی وجہ سے سنی کو زیادہ وقت نہیں دے پاتی تھیں سحر ہی تھی جس نے اس کو ماں کی مامتا سے محروم نہیں ہونے دیا سنی بھی اپنی بہن اور ماں سے بہت محبت کرتا تھا سحر نے اپنی محنت اور لگن سے کریجویشن کرلیا تھا اس کی کامیابی میں مشال اور حیدر کا بڑا ہاتھ تھا سحر جب بھی ہارنے لگتی مشال اس کو نٸ امید کی کرن دیکھاتی مشال حیدر سے ٹیوشن لیتی تھی پھر اس نے حیدر سے سحر کی سفارش کی کہ وہ اس کو بھی پڑھادیا کرے حیدر خوشی خوشی راضی ہوگیا اسے سحر بھی مشال کی طرح عزیز تھی دونوں حیدر سے پڑھتی اور اچھے نمبروں سے پاس ہوتیں حیدر کو بیسن کا حلوہ بہت بسند تھا سحر جب بھی اچھے نمبروں سے پاس ہوتی حیدر کے لیے میٹھاٸ کے طور پر بیسن کا حلوہ لے جاتی حیدر خوشی خوشی کھاتا اور تعریف بھی کرتا

“خاموشی سے دل میں بس گۓ وہ

انجانے میں ہی سہی

اپنا اسیر بنا گۓ ہمیں وہ”

مشال سحر کی بچپن کی دوست تھی دونوں اسکول کے وقت سے ساتھ ساتھ تھیں دونوں کا ایک دوسرے کے گھر میں آنا جانا بھی تھا دونوں ہی فیملیز ایک دوسرے کے کافی قریب تھیں

مشال سفدر صاحب اور نگحت بیگم کا مان تھی اپنے بڑے بھاٸ حیدر کا غرور تھی وہ اپنے گھر میں سب کی چہیتی تھی حیدر مشال کی زبان سے نکلی ہوٸ ہر خواہش چٹکیوں میں پوری کرتا تھا چاہے اسے اپنے ماں باپ سے لڑنا ہی کیوں نہ پڑے گھر میں کبھی کسی نے اس پر سختی نہیں کی یا یوں کہہ سکتے ہیں حیدر نے کبھی اس پر سختی کرنے ہی نہیں دی سحر کے برے وقتوں میں مشال نے اس کا بہت ساتھ دیا تھا وہ ہمیشہ سحر کا غم اپنا غم سمجھتی اور اسے کبھی اکیلا نہ چھوڑتی دونوں کی دوستی مثالی تھیمشال اور سحر نے گریجویشن کے بعد جاب کے لیے اپلاۓ کر دیا دونوں کے اچھے گریڈز کی وجہ سے دونوں کو ایک اچھی کمپنی میں جاب مل گٸ مشال کے گھر میں جاب کی اجازت نہیں تھی لیکن حیدر جیسا جس کا بھاٸ ہو بھلا اس کی خواہش کیسے نہ پوری ہوتی حیدر کو اپنی بہن اور سحر دونوں پر ہی اعتماد تھا حیدر نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف کے مشال کو جاب کی اجازت دے دی

دونوں ہی بہت خوش تھیں اس جاب سے سحر کے گھر کے حالت بہت بہتر ہوگۓ تھے اب وہ آرام و سکون سے اپنے گھر کے آخرجات پورے کرتی جو پیسے بج جاتے وہ ایک جگہ جمع کرتی رہتی

سنی کا بھی اس نے ایک اچھے کالج میں ایڈمیشن کروا دیا تھا سنی نے ہمیشہ اپنی ماں بہن کو محنت کرتے ہوۓ دیکھا تھا جو اسے پڑھانے کے لیے دن رات ایک کردیتی تھیں سنی اپنی پڑھاٸ کے معاملے بھی کبھی کوٸ کوتاہی نہ کرتا ہمیشہ کلاس میں فرسٹ آتا وہ پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بننا چاہتا تھا تاکہ اپنی ماں بہن کو اچھی زندگی دے سکے

حیدر بھی ایک اچھی کمپنی میں مینیجر کے عہدے پر فاٸز تھا لیکن شادی کے نام سے دور بھاگتا وہ وجاہت سے بھر پور اٹھاٸیس سال کا نوجوان مرد تھا ہلکے براٶن بال کالی گہری آنکھیں کھڑی ناک گورا رنگ چوڑے شانے کشادہ سینا وہ سنجیدہ مزاج کم گو تھا زیادہ کسی سے ملتا جھلتا نہیں تھا اس کے دوست بھی نہ ہونے کے برابر تھے

مشال بلکل اپنے بھاٸ کے برعکس تھی دبلی پتلی سی ہلکے براٶن کمر کو جھوتے سلکی بال ملاٸ جیسا رنگ براٶن آنکھیں چھوٹی سی ناک پتلے پتلے ہونٹ ہونٹوں کے نیچے خوبصورت سا تل اس کی خوبصورتی میں اضافہ کردیتا

سحر بھی مشال سے کچھ کم نہ تھی دودھ جیسی رنگت بھورے لمبے گھنے بال شہد رنگ آنکھیں بھرے بھرے ہونٹ گلابی گال مشال کے مقابلے میں سحر تھوڑی بھرے بھرے جسم کی مالک تھی وہ دونوں ہی چوبیس سالہ انتہاٸ حسین دوشیزہ تھیںسنی تو کسی ملک کا شہزادہ معلوم ہوتا تھا گوری رنگت جس میں گلابی رنگ کا بھی دخل تھا بڑی بڑی نیلی آنکھیں شہزادوں جیسی خوبصورت ناک ماتھے پر آتے کالے بال لمبا قد بھرا بھرا سینا اس پر چہرے سے ٹپکتی معصومیت داٸیں گال پر پڑتا ڈمپل سنی کسی کو بھی اپنا اسیر کرنے کا ہنر رکھتا تھا

سحر کے اچھے دن شروع ہوتے ہی ماں بھی اس دار فانی سے کوج کرگٸ حاجرہ بیگم کافی بیمار رہنے لگیں تھیں وہ ٹیبی کی مریضہ تھیں لیکن انھوں نے کبھی سحر کو بھنک نہیں لگنے دی سحر ویسے ہی بہت محنت کرتی تھی سارا دن کام کرکے تھک جاتی وہ نہیں چاہتی تھیں سحر کے سر ایک پریشانی لگ جاۓ اس لیے سحر کو اپنی بیماری سے لاعلم رکھا اور اپنے آخری وقت میں سحر سنی کو ایک دوسرے کا سہارا بننے کی تاکید کرکے آنکھیں موند گٸیں

سنی نے اینٹر کے پیپر سے فارغ ہوکر سحر کے لاکھ منا کرنے کے باوجود ایک چھوٹے سے کافی شاپ میں کیشیر کی جاب کرلی وہ صبح میں کوچینگ سینٹر چلا جاتا جہاں وہ یونیورسٹی کے اینٹری ٹیست کی تیاری کر رہا تھا

اور شام کو کافی شاپ جاتا اسی کی زندگی میں اس کی بہن جاب پڑھاٸ اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا کچھ دوست تھے جن سے وہ کبھی کبھار ہی ملتا اور وہ اس کو ہر دفع نٸ چیز سکھا کر بھیجتے وہ گھر آکر سحر کا دماغ کھاتا پھر سحر اسے پیار سے سمجھا کر چپ کروا دیتی تھی

” تیری معصوم باتیں دل کو بھاتی ہیں

میرے دل کا قرار ہے توں

اپنی بہن کا پیارا لعل ہے توں”

**********———*********

سحر کے زبان سے نکلے الفاظ سن کر مشال نے جھٹکے سے سر اٹھایا اور غور سے سحر کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگی کہ وہ کوٸ مزاق تو نہیں کررہی

سنی کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا وہ کبھی سحر کا چہرا دیکھتا تو کبھی مشال کا آخر میں زور زور سے ہنسنے لگا

سحر اور مشال دونوں ایک دوسرے کو ناسمجھی سے دیکھنے لگی

میں سمجھ گیا آپ لوگ میرے ساتھ پرینک (prank) کر رہی ہیں نہ سنی ہنستا ہنستا گویا ہوا

سحر کے ماتھے پر بل پڑ گۓ سنی

یہاں ہم دونوں اتنی ٹینشن میں ہیں تمھیں مزاق لگ رہا ہے یہ سب سنجیدہ ہوں میں بہت سحر نے اونچی آواز میں ایک ایک لفظ چبا چپا کر کہا

سحر کا غصہ دیکھ کر سنی سہم کر نظریں جھکا گیا اور خاموشی سے نیچے زمین کو تکنے لگا

ایسا ہی تو تھا وہ معصوم سا لاڈو میں پلہمشال نے سحر کے کندھے پر ہاتھ کا دباؤ ڈالا اور آنکھوں سے اشارہ کیا

صبروتحمل کی واضح تنبیہ کی گٸ تھی

سحر نے ایک کہرا سانس خارج کیا

سحر نے جھک کر اپنے قدموں میں بیٹھے سہمے ہوۓ سنی کا نرمی سے ہاتھ پکڑا اور اسے اٹھا کر اپنے برابر میں صوفے بٹھال لیا

سنی کا سر ابھی بھی جھکا ہوا تھا

میری جان آٸ ایم سوری میں نے تم پر غصہ کیا مجھے معاف کردو سحر نے محبت سے سنی کا چہرا اپنے ہاتھوں میں بھرا

کوٸ بات نہیں آپی غلطی میری تھی میں نے آپ کی بات کو مزاق سمجھا سوری سنی نے دوبارہ سر جھکا لیا

اچھا چھوڑوں ان باتوں کو یہ بتاٶ میری بات مانو گے کرو گے مشال سے شادی سحر نے سنی کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے امید سے پوچھا

اس نے ایک نظر مشال کو دیکھا جو سنی کو اپنی طرف دیکھتا پاکر نظریں جھکا گٸ تھی

آپی آپ میری شادی کیوں کروانا چاہتی ہیں آپ کی دوست مجھ سے بڑی ہیں اور میں بھی تو ابھی صرف انیس سال کا ہوں آپ مجھ سے بڑی ہیں پہلے آپ کی شادی ہونی چاہیے سنی نے معصومیت سے دھیمے لہجے میں جواب دیا

میری شادی تو تم ابھی بھول جاؤ جب تک تم سیٹل نہیں ہوجاتے میری شادی کا میں سوچ نہیں سکتی اور تم انیس سال کے ہو تو کیا ہوا بالغ تو ہو نا شادی تو ہوسکتی ہے نہ تمھاری اور جہاں تک مشال کے تم سے بڑے ہونے کی بات ہے تو یہ کوٸ اتنا بڑا مسلٸہ نہیں آج کے دور میں سب چلتا ہے سحر نے سنی کے ہر سوال کا جواب بنا کوٸ تمہید کے دیا

آپی آپ کو کیا ہوگیا ہے کیوں کروانا چاہتی ہیں آپ میری اتنی جلدی شادی میرے پاس تو کوٸ ڈھنگ کی جاب بھی نہیں مجھے تو خود آپ سنمبھال رہی ہیں آج تک تو میں بھلا یہ ذمہ داری کیسے اٹھاٶں گا سنی نے سحر کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر جواب دیا