304.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junon Inteqam (Episode 6)

Junon Inteqam By Rania Mehar

“””ماضی۔۔۔

گل میری جان آٶ رات کا کھانا کھا لے ۔۔۔

نمرہ روم میں آتی بولی تھی۔۔۔

بھابھی ماں بلکل دل نہیں کر رہا کھانا کھانے کو۔۔۔

گل اداس دل لیتی بولی تھی۔۔۔

کیوں کیا ہوا طیبعت تو ٹھیک ہے ۔۔

نمرہ پریشان ہوتی اس کے پاس آتی بولی تھی۔۔۔

ارے نہیں آچلتے ہے کھانے پر۔۔۔

گل ان کو پریشان دیکھتی اپنا موڈ ٹھیک کرتی بولی تھی۔۔۔

دلیشر خان کی دو ہی بچے تھے بڑا بیٹا دریاب خان جو کہ ایم این اے تھا جبکہ چھوٹی بیٹی گل پارہ ۔۔۔

جو پوری خان حویلی کی رونق تھی ۔۔۔

اس کی مرضی سے ہی حویلی کی ہر چیز آتی تھی سب کی جان تھی وہ۔۔۔

کالے گہرے بال سرخ پھولے گال گرے آنکھیں خوبصورت رنگ و صورت والی گل پارہ جس پر حویلی کے مالی کی نظر تھی ۔۔۔

کامرن شروع سے گل پارہ کے لیے دیوانہ تھا جانتا تھا گل پارہ معصوم ہے وہ اس کے جال میں پھس جاۓ گی ۔۔۔

وہی ہوا اپنی باتوں کاموں سے وہ گل پارہ کو اپنی جھوٹی محبت میں پھس چکی تھی۔۔۔۔

گل پارہ اس کی محبت میں اتنی آگے آ چکی تھی وہ بار بار اسے شادی کا کہتی تھی ۔۔۔

جبکہ وہ تو صرف سہولت سے منع کر دیتا تھا۔۔۔

اب بھی وہ ضد کرتی روم میں بیٹھی تھی کیونکہ کامرن نے کہا تھا بھاگ جاۓ اس کے ساتھ جبکہ وہ مان ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔

————————————————————

ک۔کامرک۔کامرن میں تمہارے ساتھ یہ حویلی چھوڑنے کو تیار ہو چلو آج رات ہی ہم بھاگ جاۓ گے۔۔۔

رات کے کھانے پر دلیشر خان مذاق سے بولے تھے وہ اب گل پارہ کی شادی کرنا چاہتے ہے تبھی وہ اب روتی ہوئ کامرن کو فون کرتی بولی تھی۔۔۔

کامرن کی تو دلی مراد پوری ہونے والی تھی وہ تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔۔۔

ہاں ضرور ہم چلے گے تم سامان تیار کر لینا۔۔۔

کامرن اسے پلان سمجھاتا ہوا فون بند کر چکا تھا۔۔۔

————————————————————

سوری بابا جان میں جانتی ہو اگر آپ کو کامرن کا بتاتی تو پکا ہماری موت ہوتی لیکن میں کامرن کے بنا نہیں رہ سکتی ہو سکے تو مجھے معاف کرنا بابا جان ۔۔۔

گل پارہ رات کو اپنے بیگ میں تھوڑے سے زیورات رکھے رات کے اندھیرے میں اپنے باپ کے روم میں آتی روتی ہوئ بولی تھی وہ گہری نیند سو رہے تھے۔۔۔۔

محبت سے پاگل ہوتی گل پارہ رات کے اندھیرے میں کامرن کے ساتھ بھاگ گی تھی۔۔۔

وہ بھول چکی تھی اپنے باپ کی محبت کو بھول گی اپنے اچھے دوست جیسے لالہ کی محبت کو بھول گی اپنی ماں جیسی محبت دینے والی بھابھی ماں کو ۔۔

اگر یاد تھا تو صرف کامرن کی جھوٹی محبت کا۔۔۔

کامرن اس سے سارے پیسے اور زیورات لیتا گاٶں سے شہر بھاگ گیا تھا۔۔۔۔

————————————————————

شہر آ کر کامرن اسے اپنے چھوٹے سے گھر لے آیا تھا۔۔۔

کامرن کی ماں نے بہت نفرت سے گل پارہ کو دیکھا تھا بلکہ انہیں اب ہر وقت اس کی ماں بلاوجہ طعنے دیتی رہتی تھی۔۔۔

وہ اکثر چپ ہو جاتی تھی گل پارہ کے پیسوں کے آگے۔۔۔

ورنہ اپنے طنز کے تیر وہ چلاتی تھی اس پر ۔۔۔

شروع شروع کے دن تو گل پارہ خوش تھی کامرن کی محبت پر لیکن وہ آہستہ آہستہ اب سمجھ گی تھی رخسا نے جو کچھ اسے بتایا تھا بلکل ٹھیک تھا ۔۔۔

کیونکہ کامرن اب رات کو بھی نشہ کرکے آ جاتا تھا۔۔۔۔

———————————————————–

اماں اماں کیا کر رہی اس کے ساتھ۔۔۔

ایک دن رات کو کامرن نشے سے چور وہ گھر آیا تھا جب اس نے اپنی ماں کو نڈھال سی گل پارہ کا ہاتھ پکڑے گھر سے باہر نکال رہی تھی جب وہ بولا ۔۔۔

ارے یہ بدکردار بد چلن لڑکی ماں بننے والی پتہ نہیں کس ب۔۔۔

اماں ایسے تو مت کہے کامرن تم بتاٶ ایسا کچھ نہیں یہ جھوٹ بول رہی ہے میں نے ہمیشہ تم سے محبت کی ہے میں سچ کہہ رہی ہو۔۔

نڈھال سی گل پارہ جلدی سے کامرن کے پاس آتی روتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔۔

اس کو عادت پڑ چکی تھی اس کی ماں سے ایسے لفظ سنتے لیکن آج وہ کچھ زیادہ بول گی تھی۔۔۔

اماں کیا بات کر رہی گل پارہ ایسی نہیں میں چاہے جیسا بھی سہی لیکن یہ اولاد میری ہے ۔۔۔

کامرن اس کو روم میں بھیجتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔۔

———————————————————–

سال گزار گیا تھا جب گل پارہ نے ایک خوبصورت بیٹی جنم دیا تھا۔۔۔

وہ بلکل گل پارہ جیسی تھی۔۔۔

اس ایک سال میں گل پارہ اماں کی ہر بات کا جواب دیے دیا کرتی تھی سمجھ گی تھی یہی اس کی زندگی ہے اب۔۔۔

بہت پیاری بچی ہے گل پارہ یہ دیکھو اماں۔۔

ارے پرے ہٹ پتہ نہیں کس کا گندہ خون ہے جو تو اپنا نام دے رہا اس کو۔۔۔

کامرن گود میں ننھی سی روحا کو لیتے ان کو دیکھاتے بول رہے تھے جب وہ نفرت سے بولی تھی۔۔۔

اماں کتنی دفعہ کہا ایسے مت کہا کرے گل پارہ ای۔۔۔

ایسی ہی ہے یہ لڑکی تم خود سوچو جو لڑکی اپنے ماں باپ کی سالوں کی محبت چھوڑ کر تم جیسے غریب کے پاس آ گی کل کو تمہیں چھوڑ کر بھی کسی کے پاس جا سکتی ہے یہ آوارہ عورت انہہہ۔۔۔

اماں نفرت انگیز لہجے میں کہتی وہاں سے چلی گی تھی جبکہ کامرن کے دماغ میں یہ بات بیٹھ چکی تھی۔۔۔۔

وہ بھی دل پر پتھڑ رکھتے کبھی کبھی روحا کو پکڑ لیتے تھے۔۔۔۔

دن ہفتوں اور ہفتے سالوں میں گزارتے چلے گے۔۔۔

اب گل پارہ جہاں گھر کا کام خود کرتی وہی اب روحا اور اپنی دو سال کی ننھی بیٹی علیشبہ کو بھی سبھنالتی تھی ۔۔۔۔

تین سال کی ننھی روحا علیشبہ کا بلکل گل پارہ کی طرح خیال رکھتی تھی۔۔۔۔

کامرن پہلے نشے میں اب چوری کرنے لگ گیا تھا۔۔۔۔

وہ مکمل اپنے گھر سے غافل ہو چکا تھا۔۔۔

گل پارہ اپنے کچھ زیورات بیج کر چھوٹی سے دوکان کھول چکی تھی ۔۔

گل پارہ اپنی زندگی اب ایک سزا سمجھ کر گزارتی رہی کیونکہ اب تو کامرن کے منہ پر بھی یہی لفظ ہوتے تھے کہ گل پارہ اسے چھوڑ دے گی۔۔۔۔

————————————————————

ارے دھیان سے ۔۔۔

گل پارہ اپنی دوکان سے نکلتی گھر کی طرف جا رہی تھی جب سامنے سے آتی گاڑی سے ٹکر کھاتی گری تھی تبھی کار سے باہر آتے دریاب خان نے اسے پکڑتے اٹھاتے کہا تھا۔۔۔

گ۔گل میری جان۔۔۔

گل پارہ کو اپنے سامنے دیکھ زریاب خان اسے اپنے سینے سے لگاتے بولے تھے ۔۔۔

لالہ آپ۔۔۔

گل پارہ حیران ہوتی بولی تھی اسے امید نہیں تھی دریاب خان یہاں ہو سکتا ہے ۔۔۔

ہاں میری جان کہاں چلی گی تھی تم۔۔۔

دریاب خان مسکراتے اسے کار میں بیٹھاتے بولا تھا۔۔۔۔

لالہ آپ ناراض نہیں مجھ سے کیا۔۔۔

گل پارہ حیران ہوتی بولی تھی وہ تو توقع کر رہی تھی دریاب خان اس پر غصہ کرے گا چلاے گا لیکن وہ پرسکون تھا۔۔۔

میں اپنی جان سے کیوں ناراض ہونا تم نہیں جانتی تم وہاں سے آ گی تو کیا ہوا۔۔۔

بابا کو ہارٹ اٹیک آ گیا کیونکہ سب نے کہا تم بھاگ گی جبکہ بابا کو یقین تھا کامرن تمہیں کڈنیپ کر چکا ہے ۔۔۔

میں گاٶں چھوڑے یہاں شہر تمہیں ڈھونڈنے آ چکا تھا تم ملی ہی نہیں ۔۔

دریاب اب کار چلاتے آبدیدہ ہوتے بولے تھے۔۔۔

کیااااا باباااااا۔۔۔

گل پارہ اب حیران ہوتی پھوٹ پھوٹ کر روتی چلائ تھی۔۔۔۔

———————————————————–

دریاب خان گل پارہ سے اپنے دل کی ہر بھڑاس کھول چکے تھے جبکہ گل پارہ بھی شرمندہ ہوتی بتا چکی تھی وہ بھاگ کر آئ تھی۔۔۔۔

کیوں گل تم ہمیں بتاتی ہم تمہاری شادی کروا دیتے ایک دفعہ کہتی تو سہی۔۔

دریاب خان دکھی ہوتے بولے تھے وہ دکھی تھی لاڈوں میں پلنے والی بہن کیسی اذایت ناک زندگی گزار رہی تھی ۔۔

لالہ یہ میری سزا تھا میرے لیے یہ کافی تھی مجھ جیسی لڑکی کو تو مر جانا چاہے جو اپنے سالوں کی محبت کو چھوڑ کر وہ محبت چنی جو محض چند پل کی تھی ۔۔۔

مجھے معاف کر دے لالہ میں بہت بری ہو۔۔۔

گل پارہ دریاب کے پاٶں پکڑتی روتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔

اچھا بس کرو یہ بتاٶ بچے ہے تمہارے انہیں بتاٶ میں ماموں ان کا۔۔۔

اور ہاں اپنی جائیداد کا حصہ لو تاکہ بچوں کی زندگی ا۔۔۔

نہیں لالہ آپ بس مجھے معاف کر دے تاکہ مرنے کے بعد میں بابا کے سامنے اس بات پر شرمندہ نہ ہو آپ سے معافی نہیں مانگی۔۔۔۔

مجھے یہ جائیداد نہیں چاہے مجھے ایسی سزا ملنی چاہے ۔۔۔

بچے نہیں ہے میرے۔۔۔۔

گل پارہ روتی ہوئ دریاب کے ہاتھ چومتی ہوئ جھوٹ بول چکی تھی ۔۔۔

وہ اپنے لالہ کو یہ بتا کر شرمندہ نہیں کر سکتی تھی کہ اس کی ساس اس کی بہن کو بدکردار سمجھتی ہے بلکہ اس کے بچوں کو اپنی پوتی مانتی ہی نہیں۔۔۔

اچھا میرے شاہیو سے ملاۓ لالہ ۔۔۔

گل پارہ نمرہ سے بھی ملتی ہوئ شاویز کا پوچھا تھا۔۔۔

ہاں دیکھو آ رہا وہ۔۔۔

سامنے سے چلتے آتے دس سال کا شاویز کو دیکھتے دریاب خان بولا تھا۔۔۔

شاویز بھی اپنی ماما کو پاتے خوش ہوتے آیا تھا۔۔۔

گل پارہ اسی بات پر خوش تھی اسے اس کا بھای مل گیا تھا۔۔۔۔

————————————————————

دریاب خان اب گل پارہ کی اب ہر روز کوئ نہ کوئ مدد کر دیتا تھا۔۔۔

گل پارہ بھی اب سب کچھ بلاۓ اپنے لالہ کی محبت پاتی خوش رہنے لگ گی تھی۔۔۔۔

اماں اماں یہ کیا کر دیا آپ نے میری بیٹی ہے یہ۔۔۔

گل پارہ ایک دن دوکان سے گھر آی تو سامنے کا منظر دیکھ وہ چلاتے پاس آتی بولی تھی۔۔۔۔

تین سالہ علیشبہ زمین پر گری رو رہی تھی جبکہ پانچ سالہ روحا خون سے لت پت علیشبہ کو گود میں اٹھا رہی تھی ۔۔۔

جبکہ اس کے کانپٹی سے مسلسل خون نکل رہا تھا۔۔۔۔

ارے یہ آوارہ لڑکی مجھ سے زبان لڑا رہی تھی۔۔۔

بس مارا ہے ۔۔۔

دادی سکون سے کھڑی بولی تھی۔۔۔

اماں ایسے کوئ مارتا ہے کیا میری بچی کے کیسے خون نکل رہا ہے کیا کیا تھا روحا نے ۔۔۔

گل پارہ جلدی سے روحا کو اپنے پاس لاتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ روحا کے آنکھ کے کنارے سے شیشے کا ٹکڑا اندر کو گھسا ہوا تھا جس کی وجہ سے خون مسلسل نکل رہا تھا ۔۔

ماما دادی گندی وہ عالی کو دودھ کا فیڈر کم دے رہی تھی ماما میں نے وہ ڈنڈا مارا دادی کے اور دادی نے مجھے ٹیبل پر گرایا اور یہ خون نکل آیا ماما آپ پکڑے عالی کو وہ رو رہی ہے ۔۔۔

روحا اپنی پرواہ کیے بنا ویسے ہی علیشبہ کو پکڑتی بولی تھی۔۔۔۔

لالہ ہاں لالہ کو فون کرتی میں۔۔

گل پارہ کو جب سمجھ نہیں آیا کیا کرے تبھی دریاب خان کو فون ملاتی روحا کو گود میں آٹھایا تھا۔۔۔

————————————————————

شیشہ ہم نے نکال دیا ہے لیکن ۔۔۔

لیکن کیا ڈاکٹر ۔۔۔

دریاب جلدی سے روحا اور گل پارہ کو ہاسپٹل لے کر آے تھے جب ڈاکٹر اس کی مرہم پیٹی کرتا باہر آتا بول رہا تھا جب گل پارہ روتی بولی تھی۔۔۔

ایک انچ شیشہ بچی کی آنکھ کے اندر چلا گیا ہے اگر ہم نے باہر نکلا تو بچی کی آنکھوں کی روشنی ہمیشہ کے لیے چلی جاۓ گی ۔۔۔

ڈاکٹر تفصیل سے بولا تھا۔۔۔

ہم بچی کی آنکھوں پر گلاسز لگا دیتے ہے پر خیال رکھے گا اسے شدید غصہ مت آے ورنہ آنکھوں کے مسلز ویک ہو جاۓ گے پھر ایسا ہو گا جب بچی بڑی ہو گی تب اس کی نظر کمزور ہو جاۓ گی ۔۔۔

ہم شیشہ نکال تو سکتے ہے لیکن نظر چلی جاۓ گی۔۔۔

ڈاکٹر شرمندہ ہوتا بولتا چلا گیا تھا۔۔۔

نہیں لالہ ہم روحا کو خیال رکھے گے بس وہ شیشہ مت نکالے ورنہ میری بچی نابینا ہو جاۓ گی۔۔۔

گل پارہ مسلسل روتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

دریاب خان خود پریشان ہو چکے تھے اپنی بھانجی کو ایسی حالت میں دیکھ کر ۔۔۔

————————————————————

لالہ روحا کو تو بہت تیز بخار ہو گیا ۔۔۔

دریاب خان اسے چھوڑے گھر گے تھے تاکہ نمرہ کو لا سکے جب گل پارہ روتی ہوئ فون پر بولی تھی۔۔۔

اچھا میں آتا۔۔۔

دریاب خان ویسے ہی آدھے راستے آتے بولا تھا۔۔۔

توبہ توبہ بس یہ دیکھنا رہ گیا تھا آوارہ بد چلن عورت کیسے کیسے مردوں کو گھر بلاتی ہے تو۔۔۔

گل پارہ کی ساری باتیں سنتی دادی اس کی کمر پر ڈنڈا مارتی بولی تھی۔۔۔

اماں کچھ شرم کرے لالہ ہے میرے کچھ تو لحاظ کرے۔۔۔

گل پارہ طش سے چلاتی روتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔

ارے بس کرو یہ ڈرامے پہلے اس کے ساتھ گومتی رہی اب لالہ بن گیا نکلو باہر ابھی کہ ابھی۔۔۔

دادی اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئ اسے باہر نکالتی بولی تھی۔۔۔

نہ کرے اماں ایسا کیا کیا میں نے ایک غطلی ہوئ بھاگ کر شادی کرنا جو آج تک برادشت کیا ایسے الفاظ تو مت کہے رحم کرے ایسا الزام مت لگاۓ میرا کردار پاک ہے میرے لالہ ہے وہ۔۔۔

گل پارہ روتی منت کرتی بولی تھی جبکہ دادی اس کی نہ سنتی باہر نکال رہی تھی۔۔۔

نہیں نکلو باہر جلدی گندی کا ڈھیر۔۔۔

دادی اسے گھسیٹتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔۔

پلیز اماں میری بیٹی سے ملنے دے ایک بار۔۔۔

گل پارہ ابھی بھی منت کرتی بولی تھی۔۔

————————————————————

روحا میری جان بات دھیان سے سنو۔۔۔

بخار میں تپتی روحا جو ڈری سہمی سی آنکھوں پر پٹی باندھے تین سالہ علیشبہ کو گود میں بیٹھاۓ باہر سے آتی ساری باتیں سن رہی تھی ۔۔۔

جب گل پارہ اندر آتی بولی تھی۔۔۔

ماما دادی ایسا ک۔۔

دیکھو بیٹا میں جلدی آٶ گی بس اپنی عالی کا ہمیشہ خیال رکھنا بلکل ماں کی طرح ہمیشہ بہادر رہنا کبھی غصہ مت کرنا میری بیٹی اپنا بھی خیال رکھنا۔۔۔

روحا بول رہی تھی جب گل پارہ اس کا ماتھا چومتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

وہ تو رکھ لو گی ماما لیکن آپ۔۔۔

میں جلد ہی آٶ گی بیٹا مجھے امید ہے تم اچھی بہن بنو گی۔۔۔

روحا روتی ہوئ بول رہی تھی جب گل پارہ اب روم سے جاتی بولی تھی۔۔۔

کیونکہ دادی انہیں اب غصے سے گندی گندی گالیاں دے رہی تھی۔۔۔

گل پارہ چاہتی تھی دریاب خان سے مل کر وہ اپنی بیٹیوں کو لے جاۓ گی اس گھر سے۔۔۔

نکل باہر میرا گھر گندہ کر دیا تو نے ۔۔

دادی اسے باہر نکالتی اب دروازہ بند کر چکی تھی۔۔۔۔

————————————————————

لالہ لالہ میری بیٹیاں اندر ہے آپ چلے میرے ساتھ مجھے چاہے وہ روحا میری بچی بخار میں تپ رہی ہے میری بچی کی آنکھوں سے خون نکل رہا تھا۔۔۔

بس بہت ہوگیا لالہ میں نے اپنی سزا پا لی لیکن اپنی بیٹیوں کو اس عورت کے حوالے نہیں کرو گی ۔۔۔

آپ جانتے نہیں اس عورت نے میرے اور آپ کے پاک رشتے کو گندہ کرتے بولی لالہ ۔۔

کیا اتنا بڑا گناہ ہو گیا تھا مجھ سے گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کا ۔۔۔

گل پارہ گھر سے باہر آی تھی جب سامنے سے دریاب خان کی کار آتی دیکھ بھاگ کر جاتی ایک ہی سانس میں روتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

جبکہ ان کے کپڑے پھٹے ہوۓ تھے جبکہ چہرے سے بھی خون نکل رہا تھا۔۔۔

دریاب خان اپنی لاڈلی بہن کی یہ حالت دیکھ دل پھٹا تھا۔۔۔

آو پہلے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہے ا۔۔۔

نہیں لالہ میری بچیاں اس

عورت کے پاس ہے وہ میری بچیوں کا بھی دماغ میرے خلاف کر دے گی ۔۔

دریاب خان انہیں کار میں بیٹھاتے بول رہے تھے جب گل پارہ روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

گل پارہ کی بات سنتے ہی دریاب بنا سیکورٹی لے رات کے اندھیرے میں اکیلا آ گیا تھا۔۔۔

جبکہ وہ جانتا تھا اس کے دشمن گھات لگاۓ بیٹھے ہو گے لیکن وہ اپنی بہن کی خاطر آیا تھا۔۔۔

میں وعدہ کرتا ہو گل اپنی بیٹیوں کو لے آو گا پہلے تم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہے ۔۔۔

دیکھو اپنے لالہ کی بات مانو گی نہ تم ۔۔

دریاب خان کار سٹارٹ کرتے پیار سے بولے تھے۔۔۔

وہ ابھی بھی گل سے بات کرتے کار چلا رہے تھے جب سامنے سے آتے ٹرک سے ٹکر لگتے ہی ان کی کار دور الٹی ہوا میں اُڑتی ہوئ سڑک کے پار گری تھی۔۔۔۔

اب الٹی کار کے اندر خون سے لت پت ہر چیز سے بیگانہ دونوں بہن بھائ بے ہوش پڑے اپنی سانسیں گن رہے تھے۔۔۔

جبکہ دوسری طرف بخار میں تپتی روحا بے چینی سے اپنی ماں کا ویٹ کر رہی تھی۔۔۔۔

جبکہ دادی کامرن کے آتے ہی جھوٹ بول چکی تھی گل پارہ ایک آدمی کے ساتھ بھاگ گی ہے ۔۔۔

جس پر کامرن یقین کر چکے تھے۔۔