304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 9)

Junon Inteqam By Rania Mehar

پورے پلیس کو خالی کرو مجھے یہاں کوئ نہیں چاہے ۔۔۔

شاویز اپنے سارے آدمیوں کو حکم دیتا اپنی شرٹ اتار چکا تھا۔۔۔۔۔

شاویز کو ایسے روپ میں دیکھتے کامرن کا آج صیح دل دکھا تھا ۔۔۔

وہ سمجھ گے تھے ان کے مکافات کی سزا ان کی بیٹی پانے والی تھی۔۔۔

پ۔پلیز میری بیٹی کو چھوڑ دو۔۔۔۔

کامرن منت کرتے بولے تھے۔۔۔

جبکہ اب روحا کا دھیان شاویز سے ہٹ کر اپنے باپ پر تھا مطلب شاویز بلکل ٹھیک کہہ رہا تھا۔۔۔

نہیں کامرن تم دیکھو گے کیسے کسی اپنے کے سامنے اپنے ہی گھر کی عزت لوٹی جاتی ہے میں بھی ایسے ہی تڑپا تھا تمہارے آگے۔۔۔

شاویز نے کہتے ہوۓ روحا کے پاٶں پکڑتے کامرن کو دیکھتے اذایت سے کہا تھا۔۔۔

م۔مجھے معاف کر دو پلیز میری بیٹی کا قصور نہیں تم مجھے مار دو پر روحا کے س۔۔۔

تمہیں مار کر مجھے مزہ نہیں آۓ گا جیتنا اسے تڑپا کر آے گا ۔۔۔

شاویز اس کا پاٶں چھوڑے سارے روم کی لائٹس آن کرتا بولا تھا۔۔۔

م۔مجھے ابو سے بات کرنی ہے خان۔۔۔

روحا اپنے باپ کے آنسو دیکھتی منت کرتی بولی تھی۔۔۔۔

بلکل ن۔۔۔

تم میرے شاہ نہیں کیونکہ میں تم سے شادی کرکے میں نے اپنا دوست کھو دیا ۔۔۔

لیکن اگر تم نے کبھی میری تھوڑی سی عزت کی ہو مجھے اپنے ابو سے بات کرنی دو پھر چاہے جان لینا میں زرا نہیں بولو گی بلکہ تمہیں میری آواز نہیں سنائ دے گی ۔۔۔

شاویز واپس اس کے پاس آتا بول رہا تھا جب روحا آنسو بہاتی منت کرتی بولی تھی۔۔۔۔

جاٶ پوچھو اپنے باپ سے اس رات کیا ہوا تاکہ میں جو کرنے والا تمہیں بھی احساس ہو جان نکلتی کیسے کہتے ہے۔۔۔

شاویز ترس کھاتا اس کے ہاتھ پاٶں کھولتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

————————————————————-

ابو ابو کیا ہوا تھا اس رات مجھے بتاے میں وعدہ کرتی ہو خان چھوڑ دے گا آپ کو پلیز بتاۓ۔۔۔۔

روحا بیڈ سے اترتی بھاگتی ہوئ کرسی سے باندھے کامرن کے پاس آتی روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

ن۔نہیں ب۔۔۔

پلیز ابو آپ نے پوری زندگی ہمیں اپنی بیٹیاں نہیں مانا لیکن ہم نے آپ کو باپ مانا ہے چاہے جیسے بھی سہی لیکن آپ کا سایہ ہمیشہ ہمارے سرٶں پر رہا ۔۔۔۔

ہاں دکھ اس بات کا ہے ہمیشہ آپ کے لمس کے لیے ترستی رہی ہم ۔۔۔۔

کامرن شرمندہ ہوتے بول رہے تھے جب روحا ان کے ہاتھ پکڑتی بولی تھی ۔۔۔

اس رات ہم چار آدمی تھے جو دریاب خان کے گھر چوری کرنے گے تھے ۔۔۔

میں تو فل نشے میں تھا کچھ نہیں پتہ تھا وہ کس کا گھر ہے وہاں سے ہم نے چوری کی اور واپس آ رہے تھے جب ہال میں ایک عورت نے چیخنا چلانا شروع کر دیا۔۔۔

ہم سب ڈر گے ہم نے اس عورت کو قید کیا ا۔۔۔۔

وہ عورت کوئ اور نہیں میری ماں تھی ۔۔۔۔

اس انسان نے میری نظروں کے سامنے میری ماں کا ریپ کیا پھر قتل کر دیا۔۔۔۔

کامرن روتے ہوۓ بول رہے تھے جب شاویز روحا کے ساتھ زمین پر بیٹھاتا ضبط سے بولا تھا۔۔۔

میں عالی سے ملنے گھر گیا تھا ماما اکیلی تھی گھر۔۔۔

میں جب گھر آیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا میری ماں اتنی بری حالت میں ہال کے درمیان گری پڑی ہے لیکن ان کو بچانے کی بجاۓ یہ چاروں حیوان بنے میری ماں کے ساتھ برا کر رہے تھے۔۔۔۔

میں تو تھا ہی بزدل موٹا میں نے روتے ڈرتے اندر جاتے منت کرتے کہا میری ماں کو چھوڑ دو پھر جانتی ہو کیا ہوا۔۔۔۔

شاویز اب روحا کا منہ دوبوچتا ہوا بولا تھا۔۔۔

پھر یہ ہوا تمہارے باپ نے نشے اور ہوس میں چور ہوتے مجھ پر گولی چلائ۔۔۔۔

گولی لگتے میں تڑپتا ہوا وہی گرا ان سب کی منت کرتا رہا لیکن ان سب نے رحم نہ کھاتے بس اپنی ہوس پوری کی ۔۔۔۔۔

میں نے اپنی آنکھوں سے وہ سب دیکھا تم جانتی ہو کیا گزاری ہو گی مجھ پر بلکل نہیں جانتی ۔۔۔۔

پھر اپنے باپ کی بے رحمی دیکھو جب اسے پتہ چلا وہ ایم این اے دریاب خان کی بیوی کے ساتھ یہ سب کر چکا تو بنا ڈرے میری ماں کے وجود پر گولیاں برسائ گی ۔۔۔۔

میری ماں جو اتنا ظلم سہتے اپنی آخری سانس لے رہی تھی گولی لگتے ہی وہ فوت ہو گی ۔۔۔۔

میری ان آنکھوں کے سامنے یہ سب ہوا روحا ۔۔۔

لیکن وہ سب تمہارے ساتھ ہو گا تمہارا باپ دیکھے گا سب کچھ اپنا انتقام لینے کے لیے میں ایسا نڈر مضبوط اعصاب کا مالک بنا ۔۔۔۔

شاویز اپنی ضبط ہوتی نیلی آنکھوں سے بولتا اٹھ کر روحا کو بازوں سے پکڑا تھا۔۔۔۔

ک۔کیا واقعی ابو۔۔۔۔

روحا ابھی بھی شوک ہوتی ہکلاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

کامرن نے شرمندگی سے گردن جھکا دی تھی۔۔۔۔

چلو اب ۔۔

شاویز یہ کہتا اب گم صم سی روحا کو گھسٹتا ہوا بیڈ کی طرف لاتا گرایا تھا۔۔۔۔

اب وہ دوبارہ اس کے ہاتھ پاٶں باندھ رہا تھا۔۔۔۔

روحا بے بی تم نے آنکھیں بند نہیں کرنی ورنہ تم سے پہلے تمہارے باپ کو گولی مارو گا۔۔۔۔

شاویز اپنی دوبارہ شرٹ اتارتے اس پر جھکتے بولا تھا۔۔۔۔

چھ فٹ سے نکلتا لمبا

مضبوط کسرتی جسم ۔۔۔

سکس پیکس جس پر پسینہ واضع دیکھ رہا تھا کشادہ صاف شفاف پیشانی نیلی آنکھیں کالے بال کالی ہلکی شیو۔عنابی ہونٹ ۔۔۔

شاویز خان ایک بھرپور پرسنلیٹی کا مالک تھا۔۔۔

روحا اسے شرٹ لیس دیکھتی اس کا گلا خشک ہوا تھا۔۔۔

کیا ہوا روحا بے بی بول کیوں نہیں رہی۔۔۔

شاویز اب اس کی گردن پر کاٹتے ہوۓ بولا تھا جہاں درد سہتی روحا نے اپنی دونوں لب زور سے بند کیے چیخ روکی تھی۔۔۔۔

کامرن بے بس ہوتا سب دیکھ رہا تھا ۔۔

اہہہہ۔۔

شاویز نے جب دیکھا روحا بس خاموش سب سہہ رہی تبھی اس کے کان کو زور سے کاٹا تھا جب وہ برداشت نہ کرتی چلائ تھی۔۔۔

روحااااا میری بیٹی ۔۔۔

کامرن تڑپتے ہوۓ چیخے تھے۔۔۔۔

ابھی سے رونا آ گیا ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں ۔۔۔

شاویز اپنی گردن موڑتے کامرن کو دیکھتے روحا کی شرٹ کو پھاڑتے بولا تھا۔۔۔۔

شاویز اب چاقو سے روحا کا آئ برو پر گہرا کٹ لگاتا مسکرایا تھا ۔۔۔

جہاں خون نکلا تھا۔۔۔

اب مسلسل خون نکلتا روحا کی آنکھ کے اندر جا رہا تھا ۔۔۔

خ۔خان ت۔تم کچھ بھی کرو ل۔لیکن لائٹس آف کرو ور۔۔۔

ورنہ کیا روحا بے بی ۔۔

روحا بے بس ہوتی اپنی گردن دائیں بائیں ہلاتی بول رہی تھی جب شاویز اس کا چہرہ پکڑے اس کی گرے آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا۔۔۔

ورنہ میرے گلاسز اتار دو کیونکہ میں اتنی بے شرم نہیں ہوئ کم از کم اپنی عزت کا جنازہ اپنے باپ کے سامنے نکلتے نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔

روحا پورا زور لگاتی بولی تھی۔۔۔۔

ہممم تمہاری سن کون رہا۔۔۔۔

شاویز نہ مانتا اپنے لب اس کے لبوں پر رکھتا اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا۔۔۔۔

شاویز نے یہ عمل تب تک رکھا جب تک روحا کی آنکھیں پانی سے بھر نہ گی ۔۔۔

روحا بے بی آنکھیں کھولو ورنہ گولی مار دو گا۔۔۔۔

شاویز اسے چھوڑتے اس کی بند آنکھوں کو دیکھتا غصہ سے بولا تھا۔۔۔

ت۔تم مر کیوں نہیں جا۔۔۔۔

روحا بے بس ہوتی چلا رہی تھی جب شاویز نے دوبارہ اپنا عمل دوہرایا تھا۔۔۔۔

شاویز اب سب بھولتا اپنا جنون شدت روحا پر لٹانا شروع کر چکا تھا ۔۔۔

جبکہ لائٹس وہ بند کر چکا تھا روحا کی چیخو پکار کامرن بس اندھیرے میں سنتے آنسو بہا رہے تھے۔۔۔۔

م۔مجھے م۔معاف۔ک۔۔۔۔

کامرن اپنی اکھڑتی سانسوں کے درمیان کہتے یہ سب نہ برداشت کرتے اپنی آخری سانس لے چکے تھے۔۔۔۔

جہاں پہلے تین نفوس تھے روم میں اب صرف دو تھے۔۔۔

شاویز اور روحا ۔۔۔

اہہہ ہہ کیا ہوا بس نڈھال ہو گی چچچچ افسوس ہمت ہونی چاہے تھوڑی سی۔۔۔۔

اپنی شدت پوری کرنے کے بعد بے ہوش ہوئ روحا کو چھوڑتے وہ اب بیڈ سے اتارتا ہوا افسوس سے بولا تھا۔۔۔۔

کہنے کو وہ اپنا انتقام تو لے چکا تھا لیکن دل میں روحا کے لیے افسوس بھی تھا ۔۔۔

جس نے یہ سزا پائ تھی۔۔۔

روحا کی حالت دیکھ وہ تھوڑی دیر کو شرمندہ ہوا تھا لیکن اپنی ماں کا چہرہ یاد کرتا وہ اب مردہ پڑے کامرن کے پاس آیا تھا۔۔۔

اٹھاٶ اسے دفن کرو گندگی کا ڈھیر ہے یہ۔۔۔۔

شاویز اب اپنے روم سے باہر نکلتا ہوا کامرن کو اٹھاۓ ہال میں گراتے اپنے آدمیوں کو حکم دیتا واپس روم میں چلا گیا تھا۔۔۔۔

جبکہ شاویز کے قدموں کی آواز نہ پا کر اس کے آدمی ہال میں آتے کامرن کی لاش کو اٹھاۓ خاموشی سے واپس چلے گے تھے۔۔۔۔

————————————————————

اہہہ روحا بے بی ابھی سے تھک گی فائدہ تمہیں تڑپانے کا۔۔۔۔

شاویز دوبارہ روم میں آتا اپنی شرٹ اتارتے بے ہوش روحا کا پاٶں پکڑے وہاں چاقو سے کٹ لگاتا بولا تھا۔۔۔۔

ا۔اہہہہ اب۔ابووو۔۔۔

ہوش میں آتی روحا چیختی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

شششش ابو تو گے تمہارے بے بی ۔۔۔۔

روحا کی ایک آنکھ خون سے بھری اب جم چکی تھی تبھی وہ ایک آنکھ سے آس پاس دیکھتی چلا رہی تھی جب شاویز اس پر جھکتے آرام سے بولا تھا۔۔۔۔

ک۔کہاں ہ۔۔۔

ششش بے بی یہ خوبصورت ٹائم ہمارا ہے ویسٹ مت کرو ۔۔۔

شاویز اس کے گال سہلاتا ہوا نرمی سے بولا تھا۔۔۔

روحا کا جسم دوبارہ بخار سے تپ رہا تھا۔۔۔

م۔مر ج۔۔۔۔

روحا آنسو بہاتی اب اسے کہہ رہی تھی جب شاویز اس کے لبوں پر لب رکھ چکا تھا۔۔۔۔

پہلے کی طرح اب شاویز کی شدت میں تیزی آ گی تھی۔۔۔۔۔

روحا پر رحم نہ کھاتا بس وہ اپنی جنونی محبت اس پر لٹا رہا تھا۔۔۔۔

جبکہ بے بس ہوتی روحا بخار کی وجہ سے دوبارہ بے ہوش ہوئ تھی۔۔۔

اس میں اتنی ہمت نہ رہی تھی شاویز کو خود سے دور کر سکے ۔۔۔

———————————————————–

اس نے نیند میں کروٹ بدلنی چاہی پر یہ کیا اس کی آنکھ کھل گئی ۔

ساری رات شاویز نے ایک پل کے لیے روحا پر رحم نہیں کیا تھا ۔۔۔۔

تبھی نڈھال سی روحا نیند میں دکھتے جسم کے ساتھ کروٹ لینے والی تھی جب وہ خود کو ہلا نہ پائ ۔۔۔

اپنے ہاتھوں کو حرکت نہیں دے پا رہی تھی ۔۔۔۔

جب اٹھنا چاہا تو پاؤں بندھے ہوئے تھے ۔ ۔۔

حیرت کی زیادتی سے روحا کی پوری آنکھیں کھل گئی تھی ۔

جیسے جیسے اسے یاد آیا اس کے ساتھ کیا ہوا تبھی وہ اب آنسو بہاتی سائیڈ پر گردن موڑتے دیکھا تھا۔۔۔

وہ کہنی بیڈ پر ٹکائے ۔ ہاتھ پر اپنا گال رکھے اس کی طرف رخ کیئے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔

اس کی نیلی آنکھوں میں ٹھہرا سکون دیکھتے وہ خود سے شرمندہ ہوئ تھی ۔۔۔

کیونکہ دونوں ویسی رات والی حالت میں ایک ہی کمبل میں تھے ۔۔۔۔

اسے دیکھتی روحا نے بے بسی سے اپنی گردن موڑتے دوسری طرف چہرہ کر لیا تھا۔۔۔

شاویز ویسے ہی سکون سے اس کے سوجن ہوۓ چہرے کو دیکھ رہا تھا جہاں اب خون آنکھ سے بہتا اس کے گال پر بھی جما ہوا تھا۔۔۔

روحا کو تشویش ہوئی اس نے واپس گردن اس کی طرف موڑتے اسے دیکھا تھا۔۔۔

جو اسی پوزیشن میں پلکیں جھپکائے بنا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔

کچھ دیر اور گزری ۔ پر ہنوز خاموشی ۔۔

اس پر ظلم یہ کہ وہ بھی نہیں بول سکتی تھی ۔

شرمندگی کے مارے روحا کی زبان بھی بولنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔۔۔

اچانک کچھ دیر بعد وہ اس کے قریب ہوا انتہائی زیادہ قریب۔۔

اتنا قریب دونوں کے لب ٹچ ہو رہے تھے۔۔۔

۔ وہ بوکھلا گئی ۔ ۔

روحا ڈری تھی اسے اپنے قریب دیکھ کر وہ سمجھی تھی شاویز پھر رات والے روپ میں واپس آ جاۓ گا۔۔۔

لیکن نظریں اس کے ہی چہرے کا طواف کر رہی تھیں ۔۔

سرخ نیلی آنکھیں بے ترتیب بال ہلکی داڑھی ۔ وہ آج بھی اس کا دل دھڑکا رہا تھا ۔۔ ۔

روحا کو شاویز اپنا دو سال پرانے والا شاہ لگا تھا جو معصومیت سے اسے دیکھا کرتا تھا۔۔۔

پ۔پ۔پلیز خان م۔۔۔

روحا اسے اپنے قریب آتے دیکھ بولنے والی تھی

جب وہ اچانک اٹھا اور اس کے پلکیں جھپکتے ہی اپنی شرٹ روحا کو کمر سے پکڑتے بیٹھاتے پہنا کر واش روم چلا گیا تھا۔۔۔

اس نے بے بسی سے سر ہاتھوں میں تھاما تو حیران رہ گئی ۔ اس کے ہاتھ کھلے ہوئے تھے ۔ مطلب وہ اس لئے قریب آیا تھا اس کے ۔۔۔

روحا منہ کھولے حیرت سے اپنے ہاتھ پاٶں دیکھ رہی تھی پاٶں سے نکلا خون بھی جم چکا تھا۔۔۔

اب۔ابو عالی ۔ہاں مجھ۔مجھے یہاں نہیں رہنا۔۔۔

خود کو آزاد پاتی روحا جلدی سے شاویز کی پہنی شرٹ کو ٹھیک کیے زمین پر گرے اپنے ڈوپٹے کو لے پاگلوں کی طرح روم سے باہر بھاگی تھی۔۔۔۔۔

ہال سے گزارتے روحا نے بنا دیکھے خان پلیس سے بھاگ گی تھی جبکہ شاویز کے سارے آدمی سر جھکاۓ آرام سے کھڑے تھے۔۔۔۔

کیونکہ سب جانتے تھے روحا شاویز کی بیوی ہے تبھی کسی نے روکا نہیں تھا۔۔۔

کھڑکی کے پاس کھڑا شاویز نے مسکراتے ہوۓ یہ منظر دیکھا تھا جہاں زخمی پاٶں لے روحا اکیلی سنسنان راستے پر بھاگ رہی تھی ۔۔۔

ہیلو ہاں جاٶ روحا بے بی کو اس کے گھر چھوڑ دو۔۔۔۔

شاویز اپنے گارڈ کو فون کرتا اب سگریٹ منہ میں لیتا اس کا دھواں چھوڑتے طنزیہ مسکراہٹ لاۓ حکم دیتا فون بند کر چکا تھا۔۔۔

————————————————————

د۔دادی د۔۔۔۔

چٹاخخخ۔۔۔

آوارہ بدچلن بدکردار اب دادی یاد آ گی ہاے تم مر کیوں نہیں جاتی تمہاری وجہ سے میرا بیٹا مر گیا۔۔۔۔

کہاں تھی پوری رات کس کے ساتھ منہ کالا کیا تمہارا باپ مر گیا تمہیں عیاشی کی پڑی تھی ۔۔۔

ڈوب کے مر جاٶ۔۔۔۔

روحا جیسے تیسے وہاں سے آ گی تھی جیسے ہی اپنے محلے میں آی گھر کے باہر اتنے لوگوں کا رش دیکھتی اندر آتی اپنی دادی کے پاس آی تھی۔۔۔۔

جو محلے کی عورتوں کے پاس بیٹھی ان کو رو کر بتا رہی تھی کامرن کی موت ان کی پوتی کی وجہ سے ہوئ تھی۔۔۔

بکھرے ریڈیش بال سوجی آنکھیں چہرہ زخمی حالت نڈھال سی چال چلتی روحا کو دیکھ کر محلے کی ساری عورتوں نے یقین کر لیا تھا دادی بلکل ٹھیک کہہ رہی تھی۔۔۔۔

م۔میں بدکردار نہ۔۔۔۔

تم ہو جیسی ماں ویسی بیٹی ہاے میرا بیٹا چلا گیا۔۔۔۔

روحا روتے ہکلاتے ہوۓ بول رہی تھی جب دادی نفرت سے کہتی اپنا سینہ پیٹتے دہائ دینے لگ گی تھی ۔۔۔

توبہ توبہ آجکل کا زمانہ دیکھو کیسے ہمت سے کھڑی ہے توبہ ایسی پڑھی لکھی لڑکی ہونی ہی نہیں چاہے کیسے باپ کو بدنام کر دیا ایسی بیٹیوں کو تو مر جانا چاہے ۔۔۔۔

عورتیں اب باتیں کرنے لگ گی تھی۔۔۔۔

م۔میں ب۔بدکردار ن۔نہیں ہ۔۔۔۔

بخار بھوک نڈھال سی حالت کی وجہ سے صدمے میں جاتی روحا کہتی اب بے ہوش ہوئ کسی کی باہوں میں جھولی تھی۔۔۔۔۔

وہی ساری عورتیں روحا کو خوبصورت مرد کی باہوں میں دیکھ دنگ رہ گی تھی ۔۔۔۔

جہاں اب وہ سب کو قہر برساتی نیلی آنکھوں سے گھور رہا تھا۔۔۔۔

بلیک کرتا شلوار میں ملبوس تیار سا شاویز

باہوں میں جھولتی روحا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

ش۔شاویز خان۔۔۔

ساری عورتیں اب آہستہ آہستہ سرگوشیاں کر رہی تھی کیونکہ سب جانتے تھے شاویز خان کون ہے ۔۔۔

جبکہ دادی ابھی بھی بے ہوش روحا کو برا بھلا کہہ رہی تھی ۔۔۔

سب کو اگنور کیے وہ اسے اندر لے کر گیا تھا۔۔۔۔

توبہ توبہ کیسی بے شرمی ہے یہ۔۔۔

عورتیں ابھی بھی بول رہی تھی۔۔۔