304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 7)

Junon Inteqam By Rania Mehar

کیااااااا باجی میری شادی ہاے باجی ایسا مت کرے پلیز۔۔۔۔

روحا گھر آتی علیشبہ کو سب کچھ بتا چکی تھی جیسے سنتے وہ رونی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔

کیوں نہ کرو تمہاری شادی ہاے تمہاری شادی ہو گی پھر تمہارے چھوٹے چھوٹے بے بی ہو گے میں آنی بنو گی ان کی پھر ان کو میں سبھنالا کرو گی تمہاری شادی ہو گی ۔۔۔

روحا خوش ہوتی اس کے گال چومتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

باجی آپ شادی کر لے آپ کے بھی بچے ہو جاۓ گے میری ضروری ہے کیا۔۔۔۔

علیشبہ ابھی بھی صدمے میں جاتی بولی تھی۔۔۔۔

ہاں شادی سے یاد آیا پتہ آج کیا ہوا

روحا سر پر ہاتھ مارتی ہوئ اسے شاویز سے ملاقات کا بتا چکی تھی۔۔۔۔

باجی کیا پتہ وہ آپ کا شاہ ہو۔۔۔۔

علیشبہ ساری بات سنتی خوش ہوتی بولی تھی۔۔۔

اس کی نیلی آنکھوں کو دیکھ کر مجھے بھی لگا تھا لیکن وہ بڑا کھڑوس تھا اور کافی باڈی بلڈر جیسا تھا میرا شاہ تو موٹا اتنا تھا اور بات بھی اتنے شرماتے ہوۓ کرتا تھا وہ ۔۔۔

یہ نیلا باز تو کاٹ کھانے کو آ رہا تھا مجھے انہہ شاہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔

روحا سوچتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔۔

ہممم علیشبہ بھی سوچ میں پڑ چکی تھی ۔۔۔۔

کیونکہ روحا کی باتوں سے اسے یہی لگا تھا شاویز ہی شاہ تھا۔۔۔۔

باجی ویسے شاہ کا نام کیا تھا۔۔۔۔

علیشبہ اسے دیکھتی بولی تھی جو اب اپنے ناولز ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔

مجھے تو پورا نام نہیں آتا یہ ناولز کدھر گے۔۔۔

روحا اب غصے میں آتی بولی تھی۔۔۔

و۔وہ۔دادی نے جلا دے باجی۔۔۔۔

علیشبہ نے ڈرتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔

ابھی بتاتی ہو دادی کو میں اس عورت کو سکون نہیں ہے عالی ۔۔۔۔

روحا اب اپنے گلاسز لگاتی ہوئ باہر جاتی بولی تھی۔۔۔۔

————————————————————

اہہہ اہہہ یہ کیا طریقہ ہے آوارہ لڑکی۔۔۔۔

دادی ٹی وی دیکھ رہی تھی جب روحا ٹی وی بند کرتی خود چمپ کرتی ان کے پاس صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔۔

وہ ٹی وی دیکھنے میں مگن تھی تبھی ڈری تھی۔۔

کیا ہوا ہارٹ اٹیک آ گیا دادی۔۔۔

روحا انہیں ہی دیکھتی سکون سے بولی تھی۔۔۔

ہارٹ اٹیک آے تمہیں جاہل آوارہ لڑکی ا۔۔۔۔

ارے دادی اتنی تعریف مت کیا کرے سچی شرم آ جاتی مجھے اچھا میری بات سنے اب تو یقیناًتین چار ہارٹ اٹیک لازمی آۓ گے۔۔

روحا دادی کا پان دان لیتی بات کاٹتی ہوئ سکون سے بولی تھی۔۔۔۔

شرم تو نہیں آتی اپنی دادی کو ایسی بات ک۔۔۔

جب آپ کو شرم نہیں آتی مجھ معصوم کو ایسی باتیں سناتی ہے میں کیوں کرو شرم اچھا دل تھام کر بات تو سنے۔۔۔۔

روحا اب کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔

عالی کی شادی کروا رہی میں آنا ہوا تو آ جانا ۔۔۔

آخر پوتی ہے آپ کی۔۔۔

روحا اب منہ میں ببل ڈالتی دادی پر بمب گراتی بولی تھی۔۔۔۔

کیوں اپنے جیسا آوارہ کوئ ڈھونڈ لیا ا۔۔۔۔

ہاے دادی کیسے پتہ چلا میں اپنے جیسے آوارہ ہی ڈھونڈو گی واقعی ایسا ملا مجھے کم از کم آپ کے بیٹے جیسا بدکردار بلکل بھی نہیں ہے وہ دلاور شاہ ایک اچھا لڑکا ہے آپ کے باقول آوارہ۔۔۔

دادی حیران ہوتی بول رہی تھی جب روحا پھر بات کاٹتی سکون سے بولی تھی۔۔۔۔

جیسی ماں ویسی بیٹیاں ہ۔۔۔۔

دادی مجھے کہے جو بھی کہنا امی کو کچھ مت کہنا اگر چپ ہو تو صرف ان کی وجہ سے کتنی دفعہ کہا ہے میرا میٹر گھوم جاتا ہے یہ سن کر آپ سب جانتی ہے لیکن ابھی تک آپ نے یہ بات اپنے ذہین میں بیٹھا کر رکھی ہے ۔۔۔۔

دادی سے کچھ نہیں ہوا تو دل کی بھڑاس نکالتی بول رہی تھی جب روحا نے شدید غصے سے پان دان ٹی وی پر مارتے چلائ تھی۔۔۔۔

ارے آوارہ تھی تمہاری ماں ایسی ہی تم ہو اپنی بہن کے لیے بھی ایسا ڈھونڈ لینا تم نے پہلے ہی اس ماہم کے بھای کو مار کر تجھے سکون نہیں آیا پتہ نہیں کون سا شریف لڑکا پھسا لیا تم نے ۔۔۔۔

دادی اب بنا ڈرے مسلسل بول رہی تھی جبکہ علیشبہ روتی ہوئ سائیڈ پر کھڑی تھی۔۔۔

اس کا رونا دیکھ روحا بڑی مشکل سے چکر لگا رہی تھی۔۔۔۔

ب۔باجی رو۔روم میں چلے۔۔۔

دادی مسلسل بولتی اب اسے گندی گندی گالیاں دے رہی تھی جبکہ روحا کا پارہ ہائ اور اس کی سرخ آنکھیں دیکھ علیشبہ نے ڈرتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔

پانی پی لے شاہد آپ کی زبان کو سکون آ جاۓ۔۔۔۔

روحا بڑا کنٹرول کرتی بامشکل دادی کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔

آنہہہ۔۔۔

دادی برا سا منہ بناۓ اب بھی ویسے بول رہی تھی۔۔۔

————————————————————

لو آ گیا آپ کا شریف بیٹا دیکھے ۔۔۔

صحن میں نشے سے جھولتے ہوۓ آتے کامرن کو دیکھتے روحا طنز کرتی بولی تھی۔۔۔

جن کے ساتھ ایک عورت بھی تھی۔۔۔۔

انہہ میرا پیارا بیٹ۔۔۔۔

ایسا بیٹا جو ہر لڑکی کی عزت لوٹ رہا ہو جیسے احساس تک نہیں اس کی دو جوان بیٹیاں بھی ہے ۔۔۔

ابو کیا آپ نے کبھی سوچا آپ کے گناہ کا مکافات اگر آپ کی بیٹیاں کو سہنا پڑ جاے تب

کیا کرے گے ۔۔

یہی وجہ ہے میں عالی کا نکاح ابھی اور اسی وقت کرواو گی ۔۔۔

روحا اب آپے سے باہر آتی کامرن کا کالر پکڑے بولی تھی۔۔۔۔

بیٹی ہ۔ہے میری ۔۔۔۔

کامرن زرا غصے میں آتا بولا تھا ۔۔

بیٹی یاد آ گی آپ کو تب کہاں تھے جب میں پانچ سال کی بخار میں تپ رہی تھی۔۔۔۔

تب کہاں تھے جب اس بھیڑوں سے بھری دنیا میں ہمیں باپ کی شفقیت کا سایہ چاہے تھا۔۔۔

تب کہاں تھے جب دادی میری معصوم عالی کو مارتی تھی کبھی احساس ہونے دیا آپ ہمارے باپ ہے ۔۔۔

افسوس نہ اچھے باپ بن سکے نہ ہی ش۔۔۔۔

بکواس بند کرو بیٹی ہے یہ میرا پورا حق ہے یہ کس کے ساتھ نکاح کرے گی ۔۔۔

روحا طش سے چلاتی بول رہی تھی جب کامرن غصے سے دھاڑے تھے۔۔۔۔

نہیں ہے بیٹی آپ کی میری بیٹی ہے میں نے پالا اس کو اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھا میری زمہ داری ہے امی مجھے دے کر گ۔۔۔

ہاں وہ آوارہ عورت تجھ ہی دے کر جاتی کیونکہ اس جیسی جو ہو۔۔۔

روحا بول رہی تھی جب دادی باہر آتی سکون سے بولی تھی۔۔۔

آوارہ نہیں ہے وہ سمجھی آپ نے خود انہیں گھر سے نکالا آپ آوارہ ہو گی۔۔۔

روحا دادی کی گردن دبوچتے ہوۓ بولتی کامرن کو اس رات کا سب بتا چکی تھی۔۔۔۔

چ۔چھوڑ ۔مج۔مجھے تیری وجہ سے اس ماہم کا بھای مر گیا تو اپنی ماں جیسی ہے۔۔۔

دادی روحا کو دھکا دیتی اب نیا زہر اگلی تھی۔۔۔

میری وجہ سے نہیں مرا وہ سمجھی آپ ۔۔۔

روحا طش سے چلائ تھی۔۔۔۔

باجی باجی چلے روم میں چلتے ہے ۔۔۔۔

علیشبہ روحا کی سرخ آنکھیں دیکھتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

تم میرے ساتھ روم میں آٶ۔۔۔۔

کامرن سب اگنور کیے اس عورت کا ہاتھ پکڑے اپنے روم میں جاتے بولے تھے۔۔۔۔

آپ کو زرا شرمندگی نہیں ہوتی اپنے کاموں سے اب تو میرا بھی دل کرتا آپ کے کیے کی سزا آپ کی بیٹی کو ملے کیونکہ تب ہی آپ کو احساس ہو گا ایک بیٹی کو درد میں دیکھ اس کے باپ پر کیا گزارتی ہے ۔۔۔۔

امی کے ساتھ اتنا کچھ ہوا اس لڑکی کے ساتھ آپ نے برا کیا اس رات پتہ نہیں کس کے گھر سے ہو کر آۓ تھے جب ہمیں وہ شہر چھوڑنا پڑا ۔۔۔

اب بھی آپ کو زرا فکر نہیں ہو رہی ہماری یہی وجہ ہے میں اپنی عالی کا نکاخ کرواو گی ۔۔۔۔

دیکھنا ابو ایک دن آۓ گا ایسا جب آپ کی بیٹی آپ کے سامنے تڑپے گی اور آپ کچھ نہیں کر سکے گے سواۓ بے بسی کے ۔۔۔۔

پھر آپ وہ پتہ چلے گا بیٹی کا درد کیسا ہوتا ہے ۔۔۔

اپنے باپ کی آج اتنی بے حسی دیکھ روحا وہی زمین پر پھوٹ پھوٹ کر روتی چلائ تھی۔۔۔۔

————————————————————

کمرہ پورا بکھرا پڑا تھا۔۔۔۔

کہیں چپس کے خالی ریپر پڑے تھے۔۔۔۔تو کہیں ڈرنگ کے خالی گلاس ۔۔۔

کھانے پینے کے بھرے ہوۓ برتن سامنے ٹیبل پر سجے تھے۔۔۔بیڈ کی چادر زمین بوس پڑی تھی۔۔۔۔

صوفے کے مہنگے کشن بھی فرش کا مزہ چک رہے تھے ۔۔۔۔

وہ منہ اُوندھا بیڈ پر پڑے سو رہا تھا۔۔۔۔کے اچانک کمرے کا دروازہ کھولا۔۔۔

”سر ۔۔۔سر۔۔۔۔ پلیز اٹھ جائیں ۔۔۔

“ایک سرونٹ ادب سے ہاتھ باندھ کر ۔۔۔اسکے سر پر کھڑا ہو ۔۔

ہممم جاٶ ڈسٹرب مت کرو۔۔۔

شاویز گہری نیند میں جاتا برا سا منہ بناۓ بولا تھا۔۔۔

۔۔لاڈ صاحب کو جگانے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔

س۔سر آپ کا سکیرٹری آیا ہے ۔۔۔

سرونٹ ہکلاتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔

میرا کیا منہ دیکھ رہے ابھی بلاٶ اسے ۔۔۔

شاویز جلدی سے اپنی شرٹ پہنتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ج۔جی۔۔

ملی یا نہیں یہ بتاٶ۔۔۔۔

سکیرٹری اندر آتا ڈرتے بول رہا تھا جب شاویز سگریٹ پیتا ہوا دو ٹوک بولا تھا۔۔۔

جی مل گی روحا میم یہ ایڈریس ان کے گھر کا۔۔۔

سکیرٹری پسینہ صاف کرتا شاویز کو ایڈریس کا پتہ دیتا بولا تھا۔۔

کامرن کا بھی پتہ چل گیا۔۔۔

شاویز جو خوش ہوتا وہ پرچی دیکھ رہا تھا جب سکیرٹری دوبارہ بولا تھا ۔۔۔

زبردست یہ تو بہت اچھا ہوا اب جلدی سے کامرن کے گھر چلو ۔۔۔۔

شاویز نیا حکم دیتا بولا تھا۔۔۔

ل۔لیکن س۔ایک بات اور۔۔۔

سکیرٹری اب ہکلاتے تیز دھڑکتے دل سے بولا تھا۔۔۔۔

لیکن کیا۔۔

شاویز اپنی نیلی سرخ آنکھوں سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔

کامرن کی ہی بیٹی روحا ہے ۔۔۔۔

مطلب جس مجرم کو آپ ڈھونڈ رہے دو سال سے وہ میم کے بابا ہے ۔۔۔

سکیرٹری سر جھکاۓ شاویز کے سر پر بمب پھوڑ چکا تھا۔۔۔۔

شاویز کا دل بند ہوا تھا اس کی تو پوری دنیا اجڑ گی تھی ۔۔۔

درد سے شاویز نے اپنی آنکھوں کو زور سے بند کیے کھولا تھا۔۔۔۔

جنون گیا بھاڑ میں شاویز خان اپنا انتقام لے گا۔۔۔۔

پھر کیا ہوا اگر روحا کامرن کی بیٹی ہے اب تو زیادہ مزہ آۓ گا اپنا انتقام لینے میں ۔۔۔

آدمیوں کو تیار کرو آج ہی میں اپنا انتقام پورا کرو گا ۔۔۔

جاٶ یہاں سے اب۔۔۔۔

شاویز منٹوں میں سب کچھ سوچتا حکم دیا تھا۔۔۔۔

اہہہہ اہہہ اہہہہی ۔۔۔۔

کیوں ایسا میرے ساتھ ہوتا ہے جس سے محبت کرتا ہو وہی چھوڑ دیتا مجھے ۔۔۔

پہلے ماما پھر امی اب روحا ۔۔۔۔

لیکن میں اپنا انتقام ضرور لو گا ۔۔۔

شاویز اب آپے سے باہر ہوتا شیشے کا ٹیبل توڑتا ہوا آنسو بہاتا بولا تھا۔۔۔۔

لیکن وہ جلد ہی روحا کے شاہ سے شاویز خان بنتا باہر نکالا تھا جس کا مقصد صرف اپنا انتقام لینا تھا۔۔۔۔

————————————————————

باجی پلیز یہ ڈارپس ڈال لے دیکھیں اپنی آنکھیں ۔۔۔

علیشبہ بیڈ پر لیٹی روحا کے گلاسز اتارے روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔

عالی جاٶ یہاں سے مجھے نہیں چاہے ۔۔۔

روحا ویسے ہی لیٹے بولی تھی ۔۔۔۔

لیکن باج۔۔۔۔

اہہہ۔۔

اہہہہ عالی عالی کیا ہوا ۔۔۔

علیشبہ بول رہی تھی جب چار پانچ آدمی روم کا دروازہ توڑتے ہوۓ علیشبہ کو باہر لے گے تھے ۔۔۔

تبھی روحا بھی بے چین ہوتی بولی تھی۔۔۔

چ۔چھوڑو مجھ عالی کدھر ہے عالی۔۔۔۔

شاویز کے آدمی اب روحا کو پکڑتے صحن میں لاۓ تھے جہاں سامنے شاویز سکون سے کھڑا تھا۔۔۔

علیشبہ تو ہکا بکا شاویز کو دیکھ رہی تھی جبکہ شور کی آواز سنتی دادی بھی باہر آتی یہ ڈرامہ سکون سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

ک۔کون ہو تم دیکھو جو بھی ہو میری عالی کو چھوڑ دو۔۔۔۔

شاویز کے آدمیوں نے روحا کو دھکا دیتے شاویز کے قدموں میں گرایا تھا۔۔۔

جب بے اختیار ہوتے شاویز نے اپنی باہوں میں بھرا تھا ۔۔۔

تبھی روحا اس کے چہرے کو چھوتی بول رہی تھی کیونکہ گلاسز کے بنا اسے کچھ دیکھائ نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔

بول کیوں نہیں رہے تم کون ہو میری عالی کدھر ہے ۔۔۔

روحا اب طش میں آتی چلا رہی تھی ۔۔۔۔

روحا بے بی ۔۔۔۔

شاویز اس کے کان میں سرگوشی کرتا طنزیہ مسکرایا تھا۔۔۔

ش۔شاہ۔۔۔

روحا آواز پیچانتی ہوئ ہکلائ تھی۔۔۔

شاویز خان تمہارا دشمن۔۔۔۔

شاویز اب روحا کو بالوں سے پکڑے اپنے چہرے کے قریب لاتا سرد انداز سے بولا تھا۔۔۔