304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 19)

Junon Inteqam By Rania Mehar

سنو میری بات یہ شاویز کس کے روم میں جاتا ہے ۔۔۔

کافی دیر لان میں چکر لگاتے روحا اب ہال میں آتی ایک روم میں شاویز کو جاتا دیکھ ملازمہ سے پوچھا تھا۔۔۔

و۔وہ م۔میم۔ہم بیلو لائن سے پوچھے بنا نہیں بتا سکتے ۔۔۔

ملازمہ سر جھکاۓ بولی تھی۔۔۔

کیااااا ہاہاہااہاہاہاہہاہاہاایا۔۔۔

سیرسیلی یہ لائن ہے افففف یہ انسان تو بلی کو دیکھ کر چیخے مارے تم لوگ اسے لائن کہہ رہے ہو۔۔۔

ارے یار یہ جھوٹ کس نے بولا اب یہ بزدل انسان لائن ہے ارے یہ بلی بھی نہیں لگتا ۔۔

ہاہاہہاہااہاہااہاہا۔۔۔

روحا ملازمہ کی بات سنتی پاگلوں کی طرح قہقہ لگاتی بولی تھی۔۔۔۔

و۔وہ۔م۔میم سر شا۔۔۔۔

ملازمہ اب اس کے پیچھے کھڑے شدید غصے میں شاویز کو دیکھتی بول رہی تھی جب روحا بولی تھی۔۔۔

ارے چھوڑو اس چوہے سے کون ڈرتا ہے میں تو بلکل نہیں ڈرتی ۔۔

یہ موٹا انسان ایک چوہے سے تو ایسے ڈرتا تھا کہ ب۔۔۔۔

روحا اب مسلسل مذاق بناتی بول رہی تھی جب اسے اپنی کمر پر شاویز کی انگلیاں محسوس ہوئ ۔۔۔

اس کا اوپر کا سانس اوپر رہ گیا تھا۔۔۔۔

جبکہ ملازمہ بھی حیرت سے دیکھ رہی تھی ہونا کیا ہے اب۔۔۔

ت۔تم کیا کر رہے ہو۔۔۔

ملازمہ تو سر جھکاۓ وہاں سے چلی گی تھی جب روحا گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

آٶ تمہیں بتاٶ کون بلی ہے کون شیر۔۔۔

شاویز نرمی سے اس کے کان کی لو کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔

اہہہ بلی خود کو شیر ہی کہتی ہے ۔۔۔

روحا گھبراہٹ پر قابو پاتی بامشکل بولی تھی۔۔۔

اچھا چلو آٶ کچھ دیکھاتا ہو۔۔۔

شاویز اسے اپنی گود میں آٹھاۓ روم کی طرف جاتا بولا تھا۔۔۔

ک۔کیا طریقہ ہے تم مج۔مجھے چھوڑو میں خود بھی جا سکتی ہو جاہل انسان۔۔۔

روحا تڑپتی اسے مکے مارتی بولی تھی۔۔۔۔

اففف ابھی سے ڈر گی تم ۔۔

شاویز اسے روم میں لاتا بولا تھا۔۔۔

کیا ہے روم میں ایویں کہا رہے ہو تم۔۔۔

روحا پورے روم کو دیکھتا منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔

یہ پردہ ہٹاٶ تو پھر پتہ چلے گا۔۔۔۔

شاویز اسے روم کے کونے میں بنی ایک ونڈو کے قریب لاتا خود اس کے پیچھے کھڑا ہوتا بولا تھا۔۔۔۔

اہہہ ڈرتی نہیں ہو اپ۔

اپنا ج۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔

روحا منہ بناۓ ونڈو سے پردہ ہٹاتی بول رہی تھی جب سامنے کا منظر دیکھتی وہ چیختی چلاتی شاویز کے ساتھ لگی تھی۔۔۔۔

کیا ہوا روحا بے بی ڈر گی۔۔۔

شاویز اسے پیٹ سے پکڑتے مسکراتے بولا تھا۔۔۔

ی۔یہ ک۔۔۔

روحا کا چہرہ زرد ہو گیا تھا وہ تو بولتی ہوئ دوبارہ سامنے دیکھتی چپ ہو گی تھی۔۔۔۔

شاویز کے لبوں پر گہری مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔۔

————————————————————

اہہہہ اہہہہہہ۔۔۔

چیخیں مارتے ہوئے علیشبہ کھڑی ہو گئی تھی اور کمر تک پہنچنے کی ناکام کوشش کرنے لگی.

وہ دونوں آج مل کر گارڈن میں پودے لگا رہے تھے ۔۔۔

جب اسے محسوس ہوا اس کی کمر پر کوئ چیز جا رہی ہو ۔۔

کسی بلی کی طرح وہ اپنے گرد چکر لگا رہی تھی۔ جب دلاور نے اپنے دستانے اتار کر پھینکے اور اسے کندھوں سے پکڑ کر روکا. ۔۔

کیا ہوا یار۔۔۔

لیکن وہ چیختے ہوئے ہلکا سا اچھل رہئ تھی.

ک۔کم۔کمر پر کچھ ہے سائیں ۔۔۔

آرام سے کھڑی ہو جاؤ…دیکھنے دو

آرام سے کھڑی نہیں ہو سکتی میں… جلدی نکالووووووو اسے مجھ پر سےےےےےےے….

اس کی سانس اٹک گئی تھی اس ایک کیڑے کی وجہ سے. ۔۔

تبھی علیشبہ اچھلتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

دلاور نے اس کا رخ پلٹا اور سارے بال ایک ہاتھ میں تھام کر انہیں اونچا کر دیا.

اس کی کمر پہ ایک چھوٹا سے کیڑا اب گردن کی طرف بھاگ رہا تھا۔۔

تو دلاور نے اسے جلدئ سے علیشبہ پر سے اتار پھینکا.

وہ بھاگتی ہوئی وہاں سے دو فٹ دور جا کھڑی ہوئی اور دونوں ہاتھوں کو تھوڑی کے نیچے دیئے کانپنے لگی. ۔۔

اففف کتنی ڈرپوک ہو یار ایک فوجی کی بیوی ہو بہادر بنو ۔۔

دلاور اسے کمر سے پکڑتے اپنے قریب لاۓ نرمی سے بولا تھا۔۔۔

نہی۔نہیں سائیں و۔وہ میرے لی۔لیے سانپ ہی تھا۔۔۔

اس کے لئے وہ چھوٹا سا کیڑا کسی سانپ کے برابر تھا. علیشبہ نے گہرے سانس لیتے کہا تھا۔۔۔

دلاور نے اسے اپنے شوز کے نیچے کچل دیا تو وہ ایک بار تو بری طرح کپکپائی ۔۔

لیکن پھر تھوڑا بہتر محسوس کرنے لگی.

ای ی ی ی …

مجھے نہیں کرنی گارڈننگ…

علیشبہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتی انہیں چیک کرتے ہوئے کہنے لگی. ۔

وہ ابھی بھی کانپ رہی تھی ۔۔۔

تو دلاور نے اسے پکڑ کر قریب کیا اور اپنے حصار میں لے لیا.

چ…چھوڑے سائیں مجھے.

وہ گھاس کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی.

وہ چھوٹا سا کیڑا تمہیں کچھ نہیں کہتا.

دلاور نرمی سے اس کے بال سہلاتا بولا تھا۔۔۔

علیشبہ نے حیرت سے اور آنکھیں پھیلا لیں.

چھوٹا سا….. وہ اتنا بڑا تھا اور مجھے کاٹ لیتا.

کپکپاتے ہوئے اس کا جواب آیا تھا. ۔۔

تم سے بڑا تو نہیں تھا۔۔

وہ اس کا گال چومتے ہوئے کہنے لگا علیشبہ اپنے چہرے میں گرماہٹ محسوس کرنے لگی.

اور اس کی پکڑ میں مچلنے لگی.۔۔

چھ۔چھوڑے سائیں۔۔۔

اسے یوں مچلتا دیکھ کر دلاور نے اپنا چہرہ اس کی گردن میں چھپا لیا.

س۔سائیں نہ ک۔کرے گھبراہٹ ہوتی ہے ۔۔۔

علیشبہ نے اس کی حرکتوں سے گھبراتے اپنا خشک حلق تر کرتے کہا تھا۔۔۔۔

مجھے بھوک…

وہ جملہ مکمل کرتی اس سے پہلے دلاور نے اپنا چہرہ اس کے قریب لاتے نرمی سے اس کے ہونٹوں کو قید کیا تھا۔۔۔۔

علیشبہ اس کی نظروں کی تاب نا لا پائی تو نظریں جھکا لیں.۔

لیکن دلاور نے اسے آزاد کر دیا تو وہ دروازے کی طرف بھاگی.

عالی میری جان ۔۔

اس کی آواز پہ وہ پلٹی تھی.

اپنئ بھوک اچھے سے ختم کر کے آنا.

اس کی بات پہ علیشبہ کو حلق میں کچھ اٹکتا محسوس ہوا.

ج..جی س۔سائیں۔۔۔۔

علیشبہ جلدی سے بولتی اندر کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔

وہی دلاور کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔

————————————————————

ی۔یہ ببر شیر کس کا ہے شاویز ۔۔۔

روحا ونڈو کے پار ایک پنچرے میں قید غراتے ہوۓ شیر کو دیکھتی بولی تھی۔۔۔

جو بھوک کی وجہ سے غرا رہا تھا۔۔۔

یہ شاہو ہے میرا پورے دو سال اس کو پالا ہے آٶ تم سے ملاقات کروا دو۔۔۔

شاویز اپنے تھوڑی اس کے شولڈر پر رکھتے بولا تھا۔۔۔

روحا کے جسم کو کانپتا شاویز کو باآسانی سے محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

ی۔یہ شاہو تھا۔۔

افففف مجھے ڈر لگ رہا ہاےے کتنا بڑا ہے یہ ۔۔۔۔

روحا اب اپنا رخ شاویز کی طرف کرتی اسی کے سینے میں منہ چھپاۓ ہکلاتی بولی تھی۔۔۔

ہاں یہ بڑا ہی ہوتا ہے یار آٶ اسے گوشت کھلاتے ہے ا۔۔۔

ن۔نہیں بلکل نہیں یہ کھا جاۓ گا مجھے ۔۔۔

شاویز کو اپنے سینے میں سکون اتارتا محسوس ہوا تھا تبھی اسے اپنے سینے سے لگاۓ وہ بول رہا تھا جب روحا اسے مکہ مارتی برا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔

یار اسے بھوک تو ل۔۔۔

غوں غوںںںں۔۔۔

اہہہہ اہہہہہہہ ہاے یہ کھا جاۓ گا مجھے ہاے مج۔مجھے بچاٶ شاہ سچ یہ کھا لے گا مجھے۔۔۔۔

شاویز بولا تھا جب شیر بھوک سے غراتا ونڈو کے بلکل قریب آیا تھا۔۔۔

جب تھوڑی سی گردن موڑتے وہ دوبارہ شاویز کے سینے سے چیپکتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔

یار ریلکس یہ کچھ نہیں کہ۔۔۔

ت۔تم پاگل ہو یہ سب کچھ کہتا ہے ہاے اس کے دانت دیکھو اففف اس کے بال کتنا خوفناک ہے یہ ایسا لگتا جیسے کھا جاۓ گا ۔۔۔

ہاے میں کتنی چھوٹی ہو اس کے سامنے ۔۔

شاویز اس کا رخ ونڈو کی طرف کرتا بول رہا تھا جب روحا اس کی گردن میں منہ چھپاۓ ہکلاتے بولی تھی۔۔۔۔

غلام دین آپ زرا شاہو کو کھانا کھلا دے ۔۔۔

شاویز روم میں ہی اُونچی آواز سے بولا تھا۔۔۔

جب ملازم نے فورًا اس کے حکم کی تکمیل کی تھی۔۔۔۔

اچھا دیکھو یار وہ کچھ نہیں کہتا بس ش۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ اہہہہہ۔۔۔

شاویز اس کے بالوں کا جوڑا کھولے آرام سے اس کے بال سہلاتا بول رہا تھا جب روحا نے اس کی گردن پر کاٹا تھا ۔۔۔

تبھی وہ چلایا تھا۔۔۔۔

اگر۔ا۔اب تم نے دوبارہ اس شیر کا نام لیا ایسے ہی کاٹو گی میں تمہیں۔۔۔

اسی کے سینے سے لگی وہ اسے ہی دمھکی دیتی بولی تھی۔۔

شاویز کے لبوں پر گہری مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔

ہاے روحا دیکھو تمہارے پھیچے آ گیا شاہو ۔۔۔

خود سے دور جاتی روحا کو دیکھ شاویز دوبارہ جان بوجھ کر بولا تھا۔۔۔۔

اہہہ اہہہہ مت کرو شاویز مجھے ڈر لگتا ہے۔۔۔

روحا پھر ڈرتی اسی کے سینے سے لگتی بولی تھی۔۔۔۔

جبکہ اسے تنگ کرنے سے شاویز کو اب مزہ آ رہا تھا۔۔۔

اچھا ایک دفعہ تو دیکھ لو بلکہ میرا دوست ہے ی۔۔۔۔

ن۔نہیں پلیز تم جو کہو گے میں کرو گی بس ی۔یہ نہیں دیکھنا میں نے۔۔۔

شاویز بول رہا تھا جب روحا اپنا چہرہ اسے کے قریب لاتے بولی تھی۔۔۔

ہمممم تم مجھے کس کرو ابھی۔۔۔

شاویز اسے زور سے کمر سے پکڑتے مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔

وہ جانتا تھا روحا ایسا کوئ کام نہیں کرے گی۔۔۔۔

اچھا سوری میری جان م۔۔۔

خاموش کھڑی روحا کو دیکھ شاویز اب سیریس ہوتا بول رہا تھا جب روحا نے آنکھیں بند کیے اپنے ہونٹ اس کے لبوں پر رکھے تھے۔۔۔۔

شاویز کی حیرت سے آنکھیں کھولی تھی۔۔۔۔

اس کا لمس پاتے شاویز بھی سب بھولتا اسے لیے نرمی سے بیڈ پر آیا اس کی خوشبو میں مدہوش ہو رہا تھا۔۔۔۔

————————————————————

کدھر ہے شاویز ۔۔۔

رات کو روحا اپنے روم سے باہر آتی ملازمہ سے بولی تھی۔۔۔۔

اب وہ آرام سے اس سے بات کر لیا کرتی تھی۔۔۔۔

و۔وہ میم خان جی اپنی ماما کے پاس ہے ۔۔۔

ملازمہ نے سر جھکاۓ کہا تھا۔۔۔۔

جہاں تک مجھے پتہ ہے شاویز کی ماما تو مر چکی ہے ۔۔۔

روحا شوک ہوتی سوچا تھا۔۔۔۔

اچھا تم جاٶ میں دیکھ لیتی ہو۔۔۔۔

روحا اسے کہتی اس کی ماما کے روم کی طرف گی تھی۔۔۔

شاویز میں کہہ رہی تھی تم وہ شیر چھوڑ دو میں جان گ۔۔۔۔

روحا روم کے اندر آتی بنا دیکھے نان سٹاپ سٹارٹ ہو چکی تھی۔۔۔

جب سامنے بیڈ پر بیٹھے شاویز اور اس کی ماما کو دیکھتے باقی کے الفاظ اس کے منہ میں رہ چکے تھے۔۔۔۔

و۔وہ روحا بے بی آٶ یہ ماما ہے میری۔۔۔

شاویز اسے دیکھتا ہکلاتا بولا تھا۔۔۔۔

م۔ما۔م۔ماما ہے تمہاری ییییییییی۔۔۔۔۔

روحا شوک سے وہی زمین پر بیٹھتی پھوٹ پھوٹ کر روتی چلائ تھی۔۔۔۔

اس کے ایسے ری ایکشن پر شاویز کو شوک لگا تھا وہ بیڈ سے اترتا بھاگتا ہوا اس کے قریب آیا تھا۔۔۔۔

جہاں اب روحا کی گرے آنکھیں رونے سے سرخ ہو چکی تھی۔۔۔۔

ی۔یہ ماما ہے تمہاری۔۔۔

شاویز کو اپنے قریب بیٹھتا دیکھ روحا اس کے سینے سے لگی بس ایک ہی بات کہہ رہی تھی۔۔۔۔

جبکہ شاویز ابھی بھی شوک تھا روحا رو کیوں رہی ہے ۔۔۔