Junon Inteqam By Rania Mehar Readelle50333 Junon Inteqam (Episode 1)
Rate this Novel
Junon Inteqam (Episode 1)
Junon Inteqam By Rania Mehar
اٹھ جاۓ باجی کتنی دیر سے سو رہی ہے ۔۔۔۔
علیشبہ سوتی روحا کو اٹھاتی بولی تھی۔۔۔
اففف کیا ہے سونے دو میں نے کون سا پاکستان چلانا ہے جو اٹھا رہی ہو یار۔۔۔
بیڈ سے اٹھ کر بیٹھتی روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔
یار باجی اٹھ جاۓ دادی کا پتہ ابھی ابو سے شکایت لگا دے گی ۔۔۔۔
علیشبہ پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔
میں نہ ابو سے ڈرتی ہو نہ ہی دادی سے تم بھی آ جاٶ سوتے ہے مزے کی نیند آ ۓ گی۔۔۔
روحا سکون سے بولتی علیشبہ کو بھی اپنے پاس گراتے لیٹتی بولی تھی۔۔۔۔
باجی ایسا نہ کیا کرے ابو ناراض ہو جاتے ا۔۔۔
ابو کی بات ہی مت کرو وہ صرف نام کے ابو ہے انہیں تو امی بھی پسند نہیں تھی۔۔۔
علیشبہ پریشان ہوتی بول رہی تھی جب روحا اپنے ہاتھ اسے کے کرلی بالوں میں چلاتی بولی تھی۔۔۔
اچھا باجی ایسے تو نیند آ جاۓ گ۔۔۔۔
کالج سے چھٹی میں بھی آج یونی نہیں جا رہی تو سوتے ہے مل کر ۔۔۔۔
علیشبہ نیند میں جاتی بول رہی تھی جب روحا ٹوکتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
————————————————————
یہ دیکھو منحوسوں کو زرا شرم نہیں شام ہونے والی یہ گھوڑے پیچ کر سو رہی ہے ۔۔۔۔
روحا اور علیشبہ دونوں گہری نیند سو رہی تھی جب دادی اندر آتی ڈنڈا روحا کے پاٶں پر مارتی چلائ تھی ۔۔۔
کیا ہے دادی کیا مسئلہ ہو گیا کھانا نہیں ملا گیا بلاوجہ مارنے لگ جاتی ہے ۔۔۔۔
روحا چیختی ہوئ بولتی اٹھی تھی ۔۔۔
جبکہ علیشبہ ڈر سے اٹھ کر بیٹھ چکی تھی۔۔۔
تمیز دیکھو اپنی کتنی لمبی زبان ہے ت۔۔۔۔
تمیز کی بات ہی مت کرے تو اچھا ہے آٶ علیشبہ میں کھانا دو تمہیں۔۔۔
روحا اٹھتی اپنے ریڈیش بالوں کا جوڑا کیے روم سے باہر جاتی بولی تھی۔۔۔۔
————————————————————
باجی آپ کھانا کھا لو مجھے تو بھوک ہ۔۔۔
ارے مجھے یاد آیا بھوک ہی نہیں رات کا کھایا ہوا ہے تم کھاٶ ویسے بھی میری جان کو بھوک لگی ہے۔۔۔
روحا کو اٹھانے سے پہلے علیشبہ نے قورمہ بنایا تھا۔۔۔
اب رات کے وقت کچن میں دونوں کھانا کھانے آئ تھی جب انہیں سالن اور روٹی کم لگی تو علیشبہ بولی۔۔۔
تبھی روحا بہانہ بناۓ بولی تھی۔۔
کیونکہ وہ جانتی تھی علیشبہ کو بھوک زیادہ لگتی تھی۔۔۔
اچھا جلدی کھاٶ کھانا اس کے بعد واک پر جاۓ گے پھر میں اپنی جانی کو آئسکریم کھلاٶ گی ۔۔۔
روحا جلدی جلدی نوالے بناتی اسے کھلاتی بولی تھی۔۔۔
جبکہ دونوں بہینں ایک دوسرے کو اب کھانا کھلا رہی تھی۔۔۔۔
————————————————————
کیوں آی ہو روم میں ۔۔۔
دادی پان کھا رہی تھی جب روحا کو روم میں آتا دیکھ بولی تھی۔۔۔
پیسے دے جلدی باہر جانا ہے ۔۔۔
روحا دو ٹوک بولی تھی۔۔۔
کیوں کھانا کھایا نہ اب سکون سے س۔۔۔
جانتی ہو کتنا کھانا دیا آپ کو پتہ تھا ہم دونوں نے کھانا لیکن پھر بھی چھپا دیا ۔۔۔
اسی لوہے کے ڈبہ میں رکھا ہے کھانا کسی دن یہی کھا کر مر جاۓ گی۔۔۔
روحا ان کے روم میں پڑے پرانے سے ڈبے کو لات مارتی غصے سے بولی تھی۔۔۔۔
تمیز ت۔۔۔۔
جی تمیز نہیں ہے میرے پاس ۔۔۔
دادی غصے سے بول رہی تھی جب روحا سکون سے بولتی ان کے پان دان سے پیسے لیتی ہوئ چلی گی تھی۔۔۔۔
ماں جیسی ہو بلکل آوارہ۔۔۔
جی بلکل میں دادی جیسی ہو ۔۔۔
دادی طش سے چلائ تھی جب روحا رخ ان کی طرف کرتی آنکھ ونک کیے بولتی باہر بھاگ گی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
باجی آپ کیوں دادی کو تنگ ک۔۔۔۔
یار دادی اسی کے قابل ہے تم نہ سوچا کرو ا۔۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ بچاٶ کتا پڑ گیا میرے پیچھے بچاٶ بچاٶ۔۔۔۔
روحا اور علیشبہ دونوں سڑک پر واک کرتی جا رہی تھی جب دور سے کوئ موٹا سا شخص بھاگتا ہوا آیا تھا۔۔۔
اتنے موٹے ہو ایک کتے سے ڈر رہے ہو۔۔۔
روحا اپنے سامنے کھڑے اس موٹے لڑکے کو دیکھ وہ سکون سے بولی تھی۔۔۔
پ۔پلیز۔بچاٶ وہ کاٹ لے گا۔۔۔
وہ منت کرتا بولا تھا۔۔۔
کہاں ہے کتا۔۔۔
علیشبہ جلدی سے دیکھتی بولی تھی۔۔۔
و۔وہ رہا۔۔۔
دور سے آتے کتے کو دیکھتے وہ چلایا تھا۔۔۔۔
ون ٹو تھری گو۔۔۔۔۔
روحا خود کتے کو دیکھتی ڈر چکی تھی تبھی علیشبہ اور اس لڑکے کا ہاتھ پکڑتی بھاگی تھی۔۔۔
علیشبہ اور لڑکے کی چیخے گونج رہی تھی۔۔۔
موٹے چپ کرو میرا کان پھٹ گیا۔۔۔
روحا چیختی بولی تھی۔۔۔
م۔م۔۔۔
چپ بلکل چپ اب جاٶ بھاگ گیا کتا۔۔۔۔
وہ بول رہا تھا جب روحا ڈاٹنتی ہوئ اپنے گھر چلی گی تھی۔۔۔۔
———————————————————–
ہاے عالی کیسی ہو۔۔۔
ماہم کالج میں آتی صبح علیشبہ سے گلے ملتی بولی تھی۔۔۔
ہاے۔۔۔
علیشبہ نے بنا دیکھے جواب دیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی روحا کو ماہم سے دوستی نہیں پسند۔۔
یہ رنگ پیاری ہے بہت ضرور روحا نے گفٹ کی ہو گی۔۔۔
ماہم علیشبہ کے سفید انگلی میں خوبصورت سی رنگ دیکھتی بولی تھی۔۔۔
ہاں پرسوں برتھ ڈے تھا۔۔۔
تو باجی نے گفٹ کی۔۔۔
علیشبہ مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہیلو عالی جان تم ایسا کرو گھر چلی جاٶ میری ضروری کلاس ہے شام تک آ جاٶ گی۔۔۔
علیشبہ کے فون پر جب روحا کی کال آی تو اسے سنتی علیشبہ نے حامی بھری تھی۔۔۔۔
یہ فون بھی پیارا ہے مجھے دینا۔۔۔
ماہم اب موبائل لیتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
جبکہ علیشبہ اب خاموش کھڑی تھی۔۔۔
————————————————————
اب تو موبائل دے دو میں نے گھر جانا ہے ۔۔
علیشبہ اپنا موبائل ماہم کو دیتی خود کلاس لینے چلی گی تھی جب واپس آئ تو بولی تھی۔۔۔
یار یہ فوجی نام کا بندہ تمہاری ایف بی آی ڈی میں ہے ہاے تمہاری بات ہوتی ہے کیا۔۔۔۔
ماہم ایف بی اوپن کرتی بولی تھی۔۔۔
ہاں ایک دفعہ ہوئ تھی ۔۔۔
اس کے بعد نہیں۔۔۔
علیشبہ اپنا موبائل لیتی وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔
انہہہ روحا کی کٹھ پتلی جو وہ کہتی وہی کرتی ہے ۔۔
ماہم دور جاتی علیشبہ کو دیکھتی نفرت سے بولی تھی۔۔۔
کیونکہ روحا اور علیشبہ دونوں ہی خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت تھی ۔۔۔
پورے کالج میں کسی نے بھی علیشبہ کا چہرہ نہیں دیکھا تھا سواۓ ماہم کے۔۔۔
تبھی وہ جلتی تھی ان دونوں سے۔۔
————————————————————
اوے موٹے تم بھی یہی ہو۔۔۔۔
روحا اپنی کلاس سے جب باہر آئ تو سامنے اسے دیکھتی مسکراتی بولی تھی۔۔۔
جو ڈرا سہما سا کھڑا تھا۔۔۔
نیلی بڑی بڑی آنکھیں کالے گہرے بال کالی ہی ہلکی شیو گلابی ہونٹ پھولے سرخ گال جیسے سیب ہو۔۔۔۔سرخ سفید رنگ چوبیس سال میں ہونے کے بادجود وہ اپنی ایج کے حساب سے زیادہ موٹا اور بڑی عمر کا لگتا تھا۔۔۔
موٹاپے کی وجہ سے وہ پہلوان پیڈو لگاتا تھا۔۔۔
ایک بات جو سب کو اپنی طرف متوجہ کرتی تھی وہ تھی اس کے چہرے پر معصومیت ۔۔۔
ہاں میں بھی پڑھتا ہو۔۔۔
وہ معصومیت سے جواب دیتا بولا تھا۔۔
اہہیہہ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا۔۔۔۔
روحا اس کے پاس آتی گال کھیچتی بولی تھی ۔۔۔
تمہارا نام کیا۔۔۔
وہ شرماتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
روحا اور تمہارا۔۔
روحا اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی۔۔۔
میرا نام شاہ ہے۔۔۔
شاہ مسکراتا بولا تھا۔۔۔
چلو موٹے مجھے برگر کھلاٶ پھر میں تمہیں کھلاٶ گی۔۔۔۔
روحا اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتی مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
شاہ کو پوری یونی میں روحا پسند آئ تھی جو اس کے موٹے پے کی وجہ سے بھی آرام سے بلاتی تھی۔۔۔۔
جبکہ سب اس کا مذاق بناتے تھے۔۔۔
ہ۔ہاں آٶ۔۔۔
شاہ خوش ہوتا روحا کا کومل ہاتھ پکڑتا جاتے بولا تھا۔۔۔
تم بہت خوبصورت کو روحا۔۔۔
برگر کھاتے وقت روحا نے اپنا نقاب اتارا تھا تبھی وہ اسے مگن دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ریڈیش کلر کے بال جو روحا نے اپنے بالوں پر کروایا تھا ۔۔گرے آنکھیں ۔سرخ سفید چہرہ ڈمپل پڑتے گال ۔۔عنابی ہونٹ جو ہر وقت ببل کھانے کی وجہ سے ہلاتے رہتے تھے۔۔۔
شکریہ تم بھی بڑے کیوٹ ہو۔۔۔
روحا اس کے گال کیھچتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
وہی وہ شرمایا تھا۔۔۔
————————————————————
شکر باجی آپ آ گی ۔۔۔
رات کو علیشبہ روحا کے پاس آتی فکر مندی سے بولی تھی۔۔۔
کیوں کیا ہوا۔۔۔
روحا پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔
ارے باجی کچھ نہیں ابو بلا رہے یہی بتانے والی تھی۔۔۔
علیشبہ نے سکون سے جواب دیا تھا۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔
روحا اپنی شرٹ کی پاکٹ سے پیسے نکالتی ہوئ اپنے ابو کے روم میں گی تھی۔۔۔۔
یہ ابو پیسے۔۔۔۔
روحا اپنے باپ کے سامنے پیسے رکھتی بولی تھی۔۔۔
اتنے کم پیسے کیوں۔۔۔۔
کامرن صاحب نشے سے جھومتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔
عالی کے لیے گفٹ لیا ت۔۔۔
بس کرو جیسی ماں تھی ویسی ہی بیٹیاں ہونی تھی ۔۔۔میں تو اسی وقت کہتی تھی بھاگا دیتے اسے بھی اس کے ساتھ آوارہ۔۔۔
روحا ابھی بول رہی تھی جب دادی اندر آتی نفرت سے بولی تھی۔۔۔
دادی آپ کو پیسوں سے مطلب ہوتا ہے وہی لے میری ماں کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے بڑی نہ ہوتی تو منہ توڑ دیتی ۔۔۔۔
پکڑے اپنے نشی بیٹے کو۔۔۔۔
روحا بھی نفرت سے جواب دیتی کہتی وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔۔
انہہہ آوارہ ماں کی بیٹیاں۔۔۔۔
دادی بھی حقارت سے کہتی کامرن کے پاس گی تھی۔۔۔
جو نشے سے جھولتے اب بیڈ پر گرتے سو رہے تھے۔۔۔۔
———————————————————–
ہاے کیسے ہو ۔۔۔
دلاور اپنی جاب سے واپس آتا ابھی آ کر لیٹا تھا جب اسے آی بی مسیچ آیا۔۔۔۔
جی کہے۔۔۔
دلاور نے سنجیدہ ہوتے ٹائپ کیا تھا۔۔۔۔
ہاے میرا نام علیشبہ ہے کیا دوستی کرو گے۔۔۔
دلاور حیران ہوا تھا کہ کوئ لڑکی ایسی بھی ہو سکتی ہے جو خودی بات کر رہی ہے ۔۔
سوری میں بات نہیں کرتا ۔۔۔
دلاور نے دو ٹوک بات کی تھی۔۔۔
جبکہ علیشبہ
ڈھیٹ ہوتی مسلسل اسے مسیچ کر رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
مطلب چھوٹی سی فمیلی ہے ۔۔۔
دلاور کب سے اسے اگنور کر رہا تھا ۔۔۔
بآلاخر تنگ آتے وہ مسکراتا ہوا بات کرنے لگ گیا تھا۔۔۔
جی باجی ہے میری روحا نام اس کا ۔۔۔
علیشبہ کا مسیچ شو ہوا تھا۔۔۔۔
ہممم۔۔۔
عالی سوئ نہیں ابھی تک۔۔۔
ب۔باجییی۔۔۔
علیشبہ جو فون یوز کرنے میں بزی تھی جب روم میں انٹر ہوتے روحا کی آواز سنتی چیخی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا میری جان کو۔۔۔۔
روحا پریشان سی ہوتی پاس آتی بولی تھی۔۔۔
علیشبہ کی جان لبوں پر آ چکی تھی۔۔۔
