Junon Inteqam By Rania Mehar Readelle50333 Junon Inteqam (Episode 2)
Rate this Novel
Junon Inteqam (Episode 2)
Junon Inteqam By Rania Mehar
ک۔کچھ نہیں باجی آۓ۔۔۔
علیشبہ اپنی حالت پر قابو پاتی بولی تھی۔۔۔۔
کہاں یار چل کر آٶ تم جانتی ہو گلاسز کے بنا مجھے کچھ دیکھائ نہیں دیتا۔۔۔۔
روحا وہی کھڑی بولی تھی۔۔۔
اوووو باجی تو گلاسز کدھر ہے ۔۔۔
علیشبہ جلدی سے اٹھتی ہوئ پاس جاتی بولی تھی۔۔۔۔
وہ ٹوٹ گے دادی نے توڑ دے۔۔۔
روحا اس کا ہاتھ پکڑتی بولی تھی۔۔
باجی دادی ایسا کیوں کرتی ہے ہمارا کیا قصور ہے ۔۔۔
علیشبہ اکثر اپنی دادی کا ایسا برتاو دیکھتی اداس ہوتی بولتی تھی۔۔۔
سیدھی سی بات ہے بڈھی پاگل ہو گی ہے ۔۔۔
روحا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔۔
باجی کیا امی واقعی گھر سے بھاگ گی تھی۔۔۔۔
علیشبہ نے ایک نیا سوال کیا۔۔۔۔
مجھے دیکھائ نہیں دے رہا یار گلاسز لینے چلے ہم۔۔۔
روحا جلدی سے بات بدلتی بولی تھی۔۔۔
لیکن باجی اتنی رات کون سی دوکان کھولی ہو گی۔۔۔
علیشبہ جانتی تھی ہر دفعہ کی طرح روحا بات بدل جاتی تھی تبھی وہ بھی اگنور کیے بولی تھی۔۔۔
وہ ساتھ والی جو دوکان ہے وہاں سے مل جاۓ گی ا۔۔۔
باجی ایسی لوکل گلاسز لینے سے آنکھوں پر اثر ہو گا آپ ویسی ہی گلاسز لے پہلے والی۔۔۔
وہ پیسے کم ہے تم دادی کو جانتی ہو کم دیتی ہے جان بوجھ کر ویسے بھی گلاسز ہی لگانے ہے ایسا گزارا ہو جاۓ گا۔۔۔
روحا اسے پکڑتے اپنے ساتھ جاتی بولی تھی۔۔۔۔
————————————————————
یہ گلاسز ٹھیک ہے انکل ۔۔۔
روحا اور علیشبہ دونوں ہی گاٶن پہنے دوکان پر گی تھی جو ان کی گلی سے دور سڑک کے دوسری طرف تھی۔۔۔
ہاں پتہ ہے تمہاری امی یہی سے لے جاتی تھی انہیں پتہ تھا تمہاری آنکھوں پر کیسی سوٹ کرتی ہے۔۔۔
دوکان دار نہایت شفقت سے مسکراتے بولا تھا۔۔۔
اچھا ۔۔۔
اپنی ماں کے ذکر پر ہمیشہ روحا چپ ہو جاتی تھی۔۔۔۔
اچھا اب دھیان سے روڈ کراس کرنا۔۔۔۔
دوکان سے باہر آتی روحا علیشبہ کا ہاتھ پکڑے بولی تھی۔۔۔۔
باجی کچھ نہیں ہو گ۔۔۔
علیشبہہہہہہہہ۔۔۔۔
علیشبہ اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئ آگے جاتی بول رہی تھی جب سامنے سے آتی گاڑی سے ٹکر کھاتی گری تھی۔۔۔
وہی روحا چلائ تھی۔۔۔
اووو سوری میں جلد۔۔۔
چٹاخخخ۔۔۔۔
دولار شاہ اپنی گاڑی سے باہر نکلتا آتا بول رہا تھا جب علیشبہ کو آٹھاتے روحا نے رخ موڑے اس کے تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔
یہ کیا طریقہ ہ۔۔۔۔
سڑک تمہارے باپ کی نہیں تھی جو مزے سے چلا رہے تھے ابھی میری بہن کو کچھ ہو جاتا پھر۔۔۔۔
دلاور غصے میں آتا بول رہا تھا جب روحا چیخی تھی۔۔۔۔
تو تمہاری بہن کون سا مر گی تھی جو ایسے جانور بنی گھوم رہی ہو۔۔۔
دلاور بھی طش میں آتا بولا تھا۔۔۔
آج تک کسی نے اسے مارا نہیں تھا جیسے روحا نے مارا تھا ۔۔۔
تمہاری زب۔۔۔
نہیں تمہاری گاڑی توڑ دو گی۔۔۔
روحا اب آپے سے باہر ہوتی غصے سے اس گاڑی کے شیشوں پر پتھڑ مارتی بولی تھی۔۔۔
اے پاگل لڑکی اسے کوئ پکڑے ۔۔۔
دلاور علیشبہ کی طرف دیکھتا بولا تھا جو ڈر سہمی سی کھڑی تھی۔۔۔۔
باجی بس کر کیوں ایسا کر رہی ہے دیکھیں میں بلکل ٹھیک ہو ۔۔۔
علیشبہ جلدی سے اسے پکڑے بولی تھی۔۔۔
تم ان لوگوں کو نہیں جانتی یہ امیر ہم غریب کو جانور سمجھ لیتے ہے۔۔۔
روحا اپنا آپ چھڑواتی ہوئ اس کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
جاٶ یہاں سے لڑکی ہو تبھی لحاظ کر رہا۔۔۔۔
دلاور بھی اسے ہی دیکھتا بولا تھا۔۔۔
علیشبہ بڑی مشکل سے اسے اپنے ساتھ لے کر گی تھی۔۔
————————————————————
آ گی تو آوارہ خود تو ایسی تھی اب اپنی بہن کو بھی لے گی۔۔۔۔
روحا اور علیشبہ ابھی گھر آئ ہی تھی جب صحن میں کھڑی دادی اور اس کا ابو بولے تھے۔۔۔۔
ہاں آ گی دیکھیں باہر جا کر لڑکوں کی لائن لگی ہے ۔۔۔۔
آپ نے جانا ان کے ساتھ چلی جاۓ۔۔۔
روحا بھی زہر اگلتی جواب دیا تھا۔۔۔۔
روحاااا۔۔۔۔
کیا ابو اب آپ کا نشہ اتر گیا تب ہوش میں کیوں نہیں ہوتے جب یہ عورت ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑتی ہے ۔۔۔۔
نام کے ابو ہے تو بن کر رہے ورنہ جو تھوڑا سا لحاظ ہے وہ بھی ختم کر دو گی۔۔۔۔
کامرن غصے سے دھاڑے تھے جب روحا بھی دھاڑی تھی۔۔۔۔
دیکھا ماں جیسی ہے میں تو کہتی ہو اس کی شادی کرواو تاکہ یہ منحوس چلی جاۓ اس کی عمر کی لڑکیاں بچوں والی ہ۔۔۔۔
اور آپ کی عمر کی عورتیں اللہٌکو پیاری ہو گی آپ بھی فرست نکال کر اوپر چلی جاۓ بحش دے میری ماں کو سمجھی۔۔۔۔
دادی بھڑکاتی بول رہی تھی جب روحا پھر بولتی علیشبہ کا ہاتھ پکڑتی اندر چلی گی تھی۔۔۔۔
————————————————————
باجی مت لڑا کرے دادی کے ساتھ مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔
روحا علیشبہ کے بازوں پر مرہم لگا رہی تھی جب وہ بولی تھی۔۔۔
دادی کو جب تک نہ سناٶ مجھے سکون نہیں آتا بلکہ یہ اسی قابل ہے ۔۔۔۔
روحا اپنے آنسو روکتی بولی تھی۔۔۔
باجی کیوں دادی سے نفرت کرتی آپ۔۔۔
علیشبہ اس کی گود میں سر رکھے بولی تھی۔۔۔
دادی نفرت کے قابل ہے یہ چھوڑو سو جاٶ۔۔۔
روحا اس کا ماتھا چومتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
آپ نہیں سوۓ گ۔۔۔
نہیں مجھے نیند نہیں آ رہی ۔۔
علیشبہ کو پتہ تھا جب بھی اسے کچھ ہوتا وہ ساری رات جاگتی تھی جب تک علیشبہ کو سکون نہیں آ جاتا تھا۔۔۔
تبھی وہ بولی جب روحا مسکراتی بولی تھی۔۔۔
————————————————————
کامرن میں تو کہتی ہو اس کی شادی کر دے ۔۔۔
بلکل ماں جیسی زبان چلتی اس کی۔۔۔
صبح دادی ناشتہ کرتی بولی تھی۔۔۔
اماں تمہیں جو سہی لگے کرو ویسے بھی جانتی ہو گل پارہ کی جو دوکان تھی وہ بھی اس نے روحا کے نام کی تھی تبھی گھر کا خرچہ چل جاتا ہے اگر یہ چلی گی تو پیسے بھی چلے جاۓ گے۔۔۔۔
کامرن چاۓ پیتے بولے تھے۔۔۔
ہمممم علیشبہ کی کر دیتے ہے جوان کل کو ایسا ویسا کر گی تو کس کو جواب دے گے وہ منحوس تو بھاگ گی یہ بھی ایسے نہ ہو۔۔۔۔
دادی نفرت سے بولی تھی۔۔۔۔
ہممم۔۔۔
کامرن سوچ میں پڑ چکے تھے۔۔
————————————————————
ہاے موٹے ۔۔۔
روحا کلاس سے باہر آتی سامنے کھڑے شاہ کو دیکھتی بولی تھی۔۔۔
ہاے۔۔۔
شاہ نے شرماتے کہا تھا۔۔۔
ہاہاہہا شرماتے کیوں ہو ۔۔۔
روحا اس کے سرخ گال کیچھتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
مجھے بہت پیاری لگتی ہو تم شادی کرو گی۔۔۔
شاہ ہمت جمع کرتا بولا تھا۔۔۔
ہاہاہہاہا موٹے کیا پاگل ہو گے آٶ برگر کھاتے ہے۔۔۔
روحا قہقہ لگاتی ہوئ بولتی ساتھ لے کر جاتی بولی تھی۔۔۔
اچھا یہ بتاٶ گھر میں کون کون ہے ۔۔۔
روحا اس کے ساتھ کرسی پر بیٹھتی بولی تھی۔۔۔
میر۔میری ماما ہے اور امی بھی۔۔۔۔
شاہ مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
شاۓ موٹے شرماتے بہت ہو پتہ یہ تمہارے سرخ پھولے گال دیکھ کر دل کرتا کھا جاٶ۔۔۔
روحا اس کے چہرے کی معصومیت دیکھتی بولی تھی۔۔۔
ک۔کیاااا۔۔۔
شاہ گھبراتے ڈرتے بولا تھا۔۔۔
جیسے روحا واقعی کھا جاے گی ۔۔۔
ہاے میں کھانے والی۔۔۔
انہہہہہ اہہہہ۔۔
روحا اسے ڈرتی اس کے گال پکڑتی بول رہی تھی جب شاہ اپنا برگر گراے چلاتے بھاگ گیا تھا۔۔۔۔
ہاہاہہاہاہہاہاہا زمین ٹوٹ جاۓ گی موٹے ۔۔۔
روحا اس کی حالت انجواۓ کرتی بولی تھی۔۔
———————————————————–
ارے دھیان سے بیٹا کیا ہوا۔۔۔
شاہ کی ماما اپنے پلیس میں پھولی سانس لیتے آتے اسے دیکھتی بولی تھی ۔۔
و
۔وہ ماما مجھے کھا جاۓ گی بچا لے۔۔۔
شاہ ان کے سینے سے لگے بولے تھے۔۔۔۔
ارے بیٹا کون ایسے مت ڈرا کرو اتنے بڑے ہو گے تم ۔۔۔
مت ڈرا کرو ۔۔۔
شاہ کی ماما اسے سمجھاتے بولی تھی۔۔۔
ماما میں امی سے ملنے جا رہا۔۔۔۔
شاہ اب سیڑھیاں چڑاتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
————————————————————
ہاہاہاہا ہاہاہہا لالہ آپ کبھی بھی مجھے نہیں پکڑ سکتے۔۔۔
گل پورے خان حویلی میں بھاگتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
رکو ابھی پکڑو گا تمہیں ۔۔۔
دریاب خان اپنی بہن گل کے پیچھے بھاگتے بولے تھے۔۔۔۔
ہاہاہہاہا امی کو پکڑ لیا۔۔۔
گل بھاگ رہی تھی جب سامنے سے آتے پانچ سالہ شاہ نے زور سے پکڑا تھا۔۔۔
وہی وہ گری تھی۔۔۔۔
یہ کیا تھا شاہ ابھی گل کو چ۔۔۔
کیا ہے لالہ بیٹا ہے میرا کیسے ڈانٹ رہے آپ۔۔۔۔
دریاب خان جلدی سے گل کو باہوں میں پکڑتے شاہ کو دیکھتے بول رہے تھے جب گل انہیں ہی بولی تھی۔۔۔
نیلی آنکھیں سرخ سیب جیسے گال موٹا گول سا دریاب خان کا پانچ سالہ بیٹا شاہ جو گل کی پوری دنیا تھا۔۔۔۔
گل دریاب خان بہن اور نعمان خان کی بیٹی تھی ۔۔سوات کے ایک گاٶں کے نعمان خان سردار تھے جن کی مرضی سے ہر کام کیا جاتا تھا ۔۔
سب کے لیے نعمان خان سخت تھی جبکہ اپنی اکلوتی بیٹی کے آگے ان کی نہیں چلتی تھی۔۔۔۔
دریاب خان بھی دلوں جان سے اپنی بہن سے محبت کرتا تھا۔۔۔
بابا گندے امی ۔۔۔
شاہ آنکھوں میں آنسو لاتا بولا تھا۔۔۔
لالہ معافی مانگے ابھی ۔۔۔
گل دریاب کو گھورتی بولی تھی۔۔۔۔
ہاہاہاہ معاف کر دے ۔۔
دریاب شاہ کو گود میں آٹھاۓ گدگدی کرتے بولے تھے۔۔۔
ہاہاہہاہا بابا معاف کیا۔۔۔
شاہ قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔
نعمان خان اپنی چھوٹی سی فمیلی میں بہت خوش تھا۔۔۔
————————————————————
ہاں میں علیشبہ کو بلاتی ہو۔۔۔
روحا آج یونی سے لیٹ آنے والی تھی جبھی دادی رشتے کروانے والی کو گھر بلا کر ساتھ آۓ لڑکے کو لیے صحن میں بیٹھتی بولی تھی۔۔۔۔
ماشاءالله گل پارہ کی بیٹیاں بہت پیاری ہے بلکل ماں جیسی ہے ۔۔۔
رشتے کروانی والی علیشبہ کو دیکھتی بولی تھی۔۔۔۔
ہاں بس ڈر ہے ماں جیسی نہ ہو کہی بھاگ نہ جاۓ ت۔۔۔۔
دادی آپ کو ایک بات سمجھ نہیں آتی کیا میری امی ایسی نہیں تھی۔۔۔
کیوں چاہتی ہے یہ جو آپ کی بچی کچھی
عزت ہے سب کی نظروں میں وہ بھی چلی جاۓ۔۔۔
دادی نفرت سے بول رہی تھی جب اچانک گھر کے اندر آتی چیخی تھی۔۔۔
توبہ توبہ کتنی زبان ہے لڑکی کی جیسی بڑی ویسی چھوٹ۔۔۔۔
تو مت آتی یہاں میری بہن ہے میں دیکھ لو گی اس کے لیے کیا سہی ہے آپ فکر مت کرے اپنے گھر جا کر دیکھ لے شوہر کو دیکھے جو تیسری شادی کر چکا ہے ۔۔۔
یہاں آپ دوسروں کی شادیاں کروا رہی ۔۔۔
رشتے والی بول رہی تھی جب روحا پاس پڑے ڈنڈے کو اٹھاتی بولی تھی۔۔۔۔
اور تم جن کی شکل والے نکلو یہاں سے عالی جاٶ روم میں۔۔۔
روحا اب لڑکے اور علیشبہ کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
جو ہوس بھری نظروں سے پان کھاتا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
توبہ توبہ لڑکی شرم نہیں آتی اگر یہی تمہارا بھای ہ۔۔۔۔
علیشبہ کا بھای ماں باپ بہن دوست سب کچھ میں ہی ہو میری مرضی سے وہ سب کچھ کرے گی سمجھی اب جاتی ہے یا تھوڑی مہمان نوازی کروانی آپ نے۔۔۔
لڑکے کی ماں حیران ہوتی بول رہی تھی جب روحا بولی ۔۔
آوارہ ماں کی بیٹیاں جیسے وہ آدھی رات کو اپنے گھر کو چھوڑ کر بھاگ گ۔۔۔۔
وہ عورت ابھی زہر اگل رہی تھی جب روحا ڈنڈا لیتی ان سب پر برسانا شروع ہو چکی تھی۔۔۔۔
اب بول میری ماں کسی تھی اپنے گھروں پر دھیان دو سمجھی۔۔۔۔
روحا تسلی سے سب کو مارتی تھک کر بولی تھی۔۔۔
جب گھر میں نشے سے جھولتا کامرن آۓ تھے۔۔۔
دادی آپ بھی جانتی اس رات کیا ہوا تھا باز آ جاۓ قبر میں ٹانگیں آپ کی کیوں چاہتی ہے میں یہی ٹانگیں توڑ دو۔۔۔۔
روحا اپنی دادی کے پاٶں پر ڈنڈا گراتی دانت پیستی بولی تھی۔۔۔۔
دادی اب خاموش کھڑی تھی۔۔۔۔
روحا حد میں رہو دادی ہ۔۔۔۔
کیا دادی کیا باپ ۔۔۔
میں کسی کو نہیں مانتی دنیا میں میرے پاس کوئ رشتہ ہے وہ صرف بہن کا سمجھے آپ ۔۔۔
کامرن غصے سے بولے تھے جب وہ بولی۔۔۔
باپ ہو تم۔۔۔
کامرن اپنا ہاتھ اس پر اٹھاتے بول رہے تھے جب روحا نے روکا۔۔
تب باپ کہاں تھا جب میری امی کو نکالا گیا۔۔۔
تب باپ کہاں تھا جب اس کی ایک سال کی بچی بھوک سے روتی تھی۔۔۔
تب باپ کہاں تھا جب اس کی بڑی بیٹی اپنی چھوٹی بہن کو ساری ساری رات سنھبال کر سلاتی تھی ۔۔۔
اس کا خیال رکھتی تھی اسے ماں کا لمس دیتی تھی ۔۔۔
تب باپ کہاں تھا جب ہمیں بھوک لگتی تھی اور یہ عورت ہم دونوں میں سے ایک کو کھانا دیتی تھی۔۔۔
تب باپ کہاں تھا جب ہمیں آپ کی ضرورت تھی۔۔۔۔
نہیں ہے آپ باپ نہ ہی یہ عورت دادی ہے ۔۔۔
علیشبہ بہن ہے میری ہم یہاں نہیں رہے گے میری معصوم بہن کی اس انسان سے شادی کروانے والی تھی جو نشی جوۓ باز تین بیویوں چھ بچوں کا باپ تھا۔۔۔۔
کافی سالوں کا جو غبار تھا وہ روحا چیختی بولی تھی۔۔۔۔
جبکہ ضبط سے اس کی گرے آنکھیں سرخ ہو چکی تھی۔۔۔۔
علیشبہ روتی سائیڈ پر آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔
دیکھو بیٹا ہ۔۔۔
بیٹی نہیں ہو میں سنا آپ نے صرف نام کے باپ ہے ۔۔۔
نہیں چاہے مجھے آپ جیسے رشتے میری معصوم ماں پر الزام لگاتی آپ کی ماں اس رات جو کچھ ہوا سب دیکھا تھا میں لیکن آپ ہمیشہ نشے میں رہتے تھے۔۔۔
فکر مت کرے اللہٌکی زمین بہت بڑی ہے جہاں اتنی کم عمری میں اپنی بہن کو سبھنالا تھا اب بھی سنھبال لو گی میں ۔۔۔
آپ رہے اپنی ماں کے پاس ہمیشہ۔۔۔۔
روحا علیشبہ کا ہاتھ پکڑتی گھر سے باہر جاتی بولی تھی۔۔۔۔
جبکہ روحا کو باہر جاتے دیکھ دادی کو فکر تھی گھر کا خرچہ کیسے چلے گا۔۔۔
کامرن بھی نشے میں جھولتا اتنا کچھ سنتا روم میں چلا گیا تھا۔۔۔۔
جو اپنے آپ کو باپ کہہ رہا تھا اب نشے سے بے ہوش ہوتا بیڈ پر گرا تھا جبکہ اس کی جوان بیٹیاں شام کو گھر سے باہر چلی گی تھی۔۔۔
